As-Sa'diAn‑Nahl · 16:103–128

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

An-Nahl 16:103–128

16:103–105Page 279

وَلَقَدۡ نَعۡلَمُ أَنَّهُمۡ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُۥ بَشَرٞۗ لِّسَانُ ٱلَّذِي يُلۡحِدُونَ إِلَيۡهِ أَعۡجَمِيّٞ وَهَٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيّٞ مُّبِينٌ ١٠٣

And We certainly know that they say, "It is only a human being who teaches him [i.e., the Prophet (ﷺ)]." The tongue of the one they refer to is foreign,1 and this [recitation, i.e., Qur’ān] is [in] a clear Arabic language.

إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ لَا يَهۡدِيهِمُ ٱللَّهُ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٌ ١٠٤

Indeed, those who do not believe in the verses of Allāh - Allāh will not guide them, and for them is a painful punishment.

إِنَّمَا يَفۡتَرِي ٱلۡكَذِبَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡكَٰذِبُونَ ١٠٥

They only invent falsehood who do not believe in the verses of Allāh, and it is those who are the liars.

بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آیات الٰہی کے، نہیں ہدایت دیتا انھیں اللہ اور ان کے لیے عذاب ہے بہت درد ناک (104) یقینا باندھتے ہیں جھوٹ تو صرف وہی لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آیات الٰہی کےاور وہ لوگ، وہی ہیں جھوٹے (105)

[103] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ ﴿ اَنَّهُمۡ يَقُوۡلُوۡنَ اِنَّمَا يُعَلِّمُهٗ ﴾ ’’وہ کہتے ہیں کہ اس کو تو سکھلاتا ہے‘‘ یعنی یہ قرآن جسے رسول اللہﷺ لے کر آئے ہیں ﴿بَشَرٌ﴾ ’’ایک آدمی‘‘ اور وہ شخص جس کی طرف یہ لوگ اشارہ کرتے ہیں عجمی زبان رکھتا ہے ﴿وَهٰؔذَا ﴾ اور یہ قرآن ﴿ لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’زبان عربی ہے صاف‘‘ کیا یہ بات ممکن ہے؟ کیا اس بات کا ذرا بھی احتمال ہو سکتا ہے؟ مگر جھوٹا شخص جھوٹ بولتا ہے اور وہ نہیں سوچتا کہ اس کا جھوٹ اسی کی طرف لوٹ آئے گا۔ اس کی بات ایسے تناقض اور فساد کی حامل ہو گی جو محض تصور ہی سے اس بات کی تردید کا موجب ہو گا۔

[104]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے‘‘ جو نہایت صراحت کے ساتھ حق مبین پر دلالت کرتی ہیں ۔ پس یہ لوگ ان آیات کریمہ کو ٹھکراتے ہیں اور انھیں قبول نہیں کرتے۔ ﴿ لَا يَهۡدِيۡهِمُ اللّٰهُ ﴾ ’’ان کو اللہ ہدایت نہیں دیتا‘‘ کیونکہ ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے ٹھکرا دیا اس لیے ان کو یہ سزا دی گئی کہ ان کو ہدایت سے محروم کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ﴿ وَلَهُمۡ﴾ ’’اور ان کے واسطے‘‘ یعنی آخرت میں ﴿ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’دردناک عذاب ہے۔‘‘

[105]﴿ اِنَّمَا يَفۡتَرِي الۡكَذِبَ ﴾ یعنی جھوٹ اور افترا پردازی ان لوگوں سے صادر ہوتی ہے ﴿ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ﴾ ’’جو آیات الٰہی پر ایمان نہیں رکھتے‘‘ ، مثلاً: وہ لوگ جو واضح دلائل آ جانے کے بعد بھی رسول اللہﷺ سے عناد رکھتے ہیں ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’اور وہی لوگ جھوٹے ہیں ‘‘ یعنی جھوٹ ان میں منحصر ہے اور دوسروں کی بجائے وہی جھوٹ کے اطلاق کے زیادہ مستحق ہیں ۔ رہے محمد مصطفیﷺ تو وہ آیات الٰہی پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب کے سامنے عاجزی کے ساتھ جھکتے ہیں اس لیے محال ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھیں اور اللہ تعالیٰ سے کوئی ایسی بات منسوب کریں جو اس نے نہیں کہی۔ پس آپ کے دشمنوں نے آپ پر جھوٹ کا الزام لگایا، حالانکہ جھوٹ خود ان کا اپنا وصف تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی رسوائی کو ظاہر اور ان کی فضیحت کو واضح کر دیا۔ پس ہر قسم کی ستائش اسی کے لیے ہے۔

16:106–109Page 279

مَن كَفَرَ بِٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ إِيمَٰنِهِۦٓ إِلَّا مَنۡ أُكۡرِهَ وَقَلۡبُهُۥ مُطۡمَئِنُّۢ بِٱلۡإِيمَٰنِ وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِٱلۡكُفۡرِ صَدۡرٗا فَعَلَيۡهِمۡ غَضَبٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٞ ١٠٦

Whoever disbelieves in [i.e., denies] Allāh after his belief...1 except for one who is forced [to renounce his religion] while his heart is secure in faith. But those who [willingly] open their breasts to disbelief, upon them is wrath from Allāh, and for them is a great punishment;

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ ٱسۡتَحَبُّواْ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا عَلَى ٱلۡأٓخِرَةِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡكَٰفِرِينَ ١٠٧

That is because they preferred the worldly life over the Hereafter and that Allāh does not guide the disbelieving people.

أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ وَسَمۡعِهِمۡ وَأَبۡصَٰرِهِمۡۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡغَٰفِلُونَ ١٠٨

Those are the ones over whose hearts and hearing and vision Allāh has sealed, and it is those who are the heedless.

لَا جَرَمَ أَنَّهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ ١٠٩

Assuredly, it is they, in the Hereafter, who will be the losers.

جو شخص کفر کرے ساتھ اللہ کے بعد اپنے ایمان کے ، سوائے اس شخص کے جو مجبور کیاجائے اور دل اس کا مطمئن ہو ایمان پر لیکن وہ شخص جس نے کھول دیا ساتھ کفر کے سینہ (اپنا) تو ایسے لوگوں پر غضب ہے اللہ کا اور ان کے لیے عذاب ہے بہت بڑا (106) یہ، اس لیے کہ انھوں نے پسند کیا زندگانئ دنیا کو اوپر آخرت کےاور بے شک اللہ، نہیں ہدایت دیتا کافروں کی قوم کو (107) یہ وہ لوگ ہیں کہ مہر لگا دی ہے اللہ نے اوپر ان کے دلوں کے اور ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں کےاور یہ لوگ، وہی ہیں غافل (108) یقینا بلاشبہ یہی لوگ آخرت میں خسارہ پانے والے ہیں (109)

[108-106] اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کے احوال بد کے بارے میں خبر دیتا ہے۔ ﴿ مَنۡ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنۢۡ بَعۡدِ اِيۡمَانِهٖۤ ﴾ ’’جس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اس پر ایمان لانے کے بعد‘‘ یعنی چشم بینا سے حقائق کو دیکھ لینے کے بعد بھی اندھا ہی رہا، راہ پا لینے کے بعد گمراہی کی طرف لوٹ گیا اور اس نے برضا و رغبت، شرح صدر اور اطمینان قلب کے ساتھ کفر کو اختیار کر لیا۔ ایسے لوگوں پر رب رحیم سخت غضب ناک ہوگا۔ وہ جب ناراض ہوتا ہے تو دنیا کی کوئی چیز اس کے غضب کے سامنے نہیں ٹھہرتی اور ہر چیز ان سے ناراض ہو جاتی ہے۔ ﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ﴾’’اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے‘‘ یعنی یہ عذاب اپنی انتہائی شدت کے ساتھ ساتھ دائمی بھی ہو گا۔﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسۡتَحَبُّوا الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا عَلَى الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’یہ اس واسطے کہ انھوں نے دنیا کی زندگی کو پسند کیا آخرت پر‘‘ کیونکہ وہ دنیا کے چند ٹکڑوں میں طمع اور رغبت کی بنا پر اور آخرت کی بھلائی سے روگردانی کر کے الٹے پاؤں پھر گئے۔ پس جب انھوں نے ایمان کے مقابلے میں کفر کو چن لیا تب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت سے محروم کر دیا اور ان کی راہنمائی نہ کی کیونکہ کفر ان کا وصف ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ پس کسی قسم کی بھلائی ان کے اندر داخل نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے اس لیے کوئی ایسی چیز ان میں نفوذ نہیں کر سکتی جو ان کے لیے فائدہ مند ہو اور ان کے دلوں تک پہنچ سکے۔ پس غفلت ان پر طاری ہو گئی، رسوائی نے ان کا احاطہ کر لیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو گئے جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کے پاس آئی انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا اور وہ ان پر پیش کی گئی مگر انھوں نے اس کو قبول نہ کیا۔

[109]﴿ لَا جَرَمَ اَنَّهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’یقینا وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو قیامت کے روز اپنی جان، مال اور اہل و عیال کے بارے میں گھاٹے میں پڑ گئے، ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے محروم ہو گئے اور ان کو دردناک عذاب میں ڈال دیا گیا۔ اس کے برعکس جس شخص کو جبر کے ساتھ کفر پر مجبور کیا گیا مگر اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے اور ایمان میں پوری رغبت رکھتا ہے تو اس پر کوئی حرج ہے نہ گناہ۔ ایسے شخص کے لیے جبرواکراہ کے تحت کلمۂ کفر کہنا جائز ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جبرو اکراہ کے تحت دی گئی طلاق، غلام کی آزادی، خریدوفروخت اور تمام معاہدوں کا کوئی اعتبار نہیں اور نہ ان امور پر کوئی شرعی حکم مترتب ہوتا ہے کیونکہ جب جبرواکراہ کی صورت میں کلمہء کفر کہنے پر اس پر کوئی گرفت نہیں تو دوسرے امور زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ جبر کی صورت میں ان پر گرفت نہ ہو۔

16:110–111Page 279

ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُواْ مِنۢ بَعۡدِ مَا فُتِنُواْ ثُمَّ جَٰهَدُواْ وَصَبَرُوٓاْ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعۡدِهَا لَغَفُورٞ رَّحِيمٞ ١١٠

Then, indeed your Lord, to those who emigrated after they had been compelled [to say words of disbelief] and thereafter fought [for the cause of Allāh] and were patient - indeed, your Lord, after that, is Forgiving and Merciful

۞ يَوۡمَ تَأۡتِي كُلُّ نَفۡسٖ تُجَٰدِلُ عَن نَّفۡسِهَا وَتُوَفَّىٰ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا عَمِلَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ ١١١

On the Day when every soul will come disputing [i.e., pleading] for itself, and every soul will be fully compensated for what it did, and they will not be wronged [i.e., treated unjustly].

پھر بلاشبہ آپ کا رب، ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ہجرت کی بعد اس کے کہ وہ آزمائے گئے، پھر انھوں نے جہاد کیا اور صبر کیا، بے شک آپ کا رب بعد اس کے ، البتہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (110)(یاد کرو!) جس دن آئے گا ہر نفس جھگڑتا ہوا اپنی بابت اور پورا پورا (بدلہ) دیا جائے گا ہرنفس کو اس کا جو اس نے عمل کیااور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (111)

[110] یعنی پھر بلاشبہ آپ کا رب جس نے اپنے مخلص بندوں کی، اپنے لطف و احسان کے ذریعے سے تربیت کی اس شخص کے لیے بہت غفور و رحیم ہے جو اس کی راہ میں ہجرت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر اپنا گھر بار اور مال اسباب سب چھوڑ دیتا ہے، دین کی وجہ سے اسے ستایا جاتا ہے تاکہ وہ کفر کی طرف دوبارہ لوٹ آئے مگر وہ ایمان پر ثابت قدم رہتا ہے اور اپنے یقین کو بچا لیتا ہے، پھر وہ اپنے ہاتھ اور زبان سے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرتا ہے تاکہ ان کو اللہ کے دین میں داخل کرے اور وہ ان عبادات پر صبر کرتا ہے جو اکثر لوگوں پر بہت شاق گزرتی ہیں ۔ یہ سب سے بڑے اسباب ہیں جن کے ذریعے سے سب سے بڑے عطیات اور بہترین مواہب حاصل ہوتے ہیں اور وہ عطیات و مواہب یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ہر امر مکروہ کو اس سے دور کر دیتا ہے اور وہ اپنی عظیم رحمت سے اسے ڈھانپ لیتا ہے جس سے بندوں کے احوال صحیح اور ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں ۔ پس قیامت کے روز ان کے لیے رحمت ہے۔

[111]﴿ يَوۡمَ تَاۡتِيۡ كُلُّ نَفۡسٍ تُجَادِلُ عَنۡ نَّفۡسِهَا ﴾ ’’جس دن آئے گا ہر نفس جھگڑا کرتا ہوا اپنی طرف سے‘‘ یعنی ہر شخص (نفسی نفسی) پکارے گا اور اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہو گا، پس اس روز بندہ ذرہ بھر نیکی کے حصول کا بھی محتاج ہو گا۔ ﴿ وَتُوَفّٰى كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ ﴾ ’’اور پورا ملے گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا‘‘ یعنی نیک یا بد جو بھی عمل کیا ہو گا ﴿ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کے گناہوں میں اضافہ کیا جائے گا نہ ان کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی۔ ﴿ فَالۡيَوۡمَ لَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ شَيۡـًٔؔا وَّلَا تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾(یٰسٓ:36؍54) ’’آج کسی جان پر ظلم نہ کیا جائے گا اور تمھیں ویسی ہی جزا دی جائے گی جیسے تم عمل کرتے رہے ہو۔‘‘

16:112–113Page 280

وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٗا قَرۡيَةٗ كَانَتۡ ءَامِنَةٗ مُّطۡمَئِنَّةٗ يَأۡتِيهَا رِزۡقُهَا رَغَدٗا مِّن كُلِّ مَكَانٖ فَكَفَرَتۡ بِأَنۡعُمِ ٱللَّهِ فَأَذَٰقَهَا ٱللَّهُ لِبَاسَ ٱلۡجُوعِ وَٱلۡخَوۡفِ بِمَا كَانُواْ يَصۡنَعُونَ ١١٢

And Allāh presents an example: a city [i.e., Makkah] which was safe and secure, its provision coming to it in abundance from every location, but it denied the favors of Allāh. So Allāh made it taste the envelopment of hunger and fear for what they had been doing.

وَلَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُولٞ مِّنۡهُمۡ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمُ ٱلۡعَذَابُ وَهُمۡ ظَٰلِمُونَ ١١٣

And there had certainly come to them a Messenger from among themselves, but they denied him; so punishment overtook them while they were wrongdoers.

اور بیان کی اللہ نے مثال ایک بستی کی کہ تھی وہ بستی امن والی، چین والی، آتا تھا اس کے پاس رزق اس کا بافراغت ہرجگہ سے، پس ناشکری کی اس (کے باشندوں ) نے اللہ کی نعمتوں کی تو چکھایا انھیں اللہ نے لباس بھوک اور خوف کا بوجہ اس کے جو تھے وہ کرتے (112) اور البتہ تحقیق آیا ان کے پاس ایک رسول انھی میں سے، پس انھوں نے جھٹلایا اس کو تو آپکڑا ان کو عذاب نے اور وہ ظالم تھے (113)

[113,112] اس بستی سے مراد مکہ مکرمہ ہے، جو امن کا گہوارہ اور اطمینان کی جگہ تھی، اس بستی میں کسی کو پریشان نہیں کیا جاتا تھا۔ بڑے بڑے جہلاء بھی اس کا احترام کرتے تھے حتیٰ کہ اس بستی میں کوئی شخص اپنے باپ یا بھائی کے قاتل کو بھی دیکھتا تو اس کا جذبۂ انتقام جوش نہیں مارتا تھا، حالانکہ ان میں عربی حمیت و تکبر بہت زیادہ تھا۔ مگر مکہ مکرمہ میں کامل امن تھا جو کسی اور شہر میں نہ تھا۔ اسی طرح اس کو کشادہ رزق سے بھی نوازا گیا تھا۔ مکہ مکرمہ ایسا شہر تھا جہاں کھیتیاں تھیں نہ باغات بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رزق کو آسان کر دیا تھا، ہر سمت سے ان کو رزق پہنچتا تھا۔ پس ان کے پاس انھی میں سے ایک رسول آیا، جس کی صداقت اور امانت کو وہ خوب جانتے تھے جو انھیں کامل ترین امور کی طرف دعوت دیتا تھا اور انھیں بری باتوں سے روکتا تھا۔ مگر انھوں نے اسے جھٹلایا اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو امن و اطمینان کے برعکس بدامنی کا مزہ چکھایا، انھیں بھوک کا لباس پہنا دیا جو خوشحالی کی ضد ہے اور ان پر خوف طاری کر دیا جو امن کی ضد ہے۔ یہ سب ان کی بداعمالیوں ، ان کے کفر اور ان کی ناشکری کی پاداش میں تھا۔ ﴿ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَؔ﴾(النحل : 16؍33) ’’اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔‘‘

16:114–118Page 280

فَكُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ حَلَٰلٗا طَيِّبٗا وَٱشۡكُرُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ إِن كُنتُمۡ إِيَّاهُ تَعۡبُدُونَ ١١٤

Then eat of what Allāh has provided for you [which is] lawful and good. And be grateful for the favor of Allāh, if it is [indeed] Him that you worship.

إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَيۡتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحۡمَ ٱلۡخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيۡرِ ٱللَّهِ بِهِۦۖ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٖ وَلَا عَادٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ١١٥

He has only forbidden to you dead animals,1 blood, the flesh of swine, and that which has been dedicated to other than Allāh. But whoever is forced [by necessity], neither desiring [it] nor transgressing [its limit] - then indeed, Allāh is Forgiving and Merciful.

وَلَا تَقُولُواْ لِمَا تَصِفُ أَلۡسِنَتُكُمُ ٱلۡكَذِبَ هَٰذَا حَلَٰلٞ وَهَٰذَا حَرَامٞ لِّتَفۡتَرُواْ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُونَ ١١٦

And do not say about what your tongues assert of untruth, "This is lawful and this is unlawful," to invent falsehood about Allāh. Indeed, those who invent falsehood about Allāh will not succeed.

مَتَٰعٞ قَلِيلٞ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ ١١٧

[It is but] a brief enjoyment, and they will have a painful punishment.

وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمۡنَا مَا قَصَصۡنَا عَلَيۡكَ مِن قَبۡلُۖ وَمَا ظَلَمۡنَٰهُمۡ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ ١١٨

And to those who are Jews We have prohibited that which We related to you before.1 And We did not wrong them [thereby], but they were wronging themselves.

پس کھاؤتم اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے حلال پاکیزہ اور شکر کرو تم اللہ کی نعمت کا، اگر ہو تم خاص اسی عبادت کرتے (114) یقینا اللہ نے حرام کیا ہے تم پر مردار اور خون اور گوشت خنزیر کا اور وہ چیز کو نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا اس پر، پس جو شخص لاچار ہو جائے، نہ ہو وہ سرکش اور نہ حد سے بڑھنے والا تو بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (115)اور نہ کہو تم اس کو کہ بیان کرتی ہیں (اس کی بابت) تمھاری زبانیں جھوٹ، کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہےتاکہ باندھو تم اوپر اللہ کے جھوٹ، بے شک وہ لوگ جو باندھتے ہیں اوپر اللہ کے جھوٹ، نہیں فلاح پائیں گے وہ (116)(ان کے لیے) فائدہ ہے تھوڑا سا اور واسطے ان کے عذاب ہے بہت درد ناک (117) اور اوپر ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے، حرام کیا تھا ہم نے جو کچھ کہ بیان کیا ہے ہم نے آپ پر اس سے پہلےاور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر لیکن تھے وہ (خود) اپنے نفسوں پر ظلم کرتے (118)

[114] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں سے حیوانات، غلہ جات اور میوہ جات وغیرہ کھائیں ۔ ﴿ حَلٰلًا طَيِّبًا﴾ ’’حلال اور پاکیزہ‘‘ یعنی اس رزق کو اس حالت میں کھائیں کہ وہ مذکورہ دو اوصاف سے متصف ہو یعنی یہ ان چیزوں میں سے نہ ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور نہ وہ رزق کسی غصب کے نتیجے میں حاصل ہوا ہو۔ پس بغیر کسی اسراف اور زیادتی کے اللہ تعالیٰ کے رزق سے فائدہ اٹھاؤ ﴿ وَّاشۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو‘‘ قلب کے ذریعے سے اس نعمت کا اعتراف کر کے، اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کر کے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کر کے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مخلص ہو تو صرف اسی کا شکر ادا کرو اور نعمتیں عطا کرنے والے کو فراموش نہ کرو۔

[115]﴿ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيۡكُمُ ﴾ ’’اس نے تم پر صرف حرام کردیا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھاری پاکیزگی کی خاطر ضرر رساں چیزوں کو تم پر حرام ٹھہرا دیا ہے۔ ﴿الۡمَيۡتَةَ ﴾ ’’مردار۔‘‘ یعنی ان چیزوں میں ایک مردار ہے اس میں ہر وہ جانور داخل ہے جس کی موت مشروع طریقے سے ذبح کیے بغیر واقع ہوئی ہو۔ ٹڈی اور مچھلی کا مردار اس حکم سے مستثنیٰ ہے۔ ﴿ وَالدَّمَ ﴾ ’’اور خون‘‘ یعنی بہایا ہوا، (جو ذبح کے وقت بہتا ہے) اور وہ خون جو ذبح کرنے کے بعد رگوں اورگوشت میں باقی رہ جائے اس میں کوئی حرج نہیں ۔ ﴿ وَلَحۡمَ الۡخِنۡزِيۡرِ ﴾’’اور خنزیر کا گوشت‘‘ یہ اس کی گندگی اور ناپاکی کی وجہ سے حرام ہے اور یہ حکم اس کے گوشت، اس کی چربی اور اس کے تمام اجزا کو شامل ہے۔﴿ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ﴾ ’’اور جس پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا۔‘‘ ، مثلاً: وہ جانور جو بتوں اور قبروں وغیرہ پر ذبح کیا جائے کیونکہ اس کا مقصد شرک ہے۔ ﴿ فَمَنِ اضۡطُرَّ ﴾ ’’پس جو شخص مجبور ہو جائے‘‘ ان محرمات میں سے کسی چیز کے استعمال کرنے پر، یعنی ضرورت اسے اس کے استعمال پر مجبور کر دے اور اسے ڈر ہو کہ اگر وہ یہ حرام چیز نہیں کھائے گا تو مر جائے گا تو اس حرام چیز کو کھا لینے میں کوئی گناہ نہیں ۔ ﴿ غَيۡرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ ﴾ ’’نہ سرکشی کرنے والا ہو اور نہ زیادتی کرنے والا‘‘ یعنی جب وہ مجبور نہ ہو تو حرام چیز کھانے کا ارادہ رکھتا ہو نہ حلال کو چھوڑ کر حرام کی طرف جاتا ہو اور نہ ضرورت سے زیادہ حرام چیز کو استعمال میں لاتا ہو۔ یہ وہ محرمات ہیں جن کو اضطراری حالت میں اللہ تعالیٰ نے حلال کر دیا ہے۔

[116]﴿ وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَتُكُمُ الۡكَذِبَ هٰؔذَا حَلٰلٌ وَّهٰؔذَا حَرَامٌ ﴾ ’’اور نہ کہو تم جن کو تمھاری زبانیں جھوٹ بنا لیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے اور افترا پردازی کرتے ہوئے خود اپنی طرف سے حلال اور حرام کے ضابطے نہ بناؤ۔ ﴿ لِّتَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’تاکہ تم اللہ پر بہتان باندھو۔ بے شک جو اللہ پر بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے‘‘ دنیا میں نہ آخرت میں ۔

[117] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ضرور ذلیل و رسوا کرے گا، اگر انھوں نے اس دنیا سے فائدہ اٹھایا بھی ﴿ مَتَاعٌ قَلِيۡلٌ﴾ ’’تو یہ بہت ہی قلیل متاع ہے‘‘ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے ﴿ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘

[118] پس اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان کی بنا پر ہمیں گندگی سے بچانے کے لیے ہمارے لیے صرف ناپاک چیزوں کو حرام کیا ہے لیکن یہودیوں پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کی سزا کے طور پر طیبات کو حرام ٹھہرا دیا تھا جو ان کے لیے حلال تھیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام میں ان الفاظ میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَعَلَى الَّذِيۡنَ هَادُوۡا حَرَّمۡنَا كُلَّ ذِيۡ ظُفُرٍ١ۚ وَمِنَ الۡبَقَرِ وَالۡغَنَمِ حَرَّمۡنَا عَلَيۡهِمۡ شُحُوۡمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتۡ ظُهُوۡرُهُمَاۤ اَوِ الۡحَوَايَاۤ اَوۡ مَا اخۡتَلَطَ بِعَظۡمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَيۡنٰهُمۡ بِبَغۡيِهِمۡ١ۖٞ وَاِنَّا لَصٰؔدِقُوۡنَ﴾(الانعام : 6؍ 146) ’’اور یہودیوں پر ہم نے ناخن والے جانور حرام کر دیے، گائے اور بکری کی چربی بھی حرام ٹھہرا دی سوائے اس چربی کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی انتڑیوں یا ہڈی کے ساتھ لگی ہوئی رہ جائے۔ یہ ہم نے ان کو ان کی سرکشی کی سزا دی تھی اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘

16:119Page 281

ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُواْ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَٰلَةٖ ثُمَّ تَابُواْ مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ وَأَصۡلَحُوٓاْ إِنَّ رَبَّكَ مِنۢ بَعۡدِهَا لَغَفُورٞ رَّحِيمٌ ١١٩

Then, indeed your Lord, to those who have done wrong out of ignorance and then repent after that and correct themselves - indeed, your Lord, thereafter, is Forgiving and Merciful.

پھر بے شک آپ کا رب، ان لوگوں کے لیے جنھوں نے عمل کیے برے بوجہ جہالت کے، پھر توبہ کی انھوں نے بعد اس کے اور (اپنی) اصلاح کر لی، بے شک آپ کا رب بعد اس(توبہ) کے یقینا بہت بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (119)

[119] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو توبہ کی ترغیب اور انابت کی طرف دعوت ہے۔ اس لیے آگاہ فرمایا کہ اگر کوئی شخص گناہ کے انجام سے لاعلمی کی بنا پر گناہ کر بیٹھتا ہے، خواہ یہ گناہ عمداً ہی کیوں نہ کیا ہو تو گناہ کے ارتکاب کے وقت اس کے قلب میں لازمی طور پر علم کم ہو جاتا ہے۔ جب وہ توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لیتا ہے، یعنی ترک گناہ کے بعد گناہ پر نادم ہوتا ہے اور اپنے اعمال کی اصلاح کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے، اس پر رحم کرتا ہے، اس کی توبہ قبول کر کے اس کو اس کی پہلی حالت کی طرف لوٹا دیتا ہے یا پہلے سے بھی بلند تر مقام عطا کرتا ہے۔

16:120–123Page 281

إِنَّ إِبۡرَٰهِيمَ كَانَ أُمَّةٗ قَانِتٗا لِّلَّهِ حَنِيفٗا وَلَمۡ يَكُ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ١٢٠

Indeed, Abraham was a [comprehensive] leader,1 devoutly obedient to Allāh, inclining toward truth, and he was not of those who associate others with Allāh.

شَاكِرٗا لِّأَنۡعُمِهِۚ ٱجۡتَبَىٰهُ وَهَدَىٰهُ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ ١٢١

[He was] grateful for His favors. He [i.e., Allāh] chose him and guided him to a straight path.

وَءَاتَيۡنَٰهُ فِي ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٗۖ وَإِنَّهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ١٢٢

And We gave him good in this world, and indeed, in the Hereafter he will be among the righteous.

ثُمَّ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ أَنِ ٱتَّبِعۡ مِلَّةَ إِبۡرَٰهِيمَ حَنِيفٗاۖ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ١٢٣

Then We revealed to you, [O Muḥammad], to follow the religion of Abraham, inclining toward truth; and he was not of those who associate with Allāh.

بلاشبہ ابراہیم تھا ایک امت، فرماں بردار اللہ کا، حق کا پرستاراور نہ تھا وہ مشرکوں میں سے (120) شکر کرنے والا اللہ کی نعمتوں کا، چن لیا تھا اسے اللہ نےاور اس نے ہدایت دی تھی اس کو صرف راہ راست کی (121) اور دی ہم نے اسے دنیا میں نیکی (اچھائی)اور بلاشبہ وہ آخرت میں یقینا صالح لوگوں میں سے ہو گا (122) پھر وحی کی ہم نے آپ کی طرف یہ کہ پیروی کریں آپ ملت ابراہیم کی جو حق کا پرستار تھااور نہ تھا وہ مشرکوں میں سے (123)

[120] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل ابراہیمu کو فضیلت بخشی اور انھیں فضائل عالیہ اور مناقب کاملہ سے مختص کیا۔ فرمایا: ﴿ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ كَانَ اُمَّةً ﴾ ’’بے شک ابراہیم ایک امت تھے‘‘ یعنی امام، بھلائی کے خصائل کے جامع، ہدایت یافتہ اور راہنما تھے۔ ﴿ قَانِتًا لِّلّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے فرماں بردار‘‘ اپنے رب کے دائمی مطیع اور اس کے لیے دین کو خالص کرنے والے۔ ﴿ حَنِيۡفًا﴾ ’’سب سے ایک طرف ہو کر‘‘ یعنی محبت، انابت اور عبودیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہنے والے اور ماسوا سے منہ موڑنے والے:﴿ وَلَمۡ يَكُ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے‘‘ اپنے قول و عمل اور اپنے تمام احوال میں مشرکین میں سے نہ تھے کیونکہ وہ یک سو موحدین کے امام تھے۔

[121]﴿ شَاكِرًا لِّاَنۡعُمِهِ ﴾ ’’اس کے احسانات کا شکر ادا کرنے والے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ابراہیمu کو دنیا میں بھلائی عطا کی، ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا اور انھوں نے ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ ان تمام اچھی خصلتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ ﴿ اِجۡتَبٰؔىهُ ﴾ ’’ان (ابراہیمu) کے رب نے ان کو چن لیا‘‘ انھیں اپنا خلیل بنایا اور انھیں اپنی مخلوق میں سے چنے ہوئے مقرب بندوں میں شامل کیا۔ ﴿ وَهَدٰؔىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’اور انھیں (اپنے علم و عمل میں ) صراط مستقیم پر گامزن کیا‘‘ یعنی انھوں نے حق کو جان لیا اور اسے دیگر ہر چیز پر ترجیح دی۔

[122]﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ فِي الدُّنۡيَا حَسَنَةً﴾ ’’اور دی ہم نے ان کو دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی ہم نے انھیں دنیا میں کشادہ رزق، خوبصورت و نیک سیرت بیوی، نیک اولاد اور اچھے اخلاق و عادات سے نوازا ﴿ وَاِنَّهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور وہ آخرت میں اچھے لوگوں میں سے ہیں ‘‘ یعنی وہ لوگ جنھیں عالی قدر منزلت اور اللہ تعالیٰ کا قرب عظیم حاصل ہے۔

[123] حضرت ابراہیمu کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سیدالوریٰ اور کامل ترین ہستی، نبی مصطفیﷺ کی طرف وحی کی کہ وہ حضرت ابراہیمu کی ملت کی اتباع کریں ، آپ اور آپ کی امت ان کی پیروی کریں ۔

16:124Page 281

إِنَّمَا جُعِلَ ٱلسَّبۡتُ عَلَى ٱلَّذِينَ ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِۚ وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ ١٢٤

The sabbath was only appointed for those who differed over it. And indeed, your Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning that over which they used to differ.

یقینا بنایا گیا تھا ہفتے کا دن (قابل تعظیم) صرف ان لوگوں پر جنھوں نے اختلاف کیا تھا اس میں اور بے شک آپ کا رب ، البتہ فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے، اس چیز کی بابت کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے (124)

[124]﴿ اِنَّمَا جُعِلَ السَّبۡتُ ﴾ ہفتے کا دن فرض کیا گیا ﴿ عَلَى الَّذِيۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِيۡهِ﴾ ’’صرف انھی پر جو اس میں اختلاف کرتے تھے‘‘ یعنی جب وہ جمعہ کے دن کے بارے میں بھٹک گئے… مراد یہود ہیں … ان کا اختلاف اس بات کا سبب بنا کہ اللہ ہفتے کے دن کا احترام اور تعظیم ان پر واجب کر دے ورنہ حقیقی فضیلت تو جمعہ کے دن ہی کو حاصل ہے۔ جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اس امت کی راہنمائی فرمائی۔ ﴿وَاِنَّ رَبَّكَ لَيَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ﴾ ’’بے شک آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا ان چیزوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے تھے‘‘ پس اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے سامنے حق پسند اور باطل پسند کے درمیان فرق واضح کر دے گا اور ظاہر کر دے گا کہ ثواب کا مستحق کون ہے اور عذاب کا مستحق کون ہے۔

16:125Page 281

ٱدۡعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلۡحِكۡمَةِ وَٱلۡمَوۡعِظَةِ ٱلۡحَسَنَةِۖ وَجَٰدِلۡهُم بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَ ١٢٥

Invite to the way of your Lord with wisdom and good instruction, and argue with them in a way that is best. Indeed, your Lord is most knowing of who has strayed from His way, and He is most knowing of who is [rightly] guided.

(اے پیغمبر!) بلایے (لوگوں کو) طرف راسیت کی اپنے رب کے، ساتھ حکمت اور اچھی نصیحت کےاور بحث کیجیے ان سے ساتھ اس طریقے کے کہ وہ بہت اچھا ہو، بلاشبہ آپ کا رب، وہی خوب جانتا ہے اس شخص کو جو گمراہ ہوا اس کی راہ سےاور وہی خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو (125)

[125] یعنی تمام مخلوق کو، خواہ وہ مسلمان ہوں یا کافر، آپ کی اپنے رب کے سیدھے راستے کی طرف دعوت، علم نافع اور عمل صالح پر مشتمل ہونی چاہیے ﴿بِالۡحِكۡمَةِ﴾ ’’حکمت کے ساتھ‘‘ یعنی ہر ایک کو اس کے حال، اس کی فہم اور اس کے اندر قبولیت اور اطاعت کے مادے کے مطابق دعوت دیجیے۔ حکمت یہ ہے کہ جہل کی بجائے علم کے ذریعے سے دعوت دی جائے اور اس چیز سے ابتدا کی جائے جو سب سے زیادہ اہم، عقل اور فہم کے سب سے زیادہ قریب ہو اور ایسے نرم طریقے سے دعوت دی جائے کہ اسے کامل طور پر قبول کر لیا جائے۔ اگر حکمت کے ساتھ دی گئی دعوت کے سامنے سرتسلیم خم کر دے تو ٹھیک ورنہ اچھی نصیحت کے ذریعے سے دعوت کی طرف منتقل ہو جائے اور اس سے مراد امرو نہی ہے جو ترغیب و ترہیب سے مقرون ہو… یا تو ان متعدد مصالح کا ذکر کرے جن پر اوامر مشتمل ہیں اور ان متعدد مضرتوں کو بیان کرے جو نواہی میں پنہاں ہیں یا ان لوگوں کی اللہ کے ہاں تکریم کو بیان کرے جنھوں نے اللہ کے دین کو قائم کیا اور ان لوگوں کی اہانت کا تذکرہ کرے جنھوں نے اللہ کے دین کو قائم نہیں کیا یا اس دنیاوی اور اخروی ثواب کا ذکر کرے جو اس نے اپنے اطاعت کیش بندوں کے لیے تیار کررکھا ہے اور اس دنیاوی اور اخروی عذاب کا ذکر کرے جو اس نے نافرمانوں کے لیے تیار کیا ہوا ہے۔اگر وہ شخص جس کو دعوت دی گئی ہے، یہ سمجھتا ہے کہ اس کا موقف برحق ہے یا داعی باطل کی طرف دعوت دینے والا ہے تو اس کے ساتھ احسن طریقے سے بحث کی جائے۔ یہ ایسا طریقہ ہے جو عقلاً اور نقلاً دعوت کی قبولیت کا زیادہ موجب ہے، مثلاً:اس شخص سے ایسے دلائل کے ساتھ بحث کی جائے جن کو وہ خود تسلیم کرتا ہو یہ حصول مقصد کا قریب ترین ذریعہ ہے۔ یہ بحث جھگڑے اور گالی گلوچ تک نہ پہنچے ورنہ مقصد فوت ہو جائے گا اور کوئی فائدہ حاصل نہ ہو گا۔ بحث کا مقصد تو لوگوں کی حق کی طرف راہنمائی کرنا ہے نہ کہ بحث میں جیتنا وغیرہ۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ ﴾ ’’آپ کا رب ہی بہتر جانتا ہے اس کو جو بھٹک گیا اس کے راستے سے‘‘ یعنی آپ کا رب اس سبب کو زیادہ جانتا ہے جس نے اسے گمراہی میں مبتلا کیا ہے اور وہ اس کے ان اعمال کو بھی جانتا ہے جو اس کی گمراہی پر مترتب ہوئے ہیں وہ عنقریب ان کو ان اعمال کی جزا دے گا۔ ﴿ وَهُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُهۡتَدِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت سے نوازا، پھر ان پر احسان کرتے ہوئے انھیں چن لیا۔

16:126–128Page 281

وَإِنۡ عَاقَبۡتُمۡ فَعَاقِبُواْ بِمِثۡلِ مَا عُوقِبۡتُم بِهِۦۖ وَلَئِن صَبَرۡتُمۡ لَهُوَ خَيۡرٞ لِّلصَّٰبِرِينَ ١٢٦

And if you punish [an enemy, O believers], punish with an equivalent of that with which you were harmed.1 But if you are patient - it is better for those who are patient.

وَٱصۡبِرۡ وَمَا صَبۡرُكَ إِلَّا بِٱللَّهِۚ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ وَلَا تَكُ فِي ضَيۡقٖ مِّمَّا يَمۡكُرُونَ ١٢٧

And be patient, [O Muḥammad], and your patience is not but through Allāh. And do not grieve over them and do not be in distress over what they conspire.

إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَواْ وَّٱلَّذِينَ هُم مُّحۡسِنُونَ ١٢٨

Indeed, Allāh is with those who fear Him and those who are doers of good.

اور اگر بدلہ لو تم تو بدلہ لو برابر اس (تکلیف) کے جو ایذاء دیے گئے ہو تم ساتھ اس کےاور البتہ اگر صبر کرو تم تو وہ (صبر) بہت بہتر ہے صبر کرنے والوں کے لیے (126) اور آپ صبر کیجیے اور نہیں ہے صبر کرنا آپ کا مگر اللہ (کی توفیق) سے ہی اور نہ غم کریں آپ ان پر اور نہ ہوں آپ تنگی میں اس سے جو وہ سازشیں کرتے ہیں (127) بلاشبہ اللہ ساتھ ہے ان لوگوں کے جنھوں نے تقویٰ اختیار کیااور ان لوگوں کے کہ وہ نیکی کرنے والے ہیں (128)

[126] اللہ تبارک وتعالیٰ عدل کو مباح کرتے اور فضل و احسان کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَاِنۡ عَاقَبۡتُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم بدلہ لو‘‘ اگر تم اس شخص کا مواخذہ کرنا چاہو جس نے تمھیں قول و فعل کے ذریعے سے برے سلوک کا نشانہ بنایا ہے ﴿ فَعَاقِبُوۡا بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبۡتُمۡ بِهٖ﴾ ’’تو بدلہ لو اسی قدر جس قدر کہ تم تکلیف پہنچائی گئی‘‘ یعنی تمھارے ساتھ جو معاملہ کیا گیا ہے، بدلہ لیتے وقت تمھاری طرف سے اس میں زیادتی نہ ہو۔ ﴿ وَلَىِٕنۡ صَبَرۡتُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم صبر کر لو‘‘ یعنی بدلہ نہ لو اور ان کا جرم معاف کر دو تو ﴿ لَهُوَ خَيۡرٌ لِّلصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے۔‘‘ یعنی یہ بدلہ لینے سے بہتر ہے اور جو اجروثواب اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ تمھارے لیے بہتر اور انجام کے اعتبار سے اچھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ﴾(الشوریٰ:42؍40) ’’جو معاف کر کے معاملے کی اصلاح کر دے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘

[128,127] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت پر صبر کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں اور نفس پر بھروسہ نہ کریں چنانچہ فرمایا: ﴿ وَاصۡبِرۡ وَمَا صَبۡرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اور صبر کیجیے اور آپ کے لیے صبر ممکن نہیں مگر اللہ ہی کی مدد سے‘‘ وہی صبر پر آپ کی مدد کرتا ہے اور آپ کو ثابت قدم رکھتا ہے ﴿ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان کے بارے میں غم نہ کرو۔‘‘ یعنی جب آپ ان کو دین کی دعوت دیں اور دیکھیں کہ وہ اس دعوت کو قبول نہیں کر رہے تو غمزدہ نہ ہوں کیونکہ حزن و غم آپ کو کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ﴿ وَلَا تَكُ فِيۡ ضَيۡقٍ ﴾ ’’اور تنگ دل نہ ہوں ۔‘‘ یعنی آپ کسی سختی اور حرج میں نہ پڑیں ۔ ﴿ مِّؔمَّا يَمۡؔكُرُوۡنَ ﴾ ’’ان کی چالوں سے‘‘ کیونکہ ان کے مکروفریب کا وبال انھی پر لوٹے گا اور آپ تو پرہیز گاروں اور نیکوکاروں میں سے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اپنی معونت توفیق اور تسدید کے ذریعے سے پرہیز گاروں اور نیکوکاروں کے ساتھ ہے یہ وہ لوگ ہیں جو کفر اور معاصی سے اجتناب کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عبودیت میں مقام احسان پر فائز ہیں یعنی وہ اس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں گویا وہ اسے دیکھ رہے ہیں اگر ان پر یہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی تو انھیں یہ یقین حاصل ہو کہ اللہ تعالیٰ تو انھیں دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر احسان یہ ہے کہ اسے ہر لحاظ سے فائدہ پہنچایا جائے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں پرہیزگاروں اور احسان کرنے والوں میں شامل کرے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском