As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Taha 20:128–135
20:128Page 321
أَفَلَمۡ يَهۡدِ لَهُمۡ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُم مِّنَ ٱلۡقُرُونِ يَمۡشُونَ فِي مَسَٰكِنِهِمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّأُوْلِي ٱلنُّهَىٰ ١٢٨
Then, has it not become clear to them how many generations We destroyed before them as they walk among their dwellings? Indeed in that are signs for those of intelligence.
کیا پس نہیں رہنمائی کی ان کی (اس چیز نے) کہ کتنی ہلاک کیں ہم نے ان سے پہلے قومیں ، کہ وہ لوگ چلتے ہیں ان کے مکانوں میں، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں اہل عقل کے لیے (128)
[128] ان جھٹلانے والوں اور آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والوں کو، اس عذاب نے راہ ہدایت پر گامزن ہونے، گمراہی اور فساد کی راہ سے اجتناب کرنے پر آمادہ نہیں کیا، جو گزشتہ قوموں اور ایک دوسرے کے پیچھے آنے والی امتوں پر نازل ہوا؟ یہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں ، ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آ رہے ہیں اور ان قوموں کے مسکن اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ، مثلاً:ہود، صالح اور لوط علیہ السلام کی قوموں کے اجڑے ہوئے مسکن۔ انھوں نے جب ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور ہماری کتابوں سے روگردانی کی تو ہم نے ان پر دردناک عذاب نازل کر دیا۔ کس چیز نے ان کو بے خوف کیا ہے کہ جو عذاب ان قوموں پر نازل ہوا تھا ان پر نازل نہیں ہو گا؟ ﴿اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِۚ۰۰اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ نَحۡنُ جَمِيۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ﴾(القمر:54؍43-44) ’’کیا تمھارے کفار ان گزرے ہوئے لوگوں سے بہتر ہیں یا تمھارے لیے (گزشتہ) کتابوں میں براء ت لکھ دی گئی ہے یا وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم بڑے مضبوط ہیں ۔‘‘ یعنی ان میں سے کوئی چیز بھی ان پر صادق نہیں آتی۔ یہ کفار ان کافروں سے کسی لحاظ سے بھی بہتر نہیں کہ ان سے عذاب کو ٹال دیا جائے بلکہ یہ ان سے زیادہ شریر اور برے لوگ ہیں کیونکہ انھوں نے افضل ترین رسولﷺ اور بہترین کتاب کی تکذیب کی ہے اور نہ ان کے پاس کوئی تحریری براء ت نامہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی عہد نامہ ہے… اور ایسا بھی نہیں ہو سکتا جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ ان کی قوم انھیں کوئی فائدہ دے گی اور ان سے عذاب کو دور کر دے گی بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ یہ ان سے زیادہ ذلیل اور ان سے زیادہ حقیر ہیں ۔پس گزشتہ قوموں کو ان کی کرتوتوں کی پاداش میں ہلاک کرنا، ہدایت کے اسباب میں سے ہے کیونکہ یہ ان رسولوں کی رسالت کی، جو ان کے پاس آئے، صداقت کی اور ان قوموں کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے۔ مگر ہر شخص آیات الٰہی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا صرف وہی لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کو عقل و دانش سے نوازا گیا ہے، یعنی عقل سلیم، فطرت مستقیم اور ذہن جو انسان کو ان امور سے روکتے ہیں جو اس کے لیے مناسب نہیں ۔
20:129–130Page 321
وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامٗا وَأَجَلٞ مُّسَمّٗى ١٢٩
And if not for a word1 that preceded from your Lord, it [i.e., punishment] would have been an obligation [due immediately],2 and [if not for] a specified term [decreed].
فَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ قَبۡلَ طُلُوعِ ٱلشَّمۡسِ وَقَبۡلَ غُرُوبِهَاۖ وَمِنۡ ءَانَآيِٕ ٱلَّيۡلِ فَسَبِّحۡ وَأَطۡرَافَ ٱلنَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرۡضَىٰ ١٣٠
So be patient over what they say and exalt [Allāh] with praise of your Lord before the rising of the sun and before its setting; and during periods of the night [exalt Him] and at the ends of the day, that you may be satisfied.
اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے (طے) ہو چکی ہے آپ کے رب کی طرف سے تو البتہ ہو جاتا (عذاب) چمٹنے والااور (اگر نہ ہوتی) میعاد مقرر (129) پس صبر کیجیے اوپر ان باتوں کے جو وہ (کافر) کہتے ہیں اور تسبیح کیجیے ساتھ حمد کے اپنے رب کی پہلے طلوع آفتاب سے اور پہلے اس کے غروب ہونے سےاور کچھ اوقات میں رات کے، پس تسبیح کیجیےاور (دونوں ) حصوں میں دن کے بھی تاکہ آپ راضی ہو جائیں (130)
[129] یہ رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی اور صبر کی ترغیب ہے کہ وہ ان جھٹلانے اور روگردانی کرنے والوں کے لیے جلدی ہلاکت کی خواہش نہ کریں ۔ ان کا کفر اور تکذیب، ان پر عذاب نازل ہونے کے لیے ایک معقول سبب ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے سزاؤں کے لیے سبب مقرر کیا ہے جو گناہوں سے جنم لیتا ہے اور ان لوگوں نے نزول عذاب کے اسباب پیدا کر دیے ہیں مگر جس چیز نے اس عذاب کو مؤخر کر رکھا ہے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا حکم جو مہلت دینے اور وقت مقرر کرنے کو متضمن ہے۔ وقت کا مقرر ہونا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کا نفاذ، نزول عذاب کو اس وقت کے آنے تک کے لیے مؤخر کر دیتا ہے۔ شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف رجوع کریں ، اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر لے اور عذاب کو ان سے دور کر دے جب تک کہ اللہ کا کلمہ ان پر ثابت نہ ہو جائے۔
[130] اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کی قولی اذیتوں پر صبر کرے اور اس کے مقابلے میں ان اوقات فاضلہ میں رب کی تسبیح و تحمید سے مدد لے… یعنی طلوع آفتاب اور غروب آفتاب، دن کے کناروں پر، یعنی اس کے اوائل اور اواخر میں … یہ خصوص کے بعد عموم کا ذکر ہے… نیز رات کے اوقات اور اس کی گھڑیوں میں ۔ اگر آپﷺ اس پر عمل پیرا ہوئے تو شاید آپﷺ اپنے رب کے عطا کردہ دنیاوی اور اخروی ثواب پر راضی ہو جائیں ، آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو، اپنے رب کی عبادت سے آپ آنکھیں ٹھنڈی کریں اور ان کی اذیت رسانی پر اس عبادت کے ذریعے سے دل کو تسلی ہو تب آپﷺ کے لیے صبر بہت آسان ہو جائے گا۔
20:131Page 321
وَلَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعۡنَا بِهِۦٓ أَزۡوَٰجٗا مِّنۡهُمۡ زَهۡرَةَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا لِنَفۡتِنَهُمۡ فِيهِۚ وَرِزۡقُ رَبِّكَ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰ ١٣١
And do not extend your eyes toward that by which We have given enjoyment to [some] categories of them, [its being but] the splendor of worldly life by which We test them. And the provision of your Lord is better and more enduring.
اور نہ دراز کریں آپ اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف کہ فائدہ دیا ہم نے ان کے ساتھ کئی قسم کے لوگوں کو ان میں سے، رونق کا زندگانیٔ دنیا کی تاکہ ہم آزمائیں انھیں اس میں اور رزق آپ کے رب کا بہت بہتر اور دیرپا ہے(131)
[131] یعنی دنیا اور اس کی متاع، مثلاً:لذیذ ماکولات و مشروبات، ملبوسات فاخرہ، آراستہ کیے ہوئے گھروں اور حسین و جمیل عورتوں سے حظ اٹھانے والوں کے احوال کو استحسان اور پسندیدگی کی نظر سے دوبارہ نہ دیکھیں ، اس لیے کہ یہ سب کچھ دنیا کی خوبصورتی ہے اور اس سے صرف فریب خوردہ لوگ ہی خوش ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے روگردانی کرنے والوں کی نظریں ہی اسے پسندیدگی سے دیکھتی ہیں ۔ آخرت سے قطع نظر کر کے، صرف ظالم لوگ ہی اس سے متمتع ہوتے ہیں ، پھر یہ دنیا سب کی سب، تیزی سے گزر جاتی ہے، اپنے چاہنے والوں اور عشاق کو بے موت مار دیتی ہے۔ پس دنیا سے محبت کرنے والے لوگ اس وقت نادم ہوں گے جب ندامت کوئی فائدہ نہیں دے گی اور قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تب انھیں اپنی بے مائیگی کا علم ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تو اس دنیا کو فتنہ اور آزمائش بنایا ہے تاکہ معلوم ہو کہ کون اس کے پاس ٹھہرتا اور اس کے فریب میں مبتلا ہوتا ہے اور کون اچھے عمل کرتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَى الۡاَرۡضِ زِيۡنَةً لَّهَا لِنَبۡلُوَهُمۡ اَيُّهُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا۰۰وَاِنَّا لَجٰؔعِلُوۡنَ مَا عَلَيۡهَا صَعِيۡدًا جُرُزًا﴾(الکہف:18؍7-8) ’’جو کچھ زمین پر موجود ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ ان میں سے کون اچھے کام کرتا ہے، پھر جو کچھ اس زمین پر ہے ہم سب کو ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں ۔‘‘ ﴿وَرِزۡقُ رَبِّكَ ﴾ ’’اور تیرے رب کا رزق‘‘ دنیاوی رزق یعنی علم، ایمان اور اعمال صالحہ کے حقائق، اخروی رزق یعنی ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور رب رحیم کے جوار رحمت میں سلامتی سے بھرپور زندگی۔ ﴿ خَيۡرٌ ﴾ اپنی ذات و صفات میں اس زندگی سے بہتر ہے جو ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے ﴿وَّاَبۡقٰى﴾ ’’اور پائدار ہے‘‘ کیونکہ اس کے پھل کبھی ختم نہ ہوں گے اور اس کے سائے دائمی ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَاٞۖ۰۰وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾(الاعلی:87؍16۔17) ’’مگر تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ بندہ جب دیکھے کہ اس کا نفس سرکشی اختیار کر کے دنیا کی زیب و زینت کی طرف مائل اور متوجہ ہے تو وہ اپنے رب کے اس رزق کو یاد کرے جو آئندہ زندگی میں اسے عطا ہونے والا ہے، پھر ان دونوں کے درمیان موازنہ کرے۔
20:132Page 321
وَأۡمُرۡ أَهۡلَكَ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَاۖ لَا نَسۡـَٔلُكَ رِزۡقٗاۖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُكَۗ وَٱلۡعَٰقِبَةُ لِلتَّقۡوَىٰ ١٣٢
And enjoin prayer upon your family [and people] and be steadfast therein. We ask you not for provision; We provide for you, and the [best] outcome is for [those of] righteousness.
اور حکم دیجیے اپنے گھر والوں کو نماز (پڑھنے) کااور (خود بھی) ثابت رہیے اس پر، نہیں سوال کرتے ہم آپ سے رزق کا، ہم ہی رزق دیتے ہیں آپ کواور (بہترین) انجام تو تقوی (والوں ) ہی کا ہے (132)
[132] اپنے گھر والوں کو نماز کی ترغیب دیجیے، انھیں فرض اور نفل نماز پڑھنے کا حکم دیتے رہیے اور کسی چیز کا حکم دینا ان تمام امور کو شامل ہے جن کے بغیر اس چیز کی تکمیل نہیں ہوتی۔ پس یہ حکم ، اپنے گھر والوں کو نماز کے بارے میں ان امور کی تعلیم دینا ہے جو نماز کی اصلاح کرتے ہیں ، جو نماز کو فاسد کرتے ہیں اور جو نماز کی تکمیل کرتے ہیں ۔ ﴿ وَاصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَا ﴾ ’’اور خود بھی اس پر جمے رہیے۔‘‘ یعنی نماز پر، اس کی تمام حدود، اس کے ارکان، اس کے آداب اور اس کے خشوع و خضوع کے ساتھ۔ کیونکہ اس میں نفس کے لیے مشقت ہے۔ تاہم مناسب یہی ہے کہ دائمی طور پر نفس کو نماز پڑھنے پر مجبور اور اس کے ساتھ جہاد کرتے رہنا چاہیے اور اس پر صبر کرنا چاہیے کیونکہ بندۂ مومن جب اس طریقے سے نماز قائم کرتا ہے جس طریقے سے قائم کرنے کا اسے حکم دیا گیا ہے تو نماز کے علاوہ دیگر دین کی حفاظت کرنے اور اس کو قائم کرنے کی اس سے زیادہ توقع کی جا سکتی ہے۔ اگر وہ نماز کو ضائع کرتا ہے تو دیگر دین کو زیادہ برے طریقے سے ضائع کر سکتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو رزق کی ضمانت دی اور ترغیب دی کہ آپ اقامت دین کو چھوڑ کر حصول رزق میں مشغول نہ ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ نَحۡنُ نَرۡزُقُكَ﴾ یعنی آپ کا رزق ہمارے ذمہ ہے ہم نے جس طرح تمام خلائق کے رزق کی کفالت اپنے ذمہ لی ہے اسی طرح آپ کے رزق کی کفالت بھی ہمارے ذمہ ہے۔ اس شخص کے رزق کی ذمہ داری ہم پر کیسے نہ ہو جو ہمارے حکم کی تعمیل کرتا ہے اور ہمارے ذکر میں مشغول رہتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کا رزق متقی اور غیر متقی سب کے لیے عام ہے، اس لیے ان امور کا اہتمام کرنا چاہیے جن پر ابدی سعادت کا دارومدار ہے اور وہ ہے تقویٰ، لہٰذا فرمایا:﴿وَالۡعَاقِبَةُ ﴾ یعنی دنیا و آخرت کا انجام ﴿ لِلتَّقۡوٰى ﴾ تقویٰ کے لیے ہے اور تقویٰ سے مراد ہے مامورات کی تعمیل اور منہیات سے اجتناب۔ اور جو کوئی ان کو قائم کرتا ہے، انجام اسی کا اچھا ہے جیسا کہ فرمایا:﴿وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍128) ’’اور اچھا انجام متقین کا ہے۔‘‘
20:133–135Page 321
وَقَالُواْ لَوۡلَا يَأۡتِينَا بِـَٔايَةٖ مِّن رَّبِّهِۦٓۚ أَوَلَمۡ تَأۡتِهِم بَيِّنَةُ مَا فِي ٱلصُّحُفِ ٱلۡأُولَىٰ ١٣٣
And they say, "Why does he not bring us a sign from his Lord?" Has there not come to them evidence of what was in the former scriptures?1
وَلَوۡ أَنَّآ أَهۡلَكۡنَٰهُم بِعَذَابٖ مِّن قَبۡلِهِۦ لَقَالُواْ رَبَّنَا لَوۡلَآ أَرۡسَلۡتَ إِلَيۡنَا رَسُولٗا فَنَتَّبِعَ ءَايَٰتِكَ مِن قَبۡلِ أَن نَّذِلَّ وَنَخۡزَىٰ ١٣٤
And if We had destroyed them with a punishment before him,1 they would have said, "Our Lord, why did You not send to us a messenger so we could have followed Your verses [i.e., teachings] before we were humiliated and disgraced?"
قُلۡ كُلّٞ مُّتَرَبِّصٞ فَتَرَبَّصُواْۖ فَسَتَعۡلَمُونَ مَنۡ أَصۡحَٰبُ ٱلصِّرَٰطِ ٱلسَّوِيِّ وَمَنِ ٱهۡتَدَىٰ ١٣٥
Say, "Each [of us] is waiting;1 so wait. For you will know who are the companions of the sound path and who is guided."
اور انھوں نے کہا، کیوں نہیں لاتا وہ ہمارے پاس کوئی نشانی اپنے رب کی طرف سے؟ کیا نہیں آئی ان کے پاس دلیل اس چیز کی جوکچھ پہلے صحیفوں میں ہے؟ (133) اور اگر بے شک ہم ہلاک کر دیتے ان کو ساتھ عذاب کے پہلے اس رسول سے تو البتہ کہتے وہ لوگ، اے ہمارے رب! کیوں نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول پس ہم پیروی کرتے تیری آیتوں کی پہلے اس سے کہ ہم ذلیل اور رسوا ہوتے؟ (134) آپ کہہ دیجیے! ہر ایک انتظار کرنے والا ہے سو تم بھی انتظار کرو، پس عنقریب تم جان لو گے کہ کون ہیں حامل، راہ راست کے اور کس نے ہدایت کو اپنایا؟(135)
[133] رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ سے کہتے ہیں کہ آپ کے رب کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟ نشانی سے ان کی مراد معجزات ہیں ۔ یہ بات ان کے اس قول کی مانند ہے ﴿وَقَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًاۙ۰۰اَوۡ تَكُوۡنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الۡاَنۡهٰرَ خِلٰلَهَا تَفۡجِيۡرًاۙ۰۰اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَؔ كَمَا زَعَمۡتَ عَلَيۡنَا كِسَفًا اَوۡ تَاۡتِيَ بِاللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيۡلًا﴾(بنی اسرائیل:17؍90-92) ’’انھوں نے کہا کہ ہم تم پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک تو زمین سے ہمارے لیے چشمہ جاری نہ کرے۔ یا تیرے لیے کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو اور تو اس باغ کے درمیان نہریں جاری کر دے یا تو آسمان کو… جیسا کہ تو دعویٰ کرتا ہے… ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے اوپر گرا دے یا تو اللہ اور فرشتوں کو ہمارے روبرو لے آئے۔‘‘ یہ ان کی طرف سے محض تعنت، عناد اور ظلم ہے۔ کیونکہ رسول اور وہ خود محض بشر اور اللہ کے بندے ہیں ۔ ان کا اپنی خواہشات کے مطابق معجزات کا مطالبہ کرنا مناسب نہیں ۔ یہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی حکمت کے مطابق آیات و معجزات کا انتخاب کر کے نازل کرتا ہے۔ چونکہ ان کا قول ﴿ لَوۡلَا يَاۡتِيۡنَا بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ تقاضا کرتا ہے کہ ان کے پاس رسول اللہﷺ کی صداقت پر کوئی نشانی اور آپ کے حق ہونے پر دلیل نازل نہیں ہوئی… حالانکہ یہ جھوٹ اور بہتان ہے کیونکہ آپ بڑے بڑے معجزات اور ناقابل تردید دلائل لے کر آئے کہ ان میں سے کسی ایک کے ذریعے سے مقصود حاصل ہو سکتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ تَاۡتِهِمۡ ﴾ ’’کیا ان کے پاس نہیں آئی۔‘‘ اگر وہ اپنی بات میں سچے ہیں اور دلیل کے ذریعے سے وہ حق کے متلاشی ہیں ﴿ بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الۡاُوۡلٰى ﴾ ’’وہ دلیل جو پہلے صحیفوں میں ہے؟‘‘ یعنی یہ قرآن عظیم ان تمام باتوں کی تصدیق کرتا ہے جو گزشتہ صحیفوں ، یعنی تورات، انجیل اور دیگر کتابوں میں نازل ہوئی ہیں اور انھی امور کے بارے میں خبر دیتا ہے جن کے بارے میں ان گزشتہ کتابوں نے خبر دی ہے۔ ان گزشتہ کتب اور صحیفوں میں اس قرآن عظیم کی تصدیق بھی موجود ہے اور اس کو لانے والے رسول کی بشارت بھی دی گئی ہے۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿اَوَلَمۡ يَكۡفِهِمۡ اَنَّـاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ١ؕ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَرَحۡمَةً وَّذِكۡرٰى لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ﴾(العنکبوت:29؍51) ’’کیا ان کے لیے یہی کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر یہ کتاب عظیم نازل کی جو انھیں پڑھ کر سنائی جاتی ہے، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور نصیحت ہے جو ایمان لاتے ہیں ۔‘‘ آیات الٰہی اہل ایمان کو فائدہ دیتی ہیں ، ان کی تلاوت سے ان کے ایمان و ایقان میں اضافہ ہوتا ہے لیکن آیات الٰہی سے اعراض کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے ان پر ایمان رکھتے ہیں نہ ان سے کوئی فائدہ ہی اٹھاتے ہیں ۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ حَقَّتۡ عَلَيۡهِمۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَۙ۰۰وَلَوۡ جَآءَتۡهُمۡ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾(یونس:10؍96-97) ’’بلاشبہ وہ لوگ جن پر تیرے رب کا حکم قرار پا چکا ہے خواہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آ جائے، وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں ۔‘‘
[134] ان آیات کو ان کی طرف بھیجنے اور ان کے ذریعے سے ان سے مخاطب ہونے کا پس ایک ہی فائدہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے تاکہ جب ان پر دردناک عذاب نازل ہو تو ان کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے: ﴿ لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّذِلَّ وَنَخۡزٰى ﴾ ’’کیوں نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف کوئی رسول، پس ہم تیری آیات کی پیروی کرتے قبل اس کے کہ ہم ذلیل و رسوا ہوتے۔‘‘ یعنی عقوبت کے ذریعے… لو تمھارے پاس، میری آیات و براہین کے ساتھ، میرا رسول آ گیا ہے اگر بات ایسے ہی ہے جیسے تم کہتے ہو تو اٹھو اس کی تصدیق کرو۔
[135] اے محمد! (ﷺ) ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو آپ کی تکذیب کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’اس کے بارے میں گردش زمانہ کا انتظار کرو‘‘ ﴿ قُلۡ كُلٌّ مُّؔتَرَبِّصٌ﴾ ’’کہہ دیجیے! ہم میں سے ہر ایک منتظر ہے۔‘‘ تم میری موت کا انتظار کرو میں تم پر عذاب الٰہی کے ٹوٹ پڑنے کا انتظار کرتا ہوں ۔ ﴿قُلۡ هَلۡ تَرَبَّصُوۡنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡدَى الۡحُسۡنَيَيۡنِ﴾(التوبۃ:9؍52) ’’کہہ دیجیے کیا تم ہمارے متعلق دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی کے منتظر ہو؟‘‘ یعنی کامیابی یا شہادت ﴿وَنَحۡنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمۡ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنۡ عِنۡدِهٖۤ اَوۡ بِاَيۡدِيۡنَا﴾(التوبۃ:9؍52)’’اور ہم اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیجے یا ہمارے ہاتھوں تمھیں کوئی سزا دے۔‘‘﴿ فَتَرَبَّصُوۡا١ۚ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ۠ مَنۡ اَصۡحٰؔبُ الصِّرَاطِ السَّوِيِّ﴾ ’’پس تم انتظار کرو جلد ہی تمھیں معلوم ہوجائے گا کہ سیدھے راستے (یعنی صراط مستقیم) والے کون ہیں ؟‘‘ ﴿ وَمَنِ اهۡتَدٰؔى ﴾ ’’اور کون ہدایت یافتہ ہے؟‘‘ یعنی اپنے طرز عمل کے اعتبار سے، میں یا تم؟ کیونکہ اس راستے پر چلنے والا شخص ہی صاحب رشد و ہدایت، فوزوفلاح سے بہرہ ور اور نجات یافتہ ہے اور جو کوئی اس راستے سے منہ موڑتا ہے وہ خائب و خاسر اور عذاب کا مستحق ہے اور یہ حقیقت واضح طور پر معلوم ہے کہ رسول اللہﷺ صراط مستقیم پر گامزن ہیں اور آپ کے دشمن اس کے برعکس راستوں پر چل رہے ہیں ۔ واللہ اعلم۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences