As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Ibrahim 14:13–31
14:13–17Page 257
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِرُسُلِهِمۡ لَنُخۡرِجَنَّكُم مِّنۡ أَرۡضِنَآ أَوۡ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَاۖ فَأَوۡحَىٰٓ إِلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ لَنُهۡلِكَنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ ١٣
And those who disbelieved said to their messengers, "We will surely drive you out of our land, or you must return to our religion." So their Lord inspired to them, "We will surely destroy the wrongdoers.
وَلَنُسۡكِنَنَّكُمُ ٱلۡأَرۡضَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡۚ ذَٰلِكَ لِمَنۡ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ ١٤
And We will surely cause you to dwell in the land after them. That is for he who fears My position1 and fears My threat."
وَٱسۡتَفۡتَحُواْ وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٖ ١٥
And they requested decision [i.e., victory from Allāh], and disappointed, [therefore], was every obstinate tyrant.
مِّن وَرَآئِهِۦ جَهَنَّمُ وَيُسۡقَىٰ مِن مَّآءٖ صَدِيدٖ ١٦
Before him1 is Hell, and he will be given a drink of purulent water.2
يَتَجَرَّعُهُۥ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُۥ وَيَأۡتِيهِ ٱلۡمَوۡتُ مِن كُلِّ مَكَانٖ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٖۖ وَمِن وَرَآئِهِۦ عَذَابٌ غَلِيظٞ ١٧
He will gulp it but will hardly [be able to] swallow it. And death will come to him from everywhere, but he is not to die. And before him is a massive punishment.
اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، اپنے رسولوں سے البتہ ہم ضرور نکال دیں گے تمھیں اپنی زمین سے یا تم واپس آجاؤ ہمارے دین میں ، پس وحی کی ان کی طرف ان کے رب نے کہ یقینا ہم ضرور ہلاک کر دیں گے ظالموں کو (13) اور یقینا ہم ضرور آباد کریں گے تمھیں اس زمین میں بعد ان کے، یہ (وعدہ) اس شخص کے لیے ہے جو ڈرے میرے سامنے کھڑا ہونے سے اور ڈرے میری وعید سے (14) اور فتح طلب کی انھوں نےاور ناکام ہوا ہر سرکش، عناد رکھنے والا (15) آگے اس کے جہنم ہےاور وہ پلایا جائے گا پانی (جہنمیوں کی) پیپ کا (16) وہ گھونٹ گھونٹ پيے گا اسےاور نہیں قریب کہ اتار سکے وہ اس کو حلق سےاور آئے گی اس کو موت ہر طرف سےاورنہیں ہو گا وہ مرنے والااور اس (عذاب) سے آگے (اور ) عذاب ہو گا نہایت سخت (17)
[13] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے انبیاء و رسل کی اپنی قوم کے سامنے دعوت، اس پر دوام اور عدم ملال کا ذکر فرمایا تو ان کی قوم کے ساتھ ان کا منتہائے حال بھی بیان فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِرُسُلِهِمۡ ﴾ ’’اور جو کافر تھے انھوں نے اپنے رسولوں سے کہا۔‘‘ ان کو دھمکی دیتے ہوئے: ﴿لَنُخۡرِجَنَّكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِنَاۤ اَوۡ لَتَعُوۡدُنَّ فِيۡ مِلَّتِنَا﴾ ’’ہم تمھیں اپنے وطن سے نکال دیں گے یا پھر تم ہمارے مذہب میں واپس آجاؤ‘‘ یہ انبیاء کی دعوت کو ٹھکرانے کا سب سے زیادہ بلیغ طریقہ ہے اور اس کے بعد ان پر کوئی امید باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ انھوں نے ہدایت سے روگردانی پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے رسولوں کو ان کے وطن سے نکال دینے کی بھی دھمکی دی اور وطن کو صرف اپنی طرف منسوب کیا، ان کا زعم تھا کہ وطن پر رسولوں کا کوئی حق نہیں ۔ اور یہ سب سے بڑا ظلم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو روئے زمین پر پھیلایا اور ان کو اپنی عبادت کا حکم دیا اور زمین اور زمین کی ہر چیز کو ان کے لیے مسخر کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر ان چیزوں سے مدد لیتے ہیں ۔ پس جو کوئی ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں استعمال کرتا ہے یہ اس کے لیے جائز ہیں اور اس پر کوئی گرفت نہیں اور جو کوئی ان کو کفر اور مختلف قسم کے گناہ اور معاصی میں استعمال کرتا ہے تو یہ اشیاء اس کے لیے خالص ہیں نہ اس کے لیے حلال ہیں ۔ پس معلوم ہوا کہ دشمنان انبیاء، درحقیقت، زمین کی کسی شے کے مالک نہیں ، وہ زمین سے جس سے وہ انبیاء کرام کو جلا وطن کرنے کی دھمکی دیتے ہیں اس کی کسی چیز کے بھی مالک نہیں … اگر ہم مجرد عادت کی طرف رجوع کریں تو انبیاء و مرسلین بھی اہل بلاد میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے وطن ہی میں بسنے والے افراد ہیں، تب وہ انھیں ان کے واضح اور صریح حق سے کیوں محروم کر رہے ہیں کیا یہ تمام تر دین اور مروت کے منافی نہیں ؟… اسی لیے جب رسولوں کے خلاف ان کی سازشیں اس حال کو پہنچ گئیں تو اس کے سوا کچھ باقی نہ رہا کہ اللہ اپنے حکم کو نافذ کر دے اور اپنے اولیاء کی مدد کرے۔ ﴿ فَاَوۡحٰۤى اِلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ لَنُهۡلِكَنَّ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس ان کے رب نے ان کی طرف وحی کی کہ ہم ضرور ظالموں کو ہلاک کر دیں گے‘‘ عذاب کی مختلف اقسام کے ذریعے سے۔
[14]﴿ وَلَنُسۡكِنَنَّكُمُ الۡاَرۡضَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ﴾ ’’اور ان کے بعد ہم تم کو زمین میں آباد کریں گے، یہ‘‘ یعنی یہ اچھا انجام جس سے اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل اور ان کے پیروکاروں کو بہرہ ور کیا، اس شخص کی جزا ہے ﴿لِمَنۡ خَافَ مَقَامِيۡ ﴾ ’’جو میرے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرے۔‘‘ یعنی جو دنیا میں ، مرے حضور کھڑا ہونے سے ڈرتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی نگہبانی کا اس شخص کی مانند خوف کھاتا ہو جسے علم ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔ ﴿ وَخَافَ وَعِيۡدِ ﴾ ’’اور میرے عذاب سے خوف کرے۔‘‘ یعنی میری وعید سے ڈرتا ہو جو میں نے اپنے نافرمانوں کو سنائی ہے، پس یہ ڈر اس بات کا موجب ہے کہ وہ ان امور سے رک جائے جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے اور ان کی طرف سبقت کرے جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔
[15]﴿ وَاسۡتَفۡتَحُوۡا﴾ ’’اور انھوں نے فیصلہ طلب کیا۔‘‘ یعنی کفار نے، یعنی یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے فیصلے، اس کے اولیاء اور اس کے اعداء کے درمیان تفریق و امتیاز کے مطالبے میں جلدی مچائی، پس انھوں نے جو فیصلہ طلب کیا تھا، وہ ان کے پاس آگیا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ تو نہایت حلم والا ہے۔ وہ اپنے نافرمانوں کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ ﴿ وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيۡدٍ ﴾ ’’اور نامراد ہوا ہر سرکش ضدی‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ، حق اور اللہ کے بندوں کے مقابلے میں سرکشی دکھاتا ہے، زمین میں تکبر کرتا ہے اور انبیاء و رسل کے خلاف عناد رکھتا ہے اور ان کی مخالفت کرتا ہے، وہ دنیا و آخرت میں خائب و خاسر ہوتا ہے۔
[16]﴿ مِّنۡ وَّرَآىِٕهٖ جَهَنَّمُ ﴾ ’’اس کے پیچھے دوزخ ہے‘‘ یعنی جہنم اس معاند حق، جابر شخص کی گھات میں ہے وہ ضرور اس جہنم میں وارد ہو گا، تب اسے سخت عذاب کا مزا چکھایا جائے گا۔ ﴿ وَيُسۡقٰى مِنۡ مَّآءٍ صَدِيۡدٍ ﴾ ’’اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا‘‘ جو اپنے رنگ، ذائقے اور بدبو میں خون اور پیپ جیسا ہو گا اور وہ انتہائی گرم ہو گا۔
[17]﴿ يَّتَجَرَّعُهٗ ﴾ ’’وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پيے گا۔‘‘ یعنی سخت پیاس کے مارے گھونٹ گھونٹ پيے گا ﴿ وَلَا يَكَادُ يُسِيۡغُهٗ﴾ ’’اور اس کو گلے سے نہیں اتار سکے گا‘‘ کیونکہ جب وہ اسے اپنے منہ کے قریب لے کر جائے گا تو وہ چہرے کو بھون کر رکھ دے گا اور جب یہ پانی پیٹ میں جائے گا تو جہاں سے گزرے گا انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ ﴿ وَيَاۡتِيۡهِ الۡمَوۡتُ مِنۡ كُلِّ مَكَانٍ وَّمَا هُوَ بِمَيِّتٍ﴾ ’’اور اسے ہر جگہ سے موت آئے گی جبکہ وہ مرے گا نہیں ‘‘ یعنی اس کو ہر قسم کا سخت عذاب دیا جائے گا اور اپنی شدت کے اعتبار سے عذاب کی ہر نوع موت کی مانند ہو گی مگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہو گا کہ اسے موت نہ آئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوۡتُوۡا وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجۡزِيۡ كُلَّ كَفُوۡرٍۚ۰۰وَهُمۡ يَصۡطَرِخُوۡنَ فِيۡهَا﴾(فاطر:35؍36-37) ’’انھیں موت نہیں آئے گی کہ مر جائیں نہ ان پر عذاب ہی کو ہلکا کیا جائے گا ہم ہر بڑے کافر کو اسی طرح سزا دیتے ہیں اور وہ اس میں چلائیں گے۔‘‘ ﴿ وَمِنۡ وَّرَآىِٕهٖ ﴾ ’’اور اس کے پیچھے‘‘ یعنی جبار، معاند حق کے پیچھے ﴿ عَذَابٌ غَلِيۡظٌ ﴾ ’’سخت عذاب ہوگا۔‘‘ یعنی نہایت قوی اور سخت عذاب، جس کے وصف اور شدت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
14:18Page 257
مَّثَلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمۡۖ أَعۡمَٰلُهُمۡ كَرَمَادٍ ٱشۡتَدَّتۡ بِهِ ٱلرِّيحُ فِي يَوۡمٍ عَاصِفٖۖ لَّا يَقۡدِرُونَ مِمَّا كَسَبُواْ عَلَىٰ شَيۡءٖۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلضَّلَٰلُ ٱلۡبَعِيدُ ١٨
The example of those who disbelieve in their Lord is [that] their deeds are like ashes which the wind blows forcefully on a stormy day; they are unable [to keep] from what they earned a [single] thing. That is what is extreme error.
حال ان لوگوں (کے عملوں ) کا جنھوں نے کفر کیا اپنے رب کے ساتھ، (یہ ہو گا کہ) ان کے اعمال مانند اس راکھ کے ہوں گے کہ سخت چلی اس (راکھ) پر ہوا، آندھی والے روز، نہیں قدرت رکھیں گے وہ ان اعمال میں سے جو انھوں نے کمائے اوپر کسی چیز کے (ان میں سے) یہی ہے گمراہی دور کی (18)
[18] اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کے اعمال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے… اور ان اعمال سے یا تو وہ اعمال مراد ہیں جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر کیے ہیں ۔ یہ اعمال بے فائدہ جانے، اپنے بطلان اور اپنے اضمحلال میں راکھ کی مانند ہیں جو سب سے گھٹیا اور سب سے ہلکی چیز ہے۔ سخت آندھی والے دن جب سخت ہوا چلتی ہے تو اس راکھ میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہتا، اس راکھ کے اڑ جانے اور مضمحل ہونے سے روکنے کی قدرت کوئی نہیں رکھتا۔ اسی طرح کفار کے اعمال ہیں ﴿ لَا يَقۡدِرُوۡنَ مِمَّا كَسَبُوۡا عَلٰى شَيۡءٍ﴾ ’’جو وہ کام کرتے رہے ان پر وہ کچھ دسترس نہ رکھیں گے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اعمال میں سے ذرہ بھر عمل کے اجر کے حصول پر بھی قادر نہ ہوں گے کیونکہ یہ عمل کفر اور تکذیب پر مبنی ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الۡبَعِيۡدُ ﴾ ’’یہی ہے دور کی گمراہی‘‘ کیونکہ ان کی کوشش رائیگاں گئی اور ان کا عمل باطل ہو گیا۔ یا ان اعمال سے مراد کفار کے وہ اعمال ہیں جن کے ذریعے سے وہ حق کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے، وہ حق میں جرح اور قدح کیا کرتے تھے۔ ان کے مکروفریب کا وبال انھی کی طرف لوٹ آئے گا۔ اور وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اس کے لشکر اور حق کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے۔
14:19–21Page 258
أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِٱلۡحَقِّۚ إِن يَشَأۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَأۡتِ بِخَلۡقٖ جَدِيدٖ ١٩
Have you not seen [i.e., considered] that Allāh created the heavens and the earth in truth? If He wills, He can do away with you and produce a new creation.
وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ بِعَزِيزٖ ٢٠
And that is not difficult for Allāh.
وَبَرَزُواْ لِلَّهِ جَمِيعٗا فَقَالَ ٱلضُّعَفَٰٓؤُاْ لِلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُوٓاْ إِنَّا كُنَّا لَكُمۡ تَبَعٗا فَهَلۡ أَنتُم مُّغۡنُونَ عَنَّا مِنۡ عَذَابِ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٖۚ قَالُواْ لَوۡ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ لَهَدَيۡنَٰكُمۡۖ سَوَآءٌ عَلَيۡنَآ أَجَزِعۡنَآ أَمۡ صَبَرۡنَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٖ ٢١
And they will come out [for judgement] before Allāh all together, and the weak will say to those who were arrogant, "Indeed, we were your followers, so can you avail us anything against the punishment of Allāh?" They will say, "If Allāh had guided us, we would have guided you. It is all the same for us whether we show intolerance or are patient: there is for us no place of escape."
کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے؟ اگر وہ چاہے تو لے جائے تمھیں اور لے آئے مخلوق نئی (19) اور نہیں ہے یہ (کام) اوپر اللہ کے کچھ بھی مشکل (20)اور وہ سامنے (کھڑے) ہوں گے اللہ کے سب تو کہیں گے کمزور لوگ ان لوگوں سے جو تکبر کرتے تھے (دنیا میں )، بے شک ہم تو تھے تمھارے تابع، پس کیا تم دور کر سکنے والے ہو ہم سے اللہ کاعذاب کچھ؟ وہ کہیں گے، اگر ہدایت دیتا ہمیں اللہ تو ، البتہ ہم بھی ہدایت کرتے تمھیں ، برابر ہے ہم پر آیا جزع فزع کریں ہم یا صبر کریں ہم، نہیں ہے واسطے ہمارے کوئی بھاگنے کی جگہ (21)
[19] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بے شک اللہ نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ‘‘ یعنی تاکہ مخلوق اس کی عبادت کرے اور اس کی معرفت حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ ان کو اپنے اوامر و نواہی جاری کرے اور مخلوق ان آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کی صفات کمال پر استدلال کرے اور ان کو معلوم ہو جائے کہ وہ ہستی جس نے اتنے بڑے اور وسیع آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ تمام مخلوق کو نئے سرے سے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے تاکہ ان کی نیکی اور بدی پر ان کو جزا و سزا دے اور اس کی قدرت و مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں ہے۔ بنا بریں فرمایا ﴿ اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَاۡتِ بِخَلۡقٍ جَدِيۡدٍ ﴾ ’’اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے اور نئی مخلوق لے آئے‘‘ اس آیت کریمہ میں اس معنیٰ کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تمھیں لے جائے اور تمھاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے جو تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والی ہو اور یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں فنا کر دے اور پھر تمھیں دوبارہ زندہ کر کے ایک نئی تخلیق عطا کرے۔ اس احتمال کے مطابق اس آیت سے قیامت کے احوال کا اثبات ہوتا ہے جن کا ذکر مابعد سطور میں آ رہا ہے۔
[20]﴿ وَّمَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيۡزٍ﴾ ’’اور یہ اللہ کو کچھ بھی مشکل نہیں ۔‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل نہیں بلکہ بہت آسان ہے ﴿مَا خَلۡقُكُمۡ وَلَا بَعۡثُكُمۡ اِلَّا كَنَفۡسٍ وَّاحِدَةٍ﴾(لقمان:31؍28) ’’تمھیں پیدا کرنا اور پھر دوبارہ جلا اٹھانا ایک شخص کو پیدا کرنے اور اس کو جلا اٹھانے کی مانند ہے۔‘‘ ﴿وَهُوَ الَّذِيۡ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ وَهُوَ اَهۡوَنُ عَلَيۡهِ﴾(الروم: 30؍27) ’’وہی تو ہے جو تخلیق کی ابتداء کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا اور یہ دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے زیادہ آسان ہے۔‘‘
[21]﴿ وَبَرَزُوۡا لِلّٰهِ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اور سب لوگ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو گی، سب اپنی اپنی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی خدمت میں جائیں گے۔ وہ ایک ہموار زمین میں کھڑے ہوں گے جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے اور اس سے ان کی کوئی بات پوشیدہ نہ رہے گی۔ پس جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہوں گے تو آپس میں جھگڑا کریں گے، ہر شخص اپنے آپ کی مدافعت کرے گا۔ مگر وہ ایسا نہیں کر سکیں گے ﴿ فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا ﴾ ’’پس کمزور کہیں گے‘‘ یعنی پیروی کرنے والے اور مقلدین ﴿ لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا ﴾ ’’بڑائی والوں کو‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جن کی دنیا میں پیروی کی جاتی تھی جو گمراہی کے میدان میں قیادت کرتے تھے ﴿اِنَّا كُنَّا لَكُمۡ تَبَعًا﴾ ’’ہم تو تمھارے پیرو تھے۔‘‘ یعنی دنیا میں ہم تمھاری پیروی کرتے تھے، تم ہمیں گمراہی کا حکم دیا کرتے تھے اور گمراہی کو ہمارے سامنے آراستہ کیا کرتے تھے، پس تم نے ہمیں بدراہ کر دیا ﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّغۡنُوۡنَ عَنَّا مِنۡ عَذَابِ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’کیا پس تم ہم کو بچاؤ گے اللہ کے کسی عذاب سے کچھ‘‘ یعنی خواہ یہ عذاب سے بچانا ذرہ بھر ہی کیوں نہ ہو ﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی قائدین اور سردار کہیں گے جیسے ہم گمراہ تھے ویسے ہی ہم نے تمھیں گمراہ کر دیا۔ اور ﴿لَوۡ هَدٰؔىنَا اللّٰهُ لَهَدَيۡنٰؔكُمۡ﴾ ’’اگر اللہ ہمیں ہدایت کرتا تو ہم تمھیں ہدایت کر دیتے‘‘ پس کوئی کسی کے کام نہ آئے گا ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَجَزِعۡنَاۤ ﴾ ’’اب برابر ہے ہمارے حق میں ہم بے قراری کریں ‘‘ عذاب کی وجہ سے۔ ﴿ اَمۡ صَبَرۡنَا ﴾ ’’یا صبر کریں ‘‘ اس عذاب پر ﴿ مَا لَنَا مِنۡ مَّحِيۡصٍ ﴾ ’’ہمارے لیے کوئی خلاصی نہیں ‘‘ یعنی کوئی پناہ گاہ نہیں جہاں ہم پناہ لے سکیں اور کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں ہم اللہ کے عذاب سے بھاگ کر جاسکیں ۔
14:22–23Page 258
وَقَالَ ٱلشَّيۡطَٰنُ لَمَّا قُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ إِنَّ ٱللَّهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ ٱلۡحَقِّ وَوَعَدتُّكُمۡ فَأَخۡلَفۡتُكُمۡۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيۡكُم مِّن سُلۡطَٰنٍ إِلَّآ أَن دَعَوۡتُكُمۡ فَٱسۡتَجَبۡتُمۡ لِيۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوٓاْ أَنفُسَكُمۖ مَّآ أَنَا۠ بِمُصۡرِخِكُمۡ وَمَآ أَنتُم بِمُصۡرِخِيَّ إِنِّي كَفَرۡتُ بِمَآ أَشۡرَكۡتُمُونِ مِن قَبۡلُۗ إِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ ٢٢
And Satan will say when the matter has been concluded, "Indeed, Allāh had promised you the promise of truth. And I promised you, but I betrayed you. But I had no authority over you except that I invited you, and you responded to me. So do not blame me; but blame yourselves. I cannot be called to your aid, nor can you be called to my aid. Indeed, I deny your association of me [with Allāh] before.1 Indeed, for the wrongdoers is a painful punishment."
وَأُدۡخِلَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا بِإِذۡنِ رَبِّهِمۡۖ تَحِيَّتُهُمۡ فِيهَا سَلَٰمٌ ٢٣
And those who believed and did righteous deeds will be admitted to gardens beneath which rivers flow, abiding eternally therein by permission of their Lord; and their greeting therein will be, "Peace!"
اور کہے گا شیطان، جب فیصلہ کر دیا جائے گا تمام معاملات کا، بے شک اللہ نے وعدہ کیا تھا تم سے وعدہ کیا تھا تم سے وعدہ سچااور میں نے وعدہ کیا تھا تم سے پس خلاف ورزی کی میں نے تم سے اور نہیں تھا واسطے میرے تم پر کوئی غلبہ سوائے اس کے کہ میں نے بلایا تمھیں اور تم نے مان لی میری بات، سو نہ ملامت کرو تم مجھے اور ملامت کرو تم اپنے آپ کو ، نہیں ہوں میں تمھاری فریاد رسی کرنے والااور نہ تم ہی میری فریاد رسی کرنے والے ہو، بلاشبہ میں تو انکار کرتا ہوں اس کا جو تم شریک ٹھہراتے تھے مجھے (اللہ کا) پہلے اس سے، بے شک ظالم لوگ، ان کے لیے عذاب ہے بہت درد ناک (22) اور داخل کیے جائیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ، ساتھ حکم اپنے رب کے، ان کی (ملاقات کی) دعاء ہو گی ان میں سلام (23)
[22]﴿وَقَالَ الشَّيۡطٰنُ﴾ شیطان، جو دنیا میں واقع ہونے والی ہر برائی کا سبب ہے جہنمیوں سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے ان سے مخاطب ہو کر کہے گا:﴿لَمَّا قُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’جب فیصلہ ہو چکے گا سب امور کا‘‘ اور جنتی جنت میں داخل ہو جائیں گے اور جہنمی جہنم میں دھکیل دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ الۡحَقِّ﴾ ’’جو وعدہ اللہ نے کیا تھا وہ تو سچ تھا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی زبان پر تمھارے ساتھ سچا وعدہ کیا تھا مگر تم نے اس کی اطاعت نہ کی، اگر تم نے اس کی اطاعت کی ہوتی تو تم فوز عظیم سے بہرہ ور ہوتے ﴿ وَوَعَدۡتُّكُمۡ ﴾ ’’اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا‘‘ بھلائی کا ﴿ فَاَخۡلَفۡتُكُمۡ ﴾ ’’پس میں نے تم سے وعدہ خلافی کی‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو جھوٹی آرزوئیں اور امیدیں دلائی تھیں وہ حاصل نہیں ہوئیں اور نہ کبھی حاصل ہوں گی۔ ﴿ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ﴾ ’’اور میرا تم پر کوئی زور نہیں تھا‘‘ میرے پاس کوئی دلیل اور اپنے قول کی کوئی تائید نہ تھی ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ دَعَوۡتُكُمۡ فَاسۡتَجَبۡتُمۡ لِيۡ﴾ ’’مگر یہ کہ میں نے تمھیں بلایا اور تم نے میری بات مان لی‘‘ یعنی میرے پاس زیادہ سے زیادہ جو اختیار تھا وہ یہ تھا کہ میں نے تمھیں اپنے مقصد کی طرف بلایا اور تمھارے سامنے اسے خوب آراستہ کیا، تم نے اپنی خواہشات نفس اور شہوات کی پیروی کرتے ہوئے میری دعوت پر لبیک کہا۔جب صورت حال یہ ہے ﴿ فَلَا تَلُوۡمُوۡنِيۡ وَلُوۡمُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ﴾ ’’تو تم مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ کو ملامت کرو‘‘ پس موجب عذاب میں تم ہی پر دارومدار ہے اور تم ہی اس عذاب کا سبب ہو۔ ﴿ مَاۤ اَنَا بِمُصۡرِخِكُمۡ ﴾ ’’میں تمھاری فریاد کو نہیں پہنچ سکتا‘‘ یعنی جس شدت عذاب میں تم مبتلا ہو میں تمھاری مدد نہیں کر سکتا۔ ﴿ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُصۡرِخِيَّ﴾ ’’اور نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو‘‘ ہر ایک کے لیے اپنے اپنے حصے کا عذاب ہے ﴿ اِنِّيۡ كَفَرۡتُ بِمَاۤ اَشۡرَؔكۡتُمُوۡنِ۠ مِنۡ قَبۡلُ﴾ ’’میں منکر ہوں جو تم نے مجھے شریک بنایا تھا اس سے پہلے‘‘ یعنی تم نے مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا تھا، میں اللہ تعالیٰ کا شریک نہ تھا اور تم پر میری اطاعت واجب نہ تھی پس میں تم سے بری الذمہ ہوں ﴿ اِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ بے شک شیطان کی اطاعت کر کے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ﴿ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ان کے لیے درد ناک عذاب ہے‘‘ وہ اس عذاب میں ابدالآباد تک رہیں گے۔ اور یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے انھیں شیطان کی اطاعت سے ڈرایا اس نے شیطان کے مقاصد اور ان راستوں کی نشاندہی کردی ہے جہاں سے وہ داخل ہو کر انسان کو گمراہ کرتا ہے اس کا مقصد صرف انسان کو جہنم کی آگ میں جھونکنا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ہم پر واضح کر دیا ہے کہ جب شیطان اپنے لشکر سمیت جہنم میں داخل ہو گا تو وہ اپنے متبعین سے بریء الذمہ ہو جائے گا اور ان کے شرک سے صاف انکار کر دے گا۔ ﴿وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثۡلُ خَبِيۡرٍ﴾(فاطر: 35؍14) ’’اور اللہ باخبر کی مانند تمھیں کوئی خبر نہیں دے سکتا۔‘‘آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس آیت کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ شیطان کے پاس کوئی اختیار نہیں اور ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا ﴿اِنَّمَا سُلۡطٰنُهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ يَتَوَلَّوۡنَهٗ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِهٖ مُشۡرِكُوۡنَ﴾(النحل: 16؍100) ’’شیطان کا زور تو صرف انھی لوگوں پر چلتا ہے جو اسے اپنا والی اور سرپرست بناتے ہیں اور اسے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ پس وہ ’’زور‘‘ اور ’’تسلط‘‘ جس کی اللہ تعالیٰ نے نفی کی ہے اس سے مراد حجت اور دلیل ہے، شیطان جس چیز کی طرف دعوت دیتا ہے، اس پر درحقیقت اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ۔ وہ زیادہ سے زیادہ یہ کرتا ہے کہ ان کو شبہات میں مبتلا کرے، گناہوں کو ان کے سامنے مزین اور آراستہ کرے، جن سے متاثر ہو کر وہ گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرلیں ۔ رہا وہ ’’زور‘‘ جس کا اللہ تعالیٰ نے اثبات کیا ہے تو اس سے مراد وہ تسلط ہے جس کے بل پر وہ اپنے دوستوں کو گناہوں پر آمادہ کرتا ہے اور ان کو نافرمانیوں پر ابھارتا ہے۔ بندے شیطان سے موالات پیدا کر کے اور اس کے گروہ میں شامل ہو کر اس کو اپنے آپ پر مسلط کر لیتے ہیں ۔ اس لیے شیطان کا ان لوگوں پر کوئی زور نہیں چلتا جو ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۔
[23] اللہ تعالیٰ نے ظالموں کو دیے جانے والے عذاب کا ذکر کرنے کے بعد اطاعت کرنے والوں کے لیے ثواب کا ذکر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاُدۡخِلَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور داخل کیے گئے وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے قول و فعل اور اعتقاد کے ساتھ دین کو قائم کیا ﴿ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ ﴾ ’’ایسے باغات میں ، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ‘‘ ان جنتوں میں ایسی لذات و شہوات ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کے تصور کا گزر ہوا ہے۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا بِـاِذۡنِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ ان میں اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ رہیں گے‘‘ یعنی وہ اپنی قوت و اختیار سے جنت میں داخل نہیں ہوں گے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی قوت و اختیار سے جنت میں داخل ہوں گے ﴿ تَحِيَّتُهُمۡ فِيۡهَا سَلٰمٌ﴾ ’’ان کی دعائے ملاقات ہے ان میں سلام‘‘ وہ سلام اور اچھے کلمات کے ساتھ ایک دوسرے کا خیرمقدم کریں گے۔
14:24–26Page 258
أَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٗا كَلِمَةٗ طَيِّبَةٗ كَشَجَرَةٖ طَيِّبَةٍ أَصۡلُهَا ثَابِتٞ وَفَرۡعُهَا فِي ٱلسَّمَآءِ ٢٤
Have you not considered how Allāh presents an example, [making] a good word like a good tree, whose root is firmly fixed and its branches [high] in the sky?
تُؤۡتِيٓ أُكُلَهَا كُلَّ حِينِۭ بِإِذۡنِ رَبِّهَاۗ وَيَضۡرِبُ ٱللَّهُ ٱلۡأَمۡثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ ٢٥
It produces its fruit all the time, by permission of its Lord. And Allāh presents examples for the people that perhaps they will be reminded.
وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٖ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ ٱجۡتُثَّتۡ مِن فَوۡقِ ٱلۡأَرۡضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٖ ٢٦
And the example of a bad word is like a bad tree, uprooted from the surface of the earth, not having any stability.
کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ کس طرح بیان فرمائی ہے اللہ نے مثال کلمۂ طیبہ کی؟ (کہ وہ ہے) مانند درخت پاکیزہ (کھجور) کے، کہ جڑ اس کی مضبوط ہے اور شاخیں اس کی آسمان میں ہیں (24) لاتا ہے وہ (درخت) پھل اپنا ہر وقت ساتھ حکم اپنے رب کے،اور بیان فرماتا ہے اللہ مثالیں لوگوں کے لیے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (25) اور مثال کلمۂ خبیثہ (کفرو شرک) کی ہے مانند درخت ناپاک کے، وہ اکھیڑ دیا جاتا ہے اورپر سے زمین کے، نہیں ہے اس کے لیے کوئی قرار (26)
[24]﴿ اَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً ﴾ ’’کیا آپ نے نہیں دیکھا، کیسے بیان کی اللہ نے ایک مثال، ستھری بات‘‘ یہاں کلمہ طیبہ (ستھری بات) سے مراد ہے اس امر کی گواہی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کی فروعات (ایسے ہے)﴿ كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ ﴾ ’’جیسے ایک ستھرا درخت ہے‘‘ اور اس سے مراد کھجور کا درخت ہے ﴿ اَصۡلُهَا ثَابِتٌ ﴾ ’’اس کی جڑ مضبوط ہے‘‘ یعنی زمین میں مضبوطی سے گڑی ہوئی ہے ﴿ وَّفَرۡعُهَا ﴾ ’’اور اس کی شاخیں ۔‘‘ یعنی اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں ۔ ﴿ فِي السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان میں ‘‘ اور یہ درخت دائمی طور پر کثیر الفوائد ہے۔
[25]﴿ تُؤۡتِيۡۤ اُكُلَهَا ﴾ ’’وہ پھل لاتا ہے‘‘ ﴿ كُلَّ حِيۡنٍۭؔ بِـاِذۡنِ رَبِّهَا﴾ ’’ہر وقت پر اپنے رب کے حکم سے‘‘ یہی حال شجر ایمان کا ہے، اس کی جڑیں علم و اعتقاد کے اعتبار سے بندۂ مومن کے قلب کی گہرائیوں میں نہایت مضبوطی سے جمی ہوئی ہیں ، اس کی شاخیں یعنی کلمات طیبات، عمل صالح، اخلاق جمیلہ، آداب حسنہ ہمیشہ آسمان کی طرف بلند رہتی ہیں ۔ بندۂ مومن کی طرف سے ایسے اعمال و اقوال بلند ہوتے ہیں ۔ جو شجر ایمان سے نکلتے ہیں ، جن سے بندۂ مومن اور دیگر لوگ منتفع ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضۡرِبُ اللّٰهُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ لوگوں کے واسطے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں ‘‘ ان سے جن کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے اور ان سے جن سے ان کو روکا ہے۔ کیونکہ ضرب الامثال میں ، معانی معقولہ کو امثال محسوسہ کے ذریعے سے قریب لایاجاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے معنی میں مراد کی غایت حد تک تبیین اور توضیح ہوتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حسن تعلیم ہے پوری، کامل اور بے پایاں حمد و ثنا اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ پس یہ بندۂ مومن کے قلب میں کلمہء توحید کا وصف اور اس کے ثبات کا بیان ہے۔
[26] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے کلمۂ توحید کی ضد کلمۂ کفر اور اس کی شاخوں کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيۡثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيۡثَةِ﴾ ’’اور گندی بات کی مثال، جیسے گندا درخت ہے‘‘ جو کھانے اور ذائقے میں بدترین درخت ہے اور اس سے مراد اندرائن وغیرہ کا پودا ہے ﴿اِجۡتُثَّتۡ ﴾ یعنی اس پودے کو اکھاڑ لیا گیا ﴿ مِنۡ فَوۡقِ الۡاَرۡضِ مَا لَهَا مِنۡ قَرَارٍ ﴾ ’’زمین کے اوپر سے، اس کو کوئی ٹھہراؤ نہیں ‘‘ یعنی اس پودے کو ثبات حاصل نہیں اس پودے کی رگیں نہیں ہیں جو اس کو سہارا دے کر کھڑا کر سکیں اور نہ یہ کوئی اچھا پھل لاتا ہے بلکہ اس میں پھل پایا بھی جاتا ہے تو انتہائی بدذائقہ۔اسی طرح کفر اور گناہ کی بات قلب میں کوئی فائدہ مند مضبوطی اور ثبات پیدا نہیں کرتی، اس کا ثمرہ بھی قول خبیث اور عمل خبیث کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جو اس کو تکلیف دیتا ہے۔ اس بندے کی طرف سے کوئی عمل صالح اللہ تعالیٰ کی طرف بلند نہیں ہوتا۔ اس قول و عمل سے وہ خود منتفع ہوتا ہے نہ کوئی اور۔
14:27Page 259
يُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱلۡقَوۡلِ ٱلثَّابِتِ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِۖ وَيُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلظَّٰلِمِينَۚ وَيَفۡعَلُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ ٢٧
Allāh keeps firm those who believe, with the firm word,1 in worldly life and in the Hereafter.2 And Allāh sends astray the wrongdoers. And Allāh does what He wills.
ثابت قدم رکھتا ہے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے، ساتھ قول ثابت (کلمۂ توحید) کے زندگانیٔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور گمراہ کرتا ہے اللہ ظالموں کواور کرتا ہے اللہ جو چاہتا ہے (27)
[27] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے جو کامل طور پر قلبی ایمان کو قائم کرتے ہیں ۔ جو اعمال جوارح کو مستلزم ہے یہ اعمال اس ایمان کا ثمرہ ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دنیا کے اندر شبہات کے وارد ہونے کے وقت ہدایت اور یقین کے ذریعے سے ثبات اور استقامت عطا کرتا ہے اور جب شہوات پیش آتی ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں قطعی اور پختہ ارادہ عطا کرتا ہے تب وہ خواہش نفس اور اس کی مراد پر اس امر کو مقدم رکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ آخرت میں ، موت کے وقت دین اسلام اور خاتمہ بالخیر پر ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور قبر میں منکر نکیر کے سوالات کے وقت صحیح جواب کی توفیق عطا کر کے ثبات اور مضبوطی سے نوازتا ہے۔ جب میت سے پوچھا جاتا ہے ’’تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ تو اللہ تعالیٰ صحیح جواب کی طرف اس کی راہ نمائی کرتا ہے اور مومن جواب دیتا ہے ’’میرا رب اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد (ﷺ) ہیں ۔‘‘ ﴿وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں راہ صواب سے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں كيا بلکہ انھوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔یہ آیت کریمہ، قبر کے امتحان، قبر کے عذاب اور اس کی نعمت اور آرام پر دلالت کرتی ہے۔ جیسا کہ قبر کے امتحان، اس کی صفت و کیفیت، قبر کے عذاب اور اس کے آرام کے بارے میں نبی کریمﷺ سے نہایت تواتر کے ساتھ نصوص وارد ہوئی ہیں ۔
14:28–30Page 259
۞ أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ بَدَّلُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ كُفۡرٗا وَأَحَلُّواْ قَوۡمَهُمۡ دَارَ ٱلۡبَوَارِ ٢٨
Have you not considered those who exchanged the favor of Allāh for disbelief1 and settled their people [in] the home of ruin?
جَهَنَّمَ يَصۡلَوۡنَهَاۖ وَبِئۡسَ ٱلۡقَرَارُ ٢٩
[It is] Hell, which they will [enter to] burn, and wretched is the settlement.
وَجَعَلُواْ لِلَّهِ أَندَادٗا لِّيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِهِۦۗ قُلۡ تَمَتَّعُواْ فَإِنَّ مَصِيرَكُمۡ إِلَى ٱلنَّارِ ٣٠
And they have attributed to Allāh equals to mislead [people] from His way. Say, "Enjoy yourselves, for indeed, your destination is the Fire."
کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کو جنھوں نے بدل ڈالا اللہ کی نعمت (ایمان) کو کفر سے اور جا اتارا اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں (28)(یعنی ) جہنم میں ، وہ داخل ہوں گے اس میں اور بہت ہی برا ہے وہ ٹھکانا (29) اور بنائے انھوں نے واسطے اللہ کے شریک تاکہ وہ گمراہ کریں (لوگوں کو) اس کے راستے سے، کہہ دیجیے، تم فائدہ اٹھاؤ (دنیا میں ) پھر بلاشبہ واپسی تمھاری ہے طرف آگ کی (30)
[28] اللہ تبارک و تعالیٰ، رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے کفار قریش کا اور ان کے معاملات کا مآل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ بَدَّلُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ كُفۡرًا ﴾ ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ کی نعمت سے مراد حضرت محمد مصطفیﷺ کی رسالت ہے۔ آپ انھیں دنیا و آخرت میں نیکیوں کے ادراک کی طرف دعوت دیتے تھے مگر انھوں نے اس نعمت کو ٹھکرا کر، اس کا انکار کر کے اور اپنے آپ کو اس نعمت کو قبول کرنے سے باز رکھ کر اس نعمت کو بدل ڈالا۔ ﴿ وَ ﴾ اور دوسروں کو اس نعمت کو قبول کرنے سے روکا حتیٰ کہ ﴿ اَحَلُّوۡا قَوۡمَهُمۡ دَارَ الۡبَوَارِجَهَنَّمَ﴾ ’’اتارا انھوں نے اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں ‘‘ اس سے مراد جہنم ہے کیونکہ وہ ان کی گمراہی کا سبب بنے اور اپنی قوم کے لیے وبال بن گئے جبکہ ان سے نفع کی امید تھی۔ منجملہ اس کے یہ بھی ہے کہ غزوہ بدر کے لیے ان کو نکلنے پر آمادہ کرنے کے لیے جنگ پر نکلنے کے بڑے فوائد بیان کیے۔ تاکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کریں ۔ پس ان کے ساتھ عبرت ناک سلوک ہوا اور جنگ بدر میں ان کے بہت سے بڑے بڑے سردار اور بہادر مارے گئے۔
[29]﴿جَهَنَّمَ يَصۡلَوۡنَهَا﴾ ’’جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں ‘‘ یعنی جہنم کی حرارت انھیں ہر جانب سے گھیر لے گی ﴿ وَبِئۡسَ الۡقَرَارُ﴾ ’’اور (جہنم) بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔‘‘
[30]﴿وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ اَنۡدَادًا ﴾ ’’اور ٹھہرائے انھوں نے اللہ کے لیے مقابل‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہمسر اور شریک ﴿ لِّيُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِهٖ﴾ ’’تاکہ اس کے راستے سے گمراہ کریں ۔‘‘ یعنی تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہمسر بنا کر اور ان کی عبادت کی طرف دعوت دے کر بندوں کو اللہ کے راستے سے بھٹکا سکیں ﴿ قُلۡ ﴾ ان کو وعید سناتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ تَمَتَّعُوۡا ﴾ اپنے کفر اور گمراہی سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لو۔ پس یہ تمھیں کوئی فائدہ نہ دیں گے ﴿ فَاِنَّ مَصِيۡرَؔكُمۡ اِلَى النَّارِ ﴾ ’’اس لیے کہ تمھارا ٹھکانا جہنم ہے‘‘ اور یہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
14:31Page 259
قُل لِّعِبَادِيَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ يُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُنفِقُواْ مِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ سِرّٗا وَعَلَانِيَةٗ مِّن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَ يَوۡمٞ لَّا بَيۡعٞ فِيهِ وَلَا خِلَٰلٌ ٣١
[O Muḥammad], tell My servants who have believed to establish prayer and spend from what We have provided them, secretly and publicly, before a Day comes in which there will be no exchange [i.e., ransom], nor any friendships.
کہہ دیجیے میرے ان بندوں کو جو ایمان لائے، کہ وہ قائم کریں نماز اور خرچ کریں اس میں سے جو رزق دیا ہم نے انھیں پوشیدہ اور ظاہر، پہلے اس سے کہ آئے وہ دن کہ نہ خرید و فروخت ہو گی اس میں اور نہ دوستی (ہی کام آئے گی)(31)
[31]﴿ قُلۡ لِّعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’میرے مومن بندوں سے کہہ دو۔‘‘ یعنی انھیں ان امور کا حکم دیجیے جن میں ان کی اصلاح ہے اور انھیں یہ بھی حکم دیا کہ اس سے قبل کہ ان کی اصلاح ممکن نہ ہو وہ فرصت کو غنیمت جانیں ۔ ﴿ يُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ ﴾ وہ ظاہری اور باطنی آداب کے ساتھ نماز قائم کریں ﴿وَيُنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے جو انھیں دیا ہے اس میں سے خرچ کریں ۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں کم یا زیادہ جو بھی نعمتیں عطا کی ہیں ان میں سے خرچ کریں ﴿ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً ﴾ ’’چھپے اور ظاہر‘‘ یہ حکم نفقات واجبہ ، مثلاً: زکٰوۃ اور نفقات کفالت اور نفقات مستحبہ ، مثلاً: عام صدقات وغیرہ کو شامل ہے۔ ﴿ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَ يَوۡمٌ لَّا بَيۡعٌ فِيۡهِ وَلَا خِلٰلٌ ﴾ ’’پہلے اس کے کہ وہ دن آ جائے، جس میں نہ کوئی سودا ہو گا نہ دوستی‘‘ یعنی اس دن کوئی چیز فائدہ نہ دے گی اور جو چیز فوت ہو گئی ہو گی تو کسی خرید و فروخت کے معاوضے، کسی ہبہ اور کسی دوست یار کے ذریعے سے اس کا تدارک ممکن نہیں ہو گا۔ پس ہر شخص کا اپنا اپنا معاملہ ہوگا جو اس کو دوسروں سے بے نیاز کر دے گا، اس لیے ہر شخص کو اپنے لیے کچھ بھیجنا چاہیے اور خوب اچھی طرح غور کر لے کہ وہ کل کے لیے کیا آگے بھیج رہا ہے۔ وہ اپنے اعمال پر نظر ڈالے اور بڑے حساب کتاب سے پہلے اپنے نفس کا محاسبہ کر لے۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences