As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Al-Baqarah 2:180–188
2:180–182Page 27
كُتِبَ عَلَيۡكُمۡ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ إِن تَرَكَ خَيۡرًا ٱلۡوَصِيَّةُ لِلۡوَٰلِدَيۡنِ وَٱلۡأَقۡرَبِينَ بِٱلۡمَعۡرُوفِۖ حَقًّا عَلَى ٱلۡمُتَّقِينَ ١٨٠
Prescribed for you when death approaches [any] one of you if he leaves wealth [is that he should make] a bequest for the parents and near relatives according to what is acceptable - a duty upon the righteous.1
فَمَنۢ بَدَّلَهُۥ بَعۡدَ مَا سَمِعَهُۥ فَإِنَّمَآ إِثۡمُهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُۥٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٞ ١٨١
Then whoever alters it [i.e., the bequest] after he has heard it - the sin is only upon those who have altered it. Indeed, Allāh is Hearing and Knowing.
فَمَنۡ خَافَ مِن مُّوصٖ جَنَفًا أَوۡ إِثۡمٗا فَأَصۡلَحَ بَيۡنَهُمۡ فَلَآ إِثۡمَ عَلَيۡهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ١٨٢
But if one fears from the bequeather [some] error or sin and corrects that which is between them [i.e., the concerned parties], there is no sin upon him. Indeed, Allāh is Forgiving and Merciful.
لکھ دیا گیا ہے تم پر، جب آنے لگے ایک تمھارے کو موت، اگر چھوڑے جا رہا ہو وہ مال، وصیت کرنا واسطے والدین کے اور قرابت داروں کے موافق دستور کے، یہ حق ہے متقیوں پر(180) پھر جو شخص بدل دے اس (وصیت) کو بعد اس کے کہ وہ سن چکا اسے تو یقیناً اس کا گناہ انھی لوگوں پر ہے جو بدلیں گے اس کو، بلاشبہ اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے(181) پس جو شخص خوف کرے وصیت کرنے والے کی طرف سے حق تلفی یا گناہ کا ، پھر وہ اصلاح کرا دے ان کے درمیان تو نہیں ہے کوئی گناہ اس پر، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے(182)
[180] یعنی اے مومنوں کے گروہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آجائے، یعنی جب موت کے اسباب، مثلاً مہلک مرض اور دیگر ہلاکت خیز اسباب قریب آجائیں تو اللہ تعالیٰ نے تم پر (وصیت) فرض کی ہے۔ ﴿ اِنۡ تَرَكَ خَيۡرًا ﴾ ’’اگر اس نے مال چھوڑا ہو‘‘ ’’خیر‘‘ عرف میں مال کثیر کو کہا جاتا ہے، پس اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے والدین اور ان لوگوں کے لیے جو سب سے زیادہ اس کی نیکی کے مستحق ہیں اپنے حال اور طاقت کے مطابق بغیر کسی اسراف کے، وصیت کرے۔ علاوہ ازیں قریبی رشتہ داروں کو چھوڑ کر صرف دور کے رشتہ داروں کے لیے ہی وصیت نہ کرے، بلکہ وصیت کو ضرورت اور قرابت مندی کے تقاضوں کے مطابق ترتیب دے، اسی لیے اسم تفضیل کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ (یعنی اقربین جس کا مطلب یہ ہے کہ جو جتنا زیادہ قریب ہے، وہ اتنا ہی زیادہ تمھارے مال میں استحقاق رکھتا ہے) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ حَقًّا عَلَى الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’یہ حکم لازم ہے پرہیز گاروں پر‘‘ وصیت کے واجب ہونے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ وہ حق ثابت ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے موجبات تقویٰ میں شمار کیا ہے۔ جان لیجیے کہ جمہور مفسرین کی رائے یہ ہے کہ اس آیت کو میراث کی آیت نے منسوخ کر دیا ہے اور بعض کی رائے یہ ہے کہ اس آیت میں وصیت کا حکم والدین اور غیر وارث رشتہ داروں کے لیے ہے حالانکہ ایسی کوئی دلیل نہیں جو اس تخصیص پر دلالت کرتی ہو۔ اس ضمن میں بہترین رائے یہ ہے کہ یہ وصیت مجمل طور پر والدین اور قریبی رشتے داروں کے لیے ہے، پھر اس کو اللہ تعالیٰ نے عرف جاری کی طرف لوٹا دیا۔ پھر اس اجمالی حکم کے بعد اللہ تعالیٰ نے وارث والدین اور وارث رشتہ داروں کے لیے اس معروف کو آیات میراث میں مقدر فرما دیا (یعنی ان کے حصوں کا تعین فرما دیا) اور وصیت کا حکم ان والدین اور رشتہ داروں کے لیے باقی رہ گیا جو وراثت سے محروم ہو رہے ہوں تو وصیت کرنے والا ان کے حق میں وصیت کرنے پر مامور ہے۔ اور یہ لوگ اس کی نیکی کے سب سے زیادہ محتاج ہیں۔ اس قول پر تمام امت متفق ہو سکتی ہے اور اس سے سابقہ دونوں اقوال میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کیونکہ دونوں فریقین نے اس آیت کو اپنے اپنے نقطہ نظر سے دیکھا اور اختلاف کا باعث بنے۔ اس تطبیق سے اتفاق اور دونوں آیات میں مطابقت حاصل ہو جاتی ہے۔ کیونکہ دونوں آیتوں میں جمع و تطبیق ممکن ہے اور دو آیتوں کے درمیان تطبیق نسخ کے اس دعوے سے بہتر ہے جس کی تائید میں کوئی صحیح دلیل نہ ہو۔
بسااوقات وصیت کرنے والا اس وہم کی بنا پر وصیت کرنے سے گریز کرتا ہے کہ کہیں پسماندگان وصیت کو تبدیل نہ کر دیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[182-181]﴿ فَمَنۢۡ بَدَّلَهٗ ﴾ ’’پس جو شخص اس (وصیت) کو بدل ڈالے۔‘‘ یعنی جو کوئی اس وصیت کو بدلتا ہے جو ان مذکور لوگوں یا دیگر لوگوں کے حق میں کی گئی ہے ﴿ بَعۡدَ مَا سَمِعَهٗ ﴾ ’’اس کو سننے کے بعد‘‘ یعنی اس وصیت کو سمجھ لینے اور اس کے طریقوں اور اس کے نفاذ کو اچھی طرح جان لینے کے بعد جو کوئی اس کو تبدیل کرتا ہے ﴿ فَاِنَّمَاۤ اِثۡمُهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ يُبَدِّلُوۡنَهٗ ﴾ ’’تو اس کا گناہ صرف انھی لوگوں پر ہے جو انھیں تبدیل کرتے ہیں۔‘‘ ورنہ وصیت کرنے والا تو اللہ تعالیٰ کے اجر کا مستحق ہوگیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ ﴾ ’’بے شک اللہ سنتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ تمام آوازوں کو سنتا ہے۔ اسی طرح وہ وصیت کرنے والے کی بات اور وصیت کو بھی سنتا ہے۔ پس وہ اس ہستی کا خوف کھاتے ہوئے جو اسے دیکھ اور سن رہی ہے اپنی وصیت میں ظلم اور زیادتی کا ارتکاب نہ کرے۔ ﴿عَلِيۡمٌ﴾ وہ وصیت کرنے والے کی نیت کو جانتا ہے اور اس شخص کے عمل کو بھی جس کو یہ وصیت کی گئی ہے۔ جب وصیت کرنے والا پوری کوشش سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی نیت کو جانتا ہے تو اسے اپنی نیت کا ثواب ملتا ہے۔ خواہ اس سے خطا ہی کیوں نہ واقع ہو۔ اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے تنبیہ ہے جس کو وصیت کی گئی ہو کہ وہ اس میں تبدیلی سے باز رہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے، اس کے فعل سے وہ باخبر ہے۔ پس اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ یہ تو تھا وصیت عادلہ کا حکم، رہی وہ وصیت جو ظلم اور گناہ کی بنیاد پر کی گئی ہو، تو وصیت کے وقت جو کوئی وصیت کرنے والے کے پاس موجود ہو اسے چاہیے کہ وہ اسے اس امر کی نصیحت کرے جو بہتر اور زیادہ قرین عدل ہو اور اسے ظلم کرنے سے روکے۔ (الْجَنَف) سے مراد بغیر کسی ارادے کے غلطی سے وصیت میں ظلم کا ارتکاب کرنا۔ اور (الْاِثْم) سے مراد عمداً ظلم کرناہے۔ اگر اس نے وصیت کے وقت وصیت کرنے والے کو (غلط وصیت کرنے سے) نہیں روکا، تو اس کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ان لوگوں کے مابین صلح کروا دے جن کو وصیت کی گئی ہے۔ ان کی باہمی رضامندی اور مصالحت کے ذریعے سے ان کے درمیان عدل و انصاف کا اہتمام کرے اور ان کو وعظ و نصیحت کرے کہ وہ اپنے مرنے والے کی ذمہ داری کو پورا کریں۔ باہمی صلح کروانے والے کا یہ فعل بہت بڑی نیکی ہے اور ان پر کوئی گناہ نہیں جیسے اس شخص کو گناہ ہوتا ہے جو جائز وصیت کو تبدیل کرتا ہے۔ بنابریں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمام لغزشوں کو معاف کر دیتا ہے۔ اس شخص کی غلطیوں سے درگزر کرتا ہے جو توبہ کر کے اس کی طرف لوٹتا ہے، وہ اس شخص کو بھی اپنی مغفرت سے نوازے گا جو اپنی ذات سے صرف نظر کر کے اپنا کچھ حق اپنے بھائی کے لیے چھوڑ دیتا ہے، اس لیے کہ جو نرمی اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ نرمی اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح وہ اس مرنے والے کو بھی بخش دینے والا ہے جو اپنی وصیت میں ظلم کا ارتکاب کر گیا ہے، بشرطیکہ اس کے ورثا اس کو بریء الذمہ کرنے کی خاطر، اللہ کی رضا کے لیے آپس میں نرمی اور درگزر کا معاملہ اختیار کریں۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نہایت رحم کرنے والا ہے کیونکہ اس نے اپنے بندوں پر ہر معاملہ اس طرح مشروع کیا ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور نرمی سے معاملہ کریں۔ یہ آیات کریمہ وصیت کی ترغیب پر دلالت کرتی ہیں ، نیز اس امر پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ جس شخص کے لیے وصیت کی گئی ہے اس کو بیان کیاجائے اور ان میں اس شخص کے لیے سخت وعید ہے جو جائز وصیت میں تغیر و تبدل کا مرتکب ہوتا ہے۔ اور ظلم پر مبنی وصیت میں اصلاح کرنے کی ترغیب ہے۔
2:183–185Page 28
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُتِبَ عَلَيۡكُمُ ٱلصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ ١٨٣
O you who have believed, decreed upon you is fasting as it was decreed upon those before you that you may become righteous -
أَيَّامٗا مَّعۡدُودَٰتٖۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٖ فَعِدَّةٞ مِّنۡ أَيَّامٍ أُخَرَۚ وَعَلَى ٱلَّذِينَ يُطِيقُونَهُۥ فِدۡيَةٞ طَعَامُ مِسۡكِينٖۖ فَمَن تَطَوَّعَ خَيۡرٗا فَهُوَ خَيۡرٞ لَّهُۥۚ وَأَن تَصُومُواْ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ١٨٤
[Fasting for] a limited number of days. So whoever among you is ill or on a journey [during them] - then an equal number of other days [are to be made up]. And upon those who are able [to fast, but with hardship] - a ransom [as substitute] of feeding a poor person [each day]. And whoever volunteers good [i.e., excess] - it is better for him. But to fast is best for you, if you only knew.
شَهۡرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلۡقُرۡءَانُ هُدٗى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَٰتٖ مِّنَ ٱلۡهُدَىٰ وَٱلۡفُرۡقَانِۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ ٱلشَّهۡرَ فَلۡيَصُمۡهُۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٖ فَعِدَّةٞ مِّنۡ أَيَّامٍ أُخَرَۗ يُرِيدُ ٱللَّهُ بِكُمُ ٱلۡيُسۡرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ ٱلۡعُسۡرَ وَلِتُكۡمِلُواْ ٱلۡعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُواْ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمۡ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ ١٨٥
The month of Ramaḍān [is that] in which was revealed the Qur’ān, a guidance for the people and clear proofs of guidance and criterion. So whoever sights [the crescent of] the month,1 let him fast it; and whoever is ill or on a journey - then an equal number of other days. Allāh intends for you ease and does not intend for you hardship and [wants] for you to complete the period and to glorify Allāh for that [to] which He has guided you; and perhaps you will be grateful.
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! لکھ دیا گیا ہے تم پر روزہ رکھنا جس طرح لکھا گیا (تھا) ان لوگوں پر جو تم سے پہلے تھے، شاید کہ تم متقی بن جاؤ(183) چند دن گنتی کے، پس جو ہو تم میں سے بیمار یا سفر پر تو گنتی (پوری کرنی) ہے دوسرے دنوں سےاور اوپر ان لوگوں کے جو طاقت رکھتے ہیں اس کی، فدیہ ہے کھانا ایک مسکین کا، پھر جو کوئی خوشی سے کرے نیکی تو وہ زیادہ بہتر ہے اس کے لیےاور تمھارا روزہ رکھنا بہت بہتر ہے تمھارے لیے، اگر ہو تم علم رکھتے(184) مہینہ رمضان کا وہ ہے کہ نازل کیا گیا اس میں قرآن، ہدایت ہے واسطے لوگوں کے اور واضح دلیلیں ہدایت کی اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی، پس جو شخص حاضر ہو تم میں سے اس مہینے میں تو چاہیے کہ روزے رکھے وہ اس کے اور جو شخص ہو بیمار یا سفر پر تو گنتی (پوری کرنی) ہے دوسرے دنوں سے، چاہتا ہے اللہ تمھارے ساتھ آسانی اور نہیں چاہتا وہ تمھارے ساتھ تنگی اور تاکہ تم پوری کرو گنتی اور تاکہ تم بڑائی (بیان) کرو اللہ کی، اس پر کہ ہدایت دی اس نے تمھیں، اور شاید کہ تم شکر کرو(185)
[183] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر احسان فرماتے ہوئے ان پر روزے فرض کیے جس طرح اس نے پہلی امتوں پر روزے فرض کیے تھے کیونکہ روزے کا تعلق ایسی شرائع اور اوامر سے ہے جو ہر زمانے میں مخلوق کی بھلائی پر مبنی ہیں۔ نیز روزے اس امت کو اس جرأت پر آمادہ کرتے ہیں کہ وہ اعمال کی تکمیل اور خصائل حسنہ کی طرف سبقت کرنے میں دوسرے لوگوں سے مقابلہ کریں، نیز روزے بوجھل اعمال میں سے نہیں ہیں جن کا صرف تمھیں ہی بطور خاص حکم دیا گیا ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے روزے کی مشروعیت کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ﴾ ’’تاکہ تم متقی بن جاؤ۔‘‘ کیونکہ روزہ تقویٰ کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اس لیے کہ روزے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی کامل اطاعت اور اس کی نہی سے مکمل اجتناب ہے۔ پس یہ آیت کریمہ تقویٰ کے جن امور پر مشتمل ہے وہ یہ ہیں کہ روزہ دار کھانا پینا اور جماع وغیرہ اور ان تمام چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے جنھیں وقتی طور پر اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے حرام قرار دیا ہے، اور جن کی طرف نفس کا میلان ہوتا ہے، لیکن وہ صرف تقرب الٰہی اور ثواب کی امید پر ان چیزوں کو ترک کردیتا ہے اور یہی تقویٰ ہے۔ روزے دار اپنے نفس کو یہ تربیت دیتا ہے کہ وہ ہر وقت اللہ کی نگرانی میں ہے، چنانچہ وہ اپنی خواہشات نفس کو پورا کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود انھیں ترک کر دیتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ ان پر مطلع ہے۔ روزہ شیطان کی راہوں کو تنگ کر دیتا ہے۔ شیطان ابن آدم کے اندر یوں گردش کرتا ہے جیسے اس کی رگوں میں خون گردش کرتا ہے۔ روزے کے ذریعے سے شیطان کا اثر و نفوذ کمزور پڑ جاتا ہے اور گناہ کم ہو جاتے ہیں۔ غالب حالات میں روزہ دار کی نیکیوں میں اضافہ ہو جاتا ہے اور نیکیاں تقویٰ کے خصائل میں شمار ہوتی ہیں۔ جب خوشحال روزہ دار بھوک کی تکلیف کا مزا چکھ لیتا ہے تو یہ چیز محتاجوں اور ناداروں کی غمگساری اور دستگیری کی موجب بنتی ہے اور یہ بھی تقویٰ کی ایک خصلت ہے۔
[184] چونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے اہل ایمان پر روزے فرض کر دیے، اس لیے یہ بھی واضح کر دیا کہ یہ گنتی کے چند روزے ہیں۔ سہولت کی خاطر ان کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک اور سہولت عطا کر دی ،چنانچہ فرمایا:﴿ فَمَنۡ كَانَ مِنۡكُمۡ مَّرِيۡضًا اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنۡ اَيَّامٍ اُخَرَ﴾ ’’پس جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرلے۔‘‘ چونکہ غالب طور پر مریض کو اور مسافر کو دوران سفر مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو روزہ چھوڑنے کی رخصت عطا کر دی ہے۔ چونکہ روزے کی منفعت و مصلحت کا حصول ہر مومن کا مطلوب و مقصود ہے، اس لیے مریض اور مسافر کو حکم دیا کہ جب مرض جاتا رہے اور سفر ختم ہو جائے اور انسان کو راحت حاصل ہو جائے تو چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا دیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ فَعِدَّةٌ مِّنۡ اَيَّامٍ اُخَرَ ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ رمضان کے دنوں کی گنتی کی قضا دی جائے خواہ رمضان پورا ہو یا ناقص۔ نیز اس میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ گرمیوں کے طویل دنوں کی قضا سردیوں کے چھوٹے دنوں میں دی جا سکتی ہے اور اس کے برعکس چھوٹے دنوں کی قضا بڑے دنوں میں دی جا سکتی ہے۔ ﴿ وَعَلَى الَّذِيۡنَ يُطِيۡقُوۡنَهٗ ﴾ ’’اور ان لوگوں پر جو اس کی طاقت رکھتے ہوں۔‘‘ یعنی جو روزے رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ روزہ نہ رکھیں ، تو وہ ﴿ فِدۡيَةٌ ﴾ فدیہ دیں ﴿ طَعَامُ مِسۡكِيۡنٍ ﴾ ’’ایک مسکین کا کھانا۔‘‘ یعنی ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔ یہ حکم روزوں کے فرض ہونے کی ابتدا میں تھا ،چونکہ انھیں روزے رکھنے کی عادت نہیں تھی اور روزے ان پر فرض تھے، تاہم اس میں ان کے لیے مشقت تھی، اس لیے رب حکیم نے نہایت آسان طریقے کے ساتھ انھیں اس راستے پر لگایا اور روزے کی طاقت رکھنے والے کو اللہ نے اختیار دے دیا کہ چاہے تو روزہ رکھ لے اور چاہے تو ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔ مگر روزہ رکھنا افضل ہے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ وَاَنۡ تَصُوۡمُوۡا خَيۡرٌ لَّكُمۡ ﴾ ’’اگر تم روزہ رکھو تو تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ اس کے بعد اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر اس مسلمان پر روزہ رکھنا فرض کر دیا جو روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو اور طاقت نہ رکھنے والے شخص کو روزہ چھوڑنے اور دوسرے دنوں میں اس کی قضا دینے کی رخصت دے دی۔ اور بعض کہتے ہیں کہ ﴿ وَعَلَى الَّذِيۡنَ يُطِيۡقُوۡنَهٗ ﴾ کا معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جو بہت تکلیف سے روزہ رکھتے ہیں، یعنی وہ روزے کی مشقت کے متحمل نہیں، جیسے بہت بوڑھا وغیرہ تو وہ روزہ کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلائے اور یہی مسلک صحیح ہے۔
[185]﴿ شَهۡرُ رَمَضَانَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ فِيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ ﴾ ’’رمضان کا مہینہ جس میں قرآن نازل ہوا۔‘‘ یعنی جو روزے تم پر فرض کیے ہیں وہ رمضان کے روزے ہیں، یہ ایک ایسا عظمت والا مہینہ ہے جس میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل حاصل ہوا، یعنی قرآن کریم جو تمھارے دینی اور دنیاوی مصالح کی طرف رہنمائی پر مشتمل ہے۔ جو حق کو نہایت وضاحت سے بیان کرتا ہے اور جو حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی اور خوش بخت اور بدبخت لوگوں کے درمیان پرکھ کرنے کی کسوٹی ہے۔ وہ مہینہ جس کی یہ فضیلت ہو جس میں تم پر اللہ تعالیٰ کا اس قدر احسان اور فضل ہو، اس بات کا مستحق ہے کہ وہ بندوں کے لیے نیکیوں کا مہینہ بنے اور اس کے اندر روزے فرض کیے جائیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ کو روزوں کے لیے مقرر کر دیا اور اس نے اس کی فضیلت اور روزوں کے لیے اس کو مختص کرنے کی حکمت کو واضح کر دیا، تو فرمایا:﴿ فَمَنۡ شَهِدَ مِنۡكُمُ الشَّهۡرَ فَلۡيَصُمۡهُ ﴾ ’’پس جو تم میں سے اس مہینے کو پا لے، تو وہ اس کے روزے رکھے‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ بات متعین کر دی گئی کہ ہر صحت مند شخص جو سفر میں نہ ہو اور روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہو وہ رمضان کے روزے رکھے۔ چونکہ نسخ کا تعلق اس اختیار سے ہے جو خاص طور پر روزہ رکھنے اور فدیہ دینے کے درمیان دیا گیا تھا، اس لیے مریض اور مسافر کے لیے رخصت کو دوبارہ بیان کر دیا گیا تاکہ اس وہم کا ازالہ ہو جائے کہ مریض اور مسافر کے لیے بھی رخصت منسوخ ہو گئی ہے۔ پس فرمایا:﴿ يُرِيۡدُ اللّٰهُ بِكُمُ الۡيُسۡرَ وَلَا يُرِيۡدُ بِكُمُ الۡعُسۡرَ ﴾ ’’اللہ تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ کرتا ہے، تم پر سختی کرنا نہیں چاہتا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ تم پر اپنی رضا کے راستے حد درجہ آسان کر دے، اس لیے ان تمام امور کو جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض قرار دیا ہے، اصل میں حد درجہ آسان بنایا ہے اور جب کوئی ایسا عارضہ پیش آجائے جو ان کی ادائیگی کو مشکل اور بوجھل بنا دے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک اور طرح سے آسان کر دیا۔ یا تو سرے سے اس فرض ہی کو ساقط کر دیا یا ان میں مختلف قسم کی تخفیفات سے نواز دیا۔ یہ اس (آسانی) کا اجمالاً ذکر ہے۔ یہاں تفاصیل بیان کرنا ممکن نہیں کیونکہ اس کی تفاصیل تمام شرعیات کا احاطہ کیے ہوئے ہیں اور ان شرعیات میں تمام رخصتیں اور تخفیفات شامل ہیں۔ ﴿ وَلِتُكۡمِلُوا الۡعِدَّةَ ﴾ ’’اور تاکہ تم اس کی گنتی کو پورا کرو۔‘‘ اس آیت کریمہ کا مقصد یہ ہے۔ واللہ اعلم۔ کہ کوئی شخص اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ رمضان کے چند روزے رکھنے سے مقصود و مطلوب حاصل ہو سکتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں روزوں کی تکمیل کے حکم کے ذریعے سے اس وہم کا ازالہ کر دیا گیا، نیز حکم دیا گیا کہ روزوں کے مکمل ہونے پر بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی توفیق، سہولت اور تبیین کا شکر ادا کیا جائے۔ رمضان کے اختتام اور روزوں کے پورے ہونے پر تکبیریں کہی جائیں۔ اس حکم میں وہ تمام تکبیریں شامل ہیں جو شوال کا چاند دیکھ کر خطبہ عید سے فراغت تک کہی جاتی ہیں۔
2:186Page 28
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌۖ أُجِيبُ دَعۡوَةَ ٱلدَّاعِ إِذَا دَعَانِۖ فَلۡيَسۡتَجِيبُواْ لِي وَلۡيُؤۡمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمۡ يَرۡشُدُونَ ١٨٦
And when My servants ask you, [O Muḥammad], concerning Me - indeed I am near. I respond to the invocation of the supplicant when he calls upon Me. So let them respond to Me [by obedience] and believe in Me that they may be [rightly] guided.
اور جب سوال کریں آپ سے میرے بندے میرے بارے میں تو بلاشبہ میں قریب ہوں، قبول کرتا ہوں میں پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارے، پس چاہیے کہ مانیں وہ (بھی) میرا حکم اور ایمان لائیں مجھ پرتاکہ وہ ہدایت پائیں(186)
[186] رسول اللہﷺسے بعض صحابہ کرامyنے عرض کیا ’’کیا ہمارا رب قریب ہے کہ ہم اس سے سرگوشی کے انداز میں مناجات کریں یا وہ دور ہے کہ ہم اسے پکاریں؟‘‘ اس سوال کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ﴿ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيۡ عَنِّيۡ فَاِنِّيۡ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’اور جب تجھ سے میرے بندے میری بابت پوچھیں تو (ان کو بتلا دیں کہ) میں قریب ہوں‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کی نگہبانی کرنے والا اور اسے دیکھنے والا ہے وہ ہر بھید اور ہر چھپی ہوئی چیز کی اطلاع رکھتا ہے۔ وہ آنکھوں کی خیانت اور سینوں میں مدفون رازوں کو جانتا ہے۔ وہ دعا قبول کرنے کے اعتبار سے بھی پکارنے والے کے قریب ہے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ﴾ ’’جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔‘‘ دعا کی دو اقسام ہیں: (۱) دعائے عبادت۔ (۲) دعائے سوال۔ اسی طرح قرب کی بھی دو قسمیں ہیں: (۱) اپنے علم کے اعتبار سے اپنی تمام مخلوق کے قریب ہونا۔ (۲) دعا کی قبولیت، مدد اور توفیق کے ساتھ اپنے عبادت گزار بندوں اور پکارنے والے کے قریب ہونا۔ جو کوئی حضور قلب کے ساتھ اپنے رب سے کوئی ایسی دعا کرتا ہے جو مشروع ہو اور قبولیت دعا میں کوئی مانع بھی نہ ہو، مثلاً حرام کھانا وغیرہ، تو اللہ تعالیٰ نے ایسی دعا قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ خاص طورپر جب بندہ ایسے اسباب اختیار کرتا ہے جو اجابت دعا کے موجب ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کے قولی اور فعلی اوامر و نواہی کے سامنے سرافگندہ ہونا اور اس پر ایمان لانا، جو قبولیت دعا کا موجب ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَلۡيَسۡتَجِيۡبُوۡا لِيۡ وَلۡيُؤۡمِنُوۡا بِيۡ لَعَلَّهُمۡ يَرۡشُدُوۡنَ ﴾ ’’پس ان کو چاہیے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں، تاکہ وہ راہ راست پا لیں‘‘ یعنی ان کو وہ رشد عطا ہو گی جو ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کرنے کا نام ہے اور ان سے وہ گمراہی زائل ہوجائے گی جو ایمان اور اعمال صالحہ کے منافی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کے احکام کی اطاعت کرنا حصول علم کا سبب ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجۡعَلۡ لَّـكُمۡ فُرۡقَانًا ﴾(الانفال : 8؍29) ’’اے ایمان دارو! اگر تم اللہ سے ڈرو تو وہ تمھارے لیے حق وباطل کے درمیان امتیاز کرنے والی کسوٹی بہم پہنچا دے گا۔‘‘
2:187Page 29
أُحِلَّ لَكُمۡ لَيۡلَةَ ٱلصِّيَامِ ٱلرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَآئِكُمۡۚ هُنَّ لِبَاسٞ لَّكُمۡ وَأَنتُمۡ لِبَاسٞ لَّهُنَّۗ عَلِمَ ٱللَّهُ أَنَّكُمۡ كُنتُمۡ تَخۡتَانُونَ أَنفُسَكُمۡ فَتَابَ عَلَيۡكُمۡ وَعَفَا عَنكُمۡۖ فَٱلۡـَٰٔنَ بَٰشِرُوهُنَّ وَٱبۡتَغُواْ مَا كَتَبَ ٱللَّهُ لَكُمۡۚ وَكُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ ٱلۡخَيۡطُ ٱلۡأَبۡيَضُ مِنَ ٱلۡخَيۡطِ ٱلۡأَسۡوَدِ مِنَ ٱلۡفَجۡرِۖ ثُمَّ أَتِمُّواْ ٱلصِّيَامَ إِلَى ٱلَّيۡلِۚ وَلَا تُبَٰشِرُوهُنَّ وَأَنتُمۡ عَٰكِفُونَ فِي ٱلۡمَسَٰجِدِۗ تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَقۡرَبُوهَاۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ ءَايَٰتِهِۦ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ ١٨٧
It has been made permissible for you the night preceding fasting to go to your wives [for sexual relations]. They are a clothing for you and you are a clothing1 for them. Allāh knows that you used to deceive yourselves,2 so He accepted your repentance and forgave you. So now, have relations with them and seek that which Allāh has decreed for you [i.e., offspring]. And eat and drink until the white thread of dawn becomes distinct to you from the black thread [of night]. Then complete the fast until the night [i.e., sunset]. And do not have relations with them as long as you are staying for worship in the mosques. These are the limits [set by] Allāh, so do not approach them. Thus does Allāh make clear His verses [i.e., ordinances] to the people that they may become righteous.
حلال کر دیا گیا ہے تمھارے لیے روزے کی رات کو صحبت کرنا اپنی عورتوں کے ساتھ، وہ لباس ہیں تمھارے لیے اور تم لباس ہو ان کے لیے، جان لیا اللہ نے کہ بے شک تھے تم خیانت کرتے اپنے نفسوں کی، سو اس نے توجہ فرمائی تم پر اور معاف کر دیا تمھیں، پس اب مباشرت کرو تم ان سے اور تلاش کرو اس کو جو لکھ دیا ہے اللہ نے تمھارے لیےاور کھاؤ اور پیو حتیٰ کہ ظاہر ہو جائے واسطے تمھارے دھاری سفید، سیاہ دھاری سے ، یعنی فجر ہو جائے ، پھر پورا کرو تم روزے کو رات تک، اور نہ مباشرت (صحبت) کرو تم اپنی عورتوں سے، جبکہ تم اعتکاف کرنے والے ہو مسجدوں میں، یہ حدیں ہیں اللہ کی، سو مت قریب جاؤ تم ان کے، اسی طرح بیان فرماتا ہے اللہ اپنی آیتیں لوگوں کے لیے، شاید کہ وہ متقی بنیں(187)
[187] روزوں کے فرض کیے جانے کے بعد شروع شروع میں مسلمانوں پر رات کے وقت سو جانے کے بعد کھانا پینا اور جماع وغیرہ حرام تھا، بنا بریں بعض اصحاب کے لیے یہ چیز مشقت کا باعث ہوئی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اس حکم میں تخفیف فرما دی اور رمضان کی راتوں میں ان کے لیے کھانا پینا اور جماع مباح قرار دے دیا۔ خواہ وہ سویا ہو یا نہ سویا ہو اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کچھ ایسے امور کو ترک کر کے جن کا انھیں حکم دیا گیا تھا، اپنے نفسوں کے ساتھ خیانت کرتے تھے۔ ﴿ فَتَابَ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’پس اس (اللہ تعالیٰ) نے تم پر رجوع کیا‘‘ بایں طور کہ اس نے تمھارے لیے اس معاملے میں وسعت پیدا کر دی، اگر اس میں یہ وسعت پیدا نہ کی جاتی تو یہ معاملہ گناہ کا موجب بنتا۔ ﴿ وَعَفَا عَنۡكُمۡ﴾ ’’اور تم سے درگزر فرمایا‘‘ یعنی جو کچھ خیانت ہو چکی اللہ تعالیٰ نے اس پر تمھیں معاف کر دیا ﴿ فَالۡـٰٔنَ ﴾ ’’پس اب‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس رخصت اور وسعت کے بعد ﴿ بَاشِرُوۡهُنَّ ﴾ ’’ان سے مباشرت کرو۔‘‘ یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ مباشرت یعنی جماع، بوس و کنار اور لمس وغیرہ کرو۔ ﴿ وَابۡتَغُوۡا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمۡ ﴾ ’’اور اس چیز کو تلاش کرو، جو اللہ نے تمھارے لیے لکھی ہے‘‘ یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ مباشرت میں تقرب الٰہی اور جماع کے سب سے بڑے مقصد کو مدنظر رکھو۔ اور وہ ہے حصول اولاد، خود اپنی اور اپنی بیوی کی عفت کی حفاظت اور نکاح کے مقاصد کا حصول، نیز رمضان کی راتوں میں اللہ تعالیٰ نے شب قدر کی موافقت کو جو تمھارے لیے مقرر کر رکھا ہے (اس کے حصول کی کوشش کرو) اور تمھارے شایاں نہیں کہ تم شب قدر کے حصول کی کوشش کو چھوڑ کر اس لذت میں مصروف ہو جاؤ اور شب قدر کوضائع کر دو یہ لذت تو پھر بھی حاصل ہو سکتی ہے لیکن اگر شب قدر کے حصول کی فضیلت سے محروم ہو گئے تو یہ فضیلت کبھی حاصل نہیں ہو سکے گی۔ ﴿ وَكُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الۡخَيۡطُ الۡاَبۡيَضُ مِنَ الۡخَيۡطِ الۡاَسۡوَدِ مِنَ الۡفَجۡرِ ﴾ ’’اور کھاؤ اور پیؤ، یہاں تک کہ سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے واضح (یعنی) فجر ہوجائے‘‘ یہ کھانے پینے اور جماع کے وقت کی آخری حد ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ طلوع فجر کے وقت میں کچھ شک ہو، تو اس وقت میں کچھ کھا پی لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ یہ آیت سحری کھانے کے استحباب پر بھی دلیل ہے۔ کیونکہ اس میں کھانے پینے کے لیے امر کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سحری کے وقت کھانے پینے میں تاخیر کی جائے، یعنی آخری وقت میں سحری کھائی جائے، کیونکہ سحری کا حکم اللہ نے لوگوں کی آسانی ہی کے لیے دیا ہے، اس لیے اس میں جتنی تاخیر کی جائے گی، اتنی ہی سہولت بھی زیادہ ہو گی۔ اس میں اس امر کے جواز کی بھی دلیل ہے کہ اگر جماع کی وجہ سے جنبی حالت میں انتہائے سحر ہو جائے اور وہ غسل نہ کر سکا ہو تو اس کا روزہ صحیح ہے اس لیے کہ طلوع فجر تک جماع کی اباحت کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جب فجر ہوگی تو وہ اس وقت جنبی ہوگا۔ اور حق کو لازم ہونے والا امر بھی حق ہوتا ہے۔ ﴿ ثُمَّؔ ﴾ ’’پھر‘‘ یعنی جب فجر طلوع ہو جائے ﴿ اَتِمُّؔوا الصِّيَامَ ﴾ ’’تو روزے کو پورا کرو‘‘ یعنی روزہ توڑنے والے افعال کے ارتکاب سے رکے رہو ﴿ اِلَى الَّيۡلِ ﴾ ’’رات تک‘‘ یعنی غروب آفتاب تک۔ رمضان کی راتوں میں جماع کی جو اجازت دی گئی ہے چونکہ یہ ہر شخص کے لیے عام نہیں، کیونکہ اعتکاف میں بیٹھنے والے کے لیے جماع جائز نہیں، چنانچہ اس استثناء کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:﴿ وَلَا تُبَاشِرُوۡهُنَّ۠ وَاَنۡتُمۡ عٰكِفُوۡنَ١ۙ فِي الۡمَسٰجِدِ ﴾ ’’اور جب مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو ان سے مباشرت نہ کرو۔‘‘ یعنی جب تم اعتکاف کی صفت سے متصف ہو تو تم اپنی بیویوں سے مباشرت (ہم بستری، بوس و کنار وغیرہ) نہ کرو۔ یہ آیت کریمہ اعتکاف کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہے اور وہ ہے دنیاوی امور سے منقطع ہو کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی خاطر مسجد میں گوشہ گیر ہو جانا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسجد کے سوا کسی اور جگہ اعتکاف صحیح نہیں۔ اور مساجد کی تعریف سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ یہاں مساجد سے مراد وہ مساجد ہیں جو مسلمانوں کے ہاں معروف ہیں اور یہ وہ مساجد ہیں جہاں پانچ وقت جماعت ہوتی ہو۔ نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جماع ان امور میں سے ہے جن سے اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے۔ یہ تمام مذکورہ امور، مثلاً: روزے کی حالت میں کھانے پینے اور جماع کی ممانعت جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، غیر معذور کے لیے روزہ چھوڑ دینے کی ممانعت اور اعتکاف میں بیٹھنے والے کے لیے جماع کی حرمت وغیرہ ﴿ حُدُوۡدُ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی حدیں ہیں‘‘ جنھیں اس نے بندوں کے لیے مقرر کیا ہے اور ان کو توڑنے سے انھیں منع کیا ہے۔ ﴿ فَلَا تَقۡرَبُوۡهَا ﴾ ’’پس تم ان کے قریب مت جاؤ‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ کا یہ ارشاد (فَلَا تَفْعَلُوْھَا) ’’پس تم ان کا ارتکاب مت کرو‘‘ سے زیادہ بلیغ ہے۔ کیونکہ ’’قریب جانے‘‘ کے لفظ میں نفس فعل کی حرمت اور اس فعل حرام تک پہنچانے والے وسائل و ذرائع کی حرمت سب شامل ہیں اور بندۂ مومن تمام محرمات کو ترک کرنے، حتی الامکان ان سے دور رہنے اور ان تمام اسباب کو ترک کرنے پر مامور ہے جو ان محرمات کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ رہے اوامر تو اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فرماتا ہے ﴿ تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ فَلَا تَعۡتَدُوۡهَا ﴾(البقرۃ:2؍229) ’’یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں ان سے تجاوز نہ کرو۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان حدود سے باہر نکلنے سے روک دیا۔ ﴿ كَذٰلِكَ ﴾ ’’اسی طرح‘‘ یعنی جیسے اللہ تعالیٰ نے گزشتہ احکام کو اپنے بندوں کے سامنے اچھی طرح بیان اور مکمل طور پر واضح کر دیا ہے ﴿ يُبَيِّنُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اللہ بیان کرتا ہے اپنی نشانیاں لوگوں کے لیے تاکہ وہ بچیں‘‘ اس لیے کہ جب حق ان کے لیے واضح ہو جائے گا تو وہ اس کی پیروی کریں گے اسی طرح جب باطل ان کے سامنے عیاں ہو جائے گا تو وہ اس سے اجتناب کریں گے۔ کیونکہ کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان فعل حرام کا ارتکاب محض اس وجہ سے کر بیٹھتا ہے کہ اسے اس کے حرام ہونے کا علم نہیں ہوتا، اگر اسے اس کی حرمت کا علم ہوتا تو وہ کبھی اس کا ارتکاب نہ کرتا اور جب اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اپنی آیات کو کھول کھول کر بیان کر دیا تو ان کے پاس کوئی عذر اور کوئی حجت باقی نہ رہی اور یہ چیز تقویٰ کا سبب ہے۔
2:188Page 29
وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ وَتُدۡلُواْ بِهَآ إِلَى ٱلۡحُكَّامِ لِتَأۡكُلُواْ فَرِيقٗا مِّنۡ أَمۡوَٰلِ ٱلنَّاسِ بِٱلۡإِثۡمِ وَأَنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ١٨٨
And do not consume one another's wealth unjustly or send it [in bribery] to the rulers in order that [they might aid] you [to] consume a portion of the wealth of the people in sin, while you know [it is unlawful].
اور نہ کھاؤ تم اپنے مال آپس میں ناجائز طریقے سے اور (نہ) لے جاؤ ان کو حاکموں کی طرف تاکہ کھاؤ تم کچھ حصہ لوگوں کے مالوں سے ساتھ گناہ کے، حالانکہ تم جانتے ہو(188)
[188]﴿ وَلَا تَاۡكُلُوۡۤا اَمۡوَالَكُمۡ بَيۡنَكُمۡ بِالۡبَاطِلِ ﴾’’اور اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے مت کھاؤ‘‘ کھانے سے مراد لینا ہے اور اپنے مال سے مراد دوسرے لوگوں کا مال ہے۔ دوسروں کے مال کو اپنا مال اس لیے کہا کہ مسلمان کے شایاں یہی ہے کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے اور اپنے بھائی کے مال کا اسی طرح احترام کرے جس طرح وہ اپنے مال کا احترام کرتا ہے۔ دوسرے کے مال کو اپنا مال کہنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ دوسرے کا مال کھائے گا تو دوسرا شخص بھی جب اس کو قدرت حاصل ہو گی، تو اس کا مال کھانے کی جسارت کرے گا (اس لیے کسی دوسرے کا مال کھانا ایسا ہی ہے جیسے وہ اپنا مال کھا رہا ہے۔) چونکہ مال کھانے کی دو قسمیں ہیں: (۱) حق کے ساتھ مال کھانا۔ (۲) اور باطل طریقے سے مال کھانا، اور حرام صرف باطل طریقے سے مال کھانا ہے اس لیے یہاں اس کو ’’باطل‘‘ سے مقید کیا ہے اور اس میں غصب کر کے، چوری کر کے، امانت میں خیانت کر کے اور ادھار لی ہوئی چیز کا انکار کر کے مال کھانا، سب شامل ہے، نیز اس میں وہ معاوضہ بھی شامل ہے جو حرام ہے، جیسے سودی لین دین اور ہر قسم کے جوئے سے حاصل شدہ مال، کیونکہ یہ مال کسی جائز معاوضے کے طور پر حاصل نہیں ہوا۔ باطل طریقے سے مال کھانے میں خرید و فروخت اور اجارہ میں دھوکہ اور ملاوٹ کے ذریعے سے حاصل کیا ہوا مال بھی شامل ہے۔ مزدوروں سے کام لینا اور پھر ان کی اجرت کھا جانا بھی باطل طریقے سے مال کھانا ہے۔ اسی طرح ان مزدوروں کا کسی کام کی اجرت لینا اور اس کے عوض پورا کام نہ کرنا بھی حرام کھانا اور باطل ہے۔ ان عبادات اور تقرب الٰہی کے کاموں پر اجرت لینا جو اس وقت تک صحیح نہیں ہوتیں جب تک ان میں صرف رضائے الٰہی مقصود نہ ہو، باطل طریقے ہی سے مال کھانے میں داخل ہے۔ اس حرام کھانے میں ان لوگوں کا زکٰوۃ ، صدقات، اوقاف اور وصیتوں کا مال کھانا بھی داخل ہے جو اس مال کے مستحق نہیں۔ یا وہ مستحق تو تھے مگر اپنے حق سے زیادہ مال وصول کیا۔ (مال کھانے کی) مذکورہ بالا اور ان جیسی دیگر تمام اقسام باطل طریقے سے مال کھانے کے زمرے میں داخل ہیں۔ جس کا کھانا کسی بھی پہلو سے جائز نہیں۔ حتی کہ اگر اس میں نزاع واقع ہو جائے اور جھگڑا شرعی عدالت میں چلا جائے اور وہ فریق جو باطل طریقے سے مال کھانا چاہتا ہے کوئی ایسی دلیل پیش کرتا ہے جو اصلی حق دار کی دلیل پر غالب آ جاتی ہے اور حاکم اس دلیل کی بنیاد پر اس کے حق میں فیصلہ کر دیتا ہے (تو عدالتی فیصلے کے باوجود یہ مال حرام اور باطل ہی رہے گا)، اس لیے کہ کسی حاکم کا فیصلہ کسی حرام کو حلال اور حلال کو حرام نہیں کر سکتا، کیونکہ حاکم تو صرف پیش کردہ دلائل سن کر فیصلہ کرتا ہے ورنہ معاملات کے اصل حقائق تو اپنی جگہ موجود رہتے ہیں، اس لیے باطل طریقے سے مال ہڑپ کرنے والے کے لیے حاکم کے فیصلے میں کوئی خوشی اور اس مال کے باطل ہونے میں کوئی شبہ اور اس کے لیے کوئی راحت نہیں۔ بنابریں جو کوئی جھوٹے ثبوت کے ساتھ کوئی جھوٹا مقدمہ حاکم کی عدالت میں دائر کرتا ہے اور حاکم اس ثبوت کی بنیاد پر اس کے حق میں فیصلہ کر دیتا ہے تو یہ مال اس شخص کے لیے جائز نہیں اور وہ غیر کے مال کو جانتے بوجھتے باطل اور گناہ کے طریقے سے کھانے کا مرتکب ہو گا، اس لیے وہ سخت ترین سزا اور عقوبت کا مستحق ہے۔ اسی بنا پر جب وکیل کو یہ معلوم ہو جائے کہ اس کا موکل اپنے دعوے میں جھوٹا ہے تو اس کے لیے اس خائن کی وکالت کرنا جائز نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ وَلَا تَكُنۡ لِّلۡخَآىِٕنِيۡنَ خَصِيۡمًا﴾(النساء:4؍105) ’’اور خیانت کرنے والوں کی حمایت میں کبھی جھگڑا نہ کرنا۔‘‘
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences