As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Yunus 10:68–74
10:68–70Page 216
قَالُواْ ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ وَلَدٗاۗ سُبۡحَٰنَهُۥۖ هُوَ ٱلۡغَنِيُّۖ لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ إِنۡ عِندَكُم مِّن سُلۡطَٰنِۭ بِهَٰذَآۚ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ ٦٨
They1 have said, "Allāh has taken a son." Exalted is He; He is the [one] Free of need. To Him belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth. You have no authority2 for this [claim]. Do you say about Allāh that which you do not know?
قُلۡ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُونَ ٦٩
Say, "Indeed, those who invent falsehood about Allāh will not succeed."
مَتَٰعٞ فِي ٱلدُّنۡيَا ثُمَّ إِلَيۡنَا مَرۡجِعُهُمۡ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ ٱلۡعَذَابَ ٱلشَّدِيدَ بِمَا كَانُواْ يَكۡفُرُونَ ٧٠
[For them is brief] enjoyment in this world; then to Us is their return; then We will make them taste the severe punishment because they used to disbelieve.
کہا انھوں نے، بنائی ہے اللہ نے اولاد، پاک ہے وہ(اولاد سے)، وہ بے پروا ہے، اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اورجو کچھ زمین میں ہے، نہیں ہے تمھارے پاس کوئی دلیل اس بات کی، کیا کہتے ہو تم اوپر اللہ کے وہ بات جس کا نہیں علم رکھتے تم؟ (68) کہہ دیجیے! بے شک وہ لوگ جو باندھتے ہیں اوپر اللہ کے جھوٹ، نہیں فلاح پائیں گے وہ (69) تھوڑا سا فائدہ اٹھانا ہے دنیا میں ، پھر ہماری ہی طرف واپسی ہے ان کی، پھر ہم چکھائیں گے انھیں عذاب شدید بوجہ اس کے جو تھے وہ کفر کرتے (70)
[68] اللہ رب العالمین کے بارے میں مشرکین کی بہتان طرازی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ قَالُوا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا﴾ ’’انھوں نے کہا، ٹھہرا لی ہے اللہ نے اولاد‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو اس سے منزہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ﴾ ’’وہ پاک ہے۔‘‘ یہ ظالم اللہ تعالیٰ کی طرف جو نقائص منسوب کرتے ہیں وہ ان سے بلند و برتر ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں متعدد دلائل ذکر کیے ہیں :(۱)﴿ هُوَ الۡغَنِيُّ﴾ ’’وہ بے نیاز ہے‘‘ یعنی غنا (بے نیازی) اسی میں منحصر ہے اور غنا کی تمام اقسام کا وہی مالک ہے۔ وہ غنی ہے جو ہر پہلو، ہر اعتبار اور ہر لحاظ سے غنائے کامل کا مالک ہے۔ جب وہ ہر لحاظ سے غنی ہے تب وہ کس لیے بیٹا بنائے گا؟ کیا اس وجہ سے کہ وہ بیٹے کا محتاج ہے؟ یہ تو اس کے غنا اور بے نیازی کے منافی ہے۔ کوئی شخص صرف اپنے غنا میں نقص کی بنا پر بیٹا بناتا ہے۔ (۲) دوسری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔‘‘ یہ عام اور جامع کلمہ ہے۔ آسمانوں اور زمین کی تمام موجودات اس کی ملکیت سے خارج نہیں ، تمام موجودات اس کی مخلوق، اس کے بندے اور مملوک ہیں اور یہ بات معلوم اور مسلم ہے کہ یہ وصف عام اس بات کے منافی ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو کیونکہ بیٹا اپنے باپ کی جنس سے ہوگا جو مخلوق ہوگا نہ مملوک۔ پس آسمانوں اور زمین کا اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہونا ولادت (اولاد ہونے)کے منافی ہے۔(۳) تیسری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ﴿ اِنۡ عِنۡدَكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍۭؔ بِهٰؔذَا﴾ ’’تمھارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ۔‘‘ یعنی تمھارے پاس تمھارے اس دعوی پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہے۔ اگر ان کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ اسے ضرور پیش کرتے۔ جب انھیں دلیل پیش کرنے کے لیے کہا گیا اور وہ دلیل قائم کرنے سے عاجز آگئے تو ان کے دعوے کا بطلان ثابت ہوگیا اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ان کا قول بلا علم ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَؔ﴾ ’’کیا تم اللہ کے ذمے ایسی بات لگاتے ہو جو تم نہیں جانتے‘‘ پس بلاعلم اللہ تعالیٰ کی طرف بات منسوب کرنا سب سے بڑا حرام ہے۔
[70,69]﴿قُلۡ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ، وہ کامیاب نہیں ہوں گے‘‘ یعنی وہ اپنا مطلوب و مقصود حاصل نہ کر سکیں گے، وہ دنیا کی زندگی میں اپنے کفر اور جھوٹ کے ذریعے سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں گے پھر لوٹ کر اللہ کے حضور حاضر ہو جائیں گے اور اللہ تعالیٰ انھیں ان کے کفر کی پاداش میں سخت عذاب کا مزا چکھائے گا۔ ﴿ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلٰكِنۡ اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ﴾(آل عمران: 3؍117) ’’اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔‘‘
10:71–73Page 217
۞ وَٱتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَأَ نُوحٍ إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦ يَٰقَوۡمِ إِن كَانَ كَبُرَ عَلَيۡكُم مَّقَامِي وَتَذۡكِيرِي بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَعَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلۡتُ فَأَجۡمِعُوٓاْ أَمۡرَكُمۡ وَشُرَكَآءَكُمۡ ثُمَّ لَا يَكُنۡ أَمۡرُكُمۡ عَلَيۡكُمۡ غُمَّةٗ ثُمَّ ٱقۡضُوٓاْ إِلَيَّ وَلَا تُنظِرُونِ ٧١
And recite to them the news of Noah, when he said to his people, "O my people, if my residence and my reminding of the signs of Allāh has become burdensome upon you - then I have relied upon Allāh. So resolve upon your plan and [call upon] your associates. Then let not your plan be obscure to you.1 Then carry it out upon me and do not give me respite.
فَإِن تَوَلَّيۡتُمۡ فَمَا سَأَلۡتُكُم مِّنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِۖ وَأُمِرۡتُ أَنۡ أَكُونَ مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ ٧٢
And if you turn away [from my advice] - then no payment have I asked of you. My reward is only from Allāh, and I have been commanded to be of the Muslims [i.e., those who submit to Allāh]."
فَكَذَّبُوهُ فَنَجَّيۡنَٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ فِي ٱلۡفُلۡكِ وَجَعَلۡنَٰهُمۡ خَلَٰٓئِفَ وَأَغۡرَقۡنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَاۖ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُنذَرِينَ ٧٣
And they denied him, so We saved him and those with him in the ship and made them successors, and We drowned those who denied Our signs. Then see how was the end of those who were warned.
اور آپ پڑھیں ان پر خبر نوح کی، جب اس نے کہا اپنی قوم سے، اے میری قوم! اگر ہے گراں گزرتا تم پر میرا کھڑا ہونا اور میرا نصیحت کرنا ساتھ اللہ کی آیتوں کے تو اللہ ہی پر توکل کیا میں نے، پس متفقہ فیصلہ کر لو تم (میرے خلاف) اپنے معاملے کا اپنے شریکوں سمیت، پھر نہ رہے معاملہ تمھارا تم پر مبہم، پھر نافذ کردو (اپنا فیصلہ) مجھ پراور نہ مہلت دو مجھے(71) پس اگر منہ پھیر لوتم تو نہیں سوال کیا میں نے تم سے کسی اجر کا، نہیں ہے اجر میرا مگر اوپر اللہ کےاور حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ ہوں میں فرماں برداروں میں سے (72) پس جھٹلایا انھوں نے اس کو تو ہم نے نجات دی اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں اور بنا دیا ہم نے انھیں جانشین (ان کا) اور غرق کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، پس دیکھیے کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ڈرائے گئے تھے (73)
[71] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمدﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَاتۡلُ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان کو سنایئے‘‘ یعنی اپنی قوم کے سامنے تلاوت کر دیجیے ﴿ نَبَاَ نُوۡحٍ﴾ ’’نوح کا حال‘‘ یعنی جناب نوحu کی دعوت کا حال، جو انھوں نے اپنی قوم کے سامنے پیش کی تھی وہ ایک طویل مدت تک ان کو دعوت دیتے رہے۔ پس وہ اپنی قوم کے درمیان نو سو پچاس برس تک رہے مگر ان کی دعوت نے ان کی سرکشی میں اضافہ ہی کیا اور وہ آپ کی دعوت سے اکتا گئے اور سخت تنگ آگئے۔ نوحu نے ان کو دعوت دینے میں کسی سستی کا مظاہرہ کیا نہ کوتاہی کا، چنانچہ آپ ان سے کہتے رہے ﴿يٰقَوۡمِ اِنۡ كَانَ كَبُرَ عَلَيۡكُمۡ مَّقَامِيۡ وَتَذۡكِيۡرِيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر بھاری ہوا ہے تم پر میرا کھڑا ہونا اور میرا نصیحت کرنا‘‘ یعنی میرا تمھارے پاس ٹھہرنا اور تمھیں وعظ و نصیحت کرنا جو تمھارے لیے فائدہ مند ہے ﴿ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی آیتوں سے‘‘ یعنی واضح دلائل کے ذریعے سے اور یہ چیز تمھارے لیے بہت بڑی اور تم پر شاق گزرتی ہے اور تم مجھے نقصان پہنچانے یا دعوت حق کو ٹھکرانے کا ارادہ رکھتے ہو۔ ﴿ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّؔلۡتُ ﴾ ’’تو میں نے اللہ پر بھروسہ کیا ہے‘‘ یعنی اس تمام شر کو دفع کرنے میں جو تم مجھے اور میری دعوت کو پہنچانا چاہتے ہو، میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہوں ۔ یہی توکل، میرا لشکر اور میرا تمام ساز و سامان ہے اور تم اپنے تمام تر سروسامان اور تعداد کے ساتھ جو کچھ کر سکتے ہو کر لو ﴿ فَاَجۡمِعُوۡۤا اَمۡرَؔكُمۡ ﴾ ’’اب تم سب مل کر مقرر کرو اپنا کام‘‘ تم تمام لوگ اکٹھے ہو کر، کہ تم میں سے کوئی پیچھے نہ رہے، میرے خلاف جدوجہد میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو۔ ﴿ وَ شُرَؔكَآءَكُمۡ ﴾ ’’اور جمع کرو اپنے شریکوں کو‘‘ یعنی ان تمام شریکوں کو بلا لو، جن کی تم اللہ رب العالمین کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو اور انھیں تم اپنا والی و مددگار بناتے ہو۔ ﴿ ثُمَّ لَا يَكُنۡ اَمۡرُؔكُمۡ عَلَيۡكُمۡ غُمَّؔةً ﴾ ’’پھر نہ رہے تم کو اپنے کام میں اشتباہ‘‘ یعنی اس بارے میں تمھارا معاملہ مشتبہ اور خفیہ نہ ہو بلکہ تمھارا معاملہ ظاہر اور علانیہ ہو۔ ﴿ ثُمَّ اقۡضُوۡۤا اِلَيَّ ﴾ ’’پھر وہ کام میرے حق میں کر گزرو۔‘‘ یعنی میرے خلاف جو کچھ تمھارے بس میں ہے، سزا اور عقوبت کا فیصلہ سنا دو۔ ﴿ وَلَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴾ ’’اور مجھے مہلت نہ دو۔‘‘ یعنی تم مجھے دن کی ایک گھڑی کے لیے بھی مہلت نہ دو۔یہ نوحu کی رسالت کی صحت اور آپ کے دین کی صداقت کی قطعی دلیل اور بہت بڑی نشانی ہے کیونکہ آپ تنہا تھے آپ کا کوئی قبیلہ تھا جو آپ کی حمایت کرتا نہ آپ کے پاس کوئی فوج تھی جو آپ کی حفاظت کرتی۔ حضرت نوح کی قوم نے اپنی حماقت انگیز آراء، فساد دین اور اپنے خود ساختہ معبودان کے عیوب کا پرچار کیا اور آپ کے ساتھ بغض اور عداوت کا مظاہرہ کیا جو پہاڑوں اور چٹانوں سے زیادہ سخت تھی وہ مشرکین قدرت اور سطوت رکھنے والے لوگ تھے۔ نوحu نے ان سے فرمایا ’’تم، تمھارے گھڑے ہوئے شریک اور جن کو تم بلانے کی استطاعت رکھتے ہو، سب اکٹھے ہو جاؤ اور میرے خلاف جو چال تم چل سکتے ہو اگر قدرت رکھتے ہو تو چل کر دیکھ لو۔‘‘ پس وہ کچھ بھی نہ کر سکے۔ تب معلوم ہوا کہ حضرت نوحu سچے اور وہ اپنی دھمکیوں میں جھوٹے تھے۔
[72] اس لیے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ ﴾ ’’پس اگر تم میری دعوت سے منہ موڑتے ہو‘‘ اور اس کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ یہ بات تمھارے سامنے واضح ہو چکی ہے کہ تم باطل کو چھوڑ کر حق کی طرف نہیں آتے بلکہ اس کے برعکس تم تو حق سے منہ موڑ کر باطل کی طرف جا رہے ہو جس کے فاسد ہونے پر دلائل قائم ہو چکے ہیں۔ بایں ہمہ ﴿ فَمَا سَاَلۡتُكُمۡ مِّنۡ اَجۡرٍ﴾ ’’میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا۔‘‘ یعنی میں اپنی دعوت اور تمھاری لبیک پر تم سے کسی معاوضے کا مطالبہ نہیں کرتا تاکہ تم میرے بارے میں یہ نہ کہتے پھرو کہ یہ تو ہمارے مال ہتھیانے کے لیے آیا ہے اور اسی وجہ سے ہم اس کی دعوت قبول نہیں کرتے۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’میرا معاوضہ تو اللہ کے ذمے ہے۔‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے ثواب اور اجر کا طلب گار نہیں ۔ ﴿ وَ ﴾ نیز میں تمھیں کسی ایسی بات کا حکم نہیں دیتا جس کی مخالفت کر کے اس کی متضاد بات پر عمل کروں بلکہ ﴿ اُمِرۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’مجھے حکم ہے کہ میں فرماں بردار رہوں ‘‘ پس جن امور کا میں تمھیں حکم دیتا ہوں سب سے پہلے میں خود ان میں داخل ہوتا ہوں اور سب سے پہلے میں خود اس پر عمل کرتا ہوں ۔
[73]﴿ فَكَذَّبُوۡهُ﴾ ’’پس انھوں نے نوح کو جھٹلایا‘‘ حضرت نوحu نے ان کو شب و روز اور کھلے چھپے دعوت دی مگر آپ کی دعوت نے ان کے فرار میں اضافہ کے سوا کچھ نہ کیا ﴿ فَنَجَّيۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ فِي الۡفُلۡكِ ﴾ ’’پس ہم نے نجات دی اس کو اور جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے‘‘ یعنی وہ کشتی جس کے بارے میں ہم نے حضرت نوحu کو حکم دیا تھا کہ وہ اسے ہماری آنکھوں کے سامنے بنائیں ۔ جب تنور سے پانی ابل پڑا تو ہم نے انھیں حکم دیا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾(ھود:11؍40) ’’ہر قسم کے جانوروں میں سے جوڑا جوڑا لے لو اور اپنے گھر والوں کو، سوائے اس کے جس کی ہلاکت کا فیصلہ ہو چکا اور اس کو بھی ساتھ لے لینا جو ایمان لا چکا ہو۔‘‘ چنانچہ نوحu نے ایسا ہی کیا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمان کو حکم دیا اس نے زور دار مینہ برسایا اور زمین کے چشمے ابل پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہو چکا تھا جس کے بارے میں فیصلہ ہو چکا تھا ﴿ وَحَمَلۡنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلۡوَاحٍ وَّدُسُرٍ﴾(القمر: 54؍13) ’’اور ہم نے نوح کو ایک ایسی کشتی میں سوار کیا جو تختوں اور میخوں سے بنائی گئی تھی۔‘‘ جو ہماری آنکھوں کے سامنے پانی پر تیر رہی تھی۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ خَلٰٓىِٕفَ﴾ ’’اور ہم نے انھیں خلیفہ بنایا۔‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے انھیں زمین میں جانشین بنایا، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحu کی نسل میں برکت ڈالی اور ان کی نسل ہی کو باقی رکھا اور ان کو زمین کے کناروں تک پھیلا دیا۔ ﴿ وَاَغۡرَقۡنَا الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اور ہم نے ان کو غرق کر دیا جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا‘‘ یعنی جنھوں نے واضح کر دینے اور دلیل قائم کر دینے کے بعد بھی ہماری آیات کی تکذیب کی ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جن کو ڈرایا گیا تھا۔‘‘ ان کا انجام رسوا کن ہلاکت تھی اور مسلسل لعنت تھی جو ہر زمانے میں ان کا پیچھا کرتی رہی، آپ ان کے بارے میں صرف حرف ملامت ہی سنیں گے اور ان کے بارے میں برائی اور مذمت کے سوا کچھ نہیں دیکھیں گے... پس ان جھٹلانے والوں کو اس عذاب سے ڈرنا چاہیے جو انبیا و رسل کو جھٹلانے والی ان قوموں پر ہلاکت انگیز اور رسوا کن عذاب نازل ہوا تھا۔
10:74Page 217
ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِۦ رُسُلًا إِلَىٰ قَوۡمِهِمۡ فَجَآءُوهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَمَا كَانُواْ لِيُؤۡمِنُواْ بِمَا كَذَّبُواْ بِهِۦ مِن قَبۡلُۚ كَذَٰلِكَ نَطۡبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلۡمُعۡتَدِينَ ٧٤
Then We sent after him messengers to their peoples, and they came to them with clear proofs. But they were not to believe in that which they had denied before.1 Thus We seal over the hearts of the transgressors.
پھر بھیجے ہم نے بعد نوح کے کئی رسول طرف ان کی قوموں کے، پس آئے وہ ان کے پاس ساتھ واضح دلیلوں کے، سو نہ ہوئے وہ کہ ایمان لے آتے ساتھ اس چیز کے کہ جھٹلا چکے تھے وہ اسے پہلے، اسی طرح ہم مہر لگا دیتے ہیں دلوں پر حد سے تجاوز کرنے والوں کے (74)
[74]﴿ ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهٖ ﴾ ’’پھر بھیجے ہم نے اس کے بعد‘‘ یعنی نوحu کے بعد ﴿ رُسُلًا اِلٰى قَوۡمِهِمۡ ﴾ ’’کئی پیغمبر ان کی قوموں کی طرف‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی طرف، جو ان کو ہدایت کی طرف بلاتے تھے اور انھیں ہلاکت کے اسباب سے ڈراتے تھے۔ ﴿ فَجَآءُوۡهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾’’پس وہ ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے‘‘ یعنی ہر نبی نے اپنی دعوت کی تائید میں ایسے دلائل پیش کیے، جو ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتے تھے۔﴿ فَمَا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡا بِمَا كَذَّبُوۡا بِهٖ مِنۡ قَبۡلُ﴾ ’’پس ان سے یہ نہ ہوا کہ وہ اس بات پر ایمان لے آئیں جسے وہ اس سے پہلے جھٹلا چکے تھے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اس وقت سزا دی جب ان کے پاس رسول آیا اور انھوں نے اس کی تکذیب میں جلدی کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور وہ ان کے اور ایمان کے درمیان حائل ہوگیا۔ وہ اس سے قبل ایمان لانے پر متمکن تھے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾(الانعام: 6؍110) ’’ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے اور جس طرح وہ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے تھے، نشانیاں آنے کے بعد بھی ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘ بنابریں یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ نَطۡبَعُ عَلٰى قُلُوۡبِ الۡمُعۡتَدِيۡنَ﴾ ’’اسی طرح ہم زیادتی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں ۔‘‘ پس ان کے دلوں میں کسی قسم کی بھلائی داخل نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انھوں نے خود ہی حق کو ٹھکرا کر... جب حق ان کے پاس آیا اور اس کو اولین مرتبہ جھٹلا کر... اپنی جانوں پر ظلم کیا۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences