As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
الحج
Al-Hajj
The Pilgrimage · Medinan · 78 ayahs
22:1–2Page 332
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمۡۚ إِنَّ زَلۡزَلَةَ ٱلسَّاعَةِ شَيۡءٌ عَظِيمٞ ١
O mankind, fear your Lord. Indeed, the convulsion of the [final] Hour is a terrible thing.
يَوۡمَ تَرَوۡنَهَا تَذۡهَلُ كُلُّ مُرۡضِعَةٍ عَمَّآ أَرۡضَعَتۡ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمۡلٍ حَمۡلَهَا وَتَرَى ٱلنَّاسَ سُكَٰرَىٰ وَمَا هُم بِسُكَٰرَىٰ وَلَٰكِنَّ عَذَابَ ٱللَّهِ شَدِيدٞ ٢
On the Day you see it every nursing mother will be distracted from that [child] she was nursing, and every pregnant woman will abort her pregnancy, and you will see the people [appearing] intoxicated while they are not intoxicated; but the punishment of Allāh is severe.
اے لوگو! ڈرو تم اپنے رب سے، بے شک زلزلہ قیامت کا ایک چیز ہے بہت بڑی (1) جس دن تم دیکھو گے اسے، غافل ہو جائے گی ہر دودھ پلانے والی اس سے جسے اس نے دودھ پلایا تھااورڈال دے گی ہر حمل والی اپنا حمل اور دیکھیں گے آپ لوگوں کو نشے میں (مدہوش) حالانکہ نہیں ہوں گے وہ نشے میں لیکن عذاب اللہ کا شدید ہوگا(2)
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ وہ اپنے رب سے ڈریں جس نے ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے ان کی پرورش کی، اس لیے ان کے لائق یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں ، شرک، فسق اور نافرمانی کو ترک کر دیں اور جہاں تک استطاعت ہو، اس کے احکام پر عمل کریں ، پھر ان امور کا ذکر فرمایا جو تقویٰ اختیار کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں اور ان لوگوں کو ڈراتے ہیں جو تقویٰ کو ترک کر دیتے ہیں اور وہ ہے قیامت کی ہولناکیوں کی خبر دینا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ زَلۡزَلَةَ السَّاعَةِ شَيۡءٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک قیامت کا بھونچال، بہت بڑی چیز ہے۔‘‘ کوئی اس کا اندازہ کر سکتا ہے نہ اس کی کنہ کو پہنچ سکتا ہے۔ جب قیامت واقع ہو گی تو زمین کو نہایت شدت سے ہلا دیا جائے گا، زمین میں زلزلہ آ جائے گا، پہاڑ پھٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور بڑے بڑے ہولناک ٹیلوں کی شکل اختیار کر لیں گے، پھر غبار بن کر اڑ جائیں گے، پھر لوگ تین اقسام میں منقسم ہو جائیں گے۔ آسمان پھٹ جائے گا، سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے، ستارے بکھر جائیں گے، ایسے خوفناک زلزلے آئیں گے کہ خوف کے مارے دل پھٹ جائیں گے، خوف سے بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے اور بڑی بڑی سخت چٹانیں پگھل جائیں گی۔
[2] اس لیے فرمایا: ﴿ يَوۡمَ تَرَوۡنَهَا تَذۡهَلُ كُلُّ مُرۡضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرۡضَعَتۡ ﴾ ’’جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پلاتے بچے کو بھول جائے گی۔‘‘ حالانکہ دودھ پلانے والی ماں کی جبلت میں اپنے بچے کی محبت رچی بسی ہوتی ہے، خاص طور پر اس حال میں جبکہ بچہ ماں کے بغیر زندہ نہ رہ سکتا ہو۔ ﴿وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمۡلٍ حَمۡلَهَا﴾ یعنی شدت ہول اور سخت گھبراہٹ کے عالم میں ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی۔ ﴿ وَتَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَمَا هُمۡ بِسُكٰرٰى ﴾ یعنی اے دیکھنے والو! تم سمجھو گے کہ لوگ شراب کے نشہ میں مدہوش ہیں ، حالانکہ وہ شراب نوشی کی وجہ سے مدہوش نہ ہوں گے ﴿ وَلٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِيۡدٌ ﴾ ’’بلکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہی بڑا سخت ہو گا‘‘ جس کی وجہ سے عقل ماری جائے گی، دل خالی ہو کر گھبراہٹ اور خوف سے لبریز ہو جائیں گے، دل اچھل کر حلق میں اٹک جائیں گے اور آنکھیں خوف سے کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ اس روز کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ دے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے بدلہ دینے والا ہو گا۔ ﴿ يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ۰۰لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِؕ۰۰﴾(عبس:80؍34-37) ’’اس روز بھائی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، اپنی ماں اور باپ سے، اپنی بیوی اور بیٹوں سے، اس روز ہر شخص ایک فکر میں مبتلا ہو گا جو اس کو دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گی۔‘‘ وہاں ﴿يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا ﴾(الفرقان:25؍27۔28) ’’ظالم مارے پشیمانی اور حسرت کے اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا اور پکار اٹھے گا، اے کاش میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری کم بختی! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ اس وقت کچھ چہرے سیاہ پڑ جائیں گے اور کچھ چہرے روشن ہوں گے۔ ترازوئیں نصب کر دی جائیں گی جن میں ذرہ بھر نیکی اور بدی کا بھی وزن کیا جا سکے گا۔ اعمال نامے پھیلا دیے جائیں گے اور ان کے اندر درج كيے ہوئے تمام اعمال، اقوال اور نیتیں ، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، سامنے ہوں گے اور جہنم کے اوپر پل صراط کو نصب کر دیا جائے گا۔ جنت اہل تقویٰ کے قریب کر دی جائے گی اور جہنم کو گمراہ لوگوں کے سامنے کر دیا جائے گا ﴿اِذَا رَاَتۡهُمۡ مِّنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ سَمِعُوۡا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيۡرًا۰۰وَاِذَاۤ اُلۡقُوۡا مِنۡهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيۡنَ دَعَوۡا هُنَالِكَ ثُبُوۡرًا﴾(الفرقان:25؍12۔13) ’’جب وہ جہنم کو دور سے دیکھیں گے تو اس کی غضبناک آواز اور اس کی پھنکار سنیں گے اور جب ان کو جکڑ کر جہنم کی کسی تنگ جگہ میں پھینک دیا جائے گا تو وہاں اپنی موت کو پکارنے لگیں گے‘‘ ان سے کہا جائے گا ﴿لَا تَدۡعُوا الۡيَوۡمَ ثُبُوۡرًا وَّاحِدًا وَّادۡعُوۡا ثُبُوۡرًا كَثِيۡرًا ﴾(الفرقان:25؍14) ’’آج ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کا پکارو۔‘‘ اور جب وہ اپنے رب کو پکاریں گے کہ وہ ان کو وہاں سے نکالے تو رب تعالیٰ فرمائے گا۔ ﴿اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾(المؤمنون:23؍108) ’’دفع ہو جاؤ میرے سامنے سے پڑے رہو جہنم میں اور میرے ساتھ کلام نہ کرو‘‘ رب رحیم کا غضب ان پر بھڑک اٹھے گا اور وہ ان کو دردناک عذاب میں ڈال دے گا، وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور وہ اپنے تمام اعمال کو موجود پائیں گے اور کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی مفقود نہیں ہو گا۔ یہ تو ہو گا کفار کا حال اور متقین کو جنت کے باغات میں خوش آمدید کہا جائے گا۔ وہ انواع و اقسام کی لذتوں سے لطف اندوز ہوں گے، جہاں جی چاہے گا وہاں ہمیشہ رہیں گے۔پس عقل مند شخص، جو جانتا ہے کہ یہ سب کچھ پیش آنے والا ہے تو اس کے لائق یہی ہے کہ وہ اس کے لیے تیاری کر رکھے، مہلت اسے غفلت میں مبتلا نہ کر دے کہ وہ عمل کو چھوڑ بیٹھے۔ تقویٰ الٰہی اس کا شعار، خوف الٰہی اس کا سرمایہ اور اللہ کی محبت اور اس کا ذکر اس کے اعمال کی روح ہو۔
22:3–4Page 332
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُجَٰدِلُ فِي ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَيَتَّبِعُ كُلَّ شَيۡطَٰنٖ مَّرِيدٖ ٣
And of the people is he who disputes about Allāh without knowledge and follows every rebellious devil.
كُتِبَ عَلَيۡهِ أَنَّهُۥ مَن تَوَلَّاهُ فَأَنَّهُۥ يُضِلُّهُۥ وَيَهۡدِيهِ إِلَىٰ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ ٤
It has been decreed for him [i.e., every devil] that whoever turns to him - he will misguide him and will lead him to the punishment of the Blaze.
اور کچھ لوگ وہ ہیں جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کی بابت بغیر علم کےاور اتباع کرتے ہیں وہ ہر شیطان سرکش کا (3) لکھ دیا گیا ہے اس کی بابت کو بے شک جو کوئی دوستی کرے گا اس سے تو بے شک وہ گمراہ کر دے گا اس کواور راہنمائی کرے گا اس کی طرف عذاب جہنم کی (4)
[4,3] یعنی لوگوں میں ایک گروہ ایسا ہے جو گمراہی کے راستے پر گامزن ہے، وہ باطل دلائل کے ساتھ حق سے جھگڑتے ہیں ، وہ باطل کو حق اور حق کو باطل ثابت کرنا چاہتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ جہالت کی انتہاء کو پہنچے ہوئے ہیں ، ان کے پاس کچھ بھی علم نہیں ۔ ان کے علم کی انتہا یہ ہے کہ وہ ائمہ ضلال اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے چلتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ عناد رکھتا ہے، ان کے خلاف سرکشی کرتا ہے۔ وہ اللہ اور رسول کی مخالفت کر کے ائمہ ضلال میں شامل ہو جاتا ہے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ كُتِبَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’لکھ دیا گیا ہے اس پر۔‘‘ یعنی اس سرکش شیطان کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے ﴿ اَنَّهٗ مَنۡ تَوَلَّاهُ ﴾ کہ جو اس کی پیروی کرے گا ﴿ فَاَنَّهٗ يُضِلُّهٗ ﴾ وہ اسے حق سے دور اور راہ راست سے بھٹکا دے گا ﴿ وَيَهۡدِيۡهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيۡرِ﴾ اور اسے جہنم کا راستہ دکھائے گا اور یہ یقینا ابلیس کا نائب ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر:35؍6) ’’وہ اپنے پیروکاروں کو صرف اس لیے اپنی راہ پر بلا رہا ہے تاکہ وہ بھی جہنمیوں میں شامل ہو جائیں ۔‘‘ یہی وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑتا ہے، خود اپنے آپ کو بھی گمراہ کرتا ہے اور لوگوں کو بھی گمراہ کرنے کے درپے ہوتا ہے اور یہی وہ شخص ہے جو ہر سرکش شیطان کا مقلد ہے… اندھیرے ایک سے ایک بڑھ کر ہیں ۔ اس گروہ میں اہل کفر اور اہل بدعت کی اکثریت شامل ہے کیونکہ ان کی اکثریت مقلدین پر مشتمل ہے جو بغیر علم کے جھگڑتی ہے۔
22:5–7Page 332
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِن كُنتُمۡ فِي رَيۡبٖ مِّنَ ٱلۡبَعۡثِ فَإِنَّا خَلَقۡنَٰكُم مِّن تُرَابٖ ثُمَّ مِن نُّطۡفَةٖ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَةٖ ثُمَّ مِن مُّضۡغَةٖ مُّخَلَّقَةٖ وَغَيۡرِ مُخَلَّقَةٖ لِّنُبَيِّنَ لَكُمۡۚ وَنُقِرُّ فِي ٱلۡأَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى ثُمَّ نُخۡرِجُكُمۡ طِفۡلٗا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوٓاْ أَشُدَّكُمۡۖ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰٓ أَرۡذَلِ ٱلۡعُمُرِ لِكَيۡلَا يَعۡلَمَ مِنۢ بَعۡدِ عِلۡمٖ شَيۡـٔٗاۚ وَتَرَى ٱلۡأَرۡضَ هَامِدَةٗ فَإِذَآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡهَا ٱلۡمَآءَ ٱهۡتَزَّتۡ وَرَبَتۡ وَأَنۢبَتَتۡ مِن كُلِّ زَوۡجِۭ بَهِيجٖ ٥
O people, if you should be in doubt about the Resurrection, then [consider that] indeed, We created you from dust, then from a sperm-drop, then from a clinging clot, and then from a lump of flesh, formed and unformed1 - that We may show you.2 And We settle in the wombs whom We will for a specified term, then We bring you out as a child, and then [We develop you] that you may reach your [time of] maturity. And among you is he who is taken in [early] death, and among you is he who is returned to the most decrepit [old] age so that he knows, after [once having] knowledge, nothing. And you see the earth barren, but when We send down upon it rain, it quivers and swells and grows [something] of every beautiful kind.
ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡحَقُّ وَأَنَّهُۥ يُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَأَنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ٦
That is because Allāh is the True Reality and because He gives life to the dead and because He is over all things competent
وَأَنَّ ٱلسَّاعَةَ ءَاتِيَةٞ لَّا رَيۡبَ فِيهَا وَأَنَّ ٱللَّهَ يَبۡعَثُ مَن فِي ٱلۡقُبُورِ ٧
And [that they may know] that the Hour is coming - no doubt about it - and that Allāh will resurrect those in the graves.
اے لوگو! اگر ہو تم شک میں دوبارہ جی اٹھنے سے تو بلاشبہ ہم ہی نے پیدا کیا تمھیں مٹی سے، پھر نطفے سے، پھر جمے ہوئے خون سے، پھر گوشت کے لوتھڑے سے، جو واضح شکل و صورت والا اور غیر واضح (ادھوری) شکل و صورت والا ہے تاکہ ہم بیان کریں تمھارے لیے اور ہم ٹھہراتے ہیں رحموں میں ، جس (نطفے) کو ہم چاہتے ہیں ایک وقت مقرر تک ، پھر نکالتے ہیں ہم تمھیں (مکمل) بچہ (بنا کر) ، پھر (عمر دیتے ہیں ) تاکہ تم پہنچو اپنی جوانی کواور بعض تم میں سے ہیں جو فوت کیے جاتے ہیں اور بعض تم میں سے ہیں جو لاٹائے جاتے ہیں طرف ناکارہ عمر کی تاکہ نہ جانے وہ بعد جاننے کے کچھ بھی اور دیکھتے ہیں آپ زمین کو خشک (مردہ و بے آباد) ، پھر جب اتارتے ہیں ہم اس پر پانی (بارش) تو وہ لہلہاتی ہے اور ابھرتی ہے اور وہ اگاتی ہے ہر قسم کی خوش نما چیزیں (5) یہ بسبب اس کے ہے کہ بے شک اللہ ہی حق ہےاور (یہ کہ) بلاشبہ وہی زندہ کرتا ہے مردوں کواور یہ کہ بے شک وہی اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے (6) اور یہ کہ بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، نہیں کوئی شک اس میں اور یہ کہ بے شک اللہ دوبارہ اٹھائے گا ان کو جو قبروں میں ہیں (7)
[5] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنۡ كُنۡتُمۡ فِيۡ رَيۡبٍ مِّنَ الۡبَعۡثِ ﴾ یعنی اگر تم کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو اور قیامت کے وقوع کے بارے میں تمھیں کوئی علم نہیں جبکہ تم پر لازم ہے کہ تم اس بارے میں اپنے رب اور اس کے رسولوں کی تصدیق کرو لیکن اگر تم شک كيے بغیر نہ رہ سکو تو تمھارے سامنے یہ دو عقلی دلائل ہیں جن میں سے ہر ایک کا تم مشاہدہ کرتے ہو۔ جس بارے میں تم شک کرتے ہو اس پر قطعی دلالت کرتے ہیں اور تمھارے دلوں میں شک کو زائل کرتے ہیں :پہلی دلیل: انسان کی تخلیق کی ابتداء سے استدلال ہے، یعنی وہ ہستی جس نے ابتداء میں اس کو پیدا کیا ہے وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گی، چنانچہ فرمایا:﴿ فَاِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ﴾ ’’ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ اور یہ اس طرح کہ اس نے ابوالبشر آدم u کو مٹی سے پیدا کیا ﴿ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾ یعنی منی سے پیدا کیا۔ یہ انسان کی تخلیق کا اولین مرحلہ ہے ﴿ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَةٍ ﴾ ’’پھر گاڑھے خون سے۔‘‘ یعنی پھر یہ نطفہ اللہ کے حکم سے سرخ خون میں بدل جاتا ہے۔ ﴿ ثُمَّ مِنۡ مُّضۡغَةٍ ﴾ ’’پھر لوتھڑے سے۔‘‘ یعنی پھر وہ گاڑھا خون لوتھڑے یعنی بوٹی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اور یہ بوٹی کبھی تو ﴿ مُّخَلَّقَةٍ ﴾ اس سے آدمی کی تصویر بن جاتی ہے۔ ﴿ وَّغَيۡرِ مُخَلَّقَةٍ ﴾ ’’اور بے تصویر‘‘ یعنی کبھی اس کی تخلیق سے قبل ہی رحم سے اس کا اسقاط ہو جاتا ہے۔ ﴿ لِّنُبَيِّنَ لَكُمۡ ﴾’’تاکہ ہم تمھارے سامنے تمھاری اصل تخلیق کو واضح کریں ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ایک لمحہ میں اس کی تخلیق کی تکمیل کر سکتا ہے مگر وہ ہمارے سامنے اپنی کامل حکمت، عظیم قدرت اور بے پایاں رحمت کا اظہار کرتا ہے۔﴿ وَنُقِرُّ فِي الۡاَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ یعنی اگر اسقاط نہ ہو تو اسے جب تک ہم چاہتے ہیں رحم میں باقی رکھتے ہیں ، یعنی مدت حمل تک ﴿ ثُمَّ نُخۡرِجُكُمۡ ﴾ پھر ہم تمھیں تمھاری ماؤں کے رحموں سے باہر نکال لاتے ہیں ﴿ طِفۡلًا ﴾’’بچے کی صورت میں ‘‘ اس وقت تمھیں کسی بات کا علم ہوتا ہے نہ کسی چیز کی قدرت اور تمھاری ماؤں کو تمھارے لیے مسخر کر دیتے اور اس کی چھاتی میں سے تمھارے لیے رزق جاری کر دیتے ہیں پھر تم ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے ہو حتیٰ کہ تم اپنی بلوغت کی عمر کو پہنچ جاتے ہو اور یہ مکمل قوت اور عقل کی عمر ہے۔﴿ وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّتَوَفّٰى ﴾ اور تم میں کچھ بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے پہلے فوت ہو جاتے ہیں اور کچھ اس سے آگے گزر کر رذیل ترین یعنی خسیس ترین عمر کو پہنچ جاتا ہے اور یہ وہ عمر ہے جب انسان نہايت کمزور ہو جاتا ہے، قویٰ فاسد ہو جاتے ہیں ، عقل بھی اسی طرح مضمحل ہو کر زائل ہو جاتی ہے جس طرح دیگر قویٰ کمزور پڑ جاتے ہیں ۔ ﴿ لِكَيۡلَا يَعۡلَمَ مِنۢۡ بَعۡدِ عِلۡمٍ شَيۡـًٔؔا﴾ یعنی… تاکہ اس معمر شخص کو ان تمام چیزوں کا کچھ بھی علم نہ ہو جن کو وہ اس سے قبل جانتا تھا اور اس کا سبب اس کا ضعف عقل ہے۔پس انسان کی قوت دو قسم کے ضعفوں میں گھری ہوئی ہے۔۱۔ طفولیت کا ضعف اور اس کا نقص۔۲۔ بڑھاپے کا ضعف اور اس کا نقصجیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ ضُؔعۡفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢۡ بَعۡدِ ضُؔعۡفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنۢۡ بَعۡدِ قُوَّةٍ ضُؔعۡفًا وَّشَيۡبَةً١ؕ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ١ۚ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡقَدِيۡرُ﴾(الروم:30؍54) ’’اللہ ہی تو ہے جس نے تم کو کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد تمھیں قوت عطا کی پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وہ علم والا اور قدرت والا ہے۔‘‘ دوسری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا ہے چنانچہ فرمایا:﴿ وَتَرَى الۡاَرۡضَ هَامِدَةً ﴾ ’’اور تو دیکھتا ہے زمین کو بنجر۔‘‘ یعنی خشک، چٹیل اور بے آب و گیا ہ﴿ فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَؔ اهۡتَزَّتۡ ﴾ ’’پس جب ہم اس پر بارش نازل کرتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے۔‘‘ یعنی نباتات سے لہلہا اٹھتی ہے ﴿ وَرَبَتۡ ﴾ ’’اور پھولتی ہے۔‘‘ یعنی خشک ہونے کے بعد خوب سرسبز ہو کر بلند ہوتی ہے۔ ﴿ وَاَنۢۡـبَتَتۡ مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍۭ ﴾ یعنی زمین نباتات کی ہر صنف کو اگاتی ہے ﴿ بَهِيۡـجٍ ﴾ یعنی جو دیکھنے والوں کو خوش کرتی ہے۔
[7,6] یہ دو قطعی دلائل ہیں جو ان پانچ مقاصد پر دلالت کرتی ہیں ۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یہ سب کچھ یعنی آدمی کا اس طرح پیدا کرنا جو اللہ نے بیان کیا اور زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کرنا، اس لیے ہے کہ ﴿ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اللہ، وہی حق ہے۔‘‘ یعنی وہی رب معبود ہے اس کے سوا کوئی ہستی عبادت کے لائق نہیں ، اسی کی عبادت حق ہے اور اس کے سوا کسی دوسرے کی عبادت باطل ہے ﴿ وَاَنَّهٗ يُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ ’’اور وہ زندہ کرے گا مُردوں کو۔‘‘ جس طرح اس نے ابتداء تخلیق کی اور جس طرح اس نے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کیا ﴿ وَاَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾’’بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ جیسا کہ اس نے اپنی بدیع قدرت اور عظیم صنعت کا تمھیں مشاہدہ کروایا۔﴿ وَّاَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ لَّا رَيۡبَ فِيۡهَا ﴾ ’’اور بلاشبہ قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔‘‘ پس اس کو بعید سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ﴿وَاَنَّ اللّٰهَ يَبۡعَثُ مَنۡ فِي الۡقُبُوۡرِ ﴾ ’’اور اللہ ان کو دوباروہ اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں ۔‘‘ پھر تمھیں تمھارے تمام اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔
22:8–10Page 333
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُجَٰدِلُ فِي ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَلَا هُدٗى وَلَا كِتَٰبٖ مُّنِيرٖ ٨
And of the people is he who disputes about Allāh without knowledge or guidance or an enlightening book [from Him],
ثَانِيَ عِطۡفِهِۦ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۖ لَهُۥ فِي ٱلدُّنۡيَا خِزۡيٞۖ وَنُذِيقُهُۥ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ عَذَابَ ٱلۡحَرِيقِ ٩
Twisting his neck [in arrogance] to mislead [people] from the way of Allāh. For him in the world is disgrace, and We will make him taste on the Day of Resurrection the punishment of the Burning Fire [while it is said],
ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ يَدَاكَ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَيۡسَ بِظَلَّٰمٖ لِّلۡعَبِيدِ ١٠
"That is for what your hands have put forth and because Allāh is not ever unjust to [His] servants."
اور بعض لوگوں میں سے وہ ہے جو جھگڑا کرتا ہے اللہ کی بابت بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر کتاب روشن کے (8) درآنحالیکہ وہ موڑنے والا ہے اپنا پہلو تاکہ گمراہ کرے وہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، اس کے لیے دنیا میں رسوائی ہےاور ہم چکھائیں گے اسے دن قیامت کے عذاب جلانے والا (9) یہ بوجہ اس کے ہے جو آگے بھیجا تیرے دونوں ہاتھوں نےاور یہ کہ بلاشبہ اللہ نہیں ظلم کرنے والا (اپنے) بندوں پر (10)
[8] وہ جھگڑا جس کا ذکر گزشتہ سطور میں ہوا ، وہ مقلد کا جھگڑا تھا اور یہ جھگڑا سرکش شیطان کے ساتھ ہے جو لوگوں کو بدعات کی طرف دعوت دیتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا:﴿ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و رسل اور ان کے متبعین کے ساتھ باطل دلائل سے جھگڑتا ہے تاکہ حق کو نیچا دکھائے ﴿بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ بغیر کسی صحیح علم کے ﴿ وَّلَا هُدًى ﴾ وہ اپنے جھگڑے میں کسی ایسے شخص کی اتباع نہیں کرتا جو اس کی راہنمائی کرے، نہ عقل کے پیچھا لگتا ہے جو اس کو راہ راست پر رکھے اور نہ کسی مقتدا کی اقتداء کرتا ہے جو خود ہدایت یافتہ ہو۔ ﴿ وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ کسی روشن اور واضح کتاب کی پیروی کرتا ہے۔‘‘ لہٰذا اس کے پاس کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی دلیل، یہ محض شبہات ہیں جو شیطان اس کی طرف القاء کرتا ہے۔ ﴿وَاِنَّ الشَّيٰطِيۡنَ لَيُوۡحُوۡنَ اِلٰۤى اَوۡلِيِٰٕٓهِمۡ۠ لِيُجَادِلُوۡؔكُمۡ﴾(الانعام؍121) ’’اور شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں القاء کرتے ہیں تاکہ وہ تمھارے ساتھ جھگڑا کریں ۔‘‘
[9] اس کے ساتھ ساتھ ﴿ ثَانِيَ عِطۡفِهٖ﴾ وہ گردن اکڑائے، منہ موڑ کر چلتا ہے یہ حق کے بارے میں اس کے تکبر اور مخلوق کے ساتھ اس کے حقارت آمیز رویے کے لیے کنایہ ہے۔ پس وہ اسی پر فرحاں و شاداں ہے کہ اس کے پاس غیر نافع علم ہے اور وہ حق اور اہل حق کو حقیر گردانتا ہے۔ ﴿ لِيُضِلَّ ﴾ ’’تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے‘‘ یعنی گمراہی کے داعیوں میں اس کا شمار ہو۔ اس آیت کریمہ کے تحت تمام ائمہ کفروضلالت آ جاتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے دنیاوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَهٗ فِي الدُّنۡيَا خِزۡيٌ ﴾ یعنی وہ آخرت سے پہلے، اس دنیا ہی میں رسوا ہو گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک عجیب نشانی ہے۔ آپ داعیان کفر و ضلالت میں سے جس کو بھی دیکھیں وہ تمام لوگوں کی ناراضی، لعنت، بغض اور مذمت کا اسی طرح نشانہ ہوتا ہے جیسے وہ اس کا مستحق ہوتا ہے اور ہر شخص حسب حال جزا پاتا ہے۔ ﴿ وَّنُذِيۡقُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ﴾یعنی ہم اسے جہنم کی سخت گرمی اور اس کی بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ اور یہ سب کچھ اس کے ان کرتوتوں کی وجہ سے ہے جو اس نے آگے بھیجے۔[10]﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ دنیاوی اور اُخروی عذاب جس کا ذکر کیا گیا اور اس میں بعد کا جو معنی پایا جاتا ہے (اور وہ ہے (ذلک) کے اندر موجود لام کا معنی جو بُعد کی طرف اشارہ کے لیے وضع کیا گیا ہے) وہ اس امر پر دلیل ہے کہ کفار ہول اور قباحت کی انتہاء پر ہوں گے۔ ﴿ بِمَا قَدَّمَتۡ يَدٰؔكَ ﴾ یعنی اس سبب سے، جو تیرے ہاتھوں نے کفر اور معاصی کا اکتساب کیا ہے۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ لَيۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾ اور حقیقت امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کے پہلے گناہوں کے بغیر عذاب نہیں دے گا۔ اس کا اجمالی معنی یہ ہے کہ اس کافر کو، جو ان صفات سے متصف ہے جن کا ذکر مذکورہ دو آیتوں میں گزر چکا ہے، کہا جائے گا کہ یہ عذاب اور رسوائی جس کا تو سامنا کر رہا ہے تیری افترا پردازی اور تکبر کے سبب سے ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ عادل ہے ظلم نہیں کرتا وہ مومن اور کافر، نیک اور بد کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کرتا وہ ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دیتا ہے۔
22:11–13Page 333
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَعۡبُدُ ٱللَّهَ عَلَىٰ حَرۡفٖۖ فَإِنۡ أَصَابَهُۥ خَيۡرٌ ٱطۡمَأَنَّ بِهِۦۖ وَإِنۡ أَصَابَتۡهُ فِتۡنَةٌ ٱنقَلَبَ عَلَىٰ وَجۡهِهِۦ خَسِرَ ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةَۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡخُسۡرَانُ ٱلۡمُبِينُ ١١
And of the people is he who worships Allāh on an edge.1 If he is touched by good, he is reassured by it; but if he is struck by trial, he turns on his face [to unbelief]. He has lost [this] world and the Hereafter. That is what is the manifest loss.
يَدۡعُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُۥ وَمَا لَا يَنفَعُهُۥۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلضَّلَٰلُ ٱلۡبَعِيدُ ١٢
He invokes instead of Allāh that which neither harms him nor benefits him. That is what is the extreme error.
يَدۡعُواْ لَمَن ضَرُّهُۥٓ أَقۡرَبُ مِن نَّفۡعِهِۦۚ لَبِئۡسَ ٱلۡمَوۡلَىٰ وَلَبِئۡسَ ٱلۡعَشِيرُ ١٣
He invokes one whose harm is closer than his benefit - how wretched the protector and how wretched the associate.
اور بعض لوگوں میں سے وہ ہیں جو عبادت کرتے ہیں اللہ کی اوپر ایک کنارے کے ، پس اگر پہنچے اس کو بھلائی تو وہ مطمئن ہو جاتا ہے اس پراور اگر پہنچے اس کو کو ئی فتنہ (آزمائش) تو الٹا ، پھر جاتا ہے اوپر اپنے منہ کے،خسارہ اٹھایا اس نے دنیا اور آخرت میں ، یہی ہے وہ خسارہ صریح (11) وہ پکارتا ہے سوائے اللہ کے اس کو جو نہیں نقصان پہنچا سکتا اسے اور نہ وہ نفع دے سکتا ہے اسے، یہی ہے وہ گمراہی دور کی (12) وہ پکارتا ہے اس شخص کو کہ نقصان اس کا (یقینا) زیادہ قریب ہے اس کے نفع سے، البتہ برا ہے وہ کارساز اور البتہ برا ہے وہ ساتھی (13)
[11] یعنی لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو ضعیف الایمان ہے جس کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوا، ایمان کی بشاشت اس کے دل میں جاگزیں نہیں ہوئی۔ بلکہ وہ یا تو خوف سے ایمان لایا ہے یا محض عادت کی بنا پر اور وہ بھی اس طریقے سے کہ وہ سختیاں برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ ﴿ فَاِنۡ اَصَابَهٗ خَيۡرُنِ اطۡمَاَنَّ بِهٖ﴾ یعنی اگر اسے وافر رزق مل رہا ہے اور اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچتی تو وہ ایمان پر نہیں بلکہ پہنچنے والی بھلائی پر مطمئن ہوتا ہے… اور اللہ تعالیٰ بسا اوقات اسے عافیت میں رکھتا ہے اور اسے ایسے فتنوں میں مبتلا نہیں کرتا جو اسے اس کے دین سے پھیر دیں ۔ ﴿ وَاِنۡ اَصَابَتۡهُ فِتۡنَةٌ ﴾ اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کوئی محبوب چیز اس سے چھن جاتی ہے ﴿اِنۡقَلَبَ عَلٰى وَجۡهِهٖ﴾ ’’پھر جاتا ہے اپنے چہرے پر۔‘‘ یعنی اپنے دین سے پھر جاتا ہے۔ ﴿خَسِرَ الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةَ﴾ ’’خسارہ اٹھایا اس نے دنیا اور آخرت کا۔‘‘ دنیا میں خسارہ یہ ہے کہ جس امید پر وہ مرتد ہوا اور جس امید کو اس نے سرمایہ قرار دے رکھا تھا وہ پوری نہ ہوئی اور وہ عوض جس کے حاصل ہونے کا اسے یقین تھا حاصل نہ ہوا۔ پس اس کی کوشش ناکام ہوئی اور اسے صرف وہی کچھ حاصل ہوا جو اس کی قسمت میں لکھا ہوا تھا۔ رہا آخرت کا خسارہ تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو جس کی کشادگی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، اس پر حرام کر دیا اور وہ جہنم کا مستحق ہوا۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ اور یہ واضح اور کھلا خسارہ ہے۔
[13,12]﴿ يَدۡعُوۡا ﴾ ’’پکارتا ہے۔‘‘ یعنی یہ مرتد ﴿ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهٗ وَمَا لَا يَنۡفَعُهٗ﴾ اللہ کے سوا ایسی ہستیوں کو، جو اسے کوئی نقصان دے سکتی ہیں نہ نفع۔ یہ ہر اس معبود باطل کی صفت ہے، جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ معبود باطل اپنے لیے یا کسی اور کے لیے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الۡبَعِيۡدُ﴾ یہ گمراہی بعد میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہے کیونکہ اس نے اس ہستی کی عبادت سے روگردانی کی جس کے قبضۂ قدرت میں نفع و نقصان ہے، جو خود بے نیاز ہے اور بے نیاز کرنے والی ہے… اور اپنے جیسی یا اپنے سے بھی کمتر ہستی کے سامنے سربسجود ہوا جس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے مقصد کی ضد کے حصول کے زیادہ قریب ہے، اس لیے فرمایا:﴿ يَدۡعُوۡا لَمَنۡ ضَرُّهٗۤ اَقۡرَبُ مِنۡ نَّفۡعِهٖ ﴾ ’’ وہ اسے پکارتے ہیں جس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے۔‘‘ اس لیے کہ اس کا نقصان عقل، بدن، دنیا اور آخرت میں ہے ﴿ لَبِئۡسَ الۡمَوۡلٰى ﴾ ’’البتہ برا ہے والی۔‘‘ یعنی یہ معبود باطل ﴿ وَلَبِئۡسَ الۡعَشِيۡرُ﴾ یعنی بہت برا ہم نشین ہے جس کی صحبت کو اس نے لازم پکڑ رکھا ہے کیونکہ دوست اور ہم نشین سے حصول نفع اور دفع ضرر مقصود ہوتا ہے۔ اگر اس میں اسے کچھ بھی حاصل نہ ہو تو وہ قابل مذمت اور قابل ملامت ہے۔
22:14Page 333
إِنَّ ٱللَّهَ يُدۡخِلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَفۡعَلُ مَا يُرِيدُ ١٤
Indeed, Allāh will admit those who believe and do righteous deeds to gardens beneath which rivers flow. Indeed, Allāh does what He intends.
بے شک اللہ داخل کرے گا ان لوگوں کو، جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ایسے باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، بے شک اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے (14)
[14] جب اللہ تعالیٰ نے باطل دلیلوں سے جھگڑنے والے کا ذکر فرمایا اور یہ بھی بتایا کہ ایسے لوگ دو اقسام میں منقسم ہیں ، ایک مقلدین اور دوسرے اپنی بدعات کی طرف دعوت دینے والے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بھی دو اقسام ذکر فرمائیں جو اپنے آپ کو ایمان سے منسوب کرتے ہیں ۔ پہلی قسم ان لوگوں کی جن کے دلوں میں ابھی ایمان داخل نہیں ہوا جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا اور دوسری قسم ان لوگوں کی جو حقیقی مومن ہیں جنھوں نے اعمال صالحہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی۔ پس ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ جنت کو ’’جنت‘‘ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ یہ خوبصورت منازل، محلوں ، درختوں اور نباتات پر مشتمل ہے یہ درخت اور نباتات اپنی کثرت کے باعث ان لوگوں کو ڈھانپ لیں گے اور ان پر سایہ کناں ہوں گے جو اس میں داخل ہوں گے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَفۡعَلُ مَا يُرِيۡدُ﴾ پس اللہ تعالیٰ جو بھی ارادہ کرتا ہے اسے بغیر کسی مانع اور معارض کے، کر گزرتا ہے۔ اس کا ایک ارادہ یہ ہے کہ وہ جنت کو اہل جنت میں داخل کرے گا… اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم اور احسان سے ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے۔
22:15Page 333
مَن كَانَ يَظُنُّ أَن لَّن يَنصُرَهُ ٱللَّهُ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ فَلۡيَمۡدُدۡ بِسَبَبٍ إِلَى ٱلسَّمَآءِ ثُمَّ لۡيَقۡطَعۡ فَلۡيَنظُرۡ هَلۡ يُذۡهِبَنَّ كَيۡدُهُۥ مَا يَغِيظُ ١٥
Whoever should think that Allāh will not support him [i.e., Prophet Muḥammad (ﷺ)] in this world and the Hereafter - let him extend a rope to the ceiling, then cut off [his breath],1 and let him see: will his effort remove that which enrages [him]?
جو شخص گمان کرتا ہے یہ کہ ہرگز نہیں مدد کرے گا اللہ اس (رسول) کی دنیا اور آخرت میں تو چاہیے کہ وہ دراز کرے ایک رسی آسمان تک ، پھر چاہیے کہ کاٹ دے (اسے) ، پھرچاہیے کہ وہ دیکھے کیا لے جاتی ہے تدبیر اس کی ، اس کے غصے کو؟ (15)
[15] یعنی جو کوئی یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ) کی مدد نہیں کرے گا اور اس کا دین عنقریب ختم ہو جائے گا تو بلاشبہ مدد اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ ﴿ فَلۡيَمۡدُدۡ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لۡيَقۡطَعۡ ﴾ ’’پس وہ آسمان کی طرف رسی دراز کرے، پھر کاٹ دے۔‘‘ رسول اللہﷺ سے اس مدد کو منقطع کر دکھائے۔ ﴿ فَلۡيَنۡظُرۡ هَلۡ يُذۡهِبَنَّ كَيۡدُهٗ ﴾ یعنی وہ کیا چیز ہے جس کے ذریعے سے وہ رسول اللہﷺ کے خلاف چال چل سکتا ہے، آپﷺ کے خلاف جنگ برپا کر سکتا ہے، جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے ابطال کی خواہش رکھتا ہے وہ کیا چیز ہے جو دین کے ظہور پر اسے غیظ و غضب میں مبتلا کرتی ہے… یہ استفہام نفی کے معنی میں ہے یعنی وہ ان اسباب کے ذریعے اپنے غیظ و غضب کو ٹھنڈا نہیں کر سکتا۔ اس آیت مقدسہ کا معنیٰ یہ ہے، اے وہ شخص! جو محمد رسول اللہﷺ سے عداوت رکھتا ہے، جو آپﷺ کے دین کو مٹانے میں کوشاں ہے، جو اپنی جہالت کی بنا پر سمجھتا ہے کہ اس کی کوشش رنگ لائے گی، تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ تو جو بھی اسباب اختیار کر لے، رسول (ﷺ) کے خلاف کوئی بھی چال چل لے، اس سے تیرا غیظ و غضب اور تیرے دل کی بیماری کو شفا حاصل نہیں ہو گی۔ اس پر تجھے کوئی قدرت حاصل نہیں البتہ ہم تجھے ایک مشورہ دیتے ہیں جس سے تو اپنے دل کی آگ کو ٹھنڈا کر سکتا ہے اور اگر یہ ممکن ہے کہ تو رسول (ﷺ) سے اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کو منقطع کر سکتا ہے تو معاملے میں صحیح راستے سے داخل ہو اور درست اسباب اختیار کر اور وہ یہ کہ کھجور وغیرہ کی چھال سے بٹی ہوئی رسی لے، پھر اسے آسمان پر لٹکا کر آسمان پر چڑھ جا اور ان دروازوں تک پہنچ جا جہاں سے اللہ تعالیٰ کی نصرت نازل ہوتی ہے اور ان دروازوں کو بند کر کے اللہ تعالیٰ کی مدد منقطع کر دے۔ اس طریقے سے تیرے غیظ و غضب کو شفا حاصل ہو گی… بس یہ تجویز اور چال ہے اس طریقے کے علاوہ تیرے دل میں بھی یہ بات نہیں آنی چاہیے کہ تو اپنے غیظ و عضب سے چھٹکارا پا سکتا ہے خواہ مخلوق تیری مدد کے لیے کمر کیوں نہ باندھ لے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے دین، اپنے رسول اور اپنے مومن بندوں کے لیے فتح و نصرت کا جو وعدہ اور خوشخبری ہے، وہ مخفی نہیں اور کفار کے لیے مایوسی ہے جو اللہ تعالیٰ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ کفار کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے اور خواہ وہ اس نور کو بجھانے کی امکان بھر کوشش کیوں نہ کر لیں ۔
22:16Page 334
وَكَذَٰلِكَ أَنزَلۡنَٰهُ ءَايَٰتِۭ بَيِّنَٰتٖ وَأَنَّ ٱللَّهَ يَهۡدِي مَن يُرِيدُ ١٦
And thus have We sent it [i.e., the Qur’ān] down as verses of clear evidence and because Allāh guides whom He intends.
اور اسی طرح نازل کیا ہم نے اس (قرآن) کو آیات واضحہ (کی صورت میں ) اور بے شک اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے (16)
[16] یعنی اسی طرح جب ہم نے اس قرآن عظیم میں تفاصیل بیان کی تو ہم نے اس کو آیات بینات بنایا جو تمام مطالب اور مسائل نافعہ پر دلالت کرتی ہیں لیکن ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ جس کی ہدایت کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ اس قرآن کے ذریعے سے ہدایت پالیتا ہے، وہ قرآن کو اپنا راہنما اور مقتدا بنا لیتا ہے اور قرآن کے نور سے روشنی حاصل کرتا ہے۔ اور جس کی ہدایت اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا اس کے پاس خواہ ہر قسم کی نشانی کیوں نہ آ جائے وہ کبھی ایمان نہیں لاتا، قرآن اسے کوئی فائدہ نہیں دیتا بلکہ قرآن اس کے خلاف حجت بنے گا۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences