As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
طه
Taha
Ta-Ha · Meccan · 135 ayahs
20:1–8Page 312
طه ١
Ṭā, Hā.1
مَآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡقُرۡءَانَ لِتَشۡقَىٰٓ ٢
We have not sent down to you the Qur’ān that you be distressed
إِلَّا تَذۡكِرَةٗ لِّمَن يَخۡشَىٰ ٣
But only as a reminder for those who fear [Allāh] -
تَنزِيلٗا مِّمَّنۡ خَلَقَ ٱلۡأَرۡضَ وَٱلسَّمَٰوَٰتِ ٱلۡعُلَى ٤
A revelation from He who created the earth and highest heavens,
ٱلرَّحۡمَٰنُ عَلَى ٱلۡعَرۡشِ ٱسۡتَوَىٰ ٥
The Most Merciful [who is] above the Throne established.1
لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا وَمَا تَحۡتَ ٱلثَّرَىٰ ٦
To Him belongs what is in the heavens and what is on the earth and what is between them and what is under the soil.
وَإِن تَجۡهَرۡ بِٱلۡقَوۡلِ فَإِنَّهُۥ يَعۡلَمُ ٱلسِّرَّ وَأَخۡفَى ٧
And if you speak aloud - then indeed, He knows the secret and what is [even] more hidden.
ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ لَهُ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ ٨
Allāh - there is no deity except Him. To Him belong the best names.
طٰہٰ(1) نہیں نازل کیا ہم نے آپ پر قرآن ، اس لیے کہ آپ مشقت میں پڑیں (2) مگر نصیحت کے لیے واسطے اس شخص کے جو ڈرتا ہے (3) نازل کیا گیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا زمین کو اور بلند آسمانوں کو (4)(وہ) رحمٰن ہے، اوپر عرش کے مستوی ہے (5) اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اورجو کچھ ہے درمیان ان دونوں کےاورجو کچھ ہے نیچے نمناک زمین کے (6) اور اگر آپ بلند آواز سے بات کریں تو بلاشبہ وہ جانتا ہے پوشیدہ اور پوشیدہ تر بات کو (7) اللہ، نہیں ہے کوئی بھی معبود مگر وہی، اسی کے ہیں سب نام اچھے (8)
[2,1]﴿ طٰهٰؔ﴾ اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرمﷺ کا اسم گرامی نہیں ہے۔ ﴿ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ لِتَشۡقٰۤى ﴾ ’’نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لیے کہ آپ مشقت میں پڑیں ۔‘‘ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں ، (ایسا نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قویٰ اس پر عمل کرنے سے عاجز ہو جائیں ۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوزوفلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام راستوں اور دروازوں کو آسان بنایا اور اسے قلب و روح کی غذا اور بدن کی راحت قرار دیا۔ فطرت سلیم اور عقل مستقیم نے اسے قبول کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا کیونکہ فطرت سلیم اور عقل مستقیم کو علم ہے کہ یہ دنیا و آخرت کی بھلائی پر مشتمل ہے ۔
[3] اس لیے فرمایا: ﴿ اِلَّا تَذۡكِرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ﴾ یہ اس لیے نازل کیا تاکہ اس سے وہ شخص نصیحت پکڑے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ پس وہ جلیل ترین مقاصد کی خاطر اس کے اندر دی گئی ترغیب سے نصیحت پکڑتا اور اس کی وجہ سے اس پر عمل کرتا ہے اور اس کے اندر شقاوت و خسران سے جو ڈرایا گیا ہے، اس سے ڈرتا اور شریعت کے احکام جمیلہ سے نصیحت پکڑتا ہے جن کا حسن و جمال، مجمل طور پر عقل میں جاگزیں ہے اور وہ ان تفاصیل کے مطابق ہیں جو اس کی عقل و فطرت میں موجود ہیں ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو (تذکرہ) کہا ہے۔ کسی چیز کا ’’تذکرہ‘‘ موجود ہوتا ہے البتہ انسان خود اس سے غافل ہوتا ہے یا اس کی تفاصیل مستحضر نہیں ہوتیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس ’’تذکرہ‘‘ (یاد دہانی) کو اس شخص کے ساتھ مختص کیا ہے ﴿ ِمَنۡ يَّخۡشٰى﴾ ’’جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے والا شخص اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور وہ شخص فائدہ اٹھا بھی کیسے سکتا ہے جو جنت پر ایمان رکھتا ہے نہ جہنم پر اور اس کے قلب میں ذرہ بھر بھی خوف الٰہی موجود نہیں ؟ یہ ایسی بات ہے جو کبھی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ۙ۰۰وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَىۙ۰۰الَّذِيۡ يَصۡلَى النَّارَ الۡكُبۡرٰى﴾(الاعلیٰ:87؍10-12) ’’جو اللہ کا خوف رکھتا ہے وہی اس سے نصیحت پکڑتا ہے اور بدبخت (اور بے خوف انسان) اس سے پہلو تہی کرتا ہے، وہ جو بہت بڑی دہکتی ہوئی آگ میں جھونکا جائے گا۔‘‘
[4] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قرآن عظیم کی جلالت شان کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ یہ خالق ارض و سماء کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے جوتمام کائنات کی تدبیر کرتا ہے… یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو حد درجہ اطاعت اور محبت و تسلیم کے ساتھ قبول کرو اور انتہائی حد تک اس کی تعظیم کرو۔ اللہ تعالیٰ نے بہت دفعہ (خَلق) اور (اَمر) کو مقرون (ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں بھی ہے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے: ﴿ اَلَا لَهُ الۡخَلۡقُ وَالۡاَمۡرُ ﴾(الاعراف:7؍54) ’’آگاہ رہو کہ تخلیق بھی اسی کی اور حکم بھی اسی کا ہے۔‘‘ اور جیسا کہ فرمایا: ﴿ اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَهُنَّ١ؕ يَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ ﴾(الطلاق:65؍12) ’’اللہ ہی تو ہے جس نے ساتوں آسمان پیدا کیے اور ویسی ہی (سات) زمینیں ، ان میں امر الٰہی نازل ہوتا ہے۔‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق کائنات، حکم دینے والا اور روکنے والا ہے۔ پس جس طرح اس کے سوا کوئی خالق نہیں ، اسی طرح مخلوق پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لازم کرنے والا نہیں ۔ ان کے خالق کے سوا کوئی حکم دے سکتا ہے نہ روک سکتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس کے خلق میں اس کی تدبیر کونی و قدری جاری و ساری ہے اور اس کے امر میں دینی و شرعی تدبیر کارفرما ہے۔ پس جیسے اس کی تخلیق اس کی حکمت کے دائرے سے باہر نہیں نکلتی، اس نے کوئی چیز عبث پیدا نہیں کی۔ پس اسی طرح اللہ تعالیٰ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جو عدل و احسان پر مبنی ہو اور صرف عدل و احسان اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ہی کسی چیز سے روکتا ہے۔
[5] جب یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام کائنات کا خالق اور مدبر ہے، وہی حکم دینے والا اور روکنے والا ہے تو اس نے اپنی عظمت اور کبریائی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿اَلرَّحۡمٰنُ عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾ ’’ رحمٰن عرش پر‘‘ جو تمام کائنات سے بلند، تمام کائنات سے بڑا اور تمام کائنات سے وسیع ہے ﴿ اسۡتَوٰى ﴾ ’’مستوی ہے‘‘ یہاں استواء سے مراد وہ استواء ہے جو اس کے جلال کے لائق اور اس کی عظمت و جمال سے مناسبت رکھتا ہے۔ پس وہ عرش پر مستوی اور کائنات پر حاوی ہے۔
[6]﴿ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’اسی کے لیے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور جو ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ تمام ملائکہ، جن و انس، حیوانات، جمادات اور نباتات۔ ﴿ وَمَا تَحۡتَ الـثَّرٰى ﴾ اور جو کچھ سطح زمین کے نیچے ہے، سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور تمام لوگ اس کے بندے ہیں جو اس کے دست تدبیراور اس کی قضا و قدر کے تحت مسخر ہیں ۔ اقتدار الٰہی میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ خود اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور دوبارہ اٹھائے جانے پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔
[7]﴿ وَاِنۡ تَجۡهَرۡ بِالۡقَوۡلِ فَاِنَّهٗ يَعۡلَمُ السِّرَّ ﴾ ’’اور اگر آپ اونچی بات کہیں تو وہ تو جانتا ہے سری بات کو بھی۔‘‘ یعنی پوشیدہ کلام کو ﴿ وَاَخۡفٰى ﴾ ’’اور سری سے بھی زیادہ مخفی بات کو۔‘‘ یعنی خفی سے خفی تر بات، جو انسان کے دل میں ہوتی ہے اور ابھی نطق زبان پر نہیں آئی ہوتی۔ یا (السِّرّ) سے مراد وہ خیال ہے جو انسان کے دل میں آتا ہے اور (اخْفٰی) سے مراد وہ خیال ہے جسے ابھی دل میں آنا ہے اورابھی تک نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کب وہ خیال اپنے وقت پر اپنی صفت کے ساتھ دل میں داخل ہو گا۔ معنی یہ ہے کہ علم الٰہی، چھوٹی بڑی اور ظاہر و باطن تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اس لیے آپ بلند آواز سے بولیں یا آہستہ آواز سے، علم الٰہی کی نسبت سے سب برابر ہے۔
[8] جب یہ بات متحقق ہو گئی کہ وہ کمال مطلق کا مالک ہے، اپنی تخلیق کے عموم کی وجہ، اپنے امرونہی اور اپنی رحمت کے عموم کی وجہ سے، اپنی عظمت کی وسعت اور اپنے عرش پر بلند ہونے کی وجہ سے اور اپنی بادشاہی اور اپنے علم کے عموم کی وجہ سے تو اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ صرف وہی عبادت کا مستحق ہے اور اسی کی عبادت حق ہے جس کو شریعت اور عقل و فطرت واجب ٹھہراتی ہے اور غیر اللہ کی عبادت باطل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی کوئی معبود حق ہے نہ کوئی قابل عبادت جس کے سامنے محبت، تذلل، خوف، امید اور انابت کا اظہار کیا جائے اور اس کو پکارا جائے مگر صرف اللہ ہی۔ ﴿ لَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى﴾ ’’اسی کے لیے ہیں اچھے نام‘‘ یعنی اس کے بہت سے نام ہیں جو بہت اچھے ہیں ۔ اس کے ناموں کا حسن یہ ہے کہ وہ نام تمام تر مدح پر دلالت کرتے ہیں ۔ ان ناموں میں سے کوئی نام ایسا نہیں جو مدح و حمد پر دلالت نہ کرتا ہو۔ ان ناموں کا حسن یہ بھی ہے کہ وہ محض اَعلام (نام) نہیں بلکہ وہ نام اور اوصاف ہیں۔ ان کا حسن یہ بھی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل صفات پر دلالت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کامل، عام اور جلیل ترین ہے اور ان کا حسن یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے بندوں کوحکم دیا ہے کہ وہ اسے ان ناموں سے پکاریں کیونکہ یہ ایک وسیلہ ہیں جو بندوں کو اللہ کے قریب کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان ناموں کو پسند کرتا ہے اور ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو ان ناموں کو پسند کرتے ہیں اور جو انھیں یاد کر تے ہیں اور ان لوگوں سے بھی محبت کرتا ہے جو ان کے معانی کی تحقیق کرتے ہیں اور ان ناموں کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَلِلّٰهِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى فَادۡعُوۡهُ بِهَا ﴾(الاعراف:7؍180) ’’اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں اسے انھی ناموں سے پکارو۔‘‘
20:9–15Page 312
وَهَلۡ أَتَىٰكَ حَدِيثُ مُوسَىٰٓ ٩
And has the story of Moses reached you? -
إِذۡ رَءَا نَارٗا فَقَالَ لِأَهۡلِهِ ٱمۡكُثُوٓاْ إِنِّيٓ ءَانَسۡتُ نَارٗا لَّعَلِّيٓ ءَاتِيكُم مِّنۡهَا بِقَبَسٍ أَوۡ أَجِدُ عَلَى ٱلنَّارِ هُدٗى ١٠
When he saw a fire and said to his family, "Stay here; indeed, I have perceived a fire; perhaps I can bring you a torch or find at the fire some guidance."
فَلَمَّآ أَتَىٰهَا نُودِيَ يَٰمُوسَىٰٓ ١١
And when he came to it, he was called, "O Moses,
إِنِّيٓ أَنَا۠ رَبُّكَ فَٱخۡلَعۡ نَعۡلَيۡكَ إِنَّكَ بِٱلۡوَادِ ٱلۡمُقَدَّسِ طُوٗى ١٢
Indeed, I am your Lord, so remove your sandals. Indeed, you are in the blessed valley of Ṭuwā.
وَأَنَا ٱخۡتَرۡتُكَ فَٱسۡتَمِعۡ لِمَا يُوحَىٰٓ ١٣
And I have chosen you, so listen to what is revealed [to you].
إِنَّنِيٓ أَنَا ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعۡبُدۡنِي وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ لِذِكۡرِيٓ ١٤
Indeed, I am Allāh. There is no deity except Me, so worship Me and establish prayer for My remembrance.
إِنَّ ٱلسَّاعَةَ ءَاتِيَةٌ أَكَادُ أُخۡفِيهَا لِتُجۡزَىٰ كُلُّ نَفۡسِۭ بِمَا تَسۡعَىٰ ١٥
Indeed, the Hour is coming - I almost conceal it1 - so that every soul may be recompensed according to that for which it strives.
اور کیا آئی ہے آپ کے پاس بات موسی کی؟ (9) جب اس نے دیکھی آگ تو کہا اپنے گھر والوں سے، ٹھہرو تم، بلاشبہ میں نے دیکھی ہے آگ تاکہ میں لے آؤں تمھارے پاس اس میں سے کوئی انگارا یا میں پاؤں آگ کے پاس راستہ بتلانے والا (10) پس جب وہ آیا اس آگ کے پاس تو آواز دیا گیا، اے موسی! (11) بے شک میں تیرا رب ہوں ، سو تو اتار دے اپنی جوتیاں ، بلاشبہ تو وادیٔ مقدس طُویٰ میں ہے (12) اور میں نے تجھے پسند کر لیا ہے، پس تو غور سے سن اس کو جو وحی کی جاتی ہے (13) بلاشبہ میں ہی اللہ ہوں ، نہیں کوئی معبود (برحق) مگر میں ہی، سو تو عبادت کر میری ہی اور قائم کر نماز میرے ذکر کے لیے (14) بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، قریب ہے کہ چھپاؤں میں اس کو تاکہ بدلہ دیا جائے ہر جان کو، اس کا جو وہ کوشش کرتا ہے (15)
[10,9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ سے استفہام تقریری کے طور پر اور اس قصہء مذکورہ کی تعظیم اور عظمت کی خاطر، فرماتا ہے:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰؔى ﴾ ’’کیا آپ کے پاس موسیٰ کی بات آئی؟‘‘ یعنی جناب موسیٰ u کی اس حالت کا قصہ، جو ان کی سعادت کی بنیاد اور ان کی نبوت کی ابتدا تھی کہ انھیں بہت دور سے آگ نظر آئی اور وہ راستے سے بھٹک گئے تھے اور سردی محسوس کر رہے تھے اور ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جس سے وہ اپنے سفر میں گرمی حاصل کر سکیں ۔ ﴿ اِذۡ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ ’’تو انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا، ذرا ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے‘‘ اور یہ آگ کوہ طور کے دائیں جانب تھی۔ ﴿ لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِقَبَسٍ ﴾ ’’شاید میں تمھارے پاس اس میں سے ایک انگارہ لاؤں ۔‘‘ تاکہ تم اس سے آگ تاپ سکو ﴿اَوۡ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى ﴾ یا اس آگ کے پاس مجھے کوئی ایسا شخص مل جائے جو مجھے راستہ بتا دے۔ موسیٰu کا مقصود تو حسی روشنی اور حسی ہدایت تھا۔ مگر انھوں نے وہاں معنوی نور یعنی نورِ وحی پا لیا۔ جس سے قلوب و ارواح روشن ہوتے ہیں اور انھیں حقیقی ہدایت یعنی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل ہوئی جو نعمتوں بھری جنت کو جاتی ہے۔ حضرت موسیٰu ایک ایسی چیز سے بہرہ ور ہوئے جو ان کے کسی حساب اور خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔
[11]﴿ فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا ﴾ یعنی جب حضرت موسیٰ u اس آگ کے پاس پہنچے جو انھوں نے دور سے دیکھی تھی… جو درحقیقت نور تھا اور وہ ایسی آگ ہے جو جلا ڈالتی ہے اور روشنی دیتی ہے اس حقیقت پر رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے ’حِجَابُہُ النُّورُ۔ وَفِي رِوَایَۃٍ: النَّارُ۔ لَوْ کَشَفَہُ لأَ حْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْھِہِ مَا انْتَھَی إِلَیْہِ بَصَرُہُ‘(صحیح مسلم، الإیمان، باب فی قولہﷺ،(ان اللہ لاینام)…، ح:179) ’’اس کا حجاب نور ہے ایک روایت میں ہے: آگ۔ اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کا جلال حد نگاہ تک ہر چیز کو بھسم کر ڈالے۔‘‘ جب موسیٰ u وہاں پہنچے تو اس میں سے آواز آئی یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو ندا دی جیسا کہ ارشاد فرمایا: ﴿ وَنَادَيۡنٰهُ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ الۡاَيۡمَنِ وَقَرَّبۡنٰهُ نَؔجِيًّا ﴾(مریم:19؍52) ’’ہم نے اسے کوہ طور کی دائیں جانب سے پکارا اور سرگوشی کرنے کے لیے اس کو قریب کیا۔‘‘
[12]﴿ اِنِّيۡۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخۡلَعۡ نَعۡلَيۡكَ١ۚ اِنَّكَ بِالۡوَادِ الۡمُقَدَّسِ طُوًى ﴾ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ موسیٰu کا رب ہے اور حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مناجات کے لیے تیار اور اس کا اہتمام کر لیں اور اپنے جوتے اتار دیں کیونکہ وہ مقدس، پاک اور قابل تعظیم وادی میں ہیں ۔ اگر وادی کی تقدیس کے لیے کوئی اور چیز نہ ہوتی تب بھی حضرت موسیٰ کلیم اللہu کو مناجات کے لیے چن لینا ہی کافی تھا۔ بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو جوتے اتارنے کا اس لیے حکم دیا تھا کیونکہ وہ گدھے کی کھال سے بنے ہوئے تھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
[13]﴿ وَاَنَا اخۡتَرۡتُكَ ﴾ یعنی میں نے لوگوں میں سے تجھے چن لیا ہے۔ یہ سب سے بڑی نعمت اور احسان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u کو نوازا جو اس شکر کا تقاضا کرتی ہے جو اس کے لائق ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَاسۡتَمِعۡ لِمَا يُوۡحٰؔى ﴾ یعنی اس وحی کو غور سے سن جو تیری طرف کی جا رہی ہے، وہ اس کی مستحق ہے کہ اس کو غور سے سنا جائے کیونکہ یہ دین کی اساس اور دعوت اسلامی کا ستون ہے۔
[14] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس وحی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا ﴾’’بے شک میں ہی اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ یعنی اللہ ہی ہے جو الوہیت کا مستحق اور اس سے متصف ہے کیونکہ وہ اسماء و صفات میں کامل اور اپنے افعال میں منفرد ہے، جس کا کوئی شریک ہے نہ مثیل اور جس کا کوئی ہمسر ہے نہ برابری کرنے والا۔﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ﴾ ’’پس میری ہی عبادت کر۔‘‘ عبادت کی ظاہری اور باطنی،اصولی اور فروعی تمام انواع کے ذریعے سے، پھر نماز کا بطور خاص ذکر فرمایا، حالانکہ نماز عبادت میں داخل ہے۔ اس کی ایک وجہ نماز کا شرف و فضل ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نماز ایسی عبادت ہے جو دل، زبان اور اعضاء کی عبادت کو متضمن ہے۔ ﴿ لِـذِكۡرِيۡ ﴾ یہاں لام تعلیل کے لیے ہے، یعنی میرے ذکر کی خاطر نماز قائم کر کیونکہ ذکر الٰہی جلیل ترین مقصد ہے، علاوہ ازیں یہ عبودیت قلب کو متضمن ہے اور اسی پر انسان کی سعادت کا دارومدار ہے۔ پس ذکر الٰہی سے خالی دل، ہر بھلائی سے محروم ہو کر پوری طرح برباد ہو جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مختلف انواع کی عبادات مشروع فرمائی ہیں ، خاص طور پر نماز تو ان عبادات کا مقصد صرف ذکر الٰہی کا قیام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اُتۡلُ مَاۤ اُوۡحِيَ اِلَيۡكَ مِنَ الۡكِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡؔكَرِ١ؕ وَلَذِكۡرُ اللّٰهِ اَكۡبَرُ ﴾(العنبکوت:29؍45) ’’اس کتاب کی تلاوت کیجیے جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کیجیے بے شک نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے اور ذکر الٰہی اس سے بھی بڑی چیز ہے۔‘‘ یعنی نماز کے اندر اللہ تعالیٰ کا جو ذکر ہے، وہ نماز کے فحش اور برے کاموں سے روکنے سے زیادہ بڑی چیز ہے۔ عبادت کی اس نوع کو توحید الوہیت اور توحید عبادت کہا جاتا ہے۔ الوہیت اللہ تعالیٰ کا وصف ہے اور عبودیت بندے کا وصف ہے۔
[15]﴿ اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ ﴾ یعنی قیامت کی گھڑی کا واقع ہونا لازمی امر ہے۔ ﴿ اَكَادُ اُخۡفِيۡهَا ﴾ یعنی قیامت کی گھڑی خود آپﷺ سے چھپی ہوئی ہے، جیسا کہ بعض قراء ت میں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے:﴿ يَسۡـَٔؔلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾(الاحزاب:33؍63) ’’آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ، کہہ دیجیے اس کا علم اللہ کے پاس ہے۔‘‘ اور فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾(لقمان:31؍34) ’’قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے علم کو تمام مخلوقات سے چھپا رکھا ہے قیامت کے بارے میں کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے نہ کوئی نبی ٔ مرسل۔اور قیامت کے آنے کی حکمت یہ ہے کہ ﴿ لِتُجۡزٰى كُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا تَسۡعٰى ﴾ ہر شخص نے جو بھلے یا برے اعمال میں بھاگ دوڑ کی ہے اس کو ان کی جزا دی جائے کیونکہ قیامت دارالجزا کا دروازہ ہے۔ ﴿ لِيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَسَآءُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا بِالۡحُسۡنٰى﴾(النجم:53؍31) ’’تاکہ جن لوگوں نے برے کام کیے، انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دے اور جنھوں نے نیک کام کیے ان کو اچھا بدلہ دے۔‘‘
20:16Page 313
فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنۡهَا مَن لَّا يُؤۡمِنُ بِهَا وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ فَتَرۡدَىٰ ١٦
So do not let one avert you from it1 who does not believe in it and follows his desire, for you [then] would perish.
پس نہ روکے تجھ کو اس سے وہ شخص جو نہیں ایمان لاتا ساتھ اس کےاور پیروی کی اس نے اپنی خواہش کی، پس تو (بھی) ہلاک ہو جائے (16)
[16] وہ شخص، جو قیامت کا انکار کرتا ہے اور اس کے واقع ہونے کا اعتقاد نہیں رکھتا وہ آپ(ﷺ) کو قیامت اور جزا و سزا پر ایمان لانے اور اس کے مطابق عمل کرنے سے روک نہ دے۔ وہ اس بارے میں شک کرتا ہے اور شک پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس بارے میں باطل دلائل کے ذریعے سے بحث کرتا ہے، خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہوئے، مقدور بھر قیامت کے بارے میں شبہات پیدا کرتا ہے، اس کا مقصد حق تک پہنچنا نہیں بلکہ اس کا مقصد صرف خواہشات نفس کی پیروی ہے۔ جس شخص کا یہ حال ہو اس کی بات پر کان دھرنے اور اس کے اقوال و افعال کو، جو قیامت پر ایمان لانے سے روکتے ہیں، قبول کرنے سے بچیے۔ جس شخص کا یہ حال ہے اس سے بچنے کا اللہ تعالیٰ نے صرف اس لیے حکم دیا ہے کہ وہ ایسا شخص ہے جس کا دجل اور اس کی وسوسہ اندازی مومن کے لیے سب سے زیادہ ڈرنے کی چیز ہے اور نفوس انسانی کی فطرت ہے کہ وہ اپنے ابنائے جنس کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان کی پیروی کرتے ہیں ۔ اس میں تنبیہ اور اشارہ ہے کہ ہر اس شخص سے بچا جائے جو باطل کی طرف دعوت دیتا ہے، ایمان واجب یا اس کی تکمیل سے روکتا ہے اور قلب میں شبہات پیدا کرتا ہے، نیز ان تمام کتابوں سے بچا جائے جو باطل نظریات پر مشتمل ہیں ۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان، آخرت پر ایمان اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ یہ تینوں امور ایمان کی اساس اور دین کا ستون ہیں ۔ اگر یہ امور کامل ہیں تو دین بھی کامل ہے اور ان امور کے فقدان یا ان کے ناقص رہنے سے دین بھی ناقص رہ جاتا ہے۔ اس کی نظیر اللہ تبارک و تعالیٰ کا وہ ارشاد ہے جس میں ان گروہوں کی سعادت اور شقاوت کی میزان کے بارے میں خبر دی گئی ہے، جن کو کتاب عطا کی گئی تھی۔ فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ هَادُوۡا وَالصّٰؔبِـُٔوۡنَ وَالنَّصٰرٰى مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ۰۰﴾(المائدۃ:5؍69) ’’بے شک جو لوگ ایمان لائے یا یہودی ہوئے یا صابی یا عیسائی، جو بھی اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک عمل بھی کرے گا، ان کے لیے کوئی خوف ہو گا نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘ ارشاد فرمایا:﴿ فَتَرۡدٰى ﴾ یعنی اگر آپ اس شخص کے راستے پر گامزن ہوئے جو مذکورہ امور سے روکتا ہے تو آپ ہلاک ہو کر بدبختی کا شکار ہو جائیں گے۔
20:17–23Page 313
وَمَا تِلۡكَ بِيَمِينِكَ يَٰمُوسَىٰ ١٧
And what is that in your right hand, O Moses?"
قَالَ هِيَ عَصَايَ أَتَوَكَّؤُاْ عَلَيۡهَا وَأَهُشُّ بِهَا عَلَىٰ غَنَمِي وَلِيَ فِيهَا مَـَٔارِبُ أُخۡرَىٰ ١٨
He said, "It is my staff; I lean upon it, and I bring down leaves for my sheep and I have therein other uses."
قَالَ أَلۡقِهَا يَٰمُوسَىٰ ١٩
[Allāh] said, "Throw it down, O Moses."
فَأَلۡقَىٰهَا فَإِذَا هِيَ حَيَّةٞ تَسۡعَىٰ ٢٠
So he threw it down, and thereupon it was a snake, moving swiftly.
قَالَ خُذۡهَا وَلَا تَخَفۡۖ سَنُعِيدُهَا سِيرَتَهَا ٱلۡأُولَىٰ ٢١
[Allāh] said, "Seize it and fear not; We will return it to its former condition.
وَٱضۡمُمۡ يَدَكَ إِلَىٰ جَنَاحِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوٓءٍ ءَايَةً أُخۡرَىٰ ٢٢
And draw in your hand to your side; it will come out white without disease - another sign,
لِنُرِيَكَ مِنۡ ءَايَٰتِنَا ٱلۡكُبۡرَى ٢٣
That We may show you [some] of Our greater signs.
اور کیا ہے یہ تیرے دائیں ہاتھ میں اے موسیٰ؟ (17) موسیٰ نے کہا، یہ میرا عصا ہے، ٹیک لگاتا ہوں میں اس پراور پتے جھاڑتا ہوں اس کے ساتھ اپنی بکریوں پراور میرے لیے اس میں مقاصد ہیں اور بھی (18) اللہ نے فرمایا، ڈال دے اسے، اے موسی(19) پس جب اس نے ڈالا اسے تو ناگہاں وہ سانپ تھا دوڑتا ہوا (20) فرمایا، پکڑ لے اسے اور مت ڈر تو، ابھی ہم لوٹا دیں گے اسے اس کی پہلی ہی حالت پر (21) اور ملا اپنا ہاتھ ساتھ اپنی بغل کے، نکلے گا وہ چمکتا ہوا بغیر کسی بیماری کے، یہ نشانی ہے دوسری (22) تاکہ ہم دکھائیں تجھے کچھ اپنی نشانیاں بڑی بڑی (23)
[17] جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انھیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تائید سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لیے فرمایا:﴿ وَمَا تِلۡكَ بِيَمِيۡنِكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ ’’اے موسیٰ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔
[18] موسیٰ u نے جواب میں عرض کیا: ﴿ قَالَ هِيَ عَصَايَ١ۚ اَتَوَؔكَّـؤُا عَلَيۡهَا وَاَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِيۡ ﴾’’یہ میری لاٹھی ہے میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں ۔‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ نے دو فوائد ذکر فرمائے ہیں ۔(۱)آدمی کے لیے فائدہ، وہ چلنے پھرنے اور کھڑے ہونے میں اس کا سہارا لیتا ہے اور اسے اس سے مدد حاصل ہوتی ہے۔(۲) بہائم کے لیے فائدہ، آدمی اس کے ذریعے اپنی بھیڑ بکریوں کو چراتا ہے۔ جب وہ اپنے مویشیوں کو درختوں کے پاس چراتا ہے تو اس سے درختوں کے پتے جھاڑتا ہے، یعنی یہ عصا درخت پر مارتا ہے تاکہ پتے جھڑیں اور ان کو بکریاں چر لیں ۔ یہ حضرت موسیٰ u کا حسن خلق ہے جس کے آثار یہ ہیں کہ وہ بہائم و حیوانات کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرتے تھے اور ان کے ساتھ حسن رعایت سے پیش آتے تھے، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت موسیٰu پر اللہ تعالیٰ کی عنایت تھی اللہ تعالیٰ نے انھیں چن کر اپنے لیے مخصوص کر لیا تھا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت اس تخصیص کا تقاضا کرتی تھی۔ ﴿ وَلِيَ فِيۡهَا مَاٰرِبُ اُخۡرٰؔى ﴾ ’’اور میرے لیے اس میں دوسرے مقاصد بھی ہیں ۔‘‘ یعنی ان مذکورہ دو مقاصد کے علاوہ، دیگر مقاصد۔ یہ موسیٰ u کا ادب تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے سوال کیا کہ ان کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے… یہ سوال عصا کے عین کے بارے میں ہے یا اس کی منفعت کے بارے میں ، اس میں دونوں احتمالات ہیں … موسیٰ u نے اس کے عین اور منفعت، یعنی دونوں احتمالات کے مطابق جواب دیا۔
[20,19] اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے ارشاد فرمایا: ﴿ قَالَ اَلۡقِهَا يٰمُوۡسٰؔى فَاَلۡقٰىهَا فَاِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسۡعٰى ﴾ ’’اے موسیٰ! اسے زمین پر ڈال دے تو انھوں نے ڈال دیا، پس وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ عصا ایک بہت بڑے سانپ میں تبدیل ہو گیا اور موسیٰ u خوف کھا کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔
[21] اس سانپ کا وصف یہ بیان فرمایا کہ وہ حرکت کرتا تھا یہ ایک وہم کے ازالے کے لیے تھا جو ممکن تھا کہ کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ سب تخیل کی کارفرمائی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ۔ پس اس کے حرکت کرنے نے اس وہم کا ازالہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿ خُذۡهَا وَلَا تَخَفۡ﴾ ’’اسے پکڑ لے اور مت ڈر‘‘ یعنی اس سے تجھ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ ﴿ سَنُعِيۡدُهَا سِيۡرَتَهَا الۡاُوۡلٰى﴾ یعنی ہم اسے اس کی اصلی ہیئت اور صفت کی طرف لوٹا دیں گے جو عصا کی ہوتی ہے۔ موسیٰ u نے ایمان اور تسلیم و رضا سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور سانپ کو پکڑ لیا اور سانپ اسی جانے پہچانے عصا میں تبدیل ہو گیا۔ یہ (پہلا) معجزہ ہے۔
[22] اللہ تعالیٰ نے دوسرے معجزے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاضۡمُمۡ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال اور اپنے بازو کو اپنے ساتھ لگا لے جو انسان کے پرَ ہیں ۔ ﴿ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَؔ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ یعنی بغیر کسی عیب اور برص وغیرہ کے، سفید، چمکتا ہوا نکلے گا۔ ﴿ اٰيَةً اُخۡرٰى﴾ یہ دوسرا معجزہ ہے۔
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَذٰنِكَ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾(القصص:28؍32)’’تیرے رب کی طرف سے یہ دو معجزے ہیں ، فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘﴿ لِـنُرِيَكَ مِنۡ اٰيٰتِنَا الۡكُبۡرٰى ﴾ یہ مذکور افعال… یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور ہاتھ کا دیکھنے والوں کے لیے سفید چمکدار ہو جانا… صرف اس لیے سرانجام دیے ہیں تاکہ ہم تجھ کو اپنی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کروائیں ، جو تیری رسالت کی صحت اور جو کچھ تو لے کر آیا ہے اس کی حقیقت پر دلالت کرتی ہیں اور یوں تجھ کو اطمینان قلب حاصل ہو گا، تیرے علم میں اضافہ ہو گا اور تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور نصرت کے وعدے پر بھروسہ کرے گا، نیز یہ نشانیاں ان لوگوں کے سامنے حجت اور دلیل ہوں گی جن کی طرف تجھ کو مبعوث کیا جا رہا ہے۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences