As-Sa'diTaha · 20:80–104

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Taha 20:80–104

20:80–82Page 317

يَٰبَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ قَدۡ أَنجَيۡنَٰكُم مِّنۡ عَدُوِّكُمۡ وَوَٰعَدۡنَٰكُمۡ جَانِبَ ٱلطُّورِ ٱلۡأَيۡمَنَ وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَنَّ وَٱلسَّلۡوَىٰ ٨٠

O Children of Israel, We delivered you from your enemy, and We made an appointment with you1 at the right side of the mount, and We sent down to you manna and quails,

كُلُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقۡنَٰكُمۡ وَلَا تَطۡغَوۡاْ فِيهِ فَيَحِلَّ عَلَيۡكُمۡ غَضَبِيۖ وَمَن يَحۡلِلۡ عَلَيۡهِ غَضَبِي فَقَدۡ هَوَىٰ ٨١

[Saying], "Eat from the good things with which We have provided you and do not transgress [or oppress others] therein, lest My anger should descend upon you. And he upon whom My anger descends has certainly fallen [i.e., perished]."

وَإِنِّي لَغَفَّارٞ لِّمَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا ثُمَّ ٱهۡتَدَىٰ ٨٢

But indeed, I am the Perpetual Forgiver of whoever repents and believes and does righteousness and then continues in guidance.

اے بنی اسرائیل! تحقیق نجات دی ہم نے تمھیں تمھارے دشمن سےاور وعدہ کیا ہم نے تم سے طور کی دائیں جانب کااور نازل کیاہم نے تم پر من اور سلوی (80) تم کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں سے جو رزق دیا ہم نے تمھیں اور نہ سرکشی کرو تم اس میں کہ (اس کی وجہ سے) اترے تم پر میرا غضب اور وہ شخص کہ اترا اس پر میرا غضب تو یقینا وہ تباہ ہو گیا (81) اور بلاشبہ میں البتہ بہت بخشنے والا ہوں اس شخص کو جس نے توبہ کی اور ایمان لایا عمل کیا نیک، پھر وہ راہ راست پر رہا (82)

[81,80] اللہ تبارک و تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنا احسان عظیم یاد دلاتا ہے کہ اس نے ان کے دشمن کو ہلاک کیا اور کوہ طور کے دائیں جانب وعدہ کیا کہ وہ ان پر کتاب نازل کرے گا جس میں جلیل القدر احکام اور عالیشان خبریں ہیں ۔ اس طرح دنیاوی نعمت کی تکمیل کے بعد دینی نعمت کی تکمیل ہوئی۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ ان کو اپنا یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ اس نے بے آب و گیاہ بیابان میں ان پر من و سلویٰ نازل کیا اور ان کو بافراط رزق سے نوازا جو انھیں بلامشقت حاصل ہوتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا: ﴿ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰؔتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں تمھیں عطا کی ہیں ، ان پر اس کا شکر ادا کرو۔ ﴿ وَلَا تَطۡغَوۡا فِيۡهِ ﴾ یعنی اس کے عطا کردہ رزق میں سرکشی نہ کرو کہ اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں استعمال کرنے لگو یا اس کی نعمت پر اترانے لگو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم پر میرا غضب نازل ہو گا یعنی میں تم سے ناراض ہو جاؤں گا اور تمھیں عذاب میں مبتلا کر دوں گا۔ ﴿ وَمَنۡ يَّحۡلِلۡ عَلَيۡهِ غَضَبِيۡ فَقَدۡ هَوٰى ﴾ یعنی جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک اور خائب و خاسر ہوا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور احسان سے محروم ہو گیا اور اس کی ناراضی اور خسارہ اس کے حصے میں آیا۔

[82] بایں ہمہ بندے نے خواہ کتنا ہ بڑا گناہ کیوں نہ کیا ہو، اس کے لیے توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنِّيۡ لَغَفَّارٌ﴾ یعنی جو شخص کفر، بدعت اور فسق و فجور سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لے آتا ہے اور قلب، بدن اور زبان کے ذریعے سے نیک عمل کرتا ہے تو میں بہت زیادہ بخشنے والا اور بے پایاں رحمت کا مالک ہوں ۔ ﴿ ثُمَّ اهۡتَدٰؔى ﴾ یعنی پھر وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوا،رسول کریمﷺ کی اتباع اور دین قیم کی پیروی کی۔ پس یہ وہ شخص ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو بخش دے گا۔ وہ اس کے گزشتہ گناہوں اور ان پر اس کے اصرار کو معاف کر دے گا کیونکہ وہ بخشش اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لیے سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے بلکہ تمام اسباب انھی اشیاء پر منحصر ہیں کیونکہ توبہ گزشتہ تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے، ایمان اور اسلام گزشتہ تمام بداعمالیوں کو منہدم کر دیتے ہیں اور عمل صالح یعنی نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں ۔ راہ ہدایت کی تمام اقسام پر گامزن رہنا ، مثلاً: علم حاصل کرنا، کسی آیت یا حدیث کا معنیٰ سمجھنے کے لیے ان میں تدبر کرنا، دین حق کی طرف دعوت دینا، بدعت، کفر و ضلالت کا رد کرنا، جہاد اور ہجرت وغیرہ اور ہدایت کی دیگر جزئیات۔ یہ سب گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اور منزل مطلوب کے حصول میں مدد دیتی ہیں ۔

20:83–86Page 317

۞ وَمَآ أَعۡجَلَكَ عَن قَوۡمِكَ يَٰمُوسَىٰ ٨٣

[Allāh said], "And what made you hasten from your people, O Moses?"

قَالَ هُمۡ أُوْلَآءِ عَلَىٰٓ أَثَرِي وَعَجِلۡتُ إِلَيۡكَ رَبِّ لِتَرۡضَىٰ ٨٤

He said, "They are close upon my tracks, and I hastened to You, my Lord, that You be pleased."

قَالَ فَإِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَكَ مِنۢ بَعۡدِكَ وَأَضَلَّهُمُ ٱلسَّامِرِيُّ ٨٥

[Allāh] said, "But indeed, We have tried your people after you [departed], and the Sāmirī1 has led them astray."

فَرَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوۡمِهِۦ غَضۡبَٰنَ أَسِفٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ أَلَمۡ يَعِدۡكُمۡ رَبُّكُمۡ وَعۡدًا حَسَنًاۚ أَفَطَالَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡعَهۡدُ أَمۡ أَرَدتُّمۡ أَن يَحِلَّ عَلَيۡكُمۡ غَضَبٞ مِّن رَّبِّكُمۡ فَأَخۡلَفۡتُم مَّوۡعِدِي ٨٦

So Moses returned to his people, angry and grieved.1 He said, "O my people, did your Lord not make you a good promise?2 Then, was the time [of its fulfillment] too long for you, or did you wish that wrath from your Lord descend upon you, so you broke your promise [of obedience] to me?"

اور کون سی چیز جلدی لے آئی تجھے، تیری قوم سے اے موسیٰ؟ (83) اس نے کہا، وہ لوگ میرے پیچھے (آرہے) ہیں اور میں نے جلدی کی تیری طرف، اے میرے رب! تاکہ تو راضی ہو جائے (84) اللہ نے کہا، پس بے شک ہم نے آزمایا ہے تیری قوم کو تیرے بعداور گمراہ کر دیا انھیں سامری نے (85) پس لوٹا موسی اپنی قوم کی طرف غضب ناک غمگین، اس نے کہا، اے میری قوم! کیا نہیں وعدہ کیا تھا تم سے تمھارے رب نے وعدہ اچھا؟ کیا پس لمبا ہو گیا تھا تم پر عہد یا چاہا تم نے یہ کہ اترے تم پر غضب تمھارے رب کی طرف سے؟ پس خلاف ورزی کی تم نے میرے وعدے کی (86)

[83] اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u کے لیے جگہ اور وقت مقرر کر دیا تاکہ ان پر تیس دن میں تورات نازل کر دے۔ پھر چالیس دن میں اس کا اتمام کیا۔ جب مدت مقرر پوری ہوئی تو موسیٰ u اپنے رب کی ملاقات کے شوق اور چاہت میں وعدے کے مطابق جلدی سے مقررہ مقام پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَعۡجَلَكَ عَنۡ قَوۡمِكَ يٰمُوۡسٰؔى ﴾ یعنی کس چیز نے تجھ کو اپنی قوم سے پہلے آنے پر آمادہ کیا؟ تو نے صبر کیوں نہ کیا یہاں تک کہ تو اپنی قوم کے ساتھ آتا ۔

[84] موسیٰ u نے عرض کیا: ﴿ هُمۡ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِيۡ ﴾ وہ یہاں سے قریب ہی ہیں وہ عنقریب میرے پیچھے پہنچ جائیں گے اور جس چیز نے مجھے تیری جناب میں جلدی حاضر ہونے پر آمادہ کیا وہ ہے تیرے قرب کی طلب، تیری رضا کے حصول میں جلدی اور تیرا شوق۔

[85] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَكَ مِنۢۡ بَعۡدِكَ ﴾ یعنی تیرے بعد تیری قوم کو بچھڑے کی پوجا کے ذریعے سے ہم نے آزمایا۔ پس انھوں نے صبر نہیں کیا اور جب ان کا امتحان ہوا تو انھوں نے کفر کا ارتکاب کیا۔ ﴿وَاَضَلَّهُمُ السَّامِرِيُّ ﴾ ’’اور سامری نے ان کو گمراہ کر دیا‘‘ ﴿فَاَخۡرَجَ لَهُمۡ عِجۡلًا جَسَدًا ﴾ وہ ان کے لیے ایک بچھڑے کا بت بنا لایا ﴿لَّهٗ خُوَارٌؔ فَقَالُوۡا ﴾ اس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ لوگ کہنے لگے۔ ﴿ هٰؔذَاۤ اِلٰهُكُمۡ وَاِلٰهُ مُوۡسٰؔى﴾ ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے‘‘ جسے موسیٰ بھول گیا ہے۔ اسی طرح بنی اسرائیل فتنے میں مبتلا ہو گئے اور انھوں نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا حضرت ہارونu نے ان کو روکا مگر وہ بچھڑے کی عبادت سے باز نہ آئے۔

[86] جب موسیٰ u اپنی قوم میں واپس آئے تو سخت ناراض ہوئے وہ تاسف اور غیظ و غضب سے لبریز تھے انھوں نے اس فعل پر زجرو توبیخ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ اَلَمۡ يَعِدۡكُمۡ رَبُّكُمۡ وَعۡدًا حَسَنًا ﴾ ’’اے میری قوم! کیا تم سے تمھارے رب نے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟‘‘ اور یہ تورات نازل کرنے کا وعدہ تھا۔ ﴿اَفَطَالَ عَلَيۡكُمُ الۡعَهۡدُ ﴾ کیا وعدہ پورا ہونے میں دیر لگ گئی تھی اور میری عدم موجودگی طویل ہو گئی تھی، حالانکہ یہ تو بہت ہی تھوڑی سی مدت تھی۔ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے اور اس میں ایک دوسرے معنی کا احتمال بھی ہے، وہ یہ کہ کیا عہد نبوت اور رسالت کو زیادہ عرصہ گزر گیا ہے؟ جس کی وجہ سے تمھارے پاس علم باقی نہ رہا، علم کے تمام آثار مٹ گئے اور تمھارے پاس کوئی خبر نہ پہنچی اور طول عہد کی بنا پر آثار نبوت محو ہو گئے تھے اور اس طرح تم نے آثار رسالت اور علم کے معدوم ہونے اور غلبہء جہالت کی وجہ سے غیر اللہ کی عبادت شروع کر دی…؟ مگر معاملہ یوں نہیں بلکہ نبوت تمھارے درمیان موجود اور علم قائم ہے، اس لیے تمھارا یہ عذر قابل قبول نہیں ۔ یا اس فعل کے ذریعے سے تمھارا ارادہ یہ تھا کہ تم پر تمھارے رب کا غضب نازل ہو، یعنی تم نے ایسے اسباب اختیار کیے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے موجب ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ ﴿ فَاَخۡلَفۡتُمۡ مَّوۡعِدِيۡ﴾ ’’پس تم نے میرے وعدے کے خلاف کیا۔‘‘ جب میں نے تمھیں استقامت کا حکم دیا اور ہارونu کو تمھارے بارے میں وصیت کی تو تم نے غائب کا انتظار کیا نہ موجود کا احترام کیا۔

20:87–89Page 317

قَالُواْ مَآ أَخۡلَفۡنَا مَوۡعِدَكَ بِمَلۡكِنَا وَلَٰكِنَّا حُمِّلۡنَآ أَوۡزَارٗا مِّن زِينَةِ ٱلۡقَوۡمِ فَقَذَفۡنَٰهَا فَكَذَٰلِكَ أَلۡقَى ٱلسَّامِرِيُّ ٨٧

They said, "We did not break our promise to you by our will, but we were made to carry burdens from the ornaments of the people [of Pharaoh], so we threw them [into the fire], and thus did the Sāmirī throw."

فَأَخۡرَجَ لَهُمۡ عِجۡلٗا جَسَدٗا لَّهُۥ خُوَارٞ فَقَالُواْ هَٰذَآ إِلَٰهُكُمۡ وَإِلَٰهُ مُوسَىٰ فَنَسِيَ ٨٨

And he extracted for them [the statue of] a calf which had a lowing sound, and they said, "This is your god and the god of Moses, but he forgot."

أَفَلَا يَرَوۡنَ أَلَّا يَرۡجِعُ إِلَيۡهِمۡ قَوۡلٗا وَلَا يَمۡلِكُ لَهُمۡ ضَرّٗا وَلَا نَفۡعٗا ٨٩

Did they not see that it could not return to them any speech [i.e., response] and that it did not possess for them any harm or benefit?

انھوں نے کہا، نہیں خلاف ورزی کی ہم نے تیرے وعدے کی اپنے اختیار سے لیکن اٹھوائے گئے تھے ہم بوجھ زیورات کا (فرعون کی) قوم کے، پس پھینک دیے ہم نے وہ (آگ میں ) اور اسی طرح (کچھ) پھینکا سامری نے بھی (87) پھر اس نے نکالا ان کے لیے ایک بچھڑا (یعنی ) ایک جسم، اس کی آواز تھی گائے کی سی تو انھوں نے کہا، یہ معبود ہے موسی کا، پس وہ بھول گیا (88) کیا پس نہیں دیکھتے وہ کہ بلاشبہ وہ (بچھڑا) نہیں لوٹاتا ان کی طرف کوئی بات اور نہیں اختیار رکھتاوہ ان کے لیے نقصان کا اور نہ نفع کا (89)

[88,87] انھوں نے موسیٰ u سے کہا کہ ان سے یہ کام جان بوجھ کر اور اپنے اختیار سے سرزد نہیں ہوا بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ ہم زیورات کے گناہ سے، جو ہمارے پاس تھے، بچنا چاہتے تھے۔ اہل تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے مصر سے نکلنے سے پہلے قبطیوں سے زیورات وغیرہ مستعار لیے تھے مصر سے نکلتے وقت وہ زیورات بھی ساتھ لے آئے۔ وہاں سے نکل کر انھوں نے وہ زیورات پھینک دیے تھے جب موسیٰ u چلے گئے تو انھوں نے وہ زیورات اکٹھے کر لیے تاکہ حضرت موسیٰ کی واپسی پر اس بارے میں ان سے رجوع کریں ۔جس روز فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق ہوا اس روز سامری نے رسول کا نقش پا دیکھ لیا تھا، اس کے نفس نے اسے آمادہ کیا اور اس نے اس نقش پا سے خاک کی ایک مٹھی اٹھالی اور اس خاک میں یہ تاثیر تھی کہ جب اسے کسی چیز پر ڈالا جاتا تو وہ زندہ ہو جاتی تھی… یہ امتحان اور آزمائش تھی۔ اس نے یہ خاک بچھڑے کے اس بت پر ڈال دی، جو اس نے گھڑا تھا۔ اس سے اس میں حرکت پیدا ہو گئی اور اس سے آواز بھی نکلتی تھی۔ بنی اسرائیل نے کہا موسیٰu اپنے رب کو تلاش کرنے گیا ہے اور وہ یہاں موجود ہے، موسیٰu بھول گیا۔

[89] یہ ان کی کم عقلی اور حماقت تھی کہ انھوں نے گائے کے بچھڑے کو جو ایک دھات کا بنا ہوا تھا جس میں آواز پیدا ہو گئی تھی… زمین اور آسمانوں کا اِلٰہ سمجھ لیا تھا۔ ﴿اَفَلَا يَرَوۡنَ ﴾’’کیا وہ نہیں دیکھتے۔‘‘ کہ وہ بچھڑا ﴿ اَلَّا يَرۡجِـعُ اِلَيۡهِمۡ قَوۡلًا ﴾ ان سے کلام کر سکتا ہے نہ وہ ان کی بات کا جواب دے سکتا ہے نہ ان کو کوئی نفع دے سکتا ہے نہ نقصان؟ پس صرف وہی ہستی عبادت کی مستحق ہے جو کمال، کلام اور افعال کی مالک ہو اور ایسی ہستی عبادت کیے جانے کا استحقاق نہیں رکھتی جو اپنے عبادت گزاروں سے بھی ناقص ہو کیونکہ عبادت گزار تو کلام کر سکتے ہیں اور بعض معاملات میں ، اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی قدرت کے مطابق، نفع و نقصان کا اختیار بھی رکھتے ہیں ۔

20:90–94Page 318

وَلَقَدۡ قَالَ لَهُمۡ هَٰرُونُ مِن قَبۡلُ يَٰقَوۡمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِۦۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ ٱلرَّحۡمَٰنُ فَٱتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوٓاْ أَمۡرِي ٩٠

And Aaron had already told them before [the return of Moses], "O my people, you are only being tested by it, and indeed, your Lord is the Most Merciful, so follow me and obey my order."

قَالُواْ لَن نَّبۡرَحَ عَلَيۡهِ عَٰكِفِينَ حَتَّىٰ يَرۡجِعَ إِلَيۡنَا مُوسَىٰ ٩١

They said, "We will never cease being devoted to it [i.e., the calf] until Moses returns to us."

قَالَ يَٰهَٰرُونُ مَا مَنَعَكَ إِذۡ رَأَيۡتَهُمۡ ضَلُّوٓاْ ٩٢

[Moses] said, "O Aaron, what prevented you, when you saw them going astray,

أَلَّا تَتَّبِعَنِۖ أَفَعَصَيۡتَ أَمۡرِي ٩٣

From following me? Then have you disobeyed my order?"

قَالَ يَبۡنَؤُمَّ لَا تَأۡخُذۡ بِلِحۡيَتِي وَلَا بِرَأۡسِيٓۖ إِنِّي خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِي ٩٤

[Aaron] said, "O son of my mother, do not seize [me] by my beard or by my head. Indeed, I feared that you would say, 'You caused division among the Children of Israel, and you did not observe [or await] my word.'"

اور البتہ تحقیق کہا تھا ان سے ہارون نے پہلے اس سے، اے میری قوم! یقینا تم آزمائے گئے ہو بوجہ اس (بچھڑے) کے اور بلاشبہ تمھارا رب نہایت مہربان ہے، پس تم پیروی کرو میری اور اطاعت کرو میرے حکم کی (90) انھوں نے کہا، ہمیشہ رہیں گے ہم تو اس کی پرستش کرتے یہاں تک کہ لوٹ آئے ہماری طرف موسیٰ (91) موسیٰ نے کہا، اے ہارون! کس چیز نے منع کیا تھا تجھے جب دیکھا تو نے ان کو کہ وہ گمراہ ہو گئے (92) اس سے کہ نہ پیروی کرے تو میری؟ کیا پس تو نے نافرمانی کی میرے حکم کی؟ (93) ہارون نے کہا، اے میری ماں جائے! نہ پکڑ تو داڑھی میری اور نہ سر میرا، بے شک میں ڈر گیا تھا اس (بات) سے کہ تو کہے گا تفرقہ ڈال دیا تو نے درمیان بنی اسرائیل کےاور نہ انتظار کیا تو نے میری بات کا (94)

[91,90] یعنی بچھڑے کو معبود بنانے میں وہ معذور نہیں تھے۔ اگر وہ بچھڑے کی عبادت کے بارے میں کسی شبہ میں مبتلا ہو گئے تھے تو ہارون u نے ان کو بہت روکا تھا اور ان کو آگاہ کر دیا تھا کہ یہ ان کی آزمائش ہے۔ ان کا رب تو رحمٰن ہے جس کی طرف سے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کا فیضان جاری ہے اور وہ تمام تکالیف کو دور کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ ہارونu کی اتباع کریں اور بچھڑے کو چھوڑ دیں ۔ مگر انھوں نے ایسا نہ کیا اور کہنے لگے: ﴿لَنۡ نَّبۡرَحَ عَلَيۡهِ عٰكِفِيۡنَ حَتّٰى يَرۡجِـعَ اِلَيۡنَا مُوۡسٰؔى ﴾ ’’موسیٰ کے آنے تک ہم تو اسی کی عبادت و تعظیم میں لگے رہیں گے۔‘‘

[93,92] اور حضرت موسیٰu اپنے بھائی کو ملامت کرتے ہوئے آئے اور کہنے لگے: ﴿ قَالَ يٰهٰؔرُوۡنُ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤا اَلَّا تَتَّبِعَنِ﴾ ’’اے ہارون! جب تو نے ان کو دیکھا کہ گمراہ ہو گئے ہیں تو تجھے میرے پیچھے آنے سے کس چیز نے روک دیا؟‘‘ کہ آ کر تو مجھے خبر کر دیتا تاکہ میں جلدی سے ان کی طرف لوٹ آتا ﴿ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ ﴾کیا تو نے میرے اس حکم کی نافرمانی کی ہے ﴿اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍142) ’’تو میری قوم میں میری جانشینی کر، معاملات کو درست کر اور اہل فساد کے راستے کی پیروی نہ کر۔‘‘ موسیٰ u نے حضرت ہارونu کو سر اور داڑھی سے پکڑا اور غصے میں اپنی طرف کھینچا۔

[94] ہارون u نے کہا: ﴿ يَبۡنَؤُمَّ ﴾ ’’اے میرے ماں جائے‘‘ انھوں نے موسیٰ u سے رقت قلبی کی امید پر یہ فقرہ کہا تھا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ موسیٰu ماں اور باپ دونوں طرف سے ان کے بھائی تھے۔ ﴿ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ ﴾ ’’آپ میری داڑھی اور سر نہ پکڑیں ، میں تو اس بات سے ڈرا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل کے درمیان تفریق ڈال دی اور میری بات کا انتظار نہ کیا۔‘‘ کیونکہ آپ کا حکم تھا کہ میں ان میں آپ کی جانشینی کروں اگر میں آپ کے پیچھے چلا آتا تو میں اس چیز کو چھوڑ بیٹھتا جس کے التزام کا آپ نے حکم دیا تھا اور میں آپ کی ملامت سے ڈرتا رہا۔ ﴿ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ کسی نگرانی کرنے والے اور کسی جانشین کے بغیر ان کو چھوڑ دیا اور اس سے ان میں تشتت و افتراق پیدا ہو گیا۔ اس لیے آپ مجھے ظالموں میں شریک نہ کریں اور نہ دشمنوں کو ہم پر ہنسنے کا موقع دیں ۔ اس پر موسیٰ u کو بھائی کے ساتھ اپنے طرز عمل پر ندامت ہوئی کہ وہ اس سلوک کے مستحق نہ تھے، اس لیے دعا کی۔ ﴿رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ١ۖٞ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍151) ’’اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخشش اور ہمیں اپنی رحمت کے سایہ میں داخل کر تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘

پھر سامری کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:

20:95–97Page 318

قَالَ فَمَا خَطۡبُكَ يَٰسَٰمِرِيُّ ٩٥

[Moses] said, "And what is your case, O Sāmirī?"

قَالَ بَصُرۡتُ بِمَا لَمۡ يَبۡصُرُواْ بِهِۦ فَقَبَضۡتُ قَبۡضَةٗ مِّنۡ أَثَرِ ٱلرَّسُولِ فَنَبَذۡتُهَا وَكَذَٰلِكَ سَوَّلَتۡ لِي نَفۡسِي ٩٦

He said, "I saw what they did not see, so I took a handful [of dust] from the track of the messenger1 and threw it,2 and thus did my soul entice me."

قَالَ فَٱذۡهَبۡ فَإِنَّ لَكَ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ أَن تَقُولَ لَا مِسَاسَۖ وَإِنَّ لَكَ مَوۡعِدٗا لَّن تُخۡلَفَهُۥۖ وَٱنظُرۡ إِلَىٰٓ إِلَٰهِكَ ٱلَّذِي ظَلۡتَ عَلَيۡهِ عَاكِفٗاۖ لَّنُحَرِّقَنَّهُۥ ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُۥ فِي ٱلۡيَمِّ نَسۡفًا ٩٧

[Moses] said, "Then go. And indeed, it is [decreed] for you in [this] life to say, 'No contact.'1 And indeed, you have an appointment [in the Hereafter] you will not fail to keep. And look at your 'god' to which you remained devoted. We will surely burn it and blow it [i.e., its ashes] into the sea with a blast.

موسیٰ نے کہا، پس کیامعاملہ ہے تیرا اے سامری؟ (95) اس نے کہا، دیکھا تھا میں نے اس چیز کو کہ نہ دیکھا تھا ان لوگوں نے اسے، پس بھر لی میں نے ایک مٹھی رسول (جبریل) کے نشان قدم سے، پھر پھینکا میں نے اس کواور اسی طرح مزین کیا تھا میرے نفس نے (96) موسیٰ نے کہا،پس جا تو، پس بے شک تیرے لیے ہے زندگی بھر کہ تو کہتا رہے نہ ہاتھ لگانا (مجھے)اور بلاشبہ تیرے لیے وعدہ کا وقت ہے کہ ہرگز نہیں خلاف کیا جائے گا تیرے حق میں اس سے اور دیکھ تو طرف اپنے معبود کی وہ جو ہو گیا تھا تواس کی پرستش کرنے والا، البتہ ضرور جلائیں گے ہم اسے، پھر اڑائیں گے ہم (اس کی راکھ) سمندر میں (مکمل طور پر) اڑانا (97)

[96,95] یعنی یہ جو تو نے سب کچھ کیا ہے یہ کیا معاملہ ہے؟ سامری نے جواب دیا۔ ﴿ بَصُرۡتُ بِمَا لَمۡ يَبۡصُرُوۡا بِهٖ ﴾ ’’میں نے وہ چیز دیکھی جو انھوں نے نہیں دیکھی۔‘‘ یعنی وہ جبریلu تھے جن کو سامری نے سمندر سے باہر نکلتے اور فرعون کے اپنے لشکر سمیت ڈوبتے وقت گھوڑی پر سوار دیکھا۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے، یعنی میں نے گھوڑی کے سم کے نیچے سے خاک کی ایک مٹھی اٹھائی اور بچھڑے (کے بت) پر ڈال دی۔ ﴿ وَؔكَذٰلِكَ سَوَّلَتۡ لِيۡ نَفۡسِيۡ ﴾ میرے نفس نے مجھے ایسے ہی سمجھایا تھا کہ میں (جبریل کے نقش پا سے) ایک مٹھی خاک لوں اور اسے اس بچھڑے پر ڈال دوں اور اس طرح وہ کچھ ہو جائے جو ہو گیا۔

[97] پس موسیٰ u نے سامری سے کہا: ﴿ فَاذۡهَبۡ ﴾ مجھ سے دور ہو جا ﴿ فَاِنَّ لَكَ فِي الۡحَيٰؔوةِ اَنۡ تَقُوۡلَ لَا مِسَاسَ﴾یعنی تجھے زندگی میں ایسی سزا دی جائے گی کہ کوئی شخص تیرے قریب آئے گا نہ تجھے چھوئے گا۔ اگر کوئی شخص تیرے پاس آنا چاہے گا تو خود ہی پکار کر اسے کہہ دے گا ’’مجھے مت چھونا، میرے قریب نہ آنا‘‘ یہ تمھارے اس فعل کی سزا ہو گی… کیونکہ سامری نے اس چیز کو چھوا جسے کسی دوسرے نے نہیں چھوا اس نے وہ کچھ جاری کیا جو کسی اور نے جاری نہیں کیا۔﴿ وَاِنَّ لَكَ مَوۡعِدًا لَّنۡ تُخۡلَفَهٗ﴾ ’’اور تیرے لیے ایک وعدہ ہے جو ہرگز تجھ سے نہیں ٹلے گا۔‘‘ پس اس وقت تجھے تیرے اچھے برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ﴿ وَانۡظُرۡ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِيۡ ظَلۡتَ عَلَيۡهِ عَاكِفًا﴾ ’’اور دیکھ تو اپنے اس معبود کی طرف جس کی تو تعظیم و عبادت کرتا ہے۔‘‘ اس سے مراد بچھڑا ہے ﴿لَنُحَرِّؔقَنَّهٗ۠ ثُمَّ لَنَنۡسِفَنَّهٗ فِي الۡيَمِّ نَسۡفًا ﴾ ’’ہم اسے جلا کر، اس کا ریزہ ریزہ اڑا دیں گے۔‘‘ اور موسیٰ u نے ایسا ہی کیا۔ اگر وہ بچھڑا معبود ہوتا تو وہ ایذا دینے والے اور تلف کرنے والے سے بچ سکتا تھا۔ بنی اسرائیل کے دلوں میں بچھڑے کی محبت رچ بس گئی تھی، اس لیے موسیٰ u نے بنی اسرائیل کے سامنے اس کو تلف کرنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ اس کو دوبارہ نہ بنا سکیں … اس کو جلانے اور اس کو ریزہ ریزہ کر کے سمندر میں بکھیرنے سے حضرت موسیٰu کا مقصد یہ تھا کہ جس طرح بچھڑا جسمانی طور پر ختم کر دیا گیا ہے اسی طرح ان کے دلوں سے اس کی محبت بھی زائل ہو جائے، نیز اس کے باقی رکھنے میں نفوس کے لیے فتنے کا امکان تھا کیونکہ نفسوں کے اندر باطل کی طرف بڑا قوی داعیہ ہوتا ہے۔

جب ان کے سامنے اس خود ساختہ خدا کا بطلان واضح ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس ہستی کے متعلق آگاہ فرمایا جو عبادت کی مستحق ہے، جو یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ، فرمایا:

20:98Page 318

إِنَّمَآ إِلَٰهُكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۚ وَسِعَ كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمٗا ٩٨

Your god is only Allāh, except for whom there is no deity. He has encompassed all things in knowledge."

یقینا تمھارا معبود تو وہ اللہ ہے کہ نہیں کوئی اور معبود سوائے اس کے، گھیر رکھا ہے اس نے ہر چیز کو ازروئے علم کے (98)

[98] یعنی اللہ کریم کے سوا کوئی معبود نہیں ، صرف اسی کے ساتھ محبت کی جائے، اسی پر امیدیں رکھی جائیں ، اسی سے ڈرا جائے اور اسی کو پکارا جائے۔ وہی کامل ہستی ہے جو اسماء حسنیٰ اور اوصاف عالیہ کی مالک ہے۔ اس کے علم نے تمام اشیاء کا احاطہ کر رکھا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ بندوں پر جتنی بھی نعمتیں ہیں صرف اسی کی عطا کردہ ہیں ۔ صرف وہی ہے جو تمام تکالیف کو دور کرتا ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔

20:99–101Page 319

كَذَٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ مَا قَدۡ سَبَقَۚ وَقَدۡ ءَاتَيۡنَٰكَ مِن لَّدُنَّا ذِكۡرٗا ٩٩

Thus, [O Muḥammad], We relate to you from the news of what has preceded. And We have certainly given you from Us a message [i.e., the Qur’ān].

مَّنۡ أَعۡرَضَ عَنۡهُ فَإِنَّهُۥ يَحۡمِلُ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وِزۡرًا ١٠٠

Whoever turns away from it - then indeed, he will bear on the Day of Resurrection a burden [i.e., great sin],

خَٰلِدِينَ فِيهِۖ وَسَآءَ لَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ حِمۡلٗا ١٠١

[Abiding] eternally therein,1 and evil it is for them on the Day of Resurrection as a load -

اسی طرح ہم بیان کرتے ہیں آپ پر کچھ وہ خبریں جو پہلے گزر چکی ہیں اورتحقیق دیا ہم نے آپ کو اپنے پاس سے ذکر (قرآن)(99) جس شخص نے اعراض کیا اس سے تو بلاشبہ وہ اٹھائے گا دن قیامت کے ایک بوجھ (100) وہ ہمیشہ رہیں گے اس (تکلیف) میں اور برا ہوگا ان کے لیے دن قیامت کے بوجھ اٹھانا (101)

[99] اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے آپ کو گزرے ہوئے لوگوں کی خبروں سے آگاہ فرمایا… مثلاً: یہ عظیم واقعہ اور اس کے اندر مذکور تمام احکام، جن کا اہل کتاب میں سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ پس آپ نے گزری ہوئی قوموں کی تاریخ کا درس لیا ہے نہ کسی سے اس کا علم حاصل کیا ہے، لہٰذا آپ کا ان کے واقعات کے بارے میں حق الیقین کے ساتھ آگاہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ سب صداقت پر مبنی ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿ وَقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ مِنۡ لَّدُنَّا ﴾ ’’اور دیا ہم نے آپ کو اپنی طرف سے۔‘‘ یعنی اپنی طرف سے نفیس عطیہ اور عظیم نوازش کے طور پر ﴿ ذِكۡرًا ﴾ ’’ایک ذکر‘‘ اس سے مراد قرآن کریم ہے جس میں تمام گزرے ہوئے اور آنے والے واقعات کی خبر دی گئی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے کامل اسماء و صفات کا ذکر ہے اور اس میں احکام امرونہی اور احکام جزا کا تذکرہ ہے۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ قرآن کریم بہترین احکام پر مشتمل ہے۔ عقل اور فطرت سلیم ان احکام کے حسن و کمال کی گواہی دیتی ہیں اور قرآن کریم آگاہ کرتا ہے کہ ان احکام میں کیا کیا مصالح پنہاں ہیں ، اس لیے جب قرآن کریم رسول اللہﷺ اور آپ کی امت کے لیے تذکرہ ہے تب اس کو قبول کرنا، اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنا، اس کی اطاعت کرنا، اس کی روشنی میں صراط مستقیم پر گامزن ہونا اور اس کی تعلیم و تعلم واجب ہے۔

[100] اور اس سے روگردانی کے ساتھ پیش آنا یا اس کے ساتھ ایسا سلوک کرنا جو اس سے بھی زیادہ عمومیت کا حامل ہو، جیسے اس کی باتوں کا انکار کرنا۔ تو یہ اس نعمت کی ناشکری ہے اور جو کوئی اس ناشکری کا ارتکاب کرتا ہے وہ سزا کا مستحق ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡهُ﴾ جس نے اس سے روگردانی کی اور اس پر ایمان نہ لایا یا اس کے اوامر و نواہی کو حقیر سمجھا یا اس نے اس کے معانی کے تعلم کا تمسخر اڑایا تو یہ شخص ﴿ فَاِنَّهٗ يَحۡمِلُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وِزۡرًؔا﴾ قیامت کے روز اپنے گناہ کا بوجھ اٹھائے گا جس کے سبب سے اس نے قرآن سے روگردانی کی۔ سب سے بڑا گناہ تو کفر اور قرآن کو چھوڑنا ہے۔

[101]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهِ﴾ یعنی وہ اپنے گناہ کے بوجھ اٹھانے کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے کیونکہ (برے) اعمال ہی درحقیقت عذاب ہیں ۔ یہ اعمال بد صغیرہ یا کبیرہ ہونے کے مطابق، ارتکاب کرنے والوں کے لیے عذاب میں بدل جاتے ہیں ۔ ﴿ وَسَآءَؔ لَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ حِمۡلًا﴾ یعنی بہت برا بوجھ ہے جو وہ اٹھائیں گے اور بہت برا عذاب ہے جو انھیں قیامت کے روز بھگتنا ہو گا۔

پھر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے قیامت کے دن کے احوال اور اس کی ہولناکیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

20:102–104Page 319

يَوۡمَ يُنفَخُ فِي ٱلصُّورِۚ وَنَحۡشُرُ ٱلۡمُجۡرِمِينَ يَوۡمَئِذٖ زُرۡقٗا ١٠٢

The Day the Horn will be blown. And We will gather the criminals, that Day, blue-eyed.1

يَتَخَٰفَتُونَ بَيۡنَهُمۡ إِن لَّبِثۡتُمۡ إِلَّا عَشۡرٗا ١٠٣

They will murmur among themselves, "You remained not but ten [days in the world]."

نَّحۡنُ أَعۡلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذۡ يَقُولُ أَمۡثَلُهُمۡ طَرِيقَةً إِن لَّبِثۡتُمۡ إِلَّا يَوۡمٗا ١٠٤

We are most knowing of what they say when the best of them in manner [i.e., wisdom or speech] will say, "You remained not but one day."

جس دن پھونک ماری جائے گی صور میں اورہم اکٹھا کریں گے اس دن مجرموں کو درآنحالیکہ وہ نیلی آنکھوں والے ہوں گے (102) چپکے چپکے کہتے ہوں گے وہ آپس میں (یہ کہ) نہیں ٹھہرے تم (دنیا میں ) مگر صرف دس دن (103) ہم خوب جانتے ہیں اس کو جو کچھ وہ کہیں گے، جس وقت کہے گا بہترین ان کا باعتبار رائے کے کہ نہیں ٹھہرے تم مگر ایک ہی دن (104)

[104-102] یعنی جب صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگ اپنے اپنے حسب حال اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، اہل تقویٰ وفد کی صورت میں رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور مجرم اس حال میں اکٹھے کیے جائیں گے کہ خوف، غم اور سخت پیاس کے مارے ان کا رنگ نیلا پڑ گیا ہو گا تو وہ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کریں گے اور نہایت پست آواز میں دنیا کی مدت کے کم ہونے اور آخرت کے جلد آ جانے کے بارے میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں گے۔ ان میں سے کچھ لوگ کہیں گے کہ تم لوگ بس دس دن دنیا میں رہے ہو اور بعض دوسرے لوگ کچھ اور کہیں گے۔ پست آواز میں وہ جو سرگوشیاں کر رہے ہوں گے اللہ انھیں جانتا ہو گا اور وہ جو باتیں کر رہے ہوں گے وہ انھیں سنتا ہو گا ﴿ اِذۡ يَقُوۡلُ اَمۡثَلُهُمۡ طَرِيۡقَةً ﴾ یعنی ان میں سے سب سے زیادہ معتدل اور اندازے کے سب سے زیادہ قریب شخص کہے گا: ﴿ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا يَوۡمًا ﴾ تم صرف ایک دن دنیا میں رہے ہو۔ اس سے ان کا مقصد بہت بڑی ندامت اور پشیمانی کا اظہار ہے کہ انھوں نے اوقات قصیرہ کیسے ضائع کر دیے اور غفلت اور لہو و لعب میں ڈوب کر فائدہ مند اعمال سے اعراض کرتے ہوئے اور نقصان دہ اعمال میں پڑ کر ان اوقات کو گزار دیا۔ اب جزا کا وقت آ گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہوا اور اب ندامت ہلاکت اور موت کی دعا کے سوا کچھ باقی نہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿قٰلَ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ۰۰قٰلَ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾(المؤمنون:23؍112-114) ’’اللہ پوچھے گا تم زمین میں کتنے سال رہے ہو؟ وہ جواب دیں گے کہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے ہیں ، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیے! فرمایا تم زمین میں بہت تھوڑا ٹھہرے ہو، کاش تم نے اس وقت جانا ہوتا۔‘‘

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском