As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
An-Naml 27:15–59, continued
[33,32] یہ اس ملکہ کے حزم و احتیاط اور اس کی عقل مندی تھی کہ اس نے سلطنت کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور کہنے لگی: ﴿ قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡۤ اَمۡرِيۡ ﴾ ’’اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ یعنی مجھے بتاؤ کہ ہم سلیمان(u) کو کیا جواب دیں کیا ہم اس کی اطاعت قبول کر لیں یا اس کے علاوہ کچھ اور کریں ؟ ﴿ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ﴾ یعنی میں تمھاری رائے اور مشورہ کے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق احکام جاری نہیں کرتی۔ ﴿قَالُوۡا نَحۡنُ اُولُوۡا قُوَّةٍ وَّاُولُوۡا بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم بڑے زور آور اور سخت جنگ جو ہیں ۔‘‘ یعنی اگر آپ سلیمان(u) کی بات کو ٹھکرا دیں اور اس کی اطاعت قبول نہ کریں تو ہم جنگ کرنے کی قوت رکھتے ہیں ۔ ان کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہو جاتا تو ان کی بہت تباہی ہوتی، پھر وہ اپنی رائے پر قائم نہ رہے بلکہ کہنے لگے:﴿ وَّالۡاَمۡرُ اِلَيۡكِ ﴾ ’’اور حکم آپ کے اختیار میں ہے۔‘‘ یعنی آپ جو رائے دیں گی اسی کو اختیار کیا جائے گا کیونکہ وہ اس کی عقل مندی، حزم واحتیاط اور خیرخواہی کو جانتے تھے۔ ﴿ فَانۡظُرِيۡ ﴾ ’’پس دیکھیے‘‘ یعنی غور وفکر کیجیے! ﴿ مَاذَا تَاۡمُرِيۡنَ ﴾ ’’آپ کیا حکم فرماتی ہیں ۔‘‘
[35,34] قوم سبا کی ملکہ نے اپنے سرداروں کو ان کی رائے سے صرف نظر کرنے پر راضی کرتے اور جنگ کا انجام واضح کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡكَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡيَةً اَفۡسَدُوۡهَا ﴾ ’’بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں (تو قتل و غارت، لوٹ مار کر کے، لوگوں کو قیدی بنا کر اور گھروں کو اجاڑ کر) فساد برپا کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّةَ اَهۡلِهَاۤ اَذِلَّةً﴾ ’’اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کردیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ رؤساء اور اشراف کو ذلیل کرتے ہیں ۔ پس یہ رائے درست نہیں ہے، نیز میں آزمائے بغیر اور کوئی ایسا آدمی بھیجے بغیر جو اس کے احوال پر سے پردہ ہٹا سکے، اس کی اطاعت قبول نہیں کروں گی تب ہمارا معاملہ بصیرت پر مبنی ہو گا۔ ملکہ نے کہا:﴿ وَاِنِّيۡ مُرۡسِلَةٌ اِلَيۡهِمۡ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرۡجِعُ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اور میں ان کی طرف کوئی تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں ۔‘‘ یعنی سلیمانu کی طرف سے ایلچی کو کیا جواب ملتا ہے آیا وہ اپنی رائے اور اپنے قول پر قائم رہتا ہے یا ہدیہ اسے فریب میں مبتلا کر کے اس کی رائے اور ارادے کو بدل دیتا ہے؟ نیز اس کے اور اس کی افواج کے کیا حالات ہیں ؟
[36] پس ملکہ نے اپنی قوم کے عقل مند اور اصحاب رائے لوگوں کو ہدیوں کے ساتھ سلیمانu کی خدمت میں روانہ کیا۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ ’’پس جب وہ (قاصد) سلیمان (u) کے پاس پہنچا۔‘‘ یعنی ملکہ کے ایلچی تحائف لے کر سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالَ ﴾ توحضرت سلیمان نے ان کے انکار کرنے اور ان کی دعوت پر لبیک نہ کہنے پر سخت ناراض ہوتے ہوئے کہا: ﴿ اَتُمِدُّوۡنَنِ بِمَالٍ١ٞ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيۡرٌ مِّؔمَّاۤ اٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے۔‘‘ تمھاری ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں اور نہ ان کے آنے پر مجھے کوئی خوشی ہی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز کر ان چیزوں سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ بِهَدِيَّتِكُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم ہی اپنے ہدیے پر اتراتے ہو۔‘‘ تم دنیا سے محبت کی بنا پر ان تحائف پر اتراتے ہو، تمھارے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی نسبت کہیں کم ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کر رکھا ہے۔
[37] پھر حضرت سلیمانu نے جب ایلچی میں عقل و دانش دیکھی اور آپ نے اندازہ کر لیا کہ وہ آپ کے پیغام کو من وعن ملکہ تک پہنچا دے گا تو آپ نے خط لکھے بغیر پیغام دیا اور کہا: ﴿ اِرۡجِـعۡ اِلَيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے پاس واپس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ تحائف واپس ان کے پاس لے جاؤ ﴿ فَلَنَاۡتِيَنَّهُمۡ بِجُنُوۡدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمۡ بِهَا ﴾ ’’ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے، جس کے مقابلے کی ان کو طاقت نہ ہو گی۔‘‘ ﴿وَلَنُخۡرِجَنَّهُمۡ مِّؔنۡهَاۤ اَذِلَّةً وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے۔‘‘ پس وہ ایلچی واپس آیا اور ان کو سلیمانu کا پیغام پہنچا دیا اور وہ سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
[40-38] حضرت سلیمانu کو علم تھا کہ وہ ضرور ان کی طرف آئیں گے اس لیے انھوں نے اپنی مجلس میں موجود جنوں اور انسانوں سے کہا: ﴿ اَيُّكُمۡ يَاۡتِيۡنِيۡ بِعَرۡشِهَا قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتُوۡنِيۡ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ مطیع ہو کر ہمارے پاس آئیں ، اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے۔‘‘ تاکہ ان کے مسلمان ہونے سے پہلے پہلے ہم ان کے تخت میں تصرف کر سکیں کیونکہ ان کے مسلمان ہونے کے بعد ان کے اموال حرام ہو جائیں گے۔(لیکن فاضل مفسر کی یہ توجیہ صحیح نہیں ۔ اس کی وجہ تو یہی معلوم ہوتی کہ ملکہ کے تخت میں تصرف کرنے سے اس کی ذہانت و فطانت کا جو صاحب اقتدار کے لیے ضروری ہے، امتحان لینا مقصود تھا، جیسا کہ آگے آیت ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِيۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ﴾ سے واضح ہے۔ (ص۔ي)﴿ قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ ﴾ ’’جنات میں سے ’’عفریت‘‘ نے کہا۔‘‘ عفریت سے مراد وہ (جن وغیرہ) ہے جو نہایت طاقتور اور چست ہو۔ ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ١ۚ وَاِنِّيۡ عَلَيۡهِ لَقَوِيٌّ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں ۔ میں اس کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں ۔‘‘ ظاہر ہے اس وقت سلیمانu شام کے علاقے میں تھے ان کے درمیان اور قوم سبا کے علاقے کے درمیان تقریباً چار ماہ کی مسافت تھی… دو ماہ جانے کے لیے اور دو ماہ واپس لوٹنے کے لیے۔ بایں ہمہ اس عفریت نے کہا کہ اس تخت کے بڑا اور بھاری ہونے اور فاصلہ زیادہ ہونے کے باوجود وہ اسے لانے کا التزام کرتا ہے اور حضرت سلیمانu کے اس مجلس سے کھڑا ہونے سے پہلے پہلے وہ اسے لا کر پیش کر دے گا۔ اس قسم کی طویل مجالس کی عادت یہ ہوتی ہے کہ یہ زیادہ تر چاشت کے وقت تک رہتی ہیں یعنی یہ مجالس دن کے تیسرے حصے تک جاری رہتی ہیں یہ عام معمول کے وقت کی انتہاء ہے تاہم اس وقت میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم بادشاہ کی رعیت میں ایسے افراد موجود تھے جن کے پاس اتنی قوت اور قدرت تھی اور اس سے بھی بڑھ کر ﴿ قَالَ الَّذِيۡ عِنۡدَهٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡكِتٰبِ﴾ ’’وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا بولا … ‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ وہ ایک عالم فاضل اور صالح شخص تھا جو حضرت سلیمانu کی خدمت میں رہتا تھا اسے ’’آصف بن برخیا‘‘ کہا جاتا تھا اس کے پاس ’’اسم اعظم‘‘ کا علم تھا جس کے ذریعے سے جو دعا مانگی جائے اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور جو سوال کیا جائے اللہ عطا کرتا ہے … ﴿ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّرۡتَدَّ اِلَيۡكَ طَرۡفُكَ﴾ ’’میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ اس ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے دعا مانگے گا اور تخت اسی وقت حاضر ہو جائے گا چنانچہ اس نے دعا مانگی اور ملکۂ سبا کا تخت فوراً حاضر ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یا اس کے پاس کتاب کا کوئی ایسا علم تھا جس کی بنا پر وہ دور کی چیز کو اور مشکل امور کو حاصل کرنے کی قدرت رکھتا تھا۔ ﴿فَلَمَّا رَاٰهُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَهٗ﴾ ’’پس جب انھوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی کہ اس نے آپ کو قدرت اور اقتدار عطا کیا اور تمام امور کو آپ کے لیے آسان کر دیا۔ ﴿ قَالَ هٰؔذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّيۡ١ۖ ۫ لِيَبۡلُوَنِيۡۤ ءَاَشۡكُرُ اَمۡ اَكۡفُرُ﴾ ’’کہا، کہ یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے، کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ مجھے اس کے ذریعے سے آزمائے، چنانچہ سلیمانu نے اپنے اقتدار، سلطنت اور طاقت سے … جیسا کہ جاہل ملوک وسلاطین کی عادت ہے … کبھی فریب نہیں کھایا۔ بلکہ آپ کو علم تھا کہ یہ قوت واقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ وہ خائف رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا نہ کر سکیں ، پھر واضح کر دیا کہ شکر کا اللہ تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اس کا فائدہ شکر کرنے والے ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ فرمایا:﴿ وَمَنۡ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشۡكُرُ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيۡ غَنِيٌّ كَرِيۡمٌ ﴾ ’’اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بے نیاز، کرم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کے اعمال سے بے نیاز ہے، وہ کریم ہے بے پایاں بھلائی کا مالک ہے اس کی بھلائی شکر گزار اور ناشکرے سب کو شامل ہے، البتہ جو کوئی اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ مزید نعمتوں کا مستحق بنتا ہے اور جو کوئی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے وہ ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔
[41] پھر سلیمانu نے اپنے پاس والوں سے فرمایا: ﴿ نَؔكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا ﴾ ’’اس (ملکہ) کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔‘‘ یعنی اس تخت میں کچھ کمی بیشی کر کے اسے بدل ڈالو۔ ﴿ نَنۡظُرۡ ﴾ ہم اس بارے میں اس کی عقل کا امتحان لیں گے۔ ﴿ اَتَهۡتَدِيۡۤ ﴾ کیا اسے راہ صواب ملتی ہے اور اس کے پاس وہ ذہانت اور فطانت ہے جو اقتدار کے لائق ہے یا وہ اس سے محروم ہے؟
[42]﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡ ﴾ ’’پس جب وہ (ملکۂ سبا) سلیمانu کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ تو حضرت سلیمانu نے وہ تخت ملکہ سبا کے سامنے پیش کیا اور جس تخت پر وہ متمکن تھی اسے وہ اپنے شہر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ ﴿ قِيۡلَ اَهٰؔكَذَا عَرۡشُكِ ﴾ ’’پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے۔‘‘ یعنی ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کے پاس ایک بہت بڑا تخت ہے۔ کیا وہ اس جیسا تخت ہے جو ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے؟ ﴿ قَالَتۡ كَاَنَّهٗ هُوَ ﴾ ’’اس نے کہا، گویا کہ یہ وہی ہے۔‘‘ یہ ملکۂ سبا کی ذہانت و فطانت تھی کہ اس نے یہ نہیں کہا ’’یہ تو وہی ہے‘‘ کیونکہ اس میں تبدیلی ہو چکی تھی اور نہ اس نے اس کی نفی ہی کی کیونکہ وہ اس تخت کو پہچان چکی تھی اس لیے اس نے اپنے جواب میں ایسا لفظ استعمال کیا جو دونوں امور کا محتمل اور دونوں حالتوں پر صادق آتا تھا۔ سلیمانu نے اس کی ہدایت اور عقل مندی پر حیران ہو کر اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، کہ اس نے اسے اس سے بھی زیادہ عقل و دانش سے نوازا ہے، کہا:﴿وَاُوۡتِيۡنَا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهَا ﴾ ’’اور ہم کو اس سے پہلے ہی علم ہو گیا تھا۔‘‘ یعنی ہدایت، عقل و دانش اور حزم و احتیاط اس ملکہ سے پہلے عطا ہو چکی ہے ﴿ وَؔكُنَّا مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم مسلمان ہیں ۔‘‘ اور یہی حقیقی اور نفع مند ہدایت ہے۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ملکۂ سبا کا قول ہو یعنی ’’ ہمیں سلیمان کی بادشاہت، سلطنت اور وسیع اقتدار کے بارے میں اس حالت سے پہلے ہی علم تھا، جو بہت لمبی مسافت سے ہمارا تخت منگوا کر پیش کرنے کی صورت میں ہم نے اس کی قدرت کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس کے سامنے سر اطاعت خم کرتے ہوئے اور اس کی سلطنت اور اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے اطاعت کے لیے حاضر ہوئے ہیں ۔‘‘
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَصَدَّهَا مَا كَانَتۡ تَّعۡبُدُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ جو اللہ کے سوا پرستش کرتی تھی، اس نے اسے روکے رکھا۔‘‘ یعنی اسے اسلام سے روکے رکھا ورنہ اس میں ذہانت و فطانت تھی جس کے ذریعے سے وہ باطل میں سے حق کو پہچان سکتی تھی۔ مگر حقیقت ہے کہ باطل عقائد بصیرت قلب کو زائل کر دیتے ہیں ﴿ اِنَّهَا كَانَتۡ مِنۡ قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’(اس سے پہلے) وہ کافروں میں سے تھی۔‘‘ اس لیے وہ انھی کے دین پر قائم رہی۔ اہل دین سے کسی ایک شخص کا علیحدہ ہونا… جبکہ اس کی دائمی عادت اس معاملے کے بارے میں یہ ہے کہ اس کی عقل اسے لوگوں کی گمراہی اور خطا قرار دیتی ہے… بہت نادر چیز ہے اس لیے اس کا کفر پر باقی رہنا کوئی تعجب انگیز نہیں ہے۔
[44] پھر سلیمانu نے ارادہ کیا کہ ملکہ ان کی سلطنت کا مشاہدہ کرے جو عقول کو حیران کر دیتی ہے۔ پس آپ نے اس سے کہا کہ وہ محل میں داخل ہو، وہ ایک بلند اور وسیع بیٹھنے کی جگہ تھی اور یہ شیشے سے بنائی گئی تھی جس کے نیچے نہریں جاری تھیں ۔ ﴿ قِيۡلَ لَهَا ادۡخُلِي الصَّرۡحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتۡهُ حَسِبَتۡهُ لُجَّةً ﴾ ’’اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہوجاؤ تو جب اس نے اس کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا۔‘‘ کیونکہ شیشے شفاف تھے اور ان کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ شیشہ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بذات خود چل رہا ہو۔ اس کے سوا کوئی چیز نہ ہو۔ ﴿ وَّؔكَشَفَتۡ عَنۡ سَاقَيۡهَا﴾ ’’اور اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹالیا‘‘ پانی میں داخل ہونے کے لیے۔ یہ چیز بھی ملکہ کی عقل مندی اور اس کے ادب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہ محل میں جہاں اسے داخل ہونے کے لیے کہا گیا، داخل ہونے سے رکی نہیں ۔ اسے علم تھا کہ صرف اس کے اکرام و تکریم کی خاطر ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور سلیمان بادشاہ اور اس کی تنظیم نے حکمت اور دانائی کی بنیاد پر اسے تعمیر کرایا ہے اور جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد کسی بری حالت کے بارے میں اس کے دل میں ادنیٰ سا شک بھی نہ تھا۔ اور جب وہ ’’پانی‘‘ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوئی تو اس سے کہا گیا:﴿ اِنَّهٗ صَرۡحٌ مُّمَرَّدٌ﴾ ’’یہ ایسا محل ہے جس میں جڑے ہوئے ہیں ۔‘‘ یعنی چکنا اور ملائم کیا گیا ہے ﴿ مِّنۡ قَوَارِيۡرَ﴾ ’’شیشوں سے۔‘‘ اس لیے تجھے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پس جب وہ حضرت سلیمانu کے پاس پہنچی، وہاں جو کچھ دیکھا اور اسے سلیمان u کی نبوت اور رسالت کے بارے میں علم ہوا تو وہ اپنے کفر سے باز آ گئی اور کہنے لگی:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ وَاَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَيۡمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی، اب میں سلیمان کے ساتھ کائنات کے رب کی اطاعت قبول کرتی ہوں ۔‘‘ملکۂ سبا اور حضرت سلیمانu کا یہ وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ خود ساختہ فروعات اور اسرائیلی روایات، جو تفسیر کے نام پر پھیلی ہوئی ہیں ، ان کا اللہ تعالیٰ کے کلام کی تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس قسم کی روایات ایسے امور میں شمار ہوتی ہیں جن کا قطعی فیصلہ ایسی دلیل پر موقوف ہوتا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے منقول ہو۔ اس قصہ میں منقول اکثر روایات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ اس لیے کامل احتیاط یہ ہے کہ ان سے اعراض کیا جائے اور ان کو تفسیر میں داخل نہ کیا جائے۔
27:45–53Page 381
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَآ إِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمۡ صَٰلِحًا أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ فَإِذَا هُمۡ فَرِيقَانِ يَخۡتَصِمُونَ ٤٥
And We had certainly sent to Thamūd their brother Ṣāliḥ, [saying], "Worship Allāh," and at once they were two parties conflicting.
قَالَ يَٰقَوۡمِ لِمَ تَسۡتَعۡجِلُونَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبۡلَ ٱلۡحَسَنَةِۖ لَوۡلَا تَسۡتَغۡفِرُونَ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ ٤٦
He said, "O my people, why are you impatient for evil before [i.e., instead of] good?1 Why do you not seek forgiveness of Allāh that you may receive mercy?"
قَالُواْ ٱطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَۚ قَالَ طَٰٓئِرُكُمۡ عِندَ ٱللَّهِۖ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٞ تُفۡتَنُونَ ٤٧
They said, "We consider you a bad omen, you and those with you." He said, "Your omen [i.e., fate] is with Allāh. Rather, you are a people being tested."1
وَكَانَ فِي ٱلۡمَدِينَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٖ يُفۡسِدُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُونَ ٤٨
And there were in the city nine family heads causing corruption in the land and not amending [its affairs].
قَالُواْ تَقَاسَمُواْ بِٱللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُۥ وَأَهۡلَهُۥ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِۦ مَا شَهِدۡنَا مَهۡلِكَ أَهۡلِهِۦ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ ٤٩
They said, "Take a mutual oath by Allāh that we will kill him by night, he and his family. Then we will say to his executor,1 'We did not witness the destruction of his family, and indeed, we are truthful.'"
وَمَكَرُواْ مَكۡرٗا وَمَكَرۡنَا مَكۡرٗا وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ ٥٠
And they planned a plan, and We planned a plan, while they perceived not.
فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ مَكۡرِهِمۡ أَنَّا دَمَّرۡنَٰهُمۡ وَقَوۡمَهُمۡ أَجۡمَعِينَ ٥١
Then look how was the outcome of their plan - that We destroyed them and their people, all.
فَتِلۡكَ بُيُوتُهُمۡ خَاوِيَةَۢ بِمَا ظَلَمُوٓاْۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ ٥٢
So those are their houses, desolate because of the wrong they had done. Indeed in that is a sign for people who know.
وَأَنجَيۡنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ ٥٣
And We saved those who believed and used to fear Allāh.
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے طرف ثمود کی ان کے بھائی صالح کو یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، پس ناگہاں وہ دو فریق (مومن اورکافر ہو کر) آپس میں جھگڑتے تھے (45) صالح نے کہا، اے میری قوم! کیوں جلدی طلب کرتے ہو تم برائی (عذاب) کو پہلے بھلائی (رحمت) سے، کیوں نہیں مغفرت طلب کرتے تم اللہ سے تاکہ تم رحم کیے جاؤ؟ (46) انھوں نے کہا، بدشگونی لی ہے ہم نے تیرے ساتھ اوران لوگوں کے ساتھ جو تیرے ہمراہ ہیں ، اس نے کہا، تمھاری بدشگونی اللہ کے پاس ہےبلکہ تم ایسے لوگ ہو جو آزمائش میں ڈالے گئے ہو (47) اور تھے (اس) شہر میں نوسر غنے، وہ فساد کرتے تھے زمین (ملک) میں اور نہیں (تھے) وہ اصلاح کرتے (48) انھوں نے کہا، قسم کھاؤ تم آپس میں اللہ کی! ضرور شب خون ماریں گے ہم اس پر اور اس کے اہل پر ، پھر ضرور کہیں گے ہم اس کے وارثوں سے کہ نہیں موجود تھے ہم وقت ہلاکت کے اس کے اہل کی اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (49) اور انھوں نے چلی ایک چال اور ہم نے بھی چلی ایک چال اور وہ نہیں شعور رکھتے تھے (50) پس آپ دیکھیں ، کیسا ہوا انجام ان کی چال کا؟ بے شک ہم نے ہلاک کر دیا ان کو اور ان کی قوم کو سب کو (51) پس یہ گھر ہیں ان کے اجڑے ہوئے بوجہ اس کے کہ ظلم کیا انھوں نے ، بلاشبہ اس میں البتہ نشانی (عبرت) ہے ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں (52) اور نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور تھے وہ (اللہ سے) ڈرتے (53)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے معروف قبیلہ ثمود میں ، ان کے نسبتی بھائی حضرت صالحu کو رسول بنا کر بھیجا۔ انھوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت چھوڑ دیں ۔ ﴿ فَاِذَا هُمۡ فَرِيۡقٰنِ يَخۡتَصِمُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ دو فریق ہو کر جھگڑنے لگے۔‘‘ ان میں ایک مومنوں کا گروہ تھا اور دوسرا کفار کا گروہ تھا جو بہت بڑا تھا۔
[46]﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ لِمَ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ بِالسَّيِّئَةِ قَبۡلَ الۡحَسَنَةِ﴾ ’’انھوں (صالح u) نے کہا، اے میری قوم! تم نیکی سے پہلے برائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو؟‘‘ یعنی تم برائیوں کے ارتکاب میں جلدی کیوں کرتے ہو؟ اور اس نیکی سے بڑھ کر برائی کرنے کے حریص کیوں ہو جو نیکی تمھارے احوال کو درست اور تمھارے دینی اور دنیاوی امور کی اصلاح کرتی ہے حالانکہ کوئی ایسا امر نہیں جو تمھیں برائیوں کے ارتکاب پر مجبور کرتا ہو؟ ﴿ لَوۡلَا تَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ اللّٰهَ ﴾ ’’تم اللہ سے مغفرت کیوں نہیں طلب کرتے؟‘‘ یعنی اپنے شرک اور نافرمانی سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تمھیں بخش دے، ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک لوگوں کے بہت قریب ہے اور گناہوں سے توبہ کرنے والا نیک لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔
[47]﴿ قَالُوا﴾ انھوں نے اپنے نبی صالحu کی تکذیب اور آپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا: ﴿ اطَّيَّرۡنَا بِكَ وَبِمَنۡ مَّعَكَ﴾ ’’تم اور تمھارے ساتھی ہمارے لیے شگون بد ہیں ۔‘‘ ان کا خیال تھا … اللہ ان کا برا کرے … کہ انھوں نے صالح (u) میں بھلائی کی کوئی بات نہیں دیکھی۔ انھیں جو دنیاوی مقاصد حاصل نہیں ہوتے تھے وہ اس کا سبب صالحu اور ان کے متبعین کو گردانتے تھے۔ اس لیے صالحu نے ان سے فرمایا: ﴿ قَالَ طٰٓىِٕرُؔكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’تمھاری بدشگونی اللہ کی طرف سے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے گناہوں کی پاداش میں تم پر مصائب نازل کرتا ہے ﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تُفۡتَنُوۡنَ﴾ ’’بلکہ تم ایسے لوگ ہو جنھیں (خوشحالی اور بدحالی، خیر اور شر کے ذریعے سے) آزمایا جاتا ہے‘‘ تاکہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ آیا تم گناہوں سے باز آ کر توبہ کرتے ہو یا نہیں ؟ اپنے نبی کو جھٹلانے اور اس کے ساتھ اسی طرح پیش آنے کی، ان کی یہ عادت تھی۔
[48]﴿ وَكَانَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ﴾ ’’اور شہر میں تھے۔‘‘ یعنی اس شہر میں ، جس میں صالحu اور ان کی اکثر قوم رہتی تھی۔ ﴿ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ﴾ ’’نو شخص، جو ملک میں فساد برپا کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔‘‘ یعنی زمین میں فساد برپا کرنا، ان کا وصف تھا اور وہ اصلاح کا کوئی کام کرتے تھے نہ اس کا وہ ارادہ رکھتے تھے۔ وہ صالحu کی دشمنی، آپ کے دین میں طعن و تشنیع اور اپنی قوم کو بھی اسی راہ پر چلانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِۚ۰۰وَلَا تُطِيۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِيۡنَۙ۰۰الَّذِيۡنَ يُفۡسِدُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ﴾(الشعراء:26؍150۔152) ’’اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی اطاعت نہ کرو وہ زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور اصلاح کا کوئی کام نہیں کرتے۔‘‘
[49]وہ اسی بری حالت میں رہے حتیٰ کہ ان کی عداوت یہاں تک پہنچ گئی ﴿ تَقَاسَمُوۡا﴾ ’’انھوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قسم دے کر کہا‘‘ ﴿ لَنُبَيِّتَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗ﴾ ’’ہم رات کو اس پر اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے۔‘‘ یعنی ہم رات کے وقت اس کے اور اس کے اہل خانہ کے پاس آئیں گے اور انھیں قتل کر دیں گے ﴿ ثُمَّ لَنَقُوۡلَنَّ لِوَلِيِّهٖ﴾ ’’پھر ہم اسے کے وارث کو کہہ دیں گے۔‘‘ جب وہ کھڑا ہو کر ہمارے خلاف قتل کا دعویٰ کرے تو ہم حلف اٹھا کر اس کا انکار کر دیں گے اور کہیں گے۔ ﴿ مَا شَهِدۡنَا مَهۡلِكَ اَهۡلِهٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ﴾ ’’ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہیں تھے اور ہم سچے ہیں ۔‘‘ پس انھوں نے اس پر ایکا کرلیا۔
[50]﴿ وَمَكَرُوۡا مَكۡرًا ﴾ ’’اور انھوں نے مکر کیا۔‘‘ انھوں نے خفیہ طور پر حضرت صالح u اور اس کے گھر والوں کو قتل کرنے کے منصوبے کی پوری تدبیر کر لی۔ حتیٰ کہ انھوں نے حضرت صالحu کے اولیاء کے خوف سے اس بات کو اپنی قوم سے بھی چھپائے رکھا۔ ﴿ وَّمَكَرۡنَا مَكۡرًا﴾ ’’اور ہم نے بھی ایک چال چلی۔‘‘ یعنی اپنے نبی صالحu کی مدد، ان کے معاملے کو آسان بنانے اور ان کی قوم میں سے جھٹلانے والوں کو ہلاک کرنے کے لیے چال چلی۔ ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اور انھیں کوئی خبر نہ تھی۔‘‘
[51]﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكۡرِهِمۡ﴾ ’’پس دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ کیا انھوں نے اپنا مقصد حاصل کر لیا؟ کیا اس چال سے انھوں نے اپنا مطلوب پا لیا یا ان کا معاملہ بگڑ گیا؟ اس لیے فرمایا:﴿اَنَّا دَمَّرۡنٰهُمۡ وَقَوۡمَهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو ہلاک کر دیا۔‘‘ ہم نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ پس عذاب کی ایک چنگھاڑ ان کے پاس آئی اور ان کا آخری آدمی تک ہلاک کر دیا گیا۔
[52]﴿فَتِلۡكَ بُيُوۡتُهُمۡ خَاوِيَةً﴾ ’’اب ان کے یہ گھر خالی پڑے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کی دیواریں چھتوں سمیت منہدم ہو گئیں ، گھر اجڑ گئے اور اپنے رہنے والوں سے خالی ہو گئے ﴿ بِمَا ظَلَمُوۡا﴾ ’’بسبب اس کے جو انھوں نے ظلم کیا۔‘‘ یعنی یہ تھا ان کے ظلم، اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے شرک اور زمین میں ان کی سرکشی کا انجام۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو (حقائق کو) جانتے ہیں ‘‘ وہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کے دشمنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی جو عادت رہی ہے اس میں غوروفکر کرتے ہیں اور اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں ، وہ خوب جانتے ہیں کہ ظلم کا انجام تباہی اور ہلاکت ہے۔ ایمان اور عدل کا انجام نجات اور کامیابی ہے۔
[53]بنابریں فرمایا: ﴿ وَاَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَؔكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے تھے، ان کو ہم نے نجات دی۔‘‘ یعنی ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ،روز آخرت اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھتے تھے، شرک اور گناہ سے بچتے تھے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے تھے۔
27:54–58Page 381
وَلُوطًا إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦٓ أَتَأۡتُونَ ٱلۡفَٰحِشَةَ وَأَنتُمۡ تُبۡصِرُونَ ٥٤
And [mention] Lot, when he said to his people, "Do you commit immorality1 while you are seeing?2
أَئِنَّكُمۡ لَتَأۡتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهۡوَةٗ مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِۚ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٞ تَجۡهَلُونَ ٥٥
Do you indeed approach men with desire instead of women? Rather, you are a people behaving ignorantly."
۞ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓاْ أَخۡرِجُوٓاْ ءَالَ لُوطٖ مِّن قَرۡيَتِكُمۡۖ إِنَّهُمۡ أُنَاسٞ يَتَطَهَّرُونَ ٥٦
But the answer of his people was not except that they said, "Expel the family of Lot from your city. Indeed, they are people who keep themselves pure."
فَأَنجَيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥٓ إِلَّا ٱمۡرَأَتَهُۥ قَدَّرۡنَٰهَا مِنَ ٱلۡغَٰبِرِينَ ٥٧
So We saved him and his family, except for his wife; We destined her to be of those who remained behind.
وَأَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِم مَّطَرٗاۖ فَسَآءَ مَطَرُ ٱلۡمُنذَرِينَ ٥٨
And We rained upon them a rain [of stones], and evil was the rain of those who were warned.
اور (یاد کریں ) لوط کو جب کہا اس نے اپنی قوم سے، کیا آتے ہو تم بے حیائی (بدفعلی) کو اس حال میں کہ تم دیکھتے ہو (54) کیا بے شک تم البتہ آتے ہو مردوں کے پاس جنسی خواہش کی تسکین کے لیے چھوڑ کر (اپنی) عورتوں کوبلکہ تم لوگ جہالت کا ارتکاب کرتے ہو (55) پس نہ تھا جواب اس کی قوم کا مگر یہ کہ انھوں نے کہا، نکال دو تم لوط کے ماننے والوں کو اپنی بستی سے، بے شک وہ ایسے لوگ ہیں جو پاک صاف بنتے ہیں (56) پس نجات دی ہم نے اسے اور اس کے اہل کو سوائے اس کی بیوی کے، فیصلہ کیا تھا ہم نے اس کے بابت (کہ ہو گی وہ) پیچھے رہنے والوں میں سے (57) اور بارش برسائی ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش پس بری تھی بارش ڈرائے گئے لوگوں کی (58)
[54] ہمارے بندے اور رسول لوط (u) کا ذکر کیجیے اور ان کے فضیلت والے واقعات کی خبر دیجیے۔ جب انھوں نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے اور ان کی خیرخواہی کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَةَ﴾ ’’کیا تم بے حیائی کرتے ہو؟‘‘ یعنی تم ایک ایسا گندہ کام کرتے ہو جسے عقل و فطرت انتہائی فحش اور شریعت قبیح گردانتی ہے۔ ﴿ وَاَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’اور تم دیکھتے ہو‘‘ اور اس کی قباحت کو جانتے ہو۔ تم نے عناد، ظلم اور اللہ تعالیٰ کے حضور جسارت کی بنا پر اس گناہ کا ارتکاب کیا۔
[55]پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس (فاحشۃ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَىِٕنَّكُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَهۡوَةً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ﴾ ’’کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت کے لیے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو۔‘‘ یعنی تم اس حالت کو کیسے پہنچ گئے کہ تمھاری شہوت مردوں اور ان کی پیٹھوں ، جو کہ غلاظت و خباثت کا مقام ہیں ، کی طرف منتقل ہو گئی ہے اور اللہ نے تمھارے لیے جو عورتیں اور ان کی پاکیزہ چیزیں پیدا کیں ، تم نے ان کو چھوڑ دیا جن کی طرف میلان نفوس کی جبلت میں ودیعت کیا گیا ہے۔ تمھارا معاملہ بالکل الٹ ہو گیا تم نے برے کو اچھا اور اچھے کو برا بنا دیا ﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’حقیقت یہ ہے کہ تم جاہل لوگ ہو۔‘‘ تم اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والے اور اس کے محارم کو توڑنے کی جسارت کرنے والے ہو۔
[56]﴿ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’آپ کی قوم کا جواب صرف یہ تھا۔‘‘ ان کا جواب قبولیت پر مبنی تھا نہ وہ گناہوں سے باز آئے اور نہ انھوں نے کوئی نصیحت ہی پکڑی۔ اس کے برعکس ان کا جواب تو عناد، مخالفت، اپنے نبی اور اپنے امانت دار رسول کو اس کے وطن اور شہر سے جلاوطن کرنے کی دھمکی پر مبنی تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَخۡرِجُوۡۤا اٰلَ لُوۡطٍ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ﴾ ’’انھوں نے کہا کہ لوط کے گھرانے کو اپنی بستی سے نکال دو۔‘‘ گویا ان سے پوچھا گیا کہ تم لوطu کے گھرانے سے کیوں ناراض ہو ان کا وہ کون سا گناہ ہے جو ان کو بستی سے نکالنے کا موجب ہے۔ تو انھوں نے جواب دیا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ۠ ﴾ ’’وہ بڑے پاکباز بنتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ مردوں کے ساتھ بدفعلی سے بچتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے … انھوں نے بہترین نیکی کو بدترین برائی بنا دیا۔ انھوں نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ ان کے نبی نے ان کو جو نصیحت کی انھوں نے اس کی نافرمانی کی بلکہ وہ اس حد تک پہنچ گئے کہ اسے اپنی بستی سے نکالنے کا ارادہ کر لیا، مصیبت کا دارومدار زبان پر ہوتا ہے، اس لیے کہنے لگے ﴿اَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ١ۚ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ۠ ﴾(الاعراف:7؍82) ’’انھیں اپنی بستی سے نکال باہر کرو وہ بڑے پاکباز لوگ بنتے ہیں ‘‘ اور اس کلام کا مفہوم یہ ہے کہ تم خباثت اور گندگی میں لتھڑے ہوئے ہو۔ جو تمھاری بستی پر نزول عذاب اور جو اس بستی سے نکل جائے اس کی نجات کا تقاضا کرتی ہے۔
[58,57]﴿ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ١ٞ قَدَّرۡنٰهَا مِنَ الۡغٰؔبِرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو نجات دی۔ مگر ان کی بیوی کہ اس کی نسبت ہم نے مقرر کر رکھا تھا کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی۔‘‘ اور یہ اس وقت کی بات ہے جب مہمانوں کی شکل میں فرشتے لوطu کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی قوم کو ان (خوبصورت) مہمانوں کی آمد کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ برائی کے ارادے سے لوطu کے پاس آئے۔ لوطu نے دروازہ بند کر لیا اور ان پر معاملہ بہت شدت اختیار کر گیا، پھر فرشتوں نے لوطu کو صورت حال سے آگاہ کیا اور انھیں بتایا کہ وہ انھیں ان سے بچانے اور ان بدکاروں کو ہلاک کرنے آئے ہیں اور ان کی ہلاکت کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ انھوں نے لوطu سے کہا کہ وہ اپنی بیوی کے سوا تمام گھر والوں کو لے کر راتوں رات یہاں سے نکل جائیں کیونکہ ان کی بیوی پر بھی وہی عذاب نازل ہونے والا ہے جو بستی والوں پر نازل ہو گا۔ لوطu اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات بستی سے نکل گئے اور بچ گئے اور صبح ہوتے ہی یک دم عذاب نے بستی کو آ لیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی بستی کو تلپٹ کر دیا اور اوندھا کر کے اوپر کے حصے کو نیچے کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر تابڑ توڑ کھنگر کے پتھر برسائے جن میں سے ہر پتھر تیرے رب کے ہاں نشان زدہ تھا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں ارشاد فرمایا:﴿وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ﴾ ’’اور ہم نے ان پر مینہ برسایا پس (جو) مینہ ان دھمکائے ہوئے لوگوں پر برسایا گیا وہ بہت برا تھا۔‘‘ یعنی بہت بری تھی وہ بارش جو ان پر برسائی گئی اور بہت برا تھا وہ عذاب جو ان پر نازل کیا گیا۔ ان کو ڈرایا گیا اور خوف دلایا گیا مگر وہ بدکاری سے رکے نہ باز آئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان پر انتہائی سخت عذاب نازل کر دیا۔
27:59Page 382
قُلِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ وَسَلَٰمٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ ٱلَّذِينَ ٱصۡطَفَىٰٓۗ ءَآللَّهُ خَيۡرٌ أَمَّا يُشۡرِكُونَ ٥٩
Say, [O Muḥammad], "Praise be to Allāh, and peace upon His servants whom He has chosen. Is Allāh better or what they associate with Him?"
کہہ دیجیے، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا، کیا اللہ بہتر ہے یا وہ جنھیں وہ (لوگ) شریک ٹھہراتے ہیں ؟ (59)
[59] یعنی کہہ دیجیے ﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ ’’حمدوستائش اللہ ہی کے لیے ہے‘‘ جو اپنے کمال اوصاف، اپنے جمال عطا و بخشش، اہل تکذیب کو سزا دینے اور ظالموں کو عذاب دینے میں عدل و حکمت کی بنا پر کامل حمدوستائش اور مدح و ثنا کا مستحق ہے۔ نیز اس کے بندوں انبیاء و مرسلین پر سلام بھیجئے جن کو اس نے تمام جہانوں میں سے منتخب فرمایا جو رب کائنات کے چنے ہوئے اور محبوب بندے تھے اور یہ اس لیے ہے تاکہ ان کا ذکر اور ان کی تعظیم اور زیادہ ہو نیز اس لیے بھی کہ وہ شر اور گندگی سے پاک ہیں ، اپنے رب کے بارے میں جو کہتے ہیں وہ نقائص و عیوب سے محفوظ ہے۔ ﴿آٰللّٰهُ خَيۡرٌ اَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’بھلا اللہ بہتر ہے یا جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں ؟‘‘ یہ استفہام متحقق اور معروف ہے، یعنی اللہ، رب عظیم، جو کامل اوصاف اور عظیم الطاف کا مالک ہے، بہتر ہے یا یہ اصنام و اوثان بہتر ہیں ، جن کی یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کرتے ہیں ، جو ہر لحاظ سے ناقص ہیں جو کوئی نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان، جو خود اپنے لیے اور اپنے عبادت گزاروں کے لیے ذرہ بھر بھلائی کے مالک نہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ ان ہستیوں سے بہتر ہے جن کو یہ اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences