As-Sa'diAn‑Nahl · 16:43–67

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

An-Nahl 16:43–67

16:43–44Page 272

وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ إِلَّا رِجَالٗا نُّوحِيٓ إِلَيۡهِمۡۖ فَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ٤٣

And We sent not before you except men to whom We revealed [Our message]. So ask the people of the message [i.e., former scriptures] if you do not know.

بِٱلۡبَيِّنَٰتِ وَٱلزُّبُرِۗ وَأَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلذِّكۡرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيۡهِمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُونَ ٤٤

[We sent them] with clear proofs and written ordinances. And We revealed to you the message [i.e., the Qur’ān] that you may make clear to the people what was sent down to them and that they might give thought.

اور نہیں بھیجے ہم نے پہلے آپ سے مگر مرد ہی، ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف ، پس پوچھو تم اہل کتاب سے اگر ہو تم نہیں جانتے (43)(ہم نے بھیجا تھا انھیں ) ساتھ دلیلوں اور کتابوں کےاور نازل کیا ہم نے آپ کی طرف ذکر (قرآن) تاکہ بیان کریں آپ لوگوں کے لیے جو کچھ نازل کیا گیا ہے ان کی طرف اور تاکہ وہ بھی غوروفکر کریں (44)

[43] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ اِلَّا رِجَالًا ﴾ ’’نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے مگر مردوں ہی کو‘‘ یعنی آپﷺ کوئی نئے اور انوکھے رسول نہیں ہیں ۔ پس آپ سے پہلے ہم نے فرشتوں کو رسول بنا کر نہیں بھیجا بلکہ کامل ترین انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور اسی طرح عورتوں میں سے بھی کسی عورت کو رسول نہیں بنایا۔ ﴿ نُّوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِمۡ ﴾’’وحی کرتے تھے ہم ان کی طرف‘‘ ہم ان رسولوں کی طرف شریعت اور احکام وحی کرتے تھے جو بندوں پر اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے اور یہ رسول اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے۔﴿ فَسۡـَٔلُوۡۤا اَهۡلَ الذِّكۡرِ ﴾ ’’پس پوچھ لو یاد رکھنے والوں سے‘‘ یعنی اہل کتاب سے ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اگر تم نہیں جانتے۔‘‘ یعنی اگر تمھیں گزشتہ امتوں کے بارے میں کوئی خبر نہیں اور تمھیں شک ہے کہ آیا اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو رسول بنایا ہے یا نہیں تو تم ان لوگوں سے پوچھ لو جو اس کا علم رکھتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی کتابیں اور معجزات نازل ہوئے جنھوں نے ان کتابوں کو پڑھا اور سمجھا۔ ان سب کے ہاں یہ بات متحقق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بستیوں میں سے صرف انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔اس آیت کریمہ کا عموم اہل علم کی مدح پر دلالت کرتا ہے، نیز علم کی تمام انواع میں کتاب اللہ کا علم بلند ترین علم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو جو علم نہیں رکھتا حکم دیا ہے کہ وہ تمام حوادث میں اہل علم کی طرف رجوع کرے۔ یہ آیت کریمہ اہل علم کی تعدیل اور ان کے تزکیہ کو بھی متضمن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے سوال کرنے کا حکم دیا ہے، نیز جاہل آدمی اہل علم سے سوال کرنے پر گرفت سے نکل جاتا ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل علم کو اپنی وحی اور تنزیل کا امین بنایا ہے اور وہ تزکیہ اور صفات کمال سے متصف ہونے پر مامور ہیں۔

[44] اور اہل ذکر میں بہترین لوگ اہل قرآن ہیں کیونکہ وہی درحقیقت اہل ذکر ہیں اور دوسروں کی نسبت زیادہ اس نام کے مستحق ہیں ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الذِّكۡرَ﴾ ’’اور ہم نے آپ کی طرف ذکر نازل کیا‘‘ یعنی قرآن جس میں ہر وہ چیز مذکور ہے، جس کی بندوں کو ظاہری اور باطنی طور پر اپنے دینی اور دنیاوی امور میں سخت ضرورت ہے۔ ﴿لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تاکہ آپ لوگوں کے سامنے ان باتوں کی وضاحت کریں جو ان کی طرف نازل کی گئیں ‘‘ اور یہ تبیین، الفاظ اور معانی دونوں کو شامل ہے۔ ﴿ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’اور تاکہ وہ غوروفکر کریں ‘‘ پس وہ اس میں غوروفکر کر کے اپنی استعداد اور اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی توجہ کے مطابق، اس کے علوم میں سے معانی کے خزانوں کا استخراج کریں ۔

16:45–47Page 272

أَفَأَمِنَ ٱلَّذِينَ مَكَرُواْ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن يَخۡسِفَ ٱللَّهُ بِهِمُ ٱلۡأَرۡضَ أَوۡ يَأۡتِيَهُمُ ٱلۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُونَ ٤٥

Then, do those who have planned evil deeds feel secure that Allāh will not cause the earth to swallow them or that the punishment will not come upon them from where they do not perceive?

أَوۡ يَأۡخُذَهُمۡ فِي تَقَلُّبِهِمۡ فَمَا هُم بِمُعۡجِزِينَ ٤٦

Or that He would not seize them during their [usual] activity, and they could not cause failure [i.e., escape from Him]?

أَوۡ يَأۡخُذَهُمۡ عَلَىٰ تَخَوُّفٖ فَإِنَّ رَبَّكُمۡ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٌ ٤٧

Or that He would not seize them gradually [in a state of dread]?1 But indeed, your Lord is Kind and Merciful.2

کیا پس بے خوف ہو گئے ہیں وہ لوگ جنھوں نے تدبیریں کیں بری (اس بات سے) کہ دھنسا دے اللہ ان کو زمین میں ؟ یا آئے ان پر عذاب جہاں سے نہ شعور رکھتے ہوں وہ؟ (45) یا وہ پکڑ لے ان کو ان کے چلتے ، پھرتے (کی حالت ) میں پس نہیں وہ عاجز کر سکتے (اللہ کو)(46) یا وہ پکڑ لے ان کو اوپر ان کی خوف زدگی کے، پس بے شک تمھارا رب ، البتہ بہت ہی شفقت کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (47)

[47-45] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انکار کرنے والوں ، جھٹلانے والوں اور گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے تخویف ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کا عذاب انھیں غفلت میں نہ آپکڑے اور انھیں شعور تک نہ ہو۔ یہ عذاب ان پر یا تو اوپر سے نازل ہو یا نیچے سے پھوٹ پڑے، جیسے زمین میں دھنس جانے یا کسی اور صورت میں ظاہر ہو یا یہ عذاب ان پر اس وقت نازل ہو، جب وہ زمین پر چل پھر رہے ہوں اور اپنے کاروبار میں مصروف ہوں اور عذاب کا نازل ہونا ان کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو یا اس حال میں ان پر عذاب نازل ہوکہ وہ عذاب سے خائف ہوں ۔ پس وہ کسی بھی حالت میں اللہ تعالیٰ کو بے بس نہیں کر سکتے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہیں اور ان کی پیشانیاں اس کے ہاتھ میں ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ نہایت مہربان اور بہت رحیم ہے، وہ گناہ گاروں کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ وہ ان کو ڈھیل دیتا ہے اور ان کو معاف کر دیتا ہے، وہ ان کو رزق سے نوازتا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ اسے اور اس کے اولیاء کو ایذا پہنچاتے ہیں ۔بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے توبہ کے دروازے کھول رکھے ہیں ، وہ انھیں گناہوں کو ختم کرنے کی دعوت دیتا ہے، جو ان کے لیے سخت ضرر رساں ہیں اللہ تعالیٰ انھیں اس کے بدلے میں بہترین اکرام و تکریم اور ان کے گناہوں کو بخش دینے کا وعدہ کرتا ہے… پس مجرم کو اپنے رب سے شرمانا چاہیے کہ اس کی نعمتیں ہر حال میں اس پر نازل ہوتی رہتی ہیں اور اس کے بدلے میں اس کی طرف سے ہر وقت نافرمانیاں اپنے رب کی طرف بلند ہوتی ہیں ۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ڈھیل دیتا ہے مہمل نہیں چھوڑتا اور جب وہ گناہ گار نافرمان کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ ایک غالب اور مقتدر ہستی کی پکڑ ہے۔ پس اسے توبہ کرنی چاہیے اور ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ بس اس کی بے پایاں رحمت اور اس کے لامحدود احسان کے سائے کے نیچے آ جاؤ اور جلدی سے اس راستے پر گامزن ہو جاؤ جو رب رحیم کے فضل و کرم کی منزل تک پہنچاتا ہے اور یہ راستہ اللہ تعالیٰ کے تقویٰ اور اس کے محبوب اور پسندیدہ امور پر عمل کرنے سے عبارت ہے۔

16:48–50Page 272

أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ إِلَىٰ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَيۡءٖ يَتَفَيَّؤُاْ ظِلَٰلُهُۥ عَنِ ٱلۡيَمِينِ وَٱلشَّمَآئِلِ سُجَّدٗا لِّلَّهِ وَهُمۡ دَٰخِرُونَ ٤٨

Have they not considered what things Allāh has created? Their shadows incline to the right and to the left, prostrating to Allāh, while they [i.e., those creations] are humble.

وَلِلَّهِۤ يَسۡجُدُۤ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ مِن دَآبَّةٖ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ ٤٩

And to Allāh prostrates whatever is in the heavens and whatever is on the earth of creatures, and the angels [as well], and they are not arrogant.

يَخَافُونَ رَبَّهُم مِّن فَوۡقِهِمۡ وَيَفۡعَلُونَ مَا يُؤۡمَرُونَ۩ ٥٠

They fear their Lord above them, and they do what they are commanded.

کیا نہیں دیکھا انھوں نے اس بات کو کہ جو بھی پیدا کی اللہ نے کوئی چیز، جھکتا ہے سایا اس کا دائیں اوربائیں طرف سے، سجدہ کرتے ہوئے اللہ کواور وہ ( اس کے سامنے) عاجز ہیں (48) اورواسطے اللہ ہی کے سجدہ کرتی ہے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو چیز ہے زمین پر چلنے والوں میں سے اور فرشتے بھی اور نہیں وہ تکبر کرتے (49) وہ ڈرتے ہیں اپنے رب سے، اپنے اوپر سےاور وہ کرتے ہیں (وہی کچھ) جو وہ حکم دیے جاتے ہیں (50)

[48] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا ﴾ ’’کیا انھوں نے نہیں دیکھا۔‘‘ یعنی کیا اپنے رب کی توحید، اس کی عظمت اور اس کے کمال میں شک کرنے والوں نے نہیں دیکھا؟ ﴿ اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’ان چیزوں کی طرف، جن کو اللہ نے پیدا کیا‘‘ یعنی تمام مخلوقات کی طرف ﴿ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ ﴾ کہ ’’ان کے سائے لوٹتے رہتے ہیں ‘‘ ﴿ عَنِ الۡيَمِيۡنِ وَالشَّمَآىِٕلِ سُجَّؔدًؔا لِّلّٰهِ ﴾ ’’ان کی دائیں طرف سے یا بائیں طرف سے، اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے‘‘ یعنی تمام اشیا کے سائے، اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کے سامنے نہایت عاجزی کے ساتھ سجدہ ریز ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ دٰخِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ جھکے رہتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ذلیل، مسخر اور اس کے دست تدبیر کے تحت مقہور ہیں ۔ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جس کی پیشانی اللہ تعالیٰ کی گرفت میں اور اس کی تدبیر اس کے پاس نہ ہو۔

[49]﴿ وَلِلّٰهِ يَسۡجُدُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ مِنۡ دَآبَّةٍ﴾ ’’اور اللہ کو سجدہ کرتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے جانداروں میں سے‘‘ یعنی تمام انسانوں اور حیوانات میں سے ﴿ وَّالۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ ’’اور فرشتے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتے، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی فضیلت، ان کے شرف اور ان کی کثرت عبادت کی وجہ سے، تمام مخلوقات کا عمومی ذکر کرنے کے بعد ان کا خصوصی ذکر کیا ہے۔ بنا بریں فرمایا:﴿ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ اپنی کثرت، عظمت اخلاق اور قوت کے باوجود اللہ تعالیٰ کی عبادت سے انکار نہیں کرتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ لَنۡ يَّسۡتَنۡكِفَ الۡمَسِيۡحُ اَنۡ يَّكُوۡنَ عَبۡدًا لِّلّٰهِ وَلَا الۡمَلٰٓىِٕكَةُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ۠ ﴾(النساء: 4؍ 172) ’’مسیح (عیسیٰu) اور مقرب فرشتے اس بات کو عار نہیں سمجھتے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں ۔‘‘

[50]﴿ يَخَافُوۡنَ رَبَّهُمۡ مِّنۡ فَوۡقِهِمۡ ﴾ ’’ڈر رکھتے ہیں وہ اپنے رب کا اپنے اوپر سے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی کثرت اطاعت اور ان کے خشوع و خضوع پر ان کی مدح کرنے کے بعد، اللہ تعالیٰ سے ان کے خوف پر ان کی مدح فرمائی ہے، جو بالذات ان کے اوپر، ان پر غالب اور کامل اوصاف کا مالک ہے اور وہ اس کے دست قدرت کے تحت ذلیل اور مقہور ہیں ۔ ﴿ وَيَفۡعَلُوۡنَ مَا يُؤۡمَرُوۡنَ﴾’’جو ان کو ارشاد ہوتا ہے وہ اس پر عمل کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ جو بھی انھیں حکم دیتا ہے وہ خوشی اور پسندیدگی سے اس کی تعمیل کرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے مخلوق کے سجدے کی دو اقسام ہیں ۔(۱)سجدۂ اضطراری : یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کی صفات کمال پر دلالت کرتا ہے۔ اس سجدہ میں مومن اور کافر، نیک اور بد،انسان اور حیوان سب شامل ہیں ۔(۲) سجدۂ اختیاری : جو اس کے اولیاء، اس کے مومن بندوں ، فرشتوں اور دیگر مخلوقات سے مختص ہے۔

16:51–55Page 272

۞ وَقَالَ ٱللَّهُ لَا تَتَّخِذُوٓاْ إِلَٰهَيۡنِ ٱثۡنَيۡنِۖ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞ فَإِيَّٰيَ فَٱرۡهَبُونِ ٥١

And Allāh has said, "Do not take for yourselves two1 deities. He [i.e., Allāh] is but one God, so fear only Me."

وَلَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلَهُ ٱلدِّينُ وَاصِبًاۚ أَفَغَيۡرَ ٱللَّهِ تَتَّقُونَ ٥٢

And to Him belongs whatever is in the heavens and the earth, and to Him is [due] worship constantly. Then is it other than Allāh that you fear?

وَمَا بِكُم مِّن نِّعۡمَةٖ فَمِنَ ٱللَّهِۖ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ ٱلضُّرُّ فَإِلَيۡهِ تَجۡـَٔرُونَ ٥٣

And whatever you have of favor - it is from Allāh. Then when adversity touches you, to Him you cry for help.

ثُمَّ إِذَا كَشَفَ ٱلضُّرَّ عَنكُمۡ إِذَا فَرِيقٞ مِّنكُم بِرَبِّهِمۡ يُشۡرِكُونَ ٥٤

Then when He removes the adversity from you, at once a party of you associates others with their Lord

لِيَكۡفُرُواْ بِمَآ ءَاتَيۡنَٰهُمۡۚ فَتَمَتَّعُواْ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَ ٥٥

So they will deny what We have given them. Then enjoy yourselves, for you are going to know.

اور کہا اللہ نے، مت بناؤ تم معبود دو، یقینا وہ تو معبود ہے ایک ہی، سو مجھ ہی سے پس ڈرو تم (51) اور اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہےاوراسی کے لیے ہے اطاعت ہمیشہ، کیا پس غیر اللہ سے ڈرتے ہو تم؟ (52) اور جو کچھ تمھارے پاس ہے کوئی نعمت تو (وہ) اللہ ہی کی طرف سے ہے، پھر جب پہنچتی ہے تمھیں تکلیف تو اسی کی طرف آہ وزاری کرتے ہو تم (53) پھر جب وہ ہٹا دیتا ہے تکلیف تم سے تو اسی وقت ایک فریق تم میں سے اپنے رب کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگ جاتا ہے (54) تاکہ وہ ناشکری کریں ان (نعمتوں ) کی جو ہم نے دیں ان کو، سو تم فائدہ اٹھا لو، پس عنقریب تم جان لو گے (انجام)(55)

[51] اللہ تعالیٰ صرف اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے کہ وہی یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور اس پر وہ اس بات سے استدلال کرتا ہے کہ نعمتیں عطا کرنے والا صرف وہی اکیلا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ لَا تَتَّؔخِذُوۡۤا اِلٰهَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ ’’نہ بناؤ تم معبود دو‘‘ یعنی تم ان کو اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک نہ ٹھہراؤ۔ ﴿ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ ’’وہ صرف ایک ہی معبود ہے‘‘ وہ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات اور اپنے افعال میں متفرد ہے۔ پس جس طرح وہ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات اور افعال میں ایک ہے، اسی طرح ان کو چاہیے کہ وہ عبادت میں بھی اس کو ایک مانیں ۔ اسی لیے فرمایا:﴿ فَاِيَّايَ فَارۡهَبُوۡنِ ﴾ ’’پس مجھ ہی سے ڈرو‘‘ میرے حکم کی تعمیل اور میرے نواہی سے اجتناب کرو اور میرے ساتھ مخلوق میں سے کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ کیونکہ تمام مخلوق تو اللہ تعالیٰ کی مملوک ہے۔

[52]﴿ وَلَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلَهُ الدِّيۡنُ وَاصِبًا﴾ ’’اور اسی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کی اطاعت ہے ہمیشہ‘‘ یعنی اطاعت، عبادت اور تذلل دائمی طور پر ہر وقت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے تمام مخلوق پر فرض ہے کہ وہ اطاعت کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کریں اور اس کی عبودیت میں رنگے جائیں ۔ ﴿ اَفَغَيۡرَ اللّٰهِ تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’کیا اللہ کے سوا اوروں سے تم ڈرتے ہو‘‘ زمین والوں میں سے یا آسمان والوں میں سے؟ وہ تمھارے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے اور اللہ تعالیٰ اپنی نوازشات اور احسانات میں یکتا ہے۔

[53]﴿ وَمَا بِكُمۡ مِّنۡ نِّعۡمَةٍ ﴾ ’’اور جو کچھ تمھارے پاس ہے نعمت‘‘ ظاہری اور باطنی ﴿ فَمِنَ اللّٰهِ ﴾ ’’پس وہ اللہ کی طرف سے ہے‘‘ یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو یہ نعمتیں عطا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی شریک ہو۔ ﴿ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ ﴾ ’’پس جب پہنچتی ہے تمھیں کوئی تکلیف‘‘ یعنی محتاجی، بیماری یا کوئی اور مصیبت ﴿ فَاِلَيۡهِ تَجۡـَٔـرُوۡنَ﴾ ’’تو تم اسی سے فریاد کرتے ہو۔‘‘ یعنی گڑگڑا کر آہ و زاری کرتے ہوئے دعا کرتے ہو کیونکہ تم جانتے ہو کہ نقصان اور مصیبت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دور نہیں کر سکتا۔ پس وہ اللہ جو تمھاری پسندیدہ اشیاء عطا کرنے اور ناپسندیدہ امور کو تم سے دور کرنے میں متفرد (یکتا) ہے تو اس اکیلے کے سوا کوئی اور عبادت کے لائق نہیں ۔

[55,54] مگر بہت سے لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ ان کو مصیبت سے نجات دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر حمدوثنا بیان کرتے ہیں ۔ مگر جب وہ آرام اور خوشحالی کی حالت میں آ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی محتاج مخلوق کو شریک ٹھہرا دیتے ہیں ، اسی لیے فرمایا:﴿ لِيَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اٰتَيۡنٰهُمۡ﴾ ’’تاکہ انکار کریں وہ اس چیز کا جو ہم نے ان کو دی‘‘ یعنی جو کچھ ہم نے انھیں عطا فرمایا۔ کیونکہ ہم ہی نے انھیں سختیوں سے نجات دلائی اور مشقت سے چھڑا یا۔ ﴿ فَتَمَتَّعُوۡا﴾ ’’پس فائدہ اٹھا لو تم‘‘ اپنی دنیا میں تھوڑا سا۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ تمھیں عنقریب اپنے کفر کا انجام معلوم ہو جائے گا۔

16:56–60Page 273

وَيَجۡعَلُونَ لِمَا لَا يَعۡلَمُونَ نَصِيبٗا مِّمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡۗ تَٱللَّهِ لَتُسۡـَٔلُنَّ عَمَّا كُنتُمۡ تَفۡتَرُونَ ٥٦

And they assign to what they do not know1 [i.e., false deities] a portion of that which We have provided them. By Allāh, you will surely be questioned about what you used to invent.

وَيَجۡعَلُونَ لِلَّهِ ٱلۡبَنَٰتِ سُبۡحَٰنَهُۥ وَلَهُم مَّا يَشۡتَهُونَ ٥٧

And they attribute to Allāh daughters1 - exalted is He - and for them is what they desire [i.e., sons].

وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِٱلۡأُنثَىٰ ظَلَّ وَجۡهُهُۥ مُسۡوَدّٗا وَهُوَ كَظِيمٞ ٥٨

And when one of them is informed of [the birth of] a female, his face becomes dark, and he suppresses grief.

يَتَوَٰرَىٰ مِنَ ٱلۡقَوۡمِ مِن سُوٓءِ مَا بُشِّرَ بِهِۦٓۚ أَيُمۡسِكُهُۥ عَلَىٰ هُونٍ أَمۡ يَدُسُّهُۥ فِي ٱلتُّرَابِۗ أَلَا سَآءَ مَا يَحۡكُمُونَ ٥٩

He hides himself from the people because of the ill of which he has been informed. Should he keep it in humiliation or bury it in the ground? Unquestionably, evil is what they decide.

لِلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ مَثَلُ ٱلسَّوۡءِۖ وَلِلَّهِ ٱلۡمَثَلُ ٱلۡأَعۡلَىٰۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٦٠

For those who do not believe in the Hereafter is the description [i.e., an attribute] of evil;1 and for Allāh is the highest attribute. And He is Exalted in Might, the Wise.

اور ٹھہراتے ہیں وہ واسطے ان (معبودوں ) کے جن کی بابت وہ نہیں جانتے، ایک حصہ اس میں سے جو ہم نے رزق دیا انکو، قسم اللہ کی! ، البتہ ضرور پوچھے جاؤ گے تم اس چیز کی بابت جو تھے تم (اللہ پر) افترا باندھتے (56) اور ٹھہراتے ہیں وہ اللہ کے لیے بیٹیاں ، پاک ہے وہ (اولاد سے) اور ان کے لیے وہ ، جووہ چاہتے ہیں (یعنی بیٹے)(57) اور جب خوشخبری دی جاتی ہے ایک کو ان میں سے بیٹی کی (پیدائش کی) تو ہو جاتا ہے اس کاچہرہ سیاہ جبکہ وہ غم و غصہ سے بھرا ہوتا ہے (58) چھپتا پھرتا ہے لوگوں سے بوجہ اس عار کے کہ جو خوشخبری دیا گیا وہ ساتھ اس کے، کیا روک (باقی) رکھے اسے اوپر ذلت کے یا گاڑ (دبا) دے اس کو مٹی میں ؟ آگاہ رہو! بہت ہی برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں (59) ان لوگوں کے لیے جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے ، مثال ہے بری اور اللہ کے لیے ہے مثال سب سے اونچی اور وہی ہے بڑا غالب، خوب حکمت والا (60)

[56] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی جہالت، ان کے ظلم اور اللہ تبارک و تعالیٰ پر ان کی افترا پردازی کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز وہ خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے ان بتوں کو… جو کوئی علم رکھتے ہیں ، نہ کوئی نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں … اس رزق میں حصہ دار بناتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انھیں عطا کیا اور جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق سے اس کا شریک بنانے میں مدد حاصل کی اور خود ساختہ اور گھڑے ہوئے بتوں کے تقرب کے لیے اللہ تعالیٰ کے اس رزق کو پیش کرتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الۡحَرۡثِ وَالۡاَنۡعَامِ نَصِيۡبًا فَقَالُوۡا هٰؔذَا لِلّٰهِ بِزَعۡمِهِمۡ وَهٰؔذَا لِشُرَؔكَآىِٕنَا۠١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَؔكَآىِٕهِمۡ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ … الآيۃ ﴾(الانعام: 6؍ 136) ’’ان مشرکین نے اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے اللہ کے لیے ایک حصہ مقرر کر دیا اور بزعم خود کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے لیے ہے اور یہ ہمارے خود ساختہ شریکوں کے لیے ہے پھر جو حصہ ان کے شریکوں کے لیے ہے، وہ اللہ تک نہیں پہنچتا…‘‘ ﴿ تَاللّٰهِ لَتُسۡئَلُنَّ عَمَّا كُنۡتُمۡ تَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اللہ کی قسم! تم جو افترا پردازی کرتے ہو اس کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائے گا۔‘‘ فرمایا ﴿ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمۡ اَمۡ عَلَى اللّٰهِ تَفۡتَرُوۡنَ ﴾(یونس: 10؍59) ’’کیا اللہ نے تمھیں اس کا حکم دیا ہے یا تم اللہ پر افترا کر رہے ہو؟‘‘ اور فرمایا:﴿ وَمَا ظَنُّ الَّذِيۡنَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾(یونس: 10؍60) ’’اور ان لوگوں کا کیا خیال ہے، جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں کہ قیامت کے روز ان کے ساتھ کیا معاملہ ہو گا؟‘‘ اس افترا پردازی پر انھیں سخت عذاب دیا جائے گا۔

[59-57]﴿ وَيَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰهِ الۡبَنٰتِ سُبۡحٰؔنَهٗ﴾ ’’اور ٹھہراتے ہیں وہ اللہ کے لیے بیٹیاں ، وہ اس سے پاک ہے‘‘ کیونکہ انھوں نے فرشتوں کے بارے میں ، جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں ، کہا تھا کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں ﴿ وَلَهُمۡ مَّا يَشۡتَهُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے لیے وہ ہے جو وہ چاہتے ہیں ‘‘ یعنی خود اپنے لیے بیٹے چاہتے ہیں حتیٰ کہ بیٹیوں کو سخت ناپسند کرتے ہیں ۔ پس ان کا یہ حال تھا کہ ﴿ وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمۡ بِالۡاُنۡثٰى ظَلَّ وَجۡهُهٗ مُسۡوَدًّا﴾ ’’جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوش خبری ملتی تو اس کا منہ سیاہ ہو جاتا‘‘ اس کرب و غم سے جو اس کو پہنچتا۔ ﴿ وَّهُوَؔ كَظِيۡمٌ﴾’’اور وہ جی میں گھٹتا‘‘ یعنی جب اسے بیٹی کی پیدائش کی خبر دی جاتی تو وہ حزن و غم کے مارے خاموش ہو جاتا حتیٰ کہ وہ اس خبر سے اپنے ابنائے جنس میں اپنی فضیحت محسوس کرتا اور اس خبر پر وہ عار کی وجہ سے منہ چھپاتا پھرتا، پھر وہ اپنی اس بیٹی کے بارے میں جس کی اس کو خوش خبری ملتی، اپنی فکر اور فاسد رائے کی وجہ سے تذبذب کا شکار ہو جاتا کہ وہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرے؟﴿ اَيُمۡسِكُهٗ عَلٰى هُوۡنٍ ﴾ ’’کیا اسے رہنے دے، ذلت قبول کر کے‘‘ یعنی آیا اہانت اور ذلت برداشت کر کے اسے قتل نہ کرے اور زندہ چھوڑ دے۔ ﴿اَمۡ يَدُسُّهٗ فِي الـتُّرَابِ﴾ ’’یا اس کو داب دے مٹی میں ‘‘ یعنی اسے زندہ دفن کر دے۔ یہی وہ بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی سخت مذمت کی ہے۔ ﴿ اَلَا سَآءَ مَا يَحۡكُمُوۡنَ ﴾ ’’خبردار، برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں ‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو ان اوصاف سے متصف کیا جو اس کے جلال کے لائق نہ تھیں ، یعنی اس کی طرف اولاد کو منسوب کرنا، پھر انھوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ دونوں قسموں میں سے اس بدتر قسم کو اللہ کی طرف منسوب کیا جس کو خود اپنی طرف منسوب کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی طرف کیسے اسے منسوب کر دیتے تھے؟ پس بہت ہی برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے۔

[60] چونکہ یہ بری مثال تھی جس کو اللہ تعالیٰ کے دشمنوں ، مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوۡءِ﴾ ’’ان لوگوں کے واسطے جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے، بری مثال ہے‘‘ ناقص مثال اور کامل عیب ﴿ وَلِلّٰهِ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰى ﴾ ’’اور اللہ کے لیے مثال ہے سب سے بلند‘‘ اس سے مراد ہر وصف کمال ہے اور تمام کائنات میں جو بھی صفت کمال پائی جاتی ہے اللہ تعالیٰ اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے اور کسی بھی پہلو سے کسی نقص کو مستلزم نہیں ہے اور اس کے اولیاء کے دلوں میں بھی مثل اعلیٰ یعنی اس کی تعظیم، اجلال، محبت، اس کی طرف انابت اور اس کی معرفت جاگزیں ہے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور وہ زبردست ہے‘‘ جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور تمام کائنات اس کی مطیع ہے ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے‘‘ جو تمام اشیاء کو ان کے لائق محل و مقام پر رکھتا ہے۔ وہ جو بھی حکم دیتا ہے اور جو بھی فعل سرانجام دیتا ہے، اس پر اس کی ستائش کی جاتی ہے اور اس کے کمال پر اس کی ثنا بیان کی جاتی ہے۔

16:61Page 273

وَلَوۡ يُؤَاخِذُ ٱللَّهُ ٱلنَّاسَ بِظُلۡمِهِم مَّا تَرَكَ عَلَيۡهَا مِن دَآبَّةٖ وَلَٰكِن يُؤَخِّرُهُمۡ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗىۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَـٔۡخِرُونَ سَاعَةٗ وَلَا يَسۡتَقۡدِمُونَ ٦١

And if Allāh were to impose blame on the people for their wrongdoing, He would not have left upon it [i.e., the earth] any creature, but He defers them for a specified term. And when their term has come, they will not remain behind an hour, nor will they precede [it].

اور پکڑتا اللہ لوگوں کو بوجہ ان کے ظلم (کرنے) کے تو نہ چھوڑتا اوپر اس (زمین) کے کوئی چلنے والا (جاندار) لیکن وہ مہلت دیتا ہے ان کو ایک وقت مقرر تک، پھر جب آجاتا ہے وقت (مقرر) ان کا تو نہیں پیچھے رہ سکتے وہ لمحہ بھر اور نہ آگے ہی بڑھ سکتے ہیں (اس وقت سے)(61)

[61] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ظالموں کی افترا پردازی بیان کرنے کے بعد اپنا کامل حلم و صبر ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَلَوۡ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلۡمِهِمۡ ﴾ ’’اگر پکڑے اللہ لوگوں کو ان کی بے انصافی پر‘‘ بغیر کسی کمی یا زیادتی کے ﴿ مَّا تَرَكَ عَلَيۡهَا مِنۡ دَآ بَّةٍ ﴾ ’’نہ چھوڑے وہ زمین پر ایک بھی چلنے والا‘‘ یعنی معصیت کا ارتکاب کرنے والوں کے علاوہ چوپایوں اور حیوانات میں سے بھی کچھ نہ بچتا کیونکہ گناہوں کی نحوست کھیتیوں اور نسل کو ہلاک کر دیتی ہے۔ ﴿ وَّلٰكِنۡ يُّؤَخِّرُهُمۡ ﴾ ’’لیکن وہ ان کو ڈھیل دیتا ہے‘‘ یعنی انھیں جلدی سزا نہیں دیتا بلکہ ایک مقرر مدت یعنی قیامت کے روز تک موخر کر دیتا ہے ﴿ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ سَاعَةً وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠ ﴾ ’’پس جب ان کا مقرر وقت آجائے گا تو پیچھے سرک سکیں گے ایک گھڑی نہ آگے سرک سکیں گے‘‘ اس لیے جب تک انھیں مہلت کا وقت حاصل ہے، اس سے پہلے کہ وہ وقت آن پہنچے جب کوئی مہلت نہ ہو گی، انھیں ڈر جانا چاہیے۔

16:62–63Page 273

وَيَجۡعَلُونَ لِلَّهِ مَا يَكۡرَهُونَۚ وَتَصِفُ أَلۡسِنَتُهُمُ ٱلۡكَذِبَ أَنَّ لَهُمُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ لَا جَرَمَ أَنَّ لَهُمُ ٱلنَّارَ وَأَنَّهُم مُّفۡرَطُونَ ٦٢

And they attribute to Allāh that which they dislike [i.e., daughters], and their tongues assert the lie that they will have the best [from Him]. Assuredly, they will have the Fire, and they will be [therein] neglected.1

تَٱللَّهِ لَقَدۡ أَرۡسَلۡنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٖ مِّن قَبۡلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ ٱلۡيَوۡمَ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ ٦٣

By Allāh, We did certainly send [messengers] to nations before you, but Satan made their deeds attractive to them. And he is their [i.e., the disbelievers] ally today [as well], and they will have a painful punishment.

اور وہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے لیے وہ چیز کہ وہ (خود اسے) ناپسند کرتے ہیں اور بیان کرتی ہیں زبانیں ان کی جھوٹ، کہ بے شک ان کے لیے اچھا (انجام) ہے، یقینا بلاشبہ ان کے لیے آگ ہے اور بلاشبہ وہ (اس میں ) سب سے آگے بھیجے جائیں گے (62) قسم اللہ کی! البتہ تحقیق بھیجے ہم نے (رسول) طرف کئی امتوں کی آپ سے پہلے، پس آراستہ کر دیے ان کے لیے شیطان نے اعمال ان کے، سو وہی (شیطان) دوست ہے ان کا آج بھی اور ان کے لیے عذاب ہے بہت درد ناک (63)

[62] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے: ﴿ وَيَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰهِ مَا يَؔكۡرَهُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کرتے ہیں اللہ کے لیے وہ، جسے خود پسند نہیں کرتے‘‘ یعنی خود بیٹیوں اور دیگر اوصاف قبیحہ کو ناپسند کرتے ہیں ۔ اس سے مراد شرک ہے، یعنی عبادات میں بعض ہستیوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی غلام ہیں … جس طرح ان کو یہ پسند نہیں کہ ان کے غلام… حالانکہ وہ بھی انھی جیسی مخلوق ہیں … اس رزق میں ان کے برابر کے شریک ہوں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا ہے، پھر وہ بعض مخلوق ہستیوں کو کیسے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی غلام ہیں ۔ ﴿ وَتَصِفُ اَلۡسِنَتُهُمُ الۡكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اور ان کی زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں کہ ان کے لیے بھلائی ہے‘‘ وہ اس عظیم برائی کے ساتھ ساتھ یہ جھوٹ بھی بولتے ہیں کہ ان کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَاَنَّهُمۡ مُّفۡرَطُوۡنَ ﴾ ’’یقینا ان کے لیے آگ ہے اور وہ (اس کی طرف) بڑھائے جارہے ہیں ‘‘ یعنی وہ جہنم میں داخل ہوں گے، جہنم میں رہیں گے اور اس سے کبھی نہیں نکلیں گے۔

[63] اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ پہلے رسول نہیں ہیں جن کو جھٹلایا گیا ہے۔ ﴿ تَاللّٰهِ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم نے آپ سے پہلے، مختلف امتوں کی طرف رسول بھیجے۔‘‘ ایسے رسول، جو انھیں توحید کی دعوت دیتے تھے۔ ﴿ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’پس اچھے کر کے دکھلائے ان کو شیطان نے ان کے کام‘‘ پس انھوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور انھوں نے یہ باطل گمان کیا کہ وہ جس راستے پر چل رہے ہیں وہی حق اور ہر دکھ سے نجات دینے والا ہے اور جس راستے کی طرف انبیاء و رسل بلاتے ہیں وہ اس کے برعکس ہے۔ پس جب شیطان نے ان کے سامنے ان کے اعمال مزین کر دیے ﴿ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الۡيَوۡمَ ﴾ ’’تو وہ آج ان کا دوست ہے‘‘ دنیا میں ۔ پس وہ اس کی اطاعت کرنے لگے اور انھوں نے اس کو اپنا دوست بنا لیا۔ ﴿ اَفَتَتَّؔخِذُوۡنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗۤ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِيۡ وَهُمۡ لَكُمۡ عَدُوٌّ١ؕ بِئۡسَ لِلظّٰلِمِيۡنَ بَدَلًا﴾(الکھف: 18؍50) ’’کیا تم اسے اور اس کی ذریت کو میرے سوا اپنا دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمھارے دشمن ہیں اور یہ ظالموں کے لیے بہت برا بدل ہے۔‘‘ ﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور (آخرت میں) ان کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘ کیونکہ وہ اللہ رحمان کی دوستی سے منہ موڑ کر شیطان کی دوستی پر راضی ہو گئے۔ بنا بریں وہ رسوا کن عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

16:64–65Page 273

وَمَآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ ٱلَّذِي ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ٦٤

And We have not revealed to you the Book, [O Muḥammad], except for you to make clear to them that wherein they have differed and as guidance and mercy for a people who believe.

وَٱللَّهُ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَحۡيَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَآۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّقَوۡمٖ يَسۡمَعُونَ ٦٥

And Allāh has sent down rain from the sky and given life thereby to the earth after its lifelessness. Indeed in that is a sign for a people who listen.

اور نہیں نازل کی ہم نے آپ پر کتاب (قرآن) مگر تاکہ آپ بیان کریں واسطے ان لوگوں کے وہ چیز کہ اختلاف کیا انھوں نے اس میں اور(تاکہ ہو) ہدایت اوررحمت ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (64)اور اللہ نے نازل کیا آسمان سے پانی ، پھر زندہ کیا اس نے ساتھ اس کے زمین کو بعد اس کی موت کے، بے شک اس میں ، البتہ نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں (غور سے)(65)

[65] اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ سب سے بڑی نعمت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے وعظ و تذکیر کو سمجھیں اور وہ اس حقیقت پر استدلال کریں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے صرف وہی عبادت کا مستحق ہے کیونکہ وہ بارش نازل کر کے اور مختلف اصناف کی نباتات اگا کر بندوں کو نعمتوں سے نوازتا ہے اور اس پر بھی استدلال کریں کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور وہ ہستی جس نے زمین کو اس کے مر جانے کے بعد زندہ کیا، وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قدرت رکھتی ہے اور وہ ہستی جس نے ان احسانات کو عام کیا ہے، وہ بے کراں رحمت اور عظیم سخاوت کی مالک ہے۔

16:66–67Page 274

وَإِنَّ لَكُمۡ فِي ٱلۡأَنۡعَٰمِ لَعِبۡرَةٗۖ نُّسۡقِيكُم مِّمَّا فِي بُطُونِهِۦ مِنۢ بَيۡنِ فَرۡثٖ وَدَمٖ لَّبَنًا خَالِصٗا سَآئِغٗا لِّلشَّٰرِبِينَ ٦٦

And indeed, for you in grazing livestock is a lesson. We give you drink from what is in their bellies - between excretion and blood - pure milk, palatable to drinkers.

وَمِن ثَمَرَٰتِ ٱلنَّخِيلِ وَٱلۡأَعۡنَٰبِ تَتَّخِذُونَ مِنۡهُ سَكَرٗا وَرِزۡقًا حَسَنًاۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ ٦٧

And from the fruits of the palm trees and grapevines you take intoxicant and good provision.1 Indeed in that is a sign for a people who reason.

اور بے شک تمھارے لیے چوپایوں میں ، البتہ غور کا سامان ہے، ہم پلاتے ہیں تمھیں اس میں سے جو پیٹوں میں ہے ان کے (یعنی) درمیان میں سے گوبر اورخون کے، دودھ خالص، آسانی سے گزر جانے والا ہے حلق سے واسطے پینے والوں کے (66) اور کچھ پھلوں میں سے کھجوروں اور انگوروں کے (وہ ہیں کہ) بناتے ہو تم اس میں سے نشہ (آور شراب) اور رزق اچھا، بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں (67)

[66]﴿ وَاِنَّ لَكُمۡ فِي الۡاَنۡعَامِ﴾ ’’اور بے شک تمھارے لیے چوپایوں میں ‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے فوائد کے لیے مسخر کیا ﴿ لَعِبۡرَةً﴾ ’’سوچنے کی جگہ ہے‘‘ جس سے تم اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور وسعت احسان پر استدلال کر سکتے ہو کیونکہ اس نے تمھیں ان مویشیوں کے پیٹ سے (دودھ) پلایا جس کا مادہ گوبر اور خون پر مشتمل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے گوبر اور خون سے ایسا دودھ نکالا جو ہر قسم کی آلائش سے پاک اور اپنی لذت کی بنا پر پینے والوں کے لیے انتہائی خوش ذائقہ ہے، نیز یہ کہ اس کو پیا جاتا ہے اور اس سے غذا حاصل کی جاتی ہے۔ کیا یہ سب کچھ طبیعی امور کی بجائے قدرت الٰہیہ نہیں ہے؟ اس عالم طبیعیات میں کون سی چیز ہے جو اس چارے کو جسے چوپائے کھاتے ہیں اور اس میٹھے یا کھارے پانی کو جسے یہ چوپائے پیتے ہیں ، پینے والوں کے لیے خالص اور لذیذ دودھ میں بدل دیتی ہے۔

[67] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے کھجور اور انگور پیدا کیے، نیز بندوں کے فوائد کے لیے رزق حسن کی مختلف انواع پیدا کی ہیں جن کو وہ تازہ بتازہ اور ان کے پکنے کے بعد کھاتے ہیں ، انھیں ذخیرہ کرتے ہیں ، انھیں کھانے پینے کے لیے استعمال میں لاتے ہیں ، ان سے رس نچوڑ کر نبیذ اور دیگر نشہ آور مشروبات بناتے ہیں جو اس سے قبل ان کے لیے حلال تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمام نشہ آور چیزوں کو حرام قرار دے دیا اور اس کے عوض انھیں پھلوں سے نچوڑے ہوئے پاک و صاف رس، نبیذ اور مختلف اقسام کے لذیذ اور مباح مشروبات عطا کیے۔ اس لیے جن مفسرین کا قول یہ ہے کہ ’’یہاں نشہ آور چیزوں سے مراد، لذیذ مطعومات و مشروبات ہیں ‘‘ وہ پہلے قول سے زیادہ قرین صواب ہے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’جو لوگ عقل رکھتے ہیں ان کے لیے ان (چیزوں ) میں نشانی ہے۔‘‘ یعنی اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو اس کی قدرت کاملہ کو خوب سمجھتے ہیں کیونکہ اس نے درختوں پر ایندھن سے مشابہت رکھنے والی چیزیں پیدا کیں جو ایک لذید پھل اور خوش ذائقہ میوہ بن جاتی ہیں ۔ اس کی رحمت عام اور بے پایاں ہے جو اس کے تمام بندوں پر سایہ کناں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس رحمت کو سب کے لیے آسان کر دیا… نیز وہ اکیلا ہی معبود برحق ہے کیونکہ ان نعمتوں کو عطا کرنے میں وہ یکتا ہے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском