As-Sa'diAn‑Nur · 24:27–34

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

An-Nur 24:27–34

24:27–29Page 352

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَدۡخُلُواْ بُيُوتًا غَيۡرَ بُيُوتِكُمۡ حَتَّىٰ تَسۡتَأۡنِسُواْ وَتُسَلِّمُواْ عَلَىٰٓ أَهۡلِهَاۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ ٢٧

O you who have believed, do not enter houses other than your own houses until you ascertain welcome and greet1 their inhabitants. That is best for you; perhaps you will be reminded [i.e., advised].

فَإِن لَّمۡ تَجِدُواْ فِيهَآ أَحَدٗا فَلَا تَدۡخُلُوهَا حَتَّىٰ يُؤۡذَنَ لَكُمۡۖ وَإِن قِيلَ لَكُمُ ٱرۡجِعُواْ فَٱرۡجِعُواْۖ هُوَ أَزۡكَىٰ لَكُمۡۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ عَلِيمٞ ٢٨

And if you do not find anyone therein, do not enter them until permission has been given you. And if it is said to you, "Go back,"1 then go back; it is purer for you. And Allāh is Knowing of what you do.

لَّيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ أَن تَدۡخُلُواْ بُيُوتًا غَيۡرَ مَسۡكُونَةٖ فِيهَا مَتَٰعٞ لَّكُمۡۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مَا تُبۡدُونَ وَمَا تَكۡتُمُونَ ٢٩

There is no blame upon you for entering houses not inhabited in which there is convenience1 for you. And Allāh knows what you reveal and what you conceal.

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ داخل ہو تم (اور) گھروں میں سوائے اپنے گھروں کے حتی کہ تم اجازت لے لواور سلام کرو اوپر ان گھر والوں کے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو (27)پس اگر نہ پاؤ تم ان میں کسی کو تو نہ داخل ہو تم ان میں حتی کہ اجازت دی جائے تمھیں اور اگر کہا جائے تمھیں ، لوٹ جاؤ تم تو لوٹ جاؤ تم، یہ (واپسی) بہت پاکیزہ ہے تمھارے لیےاور اللہ، ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب جاننے والا ہے (28) نہیں ہے تم پر کوئی گناہ یہ کہ داخل ہو تم ایسے گھروں میں کہ نہیں سکونت کی جاتی ان میں ،ان میں منفعت (فائدہ) ہے تمھارے لیے اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو (29)

[27]اللہ باری تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتا ہے کہ وہ اپنے گھر کے سوا دوسرے گھروں میں اجازت لیے بغیر داخل نہ ہوا کریں کیونکہ اس میں متعدد مفاسد ہیں:(۱) جس کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اجازت طلبی نظر پڑنے سے بچاؤ ہی کے لیے مقرر کی گئی ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الاستئذان، باب الاستئذان من اجل البصر، ح:6241 و صحیح مسلم، الآداب، باب تحریم النظر فی بیت غیرہ، ح:2156)اجازت طلبی میں خلل واقع ہو جانے سے گھر کے اندر ستر پر نظر پڑتی ہے۔ کیونکہ گھر انسان کے لیے باہر کے لوگوں سے ستر اور پردہ ہے جیسے کپڑا جسم کو چھپاتا ہے۔(۲) اجازت طلب كيے بغیر گھر میں داخل ہونا، داخل ہونے والے کے بارے میں شک کا موجب ہے اور وہ برائی یعنی چوری وغیرہ سے متہم ہوتا ہے کیونکہ گھر میں خفیہ طور پر داخل ہونا شر پر دلالت کرتا ہے… اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں داخل ہونے سے منع کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اجازت طلب نہ کر لیں ۔ یہاں (استئذان) کو (استئناس) اس لیے کہا گیا ہے کہ اس سے انس حاصل ہوتا ہے اور اس کے معدوم ہونے سے وحشت حاصل ہوتی ہے۔﴿ وَتُسَلِّمُوۡا عَلٰۤى اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور گھر میں رہنے والوں کو سلام کرو۔‘‘ حدیث شریف میں اس کا یہ طریقہ بیان ہوا ہے کہ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے کہو : ’’ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ! اور پھر پوچھو، کیا میں اندر آجاؤں ؟‘‘(سنن ابی داود، الأدب، باب کیف الاستئذان، ح:5177)﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یعنی یہ مذکورہ اجازت طلبی﴿ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔‘‘ کیونکہ اجازت طلبی متعدد مصالح پر مشتمل ہے اور اس کا شمار ایسے مکارم اخلاق میں ہوتا ہے جن کو اپنانا واجب ہے۔ پس اگر گھر میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جائے تو اجازت طلب کرنے والے کو داخل ہونا چاہیے۔

[28]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ تَجِدُوۡا فِيۡهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدۡخُلُوۡهَا حَتّٰى يُؤۡذَنَ لَكُمۡ١ۚ وَاِنۡ قِيۡلَ لَكُمُ ارۡجِعُوۡا فَارۡجِعُوۡا ﴾ ’’اگر وہاں تمھیں کوئی بھی نہ مل سکے تو پھر بھی اجازت ملے بغیر اندر نہ جاؤ اور اگر تمھیں لوٹ جانے کو کہا جائے تو تم لوٹ جاؤ۔‘‘ یعنی اگر تمھیں واپس لوٹنے کے لیے کہا جائے تو انکار نہ کرو اور نہ اس پر ناراضی ہی کا اظہار کرو کیونکہ صاحب خانہ نے تمھیں کسی ایسے امر سے نہیں روکا جو تمھارا حق واجب ہو یہ تو اس کی صوابدید اور نوازش ہے چاہے اجازت دے، چاہے انکار کر دے۔ تم میں سے کسی کو ہتک اور انقباض محسوس نہیں کرنا چاہیے۔ ﴿ هُوَ اَزۡكٰى لَكُمۡ ﴾ تمھیں برائیوں سے پاک کرنے اور تمھاری نیکیوں میں اضافہ کرنے کے لیے یہ طریق کار تمھارے لیے بہتر ہے﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو کچھ تم کررہے ہو اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے تھوڑے یا زیادہ، اچھے یا برے اعمال کا بدلہ دے گا۔

[29] یہ حکم ان گھروں کے لیے ہے جو آباد ہیں خواہ ان میں آدمی کا مال ومتاع موجود ہو یا نہ ہو۔ نیز یہ حکم ان گھروں کے لیے بھی ہے جن میں رہائش نہ ہو مگر اس میں آدمی کا کوئی مال و متاع موجود ہو۔رہے وہ گھر جن میں گھر والے رہائش نہ رکھے ہوئے ہوں اس گھر میں داخل ہونے کے ضرورت مند شخص کا مال و متاع اس گھر میں موجود ہو، اس گھر میں گھر کے مالکان میں سے کوئی ایسا شخص بھی موجود نہ ہو جس سے اجازت طلب کی جا سکتی ہو ، مثلاً: کرائے کے مکانات وغیرہ… تو ایسے گھروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ ﴾ ان گھروں میں داخل ہونے میں تمھارے لیے کوئی حرج ہے نہ گناہ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مذکورہ بالا گھروں میں اجازت حاصل كيے بغیر داخل ہونا حرام ہے اور اس میں حرج اور گناہ ہے۔﴿ اَنۡ تَدۡخُلُوۡا بُيُوۡتًا غَيۡرَ مَسۡكُوۡنَةٍ فِيۡهَا مَتَاعٌ لَّكُمۡ ﴾ ’’یہ کہ ایسے گھروں میں تم داخل ہو جن میں رہائش نہ ہو، البتہ اس میں تمھارا سامان ہو۔‘‘ یہ حکم قرآن کریم کے تعجب انگیز احترازات میں سے ایک ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿لَا تَدۡخُلُوۡا بُيُوۡتًا غَيۡرَ بُيُوۡتِكُمۡ ﴾ ’’اپنے گھروں کے سوا، دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو۔‘‘ ہر گھر کے بارے میں لفظ عام ہے جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس حکم میں سے ان گھروں کو خارج کر دیا جو اس کی ملکیت میں تو نہیں ہیں البتہ اس کی کوئی متاع وہاں موجود ہے اور اس گھر میں کسی کی رہائش نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اس گھر میں داخل ہونے میں حرج کو ساقط کر دیا۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَمَا تَكۡتُمُوۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ تمھارے تمام ظاہری اور باطنی احوال کو خوب جانتا ہے اور اسے تمھارے مصالح کا بھی علم ہے، اس لیے اس نے تمھارے لیے ایسے احکام کی تشریع کی ہے جن کے تم محتاج اور ضرورت مند ہو۔

24:30Page 353

قُل لِّلۡمُؤۡمِنِينَ يَغُضُّواْ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِمۡ وَيَحۡفَظُواْ فُرُوجَهُمۡۚ ذَٰلِكَ أَزۡكَىٰ لَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرُۢ بِمَا يَصۡنَعُونَ ٣٠

Tell the believing men to reduce [some] of their vision1 and guard their private parts.2 That is purer for them. Indeed, Allāh is [fully] Aware of what they do.

آپ کہہ دیجیے مومن مردوں سے، پست رکھیں وہ اپنی نگاہیں اور حفاظت کریں اپنی شرم گاہوں کی یہ بہت پاکیزہ ہے ان کے لیے، بلاشبہ اللہ خوب خبر دار ہے ساتھ ان (کاموں ) کے جو وہ کرتے ہیں (30)

[30]﴿ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ مومنوں سے فرمائیے اور ان لوگوں سے کہہ دیجیے جن کے پاس کچھ ایمان ہے جو انھیں ایسے امور میں پڑنے سے روکتا ہے جو ایمان میں خلل ڈالتے ہیں ۔ ﴿ يَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِهِمۡ ﴾’’وہ اپنی نظروں کو پست رکھیں ۔‘‘ یعنی قابل ستر اور اجنبی عورتوں کی طرف سے اپنی نظروں کو ہٹا لیا کریں ، ان بے ریش لڑکوں پر سے بھی نظر ہٹا لیں جن کو دیکھنے سے فتنے میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو، نیز دنیا کی زیب و زینت کی طرف بھی جن کو دیکھ کر فتنے میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہو اور جو حرام میں مبتلا کر دیتی ہیں ۔﴿ وَيَحۡفَظُوۡا فُرُوۡجَهُمۡ﴾ یعنی عورتوں یا مردوں کے ساتھ بدکاری یا ان کے علاوہ دوسری صورتوں سے اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ۔ اسی طرح ان کو چھونے اور ان کو دیکھنے سے بچیں ۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ آنکھوں اور شرم گاہ کی یہ حفاظت﴿ اَزۡكٰى لَهُمۡ﴾ ان کے لیے زیادہ طہارت، پاکیزگی اور ان کے اعمال خیر میں زیادہ اضافے کا باعث ہے کیونکہ جو کوئی اپنی نظر اور شرم گاہ کی حفاظت کرتا ہے وہ اس گندگی سے پاک ہو جاتا ہے جس میں فواحش کے مرتکب لوگ ملوث ہوتے ہیں اور ان محرمات کو ترک کرنے سے، نفس جن کی خواہش کرتا اور ان کی طرف دعوت دیتا ہے، اعمال خیر میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی خاطر کوئی چیز ترک کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے۔ جو کوئی اپنی آنکھوں کو حرام پر پڑنے سے بچائے رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی بصیرت کو روشن کر دیتا ہے… نیز اگر بندہ اپنی شرم گاہ اور نظر کو حرام اور اس کے مقدمات میں پڑنے سے بچا سکتا ہے درآں حالیکہ شہوت کا داعیہ پوری طرح موجود ہو تو وہ دوسرے حرام میں پڑنے سے اپنے آپ کو زیادہ بچا سکتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں ’’حفاظت‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ پس کسی محفوظ چیز کی حفاظت کے لیے نگرانی اور ان اسباب کو بروئے کار نہ لایا جائے جو اس کی حفاظت کے موجب بنیں تو وہ چیز محفوظ نہیں رہ سکتی۔اسی طرح نظر اور شرم گاہ کا معاملہ ہے، اگر بندہ ان کی حفاظت کی کوشش نہیں کرتا تو وہ ان کو آزمائشوں اور مصیبتوں میں ڈال دیتی ہیں ۔ علاوہ ازیں غور کیجیے، اللہ تعالیٰ نے کیسے شرم گاہ کی حفاظت کا مطلق طور پر حکم دیا ہے کیونکہ شرم گاہ (کا غلط استعمال) کسی حالت میں بھی جائز نہیں ۔ لیکن نظر کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِهِمۡ ﴾ حرف جار (مِنْ) تبعیض پر دلالت کرتا ہے کیونکہ بعض حالات میں ، کسی ضرورت کے تحت غیر محرم چہروں کو دیکھنا جائز ہے، مثلاً: گواہ، حاکم اور نکاح کا پیغام دینے والے کے لیے غیر محرم چہروں پر نظر ڈالنا جائز ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے کئی اعمال کا ذکر فرمایا ہے تاکہ لوگ محرمات سے اپنے نفسوں کی حفاظت کرنے کی کوشش کریں ۔

24:31Page 353

وَقُل لِّلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِنَّ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنۡهَاۖ وَلۡيَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّۖ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوۡ ءَابَآئِهِنَّ أَوۡ ءَابَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوۡ أَبۡنَآئِهِنَّ أَوۡ أَبۡنَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوۡ إِخۡوَٰنِهِنَّ أَوۡ بَنِيٓ إِخۡوَٰنِهِنَّ أَوۡ بَنِيٓ أَخَوَٰتِهِنَّ أَوۡ نِسَآئِهِنَّ أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُنَّ أَوِ ٱلتَّٰبِعِينَ غَيۡرِ أُوْلِي ٱلۡإِرۡبَةِ مِنَ ٱلرِّجَالِ أَوِ ٱلطِّفۡلِ ٱلَّذِينَ لَمۡ يَظۡهَرُواْ عَلَىٰ عَوۡرَٰتِ ٱلنِّسَآءِۖ وَلَا يَضۡرِبۡنَ بِأَرۡجُلِهِنَّ لِيُعۡلَمَ مَا يُخۡفِينَ مِن زِينَتِهِنَّۚ وَتُوبُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ٣١

And tell the believing women to reduce [some] of their vision1 and guard their private parts and not expose their adornment2 except that which [necessarily] appears thereof3 and to wrap [a portion of] their headcovers over their chests and not expose their adornment [i.e., beauty] except to their husbands, their fathers, their husbands' fathers, their sons, their husbands' sons, their brothers, their brothers' sons, their sisters' sons, their women, that which their right hands possess [i.e., slaves], or those male attendants having no physical desire,4 or children who are not yet aware of the private aspects of women. And let them not stamp their feet to make known what they conceal of their adornment. And turn to Allāh in repentance, all of you, O believers, that you might succeed.

او رآپ کہہ دیجیے مومن عورتوں سے، پست رکھیں وہ اپنی نظریں اور حفاظت کریں وہ اپنی شرم گاہوں کی اور نہ ظاہر کریں وہ اپنا بناؤ سنگھار مگر جو ظاہر ہو اس میں سے اورچاہیے کہ ڈالے رہیں وہ اپنی اوڑھنیاں اوپر اپنے گریبانوں کے اور نہ ظاہر کریں وہ اپنا بناؤ سنگھار مگر اپنے خاوندوں کے لیے یااپنے باپ دادا کے لیے یا باپ داداکے لیے اپنے خاوندوں کے یا اپنے بیٹوں کے لیے یا بیٹوں کے لیے اپنے شوہروں کے یا اپنے بھائیوں کے لیے یا بیٹوں کے لیے اپنے بھائیوں کے یا بیٹوں کے لیے اپنی بہنوں کے یا اپنی (مسلمان) عورتوں کے لیے یا ان کے جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ یا ان نوکروں چاکروں کے لیے جو نہیں حاجت مند عورتوں کے ، مردوں میں سے یا ان لڑکوں کے لیے جو نہیں واقف اوپر چھپی باتوں کے عورتوں کی اور نہ ماریں وہ (عورتیں ) پاؤں اپنے (زمین پر) تاکہ جانا جائے وہ جو چھپاتی ہیں وہ اپنے بناؤ سنگھار سے اور توبہ کرو تم طرف اللہ کی سارے ہی، اے مومنو! تاکہ تم فلاح پاؤ (31)

[31] اللہ تعالیٰ نے مومنین کو نظریں جھکانے اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا تو مومنات کو بھی نظر جھکانے اور شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا۔ فرمایا: ﴿ وَقُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِهِنَّ ﴾ ’’اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دیجیے! کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ۔‘‘ یعنی وہ ستر کی جگہوں اور مردوں پر شہوت کی نظر ڈالنے سے اپنی آنکھوں کو بچائے رکھیں ﴿ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَهُنَّ ﴾اور جماع حرام سے اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ، نیز شرم گاہوں کو چھونے اور ان کی طرف حرام نظر سے ان کی حفاظت کریں ۔﴿ وَلَا يُبۡدِيۡنَ زِيۡنَتَهُنَّ ﴾ ’’اور اپنی زیب وزینت کی نمائش نہ کریں ‘‘مثلاً: خوبصورت لباس، زیورات اور تمام بدن زینت میں شمار ہوتے ہیں ۔ چونکہ ظاہری لباس جس کو عادت کے مطابق پہنا جاتا ہے، کی نمائش کو نہیں روکا جا سکتا اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنۡهَا ﴾ ’’مگر جو اس (زینت)سے ظاہر ہو۔‘‘ یعنی وہ ظاہری لباس، جو عام طور پر پہنا جاتا ہے، اس لباس میں ایسی کوئی چیز نہ ہو جو فتنہ کو دعوت دیتی ہو۔﴿ وَلۡيَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوۡبِهِنَّ﴾ ’’اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں ۔‘‘ اور یہ حکم کامل سترپوشی کے لیے ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہ زینت جس کی نمائش حرام ہے اس میں تمام بدن داخل ہے جیسا کہ ہم اس کا ذکر کر چکے ہیں ، پھر زیب و زینت کی نمائش سے مکرر منع کرتے ہوئے اس میں سے ان لوگوں کو مستثنیٰ فرمایا:﴿ اِلَّا لِبُعُوۡلَتِهِنَّ ﴾ یعنی اپنے شوہروں کے سامنے زینت کا اظہار جائز ہے۔ ﴿ اَوۡ اٰبَآىِٕهِنَّ اَوۡ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِهِنَّ ﴾ ’’یا ان کے اپنے باپ دادا یا ان کے شوہروں کے باپ دادا کے سوا‘‘ یعنی اس استثناء میں باپ دادا اوپر تک شامل ہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَبۡنَآىِٕهِنَّ۠ اَوۡ اَبۡنَآءِ بُعُوۡلَتِهِنَّ ﴾ اور اس میں اپنے بیٹے، اپنے خاوندوں کے بیٹے اور پوتے اور پرپوتے بھی، نیچے تک شامل ہیں ۔ ﴿ اَوۡ اِخۡوَانِهِنَّ اَوۡ بَنِيۡۤ اِخۡوَانِهِنَّ ﴾ ’’یا بھائی یا بھتیجے‘‘ خواہ وہ حقیقی (عینی)، علاتی (با پ شریک) یا اخیافی (ماں شریک) بھائی ہوں ۔ ﴿ اَوۡ بَنِيۡۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوۡ نِسَآىِٕهِنَّ ﴾’’یا بھانجے یا ان کی عورتیں ۔‘‘ یعنی مسلمان عورتوں کے لیے ایک دوسری پر نظر ڈالنا مطلقاً جائز ہے۔ اس میں اس امر کا احتمال بھی ہے کہ اضافت جنسیت کی مقتضی ہو، یعنی اپنی ’’عورتوں ‘‘ سے مراد مسلمان عورتیں ہیں جو تمھاری جنس سے تعلق رکھتی ہیں تب اس میں ان لوگوں کے لیے دلیل ہے جن کا موقف ہے کہ مسلمان عورت کی طرف ذمی عورت کا دیکھنا جائز نہیں ۔﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُنَّ ﴾ ’’یا جن کے تمھارے دائیں ہاتھ مالک ہوئے۔‘‘ یعنی اس غلام کے لیے جو گھر میں صرف خواتین کی خدمت کے لیے مامور ہے، اپنی مالکن کو اس وقت تک دیکھنا جائزہے جب تک کہ مکمل طور پر اس کی ملکیت میں ہے جب ملکیت مکمل طور پر یا جزوی طور پر زائل ہو جائے تو مالکن پر نظر ڈالنا جائز نہیں ۔ ﴿ اَوِ التّٰبِعِيۡنَ غَيۡرِ اُولِي الۡاِرۡبَةِ مِنَ الرِّجَالِ ﴾ یعنی وہ مرد جو تمھارے زیردست ہیں اور تمھارے ساتھ ان کا تعلق ہے جو کسی قسم کی شہوانی اغراض نہ رکھتے ہوں ، مثلاً:ناقص العقل لوگ، جو شہوانی شعور نہیں رکھتے اور وہ لوگ جن میں عورتوں کے پاس جانے کی خواہش باقی نہ رہے، ان کی شرمگاہ میں شہوت ہو نہ ان کے دل میں خواہش۔ ایسے شخص کے لیے نظر ڈالنا جائز ہے۔﴿ اَوِ الطِّفۡلِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يَظۡهَرُوۡا عَلٰى عَوۡرٰتِ النِّسَآءِ ﴾ یعنی وہ بچے جو اس قسم کی تمیز نہیں رکھتے ان کے لیے غیر عورتوں کو دیکھنا جائز ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی یہ علت بیان کی ہے کہ وہ عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے واقف ہیں نہ اس کا علم رکھتے ہیں اور نہ ان میں شہوت پائی جاتی ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایسے بچوں سے پردہ کرنا فرض ہے جو سن تمیز کو پہنچ چکے ہوں کیونکہ اب وہ عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے واقف ہیں ۔ ﴿ وَلَا يَضۡرِبۡنَ بِاَرۡجُلِهِنَّ لِيُعۡلَمَ مَا يُخۡفِيۡنَ مِنۡ زِيۡنَتِهِنَّ﴾ یعنی وہ زمین پر پاؤں مار کر نہ چلیں تاکہ ان کے پہنے ہوئے زیورات ، مثلاً: پازیب وغیرہ کی آواز نہ آئے اور اس سبب سے اس کی زینت ظاہر نہ ہو جو فتنے کا وسیلہ بن سکے۔اس آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات سے ’’سدذرائع‘‘ کے فقہی قاعدے کا استنباط کیا جاتا ہے، یعنی کوئی امر، اگرچہ وہ فی نفسہٖ مباح ہے مگر اس پر عمل کرنے سے کسی حرام امر کا ارتکاب ہوتا ہے یا اس کا خدشہ ہے تو سدذریعہ کے طور پر یہ مباح امر ممنوع ہو جائے گا… زمین پر پاؤں مارنا فی نفسہ مباح ہے لیکن چونکہ یہ اظہار زینت کا ذریعہ ہے، اس لیے پاؤں مار کر چلنے سے روک دیا گیا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین احکام کا حکم دیا ہے اور بہترین وصیتیں عنایت فرمائی ہیں ۔ ان پر عمل کرنے میں بندۂ مومن سے کوتاہی واقع ہونا ایک لابدی امر ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے توبہ کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:﴿ وَتُوۡبُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِيۡعًا اَيُّهَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور تمام مومنو! اللہ کے ہاں توبہ کرو‘‘ یہ حکم دینے کے بعد فلاح کو اس پر معلق رکھا، چنانچہ فرمایا:﴿ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم کامیابی حاصل کرو‘‘ اور توبہ کیا ہے؟ ان کاموں کو ظاہری اور باطنی طور پر ترک کر کے، جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں ، ان امور کی طرف لوٹنا جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں ۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ہر مومن توبہ کا محتاج ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام اہل ایمان کو خطاب فرمایا ہے، نیز اس آیت میں خالص توبہ کی ترغیب دی گئی ہے۔﴿وَتُوۡبُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے سوا اور کوئی مقصد نہ ہو۔ آفات دنیا، ریا اور شہرت وغیرہ جیسے فاسد مقاصد سے محفوظ ہو۔

24:32–33Page 354

وَأَنكِحُواْ ٱلۡأَيَٰمَىٰ مِنكُمۡ وَٱلصَّٰلِحِينَ مِنۡ عِبَادِكُمۡ وَإِمَآئِكُمۡۚ إِن يَكُونُواْ فُقَرَآءَ يُغۡنِهِمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٞ ٣٢

And marry the unmarried among you and the righteous among your male slaves and female slaves. If they should be poor, Allāh will enrich them from His bounty, and Allāh is all-Encompassing and Knowing.

وَلۡيَسۡتَعۡفِفِ ٱلَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ يُغۡنِيَهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦۗ وَٱلَّذِينَ يَبۡتَغُونَ ٱلۡكِتَٰبَ مِمَّا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡ فَكَاتِبُوهُمۡ إِنۡ عَلِمۡتُمۡ فِيهِمۡ خَيۡرٗاۖ وَءَاتُوهُم مِّن مَّالِ ٱللَّهِ ٱلَّذِيٓ ءَاتَىٰكُمۡۚ وَلَا تُكۡرِهُواْ فَتَيَٰتِكُمۡ عَلَى ٱلۡبِغَآءِ إِنۡ أَرَدۡنَ تَحَصُّنٗا لِّتَبۡتَغُواْ عَرَضَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۚ وَمَن يُكۡرِههُّنَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ مِنۢ بَعۡدِ إِكۡرَٰهِهِنَّ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٣٣

But let them who find not [the means for] marriage abstain [from sexual relations] until Allāh enriches them from His bounty. And those who seek a contract [for eventual emancipation] from among whom your right hands possess1 - then make a contract with them if you know there is within them goodness and give them from the wealth of Allāh which He has given you. And do not compel your slave girls to prostitution, if they desire chastity, to seek [thereby] the temporary interests of worldly life. And if someone should compel them, then indeed, Allāh is [to them], after their compulsion, Forgiving and Merciful.

اور نکاح کروتم بے نکاحوں کا اپنے میں سے اور (ان کا بھی) جو نیک ہیں تمھارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے اگر ہوں گے وہ فقیر تو غنی کر دے گا انھیں اللہ اپنے فضل سے اور اللہ وسعت والا خوب جاننے والا ہے (32)اور چاہیے کہ پاک دامن رہیں وہ لوگ جو نہیں پاتے (طاقت) نکاح کی حتی کہ غنی کر دے انھیں اللہ اپنے فضل سےاور وہ لوگ جو چاہتے ہیں مکاتیب (آزادی کی تحریم لکھانا) ان لوگوں میں سے کہ مالک ہیں (ان کے) تمھارے دائیں ہاتھ تو تم لکھ کر دے دو ان کو اگر معلوم کرو تم ان میں بھلائی اور دو تم ان کو اللہ کے (دیے ہوئے) اس مال میں سے وہ جو اس نے دیا ہے تمھیں اور نہ مجبور کرو تم اپنی لونڈیوں کو اوپر بدکاری کرنے کے، اگر وہ چاہیں بچناتاکہ تلاش کرو تم سامان زندگانیٔ دنیا کا اور جو کوئی مجبور کرے گا انھیں تو بلاشبہ اللہ بعد ان کے مجبور کیے جانے کے، بہت بخشنے والا ، نہایت رحم کرنے والا ہے (33)

[32] اللہ تبارک و تعالیٰ سرپرستوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان مجرد عورتوں اور مردوں کا نکاح کریں جو ان کی سرپرستی میں ہیں ۔ (ایامی)سے مراد وہ مرد اور عورتیں ہیں جن کی بیویاں اور شوہر نہ ہوں یعنی کنوارے اور رنڈوے مردوزن، لہٰذا قریبی رشتہ داروں اور یتیموں کے سرپرستوں پر واجب ہے کہ وہ ایسے مردوزن کا نکاح کریں جو نکاح کے محتاج ہیں ، یعنی جن کی کفالت ان پر واجب ہے۔ جب وہ ان لوگوں کا نکاح کرنے پر مامور ہیں جو ان کے زیر دست ہیں تو خود اپنے نکاح کا حکم تو زیادہ موکد اور اولیٰ ہے۔﴿ وَالصّٰؔلِحِيۡنَ مِنۡ عِبَادِكُمۡ وَاِمَآىِٕكُمۡ﴾’’اور اپنے نیک بخت غلاموں اور لونڈیوں کا بھی۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ صالحین سے مراد وہ لونڈی اور غلام ہیں جو دینی اعتبار سے صالح ہوں کیونکہ لونڈیوں اور غلاموں میں سے جو لوگ دینی اعتبار سے صالح ہیں ، وہی لوگ ہیں جو بدکار اور زانی نہیں ہوتے، ان کا آقا اس بات پر مامور ہے کہ وہ ان کا نکاح کرے، یہ ان کی صالحیت کی جزا اور اس کی ترغیب ہے، نیز زناکار کا نکاح کرنے سے روکا گیا ہے تب یہ اس حکم کی تائید ہے جس کا ذکر سورت کی ابتداء میں کیا گیا ہے کہ زانی اور زانیہ جب تک توبہ نہ کریں ، ان کا نکاح حرام ہے… اور آزاد مرد و زن کی بجائے غلاموں کے نکاح کے لیے صالحیت کی تخصیص اس لیے ہے کہ عادۃً غلاموں میں فسق و فجور زیادہ ہوتا ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ صالحین سے مراد وہ لونڈی اور غلام ہوں جو نکاح کی صلاحیت رکھتے ہوں اور نکاح کے محتاج ہوں ۔ اس معنی کی تائید یہ بات بھی کرتی ہے کہ جب تک مملوک نکاح کا حاجت مند نہ ہو اس کا مالک اس کا نکاح کرنے پر مامور نہیں … اور یہ بھی کوئی بعید بات نہیں کہ اس سے دونوں ہی معنی مراد ہوں ۔ واللہ اعلم۔﴿ اِنۡ يَّكُوۡنُوۡا فُقَرَآءَؔ ﴾ ’’اور اگر ہوں گے وہ تنگ دست۔‘‘ یعنی خاوند اور نکاح کرنے والے ﴿ يُغۡنِهِمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ﴾ ’’تو غنی کر دے گا اللہ ان کو اپنے فضل سے۔‘‘ پس تمھیں یہ وہم نکاح کرنے سے نہ روک دے کہ جب تم نکاح کر لو گے تو عائلی بوجھ کی وجہ سے محتاج ہو جاؤ گے۔ اس آیت کریمہ میں نکاح کی ترغیب ہے، نیز نکاح کرنے والے سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اسے فقر کے بعد فراخی اور خوش حالی حاصل ہو گی۔﴿ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ بہت زیادہ بھلائی اور فضل عظیم کا مالک ہے۔ ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ وہ ان سب کو جانتا ہے جو اس کے دینی اور دنیاوی فضل یا کسی ایک کے مستحق ہیں اور وہ انھیں بھی جانتا ہے جو اس کے مستحق نہیں ہیں ۔ وہ ان سب کو اپنے علم اور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق عطا کرتا ہے۔

[33]﴿ وَلۡيَسۡتَعۡفِفِ الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ نِكَاحًا حَتّٰى يُغۡنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ ’’اور ان لوگوں کو پاک دامن رہنا چاہیے جو نکاح کی طاقت نہیں رکھتے، یہاں تک کہ اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے۔‘‘ یہ اس شخص کے لیے حکم ہے جو نکاح کرنے سے عاجز ہے۔ اللہ نے اس کو حکم دیا ہے کہ وہ پاک بازی کو اپنا شیوہ بنائے، حرام کاری میں پڑنے سے بچے اور ایسے اسباب اختیار کرے جو اسے حرام کاری سے بچائیں یعنی قلب کو ایسے خیالات سے بچائے رکھے جو حرام کاری میں پڑنے کی دعوت دیتے ہوں ، نیز وہ حرام کاری سے محفوظ رہنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اے نوجوانو! تم میں سے جو کوئی نکاح کی طاقت رکھتا ہے وہ نکاح کرے اور جو کوئی نکاح کی طاقت نہیں رکھتا تو اسے چاہیے کہ وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ شہوت کو ختم کرتا ہے۔‘‘( صحیح البخاري، النکاح، باب قول النبیﷺ من استطاع منکم…، ح: 5065 و صحیح مسلم، النکاح، باب استحباب النکاح لمن تاقت…، ح:1400)﴿ الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ نِكَاحًا ﴾یعنی اپنی محتاجی یا اپنے مالکوں کی محتاجی یا مالکوں کے نکاح نہ کرنے کی وجہ سے اگر وہ نکاح کرنے کی قدرت نہیں رکھتے اور وہ اپنے نکاح کے لیے اپنے مالکوں کو مجبور بھی نہیں کر سکتے۔ یہ معنی مقدر اس معنی سے بہتر ہے جو بعض لوگوں نے مراد لیا ہے کہ ’’جو لوگ نکاح کا مہر ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔‘‘ انھوں نے مضاف الیہ کو مضاف کا قائم مقام بنایا۔ مگر یہ معنی مراد لینے میں دو رکاوٹیں ہیں ۔(۱)کلام میں حذف ماننا پڑے گا، جبکہ اصل عدم حذف ہے۔(۲)معنی کا اس شخص میں منحصر ہونا جس کی دو حالتیں ہوں ، اپنے مال کی وجہ سے غنا کی حالت اور ناداری کی حالت۔اس صورت میں غلام اور لونڈیاں اس سے نکل جاتی ہیں اور اسی طرح وہ بھی جن کا نکاح کرانا سرپرست کے ذمے ہے، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا۔﴿ حَتّٰى يُغۡنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾اللہ تبارک و تعالیٰ نے پاک دامن شخص کے لیے غنا کا وعدہ کیا ہے، نیز یہ کہ وہ اس کے معاملے کو آسان کر دے گا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا ہے کہ کشادگی کا انتظار کرے تاکہ موجود حالات اس پر گراں نہ گزریں ۔﴿ وَالَّذِيۡنَ يَبۡتَغُوۡنَ الۡكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ فَكَاتِبُوۡهُمۡ ﴾ یعنی تمھارے غلام اور لونڈیوں میں سے جو کوئی تم سے مکاتبت کا طلب گار ہو اور اپنے آپ کو خریدنا چاہے تو اس کی بات مانتے ہوئے اس سے مکاتبت کر لو﴿ اِنۡ عَلِمۡتُمۡ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اگر جانو تم ان میں ۔‘‘ یعنی مکاتبت کے طلب گار غلاموں میں ﴿خَيۡرًا﴾ ’’بھلائی۔‘‘ یعنی کمانے کی طاقت اور دین میں بھلائی کیونکہ مکاتبت میں دو مصلحتوں کا حصول مقصود ہے۔ آزادی کی مصلحت اور اس معاوضے کی مصلحت، جو وہ اپنے نفس کی آزادی کے لیے خرچ کرتا ہے۔ بسااوقات وہ جدوجہد کر کے مکاتبت کی مدت کے اندر اپنے آقا کو اتنا مال مہیا کر دیتا ہے جو وہ غلامی میں رہتے ہوئے نہیں کر سکتا۔ اس لیے غلام کے لیے ایک بڑی منفعت کے حصول کے ساتھ ساتھ، اس مکاتبت میں آقا کو بھی نقصان نہیں پہنچتا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس پہلو سے مکاتبت کا حکم دیا ہے، جو وجوب کا حکم ہے جیسا کہ ظاہر ہے۔ یا دوسرے قول کے مطابق یہ حکم استحباب کے طور پر ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی مکاتبت پر ان کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ وہ اس کے محتاج ہیں اوراس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی مال نہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَّاٰتُوۡهُمۡ مِّنۡ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِيۡۤ اٰتٰىكُمۡ﴾ ’’اور تم ان کو اس مال میں سے دو جو اللہ نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ اس میں مکاتب کے آقا کا معاملہ بھی شامل ہے جس نے اس کے ساتھ مکاتبت کی ہے کہ وہ اس کی مکاتبت میں اس کو کچھ عطا کرے یا مکاتبت کی مقررہ رقم میں سے کچھ حصہ ساقط کر دے اور اللہ تعالیٰ نے دوسرے لوگوں کو بھی مکاتب کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مکاتبین کے لیے زکاۃ میں حصہ رکھ دیا ہے اور زکاۃ میں سے مکاتبین کو عطا کرنے کی ترغیب دی ہے۔ فرمایا: ﴿ مِّنۡ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِيۡۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ یعنی جس طرح، یہ مال درحقیقت اللہ کا مال ہے، اس مال کا تمھارے ہاتھوں میں ہونا تم پر اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کا محض عطیہ ہے، اسی طرح تم بھی اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ احسان کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر غلام مکاتبت کا مطالبہ نہ کرے تو اس کے آقا کو حکم نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اس کے ساتھ مکاتبت کی ابتدا کرے، جبکہ اس میں اسے کوئی بھلائی نظر نہ آئے یا اسے معاملہ برعکس نظر آئے، یعنی وہ جانتا ہو کہ وہ کما نہیں سکتا اور اس طرح وہ لوگوں پر بوجھ بن کر ضائع ہو جائے گا۔ یا اسے یہ خوف ہو کہ جب بھی اس کو آزاد کر دیا گیا اور اسے آزادی حاصل ہو گئی تو اسے فساد برپا کرنے کی قدرت حاصل ہو جائے گی تو ایسے غلام کے بارے میں اس کے آقا کو مکاتبت کا حکم نہیں دیا جا سکتا بلکہ اس کے برعکس اس کو مکاتبت سے روکا جائے گا کیونکہ اس میں متذکرہ بالا خطرہ موجود ہے جس سے بچنا چاہیے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَا تُكۡرِهُوۡا فَتَيٰتِكُمۡ ﴾ ’’اور نہ مجبور کرو تم اپنی لونڈیوں کو‘‘ ﴿ عَلَى الۡبِغَآءِ ﴾ ’’زنا کار بننے پر‘‘ ﴿ اِنۡ اَرَدۡنَ تَحَصُّنًا ﴾ ’’اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں ۔‘‘ اس لیے کہ اس حالت کے سوا کسی حالت میں اسے مجبور کرنے کا تصور نہیں کیا جاسکتا اور اگر وہ پاک دامن رہنا نہ چاہے تو اس صورت میں وہ بدکار ہے اور اس کے آقا پر واجب ہے کہ وہ اس کو اس بدکاری سے روک دے۔ اللہ تعالیٰ نے لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور کرنے سے اس لیے روکا ہے کہ جاہلیت میں لونڈیوں کو بدکاری کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ آقا اجرت کی خاطر اپنی لونڈی کو بدکاری پر مجبور کرتا تھا، اس لیے فرمایا:﴿ لِّتَبۡتَغُوۡا عَرَضَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’تاکہ تم تلاش کرو دنیا کی زندگی کا سامان۔‘‘ پس تمھارے لیے یہ مناسب نہیں کہ تمھاری لونڈیاں تم سے بہتر اور پاک باز ہوں اور تم صرف دنیا کے مال ومتاع کی خاطر ان کے ساتھ یہ سلوک کرو۔ دنیا کا مال بہت قلیل ہے وہ سامنے آتا ہے، پھر ختم ہو جاتا ہے۔ تمھاری کمائی تمھاری پاکیزگی، نظافت اور مروت ہے… آخرت کے ثواب وعقاب سے قطع نظر… یہ اس تھوڑے سے سامانِ دنیا کمانے سے کہیں بہتر ہے جو تمھارے رذالت اور خساست کے کمانے سے حاصل ہوتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو توبہ کی طرف بلایا جن سے اپنی لونڈیوں پر جبر کرنے کا یہ گناہ سرزد ہوا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَنۡ يُّؔكۡرِهۡهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنۢۡ بَعۡدِ اِكۡرَاهِهِنَّ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو ان کو مجبور کرے گا تو اللہ ان کے مجبورکرنے کے بعد غفور رحیم ہے۔‘‘ یعنی اسے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرنی چاہیے اور ان تمام گناہوں کو چھوڑ دینا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ۔ جب وہ ان تمام گناہوں سے توبہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو بخش دے گا اور اس پر اسی طرح رحم فرمائے گا جس طرح تائب نے اپنے نفس کو عذاب سے بچا کر اپنے آپ پر رحم کیا اور جس طرح اس نے اپنی لونڈی کو ایسے فعل پر، جو اس کے لیے ضرر رساں تھا، مجبور نہ کر کے اس پر رحم کیا۔

24:34Page 354

وَلَقَدۡ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكُمۡ ءَايَٰتٖ مُّبَيِّنَٰتٖ وَمَثَلٗا مِّنَ ٱلَّذِينَ خَلَوۡاْ مِن قَبۡلِكُمۡ وَمَوۡعِظَةٗ لِّلۡمُتَّقِينَ ٣٤

And We have certainly sent down to you distinct verses1 and examples from those who passed on before you and an admonition for those who fear Allāh.

اور البتہ تحقیق نازل کیں ہم نے تمھاری طرف آیتیں واضح اور کچھ حال ان لوگوں کا جو گزر چکے پہلے تم سےاور نصیحت واسطے پرہیز گاروں کے (34)

[34] یہ ان آیات کریمہ کی قدرومنزلت اور تعظیم ہے جن کی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر تلاوت فرمائی تاکہ وہ ان کی قدروقیمت کو پہچان لیں اور ان کے حقوق کو قائم کریں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكُمۡ اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ ﴾ ’’اور ہم نے نازل کیں تمھاری طرف آیات واضح کرنے والی ۔‘‘ یعنی وہ اصولی اور فروعی ہر معاملے میں ، جن کے تم محتاج ہو، اس طرح واضح طور پر دلالت کرتی ہیں کہ کوئی اشکال اور شبہ باقی نہیں رہتا۔ ﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ اس طرح نازل کیں ہم نے ﴿مَثَلًا مِّنَ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ ﴾’’ان لوگوں کی کہاوتیں جو تم سے پہلے گزرے۔‘‘ یعنی ہم نے تمھاری طرف تم سے پہلے گزرے ہوئے اچھے برے لوگوں ، ان کے اعمال اور ان کے ساتھ جو کچھ ہوا… کی خبریں نازل کیں ، جن کو مثال بنا کر تم عبرت حاصل کر سکتے ہو، یعنی جو کوئی ان جیسے افعال کا ارتکاب کرے گا اس کو وہی جزا دی جائے گی جو ان لوگوں کو دی گئی۔﴿ وَمَوۡعِظَةً لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠ ﴾ یعنی اور ہم نے تمھاری طرف اہل تقویٰ کے لیے نصیحت نازل کی ہے جو وعد و وعید اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہے۔ اہل تقویٰ اس سے نصیحت پکڑتے ہیں اور ان امور سے رک جاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے اور ایسے امور اختیار کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں ۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском