As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Ibrahim 14:32–52
14:32–34Page 259
ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَخۡرَجَ بِهِۦ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ رِزۡقٗا لَّكُمۡۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلۡفُلۡكَ لِتَجۡرِيَ فِي ٱلۡبَحۡرِ بِأَمۡرِهِۦۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلۡأَنۡهَٰرَ ٣٢
It is Allāh who created the heavens and the earth and sent down rain from the sky and produced thereby some fruits as provision for you and subjected for you1 the ships to sail through the sea by His command and subjected for you the rivers.
وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ دَآئِبَيۡنِۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ ٣٣
And He subjected for you the sun and the moon, continuous [in orbit], and subjected for you the night and the day.
وَءَاتَىٰكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلۡتُمُوهُۚ وَإِن تَعُدُّواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ لَا تُحۡصُوهَآۗ إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَظَلُومٞ كَفَّارٞ ٣٤
And He gave you from all you asked of Him.1 And if you should count the favor [i.e., blessings] of Allāh, you could not enumerate them. Indeed, mankind is [generally] most unjust and ungrateful.2
اللہ ہی ہے وہ ذات جس نے پیدا کیے آسمان اور زمین اور نازل کیا آسمان سے پانی، پھر اس نے نکالے (پیدا کیے) اس (پانی) کے ذریعے سے پھل، روزی تمھارے لیےاور تابع کر دیا واسطے تمھارے کشتیوں کو تاکہ چلیں وہ سمندر میں اس (اللہ) کے حکم سےاور تابع کر دیا تمھارے لیے نہروں کو (32) اور تابع کر دیا واسطے تمھارے سورج اورچاند کو درانحالیکہ وہ دونوں برابر چل رہے ہیں اور مطیع کر دیا واسطے تمھارے رات اوردن کو (33) اور اس نے دی تمھیں ہر وہ چیز کہ سوال کیا تم نے اس کااور اگر تم شمار کرو نعمتیں اللہ کی تو نہ گن سکو گے تم انھیں ، بے شک انسان ، البتہ بڑا ظالم، نہایت ناشکرا ہے (34)
[32] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اکیلا ہی ہے ﴿ اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ ’’جس نے آسمانوں اور زمین کو (ان کی وسعتوں کے ساتھ) پیدا کیا‘‘ ﴿ وَاَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ﴾ ’’اور اتارا آسمان سے پانی‘‘ اس سے مراد وہ بارش ہے جسے اللہ تعالیٰ بادلوں سے برساتا ہے ﴿ فَاَخۡرَجَ بِهٖ ﴾ ’’پس اس کے ذریعے سے نکالے۔‘‘ یعنی اس پانی کے ذریعے سے ﴿ مِنَ الثَّمَرٰتِ ﴾ مختلف انواع کے پھل ﴿ رِزۡقًا لَّكُمۡ﴾ تمھارے اور تمھارے مویشیوں کے لیے رزق ﴿ وَسَخَّرَ لَكُمُ الۡفُلۡكَ ﴾ ’’اور کام میں لگا دیا تمھارے لیے کشتیوں کو‘‘ یعنی جہاز اور کشتیاں ﴿ لِتَجۡرِيَ فِي الۡبَحۡرِ بِاَمۡرِهٖ﴾ ’’کہ چلیں وہ سمندر میں اس کے حکم سے‘‘ وہی ہے جس نے جہازوں اور کشتیوں کی صنعت کو تمھارے لیے آسان بنا کر تمھیں ان پر قدرت عطا کی۔ پانی کی موجوں پر ان کی حفاظت کی۔ تاکہ تمھیں اور تمھارے تجارتی مال و اسباب کو اس شہر تک اٹھا لے جائے جہاں کا تم قصد رکھتے ہو۔﴿ وَسَخَّرَ لَكُمُ الۡاَنۡهٰرَ ﴾ ’’اور کام میں لگا دیا تمھارے لیے نہروں کو‘‘ تاکہ تم اپنے کھیتوں اور باغات کو سیراب کرو اور خود بھی ان کا پانی پیو۔
[33]﴿ وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ دَآىِٕبَيۡنِ﴾ ’’اور کام میں لگا دیا تمھارے لیے سورج اور چاند کو، ایک دستور پر برابر۔‘‘ ان کی رفتار میں نرمی آتی ہے نہ وہ سست پڑتے ہیں بلکہ تمھارے مصالح یعنی زمان و اوقات کے حساب، تمھارے ابدان، تمھارے مویشی و حیوانات، کھیتوں اور باغات کے فائدے کے لیے رواں دواں رہتے ہیں ۔ ﴿ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيۡلَ ﴾ ’’اور کام میں لگایا دیا تمھارے لیے رات کو‘‘ تاکہ تم آرام کر سکو۔ ﴿ وَالنَّهَارَ ﴾ ’’اور دن کو‘‘ تمھارے دیکھنے کے لیے تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو۔
[34]﴿ وَاٰتٰىكُمۡ مِّنۡ كُلِّ مَا سَاَلۡتُمُوۡهُ﴾ ’’اور دیا تم کو ہر چیز میں سے جو تم نے مانگا‘‘ یعنی اس نے تمھیں ہر وہ چیز عطا کی جس کے ساتھ تمھاری آرزوئیں اور ضرورتیں وابستہ ہیں جو تم اپنی زبان حال یا زبان قال کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہو، مثلاً: مال مویشی، مختلف اقسام کے آلات و صناعات وغیرہ۔ ﴿ وَاِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ لَا تُحۡصُوۡهَا﴾ ’’اور اگر اللہ کے احسان گننے لگو توتم شمار نہ کرسکو۔‘‘ یعنی تمھارا ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا تو کجا، تم ان کو شمار بھی نہیں کر سکتے ﴿ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَظَلُوۡمٌ كَفَّارٌ ﴾ ’’یقینا انسان نہایت نادان، بہت بے شکرا ہے‘‘ یہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے کیونکہ وہ نہایت ظالم، معاصی کے ارتکاب کی جسارت کرنے والا، اپنے رب کے حقوق کے بارے میں کوتاہی کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف اور اس کا شکر وہی ادا کر سکتا ہے، جس کی اللہ تعالیٰ راہ نمائی کرے۔ تب وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے، اپنے رب کے حق کو پہچانتا ہے اور اسے قائم کرتا ہے۔پس ان آیات کریمہ میں بندوں پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بہت سی اصناف مجمل اورمفصل طور پر بیان ہوئی ہیں …اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اس کا ذکر اور اس کا شکر ادا کریں اور وہ ان کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ دن رات اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے اور اس سے دعا مانگتے رہیں جیسے ہر وقت بتکرار ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا فیضان رہتا ہے۔
14:35–41Page 260
وَإِذۡ قَالَ إِبۡرَٰهِيمُ رَبِّ ٱجۡعَلۡ هَٰذَا ٱلۡبَلَدَ ءَامِنٗا وَٱجۡنُبۡنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعۡبُدَ ٱلۡأَصۡنَامَ ٣٥
And [mention, O Muḥammad], when Abraham said, "My Lord, make this city [i.e., Makkah] secure and keep me and my sons away from worshipping idols.
رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضۡلَلۡنَ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلنَّاسِۖ فَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُۥ مِنِّيۖ وَمَنۡ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٣٦
My Lord, indeed they have led astray many among the people. So whoever follows me - then he is of me;1 and whoever disobeys me - indeed, You are [yet] Forgiving and Merciful.
رَّبَّنَآ إِنِّيٓ أَسۡكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيۡرِ ذِي زَرۡعٍ عِندَ بَيۡتِكَ ٱلۡمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ فَٱجۡعَلۡ أَفۡـِٔدَةٗ مِّنَ ٱلنَّاسِ تَهۡوِيٓ إِلَيۡهِمۡ وَٱرۡزُقۡهُم مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَشۡكُرُونَ ٣٧
Our Lord, I have settled some of my descendants in an uncultivated valley near Your sacred House, our Lord, that they may establish prayer. So make hearts among the people incline toward them and provide for them from the fruits that they might be grateful.
رَبَّنَآ إِنَّكَ تَعۡلَمُ مَا نُخۡفِي وَمَا نُعۡلِنُۗ وَمَا يَخۡفَىٰ عَلَى ٱللَّهِ مِن شَيۡءٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا فِي ٱلسَّمَآءِ ٣٨
Our Lord, indeed You know what we conceal and what we declare, and nothing is hidden from Allāh on the earth or in the heaven.
ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى ٱلۡكِبَرِ إِسۡمَٰعِيلَ وَإِسۡحَٰقَۚ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ ٱلدُّعَآءِ ٣٩
Praise to Allāh, who has granted to me in old age Ishmael and Isaac. Indeed, my Lord is the Hearer of supplication.
رَبِّ ٱجۡعَلۡنِي مُقِيمَ ٱلصَّلَوٰةِ وَمِن ذُرِّيَّتِيۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلۡ دُعَآءِ ٤٠
My Lord, make me an establisher of prayer, and [many] from my descendants. Our Lord, and accept my supplication.
رَبَّنَا ٱغۡفِرۡ لِي وَلِوَٰلِدَيَّ وَلِلۡمُؤۡمِنِينَ يَوۡمَ يَقُومُ ٱلۡحِسَابُ ٤١
Our Lord, forgive me and my parents and the believers the Day the account is established."
اور (یاد کرو!) جب کہا ابراہیم نے، اے میرے رب! تو بنا دے اس شہر (مکہ) کو امن والااوردور رکھ مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ ہم عبادت کریں بتوں کی (35) اے میرے رب! بلاشبہ انھوں نے گمراہ کیے ہیں بہت سے لوگ، پس جس شخص نے پیروی کی میری تو بے شک وہ میرا ہے اور جس نے نافرمانی کی میری، سو تو بڑا بخشنے والا، بہت رحم کرنے والا ہے (36) اے ہمارے رب! بے شک میں نے بسائی ہے اپنی کچھ اولاد ایک ایسی وادی میں جو نہیں ہے کھیتی والی، نزدیک تیرے حرمت والے گھر (کعبے) کے، اے ہمارے رب! تاکہ وہ قائم کریں نماز، پس کر دے تو دل کچھ لوگوں کے کہ مائل ہوں ان کی طرف اور تو رزق دے انھیں پھلوں سے تاکہ وہ (تیرا) شکر کریں (37) اے رب ہمارے! بے شک تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں اور نہیں چھپتی اوپر اللہ کے کوئی بھی چیز زمین میں اور نہ آسمان میں (38) تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ، وہ جس نے عطا کیے مجھے باوجود بڑھاپے کے اسماعیل اور اسحق، بے شک میرا رب ، البتہ خوب سننے والا ہے دعا کا (39) اے میرے رب! بنا دے مجھے قائم رکھنے والا نماز کو اور میری اولاد میں سے بھی، اے ہمارے رب! اور تو قبول فرما میری دعا (40)اے ہمارے رب! تو بخش دے مجھ کو اور میرے ماں باپ کواور (سب) مومنوں کو جس دن قائم ہو گا حساب (41)
[35]﴿ وَ ﴾ ’’اور۔‘‘ یعنی اس حالت جمیلہ میں ابراہیمu کو یاد کیجیے ﴿ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰهِيۡمُ رَبِّ اجۡعَلۡ هٰؔذَا الۡبَلَدَ ﴾ ’’جب ابراہیم نے کہا، اے رب! بنا دے اس شہر کو‘‘ یعنی حرم مبارک کو ﴿ اٰمِنًا ﴾ ’’امن والا‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے شرعاً اور قدراً آپ کی دعا قبول فرمائی اور اس کی حرمت کے اسباب میسر فرمائے جو کہ ہمیں معلوم ہیں حتیٰ کہ اگر کوئی ظالم حرم میں برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا قلع قمع کر دیتا ہے جیسے اصحاب فیل کے ساتھ کیا تھا… ابراہیمu نے اپنے لیے، اپنے بیٹوں کے لیے اور اس ارض محترم کے لیے امن کی دعا کی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَّاجۡنُبۡنِيۡ وَبَنِيَّ اَنۡ نَّعۡبُدَ الۡاَصۡنَامَ ﴾ ’’اور مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے دور رکھ‘‘ یعنی ان کے قریب جانے سے بچا۔
[36] پھر آپ نے اپنے اور اپنی اولاد کے بارے میں ان خدشات کا ذکر فرمایا جو انھیں اکثر لوگوں کے ان بتوں کی عبادت کے فتنے میں مبتلا ہونے کی وجہ سے لاحق ہوئے، اس لیے انھوں نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضۡلَلۡنَ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ﴾ ’’اے پروردگار! انھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔‘‘ یعنی ان کے سبب سے بہت سے لوگ گمراہ ہوئے۔ ﴿ فَمَنۡ تَبِعَنِيۡ ﴾ ’’پس جس نے میری اتباع کی۔‘‘ یعنی توحید الٰہی اور اخلاص للہ میں جس نے میری پیروی کی۔ ﴿ فَاِنَّهٗ مِنِّيۡ﴾ ’’تو وہ میرا ہے۔‘‘ یعنی کامل موافقت کی وجہ سے وہ مجھ سے ہے، جو کوئی جس قوم سے محبت کرتا ہے اور اس کی پیروی کرتا ہے، وہ اسی قوم سے ملحق شمار ہوتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ عَصَانِيۡ فَاِنَّكَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور جس نے میری نافرمانی کی تو تو بہت بخشنے والا مہربان ہے‘‘ یہ حضرت خلیلu کی شفقت ہے کہ انھوں نے گناہ گاروں کے لیے بخشش اور رحمت کی دعا کی اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ صرف اسے عذاب دے گا جو سرکشی اختیار کرتا ہے۔
[37]﴿ رَبَّنَاۤ اِنِّيۡۤ اَسۡكَنۡتُ مِنۡ ذُرِّيَّتِيۡ بِوَادٍ غَيۡرِ ذِيۡ زَرۡعٍ عِنۡدَ بَيۡتِكَ الۡمُحَرَّمِ﴾ ’’اے رب! میں نے بسایا ہے اپنی ایک اولاد کو، ایسے میدان میں جہاں کھیتی نہیں ، تیرے محترم گھر کے پاس‘‘ یعنی آنجنابﷺ نے حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ [ کو شام سے لا کر مکہ مکرمہ کی سرزمین میں بسایا تھا، اس وقت حضرت اسماعیلu دودھ پیتے تھے۔اس وقت یہ وادی بالکل سنسان تھی اور اس میں کوئی آبادی نہ تھی۔ جب آپ نے ماں بیٹے کو اس وادی میں آباد کر دیا تو اس وقت یہ دعا مانگی ﴿ رَبَّنَاۤ اِنِّيۡۤ اَسۡكَنۡتُ مِنۡ ذُرِّيَّتِيۡ ﴾یعنی میں نے اپنی تمام اولاد کو نہیں بلکہ اپنی کچھ اولاد کو یہاں لا بسایا ہے۔ کیونکہ حضرت اسحاقu شام میں تھے اسی طرح ان کے دیگر بیٹے بھی شام میں آباد تھے۔ وادی مکہ میں انھوں نے حضرت اسماعیلu اور ان کی اولاد کو آباد کیا۔﴿ بِوَادٍ غَيۡرِ ذِيۡ زَرۡعٍ ﴾ ’’ایسی وادی میں جہاں کھیتی نہیں ۔‘‘ کیونکہ ارض مکہ بے آب و گیاہ تھی ﴿ رَبَّنَا لِيُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اے رب! تاکہ وہ نماز قائم کریں ‘‘ یعنی ان کو موحد اور نماز قائم کرنے والے بنا کیونکہ نماز سب سے زیادہ خصوصیت کی حامل اور سب سے افضل عبادت ہے اور جس نے نماز کو قائم کر لیا، وہ دین کو قائم کرنے والا ہوگیا۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ اَفۡىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهۡوِيۡۤ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پس کر دے کچھ لوگوں کے دل کہ مائل ہوں ان کی طرف‘‘ یعنی لوگ ان سے محبت کریں اور اس جگہ سے محبت کریں جہاں یہ آباد ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حضرت اسماعیلu کی اولاد میں سے نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیﷺ پیدا ہوئے آپ نے حضرت اسماعیلu کی اولاد کو دین اسلام اور ملت ابراہیم کی طرف دعوت دی انھوں نے آپ کی دعوت پر لبیک کہا اور نماز قائم کرنے والے بن گئے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس گھر کی زیارت کو فرض قرار دیا جس کے پاس ابراہیمu کی اولاد آباد تھی اور اس میں ایک ایسا بھید پنہاں رکھا جو دلوں کے لیے کشش رکھتا ہے، دل اس گھر کی زیارت کا قصد کرتے ہیں اور اس کی زیارت سے کبھی سیر نہیں ہوتے بلکہ بندۂ مومن جس قدر زیادہ اس گھر کی زیارت کرتا ہے اس کی آتش شوق اسی قدر زیادہ بھڑکتی ہے اور اس کا سرنہاں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف مضاف کیا ہے۔ ﴿وَارۡزُقۡهُمۡ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو روزی دے پھلوں سے، شاید وہ شکر کریں ‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت خلیلu کی دعا قبول فرما لی اور ہر قسم کا پھل اس ارض پاک میں پہنچنے لگا۔ آپ دیکھیں گے کہ مکہ مشرفہ میں ہر وقت ہر قسم کا پھل بافراط ملتا ہے اور رزق ہر طرف سے مکہ مکرمہ کی طرف کھنچا چلا آتا ہے۔
[38]﴿رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعۡلَمُ مَا نُخۡفِيۡ وَمَا نُعۡلِنُ﴾ ’’اے ہمارے رب تو جانتا ہے جو ہم چھپا کر کرتے ہیں اور جو دکھا کر کرتے ہیں ‘‘ یعنی تو ہم کو ہم سے زیادہ جانتا ہے، پس ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ اپنی تدبیر اور تربیت سے ہمارے لیے ان کاموں کو آسان فرما دے جن کو ہم جانتے ہیں اور ان کو بھی جن کو ہم نہیں جانتے، جو تیرے علم اور تیری رحمت کا تقاضا ہے۔ ﴿وَمَا يَخۡفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا فِي السَّمَآءِ ﴾ ’’اور اللہ پر کوئی چیز مخفی نہیں ہے، زمین میں اور نہ آسمان میں ‘‘ اور اس میں یہ دعا بھی شامل ہے جس میں حضرت خلیلu کا ارادہ بھلائی اور اللہ رب العالمین کے لیے کثرت شکر کے سوا کچھ نہ تھا۔
[39]﴿اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ وَهَبَ لِيۡ عَلَى الۡكِبَرِ اِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰقَ﴾ ’’تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسمٰعیل اور اسحٰق عطا کیے‘‘ اور یہ سب سے بڑی نعمت ہے اور بڑھاپے میں ، مایوسی کی حالت میں اولاد کا عطا ہونا ایک دوسری نعمت ہے، پھر ان سب کا صالح انسان اور نبی ہونا جلیل ترین اور افضل ترین مرتبہ ہے۔ ﴿اِنَّ رَبِّيۡ لَسَمِيۡعُ الدُّعَآءِ ﴾ ’’میرا رب دعا کا سننے والا ہے‘‘ یعنی جو کوئی اس سے دعا مانگتا ہے وہ قبولیت کے قریب ہوتی ہے۔ میں نے بھی اس کے سامنے دست دعا دراز کیا اور اس نے مجھے ناامید نہیں کیا۔
[41,40] پھر خلیلu نے اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے ان الفاظ میں دعا مانگی ﴿رَبِّ اجۡعَلۡنِيۡ مُقِيۡمَ الصَّلٰوةِ وَمِنۡ ذُرِّيَّتِيۡ١ۖ ۗ رَبَّنَا وَتَقَبَّلۡ دُعَآءِ۰۰رَبَّنَا اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِوَالِدَيَّ وَلِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ يَوۡمَ يَقُوۡمُ الۡؔحِسَابُ﴾ ’’اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا اور میری دعا قبول فرما، اے ہمارے رب، بخش مجھ کو، میرے ماں باپ کو اور سب مومنوں کو جس دن قائم ہو حساب۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کی ہر دعا قبول فرما لی، سوائے ان کے باپ کے لیے مغفرت کی دعا کے، جو انھوں نے اپنے باپ کے ساتھ ایک وعدے کی بنا پر مانگی تھی اور جب آپ پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے تو آپ نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا۔
14:42–43Page 260
وَلَا تَحۡسَبَنَّ ٱللَّهَ غَٰفِلًا عَمَّا يَعۡمَلُ ٱلظَّٰلِمُونَۚ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٖ تَشۡخَصُ فِيهِ ٱلۡأَبۡصَٰرُ ٤٢
And never think that Allāh is unaware of what the wrongdoers do. He only delays them [i.e., their account] for a Day when eyes will stare [in horror].
مُهۡطِعِينَ مُقۡنِعِي رُءُوسِهِمۡ لَا يَرۡتَدُّ إِلَيۡهِمۡ طَرۡفُهُمۡۖ وَأَفۡـِٔدَتُهُمۡ هَوَآءٞ ٤٣
Racing ahead, their heads raised up, their glance does not come back to them,1 and their hearts are void.
اور نہ گمان کریں آپ اللہ کو بے خبر اس سے جو عمل کرتے ہیں ظالم، یقینا وہ مہلت دیتا ہے اس دن تک کہ پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اس میں آنکھیں (42) دوڑ رہے ہوں گے وہ (محشر کی طرف) اٹھائے اپنے سروں کو، نہیں لوٹے گی (خود) ان کی طرف ان کی نگاہ اور ان کے دل (عقل و شعور سے) خالی ہوں گے (43)
[42] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ظالموں کے لیے سخت وعید اور مظلوموں کے لیے تسلی ہے، فرمایا ﴿وَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعۡمَلُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور ہرگز مت خیال کریں کہ اللہ ان کاموں سے بے خبر ہے جو ظالم کرتے ہیں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو مہلت دی ہے اور ان کو نہایت فراوانی سے رزق عطا کیا اور ان کو چھوڑ دیا کہ وہ نہایت اطمینان اور امن کے ساتھ چلیں پھریں ۔ پس یہ مہلت اور رزق کی فراوانی ان کے حسن حال پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ اس کے گناہوں میں اضافہ ہو جائے یہاں تک کہ جب وہ اسے پکڑ لیتا ہے تو پھر وہ چھوٹ نہیں سکتا۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِيَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ﴾(ھود: 11 ؍102)’’اور اسی طرح ہوتی ہے تیرے رب کی پکڑ جب وہ کسی بستی کو اس کے ظلم کے سبب سے پکڑتا ہے، بے شک اس کی پکڑ بڑی سخت اور المناک ہوتی ہے۔‘‘ یہاں ظلم سے مراد وہ ظلم بھی ہے جو بندے اور اس کے رب کے مابین ہے اور وہ ظلم بھی ہے جو بندہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر روا رکھتا ہے۔﴿اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمۡ لِيَوۡمٍ تَشۡخَصُ فِيۡهِ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’ان کو تو اس دن کے لیے ڈھیل دے رکھی ہے کہ کھلی رہ جائیں گی اس میں آنکھیں ‘‘ یعنی ہول اور دہشت کی وجہ سے آنکھیں ادھر ادھر دیکھ نہیں سکیں گی، کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔
[43]﴿مُهۡطِعِيۡنَ ﴾ ’’دوڑتے ہوں گے‘‘ جب پکارنے والا انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حساب دینے کے لیے پکارے گا تو وہ جلدی سے اس پکار پر لبیک کہیں گے، وہ اس سے بچ نہ سکیں گے، ان کا کوئی ٹھکانا ہو گا نہ کوئی پناہ گاہ ﴿ مُقۡنِـعِيۡ رُءُوۡسِهِمۡ ﴾ ’’اوپر اٹھائے اپنے سر‘‘ یعنی اپنے سروں کو اس طرح اٹھائے ہوئے ہوں گے کہ ان کے ہاتھ ان کی ٹھوڑیوں کے ساتھ بندھے ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھ جائیں گے۔ ﴿ لَا يَرۡتَدُّ اِلَيۡهِمۡ طَرۡفُهُمۡ١ۚ وَ اَفۡـِٕدَتُهُمۡ هَوَآءٌ ﴾ ’’ان کی طرف ان کی آنکھیں پھر کر نہیں آئیں گی اور ان کے دل اڑ گئے ہوں گے‘‘ ان کے دل خالی ہوں گے اور حلق تک آجائیں گے مگر وہ ہر قسم کے غم و ہموم اور حزن و قلق سے لبریز ہوں گے۔
14:44–46Page 261
وَأَنذِرِ ٱلنَّاسَ يَوۡمَ يَأۡتِيهِمُ ٱلۡعَذَابُ فَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ رَبَّنَآ أَخِّرۡنَآ إِلَىٰٓ أَجَلٖ قَرِيبٖ نُّجِبۡ دَعۡوَتَكَ وَنَتَّبِعِ ٱلرُّسُلَۗ أَوَلَمۡ تَكُونُوٓاْ أَقۡسَمۡتُم مِّن قَبۡلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٖ ٤٤
And, [O Muḥammad], warn the people of a Day when the punishment will come to them and those who did wrong will say, "Our Lord, delay us for a short term; we will answer Your call and follow the messengers." [But it will be said], "Had you not sworn, before, that for you there would be no cessation?1
وَسَكَنتُمۡ فِي مَسَٰكِنِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ وَتَبَيَّنَ لَكُمۡ كَيۡفَ فَعَلۡنَا بِهِمۡ وَضَرَبۡنَا لَكُمُ ٱلۡأَمۡثَالَ ٤٥
And you lived among the dwellings of those who wronged themselves, and it had become clear to you how We dealt with them. And We presented for you [many] examples."
وَقَدۡ مَكَرُواْ مَكۡرَهُمۡ وَعِندَ ٱللَّهِ مَكۡرُهُمۡ وَإِن كَانَ مَكۡرُهُمۡ لِتَزُولَ مِنۡهُ ٱلۡجِبَالُ ٤٦
And they had planned their plan, but with Allāh is [recorded] their plan, even if their plan had been [sufficient] to do away with the mountains.1
اور آپ ڈرائیں لوگوں کو اس دن سے کہ آئے گا (اس دن) ان پر عذاب، پس کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا تھا، اے ہمارے رب! مہلت دے ہمیں تھوڑی سی مدت تک، ہم قبول کر لیں گے تیری دعوت اور پیروی کریں گے رسولوں کی، (تو کہا جائے گا) کیا نہیں تھے تم کہ قسمیں کھاتے تھے پہلے اس سے کہ نہیں ہے تمھارے لیے کوئی زوال (44)اور آباد تھے تم گھروں میں انھی لوگوں کے جنھوں نے ظلم کیا تھا اپنی جانوں پراورواضح ہو گیا تھا واسطے تمھارے کہ کیسا (سلوک) کیا ہم نے ساتھ ان کے؟ اور بیان کی تھیں ہم نے تمھارے لیے مثالیں (45) اور تحقیق مکر كيے تھے انھوں نے اپنے مکراور اللہ کے پاس ہیں ان کے مکراور نہ تھے مکر ان کے کہ ٹل جاتے بوجہ ان (مکروں ) کے پہاڑ (46)
[44] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے ﴿ وَاَنۡذِرِ النَّاسَ يَوۡمَ يَاۡتِيۡهِمُ الۡعَذَابُ ﴾ یعنی ان کے سامنے اس دن کے احوال کا وصف بیان کیجیے اور انھیں برے اعمال سے ڈرايے جو اس عذاب کے موجب ہیں جو انھیں شدائد میں آ پکڑے گا۔ ﴿ فَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’تب ظالم لوگ کہیں گے۔‘‘ یعنی جنھوں نے کفر، تکذیب اور دیگر معاصی کے ذریعے سے ظلم کیا وہ اپنے کرتوتوں پر نادم ہوکر واپس دنیا میں لوٹائے جانے کی درخواست کریں گے مگر یہ واپس لوٹنے کا وقت نہ ہو گا۔ ﴿ رَبَّنَاۤ اَخِّرۡنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ﴾ ’’اے ہمارے رب مہلت دے ہم کو تھوڑی دیر تک‘‘ یعنی ہمیں دنیا میں واپس بھیج دے ہم پر ہر بات واضح ہو چکی ہے ﴿ نُّجِبۡ دَعۡوَتَكَ ﴾ ’’کہ ہم قبول کر لیں تیری دعوت کو‘‘ اور اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے ﴿ وَ نَتَّبِـعِ الرُّسُلَ ﴾ ’’اور پیروی کر لیں ہم رسولوں کی‘‘ ان کی یہ تمام آہ و زاریاں دردناک عذاب سے گلو خلاصی کے لیے ہوں گی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں ۔ ﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾(الانعام:6؍28) ’’اگر انھیں واپس بھیج بھی دیا جائے تو یہ وہی کام دوبارہ کریں گے جن سے ان کو روکا گیا ہے۔‘‘ اس لیے ان کو سخت زجروتوبیخ کی جائے گی اور کہا جائے گا ﴿ اَوَلَمۡ تَكُوۡنُوۡۤا اَقۡسَمۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ مَا لَكُمۡ مِّنۡ زَوَالٍ ﴾ ’’کیا تم پہلے قسمیں نہ کھاتے تھے کہ تم کو دنیا سے نہیں ٹلنا‘‘ یعنی اس دنیا سے منتقل ہو کر آخرت میں نہیں جاؤ گے، یہ تو اب تم پر واضح ہو گیا کہ تم اپنی قسم میں سخت جھوٹے تھے اور جو تم دعوے کیا کرتے تھے وہ تمھارے سب دعوے بھی جھوٹ تھے۔
[45]﴿ وَ ﴾ تمھارے اعمال کی کوتاہی کی وجہ یہ نہ تھی کہ تمھارے پاس واضح دلائل نہ آئے تھے۔ بلکہ ﴿ سَكَنۡتُمۡ فِيۡ مَسٰكِنِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ وَتَبَيَّنَ لَكُمۡ كَيۡفَ فَعَلۡنَا بِهِمۡ ﴾ ’’تم ان بستیوں میں آباد تھے جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور تم پر واضح ہو گیا تھا کہ کیسا کیا ہم نے ان کے ساتھ‘‘ ان کو مختلف انواع کی سزائیں دے کر اور جب انھوں نے واضح دلائل کی تکذیب کی تو کیسے ہم نے ان پر عذاب نازل کیا؟ ہم نے تمھارے سامنے واضح مثالیں بیان کر دی ہیں جو دل میں شک کا ادنیٰ سا شائبہ بھی نہیں رہنے دیتیں ۔ پس ان آیات بینات نے تمھیں کوئی فائدہ نہ دیا بلکہ اس کے برعکس تم نے روگردانی کی اور اپنے باطل پر جمے رہے، حتیٰ کہ تم پر یہ روز بد آ گیا جس میں تمھاری جھوٹی معذرت خواہی کوئی فائدہ نہ دے گی۔
[46]﴿ وَقَدۡ مَكَرُوۡا﴾ ’’اور چال چلی‘‘ یعنی انبیاء و مرسلین کو جھٹلانے والوں نے ﴿ مَكۡرَهُمۡ ﴾ ’’اپنی چال‘‘ ایسی ایسی چالیں چلیں جن کا انھوں نے ارادہ کیا اور جو وہ چل سکتے تھے۔ ﴿ وَعِنۡدَ اللّٰهِ مَكۡرُهُمۡ﴾ ’’اور اللہ کے ہاں ہے ان کی چال‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم اور اپنی قدرت کے ذریعے سے ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ان کی چالیں لوٹ کر انھی کے خلاف گئیں ۔ ﴿وَلَا يَحِيۡقُ الۡمَؔكۡرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَهۡلِهٖ﴾(فاطر: 35؍43) ’’اور بری چالوں کا وبال انھی لوگوں پر پڑتا ہے جو چالیں چلتے ہیں ۔‘‘ ﴿ وَاِنۡ كَانَ مَكۡرُهُمۡ لِـتَزُوۡلَ مِنۡهُ الۡجِبَالُ ﴾ ’’اگرچہ ان کی چال ایسی تھی کہ ٹل جائیں اس سے پہاڑ‘‘ یعنی انبیاء و رسل اور وحی کو جھٹلانے والوں کی چالیں اور سازشیں اتنی بڑی ہیں کہ ان کے سبب سے بڑے بڑے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں ، یعنی ﴿وَمَكَرُوۡا مَكۡرًا كُبَّارًؔا﴾(نوح: 71؍22) ’’انھوں نے بڑی بڑی چالیں چلیں ۔‘‘ ان کی سازشیں اتنی بڑی تھیں کہ ان کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی سازشیں انھی پر الٹ دیں ۔اس آیت کریمہ کی وعید میں ہر وہ شخص شامل ہے جو باطل کی نصرت اور حق کے ابطال کے لیے،انبیاء و رسل کے خلاف سازشیں کرتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ان کی چالیں ان کے کسی کام نہ آئیں اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان پہنچا سکے بلکہ انھوں نے خود اپنا ہی نقصان کیا۔
14:47–52Page 261
فَلَا تَحۡسَبَنَّ ٱللَّهَ مُخۡلِفَ وَعۡدِهِۦ رُسُلَهُۥٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٞ ذُو ٱنتِقَامٖ ٤٧
So never think that Allāh will fail in His promise to His messengers. Indeed, Allāh is Exalted in Might and Owner of Retribution.1
يَوۡمَ تُبَدَّلُ ٱلۡأَرۡضُ غَيۡرَ ٱلۡأَرۡضِ وَٱلسَّمَٰوَٰتُۖ وَبَرَزُواْ لِلَّهِ ٱلۡوَٰحِدِ ٱلۡقَهَّارِ ٤٨
[It will be] on the Day the earth will be replaced by another earth, and the heavens [as well], and they [i.e., all creatures] will come out before Allāh, the One, the Prevailing,
وَتَرَى ٱلۡمُجۡرِمِينَ يَوۡمَئِذٖ مُّقَرَّنِينَ فِي ٱلۡأَصۡفَادِ ٤٩
And you will see the criminals that Day bound together in irons,
سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٖ وَتَغۡشَىٰ وُجُوهَهُمُ ٱلنَّارُ ٥٠
Their garments of liquid pitch and their faces covered by the Fire
لِيَجۡزِيَ ٱللَّهُ كُلَّ نَفۡسٖ مَّا كَسَبَتۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ ٥١
So that Allāh will recompense every soul for what it earned. Indeed, Allāh is swift in account.
هَٰذَا بَلَٰغٞ لِّلنَّاسِ وَلِيُنذَرُواْ بِهِۦ وَلِيَعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَا هُوَ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞ وَلِيَذَّكَّرَ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ ٥٢
This [Qur’ān] is notification for the people that they may be warned thereby and that they may know that He is but one God and that those of understanding will be reminded.
پس نہ گمان کریں آپ اللہ کو خلاف کرنے والا اپنے وعدے کا، اپنے رسولوں سے، بے شک اللہ غالب ہے، انتقام لینے والا (47) جس دن کہ بدل دی جائے گی یہ زمین اور زمین سے اور آسمان بھی اور سامنے ہوں گے وہ لوگ اللہ کے، (جو) ایک ہے بڑا زبردست (48) اور آپ دیکھیں گے مجرموں کو اس دن جکڑے ہوئے ہوں گے وہ زنجیروں میں (49) قمیصیں ان کی ہوں گی گندھک کی اور ڈھانکتی ہو گی ان کے چہروں کو آگ (50) تاکہ بدلہ دے اللہ ہر نفس کو اس عمل کا جو اس نے کمایا، بے شک اللہ بہت ہی جلد حساب لینے والا ہے (49) یہ (قرآن) پیام ہے لوگوں کے لیےاور تاکہ وہ (لوگ) ڈرائے جائیں اس کے ذریعے سےاور تاکہ وہ جان لیں کہ صرف وہی (اللہ) معبود ہے ایک اور تاکہ نصیحت حاصل کریں عقل والے (52)
[47] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ فَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰهَ مُخۡلِفَ وَعۡدِهٖ رُسُلَهٗ ﴾ ’’پس خیال مت کریں کہ اللہ خلاف کرے گا اپنا وعدہ اپنے رسولوں سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کی نجات اور ان کی سعادت، رسولوں کے دشمنوں کی ہلاکت، دنیا میں ان کو بے یارومددگار چھوڑنے اور آخرت میں ان کو سزا دینے کا جو وعدہ کر رکھا ہے اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ پس اس وعدے کا پورا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ یہ صادق القول ہستی کا وعدہ ہے جو اس نے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ سچے لوگوں ، یعنی اپنے رسولوں کی زبان پر کیا ہے اور یہ مرتبے کے اعتبار سے بلند ترین خبر ہے… خاص طور پر اس بنا پر بھی کہ یہ حکمت الٰہی، سنت ربانی اور عقل انسانی کے مطابق ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ ﴾ ’’بے شک اللہ۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کو کوئی چیز بے بس نہیں کر سکتی، اس لیے کہ وہ ﴿ عَزِيۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴾ ’’زبردست، بدلہ لینے والا ہے۔‘‘ جب وہ کسی سے انتقام لینے کا ارادہ کرتا ہے تو کوئی اس سے بچ سکتا ہے نہ اسے عاجز کر سکتا ہے اور یہ قیامت کے روز ہو گا۔
[48]﴿ يَوۡمَ تُبَدَّلُ الۡاَرۡضُ غَيۡرَ الۡاَرۡضِ وَالسَّمٰوٰتُ﴾’’جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔‘‘ یعنی جس روز زمین اور آسمان کو بدل کر کچھ اور ہی بنا دیا جائے گا، یہ تبدیلی ذات کی تبدیلی نہیں بلکہ صفات کی تبدیلی ہو گی کیوں کہ قیامت کے روز زمین کو ہموار کر کے اس طرح پھیلا دیا جائے گا جیسے چمڑے کو پھیلا دیا جاتا ہے، روئے زمین پر کوئی پہاڑ یا کوئی بلند جگہ نہ ملے گی تمام زمین ہموار اور برابر ہو جائے گی اور تو اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھے گا اور آسمان اس دن کی دہشت کی وجہ سے پگھلے ہوئے تابنے کی مانند ہو جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ پر لپیٹ لے گا۔﴿ وَبَرَزُوۡا لِلّٰهِ ﴾ ’’اور سب لوگ اللہ کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز تمام خلائق اپنی قبروں سے اٹھ کھڑی ہو گی اور ان میں کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے چھپ نہ سکے گا ﴿ الۡوَاحِدِ الۡقَهَّارِ ﴾ ’’یگانہ، زبردست‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات کی عظمت اور اپنے افعال کی عظمت میں منفرد ہے۔ وہ تمام کائنات پر غالب ہے۔ کائنات کی ہر چیز اس کے دست تصرف اور تدبیر کے تحت ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز حرکت کر سکتی ہے نہ ساکن ہو سکتی ہے۔
[49]﴿ وَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور دیکھے گا تو گناہ گاروں کو‘‘ جن کا وصف جرم کرنا اور گناہوں کی کثرت ہے ﴿ يَوۡمَىِٕذٍ﴾ ’’اس روز‘‘ ﴿مُّقَرَّنِيۡنَ فِي الۡاَصۡفَادِ ﴾ ’’باہم جکڑے ہوں گے زنجیروں میں ‘‘ یعنی تمام مجرموں کو آگ کی زنجیروں سے باندھ دیا جائے گا اور ذلیل ترین صورت، بدترین ہیئت اور قبیح ترین حالت میں ان کو جہنم کے عذاب کی طرف ہانکا جائے گا۔
[50]﴿ سَرَابِيۡلُهُمۡ ﴾ ’’ان کے کرتے‘‘ یعنی ان کے کپڑے ﴿ مِّنۡ قَطِرَانٍ ﴾ ’’گندھک کے ہوں گے‘‘ یعنی وہ انتہائی شدید شعلہ زن آگ، سخت حرارت اور جہنم کی بدبو میں ہوں گے۔ ﴿ وَّتَغۡشٰى وُجُوۡهَهُمُ ﴾ ’’اور ان کے چہروں کو لپیٹ لے گی۔‘‘ جو ان کے بدن میں سب سے زیادہ شرف کے حامل ہوں گے ﴿ النَّارُ ﴾ ’’آگ‘‘ یعنی آگ ان کے چہرے کو گھیر لے گی اور ہر جانب سے اس کو جلا ڈالے گی۔ اور چہرے کے علاوہ جسم کے دیگر حصے تو بدرجہ اولیٰ اس آگ میں جلیں گے۔
[51] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر ظلم نہیں ہے بلکہ یہ ان کے اعمال کی جزا ہے جن کا انھوں نے اکتساب کر کے آگے بھیجے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِيَجۡزِيَ اللّٰهُ كُلَّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ﴾ ’’تاکہ اللہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے اچھے برے اعمال کا نہایت عدل و انصاف کے ساتھ بدلہ دے جس میں کسی بھی پہلو سے کوئی ظلم نہ ہو ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ﴾ ’’بے شک اللہ جلد حساب لینے والا ہے‘‘ جیسا کہ فرمایا: ﴿اِقۡتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمۡ وَهُمۡ فِيۡ غَفۡلَةٍ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍1) ’’لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں ڈوبے اور منہ موڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ بہت سرعت سے ان کا حساب کتاب ہو گا اور ایک ہی گھڑی میں تمام مخلوق کا حساب کتاب ہو جائے گا جیسے اللہ تعالیٰ آن واحد میں تمام مخلوق کو رزق عطا کرتا ہے اور ان میں مختلف انواع کی تدبیر کرتا ہے۔ کوئی معاملہ اسے کسی دوسرے معاملے سے غافل نہیں کر سکتا اور یہ سب کچھ اس کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔
[52] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس بات کو پوری طرح کھول کھول کر اس قرآن میں بیان کر دیا تو پھر اس کی مدح میں فرمایا ﴿ هٰؔذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ ﴾ ’’یہ خبر پہنچا دینی ہے لوگوں کو‘‘ یعنی یہ ان کے لیے کافی ہے، وہ اسے زاد راہ بنا کر بلند ترین مقامات پر اور افضل ترین کرامات تک پہنچ سکتے ہیں کیونکہ یہ تمام علوم اوراصول و فروع پر مشتمل ہے جس کے بندے محتاج ہیں ﴿ وَلِيُنۡذَرُوۡا بِهٖ ﴾’’اور تاکہ انھیں اس سے ڈرایا جائے‘‘ کیونکہ اس میں برے اعمال اور اس عذاب سے ڈرایا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بداعمال لوگوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔﴿ وَلِيَعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ﴾ ’’اور تاکہ وہ جان لیں کہ معبود صرف وہی ایک ہے‘‘ کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور وحدانیت پر ایسے دلائل اور براہین بیان کیے ہیں جن سے یہ علم حق الیقین بن جاتا ہے ﴿ وَّلِيَذَّكَّـرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ ’’اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں ۔‘‘ یعنی عقل کامل کے حامل لوگ اس سے نصیحت پکڑیں ، وہ کام کریں جو ان کے لیے فائدہ مند ہے اور وہ کام چھوڑ دیں جو ان کے لیے نقصان دہ ہے۔ ایسا کرنے سے وہ عقل مند اور اصحاب بصیرت بن جائیں گے۔ اس لیے کہ قرآن کے ذریعے سے ان کے معارف اور آراء صائبہ میں اضافہ اور ان کے افکار روشن ہوتے ہیں ۔ کیونکہ انھوں نے قرآن کے تازہ افکار حاصل کیے ہیں ، قرآن انھیں بلندترین اخلاق و اعمال کی طرف دعوت دیتا ہے اور وہ ان پر قوی ترین، واضح ترین دلائل سے استدلال کرتا ہے۔ ایک ذہین بندۂ مومن جب اس قاعدہ کلیہ کو اپنا لائحہ عمل بنا لیتا ہے تو وہ دائمی طور پر ہر قابل ستائش خصلت میں ترقی کی راہوں پر گامزن رہتا ہے۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences