As-Sa'diAl‑Baqarah · 2:124–136

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Al-Baqarah 2:124–136

2:124–125Page 19

۞ وَإِذِ ٱبۡتَلَىٰٓ إِبۡرَٰهِـۧمَ رَبُّهُۥ بِكَلِمَٰتٖ فَأَتَمَّهُنَّۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامٗاۖ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِيۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهۡدِي ٱلظَّٰلِمِينَ ١٢٤

And [mention, O Muḥammad], when Abraham was tried by his Lord with words [i.e., commands] and he fulfilled them. [Allāh] said, "Indeed, I will make you a leader for the people." [Abraham] said, "And of my descendants?" [Allāh] said, "My covenant does not include the wrongdoers."

وَإِذۡ جَعَلۡنَا ٱلۡبَيۡتَ مَثَابَةٗ لِّلنَّاسِ وَأَمۡنٗا وَٱتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبۡرَٰهِـۧمَ مُصَلّٗىۖ وَعَهِدۡنَآ إِلَىٰٓ إِبۡرَٰهِـۧمَ وَإِسۡمَٰعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيۡتِيَ لِلطَّآئِفِينَ وَٱلۡعَٰكِفِينَ وَٱلرُّكَّعِ ٱلسُّجُودِ ١٢٥

And [mention] when We made the House [i.e., the Kaʿbah] a place of return for the people and [a place of] security. And take, [O believers], from the standing place of Abraham a place of prayer. And We charged Abraham and Ishmael, [saying], "Purify My House for those who perform ṭawāf1 and those who are staying [there] for worship and those who bow and prostrate [in prayer]."

اور جب آزمایا ابراہیم کو اس کے رب نے ساتھ چند کلمات کے، تو پورا کر دیا اس نے ان کو، اللہ نے کہا بے شک میں بناؤں گا تجھے لوگوں کا امام، (ابراہیم) نے کہا اور میری اولاد میں سے بھی، اللہ نے کہا نہیں پہنچتا میرا عہد ظالموں کو(124) اور جب بنایا ہم نے بیت اللہ کو بار بار لوٹنے کی جگہ لوگوں کے لیے اور امن (کی جگہ)، اور بناؤ تم مقام ابراہیم کو جائے نماز اور حکم دیا ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو یہ کہ پاک کرو تم دونوں میرا گھر واسطے طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے(125)

[124] اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور اپنے خلیل ابراہیمuکے بارے میں خبر دیتا ہے۔ جن کی امامت و جلالت تمام گروہوں کے درمیان متفق علیہ ہے۔ اہل کتاب کے تمام گروہ ان کی پیشوائی کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور اسی طرح مشرکین مکہ بھی ان کو پیشوا مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چند باتوں میں حضرت ابراہیمuکا امتحان لیا یعنی چند اوامر و نواہی میں جیسا کہ عادت الٰہی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو امتحان اور آزمائش میں مبتلا کرتا ہے، تاکہ جھوٹا شخص جو ابتلا و امتحان میں ثابت قدم نہیں رہ سکتا، ایسے شخص سے علیحدہ ہو جائے جو سچا ہے تاکہ سچے شخص کے درجات بلند ہوں۔ اس کی قدر و قیمت زیادہ ہو، اس کے اعمال صاف ستھرے ہوں اور وہ اس آزمائش کی بھٹی سے کندن بن کر نکلے۔ اللہ تعالیٰ کے ان بندوں میں سے حضرت ابراہیمuجلیل ترین مقام پر فائز ہیں۔ جن امور میں اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا تھا وہ بدرجہ اتم اس آزمائش میں پورے اترے اللہ تعالیٰ نے ان کی اس سعی کی قدر کی اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے (اپنے نیک بندوں کی مساعی کا) قدردان ہے۔ فرمایا: ﴿ اِنِّيۡ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا﴾ ’’میں تجھ کو لوگوں کا امام بناؤں گا‘‘ یعنی وہ زندگی کے لائحہ عمل میں تیری پیروی کریں گے اور ابدی سعادت کی منزل تک پہنچنے کے لیے تیرے پیچھے چلیں گے۔ تجھے ہمیشہ مدح و ثنا حاصل رہے گی۔ اور بے پایاں اجر عطا ہو گا اور ہر شخص تیری عظمت کا قائل ہو گا۔ اللہ کی قسم! یہ افضل ترین درجہ ہے جس میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت کرتے ہیں اور ایک ایسا بلند مقام ہے کہ اصحاب اعمال اس تک پہنچنے کے لیے بڑی جدوجہد کرتے ہیں۔ اور وہ کامل ترین حالت ہے جو صرف اولوالعزم انبیاء و مرسلین، ان کے پیروکار صدیقین اور اللہ تعالیٰ اور اس کے راستے کی طرف دعوت دینے والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ جب ابراہیمuاس مقام بلند کو پاکر خوش ہوئے تو انھوں نے اپنی اولاد کے لیے بھی اس مقام کی درخواست کی تاکہ ان کے اور ان کی اولاد کے درجات بلند ہوں اور یہ دعا بھی ان کی امامت، اللہ کے بندوں کے ساتھ خیر خواہی اور چاہت کا نتیجہ ہے کہ ان کی اولاد میں اللہ کی طرف رہنمائی کرنے والوں کی کثرت ہو۔ پس کیا خوب عظمت ہے ان اعلیٰ مقاصد اور مقامات بلند کی۔اللہ رحیم اور لطف و کرم کے مالک نے ان کی دعا قبول فرما لی اور اس رکاوٹ سے ان کو باخبرکر دیا جو اس مقام کے حصول کے راستے میں حائل ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ لَا يَنَالُ عَهۡدِي الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا‘‘ یعنی اہل ظلم دین میں امامت کے رتبے کو نہیں پہنچ سکتے۔ جس نے اپنے نفس پر ظلم کیا، اس کو نقصان پہنچایا اور اس کی بے قدری کی، کیونکہ ظلم اس مقام کے منافی ہے۔ یہ ایسا مقام ہے جہاں تک پہنچنے کا ذریعہ صبر و یقین ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس رتبے کا مالک ایمان اور اعمال صالحہ، اخلاق جمیلہ، خصائل حمیدہ، محبت تامہ اور خشیت و انابت میں عظمت کا حامل ہو۔ پس ظلم کا اس مقام سے کیا تعلق؟ آیت کریمہ کا مفہوم دلالت کرتا ہے کہ جو ظالم نہیں وہ اس امامت کے بلند مقام تک پہنچ سکتا ہے مگر وہاں تک پہنچانے والے اسباب استعمال کر کے۔

[125] پھر اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے باقی رہنے والے نمونے کا ذکر فرمایا جو حضرت ابراہیمuکی امامت پر دلالت کرتا ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کا محترم گھر جس کی زیارت کو اللہ تعالیٰ نے دین کا ایک رکن اور گناہوں، کوتاہیوں کو ختم کر دینے والا قرار دیا، اور اس محترم گھر میں اللہ کے خلیل حضرت ابراہیمuاور ان کی اولاد کے آثار ہیں جن کے ذریعے سے ان کی امامت کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور حضرت خلیلuکی حالت یاد آتی ہے۔ پس فرمایا:﴿ وَاِذۡ جَعَلۡنَا الۡبَيۡتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس محترم گھر کو لوگوں کا مرجع قرار دیا، لوگ اپنے دینی اور دنیاوی منافع کے حصول کی خاطر وہاں اکٹھے ہوتے ہیں۔ وہاں بار بار جانے کے باوجود ان کا دل نہیں بھرتا ﴿ وَاَمۡنًا ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے اس محترم مقام کو جائے امن قرار دیا جہاں پہنچ کر ہر شخص محفوظ و مامون ہو جاتا ہے یہاں تک کہ جنگلی جانور اور نباتات و جمادات بھی مامون ہوتے ہیں۔ بنا بریں جاہلیت کے زمانے میں ، اہل عرب اپنے شرک کے باوجود بیت اللہ کا حد درجہ احترام کرتے تھے۔ حتیٰ کہ ان میں سے کوئی اگر بیت اللہ میں اپنے باپ کے قاتل کو بھی دیکھ لیتا تو تب بھی اس میں انتقامی جذبہ جوش نہ مارتا۔ جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی حرمت، عظمت اور اس کے شرف و تکریم میں اور اضافہ کر دیا۔ ﴿ وَاتَّؔخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰؔهٖمَ مُصَلًّى ﴾ ’’اور بناؤ ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کی جگہ‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد وہ معروف مقام ہو جو اب بیت اللہ کے دروازے کے بالمقابل ہے۔۔۔ اور جائے نماز بنانے سے مراد طواف کی دو رکعت ہیں جو مقام ابراہیم کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنا مستحب ہے۔ جمہور مفسرین کا یہی مذہب ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہاں مقام مفرد اور مضاف ہو، اس صورت میں یہ حج کے ان تمام مقامات کو شامل ہو گا، جہاں جہاں ابراہیمuکے قدم پہنچے اور یہ حج کے سارے مشاعر ہوں گے، جیسے طواف، سعی صفا و مروہ، وقوف عرفات و مزدلفہ، رمی جمار (کنکریاں مارنا) اور قربانی اور دیگر افعال حج۔ پس یہاں ﴿ مُصَلًّى ﴾ کا معنی ’’عبادت کی جگہ‘‘ قرار پائے گا۔ یعنی تمام شعائر حج میں حضرت ابراہیمuکی پیروی کرو۔ شاید یہی معنی زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس کے اندر پہلا معنی بھی آ جاتا ہے اور لفظ بھی اس معنی کا محتمل ہے۔ ﴿ وَعَهِدۡنَاۤ اِلٰۤى اِبۡرٰؔهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ اَنۡ طَهِّرَا بَيۡتِيَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم اور اسماعیلiکی طرف وحی کر کے انھیں حکم دیا کہ وہ بیت اللہ کو شرک، کفر و معاصی، رجس و نجاست اور گندگی سے پاک کریں تاکہ اللہ کا یہ گھر ﴿ لِلطَّآىِٕفِيۡنَ ﴾ طواف کرنے والوں، ﴿ وَالۡعٰكِفِيۡنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوۡدِ ﴾ ’’اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں‘‘ یعنی نمازیوں کے لیے پاک ہو جائے۔ آیت کریمہ میں طواف کے ذکر کو مقدم رکھا گیا ہے کیونکہ یہ مسجد حرام سے مختص ہے اس کے بعد اعتکاف کا ذکر آیا ہے کیونکہ صحت اعتکاف کے لیے مطلقاً مسجد کی شرط ہے یہی وجہ ہے کہ نماز کا ذکر طواف و اعتکاف کے بعد ہے باوجود اس بات کے کہ وہ افضل ہے۔ باری تعالیٰ نے کعبہ کو چند وجوہات کی بنا پر اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ ۱ اللہ کا گھر ہونے کے حوالے سے یہ نہایت شدت سے اس بات کا متقاضی تھا کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیلiاس کی تطہیر کا خوب اہتمام کریں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کریں اور اپنی پوری طاقت صرف کر دیں۔ ۲ اللہ تعالیٰ کی طرف یہ نسبت عزت و شرف اور تکریم کی متقاضی ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کی تعظیم و تکریم کا حکم دیا ہے۔ ۳ یہ اضافت اور نسبت ہی ہے جو دلوں کو بیت اللہ کی طرف کھینچنے کا باعث ہے۔

2:126Page 19

وَإِذۡ قَالَ إِبۡرَٰهِـۧمُ رَبِّ ٱجۡعَلۡ هَٰذَا بَلَدًا ءَامِنٗا وَٱرۡزُقۡ أَهۡلَهُۥ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ مَنۡ ءَامَنَ مِنۡهُم بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ قَالَ وَمَن كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُۥ قَلِيلٗا ثُمَّ أَضۡطَرُّهُۥٓ إِلَىٰ عَذَابِ ٱلنَّارِۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ ١٢٦

And [mention] when Abraham said, "My Lord, make this a secure city and provide its people with fruits - whoever of them believes in Allāh and the Last Day." [Allāh] said, "And whoever disbelieves - I will grant him enjoyment for a little; then I will force him to the punishment of the Fire, and wretched is the destination."

اور جب کہا ابراہیم نے، اے میرے رب! بنا اس (جگہ) کو شہر امن والا اور رزق دے اس کے باشندوں کو پھلوں سے، جو کوئی ایمان لائے ان میں سے ساتھ اللہ اور یوم آخرت کے، اللہ نے کہا اور جس نے کفر کیا، پس فائدہ دوں گا میں اسے تھوڑا سا، پھر مجبور کر دوں گا اسے طرف عذابِ جہنم کی اور بری ہے وہ جگہ پھرنے کی(126)

[126] یعنی جب ابراہیمuنے یہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس گھر کو امن کی جگہ بنائے اور یہاں کے رہنے والوں کو مختلف قسم کے پھلوں سے رزق عطا کرے۔ پھر جناب ابراہیمuنے ادب الٰہی کی خاطر اس دعا کو ایمان کی قید لگا کر اہل ایمان کے لیے خاص کر دیا۔ چونکہ ان کی پہلی دعا مطلق تھی اس لیے اس کے جواب کو عدم ظالم کی قید سے مقید کیا گیا۔ پس جب حضرت ابراہیمuنے ان کے لیے رزق کی دعا کی اور اس کے لیے ایمان کی شرط عائد کی اور اللہ تعالیٰ کا رزق مومن اور کافر، نافرمان اور فرمانبردار سب کو ملتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَمَنۡ كَفَرَ﴾ ’’اور جس نے کفر کیا‘‘ یعنی میں کافر اور مسلمان تمام لوگوں کو رزق عطا کروں گا۔ رہا مسلمان تو وہ اس رزق سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے میں مدد لے گا پھر وہ یہاں سے جنت کی نعمتوں میں منتقل ہو جائے گا اور کافر تو وہ اس دنیا میں تھوڑا سا فائدہ اٹھائے گا ﴿ثُمَّؔ اَضۡطَرُّهٗۤ﴾ پھر میں اسے لاچار کردوں گا اور اس کی ناپسندیدگی کے باوجود اسے دنیا سے نکال کر ﴿ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ جہنم کے عذاب میں جھونک دوں گا جو بہت برا ٹھکانا ہے۔

2:127–129Page 20

وَإِذۡ يَرۡفَعُ إِبۡرَٰهِـۧمُ ٱلۡقَوَاعِدَ مِنَ ٱلۡبَيۡتِ وَإِسۡمَٰعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّآۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ ١٢٧

And [mention] when Abraham was raising the foundations of the House and [with him] Ishmael, [saying], "Our Lord, accept [this] from us. Indeed, You are the Hearing,1 the Knowing.2

رَبَّنَا وَٱجۡعَلۡنَا مُسۡلِمَيۡنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَآ أُمَّةٗ مُّسۡلِمَةٗ لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبۡ عَلَيۡنَآۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ ١٢٨

Our Lord, and make us Muslims [in submission] to You and from our descendants a Muslim nation [in submission] to You. And show us our rites [of worship] and accept our repentance. Indeed, You are the Accepting of Repentance, the Merciful.

رَبَّنَا وَٱبۡعَثۡ فِيهِمۡ رَسُولٗا مِّنۡهُمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَيُزَكِّيهِمۡۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ١٢٩

Our Lord, and send among them a messenger from themselves who will recite to them Your verses and teach them the Book and wisdom and purify them. Indeed, You are the Exalted in Might,1 the Wise."

اور جب بلند کر رہے تھے ابراہیم بنیادیں بیت اللہ کی اور اسماعیل (کہتے ہوئے) اے ہمارے رب! اور تو قبول کر لے ہم سے (یہ نیکی) یقیناً توہی سننے والا جاننے والا ہے(127) اے ہمارے رب! بنا ہم دونوں کو فرماں بردار اپنا اور (بنا) ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت فرماں بردار اپنی، اور سکھا ہمیں ہماری عبادت کے طریقے اور توجہ فرما ہم پر، یقیناً توہی ہے توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا(128) اے ہمارے رب! اور بھیج ان میں ایک رسول انھی میں سے، تلاوت کرے وہ اوپر ان کے تیری آیتیں اور تعلیم دے ان کو کتاب اور حکمت کی اور پاک کرے ان کو، بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(129)

[127] یعنی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیلiکی اس حالت کو یاد کرو جب وہ بیت اللہ کی بنیادیں بلند کر رہے تھے اور اس عظیم کام پر تسلسل اور پابندی سے لگے ہوئے تھے اور یہ کہ اس وقت ان پر خوف اور امید کی کیسی کیفیت طاری تھی، حتی کہ اس عظیم عمل کے باوجود انھوں نے دعا کی کہ ان کا عمل قبول کیا جائے، تاکہ اس کا فائدہ عام ہو۔

[128] اور انھوں نے اپنی ذات اور اپنی اولاد کے لیے اسلام کی دعا کی۔ جس کی حقیقت قلب کا خشوع و خضوع ہے اور دل کا اپنے رب کا مطیع ہو جانا، اعضاء و جوارح کے فرماں بردار ہونے کو متضمن ہے۔ ﴿وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا﴾ یعنی ارادہ اور مشاہدہ کے ذریعے ہمیں ہمارا طریق عبادت سکھا۔ تاکہ یہ زیادہ مؤثر ہو۔ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ مناسک سے مراد تمام اعمال حج ہوں۔ جیسا کہ اس معنیٰ پر آیت کریمہ کا سیاق و سباق دلالت کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی چیز مراد ہو اور وہ سارا دین اور تمام عبادات ہیں۔۔۔ جیسا کہ عموم لفظ اس پر دلالت کرتا ہے کیونکہ (اَلنُّسُکُ) کا معنی عبادت کرنا ہے، پھر عرف کے لحاظ سے حج کی عبادات کے لیے اس لفظ کا استعمال غالب آ گیا۔ پس ان کی دعا کا حاصل علم نافع اور عمل صالح کی توفیق مانگنا ہے۔ بندہ، جیسا بھی ہو، اس سے تقصیر ہو ہی جاتی ہے اس لیے وہ توبہ کا محتاج ہوتا ہے، چنانچہ دونوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ﴿وَتُبۡ عَلَيۡنَا١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ﴾ ’’اے اللہ ہم پر رجوع فرما، تو بہت رجوع کرنے والا بہت مہربان ہے۔‘‘

[129]﴿رَبَّنَا وَابۡعَثۡ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡهُمۡ﴾ یعنی ہماری اولاد میں رسول مبعوث فرما تاکہ وہ ان دونوں کے درجات کی بلندی کا سبب بنے۔ لوگ اس کی اطاعت کریں اور اسے اچھی طرح پہچان لیں۔ فرمایا: ﴿يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِكَ﴾ یعنی وہ لفظاً حفظاً اور حفظ کرانے کے لیے تیری آیات کی تلاوت کرے ﴿وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ﴾ یعنی معنیٰ کے اعتبار سے انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے ﴿وَيُزَكِّيۡهِمۡ﴾ یعنی اعمال صالحہ کے ذریعے سے ان کی تربیت کرے اور اعمال قبیحہ سے ان کو بچائے، کیونکہ قبیح اور ردی اعمال کے ہوتے ہوئے نفس پاک نہیں ہو سکتا ﴿اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ یعنی تو ہر چیز پر غالب ہے۔ عزیز اس ہستی کو کہتے ہیں جس کی قوت کے سامنے کوئی چیز نہ ٹھہر سکے ﴿ الۡحَكِيۡمُ﴾ حکیم اس ہستی کو کہتے ہیں جو ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھے۔ پس تو اپنے غلبہ و حکمت کے تحت ان کے اندر اس رسول(ﷺ)کو مبعوث فرما۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں برگزیدہ نبیوں کی دعا قبول فرما لی اور تمام مخلوق پر عام طور پر اور اولاد ابراہیم و اسماعیل پر خاص طور پر رحم کرتے ہوئے اس رسول کریم(ﷺ)کو مبعوث فرمایا۔ اسی لیے رسول اللہﷺفرمایا کرتے تھے: ’أَنَا دَعْوَۃُ أَبِی اِبْرَاھِیْمَ‘ (البدايۃ والنہايۃ، 2؍275 والصحیحۃ، رقم:1546،1545) ’’میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں۔‘‘

جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمuکو اس قدر عظمت و بلندی سے نوازا اور ان کی صفات کاملہ بیان فرمائیں تو فرمایا:

2:130–134Page 20

وَمَن يَرۡغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبۡرَٰهِـۧمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفۡسَهُۥۚ وَلَقَدِ ٱصۡطَفَيۡنَٰهُ فِي ٱلدُّنۡيَاۖ وَإِنَّهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ١٣٠

And who would be averse to the religion of Abraham except one who makes a fool of himself. And We had chosen him in this world, and indeed he, in the Hereafter, will be among the righteous.

إِذۡ قَالَ لَهُۥ رَبُّهُۥٓ أَسۡلِمۡۖ قَالَ أَسۡلَمۡتُ لِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ١٣١

When his Lord said to him, "Submit," he said, "I have submitted [in Islām]1 to the Lord of the worlds."

وَوَصَّىٰ بِهَآ إِبۡرَٰهِـۧمُ بَنِيهِ وَيَعۡقُوبُ يَٰبَنِيَّ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصۡطَفَىٰ لَكُمُ ٱلدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسۡلِمُونَ ١٣٢

And Abraham instructed his sons [to do the same] and [so did] Jacob, [saying], "O my sons, indeed Allāh has chosen for you this religion, so do not die except while you are Muslims."

أَمۡ كُنتُمۡ شُهَدَآءَ إِذۡ حَضَرَ يَعۡقُوبَ ٱلۡمَوۡتُ إِذۡ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعۡبُدُونَ مِنۢ بَعۡدِيۖ قَالُواْ نَعۡبُدُ إِلَٰهَكَ وَإِلَٰهَ ءَابَآئِكَ إِبۡرَٰهِـۧمَ وَإِسۡمَٰعِيلَ وَإِسۡحَٰقَ إِلَٰهٗا وَٰحِدٗا وَنَحۡنُ لَهُۥ مُسۡلِمُونَ ١٣٣

Or were you witnesses when death approached Jacob, when he said to his sons, "What will you worship after me?" They said, "We will worship your God and the God of your fathers, Abraham and Ishmael and Isaac - one God.1 And we are Muslims [in submission] to Him."

تِلۡكَ أُمَّةٞ قَدۡ خَلَتۡۖ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَكُم مَّا كَسَبۡتُمۡۖ وَلَا تُسۡـَٔلُونَ عَمَّا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ١٣٤

That was a nation which has passed on. It will have [the consequence of] what it earned, and you will have what you have earned. And you will not be asked about what they used to do.

اور کون ہے جو بے رغبتی کرتا ہے ملت ابراہیم سے! مگر وہی جس نے نادانی کی اپنے نفس (کے معاملے) میں اور بلاشبہ چن لیا ہم نے اس کو دنیا میں اور بے شک وہ آخرت میں نیکوں میں سے ہے(130) جب کہا اس سے اس کے رب نے ،فرماں بردار ہو جا! تو کہا اس نے ،فرماں بردار ہو گیا میں واسطے رب العالمین کے(131) اور وصیت کی اس (کلمۂ اسلام) کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے، اے میرے بیٹو! یقیناً اللہ نے چن لیا ہے واسطے تمھارے یہ دین، پس نہ ہرگز مرنا تم، مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو(132) کیا تھے تم موجود جب آئی یعقوب کو موت؟ جب کہا اس نے اپنے بیٹوں سے، کس چیز کی عبادت کرو گے تم میرے بعد؟ انھوں نے کہا، عبادت کریں گے ہم تیرے معبود کی اور تیرے باپ دادا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود، یکتا کی اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں(133) یہ ایک جماعت ہے جو گزر گئی، اسی کے لیے ہے جو کمایا اس نے اور تمھارے لیے ہے جو کمایا تم نے، اور نہیں سوال کیے جاؤ گے تم اس سے جو تھے وہ عمل کرتے(134)

[130] یعنی وہ کون ہے جو حضرت ابراہیمuکی فضیلت کو پہچان لینے کے بعد ان کی ملت سے روگردانی کرے۔ ﴿اِلَّا مَنۡ سَفِهَ نَفۡسَهٗ﴾ یعنی ایسا شخص وہی ہو سکتا ہے جس نے اپنے نفس کو جاہل رکھ کر حقیر بنا دیا ہو۔ اپنے نفس کے لیے کمتر چیز پر راضی ہو اور گھاٹے کے سودے میں اسے فروخت کر دیا ہو۔ اسی طرح اس شخص سے بڑھ کر کامل اور راست رو کوئی نہیں جو ملت ابراہیم میں رغبت رکھتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت میں حضرت ابراہیمuکی حالت کے بارے میں آگاہ فرمایا: ﴿وَلَقَدِ اصۡطَفَيۡنٰهُ فِي الدُّنۡيَا﴾ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم کو چن لیا انھیں ایسے اعمال کی توفیق سے نوازا جن کی بنا پر وہ چیدہ چیدہ نیک لوگوں میں شمار ہوئے ۔ ﴿وَاِنَّهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾ ’’اور وہ آخرت میں صالحین میں سے ہوں گے‘‘ یعنی وہ نیک لوگ جو بلند ترین درجات پر فائز ہوں گے۔

[131]﴿اِذۡ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسۡلِمۡ١ۙ قَالَ﴾ ’’اور جب انھیں ان کے رب نے کہا مطیع ہو جاؤ‘‘ تو (اللہ تعالیٰ کے فرمان کے جواب میں) حضرت ابراہیمuنے نہایت فرماں برداری سے عرض کی ﴿ اَسۡلَمۡتُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ یعنی میں اخلاص، توحید، محبت اور انابت کے طور پر جہانوں کے پروردگار کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ کی توحید ان کی خاص صفت قرار پائی۔ پھر اس توحید کو حضرت ابراہیمuنے وراثت کے طور پر اپنی اولاد میں منتقل کیا۔ اس کی ان کو وصیت فرمائی اور اسے ایک ایسا کلمہ بنا دیا جو ان کے بعد بھی باقی رہا اور نسل در نسل وراثت میں منتقل ہوتا رہا حتیٰ کہ حضرت یعقوبuتک پہنچا اور انھوں نے اپنے بیٹوں کو اسی کلمہ توحید کی وصیت کی۔

پس اے اولاد یعقوب! تمھیں تمھارے باپ نے خاص طور پر وصیت کی ہے اس لیے نہایت کامل طریقے سے اس کی اطاعت کرنا اور خاتم الانبیاءﷺکی اتباع کرنا تم پر واجب ہے۔

[132] فرمایا: ﴿يٰبَنِيَّ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰى لَكُمُ الدِّيۡنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور احسان کرتے ہوئے تمھارے لیے دین کو چن لیا ہے، لہٰذا اس دین کو قائم کرو اس کی شرائع سے متصف اور اس کے اخلاق میں رنگ جاؤ، پھر ان کو دائمی طور پر اختیار کر لو۔ جب تمھیں موت آئے تو یہ اوصاف و اخلاق تمھارا اوڑھنا بچھونا ہوں۔ کیونکہ انسان جن اوصاف کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے انھی اوصاف کے ساتھ موت سے ہم آغوش ہوتا ہے اور جن اوصاف پر وہ مرتا ہے انھی اوصاف کے ساتھ اسے قیامت کے روز اٹھایا جائے گا۔

[133] چونکہ یہودیوں کو زعم تھا کہ وہ ملت ابراہیم اور ان کے بعد ملت یعقوب پر ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا انکار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَمۡ كُنۡتُمۡ شُهَدَآءَؔ﴾ یعنی ’’کیا تم سب اس وقت موجود تھے‘‘ ﴿اِذۡ حَضَرَ يَعۡقُوۡبَ الۡمَوۡتُ﴾ ’’جب یعقوبuکو موت آئی‘‘ یعنی جب موت کے مقدمات اور اسباب ظاہر ہوئے تو انھوں نے آزمائش اور امتحان کے طور پر اپنے بیٹوں سے پوچھا تاکہ ان کی وصیت پر ان کے بیٹوں کے عمل کرنے کی وجہ سے ان (حضرت یعقوب) کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ﴿مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟‘‘ پس یعقوبuکے بیٹوں نے انھیں ایسا جواب دیا جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں، چنانچہ انھوں نے جواب دیا:﴿نَعۡبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبـَآىِٕكَ اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰؔقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا﴾ پس ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں گے نہ کسی کو اس کے برابر قرار دیں گے ﴿وَّنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَؔ﴾ ’’اور ہم اس کے مطیع اور فرماں بردار ہیں۔‘‘ پس انھوں نے توحید اور عمل کو جمع کر دیا۔ یہ بدیہی طور پر معلوم ہے کہ یہودی حضرت یعقوبuکی وفات کے وقت موجود نہ تھے کیونکہ وہ تو ان کی وفات کے بعد وجود میں آئے۔ جب وہ اس وقت موجود نہ تھے تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ حضرت یعقوبuنے اپنے بیٹوں کو یہودیت کی نہیں بلکہ حنیفیت کی وصیت فرمائی تھی۔

[134] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿تِلۡكَ اُمَّؔةٌ قَدۡ خَلَتۡ﴾ یعنی وہ امت گزر گئی ﴿لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡ﴾ ’’اس کے لیے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمھارے لیے وہ جو تم کماؤ گے‘‘ یعنی ہرشخص کا اپنا عمل ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کے فعل کی جزا دے گا۔ وہ کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کے گناہوں کی وجہ سے مواخذہ نہیں کرے گا اور کسی شخص کو صرف اس کا اپنا ایمان اور تقویٰ ہی کام دے گا۔ پس تمھارا اس زعم میں مبتلا ہونا اور تمھارا یہ دعویٰ کہ تم ان انبیاء علیہ السلام کی ملت پر ہو مجرد دعویٰ اور ایک ایسا معاملہ ہے جو حقیقت سے خالی ہے، بلکہ تم پر فرض ہے کہ تم اپنی موجودہ حالت پر غور کرو۔ کیا یہ نجات دلانے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں؟

2:135Page 21

وَقَالُواْ كُونُواْ هُودًا أَوۡ نَصَٰرَىٰ تَهۡتَدُواْۗ قُلۡ بَلۡ مِلَّةَ إِبۡرَٰهِـۧمَ حَنِيفٗاۖ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ١٣٥

They say, "Be Jews or Christians [so] you will be guided." Say, "Rather, [we follow] the religion of Abraham, inclining toward truth, and he was not of the polytheists."1

اور کہا انھوں نے، ہو جاؤ تم یہودی یا عیسائی تو راہ پا جاؤ گے، کہہ دیجیے!بلکہ (پیروی کرتے ہیں ہم) ملت ابراہیم کی، جو حنیف تھا اور نہیں تھا وہ مشرکوں سے(135)

[135] یعنی یہود و نصاریٰ نے مسلمانوں کو اپنے اپنے دین میں داخل ہونے کی دعوت دی، ان میں سے ہر ایک اس زعم باطل میں مبتلا تھا کہ وہ ہدایت یافتہ ہے اور دوسرے گمراہ ہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ نے شافی جواب دیتے ہوئے فرمایا:﴿بَلۡ مِلَّةَ اِبۡرٰؔهٖمَ حَنِيۡفًا﴾ بلکہ ہم تو ملت ابراہیم کی اتباع کرتے ہیں۔ یعنی حضرت ابراہیمuہر طرف سے منہ موڑ کر توحید کو قائم کرتے ہوئے اور شرک کو ترک کر کے صرف اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ تھے۔ یہی وہ ہستی ہے جس کی پیروی میں ہدایت اور جس کی ملت سے روگردانی کرنا کفر اور گمراہی ہے۔

2:136Page 21

قُولُوٓاْ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡنَا وَمَآ أُنزِلَ إِلَىٰٓ إِبۡرَٰهِـۧمَ وَإِسۡمَٰعِيلَ وَإِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَ وَٱلۡأَسۡبَاطِ وَمَآ أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَمَآ أُوتِيَ ٱلنَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمۡ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ أَحَدٖ مِّنۡهُمۡ وَنَحۡنُ لَهُۥ مُسۡلِمُونَ ١٣٦

Say, [O believers], "We have believed in Allāh and what has been revealed to us and what has been revealed to Abraham and Ishmael and Isaac and Jacob and the Descendants [al-Asbāṭ]1 and what was given to Moses and Jesus and what was given to the prophets from their Lord. We make no distinction between any of them, and we are Muslims [in submission] to Him."

کہو تم ایمان لائے ہم ساتھ اللہ کے اور ساتھ اس کے جو نازل کیا گیا ہماری طرف اور جو نازل کیا گیا طرف ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور (اس کی) اولاد کی اور جو دیے گئے موسیٰ اور عیسیٰ اور جو دیے گئے انبیاء اپنے رب کی طرف سے، نہیں فرق کرتے ہم درمیان کسی ایک کے ان میں سے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں(136)

[136] یہ آیت کریمہ ان تمام امور پر مشتمل ہے جن پر ایمان لانا واجب ہے۔ جان لیجیے کہ ایمان، جو ان اصولوں کے ساتھ دل کی پوری تصدیق کا نام ہے اور اس کا اقرار، قلوب اور اعضاء کے اعمال کو متضمن ہے اور اس اعتبار سے اس میں اسلام داخل ہے اور اس میں تمام اعمال صالحہ بھی داخل ہیں۔ پس تمام اعمال صالحہ ایمان کا حصہ اور اس کے آثار میں سے ہیں۔ جب ایمان کا علی الاطلاق ذکر ہو گا تو مذکورہ امور اس میں داخل ہوں گے۔ اسی طرح جب اسلام کا علی الاطلاق ذکر کیا جائے گا تو ایمان بھی اس کے اندر داخل ہو گا۔ جب ایمان اور اسلام کو مقرون اور ایک ساتھ ذکر کیا جائے گا تب ایمان، قلب کے اقرار و تصدیق کا نام اور اسلام، اعمال ظاہرہ کا نام ہو گا۔ اور اسی طرح جب ایمان اور اعمال صالحہ کو جمع کیا جائے گا (تو یہی اصول ہو گا۔) ارشاد فرمایا: ﴿قُوۡلُوۡۤا﴾ یعنی اپنی زبان سے کہو اور تمھارے دل تمھارے اس قول کی موافقت کرتے ہوں۔ یہی وہ کامل قول ہے جس پر ثواب اور جزا مرتب ہوتے ہیں، پس جیسے قلبی اعتقاد کے بغیر محض زبان سے ایمان کا اظہار نفاق اور کفر ہے۔ اسی طرح وہ قول، جو عمل سے عاری ہو، عمل قلب ہے جو تاثیر سے محروم اور بہت کم مفید ہے، تاہم اگر یہ قول کوئی بھلائی کی بات ہو اور اس کے ساتھ ساتھ دل میں ایمان بھی موجود ہو تو بندۂ مومن کو اس پر اجر ملتا ہے۔ لیکن مجرد قول اور اس قول کے درمیان فرق ہے جو عمل قلب کے ساتھ مقرون ہو۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿قُوۡلُوۡۤا﴾ میں عقیدے کے اعلان و اظہار اور اس کی طرف دعوت دینے کا اشارہ ہے کیونکہ عقیدہ دین کی اصل اور اس کی اساس ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اٰمَنَّا﴾ وغیرہ میں جس میں فعل کا صادر ہونا مذکور ہو اور تمام امت کی طرف منسوب ہو اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ تمام امت پر فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رسی کو اکٹھے ہو کر مضبوطی سے پکڑے رکھے ایک دوسرے کے ساتھ محبت و الفت سے رہے، یہاں تک کہ ان کا داعی ایک اور ان کا عمل متحد ہو۔ اسی سے افتراق اور تشتت کی ممانعت بھی نکلتی ہے۔ نیز اس آیت کریمہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ تمام اہل ایمان جسد واحد کی مانند ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿قُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کے لیے اپنے نفس کی طرف ایمان کی اضافت کرنا جائز ہے مگر مقید طور پر بلکہ اس اضافت کے وجوب کی دلیل ہے۔ اس کے برعکس (اَنَا مُؤمِنٌ) ’’میں مومن ہوں‘‘ کہنے کا معاملہ ہے، تو اس طرح کہنا صرف ان شاء اللہ کے ساتھ جائز ہے۔ کیونکہ یہ اپنے آپ کو پاک کہنے اور اپنے آپ پر ایمان کی شہادت کے زمرے میں آتا ہے۔ ﴿ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ ﴾ یعنی ہم اس حقیقت پر ایمان لائے کہ اللہ تعالیٰ واجب الوجود ہے۔ وہ ایک ہے وہ ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص اور عیب سے منزہ ہے۔ تمام عبادات کا اکیلا وہی مستحق ہے۔ ان عبادات میں کسی بھی پہلو سے کوئی بھی ہستی اس کی شریک نہیں۔ ﴿وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡنَا﴾ اس میں قرآن اور سنت دونوں شامل ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿وَاَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ ﴾(النساء: 4؍113) ’’اور اللہ نے تجھ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی۔‘‘ اس میں ان تمام چیزوں پر ایمان لانا داخل ہے جو کتاب و سنت میں ذکر کی گئی ہیں، مثلاً باری تعالیٰ کی صفات، انبیاء و مرسلین کی صفات، روز قیامت، گزرے ہوئے اور آنے والے غیبی امور، نیز تمام شرعی احکام اور ثواب و عقاب کے احکام پر ایمان لانا۔ ﴿ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلٰۤى اِبۡرٰؔهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ ......وَنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَؔ﴾اس آیت کریمہ میں ان تمام کتابوں پر ایمان لانے کا ذکر کیا گیا ہے جو تمام انبیاء و مرسلین پر نازل کی گئی ہیں۔ عمومی اور خصوصی طور پر انبیاء و مرسلین پر ایمان لانا، جو کہ اس آیت کریمہ میں منصوص ہیں ان کے شرف و تکریم کے باعث اور اس سبب سے ہے کہ وہ بڑی بڑی شریعتیں لے کر دنیا میں تشریف لائے۔ پس انبیائے کرام اور کتب سابقہ پر ایمان لانے میں جو چیز واجب ہے وہ یہ ہے کہ ان پر عمومی طورپر ایمان لایا جائے۔ پھر جس چیز کی تفصیل کی معرفت حاصل ہوجائے اس پر مفصل ایمان لایا جائے۔ ﴿وَمَاۤ اُوۡتِيَ النَّبِيُّوۡنَؔ مِنۡ رَّبِّهِمۡ﴾ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ دین کا عطیہ ہی دراصل حقیقی عطیہ ہے جو انسان کو دنیاوی اور اخروی سعادت کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم نہیں دیا کہ ہم انبیائے کرام کی حکومتوں اور ان کو عطا کیے گئے مال و متاع وغیرہ پر ایمان لائیں۔ بلکہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم ان کو عطا کی گئی کتابوں اور شریعتوں پر ایمان لائیں۔ اس آیت کریمہ میں یہ بات بھی واضح ہے کہ انبیاء کرام علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے (دین) پہنچانے والے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے مابین دین پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔ حقیقت میں وہ کسی اختیار کے مالک نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ مِنۡ رَّبِّهِمۡ﴾ میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے کمال ربوبیت کی بنا پر ان پر کتابیں نازل کیں اور ان کی طرف رسول مبعوث کیے ہیں۔ پس اس کی ربوبیت یہ تقاضا نہیں کرتی کہ انسانوں کو بیکار اور بے مہار چھوڑ دیا جائے۔ جب صورت یہ ہے کہ جو کچھ انبیائے کرام علیہ السلام کو عطا کیا گیا وہ ان کے رب کی طرف سے ہے۔ تو اس سے انبیاء کرام علیہ السلام اور نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ نیز انبیاء کرام علیہ السلام اور مدعیان نبوت کے درمیان فرق ان کی دعوت کی معرفت حاصل کرنے سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے رسول صرف بھلائی کی دعوت دیتے ہیں اور صرف برائی سے روکتے ہیں۔ ان میں ہر رسول دوسرے رسول کی تصدیق کرتا اور اس کے لیے حق کی گواہی دیتا ہے۔ ان کی دعوت میں تناقض اور ایک دوسرے کی مخالفت نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان کی دعوت ان کے رب کی طرف سے ہوتی ہے۔ ﴿وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَيۡرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوۡا فِيۡهِ اخۡتِلَافًا كَثِيۡرًا﴾(النساء : 4؍82) ’’اگر یہ (قرآن) غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلافات پاتے۔‘‘ ﴿لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ﴾ یعنی ہم تمام انبیاء پر (بلا تفریق) ایمان لاتے ہیں۔ یہ اہل اسلام کی ایک ایسی خاصیت ہے جس کی بنا پر وہ ان تمام لوگوں میں منفرد ہیں جو کسی (آسمانی) دین کا دعویٰ کرتے ہیں۔ پس یہود و نصاریٰ اور صابی وغیرہ اگرچہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ انبیاء و رسل اور کتب منزلہ پر ایمان رکھتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے علاوہ دیگر کتب کا انکار کرتے ہیں۔ پس وہ انبیاء و مرسلین اور کتب منزلہ کے مابین تفریق کرتے ہیں، ان میں سے کچھ لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور کچھ لوگ اس کا انکار کرتے ہیں اور ان کی تکذیب خود ان کی تصدیق کو توڑ دیتی ہے۔ کیونکہ وہ رسول جس کے بارے میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس پر ایمان لائے ہیں اس نے تمام رسولوں کی تصدیق کی ہوتی ہے۔ خاص طور پر محمد مصطفیٰﷺکی۔ پس جب وہ محمد مصطفیٰﷺکی تکذیب کرتے ہیں تو درحقیقت وہ اپنے رسول کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کرتے ہیں اور یہ ان کا ان کے رسول کے ساتھ کفر ہے۔ اس کے برعکس جو کوئی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس قسم کے جھوٹے نبیوں کی دی ہوئی خبروں اور ان کے اوامر و نواہی میں ضرور تناقض ہوتا ہے جیسا کہ اس قسم کے تمام جھوٹے مدعیان نبوت کی سیرت اور ان کے احوال اور ان کی دعوت کی معرفت حاصل کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کو بیان کر دیا جن پر عمومی اور خصوصی طور پر ایمان لانا ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ قول، عمل سے کفایت نہیں کرتا، تو فرمایا:﴿وَنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَؔ﴾ یعنی ہم اس کی عظمت کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ہم اپنے ظاہر و باطن سے اس کی عبودیت کے لیے اس کی اطاعت کرتے ہیں اور ہم اس کی عبادت کو صرف اسی کے لیے خالص کرتے ہیں اور اس مفہوم کے لیے دلیل یہ ہے کہ معمول کو عامل پر مقدم رکھا ہے ﴿لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَؔ﴾ میں (لَہُ) معمول ہے اور (مُسْلِمُوْن) عامل ہے۔ (اس انداز بیان سے اختصاص کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔) یہ آیت کریمہ اپنے ایجاز و اختصار کے باوجود توحید کی تینوں اقسام پر مشتمل ہے۔ وہ ہیں توحید ربوبیت، توحید الوہیت اور توحید اسماء و صفات۔ یہ آیت کریمہ تمام انبیاء و رسل علیہ السلام اور تمام کتابوں پر ایمان لانے پر مشتمل ہے۔ یہ آیت کریمہ عموم کے بعد اس تخصیص پر مشتمل ہے جو فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔ یہ آیت کریمہ دل ، زبان اور جوارح کی تصدیق اور اخلاص للہ پر مشتمل ہے۔ یہ آیت کریمہ سچے انبیاء و رسل اور جھوٹے مدعیان نبوت کے مابین فرق و امتیاز کو شامل ہے۔ یہ آیت باری تعالیٰ کی اپنے بندوں کے لیے اس تعلیم پر مشتمل ہے کہ وہ (اپنے ایمان کا) کیسے اظہار کیا کریں ،نیز اس کی رحمت اور بندوں پر اس کے احسان کو شامل ہے جو اس نے ان کو دینی نعمتوں سے نواز کر کیا، یہ نعمتیں انھیں دنیاوی اور اخروی سعادت کی منزل پر پہنچاتی ہیں۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی کتاب کو ایسا جامع بنایا کہ اس میں ہر چیز کی تفصیل ہے اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском