As-Sa'diAl‑Isra · 17:78–100

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Al-Isra 17:78–100

17:78–81Page 290

أَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ لِدُلُوكِ ٱلشَّمۡسِ إِلَىٰ غَسَقِ ٱلَّيۡلِ وَقُرۡءَانَ ٱلۡفَجۡرِۖ إِنَّ قُرۡءَانَ ٱلۡفَجۡرِ كَانَ مَشۡهُودٗا ٧٨

Establish prayer at the decline of the sun [from its meridian] until the darkness of the night1 and [also] the Qur’ān [i.e., recitation] of dawn.2 Indeed, the recitation of dawn is ever witnessed.

وَمِنَ ٱلَّيۡلِ فَتَهَجَّدۡ بِهِۦ نَافِلَةٗ لَّكَ عَسَىٰٓ أَن يَبۡعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامٗا مَّحۡمُودٗا ٧٩

And from [part of] the night, pray1 with it [i.e., recitation of the Qur’ān] as additional [worship] for you; it is expected that2 your Lord will resurrect you to a praised station.3

وَقُل رَّبِّ أَدۡخِلۡنِي مُدۡخَلَ صِدۡقٖ وَأَخۡرِجۡنِي مُخۡرَجَ صِدۡقٖ وَٱجۡعَل لِّي مِن لَّدُنكَ سُلۡطَٰنٗا نَّصِيرٗا ٨٠

And say, "My Lord, cause me to enter a sound entrance1 and to exit a sound exit2 and grant me from Yourself a supporting authority."

وَقُلۡ جَآءَ ٱلۡحَقُّ وَزَهَقَ ٱلۡبَٰطِلُۚ إِنَّ ٱلۡبَٰطِلَ كَانَ زَهُوقٗا ٨١

And say, "Truth has come, and falsehood has departed. Indeed is falsehood, [by nature], ever bound to depart."

قائم کیجیے نماز وقت ڈھلنے سورج کے، رات کے اندھیرے تک اور نمازِ صبح بھی، بے شک نمازِ صبح ہے (وقت فرشتوں کے) حاضر ہونے کا (78) اور کچھ حصہ رات سے بھی، پس تہجد پڑھیں آپ ساتھ اس (قرآن کے، یہ) زائد ہے آپ کے لیے، قریب ہے کہ کھڑا کرے آپ کو آپ کا رب، مقام محمود میں (79) اور کہیے اے میرے رب! داخل کر مجھے داخل کرنا سچا اور نکال مجھے نکالنا سچااور کرمیرے لیے اپنی طرف سے غلبہ مدد دینے والا (80) اور آپ کہہ دیجیے! آگیا حق اور مٹ گیا باطل، بلاشبہ باطل ہے ہی مٹنے والا (81)

[78] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ نماز کو ظاہری اور باطنی طور پر اس کے اوقات میں مکمل طور پر قائم کریں ﴿ لِدُلُوۡكِ الشَّمۡسِ ﴾ ’’سورج ڈھلنے سے‘‘ یعنی زوال کے بعد سورج کے مغربی افق کی طرف مائل ہو جانے سے لے کر، اس میں ظہر اور عصر کی نمازیں داخل ہیں ﴿ اِلٰى غَسَقِ الَّيۡلِ﴾ ’’رات کے اندھیرے تک‘‘ یعنی رات کی تاریکی میں اور اس میں مغرب اور عشاء کی نمازیں داخل ہیں ۔ ﴿ وَقُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ﴾ ’’اور فجر کا قرآن پڑھنا‘‘ یعنی فجر کی نماز اور اسے ’’قرآن‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ اس میں قراء ت قرآن کی طوالت مشروع ہے۔ یہ قراء ت دوسری نمازوں کی قراء ت سے زیادہ لمبی ہوتی ہے نیز فجر کی نماز میں قراء ت کی فضیلت ہے کیونکہ اس میں رات اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں فرض نمازوں کے اوقات پنجگانہ کا ذکر ہے ان اوقات میں پڑھی جانے والی نمازیں فرض ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ا ن کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ آیت کریمہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وقت، صحت نماز کے لیے شرط ہے اور دخول وقت، نماز کے واجب ہونے کا سبب ہے کیونکہ اس نے ان اوقات میں نماز کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے، نیز آیت سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کو کسی عذر کی بناء پر جمع کیا جا سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر دو نمازوں کے اوقات کو اکٹھا بیان کیا ہے۔ اس سے نماز فجر کی فضیلت ثابت ہوتی ہے نیز اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نماز فجر میں لمبی قراء ت کی فضیلت ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ قراء ت نماز کا رکن ہے کیونکہ جب عبادت کے کسی جز کو اس عبادت کے نام سے موسوم کر دیا جائے تو وہ اس جز کی فرضیت پر دلالت کرتا ہے۔

[79]﴿ وَمِنَ الَّيۡلِ فَتَهَجَّدۡ بِهٖ ﴾ ’’اور رات کے ایک حصے میں آپ اس قرآن کے ساتھ جاگیے‘‘ یعنی اس کے تمام اوقات میں نماز پڑھیے ﴿ نَافِلَةً لَّكَ﴾ ’’آپ کے لیے زیادت ہے۔‘‘ یعنی تاکہ رات کی یہ نماز آپ کے لیے زیادہ ثواب، بلند مراتب اور بلند درجات کی باعث ہو، بخلاف دیگر اہل ایمان کے، کہ ان کے لیے یہ نماز ان کی برائیوں کا کفارہ ہے۔ اس میں اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ پانچ نمازیں آپ پر اور تمام اہل ایمان پر فرض ہیں اور تہجد کی نماز خصوصی طور پر آپ پر فرض ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تکریم بخشی کہ آپ کا وظیفۂ عبادت دوسرے مومنوں سے زیادہ مقرر فرمایا تاکہ وہ آپ کی عظمت شان کو سمجھیں اور آپ اس کے ذریعے سے مقام محمود پر فائز ہوں ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اولین و آخرین آپ کی ستائش کریں گے۔ یہ شفاعت عظمیٰ کا مقام ہے جب تمام خلائق حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور آخر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس شفاعت کروانے کے لیے جائیں گے تو یہ تمام رسول شفاعت کرنے سے معذرت کریں گے اور پیچھے ہٹ جائیں گے تب لوگ بنی آدم کے سردار حضرت رسول اکرمﷺ سے شفاعت کرنے کی درخواست کریں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرتے ہوئے اس مقام کی ہولناکیوں سے ان کو نجات دے۔ نبی مصطفیﷺ اپنے رب کے پاس شفاعت کریں گے، اللہ تعالیٰ آپ کی شفاعت قبول فرمائے گا اور آپ کو ایسے مقام پر فائز کرے گا کہ اولین و آخرین آپ پر رشک کریں گے اور یوں تمام مخلوق آپ کی احسان مند ہوگی۔

[80]﴿ وَقُلۡ رَّبِّ اَدۡخِلۡنِيۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّاَخۡرِجۡنِيۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اے میرے رب داخل کر مجھ کو سچا داخل کرنا اور نکال مجھ کو سچا نکالنا‘‘ یعنی میرا داخل ہونا اور میرا باہر نکلنا تیری اطاعت میں اور تیری رضا کے مطابق ہو تاکہ داخل ہونا اور باہر نکلنا اخلاص کو متضمن اور امر کے موافق ہو ﴿وَّاجۡعَلۡ لِّيۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ سُلۡطٰنًا نَّصِيۡرًا ﴾ ’’اور کر دے میرے لیے اپنی طرف سے مدد کرنے والی دلیل‘‘ یعنی مجھے اپنی طرف سے ان تمام امور پر حجت ظاہرہ اور برہان قاطع عطا کر، جن کو میں اختیار کروں اور جن کو میں ترک کروں ۔ یہ بندے کا بلند ترین حال ہے جس پر اللہ تعالیٰ اسے فائز کرتا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ بندے کے تمام احوال بہترین احوال ہوں جو اسے اپنے رب کے قریب کریں اور بندے کے پاس اس کے ہر حال پر ایک ظاہری دلیل ہو اور یہ چیز علم نافع، عمل صالح اور مسائل و دلائل کے علم کو متضمن ہے۔

[81]﴿ وَقُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَزَهَقَ الۡبَاطِلُ﴾ ’’اور کہہ دیجیے! حق آ گیا اور باطل نکل بھاگا۔‘‘ حق وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ کی طرف نازل فرمایا اور آپ کو حکم دیا کہ وہ اپنے قول سے اس کا اعلان کر دیں کہ حق آ گیا ہے اس کے مقابلے میں کوئی چیز کھڑی نہیں رہ سکتی اور باطل چلا گیا، یعنی مضمحل ہو کر معدوم ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ الۡبَاطِلَ كَانَ زَهُوۡقًا ﴾ ’’بے شک باطل ہے نکل بھاگنے والا‘‘ یعنی یہ باطل کا وصف ہے مگر کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر باطل کے مقابلے میں حق موجود نہ ہو تو باطل عروج پاکر مروج ہو جاتا ہے تاہم جب حق آجاتا ہے تو باطل مضمحل ہو جاتا ہے اور اس میں کوئی حرکت باقی نہیں رہتی، اسی لیے باطل صرف انھی زمانوں اور انھی علاقوں میں رواج پاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کی بینات کے علم سے خالی ہوتے ہیں ۔

17:82Page 290

وَنُنَزِّلُ مِنَ ٱلۡقُرۡءَانِ مَا هُوَ شِفَآءٞ وَرَحۡمَةٞ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ ٱلظَّٰلِمِينَ إِلَّا خَسَارٗا ٨٢

And We send down of the Qur’ān that which is healing and mercy for the believers, but it does not increase the wrongdoers except in loss.

اور ہم نازل کرتے ہیں قرآن کہ وہ شفاء اور رحمت ہے مومنوں کے لیےاور نہیں زیادہ کرتا وہ ظالموں کو مگر خسارے ہی میں (82)

[82]﴿ وَنُنَزِّلُ مِنَ الۡقُرۡاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّرَحۡمَةٌ لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ١ۙ وَلَا يَزِيۡدُ الظّٰلِمِيۡنَ اِلَّا خَسَارًؔا﴾ ’’اور اتارتے ہیں ہم قرآن میں سے جس میں شفا ہے اور مومنوں کے لیے رحمت اور گناہ گاروں کا تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے‘‘ یعنی قرآن کریم شفا اور رحمت پر مشتمل ہے اور یہ شفا اور رحمت ہر ایک کے لیے نہیں ہے بلکہ صرف اہل ایمان کے لیے ہے جو اس کی آیات کی تصدیق کر کے اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ رہے ظالم جو اس کی تصدیق نہیں کرتے یا اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے تو اس کی آیات ان کے خسارے ہی میں اضافہ کرتی ہیں کیونکہ ان پر حجت قائم ہو جاتی ہے۔ پس وہ شفا جس کو قرآن متضمن ہے وہ قلوب کے لیے شفائے عام ہے اور قلوب کو شبہات، جہالت، آراء فاسدہ، انحراف مذموم اور گھٹیا مقاصد جیسے امراض کو دور کرتی ہے کیونکہ قرآن علم یقینی پر مشتمل ہے جو ہر قسم کی جہالت اور تمام شبہات کو زائل کر دیتا ہے۔ قرآن وعظ و تذکیر پر مشتمل ہے جو ہر شہوت کو ختم کر دیتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت ہو۔ قرآن ابدان کے آلام و امراض سے شفا کو متضمن ہے۔رہی رحمت تو قرآن کے اندر ایسے اسباب اور وسائل ذکر كيے گئے ہیں جن کو اختیار کرنے کی قرآن ترغیب دیتا ہے۔ جب بندہ ان کو اختیار کر لیتا ہے تو بے پایاں رحمت، ابدی سعادت، دنیاوی اور اخروی ثواب سے بہرہ ور ہوتا ہے۔

17:83Page 290

وَإِذَآ أَنۡعَمۡنَا عَلَى ٱلۡإِنسَٰنِ أَعۡرَضَ وَنَـَٔا بِجَانِبِهِۦ وَإِذَا مَسَّهُ ٱلشَّرُّ كَانَ يَـُٔوسٗا ٨٣

And when We bestow favor upon man [i.e., the disbeliever], he turns away and distances himself; and when evil touches him, he is ever despairing.

اور جب انعام کرتے ہیں ہم اوپر انسان کے تو وہ اعراض کرتا ہے اوردور کر لیتا ہے وہ پہلو اپنا اور جب پہنچتی ہے اسے تکلیف تو ہو جاتا ہے وہ ناامید (83)

[83] انسان جہاں بھی ہے یہ اس کی فطرت ہے، سوائے اس کے جس کی اللہ راہنمائی فرمائے، کہ جب انسان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں عطا ہوتی ہیں تو وہ ان نعمتوں پر بہت خوش ہوتا ہے، ان پر اتراتا ہے، حق سے روگردانی کرتا ہے، اینٹھتا ہے اور اپنے رب سے منہ موڑ لیتا ہے، وہ اس کا شکر ادا کرتا ہے نہ اس کو یاد کرتا ہے۔ ﴿ وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ ﴾ ’’اور جب اس کو برائی پہنچتی ہے‘‘مثلاً: بیماری وغیرہ ﴿ كَانَ يَـــُٔوۡسًا ﴾ ’’تو مایوس ہوجاتا ہے۔‘‘ یعنی بھلائی سے بالکل مایوس ہو جاتا ہے، رب سے اپنی امید منقطع کر لیتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ جس حالت میں ہے ہمیشہ اسی میں رہے گا۔ اور وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ ہدایت سے نواز دیتا ہے وہ نعمتیں میسر ہونے پر اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کے ساتھ جھک جاتا ہے اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتا ہے اور جب وہ سختی اور مصیبت سے دوچار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتا ہے، اللہ تعالیٰ سے عافیت اور اس مصیبت کے دور ہونے کی امید رکھتا ہے اور اس سے اس کی مصیبت ہلکی ہو جاتی ہے۔

17:84Page 290

قُلۡ كُلّٞ يَعۡمَلُ عَلَىٰ شَاكِلَتِهِۦ فَرَبُّكُمۡ أَعۡلَمُ بِمَنۡ هُوَ أَهۡدَىٰ سَبِيلٗا ٨٤

Say, "Each works according to his manner, but your Lord is most knowing of who is best guided in way."

کہہ دیجیے! ہر شخص عمل کرتا ہے اوپر اپنے طریقے کے، پس تمھارا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو ہے زیادہ سیدھے راستے پر(84)

[84]﴿ قُلۡ كُلٌّ ﴾ ’’کہہ دیجیے ہر ایک‘‘ یعنی لوگوں میں سے۔ ﴿ يَّعۡمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ﴾ ’’کام کرتا ہے اپنے ڈھنگ پر‘‘ یعنی اس طریقے پر جو اس کے احوال کے لائق ہوتا ہے۔ اگر وہ نیک بندوں میں سے ہیں تو ان کا طریقہ صرف یہ ہے کہ ان کا عمل رب کائنات کی رضا کی خاطر ہوتا ہے اور اگر وہ نیک اور ابرار لوگوں کی بجائے ان لوگوں میں سے ہوں جن کو اللہ تعالیٰ ان کے حال پر چھوڑ کر ان سے الگ ہو گیا ہو تو ان کے لیے صرف وہی عمل مناسب ہوتا ہے جو اس نے مخلوق کو خوش کرنے کے لیے کیا ہو اور ان کے موافق صرف وہی عمل ہوتا ہے جو ان کی اغراض کے موافق ہو۔ ﴿ فَرَبُّكُمۡ اَعۡلَمُ بِمَنۡ هُوَ اَهۡدٰؔى سَبِيۡلًا﴾ ’’پس تمھارا رب اس شخص سے خوب واقف ہے جو سب سے زیادہ سیدھے راستے پر ہے۔‘‘ یعنی وہ خوب جانتا ہے کہ کون ہے جو ہدایت قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، پس اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور کون ہے جو صلاحیت نہیں رکھتا تو وہ اسے اپنے حال پر چھوڑ کر ہدایت سے محروم کر دیتا ہے۔

17:85Page 290

وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلرُّوحِۖ قُلِ ٱلرُّوحُ مِنۡ أَمۡرِ رَبِّي وَمَآ أُوتِيتُم مِّنَ ٱلۡعِلۡمِ إِلَّا قَلِيلٗا ٨٥

And they ask you, [O Muḥammad], about the soul. Say, "The soul is of the affair [i.e., concern] of my Lord. And you [i.e., mankind] have not been given of knowledge except a little."

اور پوچھتے ہیں وہ (یہودی) آپ سے، روح کی بابت، کہہ دیجیے، روح امر ہے میرے رب کا اور نہیں دیے گئے تم علم سے مگر بہت ہی تھوڑا (85)

[85] یہ آیت کریمہ ایسے لوگوں کو باز رکھنے کو متضمن ہے جو ایسے سوالات پوچھتے ہیں جن سے ان کا مقصد محض تعنت اور مسئول کو لاجواب کرنا ہوتا ہے۔ درآں حالیکہ وہ اہم امور کے بارے میں سوال نہیں کرتے۔ پس وہ روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں جس کا تعلق مخفی امور سے ہے۔ کوئی شخص بھی روح کا وصف اور اس کی کیفیت بیان نہیں کر سکتا اور ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اس علم میں بھی قاصر ہیں جس کے وہ محتاج ہیں اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا کہ وہ ان کے سوال کا یہ جواب دیں ۔ ﴿ قُلِ الرُّوۡحُ مِنۡ اَمۡرِ رَبِّيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے! روح میرے رب کے امر سے ہے‘‘ یعنی من جملہ مخلوقات سے ہے جن کے بارے میں میرے رب نے حکم دیا کہ ’’ہو جاؤ‘‘ اور وہ وجود میں آگئیں ، لہٰذا ان کے بارے میں سوال کرنا تمھارے لیے کوئی زیادہ فائدہ مند نہیں جبکہ ان کے علاوہ دیگر امور میں بھی تمھارا علم معدوم ہے۔ اس آیت مقدسہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جب مسئول سے کسی معاملے میں سوال کیا جائے تو اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ (لایعنی) سوال کا جواب دینے سے گریز کرے جو سائل نے پوچھا ہے اور اس امر میں اس کی راہنمائی کرے جس کا وہ محتاج ہے اور جو اس کے لیے فائدہ مند ہے۔

17:86–87Page 290

وَلَئِن شِئۡنَا لَنَذۡهَبَنَّ بِٱلَّذِيٓ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِۦ عَلَيۡنَا وَكِيلًا ٨٦

And if We willed, We could surely do away with that which We revealed to you. Then you would not find for yourself concerning it an advocate against Us.

إِلَّا رَحۡمَةٗ مِّن رَّبِّكَۚ إِنَّ فَضۡلَهُۥ كَانَ عَلَيۡكَ كَبِيرٗا ٨٧

Except [We have left it with you] as a mercy from your Lord. Indeed, His favor upon you has ever been great.

اور البتہ اگر ہم چاہیں تو یقینا لے جائیں اس چیز (قرآن) کو جو وحی کیا ہم نے آپ کی طرف ، پھر نہ پائیں گے آپ اپنے لیے اس (قرآن کے لانے) پر ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی (86) مگر مہربانی سے آپ کے رب کی، بلاشبہ فضل اس کا ہے آپ پر بہت بڑا (87)

[87,86] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن اور وحی جسے اس نے اپنے رسولﷺ پر نازل کیا ہے وہ آپ پر اور بندوں پر رحمت اور احسان ہے قرآن اور وحی علی الاطلاق رسول اللہﷺ کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے کیونکہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ فضل و کرم ہے جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا… پس جس ہستی نے آپ پر یہ فضل و کرم کیا ہے وہ اس پر قادر ہے کہ اسے واپس لے لے پھر آپ کوئی ایسی ہستی نہیں پائیں گے جو یہ فضل و کرم واپس لا سکے اور آپ کو کوئی ایسا وکیل اور کارساز نہیں ملے گا جو اللہ کے حضور اس بارے میں بات کر سکے۔ پس آپ کو اس بارے میں خوش ہونا چاہیے اور آپ کی آنکھیں ٹھنڈی رہنی چاہئیں اور تکذیب کرنے والوں کی تکذیب اور گمراہوں کا استہزا و تمسخر آپ کو غم زدہ نہ کرے۔ اس لیے کہ لوگوں کے سامنے جلیل ترین نعمت پیش کی گئی انھوں نے اسے ٹھکرا دیا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت حقیر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔

17:88Page 291

قُل لَّئِنِ ٱجۡتَمَعَتِ ٱلۡإِنسُ وَٱلۡجِنُّ عَلَىٰٓ أَن يَأۡتُواْ بِمِثۡلِ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ لَا يَأۡتُونَ بِمِثۡلِهِۦ وَلَوۡ كَانَ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٖ ظَهِيرٗا ٨٨

Say, "If mankind and the jinn gathered in order to produce the like of this Qur’ān, they could not produce the like of it, even if they were to each other assistants."

کہہ دیجیے! البتہ اگر جمع ہو جائیں (تمام) انسان اور جن اوپر اس بات کے کہ (بنا) لائیں وہ مثل اس قرآن کے تو نہ لاسکیں گے وہ مثل اس کے اگر چہ ہو ان کا بعض، بعض کا مدد گار ہی(88)

[88] یہ اس بات کی قطعی دلیل اور واضح برہان ہے کہ جو کچھ رسول اللہﷺ لے کر آئے ہیں وہ صحیح اور صداقت پر مبنی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام جنوں اور انسانوں کو معارضے کی دعوت دی ہے کہ وہ اس جیسا قرآن بنا لائیں اور اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ان کو آگاہ بھی فرما دیا کہ وہ اس جیسا قرآن نہیں لا سکتے۔ خواہ وہ ایک دوسرے کی مدد ہی کیوں نہ کر لیں ۔ یہ سب کچھ اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جھٹلانے والوں کی بہت زیادہ خواہش تھی کہ وہ کسی طریقے سے اس دعوت کو جھوٹا ثابت کریں جسے رسول اللہﷺ لے کر آئے اور وہ لغت عرب کے ماہر اور فصاحت و بلاغت کے مالک تھے۔ اگر ان میں اس دعوت کا مقابلہ کرنے کی ذرا سی بھی اہلیت ہوتی تو وہ ضرور اس کا مقابلہ کرتے۔ اس سے یہ واضح ہو گیا کہ انھوں نے طوعاً و کر ہاً اس بارے میں اپنی بے بسی کو تسلیم کر لیا اور قرآن کے معارضہ سے عاجز آ گئے… اور وہ مخلوق جو مٹی سے پیدا کی گئی، جو ہر پہلو سے ناقص ہے، جو علم، قدرت، ارادہ اور مشیت سے محروم ہے، اس کا کلام اور کمال اس کے رب کا عطا کردہ ہے، رب کائنات کے کلام کا کس طرح مقابلہ کر سکتی ہے، جو تمام بھید کو جاننے والا ہے، جو کمال مطلق، حمد مطلق اور مجد عظیم کا مالک ہے، وہ ایسی ہستی ہے کہ اگر سات سمندروں کو روشنائی اور تمام درختوں کے قلم بنا دیے جائیں تو تمام روشنائی ختم ہو جائے گی اور قلم فنا ہو جائیں گے مگر اللہ تعالیٰ کے کلمات کبھی ختم نہ ہوں گے۔پس جیسے اللہ تعالیٰ کی صفات میں ، اس کی مخلوق میں سے کوئی اس کے مماثل نہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کا کلام بھی… جو کہ اس کی صفت ہے… بے مثل ہے۔ اس کی ذات، اس کے اسماء، اس کی صفات اور اس کے افعال میں کوئی چیز اس کی مثیل نہیں ۔ تب ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو مخلوق کے کلام کو خالق کے کلام کے مشابہ قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ محمد (ﷺ) نے اسے اپنے دل سے گھڑ کر اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی کی ہے۔

17:89–96Page 291

وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا لِلنَّاسِ فِي هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٖ فَأَبَىٰٓ أَكۡثَرُ ٱلنَّاسِ إِلَّا كُفُورٗا ٨٩

And We have certainly diversified for the people in this Qur’ān from every [kind of] example, but most of the people refused except disbelief.

وَقَالُواْ لَن نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ ٱلۡأَرۡضِ يَنۢبُوعًا ٩٠

And they say, "We will not believe you until you break open for us from the ground a spring

أَوۡ تَكُونَ لَكَ جَنَّةٞ مِّن نَّخِيلٖ وَعِنَبٖ فَتُفَجِّرَ ٱلۡأَنۡهَٰرَ خِلَٰلَهَا تَفۡجِيرًا ٩١

Or [until] you have a garden of palm trees and grapes and make rivers gush forth within them in force [and abundance]

أَوۡ تُسۡقِطَ ٱلسَّمَآءَ كَمَا زَعَمۡتَ عَلَيۡنَا كِسَفًا أَوۡ تَأۡتِيَ بِٱللَّهِ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةِ قَبِيلًا ٩٢

Or you make the heaven fall upon us in fragments as you have claimed or you bring Allāh and the angels before [us]

أَوۡ يَكُونَ لَكَ بَيۡتٞ مِّن زُخۡرُفٍ أَوۡ تَرۡقَىٰ فِي ٱلسَّمَآءِ وَلَن نُّؤۡمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّىٰ تُنَزِّلَ عَلَيۡنَا كِتَٰبٗا نَّقۡرَؤُهُۥۗ قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّي هَلۡ كُنتُ إِلَّا بَشَرٗا رَّسُولٗا ٩٣

Or you have a house of ornament [i.e., gold] or you ascend into the sky. And [even then], we will not believe in your ascension until you bring down to us a book we may read." Say, "Exalted is my Lord! Was I ever but a human messenger?"

وَمَا مَنَعَ ٱلنَّاسَ أَن يُؤۡمِنُوٓاْ إِذۡ جَآءَهُمُ ٱلۡهُدَىٰٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓاْ أَبَعَثَ ٱللَّهُ بَشَرٗا رَّسُولٗا ٩٤

And what prevented the people from believing when guidance came to them except that they said, "Has Allāh sent a human messenger?"

قُل لَّوۡ كَانَ فِي ٱلۡأَرۡضِ مَلَٰٓئِكَةٞ يَمۡشُونَ مُطۡمَئِنِّينَ لَنَزَّلۡنَا عَلَيۡهِم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَلَكٗا رَّسُولٗا ٩٥

Say, "If there were upon the earth angels walking securely,1 We would have sent down to them from the heaven an angel [as a] messenger."

قُلۡ كَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدَۢا بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡۚ إِنَّهُۥ كَانَ بِعِبَادِهِۦ خَبِيرَۢا بَصِيرٗا ٩٦

Say, "Sufficient is Allāh as Witness between me and you. Indeed He is ever, concerning His servants, Aware and Seeing."

اور البتہ تحقیق پھیر پھیر کر بیان کی ہے ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر ایک مثال، پس انکار کیا اکثر لوگوں نے مگر کفر کرنے سے (نہیں )(89)اور کہا انھوں نے، ہرگز نہیں ایمان لائیں گے ہم تجھ پر، یہاں تک کہ جاری کرے تو ہمارے لیے زمین سے ایک چشمہ(90) یا ہو واسطے تیرے ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا، پھر جاری کردے تو نہریں اس (باغ) کے درمیان (جگہ جگہ) جاری کرنا (91) یا گرادے تو آسمان، جیسا کہ دعویٰ کرتا ہے تو، ہم پر ٹکڑے ٹکڑے کر کے یا لے آ تو اللہ کو اور فرشتو ں کو سامنے (92) یا ہو تیرے لیے ایک گھر سونے کا یا چڑھ جا تو آسمان میں اور ہرگز نہیں مانیں گے ہم تیرے چڑھ جانے کو، یہاں تک کہ اتار لائے تو ہم پر ایک کتاب کہ ہم پڑھیں اسے، آپ کہہ دیجیے! پاک ہے میرا رب، نہیں ہوں میں مگر صرف ایک بشر (اور) رسول (93) اور نہیں منع کیا لوگوں کو (اس سے) کہ ایمان لائیں وہ، جب آگئی ان کے پاس ہدایت مگر اس بات نے کہ انھوں نے کہا، کیا بھیجا ہے اللہ نے ایک بشر کو رسول (بنا کر)؟ (94) کہہ دیجیے! اگر ہوتے زمین میں فرشتے، وہ چلتے ( پھرتے) اطمینان سے تو البتہ نازل کرتے ہم ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ ہی رسول (بنا کر)(95) کہہ دیجیے! کافی ہے اللہ گواہ میرے درمیان اور تمھارے درمیان، بے شک وہ ہے اپنے بندوں سے خوب خبر دار، خوب دیکھنے والا (96)

[93-89] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا لِلنَّاسِ فِيۡ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ كُلِّ مَثَلٍ ﴾ ’’اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کی واسطے لوگوں کے اس قرآن میں ہر مثال‘‘ یعنی ہم نے اس میں مختلف انواع کے مواعظ اور مثالیں بیان کی ہیں اور ان معانی و مضامین کو بار بار دہرایا ہے لوگ جن کے ضرورت مند ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں اور تقویٰ اختیار کریں مگر ان میں سے بہت کم لوگوں نے نصیحت پکڑی ہے، سوائے ان لوگوں کے، جن کے بارے میں پہلے ہی سے سعادت کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق کے ذریعے سے ان کی اعانت فرمائی مگر اکثر لوگوں نے اس نعمت کی ناقدری کی جو تمام نعمتوں سے بڑی نعمت ہے اور انھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق معجزات و آیات کا مطالبہ کرکے تعنت کا مظاہرہ کیا اور وہ اپنے نفس کی طرف سے، جو ظالم اور جاہل ہے، آیات گھڑتے ہیں ۔ پس وہ رسول اللہﷺ سے، جو یہ قرآن لے کر مبعوث ہوئے ہیں جو ہر قسم کی دلیل اور برہان پر مشتمل ہے، کہتے ہیں :﴿لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًا﴾’’ہم ہرگز تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ تو جاری کر دے ہمارے واسطے زمین سے ایک چشمہ‘‘ یعنی بہتی ہوئی نہریں جاری کر دے۔﴿ اَوۡ تَكُوۡنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّعِنَبٍ ﴾ ’’یا ہو تیرے واسطے ایک باغ کھجور اور انگور کا‘‘ جن کی مدد سے تو بازاروں میں چلنے پھرنے اور آ نے جانے سے مستغنی ہو جائے۔ ﴿ اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَؔ كَمَا زَعَمۡتَ عَلَيۡنَا كِسَفًا ﴾ ’’یا گرا دے ہم پر آسمان، جیسا کہ تو کہا کرتا ہے، ٹکڑے ٹکڑے کرکے‘‘ یعنی عذاب سے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ﴿ اَوۡ تَاۡتِيَ بِاللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيۡلًا﴾ ’’یا لے آ اللہ کو اور فرشتوں کو سامنے‘‘ یعنی تمام فرشتے یا دوسرا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تمام فرشتے روبرو آجائیں اور وہ تیری نبوت کی گواہی دیں ۔ ﴿ اَوۡ يَكُوۡنَ لَكَ بَيۡتٌ مِّنۡ زُخۡرُفٍ ﴾ ’’یا ہو تیرے واسطے گھر سنہرا‘‘ یعنی سونے وغیرہ سے منقش اور آراستہ ﴿اَوۡ تَرۡقٰى فِي السَّمَآءِ﴾ ’’یا تو آسمان پر چڑھ جا۔‘‘ یعنی حسی طور پر آسمان پر چڑھ جائے۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ اس کے باوجود ﴿ لَنۡ نُّؤۡمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيۡنَا كِتٰبًا نَّقۡرَؤُهٗ﴾ ’’ہم نہیں مانیں گے تیرے چڑھ جانے کو، یہاں تک کہ لائے تو ہمارے پاس کتاب جسے ہم پڑھیں ‘‘ چونکہ یہ کلام محض تعنت اور رسول کو بے بس کرنے کی خواہش اور داعیہ ہے، یہ احمق ترین اور ظالم ترین لوگوں کا کلام ہے جو حق کو ٹھکرا دینے کو متضمن ہے، نیز یہ اللہ تعالیٰ کے حضور بے ادبی اور رسول اللہﷺ کے بارے میں بے بنیاد دعویٰ ہے کہ آپ یہ آیات خود تصنیف کرتے ہیں … اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ اللہ کی تنزیہ بیان کریں ۔ ﴿قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے! پاک ہے میرا رب‘‘ یعنی جو کچھ تم اللہ کے بارے میں کہتے ہو وہ اس سے بہت بلند اور بالاتر ہے۔ اس کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کے احکام اور آیات ان کی خواہشات نفس اور گمراہ آراء و نظریات کے تابع ہوں ۔ ﴿ هَلۡ كُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا ﴾ ’’میں نہیں ہوں مگر ایک آدمی بھیجا ہوا‘‘ میرے ہاتھ میں کچھ بھی اختیار نہیں …

[94] یہی وہ سبب ہے جس کی بنا پر اکثر لوگ ایمان نہ لائے کیونکہ ان کی طرف جو رسول اور نبی مبعوث كيے گئے وہ سب انھی کی جنس میں سے تھے، یعنی وہ سب بشر تھے۔یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت ہے کہ اس نے ان کی طرف انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا کیونکہ وہ فرشتوں سے بلاواسطہ احکام وصول کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

[95] اس لیے فرمایا: ﴿ لَّوۡ كَانَ فِي الۡاَرۡضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ يَّمۡشُوۡنَ مُطۡمَىِٕنِّيۡنَ۠ ﴾ ’’ اگر ہوتے زمین میں فرشتے پھرتے، بستے‘‘ یعنی اگر وہ فرشتوں کو دیکھ لینے اور ان سے احکام اخذ کرنے کی طاقت رکھتے ہوتے ﴿لَـنَزَّلۡنَا عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوۡلًا ﴾ ’’تو اتارتے ہم ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ پیغام دے کر۔‘‘

[96]﴿ قُلۡ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًۢا بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكُمۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيۡرًا﴾ ’’کہہ دیجیے اللہ کافی ہے بطور گواہ میرے اور تمھارے درمیان، بے شک وہ ہے اپنے بندوں سے خبردار، دیکھنے والا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی اپنے رسول کے لیے گواہی یہ ہے کہ اس نے آیات اور معجزات کے ذریعے سے اس کی تائیدکی اور ان لوگوں کے خلاف آپ کو فتح و نصرت سے نوازا جنھوں نے آپ سے عداوت کی۔ اگر آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہوتا تو اللہ تعالیٰ آپ کو دائیں ہاتھ سے پکڑ کر آپ کی رگ جاں کاٹ دیتا۔ اللہ تعالیٰ باخبر اور دیکھنے والا ہے اور بندوں کے احوال میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔

17:97–100Page 292

وَمَن يَهۡدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلۡمُهۡتَدِۖ وَمَن يُضۡلِلۡ فَلَن تَجِدَ لَهُمۡ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِهِۦۖ وَنَحۡشُرُهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمۡ عُمۡيٗا وَبُكۡمٗا وَصُمّٗاۖ مَّأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ كُلَّمَا خَبَتۡ زِدۡنَٰهُمۡ سَعِيرٗا ٩٧

And whoever Allāh guides - he is the [rightly] guided; and whoever He sends astray1 - you will never find for them protectors besides Him, and We will gather them on the Day of Resurrection [fallen] on their faces - blind, dumb and deaf. Their refuge is Hell; every time it subsides, We increase [for] them blazing fire.

ذَٰلِكَ جَزَآؤُهُم بِأَنَّهُمۡ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَقَالُوٓاْ أَءِذَا كُنَّا عِظَٰمٗا وَرُفَٰتًا أَءِنَّا لَمَبۡعُوثُونَ خَلۡقٗا جَدِيدًا ٩٨

That is their recompense because they disbelieved in Our verses and said, "When we are bones and crumbled particles, will we [truly] be resurrected [in] a new creation?"

۞ أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّ ٱللَّهَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ قَادِرٌ عَلَىٰٓ أَن يَخۡلُقَ مِثۡلَهُمۡ وَجَعَلَ لَهُمۡ أَجَلٗا لَّا رَيۡبَ فِيهِ فَأَبَى ٱلظَّٰلِمُونَ إِلَّا كُفُورٗا ٩٩

Do they not see that Allāh, who created the heavens and earth, is [the one] Able to create the likes of them? And He has appointed for them a term, about which there is no doubt. But the wrongdoers refuse except disbelief.

قُل لَّوۡ أَنتُمۡ تَمۡلِكُونَ خَزَآئِنَ رَحۡمَةِ رَبِّيٓ إِذٗا لَّأَمۡسَكۡتُمۡ خَشۡيَةَ ٱلۡإِنفَاقِۚ وَكَانَ ٱلۡإِنسَٰنُ قَتُورٗا ١٠٠

Say [to them], "If you possessed the depositories of the mercy of my Lord, then you would withhold out of fear of spending." And ever has man been stingy.

اور جس کو ہدایت دے اللہ، پس وہی ہے ہدایت پانے والااور جسے وہ گمراہ کرے تو ہرگز نہیں پائیں گے آپ ان کے لیے کوئی دوست سوائے اس (اللہ) کےاور ہم اکٹھا کریں گے ان کو دن قیامت کے ان کے منہ کے بل اس حال میں کہ وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے، ٹھکانا ان کاجہنم ہے، جب وہ بجھنے لگے گی تو زیادہ کر دیں گے ہم ان کے لیے آگ کا بھڑکانا (97) یہ سزا ہے ان کی بوجہ اس کے کہ بے شک انھوں نے کفر کیا ساتھ ہماری آیتوں کے، اور کہا، کیا جب ہو جائیں گے ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ تو کیا بلاشبہ ہم البتہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے پیدا کر کے نئے سرے سے؟ (98) کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ بے شک اللہ، جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو، قادر ہے اوپر اس کے کہ وہ پیدا کرے مثل ان کی اور مقرر کیا اس نے ان کے لیے ایک وقت (معین)، کہ نہیں شک اس میں ، پس انکار کیا ظالموں نے مگر کفرکرنے سے (نہیں )(99) کہہ دیجیے! اگر تم اختیار رکھتے خزانوں کا رحمت کے میرے رب کی تو اس وقت ضرور روک لیتے تم (ان کو) خرچ ہو جانے کے ڈر سےاور ہے انسان نہایت ہی بخیل (100)

[97] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ ہدایت اور گمراہی صرف اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے وہ جسے ہدایت سے نوازنا چاہتا ہے تو اسے آسان راہیں میسر کر دیتا ہے اور اس کو تنگی سے بچالیتا ہے اور وہی درحقیقت ہدایت یافتہ ہے اور جسے گمراہ کرتا ہے اسے اس کے نفس کے حوالے کر کے اس سے الگ ہو جاتا ہے تب اللہ تعالیٰ کے سوا اس کو کوئی راہ نہیں دکھا سکتا اور ان کا اس روز کوئی حمایتی نہیں ہوگا جو ان کی اللہ کے عذاب کے مقابلے میں مدد کر سکے جب اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ان کے چہروں کے بل، نہایت رسوائی کی حالت میں اندھے اور گونگے بنا کر اکٹھے کرے گا وہ دیکھ سکیں گے نہ بول سکیں گے۔ ﴿ مَاۡوٰىهُمۡ ﴾ ’’ان کا ٹھکانا‘‘ یعنی ان کی جائے قرار اور ان کا گھر ﴿ جَهَنَّمُ﴾ ’’جہنم ہے‘‘ جہاں ہر قسم کا حزن و غم اور عذاب جمع ہے۔ ﴿ كُلَّمَا خَبَتۡ ﴾ ’’جب وہ بجھنے لگے گی‘‘ ﴿زِدۡنٰهُمۡ سَعِيۡرًا﴾ ’’تو ہم ان پر اس آگ کو اور بھڑکا دیں گے۔‘‘ عذاب ان پر سے منقطع نہ ہو گا۔ ان کو موت آئے گی نہ ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہو گی۔

[98]اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بات کی جزا دی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا کرتے تھے اور قیامت کے روز پر ایمان نہیں رکھتے تھے جس کے بارے میں تمام انبیاء و رسل نے آگاہ فرمایا اور تمام آسمانی کتابوں نے اس کے برپا ہونے کا اعلان کیا۔ انھوں نے اپنے رب کو عاجز قرار دے کر اس کی قدرت کاملہ کا انکار کر دیا۔﴿ وَقَالُوۡۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ۠ خَلۡقًا جَدِيۡدًا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، جب ہم ہو گئے ہڈیاں اور چورا چورا، کیا ہم اٹھائے جائیں گے نئے بنا کر‘‘ یعنی یہ ہو ہی نہیں سکتا… وہ یہ بات اس لیے کہتے تھے کہ ان کی فاسد عقل کے مطابق ایسا ہونا بہت بعید تھا۔

[99] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ ’’کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ جس اللہ نے آسمان اور زمین بنائے‘‘ جو کہ انسانوں کی تخلیق سے زیادہ مشکل امر ہے۔ ﴿قَادِرٌؔ عَلٰۤى اَنۡ يَّخۡلُقَ مِثۡلَهُمۡ ﴾ ’’وہ قادر ہے کہ پیدا کرے ان جیسوں کو‘‘ کیوں نہیں ! بے شک اللہ تعالیٰ ایسا کرنے پر قادر ہے ﴿ وَجَعَلَ لَهُمۡ اَجَلًا لَّا رَيۡبَ فِيۡهِ﴾ ’’اور اس نے ان کے لیے ایک مدت مقرر کر دی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ‘‘ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس گھڑی کو اچانک لے آئے اور اس بات کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد موت پر دلائل و براہین قائم کر دیے ہیں ۔ ﴿ فَاَبَى الظّٰلِمُوۡنَ اِلَّا كُفُوۡرًؔا ﴾ ’’پھر بھی نہیں رہا جاتا ظالموں سے ناشکری کیے بغیر‘‘ ظلم کرتے اور افترا کرتے ہوئے۔

[100]﴿ قُلۡ لَّوۡ اَنۡتُمۡ تَمۡلِكُوۡنَ خَزَآىِٕنَ رَحۡمَةِ رَبِّيۡۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر تمھارے ہاتھ میں ہوتے میرے رب کی رحمت کے خزانے‘‘ جو کبھی ختم ہوتے ہیں نہ تباہ ہوتے ہیں ﴿ اِذًا لَّاَمۡسَكۡتُمۡ خَشۡيَةَ الۡاِنۡفَاقِ﴾ ’’تو ضرور بند کر رکھتے، اس ڈر سے کہ خرچ نہ ہو جائیں ‘‘ یعنی اس خوف سے کہ جو کچھ تم خرچ کرتے ہو کہیں ختم نہ ہو جائے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے خزانوں کا ختم ہونا محال ہے مگر بخل اور کنجوسی انسان کی جبلت میں رکھ دیے گئے ہیں ۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском