As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Al-Mu'minun 23:45–62
23:45–49Page 345
ثُمَّ أَرۡسَلۡنَا مُوسَىٰ وَأَخَاهُ هَٰرُونَ بِـَٔايَٰتِنَا وَسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٍ ٤٥
Then We sent Moses and his brother Aaron with Our signs and a clear authority1
إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَإِيْهِۦ فَٱسۡتَكۡبَرُواْ وَكَانُواْ قَوۡمًا عَالِينَ ٤٦
To Pharaoh and his establishment, but they were arrogant and were a haughty people.
فَقَالُوٓاْ أَنُؤۡمِنُ لِبَشَرَيۡنِ مِثۡلِنَا وَقَوۡمُهُمَا لَنَا عَٰبِدُونَ ٤٧
They said, "Should we believe two men like ourselves while their people are for us in servitude?"
فَكَذَّبُوهُمَا فَكَانُواْ مِنَ ٱلۡمُهۡلَكِينَ ٤٨
So they denied them and were of those destroyed.
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُونَ ٤٩
And We certainly gave Moses the Scripture that perhaps they1 would be guided.
پھر بھیجا ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو ساتھ اپنی نشانیوں اور دلیل واضح کے (45) طرف فرعون اور اس کے درباریوں کی، پس انھوں نے تکبر کیااور تھے وہ لوگ سرکش (46) پس انھوں نے کہا، کیا ہم ایمان لائیں ایسے دو آدمیوں پر جو ہم جیسے ہیں ؟ جبکہ ان دونوں کی قوم ہماری غلام ہے (47) سو انھوں نے جھٹلایا ان دونوں کو پس ہو گئے وہ ہلاک شدہ لوگوں میں سے (48) اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب تاکہ وہ (لوگ) ہدایت پا جائیں (49)
[45]﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى﴾ ’’پھر ہم نے موسیٰ (بن عمران، کلیم اللہ) کو بھیجا‘‘ ﴿ وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ ﴾ ’’اور (ان کے ساتھ) ان کے بھائی ہارون کو‘‘ جب حضرت موسیٰ u نے دعا کی کہ حضرت ہارون کو نبوت کے معاملے میں ان کے ساتھ شریک کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ ﴿بِاٰيٰتِنَا﴾ ’’اپنی نشانیوں کے ساتھ۔‘‘ جو ان کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی تھیں ۔ ﴿ وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’اور واضح برہان کے ساتھ۔‘‘ ان دلائل میں ایسی قوت تھی کہ وہ دلوں پر غالب آجاتے اور اپنی قوت کی بنا پر دلوں میں گھر کر لیتے اور اہل ایمان کے دل ان کو مان لیتے اور معاندین حق کے خلاف حجت قائم ہو جاتی۔اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مانند ہے: ﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسٰؔى تِسۡعَ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰتٍ ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو نو کھلی کھلی نشانیاں عطا کیں ۔‘‘ اس لیے معاندین حق کے سردار فرعون نے ان کو پہچان لیا لیکن عناد کا راستہ اختیار کیا۔ ﴿ فَسۡـَٔلۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِذۡ جَآءَهُمۡ ﴾ ’’آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیجیے! جب موسیٰ یہ نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے‘‘ ﴿فَقَالَ﴾ تو فرعون نے حضرت موسیٰu سے کہا ﴿ اِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰمُوۡسٰؔى مَسۡحُوۡرًا ﴾(بنی اسرآء یل:17؍101) ’’اے موسیٰ! میں تو تجھے سحر زدہ خیال کرتا ہوں ۔‘‘ ﴿ قَالَ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ١ۚ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًؔا ﴾(بنی اسرآء یل: 17؍102) ’’موسیٰ نے کہا: تو جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں اللہ کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں ۔ اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ظُلۡمًا وَّعُلُوًّا﴾(النمل:27؍14) ’’انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر ان نشانیوں کو جھٹلایا حالانکہ ان کے دلوں نے ان کو مان لیا تھا۔‘‘
[46] یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى وَاَخَاهُ هٰؔرُوۡنَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ ﴾ ’’پھر ہم نے بھیجا موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح برہان کے ساتھ، فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔‘‘ مثلاً: ہامان اور دیگر سرداران قوم۔ ﴿فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠﴾ پس تکبر کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور اس کے انبیاء کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔ ﴿وَكَانُوۡا قَوۡمًا عَالِيۡنَ﴾ ’’اور تھے وہ سرکش لوگ۔‘‘ یعنی ان کا وصف غلبہ، قہر اور فساد فی الارض تھا اس لیے ان سے تکبر صادر ہوا اور اسے وہ کوئی بری بات نہیں سمجھتے تھے۔
[47]﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ انھوں نے تکبر اور غرور سے ضعیف العقل لوگوں کو ڈراتے اور فریب کاری کرتے ہوئے کہا: ﴿ اَنُؤۡمِنُ لِبَشَرَيۡنِ مِثۡلِنَا ﴾ ’’کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان لے آئیں ؟‘‘ جیسا کہ ان سے پہلے لوگ بھی ایسے ہی کہا کرتے تھے چونکہ کفر میں ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے تھے اس لیے ان کے اقوال و افعال بھی ایک دوسرے کے مشابہ تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسالت کے ذریعے سے ان پر جو عنایت کی انھوں نے اسے جھٹلا دیا ﴿وَقَوۡمُهُمَا﴾ ’’اور ان دونوں کی قوم‘‘ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَنَا عٰؔبِدُوۡنَ﴾ ’’ہماری غلام ہے۔‘‘ یعنی وہ پر مشقت کام سرانجام دینے کے لیے ہمارے مطیع ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِذۡ نَجَّيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَؔ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ۠ سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ يُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَؔكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَؔكُمۡ١ؕ وَ فِيۡ ذٰلِكُمۡ بَلَآءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ﴾(البقرہ:2؍49) ’’یاد کرو وہ وقت جب ہم نے تمھیں آل فرعون سے نجات دی وہ تمھیں بہت عذاب دیتے تھے۔ تمھارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمھاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے۔ اس میں تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘ پس ہم ان کے متبوع (پیشوا) ہوتے ہوئے ان کے تابع کیسے بن سکتے ہیں ؟ اور یہ ہم پر سردار کیسے ہو سکتے ہیں ؟ ان کے قول کی نظیر نوح u کی قوم کا یہ قول ہے ﴿ اَنُؤۡمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الۡاَرۡذَلُوۡنَ﴾(الشعراء:26؍111) ’’کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی تو رذیل لوگوں نے کی ہے۔ ‘‘ ﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّاۡيِ ﴾(ھود:11؍27) ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ صرف انھی لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہماری قوم میں رذیل اور چھچھورے تصور كيے جاتے ہیں ۔‘‘
[48] اور یہ بات واضح ہے کہ حق کو رد کرنے کے لیے یہ بات درست نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ یہ تکذیب اور عناد ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَكَانُوۡا مِنَ الۡمُهۡلَكِيۡنَ ﴾ ’’پس انھوں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور وہ بھی ہلاک شدہ لوگوں میں ہو گئے۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل کے آنکھوں دیکھتے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔
[49]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کرکے اسرائیلی قوم کو موسیٰ u کی معیت میں نجات بخشی تب موسیٰ uکو قوت اور طاقت حاصل ہوئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم اور اس کے شعائر کوغالب کریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا کہ وہ آپ پر چالیس دن میں تورات نازل کرے گا۔ موسیٰ u اپنے رب کے مقرر کردہ وقت پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ مَّوۡعِظَةً وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾(الاعراف:7؍145) ’’اور ہم نے ہر چیز کے متعلق نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل اس کے لیے تختیوں پر لکھ دی‘‘ بنابریں یہاں فرمایا: ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ ہدایت پائیں ۔‘‘ یعنی امرونہی اورثواب و عقاب کی تفاصیل کی معرفت حاصل کرکے شاید راہ راست پر گامزن ہو جائیں اور اپنے رب کے اسماء و صفات کی بھی معرفت حاصل کریں ۔
23:50Page 345
وَجَعَلۡنَا ٱبۡنَ مَرۡيَمَ وَأُمَّهُۥٓ ءَايَةٗ وَءَاوَيۡنَٰهُمَآ إِلَىٰ رَبۡوَةٖ ذَاتِ قَرَارٖ وَمَعِينٖ ٥٠
And We made the son of Mary and his mother a sign and sheltered them within a high ground having level [areas] and flowing water.
اور بنایا ہم نے (عیسیٰ) ابن مریم اور اس کی ماں کو ایک (عظیم) نشانی اور پناہ دی ہم نے ان دونوں کو طرف ایک بلند جگہ کی (جو) سکون و آرام اور جاری چشمہ والی (تھی)(50)
[50]﴿ وَجَعَلۡنَا ابۡنَ مَرۡيَمَ وَاُمَّهٗۤ اٰيَةً ﴾ یعنی ہم نے عیسیٰ ابن مریم (i) پر احسان کیا، ان کو اور ان کی والدہ کو انتہائی تعجب انگیز نشان بنا دیا کیونکہ حضرت مریم[ نے حضرت عیسیٰu کو بغیر باپ کے اپنے پیٹ میں رکھا اور پھر آپ کو جنم دیا اور حضرت عیسیٰu نے گہوارے میں کلام کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر بڑے بڑے معجزات دکھائے۔ ﴿ وَّاٰوَيۡنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبۡوَةٍ ﴾ یعنی ہم نے ان دونوں کو ایک بلند مقام پر پناہ دی اور یہ اس وقت کی بات ہے… واللہ اعلم … جب حضرت جناب مریم[ نے عیسیٰ u کو جنم دیا۔ ﴿ ذَاتِ قَرَارٍ ﴾ یعنی آرام دہ ٹھکانا ﴿ مَعِيۡنٍ ﴾ یعنی جاری چشمے کا پانی اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔﴿ قَدۡ جَعَلَ رَبُّكِ تَحۡتَكِ ﴾ ’’کر دی ہے تیرے رب نے تیرے نیچے‘‘ یعنی اس جگہ سے بہت نیچے جہاں حضرت مریم[ نے پناہ لی تھی اور یہ اس لیے کہا گیا کیونکہ آپ بلند جگہ پر تھیں ۔ ﴿ سَرِيًّا ﴾ یعنی ندی اور وہ چشمے کا بہتا ہوا پانی ہے۔ ﴿ وَهُزِّيۡۤ اِلَيۡكِ بِجِذۡعِ النَّخۡلَةِ تُسٰقِطۡ عَلَيۡكِ رُطَبًا جَنِيًّاٞ۰۰فَكُلِيۡ وَاشۡرَبِيۡ وَقَرِّيۡ عَيۡنًا ﴾(مریم:19؍25،26) ’’تو کھجور کے تنے کو ہلا تجھ پر تازہ کھجوریں گریں گی۔ کھا، پی اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کر۔‘‘
23:51–56Page 345
يَٰٓأَيُّهَا ٱلرُّسُلُ كُلُواْ مِنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَٱعۡمَلُواْ صَٰلِحًاۖ إِنِّي بِمَا تَعۡمَلُونَ عَلِيمٞ ٥١
[Allāh said], "O messengers, eat from the good foods and work righteousness. Indeed I, of what you do, am Knowing.
وَإِنَّ هَٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَأَنَا۠ رَبُّكُمۡ فَٱتَّقُونِ ٥٢
And indeed this, your religion, is one religion,1 and I am your Lord, so fear Me."
فَتَقَطَّعُوٓاْ أَمۡرَهُم بَيۡنَهُمۡ زُبُرٗاۖ كُلُّ حِزۡبِۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُونَ ٥٣
But they [i.e., the people] divided their religion among them into portions [i.e., sects] - each faction, in what it has,1 rejoicing.
فَذَرۡهُمۡ فِي غَمۡرَتِهِمۡ حَتَّىٰ حِينٍ ٥٤
So leave them in their confusion for a time.
أَيَحۡسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُم بِهِۦ مِن مَّالٖ وَبَنِينَ ٥٥
Do they think that what We extend to them of wealth and children
نُسَارِعُ لَهُمۡ فِي ٱلۡخَيۡرَٰتِۚ بَل لَّا يَشۡعُرُونَ ٥٦
Is [because] We hasten for them good things? Rather, they do not perceive.1
اے رسولو! کھاؤ تم پاکیزہ چیزوں میں سےاورعمل کرونیک، بے شک میں ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہوں (51) اور بلاشبہ یہ تمھاری امت ہے، امت ایک ہی اور میں تمھارا رب ہوں ، پس ڈرو تم مجھ ہی سے (52) پس جدا جدا کر لیا انھوں نے اپنے معاملے (دین) کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہر ایک گروہ ساتھ اس کے جو ان کے پاس ہے خوش ہے (53) پس آپ چھوڑ دیجیے ان کو ان کی غفلت میں ایک وقت تک (54)کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ جو ہم بڑھا رہے ہیں انھیں ساتھ اس کے، مال اور اولاد سے (55) ہم جلدی کر رہے ہیں ان کے لیے بھلائیوں میں ؟ (نہیں ، نہیں )بلکہ نہیں شعور رکھتے وہ (56)
[51]﴿ يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوۡا مِنَ الطَّيِّبٰؔتِ وَاعۡمَلُوۡا صَالِحًا١ؕ اِنِّيۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، بے شک میں تمھارے عملوں کو خوب جانتا ہوں ۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء و رسل کو حکم ہے کہ وہ پاک اور حلال رزق کھائیں اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اللہ کا شکر بجا لائیں یہ اعمال صالحہ قلب و بدن اور دنیا و آخرت کی اصلاح کرتے ہیں ، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کوخبردارکیا ہے کہ وہ ان کے اعمال سے آگاہ ہے ان کا ہر عمل اور ان کی ہر کوشش اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی کامل ترین اور افضل ترین جزا دے گا۔ پس یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ تمام انبیاء کھانے پینے کی تمام پاک چیزوں کی اباحت اور ناپاک چیزوں کی تحریم پر متفق ہیں نیز وہ تمام اعمال صالحہ پر بھی متفق ہیں ۔ اگرچہ بعض مامورات کی جنس میں تنوع اور بعض شرائع میں اختلاف ہے تاہم ہر شریعت اعمال صالحہ پر مشتمل ہے، البتہ زمانے کے تفاوت کی بنا پر متفاوت ہیں ، اس لیے وہ تمام اعمال صالحہ جو ہر زمانے میں صلاح کے حامل تھے ان پرتمام انبیاء اور شریعتیں متفق ہیں ، مثلاً: توحید الٰہی ، دین میں اخلاص، محبت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، نیکی، صدق، ایفائے عہد، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، کمزوروں ، مسکینوں اور یتیموں کی دستگیری اور تمام مخلوق کے ساتھ مہربانی کا رویہ جیسے احکام۔ اس لیے تمام اہل علم، کتب سابقہ اور عقل سلیم کے مالک محمد مصطفیﷺ کی نبوت پر، آپ کے مامورات اور منہیات کی جنس کے ذریعے سے استدلال کرتے ہیں ۔ جیسا کہ ہرقل نے استدلال کیا تھا کیونکہ اگر آپﷺ ان امور کا حکم دیتے ہیں جن کا حکم آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیائے کرام دیتے رہے ہیں اور آپﷺ ان چیزوں سے روکتے ہیں جن سے گزشتہ انبیائے کرام روکتے رہے ہیں تو یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بھی انبیائے کرام کی جنس سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس کے برعکس ایک کذاب برائی کا حکم دے گا اور بھلائی سے روکے گا۔
[52] بنابریں انبیائے کرام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿هٰؔذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ اے رسولوں کے گروہ! تمھاری جماعت ایک دین پر متفق ہے اور تمھارا رب بھی ایک ہے ﴿ فَاتَّقُوۡنِ ﴾ ’’پس تم مجھ سے ڈرو۔‘‘ میرے احکام کی تعمیل کر کے اورمیرے زجر و توبیخ کے موجب امور سے اجتناب کر کے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کوانھی امور کا حکم دیا جن کا حکم اپنے رسولوں کو دیا کیونکہ اہل ایمان انبیاء و رسل کی پیروی کرنے والے اور انھی کے راستے پر گامزن ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ وَاشۡكُرُوۡا لِلّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ﴾(البقرۃ:2؍172) ’’اے اہل ایمان ! جو پاک چیزیں ہم نے تمھیں عطا کی ہیں ،انھیں کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ پس انبیائے کرام سے نسبت رکھنے والوں اور دیگر لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اس حکم کی تعمیل کریں ۔
[53] بایں ہمہ جھٹلانے والے ظالم، نافرمان ہی رہے اس لیے فرمایا:﴿ فَتَقَطَّعُوۡۤا ﴾ ’’پس کاٹ دیا۔‘‘ یعنی انبیاء و رسل کی اتباع کا دعویٰ کرنے والوں نے ﴿اَمۡرَهُمۡ ﴾ یعنی اپنے دین کو ﴿ بَيۡنَهُمۡ زُبُرًا﴾ ’’آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے۔‘‘ ﴿ كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ ﴾ ’’ہر گروہ اس پر جو اس کے پاس ہے۔‘‘ یعنی ہر گروہ اور فرقے کے پاس جو علم اور دین ہے ﴿ فَرِحُوۡنَ ﴾ وہ اسی پر خوش ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ حق پر ہے اور دیگر لوگ حق پر نہیں ہیں حالانکہ ان میں سے حق پر صرف وہی لوگ ہیں جو انبیاء کے راستے پر گامزن ہیں ، پاک چیزیں کھاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں ۔ ان کے سوا دیگر لوگ تو باطل کی راہوں میں سرگرداں ہیں ۔
[54]﴿ فَذَرۡهُمۡ فِيۡ غَمۡرَتِهِمۡ ﴾ ’’پس چھوڑ دیجیے آپ ان کو ان کی غفلت ہی میں ۔‘‘ یعنی انھیں حق کے بارے میں ان کی جہالت اور ان کے دعووں میں ، کہ وہ حق پر ہیں ، غلطاں چھوڑ دیجیے ﴿ حَتّٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی اس وقت تک جب تک کہ ان پر عذاب نازل نہیں ہو جاتا کیونکہ ان کو کوئی وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ چیزیں انھیں فائدہ دے بھی کیسے سکتی ہیں جبکہ وہ اس زعم میں مبتلا ہوں کہ وہ حق پر ہیں اور اپنے اس مسلک کی طرف دوسروں کو دعوت دینے کے متمنی ہوں ۔
[56,55]﴿اَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمۡ بِهٖ مِنۡ مَّالٍ وَّبَنِيۡنَۙ۰۰ نُسَارِعُ لَهُمۡ فِي الۡخَيۡرٰتِ﴾ یعنی کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مال اور اولاد میں ہماری طرف سے اضافہ، اس امر کی دلیل ہے کہ وہ بھلائی اور سعادت سے بہرہ مند ہیں اور دنیا اور آخرت کی بھلائی انھی کے لیے ہے؟ یہ ان کا اپنا زعم باطل ہے حالانکہ معاملہ ایسے نہیں ہے۔ ﴿ بَلۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ وہ نہیں سمجھتے۔‘‘ کہ ہم ان کو ڈھیل اور مہلت دیے جا رہے ہیں اور ان کو نعمتوں سے نواز رہے ہیں ، وہ اس لیے کہ تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور اضافہ کرلیں اور آخرت میں اپنے عذاب کو بڑھا لیں اور دنیا میں ان کو جو نعمتیں عطا ہوئی ہیں انھی سے مزے لیتے رہیں ۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰهُمۡ بَغۡتَةً ﴾(الانعام:6؍44) ’’حتیٰ کہ جو کچھ ان کو عطا کیا گیا تھا، اس سے بہت خوش ہوگئے تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا‘‘
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنھوں نے برائی اور امن کو جمع کیا اور سمجھتے رہے کہ دنیا میں ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایات اور نوازشیں اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ بھلائی اور فضیلت کی راہ پر چل رہے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر بھی فرمایا جنھوں نے بھلائی اور خوف کو یکجا کیا، چنانچہ فرمایا:
23:57–62Page 345
إِنَّ ٱلَّذِينَ هُم مِّنۡ خَشۡيَةِ رَبِّهِم مُّشۡفِقُونَ ٥٧
Indeed, they who are apprehensive from fear of their Lord
وَٱلَّذِينَ هُم بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُونَ ٥٨
And they who believe in the signs of their Lord
وَٱلَّذِينَ هُم بِرَبِّهِمۡ لَا يُشۡرِكُونَ ٥٩
And they who do not associate anything with their Lord
وَٱلَّذِينَ يُؤۡتُونَ مَآ ءَاتَواْ وَّقُلُوبُهُمۡ وَجِلَةٌ أَنَّهُمۡ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ رَٰجِعُونَ ٦٠
And they who give what they give while their hearts are fearful1 because they will be returning to their Lord -
أُوْلَٰٓئِكَ يُسَٰرِعُونَ فِي ٱلۡخَيۡرَٰتِ وَهُمۡ لَهَا سَٰبِقُونَ ٦١
It is those who hasten to good deeds, and they outstrip [others] therein.
وَلَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۚ وَلَدَيۡنَا كِتَٰبٞ يَنطِقُ بِٱلۡحَقِّ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ ٦٢
And We charge no soul except [with that within] its capacity, and with Us is a record which speaks with truth; and they will not be wronged.
بے شک وہ لوگ کہ جو خوف سے اپنے رب کے، ڈرنے والے ہیں (57) اور وہ لوگ کہ جو آیتوں کے ساتھ اپنے رب کی، ایمان لاتے ہیں (58) اور وہ لوگ کہ جو اپنے رب کے ساتھ نہیں شریک ٹھہراتے (59) اور وہ لوگ كہ جو دیتے ہیں جو کچھ وہ دیتے ہیں (صدقہ) جبکہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں (اس سے) کہ بے شک وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں (60) یہی لوگ ہیں کہ جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں اور وہ ان کے لیے سبقت کرنے والے ہیں (61)اور نہیں تکلیف دیتے ہم کسی نفس کو مگر اس کی وسعت کے مطابق اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے، وہ بولتی ہے ساتھ حق کےاور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (62)
[57]﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ هُمۡ مِّنۡ خَشۡيَةِ رَبِّهِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ﴾ ’’بے شک جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے دل اپنے رب کے خوف سے لرزاں ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے عدل کیا تو ان کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی اور انھیں اپنے بارے میں سوء ِ ظن ہے کہ انھوں نے اللہ کے حق کو ادا نہیں کیا اور ایمان کے زوال کا خوف رہتا ہے، انھیں اپنے رب کے بارے میں معرفت حاصل ہے کہ وہ کس اجلال و اکرام کا مستحق ہے ان کا یہ خوف انھیں گناہوں اور واجبات میں کوتاہی سے باز رکھتا ہے۔
[58]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، نیز وہ آیات قرآنی میں تفکر و تدبر کرتے ہیں تو ان پر قرآن عظیم کی جلالت شان، اس کی آیات و مضامین میں اتفاق اور ان میں عدم اختلاف اور عدم تناقض واضح ہوتا ہے اور وہ ان کو اللہ تعالیٰ، اس کے خوف ، اس سے امید اور احوال جزا و سزا کی معرفت کی طرف دعوت دیتا ہے جس سے ان کو ایمان کی تفاصیل حاصل ہوتی ہیں ۔ زبان جن کی تعبیرکرنے سے قاصر ہے۔ نیز وہ آیات آفاقی میں بھی غور و فکر کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾(آل عمران:3؍190) ’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، دن اور رات کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔‘‘
[59]﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِرَبِّهِمۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔‘‘ یعنی وہ کسی شرک جلی میں مبتلا نہیں ہیں ، مثلاً: غیراللہ کو معبود بنانا، اس کو پکارنا اور اس سے امیدیں رکھنا اور نہ شرک خفی میں مبتلا ہیں ، مثلاً:ریا وغیرہ۔ بلکہ وہ اپنے تمام اقوال، اعمال اور احوال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص رکھتے ہیں ۔
[60]﴿ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا﴾ ’’اور وہ لوگ جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا ہے مقدور بھر اس کی تعمیل کرتے ہیں ، مثلاً:نماز، زکاۃ، حج، صدقہ وغیرہ ﴿وَ﴾ اس کے باوجود ﴿ قُلُوۡبُهُمۡ وَجِلَةٌ ﴾ ’’ان کے دل خوف زدہ ہیں ۔‘‘ ﴿ اَنَّهُمۡ اِلٰى رَبِّهِمۡ رٰجِعُوۡنَ﴾ ’’اس بات سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے اور اپنے اعمال کے اس کے سامنے پیش كيے جانے سے ڈرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلانے کے قابل نہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ان کا رب کیسا اور کس قسم کی عبادات کا مستحق ہے۔
[61]﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُسٰرِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جو جلدی کرتے ہیں بھلائیوں میں ۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کے کاموں کی طرف جلدی سے لپکتے ہیں ان کا عزم صرف اسی چیز پر مرتکز ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور ان کا ارادہ انھی امور میں مصروف ہوتا ہے جو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دیتے ہیں ۔ ہر بھلائی جو وہ سنتے ہیں یا اس کی جب بھی انھیں فرصت ملتی ہے، اٹھ کر اس کی طرف لپکتے ہیں ۔ وہ اولیاء اللہ، اس کے چنیدہ بندوں کو اپنے آگے اور دائیں بائیں دیکھتے ہیں جو بھلائی کے کاموں میں لپکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے سبقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مسابقت کرنے والا جب کسی دوسرے سے مسابقت کرتا ہے تو کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد اور کوشش سے آگے نکل جاتا ہے اور کبھی اپنی کوتاہی کی بنا پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی ہے کہ یہ سبقت کرنے والے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَهُمۡ لَهَا ﴾ ’’اور وہ اس کے لیے۔‘‘ یعنی بھلائیوں کے لیے ﴿ سٰبِقُوۡنَ ﴾ ’’دوڑتے ہیں ۔‘‘ بلاشبہ وہ بھلائی کی چوٹی پر پہنچ گئے ہیں ۔ وہ سب سے آگے نکلنے والے سے مسابقت کرتے ہیں ، نیز اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے سعادت لکھ دی گئی کہ وہ سبقت کرنے والے ہیں ۔
[62] جب اللہ تعالیٰ نے نیکیوں میں ان کی سرعت اور سبقت کا ذکر کیا تو اس سے کسی کو یہ وہم لاحق ہو سکتا تھا کہ ان سے اور دیگر لوگوں سے ایسے امور مطلوب ہیں جو ان کی مقدرت سے باہر یا بہت مشکل ہیں ، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَا نُكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ﴾یعنی ہم ہر نفس کو بس اتنی ہی تکلیف دیتے ہیں جتنی اس کی قوت کے دائرے میں ہوتی ہے اور وہ تکلیف ایسی نہیں ہوتی جو اس کی پوری قوت کو صرف کر دے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے تاکہ اس کے پاس پہنچنے کا راستہ ہو اور اہل سلوک کی راہیں ہر وقت آباد رہیں ۔﴿ وَلَدَيۡنَا كِتٰبٌ يَّنۡطِقُ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہمارے پاس کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے۔‘‘ اور وہ کتاب اول ہے جس میں ہر چیز درج ہے اور چونکہ جو کچھ اس میں درج ہے ہر چیز اس کے مطابق واقع ہوگی، اس لیے یہ حق ہے۔ ﴿ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی ان کی نیکیوں میں کچھ کمی کی جائے گی نہ ان کی سزا اور گناہوں میں کوئی اضافہ ہوگا۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences