As-Sa'diYunus · 10:18–30

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Yunus 10:18–30

10:18Page 210

وَيَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡ وَيَقُولُونَ هَٰٓؤُلَآءِ شُفَعَٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِۚ قُلۡ أَتُنَبِّـُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ ١٨

And they worship other than Allāh that which neither harms them nor benefits them, and they say, "These are our intercessors with Allāh." Say, "Do you inform Allāh of something He does not know in the heavens or on the earth?" Exalted is He and high above what they associate with Him.

اور وہ عبادت کرتے ہیں سوائے اللہ کے اس چیز کی جو نہیں نقصان پہنچاتی ان کو اور نہ نفع دیتی ہے انھیں اور وہ کہتے ہیں ، یہی لوگ ہیں ہمارے سفارشی اللہ کے ہاں ، کہہ دیجیے! کیا تم خبر دیتے ہو اللہ کو ساتھ اس چیز کے کہ نہیں جانتا وہ(اسے) آسمانوں اور زمین میں ، وہ پاک اور بلند ہے ان سے جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (18)

[18] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَيَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’اور پرستش کرتے ہیں ‘‘ یعنی رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین۔ ﴿مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنۡفَعُهُمۡ ﴾ ’’اللہ کے سوا، اس چیز کی جو ان کو نقصان پہنچا سکے نہ نفع‘‘ یعنی ان کے معبودان باطل ان کو ذرہ بھر فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور نہ ان سے کسی ضرر کو دور کر سکتے ہیں ۔ ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کہتے ہیں ۔‘‘ ایسی بات جو دلیل سے بالکل خالی ہے۔ ﴿ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں ‘‘ یعنی وہ ان معبودان باطل کی عبادت محض اس لیے کرتے ہیں تاکہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیں اور اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں ۔ یہ ان کی اپنی طرف سے گھڑی ہوئی بات ہے۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اس عقیدے کا ابطال کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُلۡ اَتُنَبِّـُٔوۡنَ۠ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’کہہ دیجیے! کیا تم اللہ کو بتلاتے ہو جو اس کو معلوم نہیں ، آسمانوں میں اور زمین میں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے جس نے اپنے علم کے ذریعے سے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے اس نے تمھیں آگاہ کیا ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کے ساتھ کوئی معبود نہیں ۔ پس اے مشرکو! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے شریک ہیں ؟ کیا تم اللہ تعالیٰ کو ایسے معاملے کی خبر دے رہے ہو جو اللہ تعالیٰ سے مخفی ہے اور تم اسے جانتے ہو؟ کیا تم اللہ تعالیٰ سے زیادہ جانتے ہو؟ کیا اس عقیدے سے زیادہ باطل عقیدہ پایا جا سکتا ہے جو اس امر کا متضمن ہے کہ یہ گمراہ، جہال اور بیوقوف لوگ، اللہ رب العالمین سے زیادہ علم رکھتے ہیں ؟ عقل مند شخص کے لیے اس عقیدے کا مجرد تصور ہی یہ جاننے کے لیے کافی ہے کہ یہ قطعی طور پر فاسد اور باطل عقیدہ ہے۔ ﴿سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّؔا يُشۡرِكُوۡنَؔ ﴾ ’’وہ پاک ہے اور ان کے شرک سے بہت بلند ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اس بات سے پاک اور منزہ ہے کہ کوئی اس کا شریک یا نظیر ہو بلکہ اللہ تعالیٰ واحد، فرد اور بے نیاز ہے، آسمانوں اور زمین میں اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اس عالم علوی اور سفلی میں اللہ تعالیٰ کے سوا ہر معبود عقل، شرع اور فطرت کے اعتبار سے باطل ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ وَاَنَّ مَا يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِ الۡبَاطِلُ١ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡعَلِيُّ الۡكَبِيۡرُ﴾(لقمان: 31؍30) ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ ہی کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں اور اللہ ہی بلند اور بڑا ہے۔‘‘

10:19–20Page 210

وَمَا كَانَ ٱلنَّاسُ إِلَّآ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ فَٱخۡتَلَفُواْۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ فِيمَا فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ ١٩

And mankind was not but one community [united in religion], but [then] they differed. And if not for a word1 that preceded from your Lord, it would have been judged between them [immediately] concerning that over which they differ.

وَيَقُولُونَ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ ءَايَةٞ مِّن رَّبِّهِۦۖ فَقُلۡ إِنَّمَا ٱلۡغَيۡبُ لِلَّهِ فَٱنتَظِرُوٓاْ إِنِّي مَعَكُم مِّنَ ٱلۡمُنتَظِرِينَ ٢٠

And they say, "Why is a sign not sent down to him from his Lord?" So say, "The unseen is only for Allāh [to administer], so wait; indeed, I am with you among those who wait."

اور نہیں تھے لوگ (پہلے) مگر ایک ہی امت، پھر انھوں نے اختلاف کیااور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے (سے متعین) ہو چکی ہے آپ کے رب کی طرف سے تو یقینا فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان اس چیز کے بارے میں کہ جس میں وہ اختلاف کر رہے تھے (19)وہ کہتے ہیں ، کیوں نہیں نازل کی گئی اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے؟ سو آپ کہہ دیجیے! یقینا غیب تو اللہ ہی کے لیے ہے، پس تم انتظار کرو، بلاشبہ میں (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں (20)

[19]﴿ وَمَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’اور نہیں تھے لوگ مگر ایک ہی امت‘‘ یعنی تمام لوگ صحیح دین پر متفق تھے، پھر ان میں اختلاف واقع ہوگیا، تب اللہ تعالیٰ نے رسول مبعوث فرمائے جو خوشخبری سنانے والے اور برے انجام سے ڈرانے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کتاب نازل فرمائی تاکہ وہ لوگوں کے درمیان اس بارے میں فیصلہ کرے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں ۔ ﴿ وَلَوۡلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے سے طے ہو چکی ہے‘‘ کہ نافرمانوں کو مہلت دینی ہے اور ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کا فوری مواخذہ نہیں کرنا۔ ﴿ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’تو ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا‘‘ بایں طور کہ ہم اہل ایمان کو بچا لیتے اور جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کر دیتے اور یہ چیز ان کے درمیان امتیاز اور تفریق کی علامت بن جاتی۔ ﴿ فِيۡمَا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’ان چیزوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے تھے‘‘ مگر اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ ان کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزمائے اور آزمائش میں مبتلا کرے تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان فرق واضح ہو جائے۔

[20]﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی لغزشیں تلاش کرنے اور جھٹلانے والے کہتے ہیں : ﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ اٰيَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ ’’کیوں نہیں اتاری گئی اس پر کوئی آیت اس کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی وہ آیات جن کا وہ مطالبہ کرتے ہیں ، مثلاً:وہ کہا کرتے تھے: ﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَلَكٌ فَيَكُوۡنَ مَعَهٗ نَذِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍7) ’’اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں نازل کیا گیا جو ڈرانے کو اس کے ساتھ رہتا‘‘ اور جیسے ان کا یہ قول ہے۔ ﴿ وَقَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًا﴾(بنی اسرائیل: 17؍90)’’اور انھوں نے کہا: ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تم ہمارے لیے زمین میں سے چشمہ جاری نہ کر دو۔‘‘﴿ فَقُلۡ ﴾ جب وہ آپ سے کسی آیت کا مطالبہ کریں تو آپ کہہ دیجیے! ﴿ اِنَّمَا الۡغَيۡبُ لِلّٰهِ ﴾ ’’غیب کی بات تو اللہ ہی جانے‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے علم کے ذریعے سے اپنے بندوں کے احوال کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وہ اپنے علم اور انوکھی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان کی تدبیر کرتا ہے۔ کسی حکم، کسی دلیل، کسی غایت و انتہا اور کسی تعلیل کی تدبیر میں کسی کا کوئی اختیار نہیں ۔ ﴿ فَانۡتَظِرُوۡا١ۚ اِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِيۡنَ ﴾ ’’پس انتظار کرو، میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ‘‘ یعنی ہر ایک دوسرے کے بارے میں منتظر رہے جس کا وہ اہل ہے اور دیکھے کہ کس کا انجام اچھا ہوتا ہے؟

10:21Page 211

وَإِذَآ أَذَقۡنَا ٱلنَّاسَ رَحۡمَةٗ مِّنۢ بَعۡدِ ضَرَّآءَ مَسَّتۡهُمۡ إِذَا لَهُم مَّكۡرٞ فِيٓ ءَايَاتِنَاۚ قُلِ ٱللَّهُ أَسۡرَعُ مَكۡرًاۚ إِنَّ رُسُلَنَا يَكۡتُبُونَ مَا تَمۡكُرُونَ ٢١

And when We give the people a taste of mercy after adversity has touched them, at once they conspire against Our verses. Say, "Allāh is swifter in strategy." Indeed, Our messengers [i.e., angels] record that which you conspire.

اور جب ہم چکھاتے ہیں (کافر) لوگوں کو رحمت بعد اس تکلیف کے جو انھیں پہنچی تو ناگہاں ان کے لیے چالیں ہوتی ہیں (جو وہ چلتے ہیں ) ہماری آیتوں میں ، کہہ دیجیے! اللہ سب سے زیادہ تیز ہے چال (چلنے) میں ، بے شک ہمارے رسول ( فرشتے) لکھتے ہیں جو چالیں تم چلتے ہو (21)

[21] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاِذَاۤ اَذَقۡنَا النَّاسَ رَحۡمَةً مِّنۢۡ بَعۡدِ ضَرَّآءَؔ مَسَّتۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب چکھائیں ہم لوگوں کو مزا اپنی رحمت کا، ایک تکلیف کے بعد جو ان کو پہنچی تھی۔‘‘ مثلاً: مرض کے بعد صحت، تنگ دستی کے بعد فراخی اور خوف کے بعد امن تو وہ بھول جاتے ہیں کہ انھیں کیا تکلیف پہنچی تھی اور وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ فراخی اور اس کی رحمت پر اس کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ وہ اپنی سازشوں اور سرکشی پر جمے رہتے ہیں ۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِذَا لَهُمۡ مَّؔكۡرٌ فِيۡۤ اٰيَاتِنَا﴾ ’’اسی وقت بنانے لگیں وہ حیلے ہماری آیتوں میں ‘‘ یعنی وہ باطل میں کوشاں رہتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے سے حق کو باطل ثابت کریں ﴿ قُلِ اللّٰهُ اَسۡرَعُ مَكۡرًا﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ حیلے بنانے (تدبیر کرنے) میں زیادہ تیز ہے‘‘ کیونکہ بری چالوں کا وبال چال چلنے والے ہی پر پڑتا ہے۔ ان کے برے مقاصد انھی پر پلٹ جاتے ہیں اور وہ برے انجام سے محفوظ نہیں رہتے بلکہ فرشتے ان کے اعمال لکھتے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو محفوظ کر لیتا ہے پھر وہ ان کو ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔

10:22–23Page 211

هُوَ ٱلَّذِي يُسَيِّرُكُمۡ فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۖ حَتَّىٰٓ إِذَا كُنتُمۡ فِي ٱلۡفُلۡكِ وَجَرَيۡنَ بِهِم بِرِيحٖ طَيِّبَةٖ وَفَرِحُواْ بِهَا جَآءَتۡهَا رِيحٌ عَاصِفٞ وَجَآءَهُمُ ٱلۡمَوۡجُ مِن كُلِّ مَكَانٖ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُمۡ أُحِيطَ بِهِمۡ دَعَوُاْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ لَئِنۡ أَنجَيۡتَنَا مِنۡ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ ٢٢

It is He who enables you to travel on land and sea until, when you are in ships and they sail with them1 by a good wind and they rejoice therein, there comes a storm wind and the waves come upon them from every place and they expect to be engulfed, they supplicate Allāh, sincere to Him in religion, "If You should save us from this, we will surely be among the thankful."

فَلَمَّآ أَنجَىٰهُمۡ إِذَا هُمۡ يَبۡغُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّۗ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَا بَغۡيُكُمۡ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمۖ مَّتَٰعَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ ثُمَّ إِلَيۡنَا مَرۡجِعُكُمۡ فَنُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٢٣

But when He saves them, at once they commit injustice1 upon the earth without right. O mankind, your injustice is only against yourselves, [being merely] the enjoyment of worldly life. Then to Us is your return, and We will inform you of what you used to do.

وہی ہے (اللہ) جو چلاتا ہے تمھیں خشکی اور تری میں ، حتی کہ جب ہوتے ہو تم کشتیوں میں اور چلتی ہیں وہ انھیں (تمھیں ) لے کر ساتھ ہوا پاکیزہ (موافق)کےاورخوش ہوتے ہیں وہ ساتھ اس (ہوا) کے تو آتی ہے ان پر سخت ہوااور آتی ہیں ان کے پاس لہریں ہر طرف سے اور گمان کرتے ہیں وہ کہ بے شک گھیر لیا گیا ہے ان کو تو (اس وقت) پکارتے ہیں اللہ کو خالص کرتے ہوئے اسی کے لیے عبادت کو، کہ اگر تو نے نجات دے دی ہمیں اس (طوفان) سے تو یقینا ہو جائیں گے ہم شکر گزاروں میں سے (22) پس جب اس (اللہ) نے نجات دے دی ان کو فوراً وہ سرکشی کرنے لگتے ہیں زمین میں ناحق، اے لوگو! یقینا تمھاری سرکشی (کا وبال) اوپر تمھاری جانوں ہی کے ہے، (اٹھالو) فائدہ زندگی کا دنیا کی ، پھر ہماری طرف ہی لوٹنا ہے تمھیں ، پس ہم خبردیں گے تمھیں ساتھ اس کے جو تھے تم عمل کرتے (23)

[23,22] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں کے بارے میں ایک عام قاعدہ بیان فرمایا کہ تکلیف کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نزول اور تنگ دستی کے بعد فراخی کے وقت ان کا کیا حال ہوتا ہے تو اب ان کی اس حالت کا ذکر فرماتا ہے جو اس کی تائید کرتی ہے۔ یہ ان کی وہ حالت ہے جب وہ سمندر کے اندر سفر کرتے ہیں اور سمندر سخت جوش میں ہوتا ہے اور ان کو اس کے انجام کا خوف ہوتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿هُوَ الَّذِيۡ يُسَيِّرُؔكُمۡ فِي الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ﴾ ’’وہی ہے جو تمھیں چلاتا ہے خشکی اور سمندر میں ‘‘ یعنی ان اسباب کے ذریعے سے جو اس نے تمھیں مہیا کیے ہیں اور ان کی طرف تمھاری راہ نمائی فرمائی ہے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا كُنۡتُمۡ فِي الۡفُلۡكِ﴾ ’’یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں بیٹھتے ہو‘‘ یعنی بحری جہازوں میں ﴿وَجَرَيۡنَ بِهِمۡ بِرِيۡحٍ طَيِّبَةٍ﴾ ’’اور لے کر چلیں وہ ان کو اچھی ہوا سے‘‘ یعنی وہ ہوا جو ان کی خواہش کے موافق بغیر کسی مشقت اور گھبراہٹ کے ان جہازوں کو چلاتی ہے۔ ﴿وَّفَرِحُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور وہ خوش ہوں ساتھ ان کے‘‘ اور ان ہواؤں پر نہایت مطمئن ہوتے ہیں اور وہ اسی حال میں ہوتے ہیں کہ ﴿جَآءَتۡهَا رِيۡحٌ عَاصِفٌ ﴾ ’’اچانک زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے۔‘‘ یعنی کشتیوں پر سخت ہوا آئی ﴿ وَّجَآءَهُمُ الۡمَوۡجُ مِنۡ كُلِّ مَكَانٍ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اُحِيۡطَ بِهِمۡ﴾ ’’اور آئی ان پر موج ہر جگہ سے اور انھوں نے جان لیا کہ وہ گھر گئے‘‘ یعنی انھیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب ان کی ہلاکت یقینی ہے، تب اس وقت مخلوق سے ان کے تمام تعلق منقطع ہو جاتے ہیں اور انھیں معلوم ہو جاتا ہے کہ اس مصیبت اور سختی سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا، تب اس وقت ﴿ دَعَوُا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾ ’’وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اسی کو پکارتے ہیں ‘‘ اور الزامی طور پر اپنے آپ سے وعدہ کرتے ہیں ، چنانچہ کہتے ہیں ﴿ لَىِٕنۡ اَنۡجَيۡتَنَا مِنۡ هٰؔذِهٖ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾’’اگر تو ہمیں اس مصیبت سے بچا لے تو ہم تیرے شکر گزار ہو جائیں گے۔‘‘﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡجٰؔىهُمۡ اِذَا هُمۡ يَبۡغُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’پس جب اللہ نے ان کو نجات دے دی تو اسی وقت شرارت کرنے لگے زمین میں ناحق۔‘‘ یعنی وہ اس سختی کو جس میں وہ مبتلا تھے، ان دعاؤں کو جو وہ مانگتے رہے تھے اور ان وعدوں کو جو انھوں نے اپنے اوپر لازم کیے تھے، فراموش کر دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں جس کے بارے میں انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ اس کے سوا کوئی ہستی انھیں ان سختیوں سے نجات دے سکتی ہے نہ ان کی تنگی دور کر سکتی ہے۔ پس انھوں نے اپنی فراخی اور کشادگی میں عبادت کو اللہ کے لیے خالص کیوں نہ کیا جس طرح انھوں نے سختی میں اپنی عبادت کو اللہ کے لیے خالص کیا تھا مگر اس بغاوت اور سرکشی کا وبال انھیں پر پڑے گا۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغۡيُكُمۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِكُمۡ١ۙ مَّؔتَاعَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’اے لوگو! تمھاری شرارت تمھی پر پڑے گی، نفع اٹھا لو دنیا کی زندگانی کا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے سرکشی و بغاوت اور اس کے لیے اخلاص سے دور بھاگنے میں ان کی غرض و غایت یہ ہے کہ وہ دنیا کے چند ٹکڑے اور اس کا مال و جاہ اور معمولی سے فوائد حاصل ہوں جو بہت جلد ختم ہو جائیں گے، سب کچھ ہاتھوں سے نکل جائے گا اور تم اسے چھوڑ کر یہاں سے کوچ کر جاؤ گے۔ ﴿ ثُمَّ اِلَيۡنَا مَرۡجِعُكُمۡ ﴾ ’’پھر ہمارے پاس ہی تمھیں لوٹ کر آنا ہے‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿ فَنُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’پھر ہم تمھیں بتلا دیں گے جو کچھ کہ تم کرتے تھے‘‘ اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کو ان کے اپنے ان اعمال پر جمے رہنے سے ڈرایا گیا ہے۔

10:24Page 211

إِنَّمَا مَثَلُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا كَمَآءٍ أَنزَلۡنَٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخۡتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلۡأَرۡضِ مِمَّا يَأۡكُلُ ٱلنَّاسُ وَٱلۡأَنۡعَٰمُ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَخَذَتِ ٱلۡأَرۡضُ زُخۡرُفَهَا وَٱزَّيَّنَتۡ وَظَنَّ أَهۡلُهَآ أَنَّهُمۡ قَٰدِرُونَ عَلَيۡهَآ أَتَىٰهَآ أَمۡرُنَا لَيۡلًا أَوۡ نَهَارٗا فَجَعَلۡنَٰهَا حَصِيدٗا كَأَن لَّمۡ تَغۡنَ بِٱلۡأَمۡسِۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ ٢٤

The example of [this] worldly life is but like rain which We have sent down from the sky that the plants of the earth absorb - [those] from which men and livestock eat - until, when the earth has taken on its adornment and is beautified and its people suppose that they have capability over it, there comes to it Our command by night or by day, and We make it as a harvest,1 as if it had not flourished yesterday. Thus do We explain in detail the signs for a people who give thought.

یقینا مثال زندگانی دنیا کی مانند اس پانی کے ہے کہ ہم نے نازل کیا اس کو آسمان سے، پھر مل جل گئی اس کے سبب سے روئیدگی زمین کی، اس چیز میں سے جسے کھاتے ہیں انسان اور چوپائے، یہاں تک کہ جب پکڑی زمین نے رونق اپنی اور مزین ہو گئی اور گمان کر لیا اہل زمین نے کہ بے شک وہ قادر ہیں اس (سے فائدہ اٹھانے) پر تو (اچانک) آگیا اس پر ہمارا حکم (عذاب) رات یا دن کو، پس کردیا ہم نے اس (لہلہاتی کھیتی) کو کٹی ہوئی کھیتی (کی طرح)، گویا کہ نہیں تھی وہ کل، اسی طرح ہم مفصل بیان کرتے ہیں اپنی آیتیں واسطے ان لوگوں کے لیے جو غورو فکر کرتے ہیں (24)

[24] یہ بہترین مثال ہے اور یہ مثال دنیا کی حالت سے مطابقت رکھتی ہے کیونکہ دنیا کی لذات و شہوات اور اس کا مال و جاہ دنیا کے حریص بندے کے لیے بہت پرکشش ہے اگرچہ اس کی چمک دمک بہت تھوڑے وقت کے لیے ہے۔ جب دنیا مکمل ہو جاتی ہے تو مضحمل ہو کر اپنے چاہنے والے سے زائل ہو جاتی ہے یا چاہنے والا دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ پس بندہ دنیا سے خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور اس کا دل حزن و غم اور حسرت سے لبریز ہو جاتا ہے۔اس کی مثال ایسے ہے ﴿ كَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’مانند اس پانی کے جسے ہم نے آسمان سے اتارا، پھر مل جل گیا اس سے سبزہ زمین کا‘‘ یعنی زمین کے اندر ہر قسم کی نباتات اور خوبصورت جوڑے اگ آئے ﴿ مِمَّا يَاۡكُلُ النَّاسُ ﴾ ’’جو کہ کھائیں آدمی‘‘مثلاً: غلہ جات اور پھل وغیرہ۔ ﴿ وَالۡاَنۡعَامُ﴾ ’’اور مویشی‘‘ یعنی اور وہ چیزیں جو مویشی کھاتے ہیں ، مثلاً:مختلف اقسام کی گھاس پات، وغیرہ ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الۡاَرۡضُ زُخۡرُفَهَا وَازَّيَّنَتۡ ﴾’’یہاں تک کہ جب پکڑی زمین نے اپنی رونق اور خوب مزین ہو گئی‘‘ یعنی جب اس کا منظر خوبصورت ہو جاتا ہے اور زمین خوبصورت لباس پہن لیتی ہے تو دیکھنے والوں کے لیے خوش منظر، غم ہلکا کرنے والوں کے لیے ذریعۂ تفریح اور بصیرت حاصل کرنے والوں کے لیے ایک نشانی بن جاتی ہے۔ تب تو عجیب نظارہ دیکھے گا جس میں سبز، زرد اور سفید رنگ دکھائی دیں گے۔﴿ وَظَنَّ اَهۡلُهَاۤ اَنَّهُمۡ قٰدِرُوۡنَ عَلَيۡهَاۤ﴾ ’’اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ (فصل) ان کے ہاتھ لگے گی‘‘ یعنی وہ سمجھنے لگتے ہیں یہ دنیا ان کے پاس ہمیشہ رہے گی کیونکہ ان کا ارادہ اسی پر ٹھہرا ہوا ہے اور ان کی طلب کی انتہا یہی ہے۔ پس وہ اسی حالت میں ہوتے ہیں کہ ﴿ اَتٰىهَاۤ اَمۡرُنَا لَيۡلًا اَوۡ نَهَارًا فَجَعَلۡنٰهَا حَصِيۡدًا كَاَنۡ لَّمۡ تَغۡنَ بِالۡاَمۡسِ﴾’’ناگہاں پہنچا اس پر ہمارا حکم، رات کو یا دن کو، پھر کر دیا اس کو کاٹ کر ڈھیر، گویا کہ کل یہاں آبادی ہی نہ تھی‘‘ یعنی دنیا کی یہ خوبصورتی کبھی تھی ہی نہیں ۔ پس یہی حالت دنیا کی ہے، بالکل اس جیسی ہی۔﴿ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ﴾ ’’ہم اسی طرح کھول کھول کر نشانیاں بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم ان آیات کو، ان کے معانی کو قریب لا کر اور مثالیں بیان کر کے واضح کرتے ہیں ﴿ لِقَوۡمٍ يَّتَفَؔكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے سامنے جو غوروفکر کرتے ہیں ‘‘ یعنی اپنی فکر کو ان کاموں میں استعمال کرتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتے ہیں ۔ رہا غفلت میں ڈوبا ہوا اور روگردانی کرنے والا شخص تو یہ آیات اسے کوئی فائدہ دیتی ہیں نہ ان کا بیان اس کے شک کو زائل کر سکتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کا حال اور اس کی نعمتوں کے حاصل کا ذکر کیا تو اب ہمیشہ باقی رہنے والے گھر کا شوق دلایا ہے، چنانچہ فرمایا:

10:25–26Page 211

وَٱللَّهُ يَدۡعُوٓاْ إِلَىٰ دَارِ ٱلسَّلَٰمِ وَيَهۡدِي مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ ٢٥

And Allāh invites to the Home of Peace [i.e., Paradise] and guides whom He wills to a straight path.

۞ لِّلَّذِينَ أَحۡسَنُواْ ٱلۡحُسۡنَىٰ وَزِيَادَةٞۖ وَلَا يَرۡهَقُ وُجُوهَهُمۡ قَتَرٞ وَلَا ذِلَّةٌۚ أُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ ٢٦

For them who have done good is the best [reward] - and extra.1 No darkness will cover their faces, nor humiliation. Those are companions of Paradise; they will abide therein eternally.

اور اللہ بلاتا ہے سلامتی کے گھر (جنت) کی طرف اور وہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے، طرف سیدھی راہ کے (25) واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کیں نیکیاں ، نیک بدلہ (جنت) ہے اور مزید (دیدار الٰہی) ہےاور نہیں ڈھانپے گی ان کے چہروں کو سیاہی اور نہ ذلت، یہی لوگ ہیں جنتی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (26)

[25] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سلامتی کے گھر کی طرف عام دعوت اور اس کو حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ وہ جس کو اپنے لیے خالص کر کے چن لینا چاہتا ہے اس کے لیے ہدایت کو مخصوص کر دیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اس کے لیے اپنی رحمت کو مختص کر دیتا ہے، یہ اس کا عدل و حکمت ہے اور حق و باطل کو بیان کر دینے اور رسولوں کو مبعوث کرنے کے بعد کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کو ’’دارالسلام‘‘ کے نام سے اس لیے موسوم کیا ہے کہ یہ تمام آفات اور نقائص سے محفوظ اور سلامت ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی نعمتیں کامل، ہمیشہ باقی رہنے والی اور ہر طرح سے خوبصورت ہیں ۔

[26] اور جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سلامتی کے گھر کی طرف بلایا تو گویا ان نفوس کو ان اعمال کا اشتیاق پیدا ہوا جو ان کو اس گھر میں پہنچانے کے موجب ہیں ۔ فرمایا: ﴿لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوا الۡحُسۡنٰى وَزِيَادَةٌ﴾ ’’ان لوگوں کے واسطے جنھوں نے بھلائی کی، بھلائی اور مزید ہے‘‘ یعنی ان لوگوں کے لیے جنھوں نے خالق کی عبادت میں احسان سے کام لیا یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں مراقبہ اور خیر خواہی کے ساتھ اس کی عبادت کی اور مقدور بھر اس عبودیت کو قائم رکھا اور اپنی استطاعت کے مطابق اللہ تعالیٰ کے بندوں سے احسان قولی اور احسان فعلی کے ساتھ پیش آئے اور ان کے ساتھ مالی اور بدنی احسانات سے کام لیا، نیکی کا حکم دیا، برائی سے روکا، جہلا کو تعلیم دی، روگردانی کرنے والوں کی خیر خواہی کی، نیکی اور احسان کے دیگر تمام پہلوؤں پر عمل کیا۔یہی وہ لوگ ہیں جو احسان کے مرتبہ پر فائز ہوئے اور انھی کے لیے (الحسنی) ہے یعنی ایسی جنت جو اپنے حسن و جمال میں کامل ہے۔ مزید برآں ان کے لیے اور بھی انعام ہے یہاں (زِیَادَۃ) ’’مزید‘‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کے چہرۂ انور کا دیدار، اس کے کلام مبارک کا سماع، اس کی رضا کا فیضان اور اس کے قرب کا سرور ہے۔ اس ذریعے سے انھیں وہ بلند مقامات حاصل ہوں گے کہ تمنا کرنے والے ان کی تمنا کرتے ہیں اور سوال کرنے والے اللہ تعالیٰ سے انھی مقامات کا سوال کرتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے محذورات کے دور ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَلَا يَرۡهَقُ وُجُوۡهَهُمۡ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ﴾ ’’اور نہ چڑھے گی ان کے چہروں پر سیاہی اور نہ رسوائی‘‘ یعنی انھیں کسی لحاظ سے بھی کسی ناگوار صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ جب کوئی ناگوار امر واقع ہوتا ہے تو یہ ناگوار امر اس کے چہرے پر ظاہر ہو جاتا ہے اور چہرہ تغیر اور تکدر کا شکار ہو جاتا ہے۔ رہے یہ لوگ تو ان کی حالت ایسے ہوگی جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿تَعۡرِفُ فِيۡ وُجُوۡهِهِمۡ نَضۡرَةَ النَّعِيۡمِ﴾(المصطففین: 83؍24) ’’تو ان کے چہروں میں نعمتوں کی تازگی معلوم کر لے گا۔‘‘ ﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ الۡجَنَّةِ﴾ ’’یہی ہیں جنت میں رہنے والے‘‘ ﴿هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ یعنی وہ جنت سے منتقل ہوں گے نہ اس سے دور ہوں گے اور نہ وہ تبدیل ہوں گے۔

10:27Page 212

وَٱلَّذِينَ كَسَبُواْ ٱلسَّيِّـَٔاتِ جَزَآءُ سَيِّئَةِۭ بِمِثۡلِهَا وَتَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٞۖ مَّا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِنۡ عَاصِمٖۖ كَأَنَّمَآ أُغۡشِيَتۡ وُجُوهُهُمۡ قِطَعٗا مِّنَ ٱلَّيۡلِ مُظۡلِمًاۚ أُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ ٢٧

But they who have earned [blame for] evil doings - the recompense of an evil deed is its equivalent, and humiliation will cover them. They will have from Allāh no protector. It will be as if their faces are covered with pieces of the night - so dark [are they]. Those are the companions of the Fire; they will abide therein eternally.

اور وہ لوگ جنھوں نے کیے برے کام تو بدلہ برائی کا اس (برائی) کے مثل ہی ہےاور ڈھانپ لے گی ان کو ذلت ، نہیں ہو گا واسطے ان کے، اللہ (کے عذاب) سے کوئی بچانے والا، (یوں محسوس ہوگا) گویا کہ اڑھا دیے گئے ان کے چہروں کو ٹکڑے رات کے جبکہ وہ اندھیری ہو، یہی لوگ ہیں اہل دوزخ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (27)

[27] اصحاب جنت کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کا ذکر فرمایا کہ ان کی کل کمائی جس کا انھوں نے دنیا میں اکتساب کیا، برے اعمال ہیں جن پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے، مثلاً:کفر کی مختلف انواع، انبیا کی تکذیب اور گناہ کی مختلف اقسام۔ ﴿ جَزَآءُ سَيِّئَةٍۭ بِمِثۡلِهَا﴾ ’’تو برائی کا بدلہ بھی ویسا ہی ہوگا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی جزا دی جائے گی جو ان کے مختلف احوال اور ان کے برے اعمال کے مطابق بری ہوگی۔ ﴿وَتَرۡهَقُهُمۡ ﴾ ’’اور ان کو ڈھانک لے گی۔‘‘ ﴿ ذِلَّةٌ﴾ ’’رسوائی‘‘ یعنی ان کے دلوں میں ذلت اور اللہ کے عذاب کا خوف ہوگا۔ کوئی ان سے اس خوف کو دور نہیں کر سکے گا اور نہ کوئی بچانے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکے گا۔یہ باطنی ذلت ان کے ظاہر میں بھی سرایت کر جائے گی اور ان کے چہرے کی سیاہی بن جائے گی۔ ﴿كَاَنَّمَاۤ اُغۡشِيَتۡ وُجُوۡهُهُمۡ قِطَعًا مِّنَ الَّيۡلِ مُظۡلِمًا١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’گویا کہ ڈھانک دیے گئے ان کے چہرے اندھیری رات کے ٹکڑوں سے، یہی لوگ ہیں جہنمی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ ان دو گروہوں کے احوال میں کتنا فرق ہے اور دونوں کے درمیان کتنا بعد اور تفاوت ہے! ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌۙ۰۰اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ۰۰وَوُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍۭؔ بَاسِرَةٌۙ۰۰تَظُنُّ اَنۡ يُّفۡعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ﴾(القیامۃ: 75؍22-25) ’’اس روز بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اپنے رب کا دیدار کر رہے ہوں گے اور بہت سے چہرے اداس ہوں گے اور سمجھ رہے ہوں گے کہ ان پر مصیبت نازل ہونے والی ہے۔‘‘ ﴿ وُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ مُّسۡفِرَةٌۙ۰۰ضَاحِكَةٌ مُّسۡتَبۡشِرَةٌۚ۰۰وَوُجُوۡهٌ يَّوۡمَىِٕذٍ عَلَيۡهَا غَبَرَةٌۙ۰۰تَرۡهَقُهَا قَتَرَةٌؕ۰۰اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكَفَرَةُ الۡفَجَرَةُ﴾(عبس: 80؍38-42) ’’بہت سے چہرے اس روز روشن اور خنداں و شاداں ہوں گے اور کتنے ہی چہرے ہوں گے جو گرد سے اٹے ہوئے ہوں گے سیاہی نے ان کو ڈھانک رکھا ہوگا۔ یہ فجار اور کفار ہیں ۔‘‘

10:28–30Page 212

وَيَوۡمَ نَحۡشُرُهُمۡ جَمِيعٗا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشۡرَكُواْ مَكَانَكُمۡ أَنتُمۡ وَشُرَكَآؤُكُمۡۚ فَزَيَّلۡنَا بَيۡنَهُمۡۖ وَقَالَ شُرَكَآؤُهُم مَّا كُنتُمۡ إِيَّانَا تَعۡبُدُونَ ٢٨

And [mention, O Muḥammad], the Day We will gather them all together - then We will say to those who associated others with Allāh, "[Remain in] your place, you and your 'partners.'"1 Then We will separate them,2 and their "partners" will say, "You did not used to worship us,3

فَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدَۢا بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ إِن كُنَّا عَنۡ عِبَادَتِكُمۡ لَغَٰفِلِينَ ٢٩

And sufficient is Allāh as a witness between us and you that we were of your worship unaware."

هُنَالِكَ تَبۡلُواْ كُلُّ نَفۡسٖ مَّآ أَسۡلَفَتۡۚ وَرُدُّوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ مَوۡلَىٰهُمُ ٱلۡحَقِّۖ وَضَلَّ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ ٣٠

There, [on that Day], every soul will be put to trial for what it did previously, and they will be returned to Allāh, their master, the Truth, and lost from them is whatever they used to invent.

اور (یاد کرو) جس دن ہم اکٹھا کریں گے ان کو، سب کو، پھر کہیں گے ہم ان لوگوں کے لیے جنھوں نے شرک کیا تھا، (ٹھہرے رہو) اپنی اپنی جگہ پر تم اور تمھارے شریک (معبودان باطلہ)، پھر ہم جدائی ڈال دیں گے ان کے درمیان اور کہیں گے ان کے شریک (معبود) نہیں تھے تم ہماری عبادت کرتے (28) پس کافی ہے اللہ گواہ درمیان ہمارے اور درمیان تمھارے، بلاشبہ تھے ہم تمھاری عبادت سے بالکل غافل (29) وہاں جانچ (جان) لے گا ہر نفس، جو کچھ اس نے کیا تھا پہلے (دنیا میں ) اور وہ لوٹائے جائیں گے طرف اللہ کی، جو مالک ہے ان کا حقیقی اور گم ہو جائے گا ان سے جو تھے وہ افتراء باندھتے(30)

[28]﴿وَيَوۡمَ نَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے۔‘‘ یعنی ایک مقرر دن میں ہم تمام مخلوقات کو جمع کریں گے، ہم مشرکین اور ان کے ان معبودان باطل کو بھی اکٹھا کریں گے جن کی یہ مشرکین عبادت کیا کرتے تھے۔ ﴿ ثُمَّ نَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا مَكَانَكُمۡ اَنۡتُمۡ وَشُرَؔكَآؤُكُمۡ﴾ ’’پھر ہم کہیں گے شرک کرنے والوں کو کھڑے ہو اپنی اپنی جگہ، تم اور تمھارے شریک‘‘ یعنی اپنی جگہ پر کھڑے رہو تاکہ تمھارے اور تمھارے معبودوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے۔ ﴿ فَزَيَّلۡنَا بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’پھر ہم ان کے درمیان تفرقہ ڈال دیں گے۔‘‘ یعنی ہم بُعد بدنی اور بُعد قلبی کے ذریعے سے ان کے درمیان جدائی ڈال دیں گے، دنیا میں وہ ایک دوسرے کے لیے خالص محبت و مودت رکھتے تھے۔ اب ان کے درمیان سخت عداوت ہوگی۔ یہ محبت اور دوستی سخت عداوت اور بغض میں بدل جائے گی۔ ﴿ وَقَالَ شُرَؔكَآؤُهُمۡ﴾ ’’اور ان کے شریک کہیں گے۔‘‘ یعنی ان کے ٹھہرائے ہوئے شریک ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے۔ ﴿ مَّا كُنۡتُمۡ اِيَّانَا تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’تم ہماری عبادت تو نہ کرتے تھے‘‘ کیونکہ ہم تو اللہ تبارک و تعالیٰ کو اس سے پاک اور منزہ گردانتے ہیں کہ اس کا کوئی شریک اور ہمسر ہو۔

[29]﴿ فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًۢا بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ اِنۡ كُنَّا عَنۡ عِبَادَتِكُمۡ لَغٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’پس اللہ کافی ہے گواہ، ہمارے اور تمھارے درمیان، یقینا ہم تمھاری عبادت سے بے خبر تھے۔‘‘ ہم نے تمھیں عبادت کا حکم دیا تھا نہ ہم نے تمھیں اس کی طرف بلایا تھا بلکہ درحقیقت تم نے تو اس کی عبادت کی ہے جس نے تمھیں اس شرک کی طرف دعوت دی اور وہ ہے شیطان مردود، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے متنبہ فرمایا تھا ﴿ اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾(یس: 36؍60) ’’اے اولاد آدم! کیا میں نے تمھیں کہہ نہ دیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ يَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اَهٰۤؤُلَآءِ اِيَّاكُمۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ۰۰قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ اَنۡتَ وَلِيُّنَا مِنۡ دُوۡنِهِمۡ١ۚ بَلۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ١ۚ اَ كۡثَرُهُمۡ بِهِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ﴾(سباء:34؍40-41) ’’اور جس روز وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا پھر فرشتوں سے کہے گا کیا یہ لوگ تمھاری عبادت کیا کرتے تھے؟ وہ عرض کریں گے تو پاک ہے، ان کی بجائے تو ہمارا دوست ہے بلکہ یہ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور ان میں سے اکثر لوگ انھی کی بات مانتے تھے۔‘‘اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتے، انبیائے کرام علیہ السلام اور اولیائے عظام وغیرہم قیامت کے روز ان لوگوں سے براء ت کا اظہار کریں گے جو ان کی عبادت کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو (اس الزام سے) بری کریں گے کہ وہ ان لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت دیتے تھے اور وہ اپنی اس براء ت میں سچے ہوں گے۔

[30] تب اس وقت مشرکین کو اتنی زیادہ حسرت ہوگی کہ اس کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انھیں اپنے اعمال کی مقدار کا علم ہو جائے گا اور انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ ان سے کیا ردی خصائل صادر ہوتے رہے ہیں ۔ اس روز ان پر عیاں ہو جائے گا کہ وہ جھوٹے تھے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کیا کرتے تھے۔ ان کی عبادتیں گم اور ان کے معبود نابود ہو جائیں گے اور ان کے تمام اسباب و وسائل منقطع ہو جائیں گے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ هُنَالِكَ ﴾ ’’وہاں ‘‘ یعنی اس روز ﴿تَبۡلُوۡا كُلُّ نَفۡسٍ مَّاۤ اَسۡلَفَتۡ﴾ ’’جانچ لے گا ہر کوئی جو اس نے پہلے کیا‘‘ یعنی ان کے اعمال کی پڑتال کی جائے گی اور ان کی نوعیت کے مطابق ان کو جزا دی جائے گی۔ اگر اعمال اچھے ہوں گے تو اچھی جزا ہوگی، اگر اعمال برے ہوں گے تو جزا بھی بری ہوگی۔ ﴿رُدُّوۡۤا اِلَى اللّٰهِ مَوۡلٰىهُمُ الۡحَقِّ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اللہ کی طرف لوٹا دیے جائیں گے، جو ان کا سچا مالک ہے اور جاتا رہے گا ان سے وہ جو جھوٹ باندھتے تھے‘‘ یعنی اپنے شرک کے بارے میں انھوں نے بہتان طرازی کی تھی کہ یہ معبودان باطل جن کی یہ عبادت کرتے تھے، ان کو فائدہ دے سکتے ہیں اور عذاب کو ان سے دور کر سکتے ہیں ۔ (اس روز ان بہتانوں کی حقیقت واضح ہو جائے گی)۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском