As-Sa'diAl‑Isra · 17:1–22

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

الإسراء

Al-Isra

The Night Journey · Meccan · 111 ayahs

17:1Page 282

سُبۡحَٰنَ ٱلَّذِيٓ أَسۡرَىٰ بِعَبۡدِهِۦ لَيۡلٗا مِّنَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ إِلَى ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡأَقۡصَا ٱلَّذِي بَٰرَكۡنَا حَوۡلَهُۥ لِنُرِيَهُۥ مِنۡ ءَايَٰتِنَآۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ ١

Exalted1 is He who took His Servant [i.e., Prophet Muḥammad (ﷺ)] by night from al-Masjid al-Ḥarām to al-Masjid al-Aqṣā,2 whose surroundings We have blessed, to show him of Our signs. Indeed, He is the Hearing,3 the Seeing.4

پاک ہے وہ (اللہ) جو لے گیا اپنے بندے کو رات کے ایک حصے میں مسجد حرام (بیت اللہ) سے مسجد اقصی (بیت المقدس) تک، وہ جو برکت رکھی تھی ہم نے اس کے اردگردتاکہ ہم دکھائیں اس کو اپنی کچھ نشانیاں بلاشبہ وہی ہے خوب سننے والا ، دیکھنے والا (1)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی ذات مقدس کی تنزیہ و تعظیم بیان کرتا ہے کیونکہ اس کے افعال بہت عظیم اور اس کے احسانات بہت جسیم ہیں ۔ اس کے جملہ افعال و احسانات میں سے ایک یہ ہے ﴿اَسۡرٰؔى بِعَبۡدِهٖ لَيۡلًا ﴾ ’’وہ رات کے ایک حصے میں اپنے بندے کو لے گیا۔‘‘ یعنی وہ اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کو راتوں رات لے گیا ﴿ مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ﴾’’مسجد حرام سے‘‘ جو علی الاطلاق تمام مساجد میں جلیل ترین مسجد ہے۔ ﴿ اِلَى الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا ﴾ ’’مسجد اقصیٰ تک‘‘ جو فضیلت والی مسجدوں میں شمار ہوتی ہے اور وہ انبیاء کرام کی سرزمین ہے۔جناب نبی مجتبیٰﷺ کو ایک ہی رات میں بہت دور مسافت تک لے جایا گیا پھر اسی رات واپس لایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نشانیاں دکھائیں جن سے ہدایت، بصیرت، ثبات اور قوت تفریق و امتیاز میں اضافہ ہوا۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی آپ پر عنایت اور لطف و کرم ہے کہ اس نے تمام امور میں آپ کے لیے بھلائی کو آسان فرما دیا اور آپ کو ایسی ایسی نعمتوں سے نوازا جن کی بنا پر آپ نے تمام اولین و آخرین پر فوقیت حاصل کی۔ آیت کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’اسراء‘‘ کا یہ واقعہ رات کے ابتدائی حصے میں پیش آیا اور سفر مسجد حرام سے شروع ہوا مگر صحیح حدیث میں آتا ہے کہ آپ کو حضرت ام ہانیr کے گھر سے رات کے اس سفر پر لے جایا گیا۔(تفسیر طبری:9؍5) اس سے ظاہر ہوا کہ مسجد حرام کو جو فضیلت حاصل ہے، وہ تمام حرم کے لیے ہے۔ حرم میں عبادات کا ثواب اسی طرح کئی گنا بڑھ جاتا ہے جس طرح مسجد حرام میں عبادت کا ثواب کئی گنا ہو جاتا ہے، نیز یہ ’’اسراء‘‘ (معراج) کا واقعہ آپ کو بیک وقت جسم اور روح کے ساتھ پیش آیا تھا۔ اگر آپ کو معراج جسم اور روح کے ساتھ نہ ہوئی ہوتی تو اس میں ’’آیت کبریٰ‘‘ کا کوئی مفہوم ہے نہ کسی بڑی منقبت کا کوئی پہلو ہے۔(صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب کان النبیﷺ تنام عینہ… الخ، حدیث:3570)معراج کے واقعہ میں نبی اکرمﷺ سے بہت سی صحیح احادیث منقول ہیں ان میں ان تمام امور کی تفاصیل مذکور ہیں جن کا آپ نے مشاہدہ کیا۔ آپ کو بیت المقدس لے جایا گیا وہاں سے آسمانوں پر لے جایا گیا حتیٰ کہ آپ تمام آسمانوں کے اوپر چلے گئے۔ وہاں آپ نے جنت، جہنم اور تمام انبیاء کرام کو ان کے مراتب کے مطابق دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر پچاس نمازیں فرض کیں ، پھر آپ موسیٰu کے مشورے سے بار بار اپنے رب کے حضور حاضر ہوتے رہے حتیٰ کہ وہ بالفعل پانچ ہو گئیں مگر ان کا ثواب، پچاس نمازوں کا ہے۔ اس رات آپ کو اور آپ کی امت کو بہت سے مفاخر عطا كيے گئے جن کی مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ، قرآن مجید کو نازل کرنے کے ذکر کے مقام پر (سورۂ فرقان میں ) اور جہاں قرآن کی بابت چیلنج کیا گیا (سورۂ بقرہ میں ) ،ان تینوں مقامات میں نبیﷺ کی صفت عبودیت (آپ کے بندے ہونے کی خوبی)کو بیان فرمایا، اس لیے کہ رسول اللہﷺ نے یہ مقامات بلند اپنے رب کی عبودیت کی تکمیل کی وجہ ہی سے حاصل كيے ہیں ۔﴿ الَّذِيۡ بٰرَؔكۡنَا حَوۡلَهٗ ﴾ ’’وہ جس کے گرد ہم نے برکت رکھی ہے‘‘ یعنی درختوں ، دریاؤں اور سدا بہار شادابی کے ذریعے سے برکت عطا کی اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی برکت ہی ہے کہ مسجد اقصیٰ کو مسجد حرام اور مسجد نبوی کے سوا دیگر تمام مسجدوں پر فضیلت عطا کی گئی، نیز مسجد اقصیٰ میں عبادت کرنے اور نماز پڑھنے کے لیے دور سے سفر کر کے جانا مطلوب ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کو اپنے نبیوں اور چنے ہوئے بندوں کے رہنے کے لیے مختص فرمایا۔

17:2–8Page 282

وَءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ وَجَعَلۡنَٰهُ هُدٗى لِّبَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ أَلَّا تَتَّخِذُواْ مِن دُونِي وَكِيلٗا ٢

And We gave Moses the Scripture and made it a guidance for the Children of Israel that you not take other than Me as Disposer of affairs,1

ذُرِّيَّةَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوحٍۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَبۡدٗا شَكُورٗا ٣

O descendants of those We carried [in the ship] with Noah. Indeed, he was a grateful servant.

وَقَضَيۡنَآ إِلَىٰ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ فِي ٱلۡكِتَٰبِ لَتُفۡسِدُنَّ فِي ٱلۡأَرۡضِ مَرَّتَيۡنِ وَلَتَعۡلُنَّ عُلُوّٗا كَبِيرٗا ٤

And We conveyed1 to the Children of Israel in the Scripture that, "You will surely cause corruption on the earth twice, and you will surely reach [a degree of] great haughtiness."

فَإِذَا جَآءَ وَعۡدُ أُولَىٰهُمَا بَعَثۡنَا عَلَيۡكُمۡ عِبَادٗا لَّنَآ أُوْلِي بَأۡسٖ شَدِيدٖ فَجَاسُواْ خِلَٰلَ ٱلدِّيَارِۚ وَكَانَ وَعۡدٗا مَّفۡعُولٗا ٥

So when the [time of] promise came for the first of them,1 We sent against you servants of Ours - those of great military might, and they probed [even] into the homes,2 and it was a promise fulfilled.

ثُمَّ رَدَدۡنَا لَكُمُ ٱلۡكَرَّةَ عَلَيۡهِمۡ وَأَمۡدَدۡنَٰكُم بِأَمۡوَٰلٖ وَبَنِينَ وَجَعَلۡنَٰكُمۡ أَكۡثَرَ نَفِيرًا ٦

Then We gave back to you a return victory over them. And We reinforced you with wealth and sons and made you more numerous in manpower.

إِنۡ أَحۡسَنتُمۡ أَحۡسَنتُمۡ لِأَنفُسِكُمۡۖ وَإِنۡ أَسَأۡتُمۡ فَلَهَاۚ فَإِذَا جَآءَ وَعۡدُ ٱلۡأٓخِرَةِ لِيَسُـُٔواْ وُجُوهَكُمۡ وَلِيَدۡخُلُواْ ٱلۡمَسۡجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٖ وَلِيُتَبِّرُواْ مَا عَلَوۡاْ تَتۡبِيرًا ٧

[And said], "If you do good, you do good for yourselves; and if you do evil, [you do it] to them [i.e., yourselves]." Then when the final [i.e., second] promise came, [We sent your enemies] to sadden your faces and to enter the masjid [i.e., the temple in Jerusalem], as they entered it the first time, and to destroy what they had taken over with [total] destruction.

عَسَىٰ رَبُّكُمۡ أَن يَرۡحَمَكُمۡۚ وَإِنۡ عُدتُّمۡ عُدۡنَاۚ وَجَعَلۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكَٰفِرِينَ حَصِيرًا ٨

[Then Allāh said], "It is expected, [if you repent], that your Lord will have mercy upon you. But if you return [to sin], We will return [to punishment]. And We have made Hell, for the disbelievers, a prison-bed."

او ر دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور بنایا ہم نے اسے ہدایت بنی اسرائیل کے لیے، یہ کہ نہ پکڑو تم سوائے میرے (کسی کو بھی) کارساز (2)(اے) اولاد ان لوگوں کی! جنھیں سوار کیا تھا ہم نے (کشتی میں ) ساتھ نوح کے، بے شک وہ تھا بندہ نہایت شکر گزار (3) اور فیصلہ سنا دیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) میں البتہ تم ضرور فساد کرو گے زمین میں دوباراور البتہ تم ضرور سرکشی کرو گے سرکشی بہت بڑی (4) پھر جب آگیا وعدہ پہلا ان دونوں میں سے تو مسلط کردیے ہم نے تم پر بندے اپنے، لڑائی والے نہایت سخت، پس گھس گے و ہ درمیان شہروں کے (قتل و غارت کے لیے) ،اور تھا یہ وعدہ (پورا) کیا ہوا (5) پھر دوبارہ دے دیا ہم نے تمھیں غلبہ ان پراور بڑھایا ہم نے تمھیں ساتھ مالوں اور بیٹوں کےاور کر دیا ہم نے تمھیں زیادہ تعداد میں (6) اگر نیکی (اچھائی) کرو گے تم تو نیکی کرو گے اپنے نفسوں کے لیےاور اگر برائی کرو گے تم تو (وہ بھی) اسی کے لیے ہوگی پھر جب آیا وعدہ دوسرا (تو مسلط کیے ہم نے اور بندے تم پر) تاکہ وہ بگاڑ دیں تمھارے چہرےاور تاکہ وہ داخل ہو جائیں مسجد (اقصیٰ) میں جیسا کہ وہ داخل ہوئے تھے پہلی باراور تاکہ وہ تباہ کر دیں اس چیز کو جس پر غالب آئیں (مکمل) تباہ کرنا (7) قریب ہے تمھارا رب، یہ کہ وہ رحم کرے تم پراور اگر تم دوبارہ (سرکشی) کرو گے تو ہم بھی دوبارہ (سزا) دیں گےاور بنایا ہے ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ (8)

[2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر نبوت محمدی اور نبوت موسوی، قرآن اور تورات اور دونوں کی شریعتوں کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے کیونکہ دونوں کی کتابیں سب سے افضل، دونوں کی شریعتیں سب سے کامل، دونوں کی نبوتیں سب سے اعلیٰ اور دونوں کے پیروکار سب سے زیادہ ہیں ۔ اس لیے یہاں فرمایا:﴿ وَاٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب‘‘ یعنی تورات ﴿ وَجَعَلۡنٰهُ هُدًى لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور کیا اس کو ہدایت واسطے بنی اسرائیل کے‘‘ یعنی بنی اسرائیل جہالت کی تاریکیوں میں علم حق تک پہنچنے کے لیے تورات سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ ہم نے ان سے کہا :﴿ اَلَّا تَتَّؔخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِيۡ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’تم میرے سوا کسی کو کار ساز نہ بنانا‘‘ اور ہم نے اس مقصد کے لیے ان کی طرف کتاب نازل کی تاکہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں، صرف اسی کی طرف رجوع کریں ، اپنے دینی اور دنیاوی امور میں اکیلے اسی کو اپنا کارساز اور مدبر بنائیں ۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مخلوق کے ساتھ الوہیت کاکوئی تعلق نہ رکھیں جو کسی چیز کی مالک نہیں اور نہ وہ انھیں کوئی نفع دے سکتی ہے۔

[3]﴿ ذُرِّيَّةَ مَنۡ حَمَلۡنَا مَعَ نُوۡحٍ﴾ ’’اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی اے ان لوگوں کی اولاد جن پر ہم نے احسان کیا۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ عَبۡدًا شَكُوۡرًا﴾ ’’بلاشبہ وہ شکر گزار بندہ تھا‘‘ اس میں نوحu کی، ان کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور شکر گزاری کی صفت سے موصوف ہونے کی بنا پر مدح و ثنا ہے اور ان کی ذریت کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ شکر کے بارے میں نوحu کی پیروی کریں اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کریں جس سے اس نے انھیں نوازا، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو بچا کر باقی رکھا اور ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو غرق کر دیا۔

[4]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلٰى بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو‘‘ یعنی ہم نے ان کے بارے میں فیصلہ کیا اور انھیں ان کی کتاب میں آگاہ کیا کہ وہ نافرمانیوں ، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری اور زمین میں تکبر اور اقتدار کی بنا پر زمین میں دو بار فساد پھیلانے کا باعث بنیں گے۔ جب ان کی طرف سے ایک فساد واقع ہوا تو ہم نے ان پر دشمنوں کو مسلط کر دیا جو ان سے انتقام لیتے تھے۔ یہ ان کے لیے تحذیر و انذار تھا شاید کہ وہ لوٹ آئیں اور نصیحت پکڑیں ۔

[5]﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ اُوۡلٰىهُمَا ﴾ ’’پس جب پہلے وعدے کا وقت آیا۔‘‘ یعنی جب دو مرتبہ فساد کرنے کے وعدے میں سے پہلے وعدے کا وقت آ گیا یعنی ان سے فساد واقع ہوا ﴿ بَعَثۡنَا عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تو ہم نے تم پر مسلط کردیے۔‘‘ یعنی ہم نے تکوین، تقدیر اور جزا کے طور پر تم پر مسلط کر دیے ﴿ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِيۡ بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’اپنے بندے سخت لڑائی والے‘‘ بہت کثیر تعداد میں بہادر بندے جن کو اللہ نے تم پر فتح و نصرت عطا کی، انھوں نے تمھیں قتل کیا، تمھاری اولاد کو غلام بنایا اور تمھارے مال و متاع کو لوٹا۔ ﴿فَجَاسُوۡا خِلٰلَ الدِّيَارِ﴾ ’’پس وہ شہروں کے اندر پھیل گئے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے گھروں میں گھس گئے اور ان کو تہس نہس کردیا۔ انھوں نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر مسجد کو بردباد کردیا۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدًا مَّفۡعُوۡلًا ﴾ ’’اور وہ وعدہ ہونا ہی تھا‘‘ چونکہ انھوں نے اس وعدے کے پورے ہونے کے تمام اسباب مہیا کر دیے تھے، لہٰذا اس وعدے کا پورا ہونا ضروری تھا۔ اصحاب تفسیر کا مسلط ہونے والی قوم کے تعین کے بارے میں اختلاف ہے البتہ وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ وہ کافر تھی۔ اس قوم کا تعلق یا تو عراق سے تھا یا وہ جزیرۃ العرب سے تھی یا ان کے علاوہ کوئی اور قوم تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بنی اسرائیل پر مسلط کر دیا کیونکہ ان کی نافرمانیاں بڑھ گئی تھیں ، انھوں نے شریعت کے اکثر احکام کو پس پشت ڈال دیا اور انھوں نے زمین میں سرکشی اختیار کر لی تھی۔

[6]﴿ ثُمَّ رَدَدۡنَا لَكُمُ الۡكَرَّةَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’پھر ہم نے پھیر دی تمھاری باری ان پر‘‘ یعنی پھر ہم نے تمھیں اس متغلب کافر قوم پر غلبہ عطا کیا اور تم نے انھیں اپنے شہروں سے نکال باہر کیا ﴿ وَاَمۡدَدۡنٰكُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّبَنِيۡنَ ﴾ ’’اور قوت دی ہم نے تم کو مالوں سے اور بیٹوں سے‘‘ یعنی ہم نے نہایت کثرت سے تمھیں رزق عطا کیا، تمھاری تعداد کو زیادہ کر دیا اور تمھیں ان کے مقابلے میں طاقتور بنا دیا۔ ﴿ وَجَعَلۡنٰكُمۡ اَكۡثَرَ نَفِيۡرًا ﴾ ’’اور تمھاری نفری کو ان کے مقابلے میں بڑھا دیا‘‘ اور اس کا سبب تمھارے نیک کام اور اللہ کے سامنے تمھارا خشوع و خضوع تھا۔

[7]﴿ اِنۡ اَحۡسَنۡتُمۡ اَحۡسَنۡتُمۡ لِاَنۡفُسِكُمۡ﴾ ’’اگر بھلائی کی تم نے تو بھلائی کی اپنے لیے‘‘ یعنی تمھاری نیکی کا فائدہ تمھاری ہی طرف لوٹے گا حتیٰ کہ دنیا میں بھی تمھیں ہی فائدہ ہو گا، جیسا کہ تم نے مشاہدہ کر لیا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں تم فتح یاب ہوئے۔ ﴿ وَاِنۡ اَسَاۡتُمۡ فَلَهَا﴾ ’’اور اگر برائی کی تو اپنے لیے‘‘ یعنی اگر تم برائی کا ارتکاب کرتے ہو تو اس کا نقصان بھی خود تمھاری طرف لوٹے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھاری بداعمالیوں کی پاداش میں تمھارے دشمنوں کو تم پر مسلط کر دیا تھا۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ وَعۡدُ الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’پس جب دوسرے وعدے کا وقت آیا‘‘ جس میں ذکر تھا کہ تم زمین میں فساد برپا کروگے، ہم نے تم پر دشمنوں کو مسلط کر دیا ﴿ لِيَسُوۡٓءٗا وُجُوۡهَكُمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ تمھارے چہروں کو بگاڑ دیں ۔‘‘ یعنی وہ فتح یاب ہو کر تمھیں غلام بنائیں اور چہروں کو بگاڑ دیں ۔ ﴿وَلِيَدۡخُلُوا الۡمَسۡجِدَ كَمَا دَخَلُوۡهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ ’’اور گھس جائیں مسجد میں جیسے گھس گئے تھے وہ پہلی بار‘‘ یہاں مسجد سے مراد بیت المقدس ہے ﴿وَّلِيُتَبِّرُوۡا﴾ ’’اور خراب کر دیں ‘‘ یعنی اجاڑ کر پیوند زمین کر دیں ﴿ مَا عَلَوۡا ﴾ ’’جس جگہ پر وہ غالب آجائیں ۔‘‘ ﴿ تَتۡبِيۡرًا ﴾ ’’پوری طرح خراب کرنا‘‘ پس وہ تمھارے گھروں ، تمھاری عبادت گاہوں اور تمھارے کھیتوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیں ۔

[8]﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمۡ اَنۡ يَّرۡحَمَؔكُمۡ﴾ ’’بعید نہیں کہ تمھارا رب تم پر رحم کرے‘‘ یعنی ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمھیں ان پر فتح و نصرت عطا کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کرتے ہوئے انھیں دوبارہ حکومت عطا کی اور انھیں نافرمانیوں پر وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاِنۡ عُدۡتُّمۡ ﴾ ’’اور اگر تم پھر وہی کرو گے‘‘ یعنی اگر تم زمین میں فساد برپا کرنے کا اعادہ کرو گے ﴿ عُدۡنَا﴾ ’’تو ہم پھر وہی کریں گے‘‘ ہم بھی تمھیں دوبارہ سزا دیں گے۔ پس انھوں نے زمین میں دوبارہ فساد برپا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کو مسلط کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے سے ان سے انتقام لیا۔ یہ تو ہے دنیا کی سزا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں جو آخرت کی سزا ہے وہ اس سے زیادہ بڑی اور رسوا کن ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ حَصِيۡرًا ﴾ ’’اور کیا ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے قید خانہ‘‘ جس میں وہ جھونکے جائیں گے، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے کبھی نہ نکلیں گے۔ ان آیات کریمہ میں اس امت کے لیے تحذیر و تخویف ہے کہ وہ معاصی سے بچیں ایسا نہ ہو کہ ان کو بھی سزا دی جائے جو بنی اسرائیل کو دی گئی تھی۔ سنت الٰہی ایک ہی ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں آتا۔ جو کوئی اس بارے میں غوروفکر کرے کہ کس طرح کفار مسلمانوں پر مسلط ہو ئے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ ان کے گناہوں کی سزا ہے۔ کیونکہ (اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ) جب مسلمان قرآن اور سنت کو نافذ کریں گے تو وہ انھیں زمین کا اقتدار عطا کرے گا اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کرے گا۔

17:9–10Page 283

إِنَّ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانَ يَهۡدِي لِلَّتِي هِيَ أَقۡوَمُ وَيُبَشِّرُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٱلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمۡ أَجۡرٗا كَبِيرٗا ٩

Indeed, this Qur’ān guides to that which is most suitable and gives good tidings to the believers who do righteous deeds that they will have a great reward

وَأَنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ أَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابًا أَلِيمٗا ١٠

And that those who do not believe in the Hereafter - We have prepared for them a painful punishment.

بے شک یہ قرآن ہدایت دیتا ہے اس (راہ) کی جو سب (راہوں ) سے زیادہ سیدھی ہےاورخوشخبری دیتا ہے مومنوں کو، وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں نیک، کہ بے شک ان کے لیے ہے اجر بہت بڑا(9) اور (یہ کہ) بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، تیار کیا ہے ہم نے ان کے لیے عذاب بہت درد ناک(10)

[10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کریم کے شرف اور اس کی جلالت شان کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور یہ کہ وہ ﴿ يَهۡدِيۡ لِلَّتِيۡ هِيَ اَقۡوَمُ﴾ ’’بتلاتا ہے وہ راستہ جو سب سے زیادہ سیدھا ہے‘‘ یعنی عقائد، اعمال اور اخلاق کے بارے میں زیادہ معتدل اور بلند موقف کا حامل ہے، لہٰذا جو کوئی ان امور سے راہنمائی حاصل کرتا ہے جن کی طرف قرآن دعوت دیتا ہے تو وہ تمام امور میں تمام لوگوں سے زیادہ کامل، سب سے زیادہ درست اور سب سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے۔ ﴿وَيُبَشِّرُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور خوش خبری سناتا ہے ایمان والوں کو جو اچھے عمل کرتے ہیں ‘‘ یعنی واجبات و سنن ادا کرتے ہیں ﴿اَنَّ لَهُمۡ اَجۡرًا كَبِيۡرًا﴾ ’’کہ ان کے لیے ہے بڑا ثواب‘‘ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے عزت والے گھر میں تیار کر رکھا ہے جس کے وصف کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿وَّاَنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ اَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا ﴾ ’’اور یہ کہ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے، ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کیا ہے۔‘‘ قرآن کریم تبشیر و انذار پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ اسباب ذکر فرما دیے ہیں جن کی بنا پر بشارت ملتی ہے اور وہ ہیں ایمان اور عمل صالح اور ان اسباب کا بھی ذکر فرمایا ہے جو انذار کا مستحق ٹھہراتے ہیں اور وہ ہیں ایمان اور عمل صالح کے متضاد امور۔

17:11Page 283

وَيَدۡعُ ٱلۡإِنسَٰنُ بِٱلشَّرِّ دُعَآءَهُۥ بِٱلۡخَيۡرِۖ وَكَانَ ٱلۡإِنسَٰنُ عَجُولٗا ١١

And man supplicates for evil [when angry] as he supplicates for good, and man is ever hasty.1

اور دعا مانگتا ہے انسان برائی کی مانند دعا مانگنے اس کے بھلائی کی اور ہے انسان نہایت جلد باز (11)

[11] یہ انسان کی جہالت اور عجلت پسندی ہے کہ وہ غیظ و غضب کے وقت اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے بددعا کرنے میں جلدی کرتا ہے جس طرح اچھی دعا کرنے میں جلدی کرتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ وہ اس کی اچھی دعا کو تو قبول کر لیتا ہے اور بددعا کو قبول نہیں کرتا۔ ﴿ وَلَوۡ يُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسۡتِعۡجَالَهُمۡ۠ بِالۡخَيۡرِ لَقُضِيَ اِلَيۡهِمۡ اَجَلُهُمۡ﴾(یونس : 10؍11) ’’اگر اللہ ان کے ساتھ برا معاملہ کرنے میں اتنی ہی جلدی کرتا جیسے کہ وہ جلدی خیر مانگتے ہیں تو ان کی مدت مقررہ کے خاتمے کا فیصلہ کر دیا جاتا۔‘‘

17:12Page 283

وَجَعَلۡنَا ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ ءَايَتَيۡنِۖ فَمَحَوۡنَآ ءَايَةَ ٱلَّيۡلِ وَجَعَلۡنَآ ءَايَةَ ٱلنَّهَارِ مُبۡصِرَةٗ لِّتَبۡتَغُواْ فَضۡلٗا مِّن رَّبِّكُمۡ وَلِتَعۡلَمُواْ عَدَدَ ٱلسِّنِينَ وَٱلۡحِسَابَۚ وَكُلَّ شَيۡءٖ فَصَّلۡنَٰهُ تَفۡصِيلٗا ١٢

And We have made the night and day two signs, and We erased the sign of the night and made the sign of the day visible1 that you may seek bounty from your Lord and may know the number of years and the account [of time]. And everything We have set out in detail.

اور بنایا ہم نے رات کو اوردن کو دو نشانیاں پھر مٹا دی ہم نے نشانی رات کی اور بنا دی ہم نے نشانی دن کی دکھلانے والی (ہر چیز کو) تاکہ تم تلاش کرو فضل (رزق) اپنے رب کااور تاکہ تم جان لو گنتی سالوں کی اور حساب، اور ہر چیز، خوب بیان کیا ہے ہم نے اس کو تفصیل کے ساتھ (12)

[12]﴿ وَجَعَلۡنَا الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ اٰيَتَيۡنِ ﴾ ’’اور ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا۔‘‘ یعنی یہ دن رات اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور بے پایاں رحمت پر دلالت کرتے ہیں ، نیز یہ کہ صرف وہی عبادت کے لائق ہے۔ ﴿ فَمَحَوۡنَاۤ اٰيَةَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پھر مٹا دیا ہم نے رات کی نشانی کو‘‘ یعنی ہم نے رات کو تاریک بنایا تاکہ لوگ اس میں سکون اور راحت حاصل کریں ﴿ وَجَعَلۡنَاۤ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبۡصِرَةً ﴾ ’’اور بنایا دن کی نشانی کو دکھلانے والی‘‘ یعنی روشن ﴿ لِّتَبۡتَغُوۡا فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّكُمۡ﴾ ’’تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔‘‘ اپنی معاش، اپنی صنعت و حرفت، اپنی تجارت اور اپنے سفر میں اللہ کا فضل تلاش کرو۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمُوۡا ﴾ ’’اور تاکہ تم جان لو‘‘ رات اور دن کے پے درپے آنے جانے اور چاند کے گھٹنے بڑھنے سے ﴿ عَدَدَ السِّنِيۡنَ وَالۡحِسَابَ﴾ ’’برسوں کا شمار اور حساب‘‘ پس تم جیسے چاہتے ہو دنوں کے اس حساب و کتاب پر اپنے مصالح کی بنیاد رکھتے ہو۔ ﴿ وَؔكُلَّ شَيۡءٍ فَصَّلۡنٰهُ تَفۡصِيۡلًا ﴾ ’’اور ہر چیز کو ہم نے کھول کر بیان کر دیا ہے‘‘ یعنی ہم نے آیات کو واضح کر کے ان کو مختلف طریقوں سے بیان کیا ہے تاکہ چیزیں ایک دوسرے سے ممتاز ہوں اور باطل میں سے حق نمایاں اور واضح ہو جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ مَا فَرَّطۡنَا فِي الۡكِتٰبِ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾(الانعام : 6؍38) ’’ہم نے نوشتۂ تقدیر میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔‘‘

17:13–14Page 283

وَكُلَّ إِنسَٰنٍ أَلۡزَمۡنَٰهُ طَٰٓئِرَهُۥ فِي عُنُقِهِۦۖ وَنُخۡرِجُ لَهُۥ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ كِتَٰبٗا يَلۡقَىٰهُ مَنشُورًا ١٣

And [for] every person We have imposed his fate upon his neck,1 and We will produce for him on the Day of Resurrection a record which he will encounter spread open.

ٱقۡرَأۡ كِتَٰبَكَ كَفَىٰ بِنَفۡسِكَ ٱلۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيبٗا ١٤

[It will be said], "Read your record. Sufficient is yourself against you this Day as accountant."

اور ہر انسان، لازم کر دیا ہم نے اس کے لیے عمل اس کا اس کی گردن میں اور ہم نکالیں گے اس کے لیے دن قیامت کے ایک کتاب، وہ دیکھے گا اسے کھلی ہوئی (13)(اسے کہا جائے گا) پڑھ لے اپنا اعمال نامہ، کافی ہے تیرا نفس ہی آج تجھ پر حساب لینے والا (14)

[14,13] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے عدل کامل کے بارے میں خبر ہے، نیز یہ کہ ہر انسان کا اعمال نامہ اس کے گلے میں لٹکا ہوا ہے، یعنی بندہ جو اچھا یا برا کام سرانجام دیتا ہے وہ اسی کے ساتھ لازم ہوتا ہے وہ کسی دوسرے کی طرف متعدی نہیں ہوتا اور کسی دوسرے کے عمل کا حساب اس سے لیا جائے گا نہ اس کا حساب کسی اور سے لیا جائے گا۔ ﴿ وَنُخۡرِجُ لَهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلۡقٰىهُ مَنۡشُوۡرًا ﴾ ’’اور نکال دکھائیں گے ہم اس کو قیامت کے دن ایک کتاب، وہ دیکھے گا اس کو کھلی ہوئی‘‘ اس کتاب میں اس کے تمام اچھے اور برے، چھوٹے اور بڑے تمام اعمال موجود ہوں گے اس سے کہا جائے گا:﴿ اِقۡرَاۡ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفۡسِكَ الۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيۡبًا﴾ ’’پڑھ لے اپنی کتاب تو ہی کافی ہے آج کے دن اپنا حساب لینے والا‘‘ یہ سب سے بڑا عدل و انصاف ہے کہ بندے سے کہا جائے کہ وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے تاکہ معلوم ہو جائے کہ اس کے ذمہ کون کون سے حقوق ہیں جو سزا کے موجب ہیں ۔

17:15Page 283

مَّنِ ٱهۡتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهۡتَدِي لِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَاۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٞ وِزۡرَ أُخۡرَىٰۗ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبۡعَثَ رَسُولٗا ١٥

Whoever is guided is only guided for [the benefit of] his soul. And whoever errs only errs against it. And no bearer of burdens will bear the burden of another. And never would We punish until We sent a messenger.

جس شخص نے ہدایت پائی تو یقینا وہ ہدایت پاتا ہے اپنے نفس ہی کے (فائدے کے) لیےاورجو کوئی گمراہ ہوا تو یقینا وہ گمراہ ہوتا ہے اپنے نفس ہی پراور نہیں بوجھ اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا، بوجھ کسی دوسرے کااور نہیں ہیں ہم عذاب دینے والے، جب تک کہ (نہ) بھیجیں ہم کوئی رسول (15)

[15] یعنی ہر نفس کی ہدایت اور گمراہی خود اس کے لیے ہے کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور نہ ذرہ بھر تکلیف اس سے دور ہٹا سکے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سب سے بڑا عادل ہے وہ اس وقت تک کسی کو عذاب نہیں دے گا جب تک کہ اس پر رسالت کی حجت قائم نہ ہو جائے اور یہ ثابت نہ ہو جائے کہ اس نے اس حجت کے ساتھ عناد کا مظاہرہ کیا۔ رہا وہ شخص جس نے رسالت کی اس حجت کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا یا اس کے پاس حجت پہنچی ہی نہیں تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو عذاب نہیں دے گا۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل فترت (یعنی اس زمانے یا علاقے کے لوگ جن تک نبوت نہیں پہنچی) اور مشرکین کے بچوں کو عذاب نہیں دے گا جب تک کہ ان کی طرف رسول نہ بھیج لے کیونکہ وہ ظلم سے پاک اور منزہ ہے۔

17:16–17Page 283

وَإِذَآ أَرَدۡنَآ أَن نُّهۡلِكَ قَرۡيَةً أَمَرۡنَا مُتۡرَفِيهَا فَفَسَقُواْ فِيهَا فَحَقَّ عَلَيۡهَا ٱلۡقَوۡلُ فَدَمَّرۡنَٰهَا تَدۡمِيرٗا ١٦

And when We intend to destroy a city, We command its affluent1 but they defiantly disobey therein; so the word [i.e., deserved decree] comes into effect upon it, and We destroy it with [complete] destruction.

وَكَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِنَ ٱلۡقُرُونِ مِنۢ بَعۡدِ نُوحٖۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ بِذُنُوبِ عِبَادِهِۦ خَبِيرَۢا بَصِيرٗا ١٧

And how many have We destroyed from the generations after Noah. And sufficient is your Lord, concerning the sins of His servants, as Aware and Seeing.

اور جب چاہتے ہیں ہم یہ کہ ہلاک کریں کسی بستی کو تو حکم دیتے ہیں ہم اس کے خوش حال لوگوں کو تو وہ نافرمانی کرتے ہیں اس میں پھر ثابت ہو جاتی ہے اس (بستی) پر بات (عذاب کی)، پس تباہ کر دیتے ہیں ہم اسے (مکمل) برباد کرنا (16) اور کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے قومیں بعد نوح کےاور کافی ہے آپ کا رب، اپنے بندوں کے گناہوں کی خوب خبر رکھنے والا خوب دیکھنے والا (17)

[16] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جب کبھی وہ کسی ظالم بستی کو ہلاک کرنا اور عذاب کے ذریعے سے اس کا استیصال کرنا چاہتا ہے تو وہ اس میں رہنے والے خوشحال لوگوں کو حکم دیتا ہے… یعنی کونی و قدری حکم… وہ اس میں نافرمانیاں کرتے ہیں اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے۔ ﴿ فَحَقَّ عَلَيۡهَا الۡقَوۡلُ ﴾ ’’تب ثابت ہو جاتی ہے ان پر بات‘‘ یعنی کلمۂ عذاب، جسے کوئی نہیں ٹال سکتا ﴿ فَدَمَّرۡنٰهَا تَدۡمِيۡرًا ﴾ ’’پس اس بستی کو ہم ہلاک کر کے رکھ دیتے ہیں ۔‘‘

[17] نوحu کی قوم کے بعد بہت سی قوموں کو اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا، مثلاً:عاد، ثمود اور قوم لوط وغیرہ۔ یہ وہ قومیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے سزا دی کیونکہ جب ان کی بغاوت بہت زیادہ ہو گئی اور ان کا کفر بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا بڑا عذاب نازل کر دیا۔ ﴿وَؔكَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوۡبِ عِبَادِهٖ خَبِيۡرًۢا بَصِيۡرًا ﴾ ’’اور کافی ہے آپ کا رب اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے والا دیکھنے والا۔‘‘ پس بندوں کو اس کی طرف سے کسی ظلم کا خوف نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو صرف ان کے اپنے اعمال کی سزا دیتا ہے۔

17:18–21Page 284

مَّن كَانَ يُرِيدُ ٱلۡعَاجِلَةَ عَجَّلۡنَا لَهُۥ فِيهَا مَا نَشَآءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلۡنَا لَهُۥ جَهَنَّمَ يَصۡلَىٰهَا مَذۡمُومٗا مَّدۡحُورٗا ١٨

Whoever should desire the immediate1 - We hasten for him from it what We will to whom We intend. Then We have made for him Hell, which he will [enter to] burn, censured and banished.

وَمَنۡ أَرَادَ ٱلۡأٓخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعۡيَهَا وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَأُوْلَٰٓئِكَ كَانَ سَعۡيُهُم مَّشۡكُورٗا ١٩

But whoever desires the Hereafter and exerts the effort due to it while he is a believer - it is those whose effort is ever appreciated [by Allāh].

كُلّٗا نُّمِدُّ هَٰٓؤُلَآءِ وَهَٰٓؤُلَآءِ مِنۡ عَطَآءِ رَبِّكَۚ وَمَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحۡظُورًا ٢٠

To each [category] We extend - to these and to those - from the gift of your Lord. And never has the gift of your Lord been restricted.

ٱنظُرۡ كَيۡفَ فَضَّلۡنَا بَعۡضَهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۚ وَلَلۡأٓخِرَةُ أَكۡبَرُ دَرَجَٰتٖ وَأَكۡبَرُ تَفۡضِيلٗا ٢١

Look how We have favored [in provision] some of them over others. But the Hereafter is greater in degrees [of difference] and greater in distinction.

جو چاہتا ہے جلدی والی (دنیا) تو جلدی دے دیتے ہیں ہم اس کو، اس (دنیا) میں جو ہم چاہتے ہیں ، جس کے لیے ہم چاہتے ہیں ، پھر ٹھہرا دیتے ہیں ہم اس کے لیے جہنم، وہ داخل ہوگا اس میں ملامت زدہ، دھتکارا ہوا (18) اور جو کوئی چاہتا ہے آخرت اورکوشش کرتا ہے اس کے لیے، اس کے لائق کوشش، جبکہ وہ مومن بھی ہے، تو یہی لوگ ہیں کہ ہے کوشش ان کی قابل قدر (19) ہر ایک کو، ہم نوازتے ہیں ، ان کو بھی اور ان کو بھی عطیے سے آپ کے رب کےاور نہیں ہے عطیہ آپ کے رب کا روکا ہوا (کسی سے بھی)(20) دیکھیے! کس طرح فضیلت دی ہے ہم نے ان کے بعض کو اوپر بعض کے؟ اور البتہ آخرت تو بڑھ کر ہے درجوں میں اور بڑھ کر ہے باعتبار فضیلت کے (21)

[18] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے۔ ﴿ مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡعَاجِلَةَ ﴾ ’’جو شخص دنیا کا خواہش مند ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی ختم اور زائل ہو جانے والی دنیا چاہتا ہے وہ اس کے لیے عمل اور کوشش کرتا ہے، اس کی ابتدا یا انتہا کو فراموش کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ جلدی سے دنیا کے وہ ٹکڑے اور اس کا مال و متاع اسے عطا کر دیتا ہے، جسے وہ چاہتا تھا اور اس کا ارادہ رکھتا تھا، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لوح محفوظ میں لکھ دیا تھا۔ مگر یہ متاع دنیا فائدہ دینے والی ہے نہ ہمیشہ رہنے والی ہے، پھر آخرت میں اس کے لیے ﴿جَهَنَّمَ١ۚ يَصۡلٰىهَا ﴾ ’’جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوگا‘‘ یعنی اس کے عذاب میں ڈالا جائے گا۔ ﴿ مَذۡمُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا﴾ ’’مذموم اور راندہ ہوکر۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کی طرف سے مذمت، رسوائی اور فضیحت کی حالت میں ہو گا، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بہت دور ہو گا، اس کے لیے رسوائی اور عذاب کو جمع کر دیا جائے گا۔

[19]﴿ وَمَنۡ اَرَادَ الۡاٰخِرَةَ ﴾ ’’جو آخرت چاہتا ہے‘‘ اس پر راضی ہے اور اسے دنیا کے مال و متاع پر ترجیح دیتا ہے ﴿ وَسَعٰى لَهَا سَعۡيَهَا ﴾ ’’اور اس کے لیے اتنی کوشش کرتا ہے جتنی اسے لائق ہے۔‘‘ یعنی جس کی طرف تمام کتب سماوی اور آثار نبوت نے دعوت دی ہے اور امکان بھر اس کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ ﴿ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ ﴾ ’’اور وہ مومن بھی ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ كَانَ سَعۡيُهُمۡ مَّشۡكُوۡرًا﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش مقبول ہے۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں نشوونما پا کر جمع ہوتی رہے گی۔ ان کا اجروثواب ان کے رب کے پاس ہو گا۔

[20] اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا کے حصے سے بھی محروم نہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو سامان زیست عطا کرتا ہے کیونکہ یہ اس کی عطا اور اس کا فضل و احسان ہے ﴿وَمَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحۡظُوۡرًا ﴾ ’’اور تیرے رب کی عطا و بخشش رکی ہوئی نہیں۔‘‘ یعنی اللہ کی عطا کسی کے لیے ممنوع نہیں بلکہ تمام مخلوق اس کے فضل و کرم سے بہرہ ور ہو رہی ہے۔

[21]﴿ اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ فَضَّلۡنَا بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’دیکھو، کیسے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی‘‘ یعنی کیسے ہم نے ان کو دنیا میں رزق کی کشادگی اور کمی، آسانی اور تنگی، علم اور جہالت، عقل اور سفاہت وغیرہ امور میں ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے۔ ﴿ وَلَلۡاٰخِرَةُ اَ كۡبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَ كۡبَرُ تَفۡضِيۡلًا﴾ ’’اور آخرت کے گھر میں تو اور بڑے درجے ہیں اور بڑی فضیلت‘‘ دنیا کی لذتوں اور نعمتوں کو آخرت سے کسی لحاظ سے کوئی نسبت ہی نہیں ۔ کتنے ہی لوگ بلند و بالا محلوں ، مختلف انواع کی لذتوں ، فرحتوں ، خوبصورت چیزوں سے حظ اٹھاتے ہوں گے اور دوسری طرف وہ لوگ ہوں گے جن کو جہنم میں جھونک دیا گیا ہوگا، وہاں وہ دردناک عذاب سے دوچار ہوں گے اور رب رحیم کی سخت ناراضی ان پر نازل ہوگی اور دنیا و آخرت کے لوگوں میں اس قدر تفاوت ہے کہ کسی کے لیے اس کا شمار کرنا ممکن نہیں ہے۔

17:22Page 284

لَّا تَجۡعَلۡ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ فَتَقۡعُدَ مَذۡمُومٗا مَّخۡذُولٗا ٢٢

Do not make [as equal] with Allāh another deity and [thereby] become censured and forsaken.

نہ ٹھہرائیں آپ ساتھ اللہ کے معبود دوسرا، پھربیٹھ رہیں گے آپ ملامت زدہ، بے یارومددگار (22)

[22] یعنی یہ اعتقاد نہ رکھ کہ مخلوق میں سے کوئی ہستی کسی قسم کی عبادت کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا کیونکہ شرک مذمت اور خذلان کو دعوت دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں نے شرک سے روکا ہے اور مشرک کی سخت مذمت کی ہے اور اسے اس شرک کی بنا پر انتہائی مذموم ناموں سے موسوم اور قبیح اوصاف سے موصوف کیا ہے۔ جو اس شرک کا مرتکب ہے، وہ بدترین اوصاف اور قبیح ترین صفات سے متصف ہے۔ وہ جتنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو ترک کرتا ہے، اس کے مطابق اللہ تعالیٰ اس کے دینی اور دنیاوی معاملات میں اسے اپنے حال پر چھوڑ کر اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔ پس جو کوئی اس کے سوا کسی اور سے تعلق قائم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے اور اس کو اسی کے سپرد کر دیتا ہے جس کے ساتھ وہ تعلق جوڑتا ہے اور مخلوق میں کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور ہستی کو معبود بنا لیتا ہے وہ مذمت و خذلان کا مستحق ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کو ایک گردانتا ہے، اس کے لیے اپنے دین کو خالص کرتا ہے اور دوسروں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق جوڑتا ہے وہ قابل ستائش ہے اور اس کے تمام احوال میں اس کی دست گیری کی جاتی ہے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском