As-Sa'diAl‑Kahf · 18:19–28

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Al-Kahf 18:19–28

18:19–20Page 295

وَكَذَٰلِكَ بَعَثۡنَٰهُمۡ لِيَتَسَآءَلُواْ بَيۡنَهُمۡۚ قَالَ قَآئِلٞ مِّنۡهُمۡ كَمۡ لَبِثۡتُمۡۖ قَالُواْ لَبِثۡنَا يَوۡمًا أَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٖۚ قَالُواْ رَبُّكُمۡ أَعۡلَمُ بِمَا لَبِثۡتُمۡ فَٱبۡعَثُوٓاْ أَحَدَكُم بِوَرِقِكُمۡ هَٰذِهِۦٓ إِلَى ٱلۡمَدِينَةِ فَلۡيَنظُرۡ أَيُّهَآ أَزۡكَىٰ طَعَامٗا فَلۡيَأۡتِكُم بِرِزۡقٖ مِّنۡهُ وَلۡيَتَلَطَّفۡ وَلَا يُشۡعِرَنَّ بِكُمۡ أَحَدًا ١٩

And similarly,1 We awakened them that they might question one another. Said a speaker from among them, "How long have you remained [here]?" They said, "We have remained a day or part of a day." They said, "Your Lord is most knowing of how long you remained. So send one of you with this silver coin of yours to the city and let him look to which is the best of food and bring you provision from it and let him be cautious. And let no one be aware of you.

إِنَّهُمۡ إِن يَظۡهَرُواْ عَلَيۡكُمۡ يَرۡجُمُوكُمۡ أَوۡ يُعِيدُوكُمۡ فِي مِلَّتِهِمۡ وَلَن تُفۡلِحُوٓاْ إِذًا أَبَدٗا ٢٠

Indeed, if they come to know of you, they will stone you or return you to their religion. And never would you succeed, then - ever."

اور اسی طرح دوبارہ اٹھایا ہم نے ان کو تاکہ وہ سوال کریں آپس میں ، کہا ایک کہنے والے نے ان میں سے، کتنا (عرصہ) ٹھہرے ہو تم؟ انھوں نے کہا، ٹھہرے ہیں ہم ایک دن یا کچھ حصہ دن کا، انھوں نے کہا، تمھارا رب خوب جانتا ہے جتنا ٹھہرے ہو تم، پس بھیجو تم اپنے ایک آدمی کو ساتھ اپنی اس چاندی کے، شہر کی طرف، پس چاہیے کہ دیکھے وہ کون سا ان میں زیادہ پاکیزہ ہے کھانا، پھر چاہیے کہ لے آئے وہ تمھارے پاس کھانا اس میں سےاور چاہیے کہ وہ نرمی (سے بات) کرےاور نہ آگاہ کر دے وہ تمھارے معاملے سے کسی کو (19) بلاشبہ وہ اگر مطلع ہو گئے تم پر تو سنگسار کر دیں وہ تمھیں یا لوٹا دیں گے تم کو اپنے دین میں اور ہرگز نہیں فلاح پاؤ گے تم اس وقت کبھی بھی (20)

[19]﴿ وَؔكَذٰلِكَ بَعَثۡنٰهُمۡ ﴾ یعنی اسی طرح ہم نے ان کو ان کی طویل نیند سے بیدار کیا ﴿ لِيَتَسَآءَلُوۡا بَيۡنَهُمۡ﴾ ’’تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں ۔‘‘ یعنی سونے کی مدت کے بارے میں حقیقت معلوم کرنے کے لیے ایک دوسرے سے پوچھیں ۔ ﴿ قَالَ قَآىِٕلٌ مِّؔنۡهُمۡ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ١ؕ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ﴾ ’’ان میں سے ایک نے کہا، تم کتنی مدت ٹھہرے؟ انھوں نے کہا، ہم ٹھہرے ایک دن یا ایک دن سے کم۔‘‘ یہ قائل کے ظن پر مبنی ہے گویا ان کواپنی مدت کی طوالت کے بارے میں اشتباہ واقع ہو گیا تھا، اس لیے ﴿ قَالُوۡا رَبُّكُمۡ اَعۡلَمُ بِمَا لَبِثۡتُمۡ﴾ ’’انھوں نے کہا تمھارا رب ہی خوب جانتا ہے جتنی مدت تم ٹھہرے‘‘ پس انھوں نے اپنے علم کو اس ہستی کی طرف لوٹا دیا جس کا علم اجمالاً اور تفصیلاً ہر چیز کا احاطہ كيے ہوئے ہے۔ شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے سوئے رہنے کی مدت سے ان کو مطلع کر دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بیدار کردیاتھا تاکہ وہ اس مدت کے بارے میں ایک دوسرے سے پوچھیں پھر اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ انھوں نے ایک دوسرے سے سوال کیا اور اپنے اپنے مبلغ علم کے مطابق انھوں نے کلام کیا اور ان کی آپس میں بحث کا نتیجہ یہ رہا کہ ان کے سونے کی مدت کا معاملہ مشتبہ ہی رہا۔ یہ لازمی امر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یقینی طور پر آگاہ کیا ہو گا اور ہمیں یہ بات ان کے بیدار كيے جانے میں اللہ تعالیٰ کی حکمت سے معلوم ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ کا کوئی فعل عبث نہیں ہوتا اور یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت ہے کہ جو کوئی ان معاملات میں حقیقت کا طلب گار ہوتا ہے جن کا جاننا مطلوب ہے اور اس کے لیے امکان بھر کوشش بھی کرتا ہے تواللہ تعالیٰ ان معاملات کو اس پر واضح کر دیتا ہے اور بعد میں مذکور اللہ تعالیٰ کے اس قول سے بھی اس کی وضاحت ہوتی ہے۔ ﴿ وَؔكَذٰلِكَ اَعۡثَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ لِيَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيۡبَ فِيۡهَا﴾(الکہف:18؍21) ’’اور اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان کے حال سے آگاہ کر دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور بے شک قیامت کی گھڑی ضرور آئے گی۔‘‘ اگر ان کے حال کے بارے میں آگاہی نہ ہوئی ہوتی تو ان کے لیے مذکورہ واقعہ میں کوئی دلیل نہ ہوتی، پھر جب انھوں نے ایک دوسرے سے سوال کیا اور ان کے درمیان وہ سوال جواب ہوا جس کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے تو انھوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو کچھ سکے، یعنی دراہم دے کر، جو ان کے پاس تھے، کھانا خرید کر لانے کے لیے اس شہر میں بھیجا جہاں سے وہ نکل کر آئے تھے اور اس سے کہا کہ وہ اچھا اور لذیذ ترین کھانا منتخب کر کے لائے، نیز وہ اپنے شہر جانے، کھانا خریدنے اور واپس لوٹنے میں ایسا نرم رویہ اختیار کرے کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ وہ اپنے آپ کو بھی چھپائے اور اپنے بھائیوں کے حال کو بھی مخفی رکھے اور کسی کو اس کے بارے میں کوئی علم نہ ہو۔

[20] ان کے سامنے یہ اندیشہ تھا کہ لوگوں کو اگر ان کی اطلاع ہوگئی تو اس کے نتیجے میں ان کے ساتھ جو سلوک ہو گا وہ ان دو امور میں سے ایک ہو گا۔ یا تو وہ ان کو سنگسار کر کے نہایت برے طریقے سے ان کو قتل کردیں گے کیونکہ انھیں ان پر اور ان کے دین پر سخت غصہ ہے۔ یا انھیں تعذیب اور آزمائش میں مبتلا کر کے ان کو اپنے دین میں واپس لانے کی کوشش کریں گے اور اس حال میں وہ کبھی فلاح نہیں پائیں گے بلکہ وہ اپنے دین، دنیا اور آخرت کے بارے میں سخت خسارے میں رہیں گے۔یہ دو آیات کریمہ متعدد فوائد پر دلالت کرتی ہیں :(۱) حصول علم اور علمی مباحثہ پر ترغیب کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسی کی خاطر اصحاب کہف کو دوبارہ زندہ کیا۔ (۲) جب بندے پر علم مشتبہ ہو جائے تو اس کا ادب یہ ہے کہ وہ اس علم کو اس شخص کی طرف لوٹا دے جو اس کا عالم ہے اور خود اپنی حد پر ٹھہر جائے۔ (۳) خریدوفروخت میں وکالت اور اس میں شراکت صحیح ہے۔ (۴) اچھی چیزیں اور لذیذ کھانے کھانا جائز ہے جبکہ ان میں اسراف نہ ہو جو ممنوع ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ فَلۡيَنۡظُرۡ اَيُّهَاۤ اَزۡكٰى طَعَامًا فَلۡيَاۡتِكُمۡ بِرِزۡقٍ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’پس وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں سے ملتا ہے پس وہ تمھارے لیے وہیں سے کچھ کھانے کے لیے لے کر آئے۔‘‘ خاص طور پر جبکہ انسان کو اس کے سوا کوئی اور کھانا موافق نہ آتا ہو۔ شاید یہی آیت کریمہ ان مفسرین کے قول کی بنیاد ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اصحاب کہف بادشاہوں کی اولاد تھے اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں نے کھانا لانے والے کو اچھا اور لذیذ کھانا لانے کا حکم دیا تھا کیونکہ خوشحال اور بڑے لوگوں کی عادت ہے کہ وہ اچھا کھانا تناول کرتے ہیں ۔ (۵) جب دین میں ابتلا اور فتنہ کا موقع ہو تو اس سے بچنے، چھپنے اور فتنوں کی جگہوں سے دور رہنے کی ترغیب دی گئی ہے، نیز یہ کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے دینی بھائیوں کو چھپائے۔ (۶) ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ان نوجوانوں کو دین میں شدید رغبت تھی وہ اپنے دین کے بارے میں ہر قسم کے فتنہ سے دور بھاگتے تھے اور انھوں نے دین کی خاطر اپنے وطن کو چھوڑ دیا تھا۔ (۷) ان آیات کریمہ میں اس شر کا ذکر ہے جو ضرر اور ان مفاسد پر مشتمل ہے جو اس کی ناپسندیدگی کا باعث اور اس کو ترک کرنے کی دعوت دیتے ہیں اور یہ کہ یہ طریقہ تمام متقدمین اور متاخرین اہل ایمان کا طریقہ ہے کیونکہ اہل کہف نے کہا تھا: ﴿ وَ لَنۡ تُفۡلِحُوۡۤا اِذًا اَبَدًا ﴾ اگر وہ تمھیں اپنی ملت میں واپس لوٹا دیں تو تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے۔

18:21Page 296

وَكَذَٰلِكَ أَعۡثَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ لِيَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞ وَأَنَّ ٱلسَّاعَةَ لَا رَيۡبَ فِيهَآ إِذۡ يَتَنَٰزَعُونَ بَيۡنَهُمۡ أَمۡرَهُمۡۖ فَقَالُواْ ٱبۡنُواْ عَلَيۡهِم بُنۡيَٰنٗاۖ رَّبُّهُمۡ أَعۡلَمُ بِهِمۡۚ قَالَ ٱلَّذِينَ غَلَبُواْ عَلَىٰٓ أَمۡرِهِمۡ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيۡهِم مَّسۡجِدٗا ٢١

And similarly, We caused them to be found that they [who found them] would know that the promise of Allāh is truth and that of the Hour there is no doubt. [That was] when they1 disputed among themselves about their affair and [then] said, "Construct over them a structure. Their Lord is most knowing about them." Said those who prevailed in the matter, "We will surely take [for ourselves] over them a masjid."2

اور اسی طرح مطلع کر دیا ہم نے ان پر (لوگوں کو) تاکہ وہ جان لیں کہ بلاشبہ اللہ کا وعدہ حق ہےاور بلاشبہ قیامت، نہیں کوئی شک اس میں ، جب وہ ایک دوسرے سے جھگڑ رہے تھے باہم ان کے معاملے میں سو کہا انھوں نے، بناؤ ان پر ایک عمارت، ان کا رب خوب جانتا ہے ان کو، کہا ان لوگوں نے جو غالب آئے تھے اوپر ان کے معاملے کے، البتہ ضرور بنائیں گے ہم ان پر مسجد (21)

[21] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے لوگوں کو اصحاب کہف کے احوال سے مطلع کیا اور یہ اطلاع یوں ہوئی (واللہ اعلم) کہ اصحاب کہف جب اپنی نیند سے بیدار ہوئے تو انھوں نے اپنے ایک ساتھی کو کھانا لانے کے لیے شہر بھیجا اور اسے ہدایت کی کہ وہ خود اپنے آپ کو اور ان کے معاملے کو چھپائے رکھے۔ مگر اللہ تعالیٰ ایک ایسا معاملہ چاہتا تھا جس میں لوگوں کی بھلائی اور ان کے لیے زیادہ اجر تھا۔ انھوں نے اصحاب کہف میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے اس بات کی نشانی کا عینی مشاہدہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کا قیامت کا وعدہ سچا ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں اور اس کا آنا بعید نہیں ۔ اس سے پہلے وہ اس امر میں اختلاف کیا کرتے تھے۔ بعض لوگ قیامت اور جزائے اعمال کو مانتے تھے اور بعض اس کا انکار کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے واقعہ کو اہل ایمان کے لیے ان کے یقین و بصیرت میں اضافے اور منکرین کے خلاف حجت و برہان کا باعث بنایا اور اس تمام قضیے کا اجر اصحاب کہف کو حاصل ہوا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اصحاب کہف کے واقعہ کو تشہیر بخشی، ان کی قدر و منزلت بلند کی یہاں تک کہ ان لوگوں کی بھی عظمت بیان کی جو ان کے احوال پر مطلع ہوئے۔ ﴿ فَقَالُوا ابۡنُوۡا عَلَيۡهِمۡ بُنۡيَانًا﴾ ’’پس انھوں نے کہا، بناؤ ان پر ایک عمارت۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان کے حال و مآل کے بارے میں زیادہ جانتا ہے۔ وہ لوگ جو ان کے معاملے میں اختیار رکھتے تھے، یعنی اصحاب اقتدار وہ کہنے لگے:﴿ لَنَتَّؔخِذَنَّ عَلَيۡهِمۡ مَّسۡجِدًا﴾ ’’ہم بنائیں گے ان کی جگہ پر ایک مسجد‘‘ یعنی ہم اس مسجد میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے اور اس مسجد کی وجہ سے ان کے حالات و واقعات کو یاد رکھیں گے۔ مگر یہ حالت ممنوع اور حرام ہے۔ رسول اللہﷺ نے اس سے منع کیا ہے اور ایسا کرنے والوں کی مذمت فرمائی ہے۔(صحیح البخاري، کتاب الجنائز، باب ما یکرہ من اتخاذ المساجد علی القبور، حدیث: 1330) یہاں اس کا ذکر کرنا اس کے مذموم نہ ہونے پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ آیات کا سیاق اصحاب کہف کی شان اور ان کی مدح و ثنا کے بارے میں ہے، یعنی اصحاب کہف کے بارے میں اطلاع پا کر لوگوں کی حالت یہ تھی کہ وہ یہاں تک کہنے لگے کہ ان پر ایک مسجد تعمیر کر دو۔ کہاں تو اصحاب کہف کو اپنی قوم سے شدید خوف اور اپنے بارے میں اطلاع ہونے کا ڈر تھا اور کہاں یہ حالت تھی جو آپ کے سامنے ہے۔ (۱) یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے فرار ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے فتنوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ (۲) جو کوئی عافیت کی خواہش رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطا کرتا ہے۔ (۳) جو اللہ تعالیٰ کے پاس پناہ لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو پناہ دیتا ہے اور اسے دوسروں کے لیے ذریعۂ ہدایت بنا دیتا ہے۔ (۴) جو کوئی اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس کی رضا کی خاطر ذلت اٹھاتا ہے انجام کار اسے بہت زیادہ عزت نصیب ہوتی ہے اور اسے اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ ﴿ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ ﴾(آل عمران: 3؍198) ’’جو اللہ کے پاس ہے وہ نیکو کار لوگوں کے لیے بہت بہتر ہے۔‘‘

18:22Page 296

سَيَقُولُونَ ثَلَٰثَةٞ رَّابِعُهُمۡ كَلۡبُهُمۡ وَيَقُولُونَ خَمۡسَةٞ سَادِسُهُمۡ كَلۡبُهُمۡ رَجۡمَۢا بِٱلۡغَيۡبِۖ وَيَقُولُونَ سَبۡعَةٞ وَثَامِنُهُمۡ كَلۡبُهُمۡۚ قُل رَّبِّيٓ أَعۡلَمُ بِعِدَّتِهِم مَّا يَعۡلَمُهُمۡ إِلَّا قَلِيلٞۗ فَلَا تُمَارِ فِيهِمۡ إِلَّا مِرَآءٗ ظَٰهِرٗا وَلَا تَسۡتَفۡتِ فِيهِم مِّنۡهُمۡ أَحَدٗا ٢٢

They [i.e., people] will say there were three, the fourth of them being their dog; and they will say there were five, the sixth of them being their dog - guessing at the unseen; and they will say there were seven, and the eighth of them was their dog. Say, [O Muḥammad], "My Lord is most knowing of their number. None knows them except a few. So do not argue about them except with an obvious argument1 and do not inquire about them among [the speculators] from anyone."

عنقریب کہیں گے (لوگ) وہ تین تھے، چوتھا ان کا، کتا تھا ان کا، اور کہیں گے، (وہ) پانچ تھے، چھٹا ان کا، کتا تھا ان کا، (یہ تو) رائے زنی کرنا ہے بغیر علم کے اور کہیں گے، (وہ) ساتھ تھے، آٹھواں ان کا، کتا تھا ان کا، آپ کہہ دیجیے، میرا رب خوب جانتا ہے ان کی تعداد، نہیں جانتے ان (کے حال) کو مگر بہت تھوڑے لوگ ہی، سو نہ جھگڑا کریں آپ ان کی بابت مگر جھگڑا سرسری اور نہ پوچھیے آپ ان کے بارے میں ، ان میں سے کسی سے بھی (22)

[22] اللہ تبارک و تعالیٰ اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں اہل کتاب کے اختلاف کا ذکر فرماتا ہے ان کا اختلاف محض اٹکل پچو اور بے تکی باتیں تھیں ۔ انھوں نے بغیر کسی علم کے یہ باتیں گھڑ لی تھیں ۔ ان کی تعداد کے متعلق اہل کتاب کے تین اقوال تھے: (۱) ان میں سے بعض کا خیال تھا کہ اصحاب کہف تین آدمی تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ (۲) بعض کی رائے تھی کہ وہ پانچ آدمی تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا… یہ دو قول ہیں جن کو ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو ﴿ رَجۡمًۢا بِالۡغَيۡبِ﴾ قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ان دونوں اقوال کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔ (۳) بعض کہتے ہیں کہ وہ تعداد میں سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا اور یہی قرین صواب ہے۔ (واللہ اعلم) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے دو اقوال کا ابطال کیا ہے مگر اس قول کا ابطال نہیں کیا جو اس کی صحت کی دلیل ہے۔ تاہم یہ ایسا اختلاف ہے جس کے تحت کوئی فائدہ نہیں ، نہ ان کے عدد کی معرفت سے لوگوں کو کوئی دینی یا دنیاوی مصلحت حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ رَّبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِعِدَّتِهِمۡ مَّا يَعۡلَمُهُمۡ اِلَّا قَلِيۡلٌ﴾’’کہہ دیجیے! میرا رب ہی خوب جانتا ہے ان کی تعداد کو، تھوڑے لوگ ہی ان کا علم رکھتے ہیں ۔‘‘ اور یہ وہ لوگ ہیں جو صواب تک پہنچ گئے اور انھیں اپنی اصابت کا علم بھی ہو گیا۔ ﴿ فَلَا تُمَارِ فِيۡهِمۡ﴾ ’’لہٰذا ان کے بارے میں جھگڑا نہ کیجیے‘‘ ﴿ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا﴾ ’’مگر سرسری گفتگو‘‘ یعنی ایسی بحث جو علم و یقین پر مبنی ہو اس میں فائدہ بھی ہو۔ رہی وہ بحث اور مجادلہ جو جہالت اور اٹکل پچو دلائل پر مبنی ہو یا اس بحث میں کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہو یا مدمقابل عناد رکھتا ہو یا زیربحث مسئلہ کی کوئی اہمیت نہ ہو، اس کی معرفت سے کوئی دینی فائدہ حاصل نہ ہوتا ہو، مثلاً:اصحاب کہف کی تعداد وغیرہ… تو اس قسم کے امور میں کثرت سے بحث مباحثہ کرنا تضییع اوقات ہے اور یہ بحث مباحثہ باہمی مودت و محبت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ ﴿ وَّلَا تَسۡتَفۡتِ فِيۡهِمۡ﴾ ’’اور نہ پوچھیے ان کے بارے میں ‘‘ یعنی اصحاب کہف کے بارے میں ﴿ مِّؔنۡهُمۡ﴾ یعنی اہل کتاب میں سے ﴿ اَحَدًا﴾ ’’کسی سے بھی ‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا کلام محض اندازوں اور وہم و گمان پر مبنی ہے جو حق کے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جو فتویٰ دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس سے استفتاء نہ کیا جائے، خواہ اس کی وجہ یہ ہو کہ جس امر کے بارے میں فتویٰ پوچھا جا رہا ہے وہ اس میں کوتاہ علم ہے یا اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ بولتے وقت اس بات کی پروا نہیں کرتا کہ وہ کیا بول رہا ہے اور وہ ورع سے بھی خالی ہے جو اسے لایعنی کلام سے روک دے۔ جب اس قسم کے امور میں استفتاء ممنوع ہے تو فتویٰ دینا تو بدرجہ اولی ممنوع ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ انسان کو بسا اوقات کسی ایک امر میں استفتاء کرنے سے روکا گیا مگر کسی دوسرے معاملے میں استفتاء کی اجازت ہوتی ہے۔ پس وہ ایسے شخص سے فتویٰ طلب کرے جو فتویٰ دینے کا اہل ہو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فتویٰ پوچھنے سے علی الاطلاق منع نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے صرف اصحاب کہف کے قصے میں اور اس قسم کے دیگر واقعات میں فتویٰ پوچھنے سے روکا ہے۔(صحیح البخاري، کتاب الجنائز، باب مایکرہ من اتخاذ… الخ، حدیث: 1330)

18:23–24Page 296

وَلَا تَقُولَنَّ لِشَاْيۡءٍ إِنِّي فَاعِلٞ ذَٰلِكَ غَدًا ٢٣

And never say of anything, "Indeed, I will do that tomorrow,"

إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُۚ وَٱذۡكُر رَّبَّكَ إِذَا نَسِيتَ وَقُلۡ عَسَىٰٓ أَن يَهۡدِيَنِ رَبِّي لِأَقۡرَبَ مِنۡ هَٰذَا رَشَدٗا ٢٤

Except [when adding], "If Allāh wills." And remember your Lord when you forget [it] and say, "Perhaps my Lord will guide me to what is nearer than this to right conduct."

اور قطعاً نہ کہیں آپ کسی چیز کے متعلق کہ بے شک میں کرنے والا ہوں یہ کل (23) مگر یہ کہ چاہے اللہ اور یاد کریں اپنے رب کو جب بھول جائیں آپ اور کہیے! امید ہے کہ ہدایت دے دے مجھے میرا رب قریب تر راستے کی اس سے، بھلائی کے (24)

[23] یہ نہی دیگر نواہی کی مانند (عام) ہے اگرچہ یہ ایک خاص سبب کی بنا پر ہے اور اس کے مخاطب رسول اللہﷺ ہیں مگر اس کا خطاب عام مکلفین کے لیے بھی ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے روک دیا ہے کہ بندۂ مومن، مستقبل کے امور کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی مشیت کو ملائے بغیر کہے ’’میں یہ کام کروں گا‘‘ اور یہ اس لیے کہ اس میں خطرات ہیں اور وہ ہے مستقبل کے غیبی معاملات کے بارے میں کلام کرنا، جن کے بارے میں بندہ نہیں جانتا کہ وہ ان پر عمل کر سکے گا یا نہیں یا وہ ہو گا یا نہیں ؟ اس طرح کہنے میں فعل کے کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ مستقل طورپر بندے کی طرف لوٹانا ہے، حالانکہ یہ قابل احتراز شے اور ممنوع ہے کیونکہ مشیت تمام تر اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾(التکویر:81؍29) ’’تم نہیں چاہتے مگر جو اللہ جہانوں کا رب چاہتا ہے۔‘‘ اپنے کسی امر میں اللہ کی مشیت کے ذکر کرنے میں اس امر کی آسانی، تسہیل، اس میں برکت کا حصول اور بندے کی اپنے رب سے مدد کی طلب ہے۔

[24] علاوہ ازیں بندہ ایک بشر ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ذکر کو بھول جانا ایک لابدی امر ہے اس لیے اس نے اپنے بندے کو حکم دیا کہ جب اسے یاد آئے وہ استثناء کر لیا کرے (یعنی ’’ان شاء اللہ‘‘ کہہ لیا کرے) تاکہ مطلوب و مقصود حاصل ہو اور محذور سے بچا جا سکے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَاذۡكُرۡ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيۡتَ ﴾ ’’جب تو بھول جائے تو اپنے رب کو یاد کر‘‘ کے عموم سے بھی یہ حکم اخذ کیا جاتا ہے کہ نسیان کے وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر نسیان کو زائل کر دیتا ہے اور بندے کو وہ امر یاد دلا دیتا ہے جو اسے بھول گیا تھا۔ اسی طرح اللہ کا ذکر بھول جانے اور نسیان کا شکار ہو جانے والے کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے رب کو یاد کرے اور اور غافلوں میں شامل نہ ہو۔ چونکہ بندہ اصابت کی توفیق اور اپنے اقوال و افعال میں عدم خطا کے لیے اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا ہے کہ وہ کہے ﴿ عَسٰۤى اَنۡ يَّهۡدِيَنِ رَبِّيۡ لِاَقۡرَبَ مِنۡ هٰؔذَا رَشَدًا ﴾ ’’امید ہے کہ دکھائے مجھے میرا رب اس سے زیادہ نزدیک نیکی کی راہ‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو پکارے، اسی سے امید وابستہ کرے اور اسی پر اس بارے میں بھروسہ کرے کہ وہ اس کی رشد و ہدایت کے لیے قریب ترین راستہ کی طرف اس کی راہنمائی کرے گا۔ جس بندے کا حال یہ ہو، پھر وہ رشد و ہدایت کی طلب میں اپنی کوشش اور جہد صرف کرے، وہ اس لائق ہے کہ اس کو رشد و ہدایت کی توفیق عطا ہو اس کے پاس اس کے رب کی مدد آئے اور اس کے تمام امور میں اسے درستی و راستی عطا ہو۔

18:25–26Page 296

وَلَبِثُواْ فِي كَهۡفِهِمۡ ثَلَٰثَ مِاْئَةٖ سِنِينَ وَٱزۡدَادُواْ تِسۡعٗا ٢٥

And they remained in their cave for three hundred years and exceeded by nine.1

قُلِ ٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا لَبِثُواْۖ لَهُۥ غَيۡبُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ أَبۡصِرۡ بِهِۦ وَأَسۡمِعۡۚ مَا لَهُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَلِيّٖ وَلَا يُشۡرِكُ فِي حُكۡمِهِۦٓ أَحَدٗا ٢٦

Say, "Allāh is most knowing of how long they remained. He has [knowledge of] the unseen [aspects] of the heavens and the earth. How Seeing is He and how Hearing! They have not besides Him any protector, and He shares not His legislation with anyone."

اور ٹھہرے وہ اپنے غار میں تین سو سال اور زیادہ رہے (اس سے) نوسال (25) آپ کہہ دیجیے! اللہ ہی خوب جانتا ہے اس مدت کو کہ جو وہ ٹھہرے، اسی کے لیے ہے غیب آسمانوں اور زمین کا، کیا ہی خوب دیکھنے والا ہے وہ اور کیا ہی خوب سننے والا ہے، نہیں ہے ان کے لیے سوائے اس (اللہ) کے کوئی دوست اور نہیں شریک کرتا وہ اپنے حکم میں کسی کو بھی (26)

[26,25] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے بارے میں اہل کتاب سے سوال کرنے سے منع کر دیا ہے کیونکہ انھیں اس کے متعلق کچھ علم نہیں ، اللہ تعالیٰ ہی غیب اور حاضر کا علم رکھتا ہے اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے… اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے سوئے رہنے کی مدت سے آگاہ فرمایا۔ اس مدت کو وہ اکیلا ہی جانتا ہے کیونکہ اس کا تعلق آسمانوں اور زمین کے غیبی امور سے ہے اور غیبی امور کا علم اللہ تعالیٰ سے مختص ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان امور کے بارے میں اپنے رسولوں کی زبانی آگاہ فرمایا ہے وہی حق یقینی ہے جس میں کوئی شک نہیں اور وہ امور جن کے بارے میں وہ اپنے انبیاء و رسل کو مطلع نہیں کرتا مخلوق میں سے کوئی بھی ان کو نہیں جان سکتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد:﴿ اَبۡصِرۡ بِهٖ وَاَسۡمِعۡ﴾ ’’کیا ہی خوب وہ دیکھتا اور سنتا ہے۔‘‘ تمام معلومات پر اپنے علم کے احاطہ کے بارے میں آگاہ کرنے کے بعد کامل سمع و بصر، تمام مسموعات و مبصرات پر اس سمع و بصر کے محیط ہونے پر تعجب کا اظہار ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ولایت عامہ اور ولایت خاصہ میں وہی منفرد ہے وہی ولی اور مددگار ہے جو تمام کائنات کی تدبیر کرتا ہے اپنے مومن بندوں کا دوست اور مددگار ہے وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ فرمایا:﴿ مَا لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ وَّلِيٍّ﴾ ’’نہیں ہے واسطے ان کے، اس کے سوا، کوئی دوست، کار ساز‘‘ یعنی وہی ہے جس نے اپنے لطف و کرم سے اصحاب کہف کی سرپرستی فرمائی اور ان کے معاملے کو اپنی مخلوق میں سے کسی پر نہیں چھوڑا۔ ﴿ وَّلَا يُشۡرِكُ فِيۡ حُكۡمِهٖۤ اَحَدًا﴾ ’’اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا‘‘ اور یہ حکم کونی و قدری اور حکم دینی و شرعی دونوں کو شامل ہے وہی قضا و قدر اور تخلیق و تدبیر کے ذریعے سے اور امرونہی اور ثواب و عقاب کے ذریعے سے اپنی مخلوق میں اپنا حکم نافذ کرتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ آسمانوں اور زمین کے تمام غیبی امور کو وہ جانتا ہے تو مخلوق کے لیے ان کو جاننے کا اس طریقے کے سوا کوئی اور طریقہ نہیں ، جو اس نے اپنے بندوں کو بتایا ہے۔ یہ قرآن کریم بہت سے غیبی امور پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:

18:27Page 296

وَٱتۡلُ مَآ أُوحِيَ إِلَيۡكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِهِۦ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِۦ مُلۡتَحَدٗا ٢٧

And recite, [O Muḥammad], what has been revealed to you of the Book of your Lord. There is no changer of His words, and never will you find in other than Him a refuge.

اور تلاوت کیجیے اس کی جو وحی کی گئی ہے آپ کی طرف، کتاب میں سے آپ کے رب کی، نہیں کوئی بدلنے والا اس کی باتوں کواور ہرگز نہیں پائیں گے آپ سوائے اس کے کوئی جائے پناہ (27)

[27] تلاوت سے مراد اتباع کرنا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی طرف جو وحی بھیجی ہے اس کے معانی کی معرفت اور ان کا فہم حاصل کر کے، اس کی دی ہوئی خبروں کی تصدیق اور اس کے اوامر و نواہی کی تعمیل کر کے اس کی اتباع کیجیے کیونکہ یہ بہت ہی جلیل القدر کتاب ہے جس کی باتوں کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا، ان کلمات کے صدق و عدل اور حسن میں ہر غایت و انتہا سے بڑھ جانے کی وجہ سے، ان میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا:﴿ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدۡقًا وَّعَدۡلًا﴾(الانعام:6؍115) ’’آپ کے رب کی بات صدق و عدل کے اعتبار سے کامل ہے۔‘‘ پس اپنے کمال کی وجہ سے ان باتوں میں تغیر و تبدل محال ہے اگر اللہ تعالیٰ کے کلمات ناقص ہوتے تو ان میں تغیر و تبدل واقع ہو سکتا۔ اس میں قرآن کریم کی عظمت کا اظہار ہے اور اسی ضمن میں قرآن کریم کی طرف توجہ کرنے کی ترغیب ہے۔ ﴿ وَلَنۡ تَجِدَ مِنۡ دُوۡنِهٖ مُلۡتَحَدًا﴾ ’’اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤگے۔‘‘ یعنی آپ کے رب کے سوا کہیں آپ کو کوئی ٹھکانا ملے گا جہاں آپ چھپ سکیں نہ پناہ گاہ ملے گی جہاں پناہ لے سکیں ۔ پس جب یہ حقیقت متعین ہو گئی کہ تمام امور میں وہی ملجاوماوی ہے تو یہ بات بھی متعین ہو گئی کہ وہی الٰہ ہے، خوشحالی اور بدحالی میں اسی کی طرف رغبت کی جائے، لوگ اپنے تمام احوا ل میں اسی کے محتاج ہیں اور اپنے تمام مطالب میں اسی سے سوال کیا جائے۔

18:28Page 297

وَٱصۡبِرۡ نَفۡسَكَ مَعَ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ رَبَّهُم بِٱلۡغَدَوٰةِ وَٱلۡعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجۡهَهُۥۖ وَلَا تَعۡدُ عَيۡنَاكَ عَنۡهُمۡ تُرِيدُ زِينَةَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَلَا تُطِعۡ مَنۡ أَغۡفَلۡنَا قَلۡبَهُۥ عَن ذِكۡرِنَا وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ وَكَانَ أَمۡرُهُۥ فُرُطٗا ٢٨

And keep yourself patient [by being] with those who call upon their Lord in the morning and the evening, seeking His face [i.e., acceptance]. And let not your eyes pass beyond them, desiring adornments of the worldly life, and do not obey one whose heart We have made heedless of Our remembrance and who follows his desire and whose affair is ever [in] neglect.1

اور روک رکھیے اپنے آپ کو ساتھ ان لوگوں کے جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام، وہ چاہتے ہیں چہرہ اس (اللہ) کااور نہ تجاوز کریں آپ کی آنکھیں ان سے، ارادہ کرتے ہیں آپ زینت کا زندگانیٔ دنیا کی اور مت اطاعت کریں آپ اس شخص کی کہ غافل کر دیا ہم نے اس کے دل کو اپنے ذکر سے اور پیروی کی اس نے اپنی خواہش کی اور ہے معاملہ اس کا حد سے بڑھا ہوا (28)

[28] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کو اور دوسروں کو، جو اوامر و نواہی میں آپ کے نمونہ پر عمل پیرا ہیں ، حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مومنوں کے ساتھ جوڑے رکھیں جو اللہ کے بندے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے ہیں ۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَدٰؔوةِ وَالۡعَشِيِّ ﴾ ’’جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح وشام‘‘ یعنی دن کے پہلے اور آخری حصے میں ، اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی چاہتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی بندگی اور اس میں ان کے اخلاص کو بیان کیا ہے۔ پس اس آیت کریمہ میں حکم دیا گیا ہے کہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کی جائے، ان کی صحبت اختیار کرنے اور ان کے ساتھ اختلاط میں نفس کے ساتھ مجاہدہ کیا جائے۔ خواہ یہ نیک لوگ فقرا ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ ان کی صحبت میں اتنے فوائد ہیں جن کا شمار نہیں ہو سکتا۔ ﴿ وَلَا تَعۡدُ عَيۡنٰكَ عَنۡهُمۡ﴾ ’’اور تمھاری نگاہیں ان میں سے (گزر کر اور طرف) نہ دوڑیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کی نظریں ان سے تجاوز کریں نہ آپ اپنی نظروں کو ان سے ہٹائیں۔ ﴿ تُرِيۡدُ زِيۡنَةَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’دنیا کی زندگی کی رونق کی تلاش میں ‘‘ کیونکہ یہ چیز نقصان دہ ہے اس میں کوئی فائدہ نہیں یہ تمام دینی مصالح کی قاطع ہے یہ دنیا سے دل کے تعلق کی موجب بنتی ہے، دل میں اندیشے اور وسوسے جاگزیں ہو جاتے ہیں اور دل سے آخرت کی رغبت زائل ہو جاتی ہے۔ دنیا کی زیب و زینت دیکھنے والے کو بہت خوش کن نظر آتی ہے، قلب پر جادو کر دیتی ہے جس سے قلب اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہو کر لذات و شہوات میں مگن ہو جاتا ہے تب وہ اپنے وقت کو ضائع کرکے اپنے معاملے میں کوتاہی کا شکار ہوتا ہے۔ وہ دائمی خسارے میں پڑ جاتا ہے اور ابدی ندامت اس کا نصیب بن جاتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿ وَلَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَهٗ عَنۡ ذِكۡرِنَا﴾ ’’اس شخص کا کہنا نہ مانیے جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے غافل ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو سزا دی کہ اسے اپنے ذکر سے غافل کر دیا۔ ﴿ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ ﴾ ’’اور وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگ گیا‘‘ اس کے نفس نے جو چاہا وہ کیا اور اس کو پالینے کی کوشش کرنے لگا خواہ اس میں اس کی ہلاکت اور اس کے لیے خسارہ ہی کیوں نہ ہو۔ پس اس نے اپنی خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا لیا جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ اَفَرَءَيۡتَ مَنِ اتَّؔخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾(الجاثیۃ:45؍23) ’’کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیا اور اللہ نے علم کے باوجود اسے گمراہ کر دیا۔‘‘ ﴿ وَؔكَانَ اَمۡرُهٗ﴾ ’’اور اس کا کام ہے‘‘ یعنی اس کے دین و دنیا کے مصالح ﴿ فُرُطًا ﴾ ’’حد سے نکل جانا‘‘ یعنی ضائع اور معطل ہونے والے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کی اطاعت سے روکا ہے کیونکہ اس کی اطاعت اس کی پیروی کرنے کی دعوت دیتی ہے، نیز اس لیے کہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتا ہے جس سے وہ خود متصف ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہی شخص اطاعت کے لائق اور لوگوں کا امام بننے کے قابل ہے جس کا دل محبت الٰہی سے لبریز ہو اور اس کی زبان پر محبت الٰہی کا فیضان ہو، وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہو، اپنے رب کی رضا کی پیروی کرتا ہو اور اسے اپنے نفس کی خواہشات پر مقدم رکھتا ہو۔ پس اس طرح وہ اپنے وقت کی حفاظت کرے گا، اس کے تمام احوال درست اور تمام افعال ٹھیک ہو جائیں گے۔ وہ لوگوں کو اس چیز کی طرف دعوت دے گا جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اس پر احسان کیا ہے۔ پس یہ شخص اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی اتباع کی جائے اور اس کو امام بنایا جائے۔ آیت مقدسہ میں جس صبر کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر ہے۔ یہ صبر کی بلند ترین قسم ہے اس کی تکمیل سے صبر کی باقی تمام اقسام کی تکمیل ہوتی ہے۔ آیت مبارکہ سے ذکر الٰہی، دعا اور دن کے دونوں حصوں میں عبادت کا استحباب مستفاد ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس فعل پر ان کی مدح کی ہے اور جس فعل پر اللہ تعالیٰ فاعل کی مدح کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اور جب اللہ تعالیٰ اس فعل کو پسند کرتا ہے تو اس کا حکم اور اس کی ترغیب دیتا ہے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском