As-Sa'diAl‑Baqarah · 2:91–107

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Al-Baqarah 2:91–107

2:91–93Page 14

وَإِذَا قِيلَ لَهُمۡ ءَامِنُواْ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ قَالُواْ نُؤۡمِنُ بِمَآ أُنزِلَ عَلَيۡنَا وَيَكۡفُرُونَ بِمَا وَرَآءَهُۥ وَهُوَ ٱلۡحَقُّ مُصَدِّقٗا لِّمَا مَعَهُمۡۗ قُلۡ فَلِمَ تَقۡتُلُونَ أَنۢبِيَآءَ ٱللَّهِ مِن قَبۡلُ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٩١

And when it is said to them, "Believe in what Allāh has revealed," they say, "We believe [only] in what was revealed to us." And they disbelieve in what came after it, while it is the truth confirming that which is with them. Say, "Then why did you kill the prophets of Allāh before, if you are [indeed] believers?"

۞ وَلَقَدۡ جَآءَكُم مُّوسَىٰ بِٱلۡبَيِّنَٰتِ ثُمَّ ٱتَّخَذۡتُمُ ٱلۡعِجۡلَ مِنۢ بَعۡدِهِۦ وَأَنتُمۡ ظَٰلِمُونَ ٩٢

And Moses had certainly brought you clear proofs. Then you took the calf [in worship] after that, while you were wrongdoers.

وَإِذۡ أَخَذۡنَا مِيثَٰقَكُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَكُمُ ٱلطُّورَ خُذُواْ مَآ ءَاتَيۡنَٰكُم بِقُوَّةٖ وَٱسۡمَعُواْۖ قَالُواْ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا وَأُشۡرِبُواْ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلۡعِجۡلَ بِكُفۡرِهِمۡۚ قُلۡ بِئۡسَمَا يَأۡمُرُكُم بِهِۦٓ إِيمَٰنُكُمۡ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٩٣

And [recall] when We took your covenant and raised over you the mount, [saying], "Take what We have given you with determination and listen." They said [instead], "We hear and disobey." And their hearts absorbed [the worship of] the calf because of their disbelief. Say, "How wretched is that which your faith enjoins upon you, if you should be believers."

اور جب کہا جاتا ہے ان سے ایمان لاؤ اس پر جو نازل کیا اللہ نے تو کہتے ہیں ہم ایمان لاتے ہیں اس پر جو نازل کیا گیا ہم پر اور انکار کرتے ہیں وہ اس کے ماسوا کا، حالانکہ وہ (قرآن) حق ہے، تصدیق کرنے والا اس (کتاب) کی جو ان کے پاس ہے، کہہ دیجیے! ، پھر کیوں قتل کرتے رہے تم اللہ کے نبیوں کو پہلے اس سے، اگر تھے تم مومن(91)اور تحقیق آئے تمھارے پاس موسیٰ ساتھ واضح دلیلوں (معجزات) کے، پھر بنا لیا تم نے بچھڑے کو (معبود) بعد اس کے اور تم (ہی) ہو ظالم(92) اور (یاد کرو) جب لیا ہم نے پختہ وعدہ تم سے اور بلند کیا ہم نے، تم پر طور(پہاڑ اور کہا) پکڑو تم جو دیا ہم نے تمھیں ساتھ قوت کے اور سنو! کہا انھوں نے سنا ہم نے اور نافرمانی کی ہم نےاور پلا دیے گئے وہ اپنے دلوں میں (محبت) بچھڑے کی بہ سبب ان کے کفر کے، کہہ دیجیے! بری ہے وہ چیز کہ حکم کرتا ہے تمھیں اس کا تمھارا ایمان اگر ہو تم مومن(93)

[91] جب یہود کو حکم دیا گیا کہ وہ اس کتاب پر ایمان لائیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے، یعنی قرآن کریم پر تو انھوں نے تکبر اور سرکشی سے کہا:﴿نُؤۡمِنُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا وَيَكۡفُرُوۡنَ بِمَا وَرَآءَهٗ﴾ یعنی وہ (تورات کے سوا) تمام کتابوں کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ ان پر فرض تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ تمام کتابوں پر علی الاطلاق ایمان لائیں خواہ یہ کتابیں بنی اسرائیل کے نبیوں پر نازل کی گئی ہوں یا ان کے علاوہ کسی اور نبی پر۔ اور یہی وہ ایمان ہے جو فائدہ مند ہے۔ یعنی ان تمام کتابوں پر ایمان جو تمام انبیائے کرام علیہ السلام پر نازل کی گئی ہیں۔ رہا اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کی نازل کردہ کتابوں کے درمیان تفریق کرنا اور اپنے زعم کے مطابق کسی پر ایمان لانا اور کسی کا انکار کر دینا، تو یہ ایمان نہیں بلکہ عین کفر ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡفُرُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يُّفَرِّقُوۡا بَيۡنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيَقُوۡلُوۡنَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٍ وَّنَكۡفُرُ بِبَعۡضٍ١ۙ وَّيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذُوۡا بَيۡنَ ذٰلِكَ سَبِيۡلًاۙ۰۰اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡكٰفِرُوۡنَ حَقًّا﴾(النساء : 4؍150۔151) ’’وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں سے کفر کرتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ اس کے مابین (یعنی ایمان اور کفر کے مابین) ایک راہ نکالنا چاہتے ہیں بلاشبہ وہی کافر ہیں۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کو شافی جواب دیا ہے اور ان کو ایک ایسی الزامی دلیل دی ہے جس سے ان کو کوئی مفر نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے انکار قرآن کا دو پہلوؤں سے رد کیا ہے۔ (الف) اس لیے فرمایا: ﴿ وَهُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’وہ (قرآن) حق ہے‘‘ پس جب یہ قرآن اوامر و نواہی اور اخبار میں سراسر حق پر مشتمل ہے اور یہ حق ان کے رب کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ لہٰذا یہ معلوم ہو جانے کے بعد اس کا انکار کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کا انکار کرنا اور اس حق کا انکار کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔ (ب) پھر فرمایا ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمۡ﴾ ’’ان کی موجودہ کتاب کی تصدیق کرتا ہے‘‘ یعنی یہ ہر اس چیز کے موافق اور اس کا محافظ ہے جس پر حق دلالت کرتا ہے۔ پس تم اس کتاب پر کیوں ایمان لاتے ہو جو تم پر نازل کی گئی جبکہ اس جیسی دوسری کتاب کا انکار کرتے ہو؟ اور کیا یہ تعصب نہیں؟ کیا یہ ہدایت کی پیروی کی بجائے خواہشات نفس کی پیروی نہیں؟ نیز قرآن کا ان کتابوں کی تصدیق کرنا جو ان پر نازل کی گئیں ہیں، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ قرآن ان کے لیے اس بات کی دلیل ہو کہ ان کے پاس جو کتابیں ہیں، وہ سچی ہیں۔ اس اعتبار سے وہ اپنی کتابوں کا اثبات بھی قرآن کے بغیر نہیں کر سکتے۔ جب وہ قرآن کا انکار کر دیتے ہیں تو ان کی حالت اس مدعی کی سی ہو جاتی ہے جس کے پاس اپنے دعوی کو ثابت کرنے کے لیے ایسی دلیل و حجت بھی ہے جو اثبات دعویٰ کی واحد دلیل ہے، اس دلیل کے بغیر اس کا دعویٰ ثابت ہی نہیں ہو سکتا، لیکن پھر وہ خود ہی اپنی دلیل میں جرح و قدح کرتا ہے اور اس کو جھٹلا دیتا ہے۔ کیا یہ پاگل پن اور حماقت نہیں؟ پس واضح ہوا کہ ان کا قرآن کا انکار کرنا درحقیقت ان کتابوں کا انکار ہے جو ان کی طرف نازل کی گئی ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کی تردید کی کہ وہ ان کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں جو ان کی طرف نازل کی گئی ہیں۔ چنانچہ فرمایا:﴿ قُلۡ﴾ یعنی ان سے (کہہ دو)﴿ فَلِمَ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۢۡبِيَآءَ اللّٰهِ مِنۡ قَبۡلُ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اگر تم ایماندار ہو تو پھر تم اس سے قبل اللہ کے انبیاء کو کیوں قتل کر دیتے رہے؟‘‘

[92]﴿وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ مُّوۡسٰؔى بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ یعنی تمھارے پاس موسیٰ حق کو بیان کرنے والے واضح دلائل لے کر آئے۔ ﴿ ثُمَّؔ اتَّؔخَذۡتُمُ الۡعِجۡلَ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ﴾ یعنی ’’تم نے موسیٰ کے آنے کے بعد بھی بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا ‘‘ ﴿ وَاَنۡتُمۡ ظٰلِمُوۡنَ﴾ ’’اور تم اس بارے میں سخت ظالم تھے‘‘ اور تمھارے پاس کوئی عذر نہیں۔

[93]﴿ وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَكُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَكُمُ الطُّوۡرَ١ؕ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰؔكُمۡ بِقُوَّةٍ وَّاسۡمَعُوۡا﴾ ’’اور جب ہم نے تم سے وعدہ لیا اور تم پر طور کو بلند کیا (کھڑا کیا) کہ ہماری دی ہوئی چیز کو مضبوطی سے تھامو اور سنو‘‘ یعنی اس کو قبول کرنے، اس کی اطاعت کرنے اور اس کی آواز پر لبیک کہنے کے لیے سنو ﴿ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا﴾ یعنی ان کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ ’’وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی۔‘‘ ﴿ وَاُشۡرِبُوۡا فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡعِجۡلَ ﴾ یعنی ان کے دل بچھڑے اور اس کی عبادت کی محبت کے رنگ میں رنگ گئے اور ان کے کفر کے سبب سے ان کے دلوں میں گویا بچھڑے کی محبت رچ بس گئی۔ ﴿ قُلۡ بِئۡسَمَا يَاۡمُرُؔكُمۡ بِهٖۤ اِيۡمَانُكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’انھیں کہہ دیجیے کہ تمھارا ایمان تمھیں برا حکم دے رہا ہے اگر تم مومن ہو‘‘ یعنی تم ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہو اور دین حق کے نام نہاد پیرو ہونے پر اپنی تعریف چاہتے ہو۔ اور تمھاری حالت یہ ہے کہ تم نے اللہ کے نبیوں کوقتل کیا، جب حضرت موسیٰuکوہ طور پر گئے، تو تم نے اللہ کو چھوڑ کر بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ تم نے اللہ تعالیٰ کی شریعت (یعنی اوامر و نواہی) کو اس وقت تک قبول نہ کیا جب تک کہ تمھیں دھمکی نہ دی گئی اور کوہ طور کو اٹھا کر تم پر معلق نہ کر دیا گیا۔ پھر بھی تم نے زبانی طور پر تو اسے قبول کر لیا مگر بالفعل اس کی مخالفت کی۔ یہ کیسا ایمان ہے جس کا تم دعویٰ کرتے ہو اور یہ کیسا دین ہے؟ تمھارے زعم کے مطابق اگر یہی ایمان ہے تو بہت برا ایمان ہے جو تمھیں سرکشی، رسولوں کے انکار اور کثرت عصیان کی دعوت دیتا ہے۔ حالانکہ یہ بات معروف ہے کہ صحیح اور حقیقی ایمان صاحب ایمان کو ہر بھلائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے لہٰذا اس سے ان کا جھوٹ واضح اور ان کا تضاد عیاں ہو جاتا ہے۔

2:94–96Page 15

قُلۡ إِن كَانَتۡ لَكُمُ ٱلدَّارُ ٱلۡأٓخِرَةُ عِندَ ٱللَّهِ خَالِصَةٗ مِّن دُونِ ٱلنَّاسِ فَتَمَنَّوُاْ ٱلۡمَوۡتَ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٩٤

Say, [O Muḥammad], "If the home of the Hereafter with Allāh is for you alone and not the [other] people, then wish for death, if you should be truthful."

وَلَن يَتَمَنَّوۡهُ أَبَدَۢا بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلظَّٰلِمِينَ ٩٥

But never will they wish for it, ever, because of what their hands have put forth. And Allāh is Knowing of the wrongdoers.

وَلَتَجِدَنَّهُمۡ أَحۡرَصَ ٱلنَّاسِ عَلَىٰ حَيَوٰةٖ وَمِنَ ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُواْۚ يَوَدُّ أَحَدُهُمۡ لَوۡ يُعَمَّرُ أَلۡفَ سَنَةٖ وَمَا هُوَ بِمُزَحۡزِحِهِۦ مِنَ ٱلۡعَذَابِ أَن يُعَمَّرَۗ وَٱللَّهُ بَصِيرُۢ بِمَا يَعۡمَلُونَ ٩٦

And you will surely find them the most greedy of people for life - [even] more than those who associate others with Allāh. One of them wishes that he could be granted life a thousand years, but it would not remove him in the least from the [coming] punishment that he should be granted life. And Allāh is Seeing of what they do.

کہہ دیجیے! اگر ہے تمھارے ہی لیے گھر آخرت کا اللہ کے ہاں، خاص طور پر، سوائے اور لوگوں کے، تو تمنا کرو تم موت کی، اگر ہو تم سچے(94) اور ہر گز نہیں تمنا کریں گے وہ اس (موت) کی کبھی بھی، بہ سبب اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نےاور اللہ خوب جاننے والا ہے ظالموں کو(95) اور البتہ آپ ضرور پائیں گے ان (یہودیوں) کو زیادہ حریص سب لوگوں سے زندگی پر اور ان سے بھی جنھوں نے شرک کیا، چاہتا ہے (ہر) ایک ان کا، کاش کہ عمر دیا جائے وہ ہزار سال، حالانکہ نہیں ہے وہ (کوئی ایک) بچانے والا اس کو عذاب سے، یہ کہ (اس قدر لمبی) عمر دیا جائے وہ، اور اللہ دیکھنے والا ہے اس کو جو وہ عمل کرتے ہیں(96)

[94]﴿ قُلۡ ﴾ یعنی ان کے دعویٰ کی تصحیح کی خاطر کہہ دیجیے ﴿ اِنۡ كَانَتۡ لَكُمُ الدَّارُ الۡاٰخِرَةُ﴾ ’’کہ اگر آخرت کا گھر (جنت) صرف تمھارے ہی لیے ہے‘‘ ﴿خَالِصَةً مِّنۡ دُوۡنِ النَّاسِ ﴾ دوسرے لوگ اس میں نہیں جائیں گے۔ جیسا کہ تمھارا گمان ہے کہ جنت میں صرف وہی لوگ جائیں گے جو یہودی اور نصرانی ہیں، نیز تمھیں ہرگز آگ نہیں چھوئے گی سوائے چند روز کے، اس لیے اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو ﴿ فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ﴾ ’’تو موت کی تمنا کر دیکھو۔‘‘ یہ ان کے اور رسول اللہﷺکے درمیان مباہلہ کی ایک قسم ہے۔ ان کے دلائل کا توڑ، انھیں لاجواب کر دینے اور ان کے عناد کے بعد ان کے لیے دو باتوں میں سے کسی ایک کو مانے بغیر چارہ نہیں۔ (۱) یا تو وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئیں۔ (۲) یا وہ اپنے موقف کی صداقت ثابت کرنے کے لیے ایک چھوٹی سی بات پر مباہلہ کر لیں اور وہ ہے موت کی تمنا ، جو انھیں اس جنت میں پہنچا دے گی جو خالص انھی کے لیے تخلیق کی گئی ہے۔ مگر انھوں نے اس مباہلے کو قبول نہ کیا۔ پس ان سب کو معلوم ہو گیا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت اور عناد میں انتہا کو پہنچ گئے ہیں اور وہ یہ سب کچھ جانتے بوجھتے کر رہے ہیں۔

[95] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَنۡ يَّتَمَنَّوۡهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ﴾ یعنی کفر اور معاصی کے اعمال کے باعث وہ موت کی تمنا نہیں کریں گے کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ یہ ان کے گندے اعمال کی جزا کا راستہ ہے۔ پس موت ان کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز ہے اور وہ دنیا کے تمام لوگوں سے بڑھ کر زندگی کے حریص ہیں حتیٰ کہ ان مشرکین سے بھی زیادہ جو رسولوں، کتابوں اور کسی چیز پر بھی ایمان نہیں رکھتے۔

[96] پھر اللہ تعالیٰ نے دنیا کے ساتھ ان کی شدید محبت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يَوَدُّ اَحَدُهُمۡ لَوۡ يُعَمَّرُ اَلۡفَ سَنَةٍ﴾ ’’ان میں سے تو ہر شخص ایک ایک ہزار سال کی عمر چاہتا ہے‘‘ زندگی کی حرص کے لیے یہ بلیغ ترین پیرایہ ہے، انھوں نے ایک ایسی حالت کی آرزو کی ہے جو قطعاً محال ہے اور حال یہ ہے کہ اگر ان کو یہ مذکورہ عمر عطا کر بھی دی جائے تب بھی یہ عمر ان کے کسی کام نہیں آ سکتی اور نہ ان سے عذاب کو دور کر سکتی ہے ﴿ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو بخوبی دیکھ رہا ہے‘‘ یہ ان کے لیے تہدید ہے کہ ان کو ان کے اعمال کا بدلہ ملے گا۔

2:97–98Page 15

قُلۡ مَن كَانَ عَدُوّٗا لِّـجِبۡرِيلَ فَإِنَّهُۥ نَزَّلَهُۥ عَلَىٰ قَلۡبِكَ بِإِذۡنِ ٱللَّهِ مُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَهُدٗى وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُؤۡمِنِينَ ٩٧

Say, "Whoever is an enemy to Gabriel - it is [none but] he who has brought it [i.e., the Qur’ān] down upon your heart, [O Muḥammad], by permission of Allāh, confirming that which was before it and as guidance and good tidings for the believers."

مَن كَانَ عَدُوّٗا لِّلَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَجِبۡرِيلَ وَمِيكَىٰلَ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَدُوّٞ لِّلۡكَٰفِرِينَ ٩٨

Whoever is an enemy to Allāh and His angels and His messengers and Gabriel and Michael - then indeed, Allāh is an enemy to the disbelievers.

کہہ دیجیے! جو کوئی ہے دشمن جبریل کا، تو اسی نے نازل کیا اس (قرآن) کو آپ کے دل پر اللہ کے حکم سے، تصدیق کرنے والا اس (کتاب) کی جو اس سے پہلے ہے اور ہدایت اور بشارت ہے مومنوں کے لیے(97) جو کوئی ہے دشمن اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے رسولوں کا اور جبریل و میکائیل کا، تو بلاشبہ اللہ دشمن ہے کافروں کا(98)

[98-97] یعنی ان یہود سے کہہ دیجیے جن کا گمان ہے کہ ان کو آپ پر ایمان لانے سے صرف اس چیز نے روکا ہے کہ حضرت جبرئیلuآپ کے دوست اور مددگار ہیں، اگر جبریلuکے علاوہ کوئی اور فرشتہ ہوتا تو وہ آپ پر ایمان لے آتے اور آپ کی تصدیق کرتے۔ تمھارا یہ گمان درحقیقت تمھارا تناقض، تمھاری ضد اور اللہ تعالیٰ کے سامنے تمھارا تکبر ہے۔ کیونکہ جبریل ہی وہ فرشتہ ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے قلب پر قرآن اتارا اور جبریل ہی آپ سے پہلے دیگر انبیاء کرام پر نازل ہوتا رہا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس نے جبریل کو حکم دیا اور اسے وحی کے ساتھ بھیجا۔ وہ تو محض ایک پیامبر ہے۔ بایں ہمہ جبریلuاس کتاب کو لے کر نازل ہوئے جو کتب سابقہ کی تصدیق کرتی ہے۔ یہ کتاب کتب سابقہ کی مخالف ہے نہ ان کی مناقض۔ اس میں مختلف قسم کی گمراہیوں سے مکمل ہدایت کا روشن راستہ ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کے لیے دنیاوی اور اخروی بھلائی کی بشارت ہے۔ پس ان صفات سے موصوف جبریلuسے عداوت رکھنا درحقیقت اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کا انکار کرنا اور اللہ تعالی، اس کے رسولوں اور اس کے فرشتوں کے ساتھ عداوت کا اظہار ہے کیونکہ جبریلuکے ساتھ ان کی عداوت جبریل کی ذات کے ساتھ نہیں بلکہ اس کے ساتھ ان کی عداوت محض اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق لے کر نازل ہوتا رہا ہے۔ پس ان کا کفر اور عداوت درحقیقت اس ہستی کے ساتھ ہے جس نے اسے بھیجا اور نازل کیا اور اس وحی کے ساتھ ہے جو اس کے ساتھ اتاری گئی ہے اور اس رسول کے ساتھ ہے جس کی طرف یہ وحی بھیجی گئی ہے۔ ان کی عداوت کی بس یہی وجہ ہے۔

2:99Page 15

وَلَقَدۡ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ءَايَٰتِۭ بَيِّنَٰتٖۖ وَمَا يَكۡفُرُ بِهَآ إِلَّا ٱلۡفَٰسِقُونَ ٩٩

And We have certainly revealed to you verses [which are] clear proofs, and no one would deny them except the defiantly disobedient.

اور تحقیق نازل کیں ہم نے آپ کی طرف آیتیں واضح اور نہیں کفر کرتے ان کے ساتھ مگر نافرمانی کرنے والے ہی(99)

[99] اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمدﷺسے مخاطب ہو کر فرماتا ہے: ﴿ وَلَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰؔتٍ﴾ ’’اور ہم نے آپ کی طرف روشن آیات نازل کیں‘‘ ان سے اس کو ہدایت حاصل ہوتی ہے جو ہدایت کا طلب گار ہو۔ اور اس پر حجت قائم ہوتی ہے جو عناد کا مظاہرہ کرے۔ یہ آیات حق پر اپنی دلالت اور وضاحت کے اعتبار سے ایک ایسے بلند مقام اور ایسی حالت پر پہنچی ہوئی ہیں کہ کوئی ان کو قبول کرنے سے انکار نہیں کر سکتا سوائے اس شخص کے جس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی ، اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل گیا اور اس نے انتہائی درجے کے تکبر سے کام لیا۔

2:100Page 15

أَوَكُلَّمَا عَٰهَدُواْ عَهۡدٗا نَّبَذَهُۥ فَرِيقٞ مِّنۡهُمۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ ١٠٠

Is it not [true] that every time they took a covenant a party of them threw it away? But, [in fact], most of them do not believe.

کیا (انھوں نے کفر کیا) اور جب بھی عہد کیا انھوں نے کوئی عہد تو پھینک دیا اس کو ایک فریق نے ان میں سےبلکہ اکثر ان میں سے نہیں ایمان لاتے(100)

[100] یہ ان کے کثرت معاہدات اور پھر ان معاہدات کے ایفاء پر ان کے عدم صبر پر اظہار تعجب ہے۔ فرمایا: ﴿ كُلَّمَا﴾ ’’جب بھی‘‘ (كُلَّمَا) تکرار کا فائدہ دیتا ہے۔ یعنی جب کبھی وہ عہد کرتے ہیں تو وفا نہیں کرتے۔ اس کا کیا سبب ہے؟اس کا سبب یہ ہے کہ ان میں سے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔ ان کا ایمان نہ لانا ہی وہ سبب ہے جو ان کے نقض عہد کا موجب ہے۔ اگر ان کے ایمان میں کوئی صداقت ہوتی تو ان کی مثال ان لوگوں کی سی ہوتی جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ﴾(الاحزاب: 33؍23) ’’اور اہل ایمان میں سے کتنے ہی ایسے لوگ ہیں کہ جو عہد انھوں نے اللہ سے کیا تھا اسے سچ کر دکھایا۔‘‘

2:101–103Page 15

وَلَمَّا جَآءَهُمۡ رَسُولٞ مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِ مُصَدِّقٞ لِّمَا مَعَهُمۡ نَبَذَ فَرِيقٞ مِّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ كِتَٰبَ ٱللَّهِ وَرَآءَ ظُهُورِهِمۡ كَأَنَّهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ١٠١

And when a messenger from Allāh came to them confirming that which was with them, a party of those who had been given the Scripture threw the Scripture of Allāh [i.e., the Torah] behind their backs as if they did not know [what it contained].

وَٱتَّبَعُواْ مَا تَتۡلُواْ ٱلشَّيَٰطِينُ عَلَىٰ مُلۡكِ سُلَيۡمَٰنَۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيۡمَٰنُ وَلَٰكِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ كَفَرُواْ يُعَلِّمُونَ ٱلنَّاسَ ٱلسِّحۡرَ وَمَآ أُنزِلَ عَلَى ٱلۡمَلَكَيۡنِ بِبَابِلَ هَٰرُوتَ وَمَٰرُوتَۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنۡ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَآ إِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَةٞ فَلَا تَكۡفُرۡۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنۡهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِۦ بَيۡنَ ٱلۡمَرۡءِ وَزَوۡجِهِۦۚ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنۡ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡۚ وَلَقَدۡ عَلِمُواْ لَمَنِ ٱشۡتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنۡ خَلَٰقٖۚ وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡاْ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمۡۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ ١٠٢

And they followed [instead] what the devils had recited during the reign of Solomon. It was not Solomon who disbelieved, but the devils disbelieved, teaching people magic and that which was revealed to the two angels at Babylon, Hārūt and Mārūt. But they [i.e., the two angels] do not teach anyone unless they say, "We are a trial, so do not disbelieve [by practicing magic]."1 And [yet] they learn from them that by which they cause separation between a man and his wife. But they do not harm anyone through it except by permission of Allāh. And they [i.e., people] learn what harms them and does not benefit them. But they [i.e., the Children of Israel] certainly knew that whoever purchased it [i.e., magic] would not have in the Hereafter any share. And wretched is that for which they sold themselves, if they only knew.

وَلَوۡ أَنَّهُمۡ ءَامَنُواْ وَٱتَّقَوۡاْ لَمَثُوبَةٞ مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِ خَيۡرٞۚ لَّوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ ١٠٣

And if they had believed and feared Allāh, then the reward from Allāh would have been [far] better, if they only knew.

اور جب آیا ان کے پاس کوئی رسول اللہ کے پاس سے، تصدیق کرنے والا اس (کتاب) کی جو ان کے پاس ہے، تو پھینک دیا ایک فریق نے ان لوگوں میں سے جو دیے گئے تھے کتاب، اللہ کی کتاب کو، پیچھے اپنی پیٹھوں کے، گویا وہ نہیں جانتے(101) اور اتباع کیا انھوں نے اس کا جو پڑھتے تھے شیطان، سلیمان کی بادشاہی میں، اور نہیں کفر کیا سلیمان نے لیکن شیطانوں نے کفر کیا، وہ سکھلاتے تھے لوگوں کو جادو اور (پیروی کی) اس کی جو نازل کیا گیا اوپر دو فرشتوں کے، بابل میں، ھاروت اور ماروت (پر) اور نہیں سکھلاتے تھے وہ (فرشتے) کسی کو یہاں تک کہ کہتے وہ (پہلے) ہم تو صرف آزمائش ہیں، سو نہ کفر کر تو، پس سیکھتے تھے لوگ ان سے وہ (جادو) کہ جدائی ڈالتے تھے وہ اس کے ذریعے سے درمیان مرد اور اس کی بیوی کے، اور نہیں تھے وہ نقصان پہنچانے والے ساتھ اس (جادو) کے کسی کو بھی، مگر ساتھ حکم اللہ کے۔ اور سیکھتے تھے لوگ وہ (علم) جو نقصان پہنچاتا تھا ان کو اور نہیں نفع دیتا تھا انھیں۔ اور تحقیق جان لیا انھوں نے، البتہ جس نے خریدا اس (جادو) کو نہیں ہے اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ اور البتہ بُری ہے وہ چیز کہ بیچا انھوں نے بدلے اس کے اپنی جانوں کو، کاش کہ ہوتے وہ جانتے(102) اور اگر بے شک وہ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ، البتہ ثواب (ملتا) اللہ کے ہاں سے بہت بہتر، کاش کہ ہوتے وہ جانتے(103)

[101] یعنی جب ان کے پاس رسول کریم(ﷺ)اس حق کے ساتھ یہ عظیم کتاب لے کر آئے جو ان کے پاس موجود کتاب کے موافق تھی اور وہ یہ دعویٰ بھی کرتے تھے کہ وہ اپنی کتاب پر عمل کرتے ہیں۔ تو انھوں نے اس رسول اور اس کتاب کو ماننے سے انکار کر دیا جس کو یہ رسول لے کر آئے۔ ﴿ نَبَذَ فَرِيۡقٌ مِّنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ ﴾ ’’اہل کتاب کے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو پھینک دیا‘‘ یعنی وہ کتاب جو ان کی طرف نازل کی گئی تھی اس کو بے رغبتی کے ساتھ دور پھینک دیا ﴿ وَرَآءَ ظُهُوۡرِهِمۡ ﴾ ’’اپنی پیٹھوں کے پیچھے‘‘ روگردانی اور اعراض کے لیے یہ بلیغ ترین محاورہ ہے گویا وہ اپنے اس فعل کے ارتکاب میں سخت جہالت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ اس رسول کی صداقت اور جو کچھ وہ لایا ہے اس کی حقیقت کو خوب جانتے ہیں۔ اس سے واضح ہو گیا کہ اہل کتاب کے اس گروہ کے ہاتھ میں کچھ بھی باقی نہیں جبکہ یہ اس رسول پر ایمان نہیں لائے۔ ان کا اس رسول کو نہ ماننا اپنی کتاب کا انکار کرنا ہے مگر وہ اس بات کو سمجھتے نہیں۔ حکمت الٰہی اور عادت قدسی یہ ہے کہ جو کوئی اس چیز کو ترک کرتا ہے جو اسے فائدہ دیتی ہے اور جس سے فائدہ اٹھانا اس کے لیے ممکن ہو لیکن وہ فائدہ نہ اٹھائے تو اسے ایسے کام میں مشغول کر دیا جاتا ہے جو اس کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ موڑتا ہے، اسے بتوں کی عبادت میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی محبت، اس سے خوف اور اس پرامید کو ترک کرتا ہے وہ غیر اللہ کی محبت، اس سے خوف اور اس سے امید میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مال خرچ نہیں کرتا، اسے شیطان کی فرماں برداری میں مال خرچ کرنا پڑتا ہے۔ جو کوئی اپنے رب کے سامنے ذلت اور فروتنی کا اظہار نہیں کرتا اسے بندوں کے سامنے ذلیل ہونا پڑتا ہے اور جو کوئی حق کو چھوڑ دیتا ہے اسے باطل میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔

[103-102] اسی طرح ان یہودیوں نے جب اللہ کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا تو اس جادو کے پیچھے لگ گئے جو شیاطین نے حضرت سلیمانuکی حکومت کے زمانے میں ایجاد کیا۔ جہاں شیاطین نے لوگوں کو سکھانے کے لیے جادو گھڑا اور لوگ سمجھے کہ حضرت سلیمانuجادو کا استعمال کرتے ہیں اور جادو ہی کے زور پر انھیں اتنی بڑی سلطنت حاصل ہوئی ہے۔ اس بارے میں وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ حضرت سلیمانuنے کبھی جادو نہیں کیا۔ بلکہ اللہ سچے نے اپنے اس فرمان میں حضرت سلیمان کو اس کام سے منزہ قرار دیا۔ فرمایا: ﴿ وَمَا كَفَرَ سُلَيۡمٰنُ﴾ یعنی (حضرت سلیمان) نے (جادو سیکھ کر) کفر کا ارتکاب نہیں کیا، انھوں نے ہرگز جادو نہیں سیکھا ﴿ وَلٰكِنَّ الشَّيٰطِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ یعنی (جادو سیکھ کر )شیاطین نے کفر کا ارتکاب کیا۔ ﴿ يُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحۡرَ﴾ یعنی بنی آدم کو گمراہ کرنے اور ان کو اغوا کرنے کی حرص کی وجہ سے لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اسی طرح یہودیوں نے اس جادو کی بھی پیروی کی جو سرزمین عراق کے شہر بابل میں دو فرشتوں پر نازل کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے امتحان اور آزمائش کے لیے ان فرشتوں پر جادو نازل کیا گیا تھا اور یہ فرشتے آزمائش ہی کے لیے لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ ﴿ وَمَا يُعَلِّمٰنِ مِنۡ اَحَدٍ حَتّٰى﴾ ’’اور وہ کسی کو نہیں سکھاتے تھے یہاں تک کہ‘‘ وہ ان کی خیر خواہی کرتے اور ﴿ يَقُوۡلَاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَةٌ فَلَا تَكۡفُرۡ﴾ ’’کہتے کہ ہم تو آزمائش کے لیے ہیں، سو تم کفر مت کرو‘‘ یعنی جادو نہ سیکھو کیونکہ جادو کفر ہے۔ پس دونوں فرشتے لوگوں کو جادو سیکھنے سے روکتے تھے اور انھیں جادو کی حیثیت سے آگاہ کر دیتے تھے۔ پس شیاطین کا جادو سکھانا تو محض تدلیس اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر تھا، نیز اس جادو کو ترویج دینے اور اسے اس معصوم ہستی یعنی حضرت سلیمانuکی طرف منسوب کرنے کے لیے تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے اس سے بری قرار دیا ہے اور فرشتوں کا جادو سکھانا لوگوں کی آزمائش اور امتحان کے لیے تھا۔ وہ خیر خواہی سے لوگوں کو آگاہ کر دیتے تھے تاکہ ان کے لیے حجت نہ بنے۔ پس یہ یہودی اس جادو کے پیچھے لگے، جسے شیاطین نے سیکھا تھا اور جو وہ دو فرشتے سکھایا کرتے تھے۔ تو انھوں نے انبیاء و مرسلین کے علوم کو چھوڑ دیا اور شیاطین کے علم کی طرف متوجہ ہو گئے۔ ہر شخص اسی چیز کی طرف مائل ہوتا ہے جو اس کے مناسب حال ہوتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے جادو کے مفاسد بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ فَيَتَعَلَّمُوۡنَ مِنۡهُمَا مَا يُفَرِّقُوۡنَ بِهٖ بَيۡنَ الۡمَرۡءِ وَزَوۡجِهٖ﴾ ’’پھر لوگ ان سے وہ سیکھتے جس سے خاوند اور بیوی میں جدائی ڈال دیں‘‘ اس کے باوجود کہ میاں بیوی کے درمیان محبت کو کسی اور کی محبت پر قیاس نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿وَجَعَلَ بَيۡنَكُمۡ مَّوَدَّۃً وَّرَحۡمَۃً﴾(الروم : 30؍21) ’’اور تمھارے درمیان مودت اور رحمدلی پیدا کر دی۔‘‘ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جادو کی کوئی حقیقت ہے نیز یہ کہ جادو اللہ تعالیٰ کے ’’اذن‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ارادے سے نقصان دیتا ہے۔ اذن کی دو اقسام ہیں۔ (الف) اذن قدری ۔ جو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے متعلق ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ (ب) اذن شرعی ۔ جیسا کہ سابقہ آیت کریمہ ﴿فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلۡبِكَ بِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾(البقرہ : 2؍97) میں مذکور ہے ’’اس نے تو یہ کتاب اللہ کے حکم سے آپ کے دل پر اتاری۔‘‘ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسباب کی قوت تاثیر خواہ کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، وہ ہر حال میں قضا و قدر کے تابع ہوتے ہیں، ان کی مستقل تاثیر نہیں ہوتی۔ افعال العباد کے بارے میں امت کے فرقوں میں کوئی بھی اس اصول کی مخالفت نہیں کرتا سوائے قدریہ کے۔ قدریہ سمجھتے ہیں کہ اسباب کی تاثیر مستقل ہوتی ہے اور وہ مشیت الٰہی کے تابع نہیں ہوتے۔ چنانچہ انھوں نے بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے خارج کر دیا اور اس طرح وہ کتاب اللہ ، سنت رسول اور صحابہ و تابعین کے اجماع کی مخالفت کے مرتکب ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جادو کے علم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جادو میں نقصان ہی نقصان ہے، اس میں کوئی دینی یا دنیاوی منفعت نہیں ہوتی جس طرح بعض گناہوں میں دنیاوی منفعت ہوتی ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کے بارے میں فرمایا:﴿قُلۡ فِيۡهِمَاۤ اِثۡمٌ كَبِيۡرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ١ٞ وَاِثۡمُهُمَاۤ اَكۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِهِمَا﴾(البقرہ : 2؍219) ’’کہہ دو شراب اور جوئے میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں البتہ اس کا گناہ ان کے فائدے کی نسبت زیادہ بڑا ہے۔‘‘ پس یہ جادو تو ضرر محض ہے اور اصل میں اس کا کوئی داعیہ نہیں۔ تمام منہیات یا تو ضرر محض کی حامل ہیں یا ان میں شر کا پہلو خیر کے پہلو سے زیادہ ہے۔ جیسے تمام مامورات صرف مصلحت پر مبنی ہیں یا ان میں خیر کا پہلو شر کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ﴿ وَلَقَدۡ عَلِمُوۡا﴾ یعنی یہود نے جان لیا ہے ﴿ لَمَنِ اشۡتَرٰىهُ﴾ ’’جس نے اسے خریدا‘‘ یعنی انھوں نے جادو کے علم میں اس طرح رغبت کی جیسے تاجر مال تجارت کے خریدنے میں رغبت رکھتا ہے ﴿ مَا لَهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ مِنۡ خَلَاقٍ﴾ یعنی ’’آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں‘‘ بلکہ یہ جادو آخرت میں عذاب کا موجب ہو گا۔ پس ان کا جادو پر عمل کرنا جہالت اور لاعلمی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ انھوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کیا ہے ﴿وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡا بِهٖۤ اَنۡفُسَهُمۡ١ؕ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَؔ﴾ ’’وہ بدترین چیز ہے جس کے بدلے وہ اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے‘‘ یعنی اپنے فعل کے بارے میں ایسا علم رکھنا جو عمل کا باعث ہو۔

2:104–105Page 16

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَقُولُواْ رَٰعِنَا وَقُولُواْ ٱنظُرۡنَا وَٱسۡمَعُواْۗ وَلِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٞ ١٠٤

O you who have believed, say not [to Allāh's Messenger], "Rāʿinā" but say, "Unẓurnā"1 and listen. And for the disbelievers is a painful punishment.

مَّا يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ وَلَا ٱلۡمُشۡرِكِينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيۡكُم مِّنۡ خَيۡرٖ مِّن رَّبِّكُمۡۚ وَٱللَّهُ يَخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِهِۦ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِيمِ ١٠٥

Neither those who disbelieve from the People of the Scripture [i.e., the Jews and Christians] nor the polytheists wish that any good should be sent down to you from your Lord. But Allāh selects for His mercy whom He wills, and Allāh is the possessor of great bounty.

اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، نہ کہو تم ’’رَاعِنَا‘‘ اور کہو تم ’’اُنْظُرْنا‘‘ اور (غور سے) سنو تم، اور کافروں کے لیے ہے عذاب بہت دردناک(104) نہیں چاہتے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور نہ مشرکین، یہ کہ نازل کی جائے تم پر (اے مسلمانو!) کوئی خیر تمھارے رب کی طرف سے اور اللہ خاص کرتا ہے ساتھ اپنی رحمت کے جس کو چاہتاہے اور اللہ مالک ہے فضل عظیم کا(105)

[104] مسلمان جب دینی امور سیکھنے کے لیے رسول اللہﷺسے مخاطب ہوتے تو عرض کرتے ﴿ رَاعِنَا﴾ یعنی ہمارے حال کی رعایت کیجیے، ان کے نزدیک اس لفظ کا صحیح معنی مقصود تھا۔ مگر یہودی اس سے فاسد معنی مراد لیتے تھے۔ لہٰذا وہ مسلمانوں کے اس لفظ کے استعمال کو غنیمت جانتے ہوئے فاسد معنی کے ارادے سے اس لفظ سے رسول اللہﷺکو خطاب کرتے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بھی اس لفظ کے ذریعے سے نبی اکرمﷺکو خطاب کرنے سے روک دیا، تاکہ (گستاخی کا) یہ دروازہ بند ہو جائے۔ اس آیت کریمہ میں کسی جائز کام سے روکنے کی دلیل ہے جبکہ یہ جائز کام کسی حرام کام کے لیے وسیلہ ہو، نیز اس میں ادب کا اور ایسے الفاظ کے استعمال کا بیان ہے جو اچھے ہوں، جن میں بے ہودگی نہ ہو۔ نیز قبیح الفاظ کے ترک کرنے کی تاکید ہے یا جن میں کسی قسم کی تشویش اور کسی نامناسب امر کا احتمال ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایسا لفظ استعمال کرنے کا حکم دیا جس میں صرف اچھے معنی کا احتمال ہو۔ فرمایا:﴿ وَقُوۡلُوا انۡظُرۡنَا ﴾ ’’اور اُنْظُرْنَا کہو‘‘ یہ لفظ کافی ہے اور بغیر کسی خدشے کے، اس سے اصل مقصد حاصل ہو جاتا ہے ﴿ وَاسۡمَعُوۡا﴾ ’’اور سنو‘‘ یہاں مَسْمُوعٌ کا ذکر نہیں کیا گیا تاکہ اس کی عمومیت میں ہر وہ چیز شامل ہو جس کے سننے کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ اس کے مفہوم میں سماع قرآن اور سماع سنت شامل ہیں جو لفظی، معنوی اور قبولیت کے اعتبار سے سراسر حکمت ہے۔ اس میں ادب اور اطاعت کی تعلیم ہے۔

[105] پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کو دردناک عذاب کی وعید سنائی ہے اور یہود اور مشرکین کی مسلمانوں کے ساتھ عداوت سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ﴿ اَنۡ يُّنَزَّلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ ﴾ ’’تم پر کوئی بھلائی نازل ہو۔‘‘ یعنی کم یا زیادہ ﴿ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ﴾ ’’تمھارے رب کی طرف سے‘‘ ان کی یہ خواہش تمھارے ساتھ بغض اور اس بات پر حسد کی وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اپنے فضل کے ساتھ مختص کیوں کیا ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ﴾ ’’بے شک اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘‘ یہ اس کا فضل ہی ہے کہ اس نے تمھارے رسول پر کتاب نازل کی تاکہ وہ تمھیں پاک کرے، تمھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور تمھیں وہ کچھ سکھائے جو تم نہیں جانتے۔ فَلَہُ الْحَمْدُ وَالْمِنَّۃُ۔

2:106–107Page 17

۞ مَا نَنسَخۡ مِنۡ ءَايَةٍ أَوۡ نُنسِهَا نَأۡتِ بِخَيۡرٖ مِّنۡهَآ أَوۡ مِثۡلِهَآۗ أَلَمۡ تَعۡلَمۡ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ ١٠٦

We do not abrogate a verse or cause it to be forgotten except that We bring forth [one] better than it or similar to it. Do you not know that Allāh is over all things competent?

أَلَمۡ تَعۡلَمۡ أَنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٍ ١٠٧

Do you not know that to Allāh belongs the dominion of the heavens and the earth and [that] you have not besides Allāh any protector or any helper?

جو منسوخ کرتے ہیں ہم کوئی آیت یا بھلوا دیتے ہیں اسے تو لے آتے ہیں ہم بہتر اس سے یا اس کی مثل ہی، کیا نہیں جانا آپ نے کہ بلاشبہ اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے؟ (106) کیا نہیں جانا آپ نے کہ بے شک اللہ، اسی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی؟ اور نہیں ہے تمھارے لیے سوائے اللہ کے کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار(107)

[106](نَسْخ) کے لغوی معنی نقل کرنا ہیں۔ نسخ کی شرعی حقیقت یہ ہے کہ مکلفین کو کسی ایک شرعی حکم سے کسی دوسرے شرعی حکم کی طرف منتقل کرنا یا اس شرعی حکم کو یکسر ساقط قرار دے دینا۔ یہودی نسخ کا انکار کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ نسخ جائز نہیں، حالانکہ نسخ ان کے ہاں تورات میں بھی موجود ہے، ان کا نسخ کو نہ ماننا کفر اور محض خواہش نفس کی پیروی ہے، پس اللہ تعالیٰ نے نسخ میں پنہاں اپنی حکمت سے آگاہ فرماتے ہوئے فرمایا:﴿ مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰيَةٍ اَوۡ نُنۡسِهَا﴾ ’’جو منسوخ کرتے ہیں ہم کوئی آیت یا اس کو بھلاتے ہیں‘‘ یعنی اپنے بندوں سے فراموش کرا دیتے ہیں اور اس آیت کو ان کے دلوں سے زائل کر دیتے ہیں ﴿نَاۡتِ بِخَيۡرٍ مِّنۡهَاۤ ﴾ ’’تو لاتے ہیں اس سے بہتر‘‘ یعنی ایسی آیت اس کی جگہ لے آتے ہیں جو تمھارے لیے زیادہ نفع مند ہوتی ہے ﴿ اَوۡ مِثۡلِهَا﴾ ’’یا اس جیسی کوئی اور آیت۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمھارے لیے نسخ (یعنی آیت ناسخہ) کی مصلحت پہلی آیت (یعنی آیت منسوخہ) کی مصلحت سے کسی طرح بھی کم نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل، خاص طور پر اس امت پر بہت زیادہ ہے جس پر اس کے دین کو اللہ نے بے حد آسان بنا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے بھی آگاہ فرمایا کہ جو کوئی نسخ میں جرح و قدح کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور قدرت میں عیب نکالتا ہے۔

[107] فرمایا: ﴿ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ۰۰اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے کیا تجھے معلوم نہیں کہ زمین و آسمان کی بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے‘‘ جب اللہ تعالیٰ تمھارا مالک ہے وہ تمھارے اندر اسی طرح تصرف کرتا ہے جیسے نیکوکار، مہربان آقا اپنی اقدار میں، اپنے احکام میں اور اپنے نواہی میں تصرف کرتا ہے۔ پس جیسے اس پر اپنے بندوں کی بابت تقدیری فیصلے کرنے پر پابندی نہیں ہے اسی طرح اللہ پر ان احکام کے بارے میں بھی اعتراض صحیح نہیں جو اس نے اپنے بندوں کے لیے مشروع کیے ہیں۔ پس بندہ اپنے رب کے امر دینی اور امر تکوینی کا پابند ہے، اسے اعتراض کا کیا حق ہے؟۔ نیز اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا ولی (کارساز) اور ان کا مددگار ہے۔ پس وہ ان کے لیے منفعت کے حصول میں ان کا والی اور سرپرست ہے۔ اور ضرر کو ان سے دور کرنے میں ان کی مدد کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ولایت (کارسازی) کا حصہ ہے کہ اس نے ان کے لیے ایسے احکام مشروع کیے، جن کا تقاضا اس کی حکمت اور لوگوں کے ساتھ اس کی رحمت کرتی ہے۔ جو کوئی اس نسخ میں غور کرتا ہے جو قرآن و سنت میں واقع ہوا ہے تو اس کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس میں اللہ کی حکمت ہے اور اس کے بندوں پر رحمت ہے اور اپنے لطف و کرم سے انھیں ان کے مصالح تک ایسے طریقے سے پہنچانا ہے کہ وہ اسے سمجھ ہی نہیں پاتے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском