As-Sa'diAl‑Baqarah · 2:264–274

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Al-Baqarah 2:264–274

2:264–266Page 44

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُبۡطِلُواْ صَدَقَٰتِكُم بِٱلۡمَنِّ وَٱلۡأَذَىٰ كَٱلَّذِي يُنفِقُ مَالَهُۥ رِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَلَا يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۖ فَمَثَلُهُۥ كَمَثَلِ صَفۡوَانٍ عَلَيۡهِ تُرَابٞ فَأَصَابَهُۥ وَابِلٞ فَتَرَكَهُۥ صَلۡدٗاۖ لَّا يَقۡدِرُونَ عَلَىٰ شَيۡءٖ مِّمَّا كَسَبُواْۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡكَٰفِرِينَ ٢٦٤

O you who have believed, do not invalidate your charities with reminders [of it] or injury as does one who spends his wealth [only] to be seen by the people and does not believe in Allāh and the Last Day. His example is like that of a [large] smooth stone upon which is dust and is hit by a downpour that leaves it bare. They are unable [to keep] anything of what they have earned. And Allāh does not guide the disbelieving people.

وَمَثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُمُ ٱبۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ ٱللَّهِ وَتَثۡبِيتٗا مِّنۡ أَنفُسِهِمۡ كَمَثَلِ جَنَّةِۭ بِرَبۡوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٞ فَـَٔاتَتۡ أُكُلَهَا ضِعۡفَيۡنِ فَإِن لَّمۡ يُصِبۡهَا وَابِلٞ فَطَلّٞۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٌ ٢٦٥

And the example of those who spend their wealth seeking means to the approval of Allāh and assuring [reward for] themselves is like a garden on high ground which is hit by a downpour - so it yields its fruits in double. And [even] if it is not hit by a downpour, then a drizzle [is sufficient]. And Allāh, of what you do, is Seeing.

أَيَوَدُّ أَحَدُكُمۡ أَن تَكُونَ لَهُۥ جَنَّةٞ مِّن نَّخِيلٖ وَأَعۡنَابٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ لَهُۥ فِيهَا مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ وَأَصَابَهُ ٱلۡكِبَرُ وَلَهُۥ ذُرِّيَّةٞ ضُعَفَآءُ فَأَصَابَهَآ إِعۡصَارٞ فِيهِ نَارٞ فَٱحۡتَرَقَتۡۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَتَفَكَّرُونَ ٢٦٦

Would one of you like to have a garden of palm trees and grapevines underneath which rivers flow in which he has from every fruit? But he is afflicted with old age and has weak [i.e., immature] offspring, and it is hit by a whirlwind containing fire and is burned. Thus does Allāh make clear to you [His] verses that you might give thought.

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ باطل کرو اپنے صدقے ساتھ احسان جتانے اور ایذا دینے کے، مانند اس شخص کے جو خرچ کرتا ہے مال اپنا واسطے دکھاوے لوگوں کےاور نہیں ایمان لاتا وہ ساتھ اللہ اور یوم آخرت کے، پس اس کی مثال مانند مثال ایک چکنے پتھر کے ہے کہ اوپر اس (پتھر) کے مٹی ہے، سو پہنچی اسے زور کی بارش، پس بارش نے چھوڑا اس پتھر کو صاف کرکے، نہیں قدرت رکھیں گے (ایسے لوگ) اوپر کسی چیز کے اس میں سے جو انھوں نے کمایااور اللہ نہیں ہدایت دیتا کافر قوم کو(264) اور مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال واسطے تلاش کرنے کے رضامندی اللہ کی، اور واسطے پختگی پیدا کرنے کے اپنے نفسوں میں، مانند مثال اس باغ کے ہے جو ٹیلے پر ہے، پہنچی اسے زور کی بارش تو لایا وہ باغ اپنا پھل دوگنا، پس اگر نہ پہنچے اس باغ کو زور کی بارش تو پھوار (ہی کافی ہے) اور اللہ ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہے(265) کیا پسند کرتا ہے ایک تمھارا یہ کہ ہو اس کے واسطے ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا، بہتی ہوں اس کے نیچے نہریں، اس شخص کے واسطے اس باغ میں ہر قسم کے پھل ہوں اور آپہنچا ہوا سے بڑھاپااور واسطے اس کے اولاد ہو کمزور، پھر (ناگہاں) آپڑے اس (باغ) پر ایک ایسا بگولا کہ اس میں آگ ہو، پس جل جائے وہ (باغ)؟ اسی طرح (کھول کر) بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں، تاکہ تم غور و فکر کرو(266)

[266-264] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت و شفقت فرماتے ہوئے انھیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ وہ احسان جتلا کر اور تکلیف دے کر اپنے صدقے ضائع کر بیٹھیں۔ اس میں اشارہ ہے کہ احسان جتلانے اور تنگ کرنے سے صدقہ کالعدم ہوجاتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گناہوں کے ارتکاب کے نتیجے میں نیک اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ جیسے ارشاد ربانی ہے: ﴿وَلَا تَجۡهَرُوۡا لَهٗ بِالۡقَوۡلِ كَجَهۡرِ بَعۡضِكُمۡ لِبَعۡضٍ اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُكُمۡ وَاَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴾(الحجرات:49؍2) ’’نبی سے اونچی آواز سے بات نہ کرو، جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال اکارت جائیں اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘ چنانچہ جس طرح نیکیوں کی وجہ سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح گناہ بھی اپنے مقابلے میں آنے والی نیکیوں کو ضائع کرسکتے ہیں۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے:﴿ وَلَا تُبۡطِلُوۡۤا اَعۡمَالَكُمۡ ﴾(محمد:47؍33) ’’اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو۔‘‘ ان دونوں آیات میں عمل کو مکمل کرنے اور اسے خراب کرنے والی اشیاء سے محفوظ رکھنے کی ترغیب ہے تاکہ عمل بے کار نہ ہوجائے۔ پھر فرمایا: ﴿ كَالَّذِيۡ يُنۡفِقُ مَالَهٗ رِئَؔاؔٓءَ النَّاسِ وَلَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرے۔ نہ اللہ پر ایمان رکھے نہ قیامت پر۔‘‘ یعنی اگر تم نے شروع میں اللہ کی رضا کی نیت رکھ کر بھی عمل کیا ہو تو احسان جتلانے سے وہ تباہ ہوجاتا ہے۔ چنانچہ تمھارا یہ عمل اس شخص کے عمل کی طرح ہوجائے گا جو صرف دکھاوے کے لیے نیکی کرتا ہے۔ اس کا مقصد اللہ کی رضا اور جنت کا حصول نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ اس کا عمل سرے سے ناقابل قبول ہے۔ کیونکہ عمل مقبول کی شرط یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کے لیے ہو۔ اس شخص نے اصل میں عمل کیا ہی لوگوں کے لیے ہے، اللہ کے لیے کیا ہی نہیں۔ لہٰذا اس کا عمل کالعدم ہوگا اور اس کی محنت بے کار جائے گی۔ اس کے حال کے مطابق تو اس کی مثال ﴿ كَمَثَلِ صَفۡوَانٍ ﴾ ’’ملائم اور سخت پتھر کی سی ہے۔‘‘ ﴿ عَلَيۡهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ ﴾ ’’جس پر کچھ مٹی پڑی ہے۔ پھر اس پر زور دار مینہ برسا‘‘ ﴿ فَتَرَؔكَهٗ صَلۡدًا ﴾ یعنی اسے اس طرح کا کرکے چھوڑا کہ اس پر وہ مٹی بالکل باقی نہیں رہی۔ دکھاوا کرنے والے کی بھی یہی مثال ہے۔ اس کا سخت دل صاف اور سخت پتھر کے مشابہ ہے۔ اس کا صدقہ وغیرہ اس پتھر پر پڑی ہوئی مٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو شخص اس پتھر کی حقیقت سے واقف نہیں، وہ خیال کرے گا کہ یہ قابل کاشت اور زرخیز زمین ہے۔ جب حقیقت ظاہر ہوگئی تو گویا وہ مٹی ہٹ گئی اور معلوم ہوگیا کہ اس کا عمل ایک سراب کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کا دل تو اس قابل تھا ہی نہیں کہ اس میں (نیکی کی) کھیتی اگ سکے اور بڑھ پھول سکے۔ اس کی ریا کاری اور بدنیتی اسے کسی نیکی سے مستفید ہونے کے قابل نہیں چھوڑتی، اس لیے فرمایا:﴿ لَا يَقۡدِرُوۡنَ عَلٰى شَيۡءٍ ﴾ یعنی وہ اپنے کمائے ہوئے اعمال میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے، کیونکہ انھوں نے ان اعمال کو غلط جگہ پر رکھا، اور اپنے جیسی مخلوق کے لیے انجام دیا جس کے ہاتھ میں نہ نفع ہے نہ نقصان۔ جس رب کی عبادت سے فائدہ ہو سکتا ہے اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا، تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ہدایت سے پھیر دیا، اس لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کافروں کی قوم کو راہ نہیں دکھاتا۔‘‘ یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو اپنے مال اس انداز سے خرچ کرتے ہیں کہ ان کے صدقات قبول ہوتے اور بڑھتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا: ﴿ وَمَثَلُ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰهِ ﴾ ’’ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی رضا مندی کی طلب میں خرچ کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا مقصد اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ﴿ وَتَثۡبِيۡتًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’دل کی خوشی اور یقین کے ساتھ۔‘‘ یعنی جب وہ خرچ کرتے ہیں تو ان کے دلوں میں سخاوت اور خوشی کی کیفیت ہوتی ہے۔ تردد کے ساتھ بادل نخواستہ خرچ نہیں کرتے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے نیک عمل پر دو طرح کی آفتیں آتی ہیں۔ یا تو انسان کا یہ ارادہ ہوتا ہے کہ لوگ تعریف کریں، یہ ریا کی بیماری ہے۔ یا کمزور نیت کے ساتھ ہچکچاتا ہوا خرچ کرتا ہے۔ سچے مومن ان دونوں آفتوں سے بچ کر صرف اللہ کی رضا کے حصول کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ ان کے سامنے کوئی اور مقصد نہیں ہوتا۔ ان کے خرچ کی مثال ایسے ہے ﴿ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ ﴾ ’’جیسے ایک باغ‘‘ جس میں درخت بے شمار ہیں اور سایہ گھنا ہے۔ (جَنَّةٍ) کا لفظ (اِجْتِنَان) سے ماخوذ ہے یعنی چھپا لینا۔ لہٰذا جنت سے مراد ایسا باغ ہے جس کے درخت زمین کو چھپا لیتے ہیں اس تک دھوپ نہیں پہنچنے دیتے۔ اور یہ باغ ﴿ بِرَبۡوَةٍ ﴾ ’’اونچی زمین پر‘‘ ہے۔ جس کو صبح، دوپہر اور شام سورج کی پوری روشنی حاصل ہوتی ہے۔ ایسے باغ کے پھل زیادہ اور بہتر ہوتے ہیں۔ یہ ایسی جگہ نہیں جہاں نہ ہوا لگے نہ دھوپ۔ اونچی زمین پر موجود اس باغ پر ﴿ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتۡ اُكُلَهَا ضِعۡفَيۡنِ ﴾ ’’زور دار بارش برسے اور وہ اپنا پھل دگنا لائے۔‘‘ زمین نم دار ہونے کی وجہ سے اور دوسرے معاون اسباب کی وجہ سے اور بکثرت پانی کی موجودگی کی وجہ سے اس باغ سے دگنا پھل حاصل ہوا۔ ﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يُصِبۡهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ﴾ ’’اور اگر اس پر بارش نہ برسے تو پھوار ہی کافی ہے۔‘‘ یعنی عمدہ زمین کی وجہ سے معمولی بارش بھی کافی ہے۔ یہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کا حال ہے۔ کوئی زیادہ خرچ کرے یا کم، ہر ایک کو اپنے حالات کے مطابق فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ اور ہر ایک کے ثواب میں پوری طرح اضافہ ہوتا ہے۔ اس کو بڑھانے والا وہ ہے جو تجھ پر تجھ سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ جہاں تجھے اپنے فائدے کا خیال نہیں رہتا، اسے وہاں بھی تیرا فائدہ مقصود ہوتا ہے۔ اگر اس دنیا میں اس طرح کا کوئی باغ ہوتا، تو لوگ اس کے حصول کے لیے پوری کوشش کرتے، بلکہ ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے اور جنگ و جدل تک نوبت پہنچ جاتی۔ حالانکہ یہ دنیا فنا ہونے والی ہے اور یہاں بے شمار آفات و مصائب ہیں۔ اور یہ ثواب جس کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے، مومن اسے بصیرت ایمانی کے نور سے گویا سامنے دیکھتا ہے، وہ جہاں دائمی ہے اس کی تمام خوشیاں اور نعمتیں دائمی ہیں۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ ان کی ہمت بیدار نہیں ہوتی، اس کے لیے جدوجہد کا کوئی داعیہ پیدا نہیں ہوتا۔ کیا اس کی وجہ آخرت سے بے رغبتی ہے یا اللہ کے وعدے پر یقین کمزور ہے؟ ورنہ اگر بندے کو واقعی کماحقہ یقین ہوتا اور دل میں ایمان سرایت کرچکا ہوتا، تو دل اس کے لیے جذبے اور ولولے سے معمور ہوجاتے اور ثواب کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا آسان ہوجاتا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’اور اللہ تمھارے کام دیکھ رہا ہے۔‘‘ وہ ہر شخص کے عمل سے بھی باخبر ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ اس عمل کا باعث کیا ہے۔ لہٰذا وہ اس کے مطابق مکمل جزا دے گا۔ اس کے بعد ارشاد ہے۔ یہ مثال اس شخص کی ہے جو صدقہ وغیرہ نیکی کاکام اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے، پھر کوئی ایسا کام کردیتا ہے جس سے وہ نیکی تباہ ہوجائے۔ اس کی مثال ایک باغ کے مالک کی سی ہے جس کے باغ میں ہر قسم کے پھل ہیں۔ ان میں سے کھجور اور انگور کا ذکر خاص طورپر کیا گیا ہے کیونکہ یہ دوسروں سے افضل ہیں اور ان کے فوائد بھی زیادہ ہیں۔ ان کا استعمال خوراک کے طورپر بھی ہوتا ہے اور میوہ کے طورپر (لطف اندوزی کے لیے) بھی۔ اس باغ میں نہریں بھی چل رہی ہیں، جن کی وجہ سے آب پاشی میں کوئی مشقت نہیں ہوتی۔ اس کا مالک اس پر خوش ہے، لوگ رشک کرتے ہیں۔ یہ آدمی بوڑھا ہوگیا، کام کاج کے قابل نہیں رہا، اس لیے اب اسے باغ ہی سے امید ہے۔ اس کی اولاد کمزور ہے، جو کام کاج میں اس کی مدد نہیں کرسکتی۔ بلکہ اس کے لیے بوجھ ہے۔ اس کااپنا خرچ بھی باغ سے چلتا ہے اور بچوں کا بھی۔ ان حالات میں باغ پر آندھی آگئی۔ (إِعْصَار) اس تیز ہوا کو کہتے ہیں جو گول گھومتی ہے اور اوپر کو بلند ہوتی ہے۔ اس بگولے میں آگ تھی جس سے باغ جل گیا۔ اس حادثے سے جو رنج و غم حاصل ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اگر غم سے مرا جاسکتا تو یہ آدمی ضرور مرجاتا۔ اس طرح جو شخص اللہ کی رضا کے لیے عمل کرتا ہے تو اس کے عمل کھیتی اور پھلوں کے بیج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے اعمال کے نتیجے میں اسے وہ باغ مل جاتا ہے جو بے انتہا دلکش ہے۔ نیکیوں کو ضائع کرنے والے اعمال اس بگولے کی طرح ہیں، جس میں آگ ہے۔ بندہ اپنے اعمال کا انتہائی ضرورت مند اس وقت ہوتا ہے جب وہ فوت ہوتا ہے۔ اس وقت اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ مزید کوئی عمل نہیں کرسکتا۔ اور جس عمل سے فائدے کی امید کی جاسکتی ہے وہ گردوغبار کی طرح بے حقیقت ہوچکا ہوتا ہے۔ اگر انسان اس صورت حال کو سمجھ لے اور اس کا تصور کرے تو اگر اسے تھوڑی سی عقل حاصل ہے تو ایسا کام ہرگز نہ کرے گا، جس میں اس کا اس قدر نقصان ہے اور جس کا انجام حسرت و افسوس ہے، لیکن ایمان و عقل کی کمزوری کی وجہ سے اور بصیرت کی کمی کی وجہ سے انسان اس حال کو پہنچ جاتا ہے کہ اگر ایسی حرکت کسی مجنون سے بھی سرزد ہو تو وہ عظیم اور انتہائی خطرناک ہو، اس لیے اللہ نے غوروفکر کرنے کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے:﴿ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَتَفَؔكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اسی طرح اللہ تمھارے لیے آیتیں بیان کرتا ہے تاکہ تم غوروفکر کرو۔‘‘

2:267–268Page 45

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَنفِقُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا كَسَبۡتُمۡ وَمِمَّآ أَخۡرَجۡنَا لَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِۖ وَلَا تَيَمَّمُواْ ٱلۡخَبِيثَ مِنۡهُ تُنفِقُونَ وَلَسۡتُم بِـَٔاخِذِيهِ إِلَّآ أَن تُغۡمِضُواْ فِيهِۚ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ ٢٦٧

O you who have believed, spend from the good things which you have earned and from that which We have produced for you from the earth. And do not aim toward the defective therefrom, spending [from that] while you would not take it [yourself] except with closed eyes. And know that Allāh is Free of need and Praiseworthy.

ٱلشَّيۡطَٰنُ يَعِدُكُمُ ٱلۡفَقۡرَ وَيَأۡمُرُكُم بِٱلۡفَحۡشَآءِۖ وَٱللَّهُ يَعِدُكُم مَّغۡفِرَةٗ مِّنۡهُ وَفَضۡلٗاۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٞ ٢٦٨

Satan threatens you with poverty and orders you to immorality, while Allāh promises you forgiveness from Him and bounty. And Allāh is all-Encompassing and Knowing.

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! خرچ کرو تم ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو کماؤ تم اور ان میں سے (بھی) جو نکالیں ہم نے تمھارے لیے زمین سے،اور نہ ارادہ کرو تم خراب چیز کا اس میں سے کہ خرچ کرو تم، اور نہیں ہو تم لینے والے اس چیز کو مگر یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ تم اس میں، اور جان لو کہ بلاشبہ اللہ بے پروا ہے، قابل تعریف ہے(267) شیطان ڈراتا ہے تمھیں تنگ دستی سے اور حکم دیتا ہے تمھیں بے حیائی کا،اور اللہ وعدہ کرتا ہے تم سے اپنی مغفرت اور فضل کا،اور اللہ وسعت والا، خوب جاننے والا ہے(268)

[268,267] اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس نے انھیں جس کمائی کی توفیق دی ہے، اور ان کے لیے زمین سے جو کچھ نکالا ہے، اس میں سے کچھ پاکیزہ اموال خرچ کریں۔ جس طرح اس نے تم پر احسان کیا ہے کہ اس کا حصول تمھارے لیے آسان فرمادیا، اسی طرح اس کا شکر ادا کرنے کے لیے، اپنے بھائیوں کے کچھ حقوق ادا کرنے کے لیے اور اپنے مالوں کو پاک کرنے کے لیے اس میں سے کچھ حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ خرچ کرنے والے کے لیے وہ عمدہ چیز منتخب کرو، جو تمھیں اپنے لیے پسند ہے۔ ایسی نکمی چیز دینے کا قصد نہ کرو، جو خود تمھیں پسند نہیں اور جسے تم خود دوسروں سے وصول کرنا پسند نہیں کرتے۔ ﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ حَمِيۡدٌ ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ بے نیاز اور خوبیوں والا ہے۔‘‘ وہ تم سے بے نیاز ہے۔ تمھارے صدقات اور دوسرے اعمال کا فائدہ خود تمہی کو حاصل ہوگا۔ وہ اس بات پر تعریف کے قابل ہے کہ اس نے تمھیں اچھے اعمال کے کرنے کا اور اچھی خوبیاں اپنانے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا تمھارا فرض ہے کہ اس کے احکام کی تعمیل کرو، کیونکہ ان سے دلوں کو روحانی غذا ملتی ہے۔ دل زندہ ہوتے ہیں اور روح کو نعمت حاصل ہوتی ہے۔ اپنے دشمن یعنی شیطان کی پیروی ہرگز نہ کرنا، جو تمھیں بخل کا حکم دیتا ہے اور تم کو ڈراتا ہے کہ خرچ کرنے سے مفلس ہوجاؤ گے۔ وہ تمھاری خیر خواہی کے طورپر یہ مشورہ نہیں دیتا، بلکہ یہ اس کا بہت بڑا دھوکا ہے۔ ﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر:35؍6)’’وہ اپنی جماعت کو (گناہ کی طرف) بلاتا ہے، تاکہ وہ بھی جہنمی بن جائیں۔‘‘ بلکہ اپنے رب کا حکم مانو، جو تمھیں ایسے انداز سے خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے، جو تمھارے لیے آسان ہو اور جس میں تمھارا کوئی نقصان نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ﴿ يَعِدُؔكُمۡ مَّغۡفِرَةً ﴾ ’’وہ تم سے وعدہ کرتا ہے اپنی بخشش کا‘‘ یعنی تمھیں گناہوں سے پاک کرنے کا ﴿ وَفَضۡلًا ﴾ ’’اور فضل کا‘‘ جس سے دنیا اور آخرت میں تمھارا بھلا ہوگا۔ یعنی جو خرچ کرتے ہو، ویسا ہی جلد ہی (دنیا میں) تمھیں دے گا، دلوں کو خوشی اور سکون اور قبر میں راحت حاصل ہوگی۔ قیامت کے دن اس کا پورا پورا ثواب بھی ملے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے اتنا زیادہ اجروثواب اور انعام دینا مشکل نہیں۔ کیونکہ وہ ﴿ وَاسِعٌ ﴾ ’’وسعت والا‘‘ یعنی وسیع فضل اور عظیم احسان کرنے والا ہے۔ اور تمھارے کیے ہوئے خرچ کو ﴿ عَلِيۡمٌ﴾ ’’جاننے والا ہے‘‘ خواہ وہ کم ہو یا زیادہ، خفیہ ہو یا ظاہر، لہٰذا اپنے فضل و احسان سے اس کا بدلہ دے گا۔ اب بندے کو خود سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے کہ اسے اللہ کی بات ماننی ہے یا شیطان کی؟ ان دو آیات میں بہت سے اہم مسائل مذکور ہیں، مثلاً:(۱) اللہ کی راہ میں خرچ کی ترغیب۔ (۲)وضاحت کہ خرچ کرنا کیوں ضروری ہے۔ (۳) سونے چاندی اور سامان تجارت میں زکاۃ کا حکم کیونکہ یہ ﴿ مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا كَسَبۡتُمۡ ﴾ میں شامل ہیں۔ (۴) غلہ، پھل اور معدنیات میں زکاۃ واجب ہے۔ (۵) زکاۃ اس پر واجب ہے جس کا وہ غلہ اور پھل ہے۔ زمین کے مالک پر واجب نہیں کیونکہ ارشاد ہے: ﴿ اَخۡرَجۡنَا لَكُمۡ ﴾ لہٰذا زمین جس کے لیے یہ اشیا اگاتی ہے، زکاۃ بھی اس پر واجب ہے۔ (۶) ان مالوں پر زکاۃ نہیں جو اپنی ذاتی ضروریات کے لیے رکھے گئے ہوں، مثلاً قطعہ زمین اور برتن وغیرہ۔ اسی طرح اگر معلوم نہ ہو کہ فلاں نے میرا قرض ادا کرنا ہے یا کسی نے مال پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے یا مال اور قرض ایسے شخص کے پاس ہے جس سے واپس لینے کی طاقت نہیں، تو ایسے اموال پر زکاۃ نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان مالوں سے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے جوبڑھتے ہیں یعنی زمین سے حاصل ہونے والی اشیا اور اموال تجارت اور جو مال اس مقصد کے لیے تیار نہیں رکھے گئے یا جن مالوں کو حاصل کرنا ممکن نہیں، ان میں یہ وصف نہیں پایا جاتا ہے۔ (۷) نکمی چیز دینا منع ہے، ایسی چیز دینے سے زکاۃ کا فرض ادا نہیں ہوگا۔

2:269Page 45

يُؤۡتِي ٱلۡحِكۡمَةَ مَن يَشَآءُۚ وَمَن يُؤۡتَ ٱلۡحِكۡمَةَ فَقَدۡ أُوتِيَ خَيۡرٗا كَثِيرٗاۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّآ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ ٢٦٩

He gives wisdom1 to whom He wills, and whoever has been given wisdom has certainly been given much good. And none will remember except those of understanding.

اللہ دیتا ہے حکمت جسے چاہتا ہے اور جو شخص دیا جائے حکمت پس تحقیق دیا گیا وہ بھلائی بہت، اور نہیں نصیحت حاصل کرتے مگر عقل مند ہی(269)

[269] چونکہ اللہ تعالیٰ نے بہت عظیم احکامات نازل فرمائے ہیں جن میں بہت سے اسرار اور بہت سی حکمتیں ہیں۔ اور ان پر عمل کی توفیق ہر کسی کو نہیں ملتی بلکہ صرف اسی کو ملتی ہے جس پر اللہ کا خاص احسان ہو اور اسے اللہ حکمت عطا فرما دے۔ حکمت سے مراد علم نافع، عمل صالح، اور شریعت کے اسرار اور حکمتوں سے واقفیت ہے۔ جسے اللہ ایسی حکمت دے دے اسے اللہ نے بہت بھلائی عطا فرمادی۔ اس بھلائی سے عظیم تر بھلائی کون سی ہوسکتی ہے جس میں دنیا اور آخرت کی خوش نصیبی پنہاں ہو، اور جس کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی بدنصیبی سے نجات مل جائے؟ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نعمت خاص خاص لوگوں کو ملتی ہے اور یہ انبیاء کا ترکہ ہے۔ پس بندے کو کمال صرف حکمت سے حاصل ہوسکتاہے۔ کیونکہ کمال نام ہے علمی اور عملی قوت کے کامل ہونے کا۔ علمی قوت تو حق کی معرفت سے اور اس کے مقصود کی معرفت سے کامل ہوتی ہے۔ اور عملی قوت نیکی کرنے اور برائی سے اجتناب کرنے سے مکمل ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بندہ صحیح قول اور صحیح عمل کا حامل ہوسکتا ہے۔ اور اپنی ذات کے بارے میں، نیز دوسروں کے بارے میں ہر حکم کو اس کے صحیح مقام پر رکھ سکتا ہے۔ اس کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی فطرت میں یہ رکھ دیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں، بھلائی سے محبت رکھیں ، حق کے طالب ہوں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے رسول مبعوث فرمائے کہ لوگوں کو ان کی عقل و فطرت میں جڑیں رکھنے والی ان اشیاء کی یاد دہانی کرائیں اور جو تفصیلات لوگوں کو معلوم نہیں، وہ بیان فرمائیں۔ پھر لوگ دو قسموں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جنھوں نے انبیاء کی دعوت کو قبول کیا، تو انھیں اپنے فائدے کی باتیں یاد ہوگئیں، انھوں نے اس پر عمل کیا۔ اور انھیں اپنے نقصان کی باتیں معلوم ہوگئیں، لہٰذا وہ ان سے بچ گئے۔ یہ لوگ کامل عقل و فہم کے حامل ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جنھوں نے انبیاء کی دعوت قبول نہیں کی، بلکہ ان کی فطرت میں جو خرابی پیدا ہوگئی تھی اسی کے مطابق عمل کیا، رب کا حکم نہیں مانا۔ یہ لوگ عقل والے نہیں۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا:﴿ وَمَا يَذَّكَّـرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ ’’نصیحت صرف عقل مند ہی حاصل کرتے ہیں۔‘‘

2:270–271Page 46

وَمَآ أَنفَقۡتُم مِّن نَّفَقَةٍ أَوۡ نَذَرۡتُم مِّن نَّذۡرٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُهُۥۗ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنۡ أَنصَارٍ ٢٧٠

And whatever you spend of expenditures or make of vows - indeed, Allāh knows of it. And for the wrongdoers there are no helpers.

إِن تُبۡدُواْ ٱلصَّدَقَٰتِ فَنِعِمَّا هِيَۖ وَإِن تُخۡفُوهَا وَتُؤۡتُوهَا ٱلۡفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيۡرٞ لَّكُمۡۚ وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَيِّـَٔاتِكُمۡۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ ٢٧١

If you disclose your charitable expenditures, they are good; but if you conceal them and give them to the poor, it is better for you, and He will remove from you some of your misdeeds [thereby]. And Allāh, of what you do, is [fully] Aware.

اگر ظاہر کرو تم خیرات، تو اچھی بات ہے یہ، اور اگر چھپاؤ تم اس کو اور دو وہ فقیروں کو تو وہ بہت ہی بہتر ہے تمھارے لیے،اور دور کر دے گا (اللہ) تم سے تمھارے گناہ اور اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے(271) اور جو خرچ کرو تم کسی قسم کا خرچ یا نذر مانو تم کوئی بھی نذر، تو بے شک اللہ جانتا ہے اسے،اور نہیں ہے واسطے ظالموں کے کوئی مددگار(270)

[271,270] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس خرچ کا اللہ نے حکم دیا ہے وہ واجب ہو یا مستحب، کم ہو یا زیادہ، ہر خرچ کا ثواب ملتا ہے۔ نذر اسے کہتے ہیں جسے کوئی مکلف انسان خود اپنے ذمے لے لے۔ اور اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے کیونکہ اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں۔ اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ یہ عمل خلوص سے کیا گیا ہے یا کسی اور نیت سے۔ اگر صرف اللہ کی رضا کے لیے اخلاص کے ساتھ کیا گیا ہے تو اللہ اس کی جزا کے طورپرعظیم فضل اور کثیر ثواب عطا فرماتا ہے۔ اگر بندہ واجب اخراجات نہ کرے یا مانی ہوئی نذر پوری نہ کرے یا یہ عمل مخلوق کی خوشنودی کے لیے کرے تو وہ ظالم بن جاتا ہے کیونکہ اس نے ایک چیز کو غلط مقام پر رکھ دیا ہے۔ لہٰذا وہ سخت سزا کا مستحق ہے۔ جس سے اسے کوئی نہیں بچا سکتا اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴾ ’’اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔‘‘ ﴿ اِنۡ تُبۡدُوا الصَّدَقٰتِ﴾ ’’اگر تم صدقے خیرات کو ظاہر کرو۔‘‘یعنی علانیہ خیرات کرو، جبکہ اس کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہو ﴿ فَنِعِمَّا هِيَ ﴾ ’’تو وہ بھی اچھا ہے۔‘‘ کیونکہ اس سے مقصود حاصل ہوجاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تُخۡفُوۡهَا وَتُؤۡتُوۡهَا الۡفُقَرَآءَؔ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ﴾ ’’اور اگر تم اسے پوشیدہ پوشیدہ مسکینوں کو دے دو، تو یہ تمھارے حق میں بہتر ہے۔‘‘ اس میں یہ نکتہ ہے کہ غریب آدمی کو پوشیدہ طورپر صدقہ دینا، ظاہر کرکے دینے سے افضل ہے لیکن جب غریبوں کو صدقات نہ دیے جارہے ہوں تو اس آیت میں اشارہ ہے کہ اس صورت میں پوشیدہ طورپر صدقہ کرنا ظاہر کرنے سے افضل نہیں۔ یعنی اس کا دارومدار مصلحت اور فائدے پر ہے۔ اگر اس کے ظاہر کرنے سے ایک دینی حکم کی اشاعت ہوتی ہو، اور امید ہو کہ دوسرے لوگ بھی یہ نیک کام کرنے لگیں گے، تو چھپانے کی نسبت ظاہر کرکے دینا افضل ہوگا۔ ﴿ وَتُؤۡتُوۡهَا الۡفُقَرَآءَؔ ﴾ ’’اور اسے مسکینوں کو دے دو۔‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ دینے والے کو چاہیے کہ ضرورت مندوں کو تلاش کرکے صدقہ دے۔ زیادہ ضرورت مند کی موجودگی میں کم ضرورت مند کو نہ دے۔ اور اللہ کے اس فرمان میں کہ صدقہ دینا صدقہ دینے والے کے لیے بہتر ہے، یہ اشارہ ہے کہ اسے ثواب حاصل ہوگا اور ﴿ وَيُكَـفِّرُ عَنۡكُمۡ مِّنۡ سَيِّاٰتِكُمۡ ﴾ میں بتایا ہے کہ سزا ختم ہوجائے گی، اور عذاب سے نجات مل جائے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور اللہ تمھارے تمام اعمال کی خبر رکھنے والا ہے‘‘ یعنی وہ اچھے ہوں یا برے، کم ہوں یا زیادہ، یہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کی جزا و سزا ملے گی۔

2:272Page 46

۞ لَّيۡسَ عَلَيۡكَ هُدَىٰهُمۡ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَهۡدِي مَن يَشَآءُۗ وَمَا تُنفِقُواْ مِنۡ خَيۡرٖ فَلِأَنفُسِكُمۡۚ وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ٱبۡتِغَآءَ وَجۡهِ ٱللَّهِۚ وَمَا تُنفِقُواْ مِنۡ خَيۡرٖ يُوَفَّ إِلَيۡكُمۡ وَأَنتُمۡ لَا تُظۡلَمُونَ ٢٧٢

Not upon you, [O Muḥammad], is [responsibility for] their guidance, but Allāh guides whom He wills. And whatever good you [believers] spend is for yourselves, and you do not spend except seeking the face [i.e., approval] of Allāh. And whatever you spend of good1 - it will be fully repaid to you, and you will not be wronged.

نہیں ہے اوپر آپ کے ہدایت دینا ان کو لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے،اور جو خرچ کرو تم مال سے تو وہ تمھارے نفسوں ہی کے (فائدے کے) لیے ہے،اور نہیں خرچ کرتے ہو تم مگر واسطے تلاش کرنے کے رضامندی اللہ کی، اور جو خرچ کرو گے تم مال سے، وہ پورا پورا دیا جائے گا تمھیں اور تم نہیں ظلم کیے جاؤ گے(272)

[272] اللہ تعالیٰ اپنے نبیﷺسے فرماتا ہے کہ مخلوق کو ہدایت پر چلا دینا آپ کی ذمہ داری نہیں۔ آپ کا فرض صرف یہ ہے کہ حق کو واضح طورپر ان تک پہنچا دیں۔ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح مسلمان پر واجب ہے کہ صدقہ و خیرات اور دوسرے اخراجات کرے، اسی طرح کافر پر بھی یہ واجب ہے، اگرچہ اس نے ہدایت قبول نہ کی ہو، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ ﴾ ’’تم جو کچھ مال خرچ کرو گے۔‘‘ کم ہو یا زیادہ اور خرچ کرنے والا مسلمان ہو یا کافر: ﴿ فَلِاَنۡفُسِكُمۡ۠ ﴾ ’’اس کا فائدہ خود پاؤ گے۔‘‘ ﴿ وَمَا تُنۡفِقُوۡنَ اِلَّا ابۡتِغَآءَؔ وَجۡهِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور تم صرف اللہ کی رضامندی کی طلب کے لیے خرچ کرتے ہو۔‘‘ یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ مومنوں کے خرچ کی بنیاد ایمان ہوتی ہے اور وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا ایمان انھیں فضول مقاصد کے لیے کام کرنے سے منع کرتا ہے اور اخلاص پیدا کرتا ہے۔ ﴿ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ يُّوَفَّ اِلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمھیں دیا جائے گا۔‘‘ یعنی قیامت کے دن تم پورا اجر وثواب حاصل کرو گے۔ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ تمھارے نیک عملوںمیں ذرہ برابر کمی نہیں کی جائے گی، اور تمھارے گناہوں میں بلاوجہ اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

2:273–274Page 46

لِلۡفُقَرَآءِ ٱلَّذِينَ أُحۡصِرُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ لَا يَسۡتَطِيعُونَ ضَرۡبٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ يَحۡسَبُهُمُ ٱلۡجَاهِلُ أَغۡنِيَآءَ مِنَ ٱلتَّعَفُّفِ تَعۡرِفُهُم بِسِيمَٰهُمۡ لَا يَسۡـَٔلُونَ ٱلنَّاسَ إِلۡحَافٗاۗ وَمَا تُنفِقُواْ مِنۡ خَيۡرٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌ ٢٧٣

[Charity is] for the poor who have been restricted for the cause of Allāh, unable to move about in the land. An ignorant [person] would think them self-sufficient because of their restraint, but you will know them by their [characteristic] sign. They do not ask people persistently [or at all]. And whatever you spend of good - indeed, Allāh is Knowing of it.

ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٰلَهُم بِٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ سِرّٗا وَعَلَانِيَةٗ فَلَهُمۡ أَجۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ٢٧٤

Those who spend their wealth [in Allāh's way] by night and by day, secretly and publicly - they will have their reward with their Lord. And no fear will there be concerning them, nor will they grieve.

(یہ صدقہ) واسطے ان ضرورت مندوں کے ہے جو روک دیے گئے ہیں اللہ کی راہ میں، نہیں استطاعت رکھتے وہ چلنے پھرنے کی زمین میں، گمان کرتا ہے ان کو ناواقف، مال دار، ان کے سوال نہ کرنے کی وجہ سے، آپ پہچان لیں گے ان کو ان کے چہرے کی علامات سے، نہیں سوال کرتے وہ لوگوں سے چمٹ کراور جو خرچ کرو تم مال سے، تو بلاشبہ اللہ اس کو خوب جاننے والا ہے(273)وہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال رات اور دن میں، پوشیدہ اور ظاہر، تو واسطے ان کے اجر ہے ان کا نزدیک ان کے رب کےاور نہ کوئی خوف ہوگا اوپر ان کے اور نہ وہ غمگین ہوں گے(274)

[273] اس کے بعد اللہ تعالیٰ یہ بیان کرتا ہے کہ کون لوگ زیادہ مستحق ہیں کہ ان پر خرچ کیا جائے۔ چنانچہ ان کی چھ صفات بیان فرمائی ہیں۔ (۱) فقر اور تنگ دستی۔ (۲)﴿ اُحۡصِرُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کاموں، جہاد وغیرہ کے لیے وقف ہوچکے ہیں، وہ اس کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ (۳) رزق کی تلاش کے لیے سفر کے قابل نہ ہوں۔ جیسے فرمایا: ﴿ لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ ضَرۡبًا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی روزی کمانے کے لیے زمین میں سفر نہیں کرسکتے۔ (۴)﴿ يَحۡسَبُهُمُ الۡجَاهِلُ اَغۡنِيَآءَؔ مِنَ التَّعَفُّفِ ﴾ ’’نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انھیں مال دار خیال کرتے ہیں۔‘‘ اس سے ان کا مخلصانہ صبر اور سوال سے بچنے کی صفت کا بیان ہے۔ (۵) اللہ نے فرمایا: ﴿ تَعۡرِفُهُمۡ بِسِيۡمٰىهُمۡ ﴾ ’’آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے پہچان لیں گے۔‘‘ یعنی اس علامت کے ذریعے سے پہچان لیں گے جو اللہ نے ان کے وصف کے طورپر ذکر کی ہے۔ اور یہ ارشاد ﴿ يَحۡسَبُهُمُ الۡجَاهِلُ اَغۡنِيَآءَؔ ﴾ نادانوں کے انھیں مال دار خیال کرنے کے منافی نہیں۔ کیونکہ جو ان کے حالات سے واقف نہیں۔ اس میں اتنی سمجھ نہیں کہ دیکھ کر ان کے حالات سمجھ لے۔ سمجھ دار آدمی تو انھیں دیکھتے ہی ان کی علامت کی وجہ سے پہچان لیتا ہے۔ (۶)﴿لَا يَسۡـَٔلُوۡنَ النَّاسَ اِلۡحَافًا ﴾ یعنی لوگوں سے اصرار کے ساتھ نہیں مانگتے۔ بلکہ اگر حالات انھیں سوال کرنے پر مجبور کردیں تب بھی ان کے سوال میں اصرار اور چمٹ جانے کی کیفیت نہیں ہوتی۔ یہ لوگ اپنی ان صفات کی وجہ سے صدقات دیے جانے کے زیادہ مستحق ہیں۔ دوسروں پر خرچ کرنا فی نفسہ ایک نیکی اور احسان ہے۔ خواہ کسی شخص پر خرچ کیا جائے۔ آدمی کو اس کا اجر و ثواب ملے گا، اس لیے فرمایا:﴿وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ﴾ ’’تم جو کچھ مال خرچ کرو، اللہ اس کا جاننے والا ہے۔‘‘ اس کے بعد ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو ہر حال میں ہر وقت صدقہ کرتے ہیں۔

[274] چنانچہ فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ ﴾ ’’جو لوگ اپنے مال خرچ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں۔‘‘ یعنی اس کی اطاعت میں، اور اس کی خوشنودی کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، حرام اور مکروہ کاموں میں یا اپنے دل کی خواہش پوری کرنے کے لیے خرچ نہیں کرتے ﴿ بِالَّيۡلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’رات دن، چھپے کھلے (خرچ کرتے ہیں) ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے۔‘‘ یعنی رحمتوں والے مالک کے پاس عظیم اجر ہے۔ ﴿ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’انھیں نہ خوف ہوگا‘‘ جب کوتاہی کرنے والے خوف میں مبتلا ہوں گے ﴿ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَؔ ﴾ ’’اور نہ وہ غمگین ہوں گے‘‘ جب جائز حد سے آگے بڑھنے والے غم میں مبتلا ہوں گے۔ تو یہ اپنااصل مقصود اور مطلوب حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اور ہر قسم کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس کے بندوں پر مختلف انداز سے خرچ کرکے احسان کرنے والوں کا ذکر مکمل کرلیا تو اس کے بعد ان ظالموں کا ذکر فرمایا جو اللہ کے بندوں پر انتہائی برا ظلم کرتے ہیں۔ ارشاد ہے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском