As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Al-Baqarah 2:143–148
2:143Page 22
وَكَذَٰلِكَ جَعَلۡنَٰكُمۡ أُمَّةٗ وَسَطٗا لِّتَكُونُواْ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ وَيَكُونَ ٱلرَّسُولُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيدٗاۗ وَمَا جَعَلۡنَا ٱلۡقِبۡلَةَ ٱلَّتِي كُنتَ عَلَيۡهَآ إِلَّا لِنَعۡلَمَ مَن يَتَّبِعُ ٱلرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيۡهِۚ وَإِن كَانَتۡ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُۗ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَٰنَكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٞ ١٤٣
And thus We have made you a median [i.e., just] community that you will be witnesses over the people and the Messenger will be a witness over you. And We did not make the qiblah which you used to face except that We might make evident who would follow the Messenger from who would turn back on his heels.1 And indeed, it is difficult except for those whom Allāh has guided. And never would Allāh have caused you to lose your faith [i.e., your previous prayers]. Indeed Allāh is, to the people, Kind and Merciful.
اور نہیں بنایا ہم نے اس قبلے کو کہ تھے آپ اوپر اس کے مگرتاکہ جان لیں ہم اس شخص کو جو اتباع کرے گا رسول کا، اس سے جو ، پھر جائے گا اوپر اپنی دو ایڑیوں کےاور بلاشبہ یہ (بات) بڑی بھاری ہے مگر اوپر ان کے جن کو ہدایت دی اللہ نےاور نہیں ہے اللہ کہ ضائع کر دے ایمان تمھارا، بے شک اللہ ہے لوگوں پر بہت شفیق بڑا مہربان(143)
[143]﴿وَؔ كَذٰلِكَ جَعَلۡنٰؔكُمۡ اُمَّؔةً وَّسَطًا﴾ ’’اور اس طرح ہم نے تم کو امت معتدل بنایا۔‘‘ یعنی معتدل اور بہترین امت، ’’وسط‘‘ کے علاوہ اور اطراف خطرے کی زد میں ہیں اللہ تعالیٰ نے دین کے ہر معاملے میں اس امت کو معتدل امت بنایا ہے۔ انبیاء کرام کے ساتھ عقیدت کے حوالے سے بھی امت مسلمہ کو ان امتوں کے مابین معتدل امت بنایا ہے جو انبیاء علیہ السلام کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں جیسے عیسائی ہیں اور انبیاء علیہ السلام کے ساتھ ظلم و جفا کرنے والوں کے مابین بھی اسے معتدل امت بنایا کہ وہ سب پر اس طرح ایمان لائے جو ان کی شان کے لائق ہے۔ جب کہ یہودیوں نے انبیاء علیہ السلام کی توہین و تنقیص کی۔ امت مسلمہ شریعت کے اعتبار سے بھی امت وسط ہے اس میں نہ تو یہودیوں کی شریعت کی سی سختی اور بوجھ ہے اور نہ عیسائیوں کی سی نرمی اور لاپروائی۔ طہارت اور مطعومات کے باب میں بھی۔ نہ یہودیوں کی طرح (سختی ہے) جن کے ہاں ان کی عبادت گاہ اور کنیسہ کے سوا کہیں نماز نہیں ہوتی۔ پانی ان کو نجاستوں سے پاک نہیں کر سکتا۔ سزا کے طور پر ان پر طیبات حرام ٹھہرا دی گئیں اور نہ نصاریٰ کی مانند (نرمی ہے) کہ وہ کسی چیز کو نجس ہی نہیں مانتے اور نہ ان کے ہاں کوئی چیز حرام ہے بلکہ انھوں نے ہر چیز کو حلال ٹھہرا لیا ہے۔ بلکہ اہل ایمان کی طہارت کامل ترین طہارت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے ہر قسم کی طیب و طاہر مطعومات، مشروبات، ملبوسات اور پاک عورتیں مباح ٹھہرا دی ہیں اور تمام خبائث ان کے لیے حرام قرار دے دیے۔ بنا بریں اس امت کا دین سب سے کامل، اس کے اخلاق سب سے اچھے اور اس کے اعمال سب سے افضل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو علم و حلم اور عدل و احسان سے جس طرح نوازا ہے، اس طرح ان کے علاوہ کسی اور امت کو یہ چیزیں عطا نہیں کیں، اس لیے وہ ﴿اُمَّؔةً وَّسَطًا﴾ ’’امت وسط‘‘ یعنی کامل اور معتدل امت کہلانے کی مستحق ہے۔ ﴿شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ﴾ تاکہ وہ اپنی عدالت اور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے کے سبب سے لوگوں پر گواہ ہوں اور وہ تمام اہل ادیان کے لوگوں سے متعلق فیصلے کریں اور ان کی بابت دوسرے فیصلے نہ کریں۔ پس جس چیز کی بابت یہ امت قبولیت کی شہادت دے، وہی مقبول اور جسے رد کرنے کی گواہی دے، وہ مردود ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ دوسروں کے بارے میں ان کا فیصلہ کیسے قابل قبول ہے حالانکہ تنازع میں دونوں ایک دوسرے کے مخالف فریق ہیں اور فریقین کا قول ایک دوسرے کے خلاف قابل قبول نہیں ہوتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی تنازع میں فریقین کا قول ایک دوسرے کے خلاف وجود تہمت کی وجہ سے قابل قبول نہیں ہوتا مگر جب تہمت کا شائبہ ختم ہو جائے اور عدالت کامل حاصل ہو جائے، جیسا کہ یہ امت عدالت کامل کی حامل ہے۔ مقصد تو حق اور انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا ہے اور اس کی شرط علم و عدل ہے اور یہ دونوں چیزیں اس امت میں موجود ہیں، اس لیے اس امت کا قول قابل قبول ہے۔ اگر کوئی شک کرنے والا اس امت کی فضیلت میں شک کرے اور اس کے لیے تزکیہ کرنے والے کا مطالبہ کرے، تو اس کا تزکیہ کرنے والے اس امت کے نبی(ﷺ)تمام مخلوقات میں ایک کامل ترین ہستی ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَ يَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا﴾ ’’اور رسول تم پر گواہ ہو گا‘‘ اس امت کی دوسری قوموں پر گواہی اس طرح ہو گی کہ قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ انبیاء و مرسلین سے ان کی تبلیغ کے بارے میں سوال کرے گا اور ان کی امتیں اس تبلیغ کی تکذیب کریں گی اور کہیں گی کہ انبیاء و مرسلین نے اللہ تعالیٰ کا پیغام ہم تک نہیں پہنچایا، تو انبیائے کرام علیہ السلام اس امت سے گواہی لیں گے اور ان کا نبی ان کا تزکیہ کرے گا۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ امت مسلمہ کا اجماع قطعی حجت اور دلیل ہے، کیونکہ یہ امت (مجموعی طور پر)﴿وَّسَطًا﴾ ’’امت وسط‘‘ کے اطلاق کی بنا پر خطا سے معصوم ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ امت مسلمہ خطا پر متفق ہو سکتی ہے تو یہ ’’امت وسط‘‘ نہ رہے گی۔ سوائے چند امور کے۔ ﴿ لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَآءَؔ عَلَى النَّاسِ﴾ ’’تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تقاضا کرتا ہے کہ جب وہ کسی فیصلہ کے متعلق گواہی دے دیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حلال قرار دیا ہے یا اس کو حرام قرار دیا ہے یا اسے واجب کیا ہے۔ تو یہ درست ہے اس لیے کہ یہ امت اس بارے میں معصوم ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ فیصلہ کرنے، گواہی دینے اور فتوی وغیرہ دینے کے لیے عدالت شرط ہے۔
[143] یعنی اسلام کے ابتدائی دنوں میں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے حکم سے مقصود یہ تھا ﴿اِلَّا لِنَعۡلَمَ﴾ ’’مگر تاکہ ہم جان لیں‘‘ یعنی ایسا علم جس سے ثواب و عقاب متعلق ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ تمام امور کو ان کے وجود میں آنے سے قبل جانتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے کامل عدل اور اپنے بندوں پر حجت قائم کرنے کی بنا پر اس علم کے ساتھ ثواب اور عقاب کا تعلق نہیں۔ بلکہ جب ان کے اعمال وجود میں آتے ہیں تب ان پر ثواب و عقاب مرتب ہوتا ہے۔ (مصنف a کا قول: ’’ایسا علم جس سے ثواب و عقاب متعلق ہے‘‘ ایک مبہم عبارت ہے جو وضاحت کی محتاج ہے ہم ائمہ تفسیر امام نسفی، امام ابوالسعود، امام ابن کثیر اور امام ابوحیان Sنے جو کچھ اپنی تفاسیر میں بیان کیا ہے یہاں ذکر کرتے ہیں پس ہم کہتے ہیں کہ (لِنَعْلَمَ)کا مطلب ہے، تاکہ ہم اتباع کرنے والے اور منہ موڑنے والے کے درمیان امتیاز کر سکیں اور رسول اللہﷺاور اہل ایمان کے سامنے ان کا حال منکشف ہو جائے، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ حَتّٰى يَمِيۡزَ الۡخَبِيۡثَ مِنَ الطَّيِّبِ﴾(ال عمران:۳؍۱۷۹) ’’حتیٰ کہ پاک میں سے ناپاک ممیز ہو جائے‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ’’علم‘‘ کو ’’تمییز‘‘ کی جگہ میں استعمال کیا ہے، کیونکہ علم ہی سے تمیز ہوتی ہے اور وہی تمییز کا سبب ہے۔ لہٰذا سبب یعنی علم کا اطلاق کر کے مسبب یعنی تمییز مراد لی گئی ہے۔ ہمارے اس موقف کی تائید ایک قراء ت سے بھی ہوتی ہے (لِیُعْلَمَ ) یعنی ’’نون‘‘ کی بجائے ’’یا‘‘ اور صیغہ مجہول کے ساتھ۔ (تاکہ جان لیا جائے) اللہ تعالیٰ نے بندوں کے علم کو اپنی طرف اسناد کیا ہے، کیونکہ وہ اس کے خاص بندے ہیں، یا یہ ملاطفت خطاب ہے، مثلاً آپ اس شخص سے جوسونے کے پگھلنے کا منکر ہے، کہتے ہیں ’’ہم سونے کو آگ میں ڈالتے ہیں، تاکہ ہمیں معلوم ہو سکے کہ آیا سونا پگھلتا ہے یا نہیں‘‘۔البحر المحیط میں علامہ ابوحیانaرقم طراز ہیں: ’’اللہ تعالیٰ کے ارشاد (لِنَعْلَمَ ) میں اس علم سے مراد ابتدائے علم ہے (یعنی پہلے سے ہی ہمیں معلوم تھا) اس کا ظاہر معنی مراد نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم کا حادث ہونا محال ہے۔ (یعنی یہ ناممکن ہے کہ پہلے اللہ کے علم میں نہ ہو اور بعد میں اسے معلوم ہو) چنانچہ تاویل کرتے ہوئے مضاف کو محذوف مانا جائے گا۔ تب آیت کا مفہوم یہ ہو گا: ’’تاکہ ہمارا رسول اور اہل ایمان جان لیں‘‘ ان کے علم کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا ہے، کیونکہ نبیﷺاور اہل ایمان اس کے مقرب بندے ہیں تب اس کا شمار مجاز حذف میں ہو گا یا علم کا اطلاق تمییز پر کیا گیا ہے کیونکہ علم ہی کی بنا پر تمیز ہوتی ہے۔ یعنی ’’تاکہ ہم اتباع کرنے والے اور منہ موڑنے والے کے درمیان امتیاز کر لیں‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ حَتّٰى يَمِيۡزَ الۡخَبِيۡثَ مِنَ الطَّيِّبِ﴾(ال عمران:۳؍۱۷۹) ’’حتیٰ کہ پاک میں سے ناپاک ممیز ہو جائے‘‘ اور اس طرح اس کا شمار اطلاقِ سبب کے مجاز میں سے ہو گا اور مراد اس سے مسبب ہو گا۔ یہ تاویل حضرت عبداللہ بن عباسwسے مروی ہے۔۔۔ یا اس سے ان کی اطاعت یا معصیت کے وقت اللہ تعالیٰ کے علم کا ذکر مراد ہے، کیونکہ اس وقت کے ساتھ ہی اس علم کا تعلق ثواب و عقاب سے ہو گا، یا یہاں مستقبل سے ماضی مراد لیا ہے۔ تب مفہوم یہ ہو گا ’’جب ہم نے جان لیا کہ رسول کی اتباع کون کرتا ہے اور اس کی مخالفت کون کرتا ہے‘‘۔ (ملخصاً) حافظ ابن کثیر aنے اپنی تفسیر میں یہ معنی بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے اور یہ معنی بنایا ہے: ’’تاکہ اہل ایمان جان لیں اور کمزور ایمان والے لوگوں کا حال منکشف ہو جائے‘‘ ابن کثیر a فرماتے ہیں: ’’اے محمدﷺ!ہم نے تیرے لیے پہلے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کیا تھا پھر ہم نے تجھے کعبہ کی طرف پھیر دیا، تاکہ ان لوگوں کا حال ظاہر ہو جائے جو تیری اتباع کرتے ہیں، تیری اطاعت کرتے ہیں اور تیرے ساتھ مل کر قبلہ کی طرف منہ کرتے ہیں اور ان لوگوں کا حال ظاہر ہو جائے جو الٹے پاؤں پھر جاتے ہیں۔ (حاشیہ : از محمد زہری النجار، من علمائے ازہر) مطلب یہ ہے کہ ہم نے یہ قبلہ صرف اس لیے مشروع کیا ہے تاکہ ہم جان لیں اور آزما لیں ﴿مَنۡ يَّتَّبِعُ الرَّسُوۡلَ﴾ ’’کون رسول کی اتباع کرتا ہے۔‘‘ یعنی کون اس رسول پر ایمان لا کر ہر حال میں اس کی پیروی کرتا ہے کیونکہ وہ بندہ مامور اور اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت ہے۔ نیز کتب سابقہ نے خبر دی ہے کہ نبی آخر الزمانﷺکعبہ کو قبلہ بنائیں گے پس صاحب انصاف جس کا مقصود و مطلوب محض حق ہے۔ اس سے اس کے ایمان اور اطاعت رسول میں اضافہ ہوتا ہے۔ رہا وہ شخص جو الٹے پاؤں پھر گیا اور اس نے حق سے روگردانی کی اور اپنی خواہش نفس کی پیروی کی تو اس کا کفر بڑھتا جاتا ہے اور اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور وہ شبہات پر مبنی باطل دلیل پیش کرتا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ ﴿وَاِنۡ كَانَتۡ﴾ ’’اور بلاشبہ یہ بات ہے۔‘‘ یعنی (عام لوگوں کے لیے) آپ کا بیت المقدس سے منہ پھیرنا ﴿لَؔكَبِيۡرَةً﴾ ’’بہت شاق ہے‘‘ ﴿اِلَّا عَلَى الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ﴾ ’’سوائے ان لوگوں کے جنھیں اللہ نے ہدایت دی‘‘ اور انھوں نے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچان لیا، وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوئے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا اقرار کیا کہ اس نے ان کا رخ اس عظیم گھر کی طرف پھیر دیا جسے اس نے روئے زمین کے تمام خطوں پر فضیلت عطا کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کا قصد کرنے کو ارکان اسلام میں سے ایک رکن اور گناہوں کو مٹانے والا بنایا ہے، اسی لیے اہل ایمان پر اس کا ماننا آسان ہو گیا اور ان کے سوا دیگر لوگوں پر رخ کی تبدیلی بہت شاق گزری۔ ﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيۡعَ اِيۡمَانَكُمۡ﴾ ’’اور اللہ ایسا نہیں کہ تمھارے ایمان کو یونہی ضائع کردے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے مناسب ہے نہ یہ اس کی ذات اقدس کے لائق ہے (کہ وہ تمھارے ایمان کو ضائع کرے) بلکہ ایسا کرنا تو اس پر ممتنع (ناممکن) ہے، پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ تمھارے ایمان کو ضائع کرنا اس کی ذات اقدس پر ممتنع اور محال ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے بہت بڑی بشارت ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام اور ایمان سے نواز کر ان پر احسان کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کی حفاظت کرے گا اسے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔اللہ کا ایمان کی حفاظت کرنا دو طرح سے ہے:(۱)ان کو ہر فساد، ایمان میں نقص پیدا کرنے والی تکلیف دہ آزمائشوں اور ایمان سے روکنے والی خواہش نفس سے بچا کر ان کے ایمان کو ضائع اور باطل ہونے سے محفوظ رکھنا۔ (۲)ایمان کی نشوونما کے لیے ان کو ایسے اعمال کی توفیق عطا کرنا جن سے ان کے ایمان میں اضافہ اور یقین کامل حاصل ہوتا ہے۔ پس ابتدائی طور پر جس طرح اس نے ایمان کی طرف تمھاری راہ نمائی کی، اسی طرح وہ تمھارے ایمان کی حفاظت کرے گا۔ اس کو اور اس کے اجر و ثواب کو نشوونما دے کر اپنی نعمت کا اتمام کرے گا اور ایمان کو مکدر کرنے والے ہر عمل سے اس کی حفاظت کرے گا بلکہ جب ایسی آزمائشیں آئیں جن سے مقصود سچے مومن کو جھوٹے دعوے دار سے الگ کرنا ہو، تو یہ آزمائشیں مومنوں کو کھرا ثابت کرتی اور ان کی سچائی کو ظاہر کر دیتی ہیں۔ گویا اس آیت میں اس بات سے احتراز (بچاؤ) ہے جو کہی جا سکتی تھی کہ اللہ کا قول ﴿وَمَا جَعَلۡنَا الۡقِبۡلَةَ الَّتِيۡ كُنۡتَ عَلَيۡهَاۤ اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ يَّتَّبِعُ الرَّسُوۡلَ مِمَّنۡ يَّنۡقَلِبُ عَلٰى عَقِبَيۡهِ﴾ کبھی کبھی بعض مومنوں کے لیے ترک ایمان کا سبب بنتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس وہم کا ازالہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيۡعَ اِيۡمَانَكُمۡ﴾ اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ اس امتحان یا دیگر کسی آزمائش کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمھارے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا۔ اس آیت کریمہ میں وہ تمام اہل ایمان بھی شامل ہیں جو تحویل قبلہ سے پہلے وفات پا چکے تھے، اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا، کیونکہ انھوں نے اپنے وقت میں اللہ اور اس کے رسولﷺکی اطاعت کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت یہی ہے کہ ہر وقت اس کے حکم کی پیروی کی جائے۔ اس آیت کریمہ میں اہل سنت و الجماعت کے اس مذہب کی دلیل ہے کہ ایمان میں اعمال جوارح داخل ہیں۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اللہ تو لوگوں پر بڑا مہربان اور صاحب رحمت ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان پر بہت زیادہ رحمت و رأفت کرنے والا ہے۔ یہ اس کی عظیم رحمت و رأفت ہے کہ اس نے اہل ایمان کو نعمت ایمان عطا کر کے اس نعمت کو مکمل کیا۔ اور ان کو ان لوگوں سے علیحدہ کر دیا جو ایمان کا صرف زبانی دعویٰ کرتے تھے۔ ان کے دل ایمان سے خالی تھے۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لیا جس کے ذریعے سے ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کے درجات بلند کیے اور سب سے زیادہ عزت و شرف کے حامل گھر کی طرف ان کا رخ موڑ دیا۔
2:144Page 22
قَدۡ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجۡهِكَ فِي ٱلسَّمَآءِۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبۡلَةٗ تَرۡضَىٰهَاۚ فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِۚ وَحَيۡثُ مَا كُنتُمۡ فَوَلُّواْ وُجُوهَكُمۡ شَطۡرَهُۥۗ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ لَيَعۡلَمُونَ أَنَّهُ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّهِمۡۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُونَ ١٤٤
We have certainly seen the turning of your face, [O Muḥammad], toward the heaven, and We will surely turn you to a qiblah with which you will be pleased. So turn your face [i.e., yourself] toward al-Masjid al-Ḥarām.1 And wherever you [believers] are, turn your faces [i.e., yourselves] toward it [in prayer]. Indeed, those who have been given the Scripture [i.e., the Jews and the Christians] well know that it is the truth from their Lord. And Allāh is not unaware of what they do.
تحقیق ہم دیکھتے ہیں بار بار اٹھنا آپ کے چہرے کا آسمان کی طرف، سو ہم ، البتہ ضرور پھیر دیں گے آپ کو اس قبلے کی طرف کہ پسند کرتے ہیں آپ اس کو، پس پھیر لیں آپ اپنا چہرہ طرف مسجد حرام کی اور جہاں کہیں بھی ہو تم، تو پھیر لو اپنے چہرے اس کی طرف اور بلاشبہ وہ لوگ جو دیے گئے کتاب، وہ یقیناً جانتے ہیں کہ بے شک وہ حق ہے ان کے رب کی طرف سےاور نہیں ہے اللہ غافل اس سے جو وہ عمل کرتے ہیں(144)
[144] اللہ تعالیٰ اپنے نبیﷺسے فرماتا ہے ﴿قَدۡ نَرٰؔى تَقَلُّبَ وَجۡهِكَ فِي السَّمَآءِ﴾ ’’ہم تمھارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔‘‘ یعنی ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ آپ استقبال کعبہ کے بارے میں نزول وحی کے شوق اور انتظار میں اپنا منہ تمام جہات میں کثرت سے پھیرتے ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ﴿وَجۡهَكَ﴾ ارشاد فرمایا ہے ﴿بَصۡرُكَ﴾ نہیں، کیونکہ اس سے نبیﷺکے فکروغم کی زیادتی کو بیان کرنا مقصود ہے، نیز چہرہ پھیرنا نظر پھیرنے کو بھی شامل ہے۔ ﴿فَلَنُوَلِّيَنَّكَ﴾ ’’سو ہم آپ کو پھیر دیں گے۔‘‘ یعنی چونکہ ہم آپ کے سرپرست اور مددگار ہیں اس لیے ہم ضرور آپ کا منہ پھیر دیں گے ﴿قِبۡلَةً تَرۡضٰىهَا﴾ ’’اس قبلہ کی طرف جس کو آپ پسند کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم آپ کا منہ اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں اور وہ ہے کعبہ شریف۔ اس آیت کریمہ میں رسول اللہﷺکے شرف و فضیلت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پسندیدہ امر کے مطابق حکم نازل کرنے میں جلدی فرمائی۔ اس کے بعد اللہ نے آپ کو استقبال کعبہ کا صراحتاً حکم فرمایا۔ چنانچہ فرمایا: ﴿فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ﴾ ’’پس اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف موڑ لیں‘‘ ’’وَجْہٌ‘‘ سے مراد انسان کے بدن کے سامنے کا حصہ ہے۔ فرمایا: ﴿وَحَيۡثُ مَا كُنۡتُمۡ﴾ ’’اور تم جہاں کہیں بھی ہو‘‘ یعنی بحر و بر، مشرق و مغرب اور شمال و جنوب جہاں کہیں بھی ہو ﴿فَوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ شَطۡرَهٗ﴾ ’’پس اپنے چہروں کو اس جہت کی طرف پھیر لو۔‘‘ اس آیت کریمہ سے واضح ہے کہ تمام نمازوں میں، خواہ فرض ہو یا نفل اگر عین کعبہ کی طرف منہ کرنا ممکن ہو تو اس کی طرف منہ کرنا فرض ہے ورنہ اس کی طرف اور جہت میں منہ کر لینا کافی ہے۔ اور یہ کہ نماز کے اندر بدن کے ساتھ ادھر ادھر التفات کرنا نماز کو باطل کرنے والا عمل ہے کیونکہ کسی چیز کی بابت حکم دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی ضد ممنوع ہے۔ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب وغیرہ میں سے اعتراض کرنے والوں کا ذکر کیا ہے وہاں ان کے اعتراض کا جواب بھی دیا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اہل کتاب اور ان کے اہل علم جانتے ہیں کہ آپ اس معاملے میں واضح حق پر ہیں کیونکہ انھیں اپنی کتابوں میں اس نبی کی نشانیاں ملتی ہیں، اس لیے وہ عناد اور سرکشی کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں۔ پس جب وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے مبتلائے غم ہیں تو تم ان کے اعتراضات کی پروا نہ کرو، اس لیے کہ انسان کو صرف اس اعتراض کرنے والے کا اعتراض غم میں ڈالتا ہے، جب معاملہ مشتبہ ہو اور اس کا امکان ہو کہ صواب (صحیح بات) اس کے ساتھ ہو۔ لیکن جب یہ یقین ہو جائے کہ حق و صواب اس شخص کے ساتھ ہے جس پر اعتراض کیا جا رہا ہے اور اعتراض کرنے والا محض عناد سے کام لے رہا ہے اور اسے یہ بھی علم ہے کہ معترض کا اعتراض باطل ہے تو اسے پروا نہیں کرنی چاہیے بلکہ اسے انتظار کرنا چاہیے کہ معترض کو دنیاوی اور اخروی عقوبت کا ضرور سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّؔا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اللہ ان کے اعمال سے بے خبر نہیں‘‘ بلکہ وہ ان کے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ اس آیت کریمہ میں اعتراض کرنے والوں کے لیے وعید اور اہل ایمان کے لیے تسلی ہے۔
2:145Page 22
وَلَئِنۡ أَتَيۡتَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ بِكُلِّ ءَايَةٖ مَّا تَبِعُواْ قِبۡلَتَكَۚ وَمَآ أَنتَ بِتَابِعٖ قِبۡلَتَهُمۡۚ وَمَا بَعۡضُهُم بِتَابِعٖ قِبۡلَةَ بَعۡضٖۚ وَلَئِنِ ٱتَّبَعۡتَ أَهۡوَآءَهُم مِّنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلۡعِلۡمِ إِنَّكَ إِذٗا لَّمِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ ١٤٥
And if you brought to those who were given the Scripture every sign, they would not follow your qiblah. Nor will you be a follower of their qiblah. Nor would they be followers of one another's qiblah. So if you were to follow their desires after what has come to you of knowledge, indeed, you would then be among the wrongdoers.
اور البتہ اگر لے آئیں آپ ان لوگوں کے پاس جو دیے گئے کتاب، ہر قسم کی نشانی، تب بھی وہ نہیں پیروی کریں گے آپ کے قبلے کی اور نہ آپ پیروی کرنے والے ہیں ان کے قبلے کی اور نہ بعض ان کا پیروی کرنے والا ہے بعض کے قبلے کی، اور البتہ اگر پیروی کی آپ نے ان کی خواہشات کی، بعد اس کے جو آگیا آپ کے پاس علم تو یقینا ًآپ اس وقت ہو جائیں گے ظالموں میں سے(145)
[145] نبی اکرمﷺمخلوقات کی ہدایت کی بہت تمنا اور آرزو کیا کرتے تھے اور ان کی نہایت درجہ خیر خواہی کرتے تھے۔ نرمی اور پیار سے انھیں ہدایت کی راہ پر لانے کی کوششیں کیا کرتے تھے اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت نہیں کرتے، تو یہ امر آپ کو نہایت غمگین کر دیتا تھا۔ پس کافروں میں ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے اللہ کے حکم کے مقابلے میں سرتابی اختیار کی۔ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین علیہ السلام کے ساتھ تکبر سے پیش آئے اور جان بوجھ کر ظلم و عدوان کی بنا پر ہدایت کو چھوڑ دیا۔ انھی میں سے پہلے اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ ہیں جنھوں نے محمدﷺکا جہالت کی بنا پر نہیں بلکہ یہ یقین رکھتے ہوئے انکار کیا کہ آپ نبی ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو آگاہ فرمایا ﴿وَلَىِٕنۡ اَتَيۡتَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَةٍ﴾ ’’اگر آپ ان اہل کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آئیں۔‘‘ یعنی اگر آپ ان کے سامنے ہر قسم کی دلیل اور برہان پیش کردیں جو آپ کی بات اور دعوت کو واضح کر دیں ﴿مَّا تَبِعُوۡا قِبۡلَتَكَ﴾ ’’تو بھی یہ آپ کے قبلے کی پیروی نہ کریں گے۔‘‘ یعنی تب بھی وہ آپ کی اتباع نہیں کریں گے۔ کیونکہ قبلہ کی طرف منہ کرنا درحقیقت آپ کی اتباع کی دلیل ہے اور اس لیے کہ اصل سبب قبلے کا معاملہ ہے اور معاملہ واقعی ایسا ہے، کیونکہ وہ حق کے ساتھ عناد رکھتے ہیں انھوں نے حق کو پہچانا اور اسے چھوڑ دیا۔ پس اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے صرف وہی شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو حق کا متلاشی ہو اور حق اس پر مشتبہ ہو گیا ہو، تب یہ آیات بینات اس پر حق کو واضح کر دیتی ہیں اور جو کوئی اس بات پر اڑ جاتا ہے کہ وہ حق کی اتباع نہیں کرے گا تو اسے حق کی طرف لانے کی کوئی صورت نہیں۔ نیز ان میں آپس میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے اور وہ ایک دوسرے کے قبلہ کی پیروی نہیں کرتے۔ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے اے محمد(ﷺ) یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں کہ وہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہیں کرتے، کیونکہ وہ دشمن اور حاسد ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ بِتَابِـعٍ قِبۡلَتَهُمۡ﴾(وَلَا تَتَّبِـعْ) سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ یہ لفظ اس بات کو متضمن ہے کہ رسول اللہﷺان کی مخالفت سے متصف ہیں، پس آپ سے اس کا وقوع ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا (وَلَوْ اَتَوْا بِکُلِّ آیَۃٍ) کیونکہ ان کے پاس اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دلیل ہی نہیں۔ اسی طرح جب یقینی دلائل و براہین سے حق واضح ہو جاتا ہے تو اس پر وارد شبہات کا جواب دینا لازم نہیں۔ کیونکہ ان شبہات کی تو کوئی حد نہیں اور ان کا بطلان واضح ہے، کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ جو چیز واضح حق کے منافی ہو وہ باطل ہوتی ہے۔ تب شبہ کو حل کرنا تبرع کے زمرے میں آئے گا۔ (یعنی بغیر ضرورت کے محض خوشی سے شبہات کا ازالہ کرنا)﴿وَلَىِٕنِ اتَّبَعۡتَ اَهۡوَؔآءَهُمۡ﴾ ’’اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی‘‘ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ﴿ اَهۡوَؔآءَهُمۡ﴾ ’’ان کی خواہشات‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے اور اس کی بجائے (دِینَھُمْ) ’’ان کا دین‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا کیونکہ وہ محض اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے تھے۔ حتیٰ کہ وہ خود بھی یہ جانتے تھے کہ یہ دین نہیں ہے۔ اور جو کوئی دین کو چھوڑ دیتا ہے وہ لامحالہ خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اَفَرَءَيۡتَ مَنِ اتَّؔخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ ﴾(الجاثیہ : 45؍23) ’’بھلا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے؟‘‘ ﴿مِّنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ﴾ ’’اس کے بعد کہ آپ کے پاس علم آچکا ہے۔‘‘ یعنی یہ جان لینے کے بعد کہ آپ حق پر اور وہ باطل پر ہیں ﴿اِنَّكَ اِذًا﴾ ’’تب آپ‘‘ یعنی اگر آپ نے ان کی اتباع کی۔ یہ احتراز ہے تاکہ یہ جملہ اپنے ماقبل جملے سے علیحدہ نہ رہے۔ خواہ وہ افہام ہی میں کیوں نہ ہو۔ ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی آپ کا شمار ظالموں میں ہو گا اور اس شخص کے ظلم سے بڑھ کر کون سا ظلم ہے جس نے حق اور باطل کو پہچان کر باطل کو حق پر ترجیح دی۔ یہ خطاب اگرچہ رسول اللہﷺسے ہے تاہم آپ کی امت اس میں داخل ہے، نیز اگر رسول اللہﷺنے بھی یہ کام کیا ہوتا، حاشا وکلّا، آپ سے یہ ممکن نہیں تھا، تو آپ بھی اپنے بلند مرتبہ اور نیکیوں کی کثرت کے باوجود ظالموں میں شمار ہوتے تب آپ کے علاوہ کوئی دوسرا تو بطریق اولیٰ بڑا ظالم ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا
2:146–147Page 23
ٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ يَعۡرِفُونَهُۥ كَمَا يَعۡرِفُونَ أَبۡنَآءَهُمۡۖ وَإِنَّ فَرِيقٗا مِّنۡهُمۡ لَيَكۡتُمُونَ ٱلۡحَقَّ وَهُمۡ يَعۡلَمُونَ ١٤٦
Those to whom We gave the Scripture know him [i.e., Prophet Muḥammad (ﷺ)] as they know their own sons. But indeed, a party of them conceal the truth while they know [it].
ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُمۡتَرِينَ ١٤٧
The truth is from your Lord, so never be among the doubters.
وہ لوگ کہ دی ہم نے ان کو کتاب، وہ پہچانتے ہیں اس (رسول) کو جیسے وہ پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کواور بے شک ایک فریق ان میں سے ، البتہ وہ چھپاتا ہے حق کو، حالانکہ وہ جانتا ہے(146)(یہ) حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، پس ہرگز نہ ہوں آپ شک کرنے والوں میں سے(147)
[146] اللہ تعالیٰ آگاہ کرتا ہے کہ اہل کتاب کو معلوم ہے اور ان کے ہاں یہ بات متحقق ہے کہ محمدﷺاللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ جو کتاب آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں وہ حق اور سچ ہے اور انھیں اس بات کا پورا پورا یقین ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح انھیں اپنے بیٹوں کے بارے میں یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ ان کے بیٹے ہیں اور اس کی بابت انھیں کوئی شبہ نہیں ہوتا۔ پس محمد مصطفیﷺکی پہچان ان کے ہاں اس حد تک پہنچی ہوئی تھی کہ اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہ تھی، مگر اس کے باوجود ان میں سے ایک فریق جو تعداد میں زیادہ تھا۔ اس نے آپ کا انکار کیا اور آپ کے بارے میں یقینی شہادت کو چھپا لیا۔ درآں حالیکہ وہ جانتے تھے۔ فرمایا :﴿وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ كَتَمَ شَهَادَةً عِنۡدَهٗ مِنَ اللّٰهِ﴾(البقرہ:140) ’’اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اس گواہی کو چھپائے جو اللہ کی طرف سے اس کے پاس ہے‘‘ اس آیت کریمہ میں رسول اللہﷺاور اہل ایمان کے لیے تسلی اور ان کو اہل کتاب کے شر اور شبہات سے بچنے کی تلقین ہے۔ البتہ ان میں سے کچھ ایسے لوگ تھے جنھوں نے جانتے بوجھتے حق کو نہیں چھپایا۔ پس ان میں سے بعض آپ پر ایمان لے آئے اور بعض نے محض جہالت کی بنا پر آپ کا انکار کر دیا۔ پس صاحب علم اپنے علم کے مطابق جس قدر دلیل دینے اور تعبیر کرنے پر قادر ہے اس پر اسی قدر حق کا اظہار کرنا، اس کو بیان کرنا اور اس کو مزین کرنا فرض ہے اور اسی قدر باطل کا ابطال کرنا ، حق سے اس کو علیحدہ کرنا اورہر ممکن طریقے سے نفوس کے سامنے اس کی برائی نمایاں کرنا اس پر لازم ہے۔ لیکن اس حق کو چھپانے والوں نے اس کے برعکس رویہ اختیار کیا، لہٰذا ان کے احوال بھی اس کے برعکس ہو گئے۔
[147]﴿اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَ﴾ ’’یہ حق آپ کے رب کی طرف سے ہے۔‘‘ یعنی یہ حق، جو ہر چیز سے زیادہ حق کہلانے کا مستحق ہے کیونکہ یہ مطالب عالیہ، اچھے احکام اور تزکیہ نفوس پر مشتمل ہے، نیز نفوس کے لیے ان کے مصالح کے حصول اور ان سے مفاسد کو دور کرنے کا باعث ہے، اس لیے کہ یہ آپ کے رب کی طرف سے صادر ہوا ہے اور یہ من جملہ آپ کے رب کی طرف سے آپ کی تربیت ہے کہ اس نے آپ پر یہ قرآن نازل فرمایا جس میں نفوس و عقول کی تربیت اور تمام مصالح ہیں ﴿فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ﴾ ’’پس آپ ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔‘‘ یعنی اس حق کے بارے میں آپ کو معمولی سے شک و شبہ میں بھی مبتلا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس حق میں غور و فکر کیجیے یہاں تک کہ آپ یقین کی منزل پر پہنچ جائیں۔ کیونکہ حق میں غور و فکر لامحالہ شک کو دور کر کے یقین کی منزل پر پہنچاتا ہے۔
2:148Page 23
وَلِكُلّٖ وِجۡهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَاۖ فَٱسۡتَبِقُواْ ٱلۡخَيۡرَٰتِۚ أَيۡنَ مَا تَكُونُواْ يَأۡتِ بِكُمُ ٱللَّهُ جَمِيعًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ١٤٨
For each [religious following] is a [prayer] direction toward which it faces. So race to [all that is] good. Wherever you may be, Allāh will bring you forth [for judgement] all together. Indeed, Allāh is over all things competent.
اور ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے وہ (منہ) پھیرنے والا ہے اس کی طرف، پس تم سبقت کرو نیکیوں میں، جہاں کہیں تم ہو گے، لے آئے گا تم کو اللہ سب کو، تحقیق اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(148)
[148] یعنی ہر ملت اور ہر دین والوں کے لیے ایک جہت مقرر ہے وہ اپنی عبادت میں اس کی طرف منہ کرتے ہیں۔ استقبال قبلہ کوئی بڑا معاملہ نہیں، اس لیے کہ یہ ان شریعتوں میں سے ہے جو احوال و زمان کے بدلنے کے ساتھ بدلتی رہی ہیں، اس میں نسخ اور ایک جہت سے دوسری جہت میں منتقل ہونا بھی داخل ہے، لیکن اصل اور اہم معاملہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت، اس کا تقرب اور اس کے قرب میں حصول درجات ہے، یہی سعادت کا عنوان اور ولایت کا منشور ہے۔ یہی وہ وصف ہے کہ اگر نفوس اس سے متصف نہ ہوں تو دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑ جاتے ہیں جیسے اگر نفوس اپنے آپ کو اس وصف سے متصف کر لیں تو یہی حقیقی منافع ہے۔ تمام شریعتوں میں یہ متفق علیہ امر ہے۔ اسی کی خاطر اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو تخلیق کیا اور اسی کا اللہ تعالیٰ نے سب کو حکم دیا۔ نیکیوں کی طرف سبقت کرنے کا حکم، نیکی کرنے کے حکم پر ایک قدر زائد ہے کیونکہ نیکیوں کی طرف سبقت، نیکیوں کے کرنے، ان کی تکمیل، کامل ترین احوال میں ان کو واقع کرنے اور نہایت سرعت سے ان کی طرف بڑھنے کو متضمن ہے۔ جو کوئی اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کرتا ہے وہ آخرت میں جنت کی طرف سبقت لے جائے گا، پس سابقون (سبقت کرنے والے) تمام مخلوق میں بلند ترین درجے پر فائز ہوں گے۔ اور نیکیوں کا لفظ تمام فرائض، نماز، نوافل، روزے، زکٰوۃ ، حج و عمرہ، جہاد اور لوگوں کو نفع پہنچانے وغیرہ کو شامل ہے۔ جب بات یہ ہے کہ سب سے طاقتور داعیہ جو نفوس کو نیکیوں میں مسابقت و مسارعت پر آمادہ کرتا ہے اور انھیں نشاط عطا کرتا ہے، وہ ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ ان نیکیوں پر عطا کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ﴿ اَيۡنَ مَا تَكُوۡنُوۡا يَاۡتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِيۡعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’تم جہاں کہیں بھی ہو گے، اللہ تم سب کو لے آئے گا ،بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘ وہ قیامت کے روز اپنی قدرت سے تمھیں اکٹھا کرے گا۔ پھر ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿لِيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَسَآءُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا بِالۡحُسۡنٰى ﴾(النجم : 53؍31) ’’تاکہ جن لوگوں نے برے کام کیے ہیں ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور جنھوں نے نیک کام کیے ہیں ان کو نیک بدلہ دے۔‘‘ اس آیت کریمہ سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ ہر اس فضیلت کو اختیار کرنا چاہیے جس سے کوئی عمل متصف ہو سکتا ہے، مثلاً اول وقت پر نماز ادا کرنا، روزے، حج، عمرہ اور زکٰوۃ کی ادائیگی سے فوری طور پر بری الذمہ ہونا۔ تمام عبادات کی سنن و آداب کو پوری طرح ادا کرنا۔ پس کتنی جامع اور کتنی نفع مند آیت ہے۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences