As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Al-Mu'minun 23:101–118
23:101–114Page 348
فَإِذَا نُفِخَ فِي ٱلصُّورِ فَلَآ أَنسَابَ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَئِذٖ وَلَا يَتَسَآءَلُونَ ١٠١
So when the Horn is blown, no relationship will there be among them that Day, nor will they ask about one another.
فَمَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ١٠٢
And those whose scales are heavy [with good deeds] - it is they who are the successful.
وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ فِي جَهَنَّمَ خَٰلِدُونَ ١٠٣
But those whose scales are light - those are the ones who have lost their souls, [being] in Hell, abiding eternally.
تَلۡفَحُ وُجُوهَهُمُ ٱلنَّارُ وَهُمۡ فِيهَا كَٰلِحُونَ ١٠٤
The Fire will sear their faces, and they therein will have taut smiles.1
أَلَمۡ تَكُنۡ ءَايَٰتِي تُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡ فَكُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ ١٠٥
[It will be said], "Were not My verses recited to you and you used to deny them?"
قَالُواْ رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَيۡنَا شِقۡوَتُنَا وَكُنَّا قَوۡمٗا ضَآلِّينَ ١٠٦
They will say, "Our Lord, our wretchedness overcame us, and we were a people astray.
رَبَّنَآ أَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَإِنۡ عُدۡنَا فَإِنَّا ظَٰلِمُونَ ١٠٧
Our Lord, remove us from it, and if we were to return [to evil], we would indeed be wrongdoers."
قَالَ ٱخۡسَـُٔواْ فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ ١٠٨
He will say, "Remain despised therein and do not speak to Me.
إِنَّهُۥ كَانَ فَرِيقٞ مِّنۡ عِبَادِي يَقُولُونَ رَبَّنَآ ءَامَنَّا فَٱغۡفِرۡ لَنَا وَٱرۡحَمۡنَا وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلرَّٰحِمِينَ ١٠٩
Indeed, there was a party of My servants who said, 'Our Lord, we have believed, so forgive us and have mercy upon us, and You are the best of the merciful.'
فَٱتَّخَذۡتُمُوهُمۡ سِخۡرِيًّا حَتَّىٰٓ أَنسَوۡكُمۡ ذِكۡرِي وَكُنتُم مِّنۡهُمۡ تَضۡحَكُونَ ١١٠
But you took them in mockery to the point that they made you forget My remembrance, and you used to laugh at them.
إِنِّي جَزَيۡتُهُمُ ٱلۡيَوۡمَ بِمَا صَبَرُوٓاْ أَنَّهُمۡ هُمُ ٱلۡفَآئِزُونَ ١١١
Indeed, I have rewarded them this Day for their patient endurance - that they are the attainers [of success]."
قَٰلَ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ عَدَدَ سِنِينَ ١١٢
[Allāh] will say, "How long did you remain on earth in number of years?"
قَالُواْ لَبِثۡنَا يَوۡمًا أَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٖ فَسۡـَٔلِ ٱلۡعَآدِّينَ ١١٣
They will say, "We remained a day or part of a day; ask those who enumerate."
قَٰلَ إِن لَّبِثۡتُمۡ إِلَّا قَلِيلٗاۖ لَّوۡ أَنَّكُمۡ كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ١١٤
He will say, "You stayed not but a little - if only you had known.
پس جب پھونکاجائے گا صور میں تو نہ قرابت داریاں رہیں گے ان کے درمیان اس دن اور نہ وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے (101) پس وہ شخص کہ بھاری ہو گئے پلڑے اس کے تو وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں (102)اور وہ شخص کہ ہلکے ہو گئے پلڑے اس (کی نیکیوں ) کے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں رکھا اپنے آپ کو، جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے (103) جلا ڈالے گی ان کے چہروں کو آگ اور وہ اس میں بد شکل ہوں گے (104)(کہا جائے گا) کیا نہیں تھیں آیتیں میری تلاوت کی جاتیں تم پر، پس تھے تم ان کو جھٹلاتے؟ (105) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! غالب آگئی ہم پر ہماری بد بختی اور تھے ہم لوگ گمراہ (63) اے ہمارے رب! تو نکال ہمیں اس سے، پس اگر دوبارہ کریں ہم تو بلاشبہ ہم ظالم ہوں گے (63) اللہ کہے گا، ذلیل و خوار پڑے رہو اسی میں اور مت کلام کرو مجھ سے (74) بے شک تھا ایک فریق میرے بندوں میں سے وہ کہتے تھے، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم سو بخش دے تو ہمیں اور رحم فرما تو ہم پراور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے (74) پس کرتے تھے تم ان سے مسخری، یہاں تک کہ بھلا دیا تھا انھوں نے تمھیں میرا ذکر اور تھے تم ان سے ہنستے (110) بلاشبہ میں نے جزا دی ہے انھیں آج بوجہ اس کے جو انھوں نے صبر کیا، کہ بے شک وہی لوگ ہی کامیاب ہیں (111) اللہ کہے گا کتنی (مدت) ٹھہرے تم زمین میں (بہ اعتبار) شمار کرنے کے سالوں کے؟ (112) وہ کہیں گے، ٹھہرے ہم ایک دن یا کچھ حصہ دن کا، پس پوچھ لے تو شمار کرنے والوں سے (113) اللہ کہے گا نہیں ٹھہرے تم مگر تھوڑا سا وقت، کاش کہ بے شک ہوتے تم جانتے (114)
[101] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز کی ہولناکیوں اور دل دہلا دینے والے مناظر کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جب انسانوں کو ان کی قبروں سے اٹھانے کے لیے صور پھونکا جائے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مقام پر اکٹھا کیا جائے گا تو لوگ اس وقت ہول اور دہشت میں مبتلا ہوں گے وہ اپنے نسبی تعلق تک کو بھول جائیں گے جوکہ سب سے زیادہ طاقتور تعلق ہوتا ہے۔ جب ایسا ہو گا تو نسب کے علاوہ تعلقات تو زیادہ آسانی سے بھول جائیں گے اور نفسانفسی کے اس عالم میں کوئی کسی کا حال نہیں پوچھے گا۔ کسی کو علم نہیں ہوگا کہ آیا اسے نجات مل جائے گی یا نہیں ، ایسی نجات کہ اس کے بعد بدبختی قریب نہیں بھٹکے گی؟ یا وہ ایسی بدبختی سے دوچار ہوگا کہ اس کے بعد کبھی خوش بختی سے بہرہ مند نہیں ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُٞ۰۰يَوۡمَ يَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِيۡهِۙ۰۰وَاُمِّهٖ وَاَبِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيۡهِؕ۰۰لِكُلِّ امۡرِئٍ مِّؔنۡهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ شَاۡنٌ يُّغۡنِيۡهِ﴾(عبس:80؍33-37) ’’جب قیامت برپا ہوگی تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، اپنی ماں اور باپ سے، بیوی اور بیٹوں سے دور بھاگے گا۔ اس روز ہر شخص اپنی ہی فکر میں مبتلا ہوگا جو اسے دوسروں سے بے پروا کر دے گی۔‘‘ اور جیسا کہ ارشاد ہے۔ ﴿يَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ يَفۡتَدِيۡ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِىِٕذٍۭ بِبَنِيۡهِۙ۰۰وَصَاحِبَتِهٖ وَاَخِيۡهِۙ۰۰وَفَصِيۡلَتِهِ الَّتِيۡ تُــــٔۡوِيۡهِۙ۰۰وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا١ۙ ثُمَّ يُنۡجِيۡهِ﴾(المعارج:70؍11-14) ’’اس دن مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دے دے یعنی اپنے بیٹوں ، بیوی، بھائی اور اپنے خاندان کو جو اسے پناہ دیتا تھا اور زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے کر عذاب سے نجات حاصل کرلے۔‘‘
[102] قیامت کے روز بعض مقامات ایسے ہوں گے جو شدید کرب ناک اور سخت تکلیف دہ ہوں گے جیسے میزان عدل کا مقام، جہاں بندے کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور نہایت عدل و انصاف سے دیکھا جائے گا کہ اس کے نیک اور بداعمال کیا ہیں اور اس وقت نیکی اور بدی کا ذرہ بھر وزن بھی ظاہر ہو جائے گا۔ ﴿فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ پس جس کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے جھک جائے گا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تو یہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی یہی لوگ جہنم سے نجات حاصل کریں گے اور جنت کے استحقاق سے بہرہ ور ہوں گے اور ثنائے جمیل سے سرفراز ہوں گے
[103]﴿ وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ ﴾ اور جس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا اور اس کے پلڑے پر برائیاں چھا جائیں گی۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا۔‘‘ اس خسارے کی نسبت دنیا کا بڑے سے بڑا خسارہ بھی بہت معمولی ہے۔ یہ بہت بڑا اور ناقابل برداشت خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں ۔ یہ ابدی خسارہ اور دائمی بدبختی ہے اس نے اپنے شرف کے حامل نفس کو خسارے میں مبتلا کر دیا جس کے ذریعے سے وہ ابدی سعادت حاصل کر سکتا تھا۔ پس اس نے اپنے رب کریم کے پاس ابدی نعمتوں کو ہاتھ سے گنوا دیا۔ ﴿ فِيۡ جَهَنَّمَ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔‘‘ وہ ابد الآباد تک اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ وعید، جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں ، اس شخص کے لیے ہے جس کی برائیاں اس کی نیکیوں پر چھا گئی ہوں گی اور ایسا شخص کافر ہی ہو سکتا ہے۔ اس طرح اس کا حساب اس شخص کے حساب کی مانند نہیں ہوگا جس کی نیکیوں اور برائیوں دونوں کا وزن ہوگا کیونکہ کفار کے پاس تو کوئی نیکی ہی نہیں ہوگی، البتہ ان کی بداعمالیوں کو اکٹھا کرکے شمار کیا جائے گا۔ وہ ان بداعمالیوں کا مشاہدہ اور ان کا اقرار کریں گے اور رسوائی اٹھائیں گے۔ رہا وہ شخص جو بنیادی طور پر مومن ہے مگر اس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے کے مقابلے میں جھکا ہوا ہوگا… تو وہ اگرچہ جہنم میں داخل ہوگا مگر وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا جیسا کہ کتاب و سنت کی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں ۔
[104] پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کے برے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ تَلۡفَحُ وُجُوۡهَهُمُ النَّارُ ﴾ ’’جھلسائے گی ان کے چہروں کو آگ۔‘‘ یعنی آگ انھیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی حتیٰ کہ ان کے تمام قابل شرف و احترام اعضاء کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی آگ کے شعلے ان کے چہروں سے ٹکڑے ہو ہو کر گریں گے۔ ﴿ وَهُمۡ فِيۡهَا كٰلِحُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اس میں بدشکل ہوں گے۔‘‘ شدت عذاب کی وجہ سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان کے ہونٹ اوپر کی طرف سکڑ جائیں گے۔
[105] زجرو توبیخ اور ملامت کے طور پر ان سے کہا جائے گا: ﴿ اَلَمۡ تَكُنۡ اٰيٰتِيۡ تُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’كيا ميری آیتوں کی تم پر تلاوت نہیں کی جاتی تھی؟‘‘ ان آیات کے ذریعے سے تمھیں دعوت دی گئی کہ تم ایمان لے آؤ اور آیات تمھارے سامنے پیش کی گئیں تاکہ تم غور کرو۔ ﴿ فَكُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ پس تم ظلم اور عناد کی وجہ سے ان آیات کو جھٹلاتے تھے حالانکہ یہ واضح آیات تھیں جو حق اور باطل پر دلالت کرتی تھیں اور اہل حق اور اہل باطل کو کھول کھول کر بیان کرتی تھیں ۔
[106] یہ اس وقت اپنے ظلم کا اقرار کریں گے جب اقرار کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ﴿ قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَيۡنَا شِقۡوَتُنَا ﴾ کہیں گے: ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی جس نے ظلم، حق سے روگردانی، ضرررساں امور کو اختیار کرنے اور فائدہ مند امور کو ترک کرنے سے جنم لیا۔ ﴿ وَؔكُنَّا قَوۡمًا ضَآلِّيۡنَ ﴾ ’’اور ہم گمراہ لوگ تھے۔‘‘ یعنی اپنے عمل میں گمراہ تھے اگرچہ وہ جانتے تھے کہ وہ ظالم ہیں ، یعنی ہم نے دنیا میں اس طرح کام كيے جس طرح گمراہ، بیوقوف اور حیران و سرگرداں لوگ کام کرتے ہیں ۔ جس طرح ایک اور آیت میں ان کا قول نقل ہوا ہے۔ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(الملک:67؍10) ’’اور کہیں گے: اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو جہنمیوں میں سے نہ ہوتے۔‘‘
[107]﴿ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال لے، پھر اگر ہم یہی کام کریں تو یقینا ظالم ہوں گے۔‘‘ وہ اپنے اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں کیونکہ تب بھی ان کا حال وہی ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ ﴾(الانعام:6؍28) ’’اگر ان کو دنیا میں لوٹا دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوئی حجت باقی نہیں رکھی بلکہ ان کے تمام عذر منقطع کر دیے اور دنیا میں ان کو اس نے اتنی عمریں دیں کہ اس میں نصیحت پکڑنے والے نصیحت پکڑلیتے ہیں اور مجرم جرم سے باز آجاتے ہیں ۔
[108] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾ ’’پھٹکارے ہوئے اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ کلام… ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں … علی الاطلاق بہت بڑا قول ہے جو مجرموں کو ناکامی، زجروتوبیخ، ذلت، خسارے، ہر بھلائی سے مایوسی اور ہر شر کی خوشخبری کے طور پر سننے کو ملے گا۔ یہ کلام اور رب رحیم کا غیظ و غضب جہنم کے عذاب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔
[109] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا وہ حال بیان کیا ہے جس نے ان کو عذاب تک پہنچایا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کیا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ پس انھوں نے ایمان کو، جو اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے، اپنے رب سے مغفرت اور رحمت کی دعا کو، اس کی ربوبیت کے توسل کو، ایمان عنایت کرنے میں اس کی نوازش کو، اس کی بے پایاں رحمت کو اور احسان کو جمع کر دیا۔ یہ آیت کریمہ ضمناً اہل ایمان کے خشوع و خضوع، اپنے رب کے حضور ان کی فروتنی، ان کے خوف الٰہی اور اللہ تعالیٰ سے پر امیدی پر دلالت کرتی ہے۔پس یہ لوگوں کے سردار اور اصحاب فضیلت ہیں ۔
[110]﴿ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’لیکن تم نے ان کو بنا لیا۔‘‘ اے حقیر اور ناقص العقل کا فرو!﴿ سِخۡرِيًّا ﴾ ’’مذاق (کا موضوع)‘‘ یعنی تم ان کے ساتھ استہزا کرتے تھے اور ان کے ساتھ حقارت سے پیش آتے تھے حتیٰ کہ تم انھیں بیوقوف سمجھتے تھے﴿ حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ (اس شغل نے) تمھیں میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان سے مذاق کرتے رہے۔‘‘ اہل ایمان کے ساتھ استہزاء میں ان کی مشغولیت، ان کے لیے ذکر کو بھلا دینے کی موجب ہوئی، جیسے ذکر کو فراموش کر دینا ان کو تمسخر و استہزاء پر آمادہ کرتا رہا۔ پس دونوں امور ایک دوسرے کے لیے معاون بنے رہے۔ کیا اس جرأت سے بڑھ کر کوئی جرأت ہے؟
[111]﴿ اِنِّيۡ جَزَيۡتُهُمُ الۡيَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا ﴾ میں نے آج ان کو اپنی اطاعت کرنے اور تمھاری اذیتوں کو برداشت کرنے کا بدلہ دیا ہے، حتیٰ کہ وہ مجھ تک پہنچ گئے۔﴿اَنَّهُمۡ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک وہی لوگ کامیاب ہیں ۔‘‘ یعنی دائمی نعمتیں اور جہنم سے چھٹکارا پاکر کامیاب ہوئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور آیت کریمہ میں فرماتا ہے ﴿فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ﴾(المطففین:83؍34) ’’آج وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کافروں پر ہنسیں گے۔‘‘
[114-112]﴿ قٰلَ﴾ اللہ تعالیٰ ملامت کے اسلوب میں ان سے کہے گا۔ یہ اسلوب اس لیے بھی ہو گا کیونکہ وہ بیوقوف تھے انھوں نے اس تھوڑی سی مدت میں ہر برائی کا ارتکاب کیا جو اس کے غضب اور عقاب کا باعث بنتی ہے۔ انھوں نے ان نیکیوں کا اکتساب نہ کیا جن کا اکتساب اہل ایمان نے کیا تھا جو ان کے لیے دائمی سعادت اور ان کے رب کی رضا کی باعث بنیں ۔ ﴿ كَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِيۡنَ۰۰ قَالُوۡا لَبِثۡنَا يَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ﴾ ’’تم زمین میں کتنے برس رہے، وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔‘‘ ان کا یہ کلام، ان کے دنیا میں رہنے، اس سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں بہت ہی کم اندازے پر مبنی ہے مگر یہ اس کی مقدار کو کوئی فائدہ دیتی ہے نہ اس کی تعیین کرتی ہے۔ اس لیے وہ کہیں گے۔ ﴿ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّيۡنَ﴾ یعنی اس کی تعداد کا حساب کتاب رکھنے والوں سے پوچھ لیجیے۔ وہ خود تو اب ایک شغل اور اس کے عدد کی معرفت سے غافل کر دینے والے عذاب میں مبتلا ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: ﴿اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’نہیں ٹھہرے تم مگر بہت کم۔‘‘ خواہ تم اس کی تعداد کا تعین کرو یا نہ کرو تمھارے لیے برابر ہے۔ ﴿ لَّوۡ اَنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کاش تمھیں علم ہوتا۔‘‘
23:115–116Page 349
أَفَحَسِبۡتُمۡ أَنَّمَا خَلَقۡنَٰكُمۡ عَبَثٗا وَأَنَّكُمۡ إِلَيۡنَا لَا تُرۡجَعُونَ ١١٥
Then did you think that We created you uselessly and that to Us you would not be returned?"
فَتَعَٰلَى ٱللَّهُ ٱلۡمَلِكُ ٱلۡحَقُّۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ ٱلۡعَرۡشِ ٱلۡكَرِيمِ ١١٦
So exalted is Allāh, the Sovereign,1 the Truth;2 there is no deity except Him, Lord of the Noble Throne.
کیا گمان کیا تھا تم نے یہ کہ پیدا کیا ہم نے تمھیں بے فائدہ اور یہ کہ بے شک تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے؟ (115) پس برتر ہے اللہ، بادشاہ سچا، نہیں کوئی (اور) معبود سوائے اس کے، (وہ) رب ہے عرش کریم کا (116)
[116,115]﴿ اَفَحَسِبۡتُمۡ ﴾ یعنی اے مخلوق! ’’کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے‘‘ کہ ﴿ اَنَّمَا خَلَقۡنٰكُمۡ عَبَثًا ﴾ ’’بلاشبہ ہم نے تمھیں بے فائدہ اور باطل پیدا کیا ہے‘‘ کہ تم کھاؤ، پیو، زمین پر اکڑ کر چلو اور دنیا کی لذتوں سے متمتع ہوتے رہو اور ہم تمھیں یونہی چھوڑ دیں گے۔ ہم تمھیں کسی چیز کا حکم دیں گے نہ تمھیں منع کریں گے، تمھیں ثواب عطا کریں گے نہ تمھیں عذاب دیں گے؟ اس لیے فرمایا:﴿ وَّاَنَّـكُمۡ اِلَيۡنَا لَا تُرۡجَعُوۡنَ ﴾’’اور یہ کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے؟‘‘ یہ بات تمھارے دل ہی میں نہ آئے۔﴿ فَتَعٰلَى اللّٰهُ ﴾ یعنی اس گمان باطل سے اللہ بہت بڑا اور بلندتر ہے جو اس کی حکمت میں قادح ہے۔ ﴿الۡمَلِكُ الۡحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡكَرِيۡمِ﴾ ’’وہ حقیقی بادشاہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش کریم کا رب ہے۔‘‘ اس کا تمام مخلوق کا مالک ہونا حق ہے وہ اپنے صدق، اپنے وعدہ اور وعید میں حق ہے، وہ محبوب اور معبود ہے کیونکہ وہ ہر کمال کا مالک ہے۔﴿ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡكَرِيۡمِ ﴾ ’’وہ عرش کریم کا رب ہے۔‘‘ پھر اس سے کم تر مخلوق کا تو بدرجہ اولیٰ رب ہے۔ یہ چیز مانع ہے اس سے کہ وہ تمھیں عبث پیدا کرے۔
23:117–118Page 349
وَمَن يَدۡعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ لَا بُرۡهَٰنَ لَهُۥ بِهِۦ فَإِنَّمَا حِسَابُهُۥ عِندَ رَبِّهِۦٓۚ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلۡكَٰفِرُونَ ١١٧
And whoever invokes besides Allāh another deity for which he has no proof - then his account is only with his Lord. Indeed, the disbelievers will not succeed.
وَقُل رَّبِّ ٱغۡفِرۡ وَٱرۡحَمۡ وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلرَّٰحِمِينَ ١١٨
And, [O Muḥammad], say, "My Lord, forgive and have mercy, and You are the best of the merciful."
اور جو کوئی پکارے ساتھ اللہ کے معبود کسی اور کو کہ نہیں کوئی دلیل اس کے لیے اس (بات) کی تویقینا حساب اس کا اس کے رب کے پاس ہے، بلاشبہ نہیں فلاح پائیں گے کافر (117) اور آپ کہیں ، اے میرے رب! تو بخش دے اور رحم فرمااور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے (118)
[117] یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر اللہ کو پکارتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی دلیل اور برہان نہیں جو اس کے اس مذہب کی صحت پر دلالت کرتی ہو۔ یہ ایک الزامی قید ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جو کوئی غیر اللہ کو پکارتا ہے اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی ہی نہیں بلکہ تمام دلائل و براہین اس کے مذہب کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں مگر اس نے ظلم اور عناد کی بنا پر ان سے روگردانی کی۔ پس یہ شخص جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے برے اعمال کا بدلہ دے گا اسے فلاح میں سے کچھ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ وہ کافر ہے۔ ﴿اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ، کافر فلاح نہیں پاتے۔‘‘ پس ان کے کفر نے ان کو فلاح سے محروم کر دیا۔
[118]﴿ وَقُلۡ ﴾ دین کو اپنے رب کے لیے خالص کر کے اسے پکارتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿ رَّبِّ اغۡفِرۡ وَارۡحَمۡ ﴾ اے میرے رب! ہمیں بخش دے یہاں تک کہ ہمیں ناپسندیدہ چیزوں سے بچا اور ہم پر رحم فرما تاکہ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت کے ساتھ ہر بھلائی کی منزل تک پہنچا دے۔ ﴿ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’اور تو سب رحم کرنے والوں میں سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ بندے پر رحم کرنے والی ہر ہستی سے زیادہ رحیم ہے ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم و شفیق ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ بلکہ انسان اپنے آپ پر جس قدر رحم کر سکتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ رحیم ہے۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences