As-Sa'diAl‑Kahf · 18:89–110

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Al-Kahf 18:89–110

18:89–98Page 303

ثُمَّ أَتۡبَعَ سَبَبًا ٨٩

Then he followed a way

حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ مَطۡلِعَ ٱلشَّمۡسِ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلَىٰ قَوۡمٖ لَّمۡ نَجۡعَل لَّهُم مِّن دُونِهَا سِتۡرٗا ٩٠

Until, when he came to the rising of the sun [i.e., the east], he found it rising on a people for whom We had not made against it any shield.

كَذَٰلِكَۖ وَقَدۡ أَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرٗا ٩١

Thus.1 And We had encompassed [all] that he had in knowledge.

ثُمَّ أَتۡبَعَ سَبَبًا ٩٢

Then he followed a way

حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ بَيۡنَ ٱلسَّدَّيۡنِ وَجَدَ مِن دُونِهِمَا قَوۡمٗا لَّا يَكَادُونَ يَفۡقَهُونَ قَوۡلٗا ٩٣

Until, when he reached [a pass] between two mountains, he found beside them a people who could hardly understand [his] speech.

قَالُواْ يَٰذَا ٱلۡقَرۡنَيۡنِ إِنَّ يَأۡجُوجَ وَمَأۡجُوجَ مُفۡسِدُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا عَلَىٰٓ أَن تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدّٗا ٩٤

They said, "O Dhul-Qarnayn, indeed Gog and Magog1 are [great] corrupters in the land. So may we assign for you an expenditure that you might make between us and them a barrier?"

قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيۡرٞ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا ٩٥

He said, "That in which my Lord has established me is better [than what you offer], but assist me with strength [i.e., manpower]; I will make between you and them a dam.

ءَاتُونِي زُبَرَ ٱلۡحَدِيدِۖ حَتَّىٰٓ إِذَا سَاوَىٰ بَيۡنَ ٱلصَّدَفَيۡنِ قَالَ ٱنفُخُواْۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَعَلَهُۥ نَارٗا قَالَ ءَاتُونِيٓ أُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرٗا ٩٦

Bring me bars of iron" - until, when he had leveled [them] between the two mountain walls, he said, "Blow [with bellows]," until when he had made it [like] fire, he said, "Bring me, that I may pour over it molten copper."

فَمَا ٱسۡطَٰعُوٓاْ أَن يَظۡهَرُوهُ وَمَا ٱسۡتَطَٰعُواْ لَهُۥ نَقۡبٗا ٩٧

So they [i.e., Gog and Magog] were unable to pass over it, nor were they able [to effect] in it any penetration.

قَالَ هَٰذَا رَحۡمَةٞ مِّن رَّبِّيۖ فَإِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّي جَعَلَهُۥ دَكَّآءَۖ وَكَانَ وَعۡدُ رَبِّي حَقّٗا ٩٨

[Dhul-Qarnayn] said, "This is a mercy from my Lord; but when the promise of my Lord1 comes [i.e., approaches], He will make it level, and ever is the promise of my Lord true."

پھر پیچھے لگا وہ (اور) راہ کے (89) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا جائے طلوع پر آفتاب کی تو پایا اسے کہ وہ طلوع ہو رہا ہے ایسی قوم پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے سورج کے اس طرف کوئی پردہ (90) اسی طرح تھااور تحقیق احاطہ کر لیا تھا ہم نے اس کا جو کچھ کہ اس کے پاس تھا باعتبار علم کے (91) پھر پیچھے لگا وہ ایک راہ کے (92) یہاں تک کہ جب وہ پہنچا درمیان دو دیواروں کے تو پایا اس نے ان دونوں کے اس طرف ایک قوم کو کہ نہیں قریب تھی کہ سمجھ سکتی وہ کوئی بات (93) انھوں نے کہا، اے ذوالقرنین! بلاشبہ یاجوج اور ماجوج فساد کرنے والے ہیں زمین میں تو کیا مقرر کریں ہم تیرے لیے کچھ مال اوپر اس (شرط) کے کہ بنا دے تو درمیان ہمارے اوردرمیان ان کے ایک بند (94) اس نے کہا، جو قدرت دی ہے مجھے اس میں میرے رب نے، بہت بہتر ہے، پس تم مدد کرو میری، ساتھ قوت کے تو بنا دوں گا میں تمھارے درمیان اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار (95) تم لادو مجھے تختے لوہے کے، یہاں تک کہ جب اس نے برابر کر دیا دونوں پہاڑوں کے سروں کے درمیان تو کہا، دھونکو (پھونکو) تم، یہاں تک کہ جب اس نے بنا دیا اسے آگ تو کہا، لاؤ میرے پاس، میں ڈال دوں اس پر پگھلا ہوا تانبا (96) پس نہ تو وہ استطاعت رکھتے تھے یہ کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ استطاعت رکھتے تھے اس میں سوراخ کرنے کی (97) ذوالقرنین نے کہا، یہ رحمت ہے میرے رب کی، پس جب آجائے گا وعدہ میرے رب کا تو وہ کر دے گا اسے ہموار (زمین) اور ہے وعدہ میرے رب کا حق (98)

[89] یعنی جب وہ غروب آفتاب کی حدود تک پہنچ گیا تو واپس لوٹا اور ان اسباب کے ذریعے سے جو اللہ نے اسے عطا کررکھے تھے طلوع آفتاب کی حدود کا قصد کیا۔

[90] پس وہ طلوع آفتاب کی حدود میں پہنچ گیا تو ﴿ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلٰى قَوۡمٍ لَّمۡ نَجۡعَلۡ لَّهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهَا سِتۡرًا ﴾ ’’پایا سورج کو کہ وہ ایسی قوم پر نکلتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے آفتاب کے ورے کوئی پردہ‘‘ یعنی اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے کہ جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا یا تو اس بنا پر کہ وہ بنانے کی استعداد نہ رکھتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ یکسر وحشی اور غیر متمدن تھے … یا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس سورج غروب نہیں ہوتا تھا ہمیشہ نظر آتا رہتا تھا۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کے مشرقی حصوں میں ہوتا ہے۔ ذوالقرنین اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کسی انسان کا اپنے ظاہری بدن کے ساتھ پہنچنا تو کجا انسان کو ان علاقوں کے بارے میں علم تک نہ تھا …

[91] بایں ہمہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے علم کے مطابق تھا۔ اس لیے فرمایا: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَقَدۡ اَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرًا ﴾ ’’یونہی ہے اور تحقیق ہم نے گھیر لیا تھا اس کے پاس کی تمام خبروں کو‘‘ یعنی ذوالقرنین کے پاس جو بھلائی اور عظیم اسباب تھے اور جہاں کہیں وہ جاتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا۔

[93,92]﴿ ثُمَّ اَتۡبَعَ سَبَبًا حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَيۡنَ السَّدَّيۡنِ ﴾ ’’پھر لگا وہ ایک سامان کے پیچھے، یہاں تک کہ جب پہنچا وہ دو پہاڑوں کے درمیان‘‘ اصحاب تفسیر کہتے ہیں کہ وہ مشرق سے شمال کی طرف روانہ ہوا اور وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا اور یہ دونوں اس زمانے میں معروف تھے۔ یہ دائیں بائیں دو بندوں کی مانند دو پہاڑی سلسلے تھے اور دونوں پہاڑ یاجوج وماجوج اور لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھے۔ ذوالقرنین کو ان پہاڑی سلسلوں کے اس طرف ایک ایسی قوم ملی جو اپنی اجنبی زبان اور اذہان و قلوب میں ابہام ہونے کی وجہ سے کوئی بات سمجھنے سے قاصر تھی۔

[94] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذوالقرنین کو ایسے علمی اسباب مہیا کر رکھے تھے جن کی بنا پر وہ اس اجنبی قوم کی زبان سمجھ سکتا تھا، ان سے بات چیت کر سکتا تھا اور وہ اس سے بات کر سکتے تھے۔ پس ان لوگوں نے اس کے سامنے یاجوج وماجوج کی مار دھاڑ کی شکایت کی۔ یاجوج وماجوج آدمu کی نسل سے دو بہت بڑے گروہ تھے … ان لوگوں نے ذوالقرنین کے پاس شکایت کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ يَاۡجُوۡجَ وَمَاۡجُوۡجَ مُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یاجوج وماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں ‘‘ یعنی قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے سے زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ ﴿فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا ﴾ ’’پس (تو کہے) تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول‘‘ یعنی خراج ﴿ عَلٰۤى اَنۡ تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّا ﴾ ’’اس شرط پر کہ تو بنا دے ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ وہ بند بنانے کی خود قدرت نہ رکھتے تھے اور انھیں علم تھا کہ ذوالقرنین یہ دیوار تعمیر کروا سکتا ہے۔ پس انھوں نے ذوالقرنین کو اجرت ادا کرنے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کے لیے دیوار تعمیر کروا دے اور انھوں نے ذوالقرنین کو وہ سبب بھی بتایا جو دیوار تعمیر کرنے کا داعی تھا … اور وہ تھا یاجوج ماجوج کا ان کے علاقے میں مار دھاڑ کرنا اور فساد پھیلانا۔

[95] ذوالقرنین لالچی تھا نہ دنیا کی اسے کوئی رغبت تھی اور نہ وہ رعایا کی اصلاح احوال کے لیے کوشش ترک کرنے والا تھا بلکہ اس کا مقصد تو محض اصلاح تھا، اس لیے اس نے ان کا مطالبہ مان لیا کیونکہ اس میں مصلحت تھی اور ان سے دیوار تعمیر کروانے کی اجرت نہ لی، اس نے بس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اسے دیوار بنانے کی طاقت اور قدرت عطا کی چنانچہ ذوالقرنین نے ان سے کہا:﴿مَا مَكَّنِّيۡ فِيۡهِ رَبِّيۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’مجھے میرے رب نے جو قوت عطا کی ہے، وہ بہتر ہے‘‘ یعنی جو بھلائی مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تم مجھے عطا کرنا چاہتے ہو، البتہ میں چاہتا ہوں کہ تم افرادی قوت اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے سے میری مدد کرو۔ ﴿ اَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُمۡ رَدۡمًا﴾ ’’میں بنا دیتا ہوں تمھارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار‘‘ یعنی میں ایسی رکاوٹ تعمیر کیے دیتا ہوں جسے وہ عبور کر کے تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے۔

[96]﴿ اٰتُوۡنِيۡ زُبَرَ الۡحَدِيۡدِ﴾ ’’لادو تم مجھے لوہے کے تختے‘‘ یعنی لوہے کے ٹکڑے۔ پس انھوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لا دیے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيۡنَ الصَّدَفَيۡنِ ﴾ ’’حتیٰ کہ جب اس نے دونوں کناروں تک برابر کر دیا‘‘ یعنی جب دیوار ان دو پہاڑوں کے برابر ہو گئی جن کے درمیان یہ دیوار بنائی گئی تھی۔ ﴿ قَالَ انۡفُخُوۡا﴾ ’’کہا دھونکو‘‘ یعنی بہت بڑا الاؤ جلاؤ اس کے لیے بڑی بڑی دھونکنی استعمال کرو تاکہ آگ کی تپش بہت شدید ہو جائے اور تانبا اچھی طرح پگھل جائے۔ جب تانبا پگھل گیا جس کو وہ فولاد کے تختوں کے درمیان ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿ قَالَ اٰتُوۡنِيۡۤ اُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرًا ﴾ تو ’’کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔‘‘ پس اس نے پگھلا ہوا تانبا دیوار پر ڈالا جس سے دیوار بے پناہ مضبوط ہو گئی اور یوں دیوار سے ادھر رہنے والے لوگ یاجوج اور ماجوج کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے۔

[97]﴿ فَمَا اسۡطَاعُوۡۤا اَنۡ يَّظۡهَرُوۡهُ وَمَا اسۡتَطَاعُوۡا لَهٗ نَقۡبًا ﴾ یعنی وہ اس دیوار پر چڑھنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ بہت بلند تھی اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے کیونکہ یہ بے حد مضبوط تھی۔

[98] جب وہ اس اچھے اور جلیل القدر کام سے فارغ ہوا تو اس نے اس نعمت کی اضافت نعمت عطا کرنے والے کی طرف کی۔ اس نے کہا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَحۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّيۡ﴾ ’’یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی‘‘ یعنی یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ اور یہ صالح خلفاء کا حال ہے، جب اللہ تعالیٰ انھیں جلیل القدر نعمتوں سے نوازتا ہے تو ان کے شکر، اللہ تعالیٰ کی نعمت کے اقرار اور اعتراف میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمانu نے … جب اتنی دور سے ملکہء سبا کا تخت ان کی خدمت میں حاضر کیا گیا تھا … اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا:﴿ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ ﴾(النمل:27؍40)’ ’یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں ۔‘‘ اس کے برعکس جابر، متکبر اور زمین پر عام غالب لوگوں کو بڑی بڑی نعمتیں اور زیادہ متکبر اور مغرور بنا دیتی ہیں ، جیسا کہ قارون نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے خزانے عطا کیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی، کہا تھا:﴿ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ عِنۡدِيۡ ﴾(القصص :28؍ 78) ’’یہ دولت مجھے اس علم کی بنا پر دی گئی ہے جو مجھے حاصل ہے۔‘‘ ﴿ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پس جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا‘‘ یعنی یاجوج وماجوج کے خروج کا وعدہ﴿ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ﴾ ’’اس کو برابر کردے گا۔‘‘ یعنی اس مضبوط اور مستحکم دیوار کو گرا کر منہدم کر دے گا اور وہ زمین کے ساتھ برابر ہو جائے گی۔ ﴿ وَؔكَانَ وَعۡدُ رَبِّيۡ حَقًّا﴾ ’’اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔‘‘

18:99–101Page 304

۞ وَتَرَكۡنَا بَعۡضَهُمۡ يَوۡمَئِذٖ يَمُوجُ فِي بَعۡضٖۖ وَنُفِخَ فِي ٱلصُّورِ فَجَمَعۡنَٰهُمۡ جَمۡعٗا ٩٩

And We will leave them that day1 surging over each other, and [then] the Horn will be blown, and We will assemble them in [one] assembly.

وَعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡكَٰفِرِينَ عَرۡضًا ١٠٠

And We will present Hell that Day to the disbelievers, on display -

ٱلَّذِينَ كَانَتۡ أَعۡيُنُهُمۡ فِي غِطَآءٍ عَن ذِكۡرِي وَكَانُواْ لَا يَسۡتَطِيعُونَ سَمۡعًا ١٠١

Those whose eyes had been within a cover [removed] from My remembrance,1 and they were not able to hear.2

اور چھوڑیں گے ہم ان کے بعض کو اس دن، وہ گھس جائیں گے بعض میں اور پھونکا جائے گا صور میں ، پھر جمع کریں گے ہم ان سب کو (99) اور سامنے لے آئیں گے ہم جہنم کو اس دن، کافروں کے روبرو (100)وہ لوگ کہ تھیں آنکھیں ان کی پردے میں میری یاد سےاور تھے وہ نہیں استطاعت رکھتے سننے کی (101)

[99]﴿ وَتَرَؔكۡنَا بَعۡضَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ يَّمُوۡجُ فِيۡ بَعۡضٍ ﴾ ’’اور چھوڑ دیں گے ہم ان کے بعض کو اس دن ایک دوسرے میں گھستے‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ ضمیر یاجوج وماجوج کی طرف لوٹتی ہو۔ جب وہ اپنے علاقوں سے نکل کر لوگوں پر حملہ آور ہوں گے تو اپنی کثرت اور تمام زمین پر پھیل جانے اور اس کو بھر دینے کی وجہ سے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتۡ يَاۡجُوۡجُ وَمَاۡجُوۡجُ وَهُمۡ مِّنۡ كُلِّ حَدَبٍ يَّنۡسِلُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍96) ’’یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ ہر بلند جگہ سے اتر پڑیں گے۔‘‘ اور یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر خلائق کی طرف لوٹتی ہو یہ کہ لوگ قیامت کے روز اکٹھے ہوں گے وہ بہت زیادہ ہوں گے اور اضطراب، ہول اور زلزلوں کی وجہ سے ایک دوسرے کو دھکم پیل کر رہے ہوں گے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ:﴿ وَّنُفِخَ فِي الصُّوۡرِ فَجَمَعۡنٰهُمۡ جَمۡعًاۙ وَّعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ عَرۡضَا ِ۟ ۰۰الَّذِيۡنَ كَانَتۡ اَعۡيُنُهُمۡ فِيۡ غِطَآءٍ عَنۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكَانُوۡا لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَمۡعًا ﴾ یعنی جب اسرافیلu صور پھونکیں گے تو اللہ تعالیٰ تمام ارواح کو جسموں میں واپس لوٹا دے گا، پھر تمام اولین و آخرین، کفار اور مومنین کو اکٹھا کر کے میدان قیامت میں جمع کرے گا تاکہ ان سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے، ان کا محاسبہ کیا جائے اور ان کے اعمال کی جزا دی جائے۔

[100] پس کفار کو، ان کے کفر کے مطابق، جہنم میں ڈالا جائے گا جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ وَّعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلۡكٰفِرِيۡنَ عَرۡضًا﴾ ’’اور دکھلا دیں گے ہم جہنم اس دن کافروں کو سامنے‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَبُرِّزَتِ الۡجَحِيۡمُ لِلۡغٰوِيۡنَ ﴾(الشعراء:26؍91) ’’اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لایا جائے گا۔‘‘ یعنی کفار کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ یہ ان کا ٹھکانا بنے اور تاکہ کفار جہنم کی بیڑیوں اس کی بھڑکتی ہوئی آگ، اس کے ابلتے ہوئے پانی اور اس کی ناقابل برداشت سردی سے متمتع ہوں اور اس کے عذاب کا مزا چکھیں جس سے دل گونگے اور کان بہرے ہو جائیں گے۔

[101] یہ ان کے اعمال کا نتیجہ اور ان کے افعال کی جزا ہے۔یہ لوگ دنیا میں اس حال میں تھے: ﴿ كَانَتۡ اَعۡيُنُهُمۡ فِيۡ غِطَآءٍ عَنۡ ذِكۡرِيۡ ﴾ ’’ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا تھا میری یاد سے‘‘ یعنی یہ لوگ ذکر حکیم اور قرآن کریم سے روگردانی کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے: ﴿ قُلُوۡبُنَا فِيۡۤ اَ كِنَّةٍ مِّؔمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ ﴾(حمٓ السجدۃ:41؍5) ’’جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں ۔‘‘ اور ان کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں جو ان کو اللہ تعالیٰ کی فائدہ مند نشانیوں کو دیکھنے سے روکتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَعَلٰۤى اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَةٌ ﴾(البقرۃ:2؍7) ’’اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔‘‘ ﴿ وَؔكَانُوۡا لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ سَمۡعًا ﴾ ’’اور وہ نہیں طاقت رکھتے تھے سننے کی‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو، جو ایمان تک پہنچاتی ہیں ، قرآن اور رسول (ﷺ) کے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے سن نہیں سکتے کیونکہ بغض رکھنے والا شخص جس کے خلاف بغض رکھتا ہے اس کی بات کو غور سے سن نہیں سکتا۔ جب وہ علم اور بھلائی کے راستوں سے محجوب ہو جاتے ہیں تب ان کے پاس سننے کے لیے کان ہوتے ہیں نہ دیکھنے کے لیے آنکھیں اور نہ سمجھنے کے لیے عقل نافع۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کفر کیا، اس کی آیات کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا، اس لیے وہ جہنم کے مستحق ٹھہرے جو بہت برا ٹھکانا ہے۔

18:102Page 304

أَفَحَسِبَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَن يَتَّخِذُواْ عِبَادِي مِن دُونِيٓ أَوۡلِيَآءَۚ إِنَّآ أَعۡتَدۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكَٰفِرِينَ نُزُلٗا ١٠٢

Then do those who disbelieve think that they can take My servants instead of Me as allies? Indeed, We have prepared Hell for the disbelievers as a lodging.

کیا پس گمان کیا ہے ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، یہ کہ ٹھہرائیں وہ میرے بندوں کو، سوائے میرے، کارساز؟ بلاشبہ ہم نے تیار کیا ہے جہنم کو کافروں کے لیے بطور مہمانی (102)

[102] یہ مشرکین اور کافروں کے دعوے کے بطلان کی دلیل ہے جنھوں نے بعض انبیائے کرام اور اولیاء اللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیا، وہ ان کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ اولیائے کرام ان کے مددگار ہوں گے جو ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلائیں گے اور ثواب عطا کریں گے، حالانکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں سے کفر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ استفہام اور انکار کے پیرائے میں ، جس سے ان کے اس عقیدے کا عقلی طور پر بطلان متحقق ہوتا ہے… فرماتا ہے:﴿ اَفَحَسِبَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنۡ يَّؔتَّؔخِذُوۡا عِبَادِيۡ مِنۡ دُوۡنِيۡۤ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’کیا سمجھتے ہیں کافر لوگ کہ ٹھہرائیں میرے بندوں کو میرے سوا دوست‘‘ یعنی ایسا نہیں ہو سکتا اور کوئی ولی اللہ، اللہ تعالیٰ کے کسی دشمن کو اپنا دوست نہیں بنا سکتا کیونکہ تمام اولیاء اللہ، اللہ تعالیٰ سے محبت، اس کی رضا، اس کی ناراضی اور اس کے بغض کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی موافقت کرتے ہیں ۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد، اس کے اس ارشاد کے مشابہہ ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ يَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اَهٰۤؤُلَآءِ اِيَّاكُمۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ۰۰ قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ اَنۡتَ وَلِيُّنَا مِنۡ دُوۡنِهِمۡ ﴾(سبا:34؍40-41) ’’جس روز اللہ تمام لوگوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے (ان مشرکین کے متعلق) پوچھے گا کیا یہی وہ لوگ ہیں جو تمھاری عبادت کیا کرتے تھے؟ تو وہ جواب میں عرض کریں گے تو پاک ہے ان کی بجائے تو ہمارا ولی (دوست) ہے۔‘‘ پس جو کوئی اس زعم میں مبتلا ہے کہ اس نے ولی اللہ کو اپنا دوست بنا لیا ہے جبکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے۔ تو وہ سخت جھوٹا ہے … ظاہر میں اس آیت میں اس معنیٰ کا احتمال ہے کہ کیا کفار نے، جو اللہ تعالیٰ کے منکر اور اس کے رسولوں کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں یہ گمان کیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو اپنا ولی و مددگار بنا لیں گے جو ان کی مدد کریں گے، ان کو فائدہ پہنچائیں گے اور ان سے تکلیفوں کو دور کریں گے؟ یہ ان کا باطل خیال اور فاسد گمان ہے کیونکہ مخلوق میں سے کسی کے قبضہء قدرت میں نفع ونقصان نہیں ۔ یہ معنیٰ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے مشابہت رکھتا ہے۔ ﴿ قُلِ ادۡعُوا الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ فَلَا يَمۡلِكُوۡنَ كَشۡفَ الضُّرِّ عَنۡكُمۡ وَلَا تَحۡوِيۡلًا ﴾(بنی اسرائیل:17؍56) ’’کہہ دیجیے کہ تم پکار دیکھو اپنے ان خود ساختہ معبودوں کو جن کو تم اللہ کے سوا کارساز سمجھتے ہو تو (یاد رکھو) وہ تمھاری تکلیف دور کرنے کی قدرت رکھتے ہیں نہ بدلنے کی۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مشابہہ ہے۔ ﴿ وَلَا يَمۡلِكُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِ الشَّفَاعَةَ ﴾(الزخرف:43؍86) ’’وہ لوگ جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ، سفارش کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔‘‘ اور اس قسم کی دیگر آیات جن میں اللہ تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی کو ولی و مددگار بناتا ہے تاکہ وہ اس کی مدد کرے اور اس سے موالات رکھے وہ گمراہ ہے، وہ خائب و خاسر ہے اس کی امید پوری نہیں ہو گی اور نہ وہ اپنے مقصد کو پا سکے گا۔ ﴿ اِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ نُزُلًا ﴾ ’’بے شک ہم نے تیار کیا ہے جہنم کو کافروں کی مہمانی کے لیے۔‘‘ یعنی ہم نے کفار کی ضیافت اور مہمانی کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے۔ پس کیا بدترین قیام گاہ ان کا مسکن ہے اور کیا بدترین جہنم ان کی مہمانی ہے!

18:103–106Page 304

قُلۡ هَلۡ نُنَبِّئُكُم بِٱلۡأَخۡسَرِينَ أَعۡمَٰلًا ١٠٣

Say, [O Muḥammad], "Shall we [believers] inform you of the greatest losers as to [their] deeds?

ٱلَّذِينَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَهُمۡ يَحۡسَبُونَ أَنَّهُمۡ يُحۡسِنُونَ صُنۡعًا ١٠٤

[They are] those whose effort is lost in worldly life, while they think that they are doing well in work."

أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمۡ وَلِقَآئِهِۦ فَحَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ فَلَا نُقِيمُ لَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَزۡنٗا ١٠٥

Those are the ones who disbelieve in the verses of their Lord and in [their] meeting Him, so their deeds have become worthless; and We will not assign to them on the Day of Resurrection any weight [i.e., importance].

ذَٰلِكَ جَزَآؤُهُمۡ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُواْ وَٱتَّخَذُوٓاْ ءَايَٰتِي وَرُسُلِي هُزُوًا ١٠٦

That is their recompense - Hell - for what they denied and [because] they took My signs and My messengers in ridicule.

کہہ دیجیے! کیا ہم خبردیں تمھیں زیادہ خسارہ پانے والوں کی عملوں کے اعتبار سے؟ (103) وہ لوگ ضائع ہوگئی کوشش ان کی زندگانیٔ دنیا میں ، جبکہ وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ اچھا کر رہے ہیں کام (104) یہی لوگ ہیں جنھوں نے انکار کیا آیات کا اپنے رب کی اور اس کی ملاقات کا، پس برباد ہو گئے عمل ان کے، سو نہیں قائم کریں گے ہم ان کے لیے دن قیامت کے کوئی وزن (105) یہ، سزا ان کی جہنم ہے بوجہ اس کے کفر کیا انھوں نےاور بنایا انھوں نے میری آیتوں کو اور میرے رسولوں کو ٹھٹھا (106)

[103] اے محمد!(ﷺ) لوگوں کو ڈرانے کے لیے کہہ دیجیے ! کیا میں تمھیں اس شخص کے بارے میں آگاہ کروں جو علی الاطلاق، اپنے اعمال میں سب سے زیادہ خائب و خاسر ہے؟

[104]﴿اَلَّذِيۡنَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’وہ لوگ جن کی کوششیں رائیگاں گئیں دنیا کی زندگی میں ۔‘‘ یعنی انھوں نے جو بھی عمل کیا سب باطل ہو کر رائیگاں گیا اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں ۔ تب ان اعمال کا کیا حال ہو گا جن کے بارے میں وہ خود بھی جانتے ہیں کہ یہ باطل ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت ہے؟

[105] پس یہ کون لوگ ہیں جن کے اعمال رائیگاں گئے، جو قیامت کے روز خود اور ان کے اہل و عیال سب خائب و خاسر ہوئے۔ آگاہ رہو، یہ تو کھلا خسارہ ہے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ وَلِقَآىِٕهٖ﴾ ’’یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا‘‘ یعنی جنھوں نے آیات قرآنی اور آیات عیانی، جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کے رسولوں ، اس کی کتابوں اور یوم آخرت پر ایمان کی موجب ہیں … کا انکار کیا ﴿ فَحَبِطَتۡ ﴾ ’’پس برباد ہو گئے‘‘ اس انکار کے باعث ﴿ اَعۡمَالُهُمۡ فَلَا نُقِيۡمُ لَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَزۡنًا ﴾ ’’ان کے عمل، پس نہیں قائم کریں گے ہم ان کے لیے قیامت کے روز کوئی تول۔‘‘ وزن کا فائدہ تو نیکیوں اور برائیوں کے مقابلے کے وقت ہوتا ہے تاکہ راجح اور مرجوح کو دیکھا جا سکے اور ان لوگوں کے پاس تو نیکیاں سرے سے ہیں ہی نہیں کیونکہ ان میں نیکیوں کے معتبر ہونے کی شرط معدوم ہے اور وہ ہے ایمان۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَا يَخٰؔفُ ظُلۡمًا وَّلَا هَضۡمًا﴾(طٰہ:20؍112) ’’جو کوئی نیک عمل کرتا ہے اور وہ مومن بھی ہے تو اسے کسی ظلم اور حق تلفی کا خوف نہ ہو گا۔‘‘ لیکن ان کے اعمال کو شمار کیا جائے گا اور وہ اپنے اعمال کا اقرار کریں گے اور وہ گواہوں کے سامنے ذلیل و رسوا ہوں گے اور پھر ان اعمال کی پاداش میں انھیں عذاب دیا جائے گا۔

[106] اس لیے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمۡ﴾ ’’یہ بدلہ ہے ان کا‘‘ یعنی ان کے اعمال کا ضائع جانا ان کے کرتوتوں کا بدلہ ہے، قیامت کے روز ان کی حقارت اور خساست کی وجہ سے ان کے اعمال کا کوئی وزن ہی نہیں ہو گا کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ استہزا کیا اور ان کا تمسخر اڑایا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسولوں پر کامل طور پر ایمان لانا، ان آیات کی تعظیم کرنا اور انھیں پوری طرح قائم کرنا فرض ہے۔ مگر اس قضیے میں ان کا عمل اس کے برعکس ہے اس لیے وہ ہلاک ہوئے اور اوندھے منہ جہنم میں جا گرے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار اور ان کے اعمال کا انجام کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان اور ان کے اعمال کا انجام ذکر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:

18:107–108Page 304

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ كَانَتۡ لَهُمۡ جَنَّٰتُ ٱلۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًا ١٠٧

Indeed, those who have believed and done righteous deeds - they will have the Gardens of Paradise1 as a lodging,

خَٰلِدِينَ فِيهَا لَا يَبۡغُونَ عَنۡهَا حِوَلٗا ١٠٨

Wherein they abide eternally. They will not desire from it any transfer.

بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ہوں گے ان کے لیے باغات فردوس کے بطور مہمانی کے (107) اس حال میں کہ وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ، نہیں چاہیں گے وہ اس سے جگہ بدلنا (108)

[107] یعنی جو اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے جوارح سے نیک عمل کیے اور یہ وصف تمام دین، یعنی اس کے عقائد و اعمال اور اس کے ظاہری اور باطنی اصول و فروع سب کو شامل ہے۔ تمام اہل ایمان کو، ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کے مراتب کے مطابق، جنت فردوس کے مختلف طبقات عطا ہوں گے۔ ’’جنات الفرودس‘‘ میں اس معنیٰ کا احتمال ہے کہ اس سے مراد جنت کا بلند ترین ، بہترین اور افضل درجہ ہو اور یہ ثواب ان لوگوں کے لیے ہے جنھوں نے اپنے ایمان اور اعمال صالحہ کی تکمیل کی اور وہ ہیں انبیائے کرام اور مقربین۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے جنت کی تمام منازل اور اس کے تمام درجے مراد ہوں اور یہ ثواب جنت کے تمام طبقات، یعنی مقربین، ابرار اور متوسطین ان کے حسب حال سب کوشامل ہو اور یہی معنیٰ زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ معنی عام ہے، نیز اس لیے کہ جنت کو جمع کے لفظ کے ساتھ ’’فردوس‘‘ کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں فردوس کا اطلاق اس باغ پر ہوتا ہے جو انگور کی بیلوں اور گنجان درختوں پر مشتمل ہو تب یہ لفظ تمام جنت پر صادق آتا ہے۔ پس جنت فردوس ان لوگوں کے لیے مہمانی اور ضیافت کی جگہ ہے جنھوں نے ایمان لانے کے بعد نیک عمل کیے۔ اس ضیافت سے بڑی، زیادہ عظیم اور زیادہ جلیل القدر کون سی ضیافت ہو سکتی ہے جو قلب و روح اور بدن کے لیے ہر نعمت پر مشتمل ہے۔ اس میں ہر وہ نعمت موجود ہے جس کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی، مثلاً:خوبصورت گھر، سرسبز باغات، پھل دار درخت، سحرانگیز گیت، گاتے ہوئے پرندے، لذید ماکولات و مشروبات، خوبصورت بیویاں ، خدمت گزار لڑکے، بہتی ہوئی نہریں ، دلکش مناظر، حسی اور معنوی حسن و جمال اور ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ۔ اس سے بھی افضل اور جلیل القدر نعمت، رحمٰن کا تقرب، اس کی رضا کا حصول جو کہ جنت کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دیدار اور رؤف و رحیم کے کلام سے لطف اندوز ہونا … اللہ کی قسم! یہ ضیافت کتنی جلیل القدر کتنی خوبصورت، ہمیشہ رہنے والی اور کتنی کامل ہو گی۔ یہ ضیافت اس سے بہت بڑی ہے کہ مخلوق میں سے کوئی شخص اس کا وصف بیان کر سکے یا دلوں میں اس کے تصور کا گزر ہو سکے۔ اگر بندوں کو ان میں سے کچھ نعمتوں کا حقیقی علم حاصل ہو کر ان کے دلوں میں جاگزیں ہو جائے تو دل شوق سے اڑنے لگیں گے، جدائی کے درد سے روح لخت لخت ہو جائے گی اور بندے اکیلے اکیلے اور گروہ در گروہ اس کی طرف کھنچے چلے آئیں گے۔ وہ اس کے مقابلے میں دنیائے فانی اور اس کی ختم ہو جانے والی لذات کو کبھی بھی ترجیح نہیں دیں گے۔ وہ اپنے اوقات کو ضائع نہیں کریں گے کہ یہ اوقات خسارے اور ناکامی کا باعت بنیں کیونکہ اس جنت کا ایک لمحہ دنیا کی ہزاروں سال کی نعمتوں کے برابر ہے۔ مگر حقیقت حال یہ ہے کہ غفلت نے گھیر رکھا ہے، ایمان کمزور پڑ گیا اور ارادہ اضمحلال کا شکار ہو گیا ہے، پس اس کا نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا چاہیے تھا، فلاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم.

[108] اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘ یہ تکمیل نعمت ہے۔ جنت میں کامل نعمتیں عطا ہوں گی اور ان نعمتوں کی تکمیل یہ ہے کہ وہ کبھی منقطع نہیں ہوں گی۔ ﴿ لَا يَبۡغُوۡنَ عَنۡهَا حِوَلًا ﴾ ’’نہیں چاہیں گے وہ وہاں سے جگہ بدلنی‘‘ یعنی وہ ان نعمتوں سے منتقل ہونا نہیں چاہیں گے کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دیکھیں گے جو انھیں پسند آئے اور اچھی لگے، جس سے وہ خوش ہوں اور فرحت حاصل کریں اور اس سے بڑھ کر انھیں کوئی نعمت نظر نہیں آئے گی جس سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے۔

18:109Page 304

قُل لَّوۡ كَانَ ٱلۡبَحۡرُ مِدَادٗا لِّكَلِمَٰتِ رَبِّي لَنَفِدَ ٱلۡبَحۡرُ قَبۡلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَٰتُ رَبِّي وَلَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِهِۦ مَدَدٗا ١٠٩

Say, "If the sea were ink for [writing] the words1 of my Lord, the sea would be exhausted before the words of my Lord were exhausted, even if We brought the like of it in [continual] supplement."

کہہ دیجیے، اگر ہو جائے سمندر (کا پانی) سیاہی، باتیں لکھنے کے لیے میرے رب کی تو ا لبتہ ختم ہو جائے سمندر پہلے اس سے کہ ختم ہوں باتیں میرے رب کی، اگر چہ لے آئیں ہم مثل اس کے (اور) بطور مدد کے (109)

[109] یعنی انھیں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی لامحدود صفات کے متعلق آگاہ کر دیجیے، نیز ان سے یہ بھی کہہ دیجیے کہ بندے ان صفات کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکتے۔ ﴿ لَّوۡ كَانَ الۡبَحۡرُ ﴾ ’’اگر ہوں سمندر‘‘ یعنی اس دنیا میں موجود تمام سمندر ﴿ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيۡ ﴾ ’’میرے رب کے کلمات لکھنے کے لیے روشنائی‘‘ یعنی روز اول سے لے کر آخرتک شہروں اور صحراؤں کے تمام درختوں کی قلمیں بن جائیں اور سمندر روشنائی میں تبدیل ہو جائیں ۔ ﴿ لَنَفِدَ الۡبَحۡرُ ﴾ تو سمندر ختم ہو جائیں گے اور قلم (لکھتے لکھتے گھس کر) ٹوٹ جائیں گے۔ ﴿ قَبۡلَ اَنۡ تَنۡفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّيۡ ﴾ ’’پہلے اس کے کہ ختم ہوں میرے رب کی باتیں ‘‘ اور یہ بہت بڑی چیز ہے۔ مخلوق میں سے کوئی ہستی اس کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ ایک اور آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَلَوۡ اَنَّ مَا فِي الۡاَرۡضِ مِنۡ شَجَرَةٍ اَقۡلَامٌؔ وَّالۡبَحۡرُ يَمُدُّهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ سَبۡعَةُ اَبۡحُرٍ مَّا نَفِدَتۡ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ﴾(لقمان:31؍27) ’’زمین پر جتنے بھی درخت ہیں ، اگر وہ سب قلم بن جائیں ، سمندر، جیسے سات سمندر روشنائی مہیا کریں ، دوات بن جائیں تب بھی اللہ کی باتیں لکھتے لکھتے ختم نہ ہوں گی، بے شک اللہ غالب، حکمت والا ہے۔‘‘ یہ معانی کو ذہن کے قریب تر کرنے کا ایک اسلوب ہے کیونکہ یہ تمام اشیاء مخلوق ہیں اور تمام مخلوقات ختم ہونے والی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا کلام اس کی جملہ صفات میں شمار ہوتا ہے اور اس کی صفات غیر مخلوق ہیں جن کی کوئی حدو انتہا نہیں ۔ پس جتنی بھی عظمتیں اور وسعتیں ہیں ، جن کا تصور دلوں میں آ سکتا ہے، اللہ تعالیٰ ان سب سے بڑھ کر ہے۔ اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کی باقی صفات کامعاملہ ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ کا علم، اس کی حکمت، اس کی قدرت اور اس کی رحمت … اگر زمین اور آسمان کی مخلوق میں سے تمام اولین و آخرین کے علم کو اکٹھا کر لیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے لامحدود علم کے مقابلے میں اتنا ہی قلیل ہے جتنا ایک چڑیا کی چونچ میں وہ پانی جو وہ ایک سمندر سے لیتی ہے۔ اس قطرہ آب کو جو نسبت عظیم سمندر سے ہے، وہی نسبت عام انسانوں کی صفت کو اللہ کی عظیم صفات سے ہے۔ یہ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ عظیم، لامحدود اور کامل صفات کا مالک ہے اور ہر چیز کی انتہا اللہ ہی کے پاس ہے۔

18:110Page 304

قُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٞ مِّثۡلُكُمۡ يُوحَىٰٓ إِلَيَّ أَنَّمَآ إِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞۖ فَمَن كَانَ يَرۡجُواْ لِقَآءَ رَبِّهِۦ فَلۡيَعۡمَلۡ عَمَلٗا صَٰلِحٗا وَلَا يُشۡرِكۡ بِعِبَادَةِ رَبِّهِۦٓ أَحَدَۢا ١١٠

Say, "I am only a man like you, to whom has been revealed that your god is one God. So whoever would hope for the meeting with his Lord - let him do righteous work and not associate in the worship of his Lord anyone."

(اے پیغمبر!) کہہ دیجیے، یقینا میں تو بشر ہوں تمھاری ہی طرح، وحی کی جاتی ہے میری طرف یہ کہ بلاشبہ تمھارا معبود، معبود ہے ایک ہی پس جو شخص ہے امید رکھتا ملاقات کی اپنے رب سے تو چاہیے کہ وہ عمل کرے عمل صالح اور نہ شریک ٹھہرائے اپنے رب کی عبادت میں کسی کو بھی (110)

[110]﴿ قُلۡ ﴾ اے محمد (ﷺ) ان کفار سے کہہ دیجیے! ﴿ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ ﴾ ’’میں بھی ایک آدمی ہوں جیسے تم‘‘ یعنی میں معبود نہیں ، اقتدار الٰہی میں میرا کوئی حصہ ہے نہ میرے پاس کوئی علم عیب ہے اور نہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہی ہیں :﴿ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ ﴾ میں اپنے رب کے بندوں میں سے ایک بندہ ہوں ۔ ﴿ يُوۡحٰۤى اِلَيَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ﴾ ’’وحی آتی ہے مجھ پر کہ تمھارا معبود ایک معبود ہے‘‘ یعنی مجھے تم پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ میری طرف وحی کرتا ہے اور جلیل ترین وحی یہ ہے کہ اس نے تمھیں آگاہ کیا ہے کہ تمھارا معبود ایک ہے، یعنی اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ کوئی ذرہ بھر عبادت کا مستحق ہے اور میں تمھیں ان اعمال کی دعوت دیتا ہوں جو تمھیں اللہ تعالیٰ کے قریب اور اس کے ثواب سے بہرہ ور کرتے ہیں اور تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دور کرتے ہیں ۔ اسی لیے فرمایا:﴿ فَمَنۡ كَانَ يَرۡجُوۡا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلۡيَعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًا ﴾ ’’پس جس کو امید ہو اپنے رب سے ملاقات کی، سو وہ کرے نیک عمل۔‘‘ اس سے مراد وہ اعمال ہیں جو واجب اور مستحب ہیں ۔ ﴿ وَّلَا يُشۡرِكۡ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا ﴾ ’’اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے‘‘ یعنی اپنے اعمال میں ریا سے کام نہ لے بلکہ اس کے اعمال خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوں ۔ یہی وہ چیز ہے جو اخلاص اور اتباع کی جامع ہے اور اسی سے مطلوب ثواب حاصل ہو سکتا ہے۔ اس طریقے کے سوا دیگر طریقوں کو اختیار کرنے والے لوگ اپنی دنیا و آخرت میں خائب و خاسر لوگ ہیں ۔ جو اپنے آقا و مولا کے قرب اور اس کی رضا کے حصول سے محروم ہوں گے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском