As-Sa'diAl‑Qasas · 28:1–51

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Al-Qasas 28:1–51, continued

[10] جب موسیٰu اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں ۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰu کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنۡ كَادَتۡ لَتُبۡدِيۡ بِهٖ﴾ ’’تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں ۔‘‘ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ ہوجائے وہ‘‘ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں میں سے‘‘ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔

[11]﴿ وَقَالَتۡ ﴾ موسیٰu کی والدہ نے کہا لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ﴾ ’’آپ کی بہن سے کہ اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ۔‘‘ یعنی اپنے بھائی کے پیچھے پیچھے جا اور اس پر اس طرح نظر رکھ کہ کسی کو تمھارے بارے میں پتہ نہ چلے اور نہ تمھارے مقصد کا ان کو علم ہو۔ پس وہ ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ﴿ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ یعنی وہ ایک طرف ہو کر اس طرح موسیٰu کو دیکھتی رہی گویا کہ وہ کوئی راہ گیر عورت ہے اور اس کا کوئی قصد و ارادہ نہیں ہے۔ یہ انتہا درجے کی حزم و احتیاط تھی اگر وہ بچے کو دیکھتی رہتی اور ایک قصد و ارادہ کے ساتھ آتی تو لوگ سمجھ جاتے کہ اسی عورت نے صندوق کو دریا میں ڈالا ہے اور وہ حضرت موسیٰu کو، ان کے گھر والوں کو سزا دینے کی خاطر ذبح کر دیتے۔

[12] یہ موسیٰu اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف وکرم تھا کہ اس نے موسیٰu کو کسی عورت کا دودھ پینے سے روک دیا، چنانچہ وہ موسیٰu پر ترس کھاتے ہوئے ان کو بازار میں لے آئے تاکہ شاید کوئی اسے تلاش کرتا ہوا آجائے۔موسیٰu اسی حال میں تھے کہ ان کی بہن آئی اور کہنے لگی:﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمھارے لیے اس (بچے) کی کفالت کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں ۔‘‘ یہ ان کی سب سے بڑی غرض و غایت تھی کیونکہ وہ اس سے بہت شدید محبت کرتے تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام دودھ پلانے والیوں کو موسیٰu کے لیے ممنوع کر دیا تھا اس لیے انھیں ڈر تھا کہ کہیں بچہ مر نہ جائے۔

[13]جب موسیٰu کی بہن نے وہ بات کہی اور ترغیب دی کہ وہ اس گھرانے کو دودھ پلانے کے لیے منتخب کریں جو بچے کی پوری حفاظت اور مکمل کفالت کے ذمہ دار اور اس کے خیر خواہ ہیں تو انھوں نے فوراً موسیٰu کی بہن کی بات مان لی اور اس نے اس گھر کا پتہ بتا دیا جو بچے کو دودھ پلا سکتے تھے۔﴿ فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰۤى اُمِّؔهٖ ﴾ ’’پس ہم نے ان (موسیٰu) کو ان کی ماں کے پاس واپس پہنچا دیا۔‘‘ جیسا کہ ہم نے اس کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ ﴿ كَيۡؔ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ ﴾ ’’تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائیں ۔‘‘ کیونکہ اس کے پاس اس طرح پرورش پائے گا کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش ہو گی اور اس کے ساتھ دودھ پلانے کی بہت بڑی اجرت بھی حاصل کرے گی۔ ﴿ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’اور یہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔‘‘ ہم نے اس کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ وعدہ پورا ہوتے اسے عیاں طور پر دکھا دیا تاکہ اس سے اس کا دل مطمئن اور اس کے ایمان میں اضافہ ہو اور تاکہ وہ یہ بھی جان لے کہ ہم نے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو رسول بنانے کا جو وعدہ کیا ہے وہ بھی ضرور پورا ہو گا۔ ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پس جب وہ کسی سبب کو بے ترتیب دیکھتے ہیں تو اس حقیقت سے کم علمی کی وجہ سے، کہ جلیل القدر معاملات اور بلند مقاصد و مطالب کے حصول سے پہلے انسان کو آزمائشوں اور مشقتوں سے گزرنا پڑتا ہے، ان کا ایمان ڈول جاتا ہے۔پس موسیٰu آل فرعون کے پاس شاہی ماحول میں تربیت پاتے رہے وہ شاہی سواریاں استعمال کرتے اور شاہی لباس پہنتے تھے۔ ان کی والدہ اس پر مطمئن تھیں۔ یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ وہ موسیٰu کی رضاعی ماں ہیں ، لہٰذا موسیٰu کا (والدہ) کے ساتھ رہنے اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا کسی نے انکار نہیں کیا۔ ذرا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لطف و کرم پر غور کیجیے کہ اس نے کیسے اپنے نبی موسیٰu کو ان کی بات چیت میں جھوٹ سے محفوظ رکھا اور معاملے کو ان کے لیے کتنا آسان کر دیا جس کی بنا پر ماں بیٹے کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا جو لوگوں کی نظر میں رضاعت کا تعلق تھا جس کی بنا پر موسیٰu ان کو ماں کہتے تھے۔ اس لیے اس تعلق کے حوالے سے موسیٰu اور دیگر لوگوں کا اکثر کلام صداقت اور حق پر مبنی تھا۔

[14] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ ﴾ جب موسیٰu اپنی پوری قوت اور عقل و فہم کو پہنچ گئے اور یہ صفت انسان کو غالب طور پر چالیس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہے ﴿ وَاسۡتَوٰۤى ﴾ اور ان مذکورہ صفات میں درجۂ کمال کو پہنچ گئے ﴿ اٰتَيۡنٰهُ حُكۡمًا وَّعِلۡمًا﴾ ’’تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا کیا۔‘‘ یعنی ان کو ایسی دانائی عطا کی جس کی بنا پر انھیں احکام شرعیہ کی معرفت حاصل ہوگئی اور وہ نہایت دانائی کے ساتھ لوگوں میں فیصلہ کرتے تھے اور ان کو بہت سے علم سے نوازا ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں احسان کرنے والوں کو۔‘‘ یعنی اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان کے احسان کے مطابق علم اور حکمت سے سرفراز فرماتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ موسیٰu کے کمال احسان پر دلالت کرتی ہے۔

[17-15]﴿ وَدَخَلَ الۡمَدِيۡنَةَ عَلٰى حِيۡنِ غَفۡلَةٍ مِّنۡ اَهۡلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِيۡهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنۡ شِيۡعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَقَضٰى عَلَيۡهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِيۡ فَاغۡفِرۡ لِيۡ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَيَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنۡ اَكُوۡنَ ظَهِيۡرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔

[19,18] جب موسیٰu کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصۡبَحَ فِي الۡمَدِيۡنَةِ خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔‘‘ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں ؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں ، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَا الَّذِي اسۡتَنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ﴾ ’’یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰۤى ﴾ تو موسیٰu نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِيۡنٌ ﴾یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ يَّبۡطِشَ ﴾ ’’پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا‘‘ یعنی موسیٰu نے ﴿ بِالَّذِيۡ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا﴾ ’’اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا‘‘ یعنی موسیٰu اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰu کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰu کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰu کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾ ’’کہا‘‘ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰu کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَتُرِيۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِيۡؔ كَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ١ۖ ۗ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ ﴾’’اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔‘‘ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔﴿ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔‘‘ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰu اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔

[20] ان دونوں واقعات میں موسیٰu کی خبر پھیل گئی۔ یہاں تک کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے باہم مشورہ کر کے موسیٰu کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مرد صالح کو مقرر کیا جس نے جلدی سے موسیٰu کو اطلاع دی کہ اہل دربار نے ان کے بارے میں متفقہ طور پر کیا فیصلہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ يَسۡعٰى ﴾ ’’اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی موسیٰu سے خیرخواہی کی بنا پر اور اس خوف سے کہ کہیں موسیٰu کو خبر ہونے سے پہلے ہی نہ پکڑ لیں ﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّ الۡمَلَاَ يَاۡتَمِرُوۡنَ بِكَ ﴾ ’’اس نے کہا، اے موسیٰ! بے شک فرعون کے درباری آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں ‘‘ ﴿ لِيَقۡتُلُوۡكَ فَاخۡرُجۡ ﴾ ’’تاکہ آپ کو مار ڈالیں ، پس آپ نکل جائیں ۔‘‘ یعنی شہر سے فرار ہو جائیں ﴿ اِنِّيۡ لَكَ مِنَ النّٰصِحِيۡنَ ﴾ ’’میں آپ کا انتہائی خیر خواہ انسان ہوں ۔‘‘موسیٰu نے اس خیرخواہ انسان کی خیرخواہی پر عمل کیا۔

[21]﴿ فَخَرَجَ مِنۡهَا خَآىِٕفًا يَّتَرَقَّبُ ﴾ ’’پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے‘‘ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔

[22]﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلۡقَآءَ مَدۡيَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔‘‘ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔

[23]﴿ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدۡيَنَ وَجَدَ عَلَيۡهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسۡقُوۡنَ ﴾ ’’جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں لوگ جمع ہیں اور پانی پلا رہے ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے تھے۔ اہل مدین بہت زیادہ مویشیوں کے مالک تھے ﴿ وَوَجَدَ مِنۡ دُوۡنِهِمُ﴾’’اور انھوں نے پائیں ان لوگوں سے ورے۔‘‘ یعنی لوگوں سے الگ تھلگ ﴿ امۡرَاَتَيۡنِ تَذُوۡدٰنِ﴾ ’’دو عورتیں (اپنی بکریوں کو لوگوں کے حوضوں سے) دور ہٹاتے ہوئے‘‘ کیونکہ وہ مردوں کے بخل اور عدم مروت کی بنا پر، ان سے مزاحم ہونے سے عاجز تھیں ﴿قَالَ ﴾ موسیٰu نے ان سے پوچھا ﴿ مَا خَطۡبُكُمَا ﴾ اس صورت حال میں تمھیں کیا پریشانی ہے۔ ﴿ قَالَتَا لَا نَسۡقِيۡ حَتّٰى يُصۡدِرَ الرِّعَآءُ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم اس وقت تک پانی پلاتیں جب تک چرواہے نہ لوٹ جائیں ۔‘‘ یعنی عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ بکریوں کو پانی پلانے کے لیے ہماری باری نہیں آتی جب تک کہ تمام چرواہے اپنی بکریوں کو پانی پلا کر وہاں سے ہٹ نہ جائیں ۔ جب جگہ خالی ہو تی ہے تو ہم اپنے مویشوں کو پانی پلاتی ہیں ۔ ﴿ وَاَبُوۡنَا شَيۡخٌ كَبِيۡرٌ ﴾ ’’اور ہمارا والد ایک بوڑھا آدمی ہے۔‘‘ جس میں مویشیوں کو پانی پلانے کی طاقت ہے نہ ہم میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنے مویشیوں کو پانی پلا سکیں اور نہ ہمارے گھرانے میں مرد ہی ہیں جو ان چرواہوں سے مزاحم ہو سکیں ۔

[24] حضرت موسیٰu کو ان دونوں عورتوں پر بہت رحم آیا ﴿ فَسَقٰى لَهُمَا ﴾ پس موسیٰu نے ان سے کوئی اجرت لیے بغیر محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے مقصد سے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دیا۔ جب آپ نے ان کے مویشیوں کو پانی پلایا تو دوپہر اور سخت دھوپ کا وقت تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿ ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ ﴾ ’’پھر ایک سایہ دار جگہ کی طرف ہٹ آئے۔‘‘ یعنی تھکاوٹ کے بعد آرام لینے کے لیے سائے میں آئے۔ ﴿ فَقَالَ ﴾ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے رزق کی درخواست کرتے ہوئے عرض کیا: ﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾ یعنی تو جو بھلائی میری طرف بھیجے اور میرے لیے مہیا کرے میں اس کا محتاج ہوں ۔ یہ موسیٰu کی اپنی زبان حال کے ذریعے سے دعا تھی اور زبان حال کے ذریعے سے دعا کرنا زبان قال کے ذریعے سے دعا کرنے سے زیادہ بلیغ ہے۔

[25] وہ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے۔وہ دونوں عورتیں اپنے والد کے پاس گئیں اور ان کو تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ان کے والد نے ان میں سے ایک عورت کو موسیٰu کے پاس بھیجا وہ آپ کے پاس آئی ﴿ تَمۡشِيۡ عَلَى اسۡتِحۡيَآءٍ﴾’’شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی۔‘‘ یہ حیا اس عورت کی اچھی فطرت اور خلق حسن پر دلالت کرتی ہے۔ حیا اخلاق فاضلہ میں شمار ہوتی ہے … خاص طور پر عورتوں میں ۔ یہ چیز اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ موسیٰu نے ان خواتین کے مویشیوں کو جو پانی پلایا تھا کسی نوکر یا غلام کی حیثیت سے نہیں پلایا تھا کہ جن سے عموماً شرمایا نہیں جاتا بلکہ موسیٰu تو عزت نفس رکھنے والے شخص تھے اس لیے اس عورت نے آپ کے جس حسن اخلاق کا مشاہدہ کیا وہ اس کی حیا کا موجب تھا۔﴿ قَالَتۡ ﴾ پس اس عورت نے آکر موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنَّ اَبِيۡ يَدۡعُوۡكَ لِيَجۡزِيَكَ اَجۡرَ مَا سَقَيۡتَ لَنَا﴾ ’’بے شک آپ کو میرے والد بلاتے ہیں کہ آپ نے جو ہمارے لیے پانی پلایا تھا اس کی آپ کو اجرت دیں ۔‘‘ یعنی آپ پر کسی قسم کا احسان کرتے ہوئے نہیں بلکہ آپ نے ہم پر احسان کی ابتدا کی ہے ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ ہم آپ کے احسان کا بدلہ دیں ۔ موسیٰu نے اس کی بات مان لی۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَقَصَّ عَلَيۡهِ الۡقَصَصَ﴾ ’’پس جب موسیٰ ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے اپنا واقعہ بیان کیا۔‘‘ یعنی موسیٰu نے ابتدائی اسباب سے لے کر جو وہاں سے آپ کے فرار کے موجب بنے، یہاں پہنچنے تک، تمام واقعات سنا دیے ﴿ قَالَ ﴾ ’’انھوں نے کہا‘‘ موسیٰu کا خوف دور کرتے اور ان کی دل جوئی کرتے ہوئے: ﴿ لَا تَخَفۡ١۫ٙ نَجَوۡتَ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ یعنی آپ کو ڈرنا اور خوف نہیں کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ظالموں سے نجات دے دی ہے اور آپ ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں ان کا کوئی اختیار نہیں ۔

[26]﴿ قَالَتۡ اِحۡدٰؔىهُمَا ﴾ یعنی ان کی ایک بیٹی نے کہا: ﴿ يٰۤاَبَتِ اسۡتَاۡجِرۡهُ﴾ یعنی انھیں اپنے پاس اجرت پر رکھ لیں یہ آپ کی بکریوں کو چرائیں گے اور انھیں پانی پلائیں گے ﴿ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَاۡجَرۡتَ الۡقَوِيُّ الۡاَمِيۡنُ ﴾ یعنی موسیٰu تمام ملازموں سے بہتر ہیں کیونکہ یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی اور بہترین ملازم وہ ہوتا ہے جس میں وہ کام کرنے کی قوت اور قدرت ہو جس کے لیے اسے ملازم رکھا گیا ہے اور اس میں خیانت نہ ہو اور وہ امین ہو۔ یہ دونوں صفات ہر اس شخص میں اہمیت دیے جانے کے لائق ہیں جس کو کوئی منصب سونپا جائے یا اسے اجرت وغیرہ پر رکھا جائے۔ معاملات میں خلل اس وقت واقع ہوتا ہے جب یہ دونوں اوصاف یا ان میں سے ایک وصف مفقود ہو۔ ان دونوں اوصاف کے اجتماع سے اس کام کی بدرجہ احسن تکمیل ہوتی ہے۔اس عورت نے اپنے باپ کو مشورہ اس لیے دیا تھا کہ اس نے بکریوں کو پانی پلاتے وقت موسیٰu کی قوت اور نشاط کا مشاہدہ کر لیا تھا جس سے اس نے آپ کی قوت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ اسی طرح اس نے موسیٰu کی امانت اور دیانت کو بھی پرکھ لیا تھا۔ موسیٰu نے ان عورتوں پر اس وقت اور اس حالت میں رحم کھایا تھا جب ان سے کسی فائدے کی امید نہ تھی آپ کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔

[27]﴿ قَالَ ﴾ یعنی صاحب مدین نے موسیٰu سے کہا: ﴿ اِنِّيۡۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُنۡكِحَكَ اِحۡدَى ابۡنَتَيَّ هٰؔتَيۡنِ عَلٰۤى اَنۡ تَاۡجُرَنِيۡ ﴾ ’’میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس شرط پر کہ تم میری خدمت کرو۔‘‘ یعنی میرے ہاں نوکر ٹھہر جاؤ۔ ﴿ ثَمٰنِيَ حِجَجٍ﴾ آٹھ سال تک ﴿ فَاِنۡ اَتۡمَمۡتَ عَشۡرًا فَمِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’پس اگر آپ دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی طرف سے ہوگا۔‘‘ یعنی آپ کی طرف سے عطیہ ہو گا زائد مدت آپ پر واجب نہیں ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ ﴾ ’’میں نہیں چاہتا کہ تم پر سختی کروں ‘‘ میں حتمیٰ طور پر دس سال کی مدت مقرر کر دوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو پرمشقت کاموں کے لیے ملازم رکھوں ۔ میں نے تو آپ کو نہایت آسان کام کے لیے ملازم رکھا ہے جس میں کوئی مشقت نہیں ۔ ﴿ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’تم مجھے ان شاء اللہ نیک لوگوں میں پاؤ گے۔‘‘ صاحب مدین نے آپ کو کام کی سہولت اور حسن معاملہ کے ذریعے سے ترغیب دی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرد صالح کے لیے مناسب یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حسن اخلاق سے کام لے۔

[28]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے صاحب مدین کی شرائط اور اس کا مطالبہ قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ﴾ یعنی وہ شرط جس کا آپ نے ذکر کیا ہے مجھے منظور ہے میرے اور آپ کے درمیان معاہدہ پکا ہے۔ ﴿ اَيَّمَا الۡاَجَلَيۡنِ قَضَيۡتُ فَلَا عُدۡوَانَ عَلَيَّ﴾ ’’میں دونوں مدتوں میں سے جوبھی مدت پوری کروں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو۔‘‘ خواہ میں آٹھ (سال) پورے کروں جن کو پورا کرنا واجب ہے یا عطیہ کے طور پر آٹھ سال سے زائد کام کروں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔‘‘ یعنی حفاظت کرنے والا اور نگہبانی کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ہم نے کیا معاہدہ کیا ہوا ہے۔مذکورہ شخص، ان دو عورتوں کا والد اور صاحب مدین، وہ شعیب نہیں جو معروف نبی ہیں جیسا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں مشہور ہے۔ یہ ایک ایسا قول ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس ضمن میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعیبu کا شہر بھی مدین ہی تھا اور یہ واقعہ بھی مدین ہی میں پیش آیا … دونوں امور میں تلازم کیونکر واقع ہو گیا؟ نیز یہ بھی یقینی طور پر معلوم نہیں کہ آیا موسیٰu نے شعیبu کا زمانہ پایا ہے یا نہیں ان کا شعیبu سے ملاقات کرنا کیونکر معلوم ہو سکتا ہے؟ اگر وہ شخص، شعیبu ہی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ضرور فرماتا اور وہ خواتین بھی اس بات کا ذکر کرتیں ۔نیز شعیبu کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا تھا، ان میں سے صرف وہی لوگ باقی بچے تھے جو ایمان لے آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات اپنی پناہ میں رکھا ہے کہ وہ اپنے نبی کی دو بیٹیوں کو پانی سے محروم کرنے اور ان کے مویشیوں کو پانی سے روکنے پر راضی ہوں یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص آئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کے مویشیوں کو پانی پلا دے۔ خود حضرت شعیب بھی اس پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ موسیٰu ان کی بکریاں چرائیں اور ان کے پاس خادم بن کر رہیں حالانکہ موسیٰu شعیبu سے افضل اور بلندتر درجے پر فائز تھے … البتہ اگر یہ واقعہ موسیٰu کی نبوت سے پہلے کا ہے تب اس میں کوئی منافات نہیں ۔ بہرحال رسول اللہ ﷺ سے روایت صحیحہ کے بغیر اس قول پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ شخص مذکور شعیب نبی تھے۔ واللہ اعلم۔

[29]﴿ فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَل ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) نے مدت پوری کردی۔‘‘ اس میں دونوں احتمال موجود ہیں کہ آپ نے وہ مدت پوری کی ہو جس کا پورا کرنا آپ پر واجب تھا یا اس کے ساتھ وہ زائد مدت بھی پوری کی ہو جیسا کہ موسیٰu کے بارے میں آپ کے ایفائے عہد کے وصف کی بنا پر یہی گمان کیا جا سکتا ہے۔ موسیٰu کے دل میں اپنے گھر والوں ، اپنی والدہ اور اپنے خاندان والوں کے پاس اپنے وطن پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا … جناب موسیٰu کا خیال تھا کہ اس طویل مدت میں لوگ اس قبطی کے قتل کے واقعہ کو بھول گئے ہوں گے۔ ﴿ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ ﴾ ’’اپنے گھر والوں کو لے کر چلے۔‘‘ مصر کا قصد کر کے ﴿اٰنَسَ ﴾ یعنی آپ نے دیکھا ﴿ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’طور کی طرف آگ کو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے، ٹھہرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارا لے آؤں تاکہ تم تاپو۔‘‘ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے بھی تھے اور موسم بھی سرد تھا۔

[30] جب موسیٰu وہاں پہنچے تو آواز دیے گئے کہ ﴿ يّٰمُوۡسٰۤى اِنِّيۡۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اے موسیٰ! یقینا میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کی خبر دی ہے اور اس سے یہ چیز لازم آتی ہے کہ وہ اپنی عبادت کا حکم دے جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے ﴿ فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔‘‘

[31]﴿ وَاَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ يٰمُوۡسٰۤى اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ١۫ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اَقۡبِلۡ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے

[32] پھر اللہ نے ایک اور معجزے کا مشاہدہ کروایا چنانچہ فرمایا: ﴿ اُسۡلُكۡ يَدَكَ ﴾ یعنی اپنا ہاتھ داخل کر ﴿ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اپنے گریبان میں تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا۔‘‘ موسیٰu نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ﴿ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ ﴾ اور اپنے بازؤوں کو بھینچ لیں تاکہ آپ کا ڈر اور خوف زائل ہو جائے ﴿ فَذٰنِكَ ﴾ ’’پس یہ‘‘ یعنی عصا کا سانپ بن جانا اور گریبان سے ہاتھ کا چمکتا ہوا نکلنا ﴿ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قطعی براہین ہیں ۔ ﴿ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ١ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں ۔‘‘ ان کے لیے مجرد انذار اور رسول کا ان کو حکم دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے لیے ظاہری معجزات بھی ضروری ہیں اگر وہ کوئی فائدہ دیں ۔

[34,33]﴿ قَالَ﴾موسیٰu نے اپنے رب کے حضور معذرت کرتے، رب تعالیٰ نے جو آپ پر ذمہ داری ڈالی تھی اس پر اس سے مدد کی درخواست کرتے اور اس راستے میں پیش آنے والے موانع کا ذکر کرتے ہوئے تاکہ ان کا رب ان تمام مشکلات کو آسان کر دے … عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۰۰ وَاَخِيۡ هٰؔرُوۡنُ هُوَ اَفۡصَحُ مِنِّيۡ لِسَانًا فَاَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡاً ﴾ ’’پس مجھے خوف ہے کہ وہ کہیں مجھ کو مار نہ ڈالیں اور ہارون جومیرا بھائی ہے اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج۔‘‘ یعنی اس کو میرے ساتھ میرا معاون اور مددگار بنا کر بھیج ﴿ يُّصَدِّقُنِيۡۤ﴾ ’’جو میری تصدیق کرے‘‘ کیونکہ ایک دوسرے کی موافقت کرتی ہوئی خبروں کے ساتھ تصدیق، حق کو طاقتور بنا دیتی ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اَنۡ يُّكَذِّبُوۡنِ ﴾ ’’مجھے خوف ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔‘‘

[35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيۡكَ﴾ یعنی ہم آپ کے بھائی کے ذریعے سے آپ کی مدد کریں گے اور آپ کو طاقت اور قوت عطا کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ نے قتل کے الزام کے خوف کو بھی زائل کر دیا۔ فرمایا:﴿ وَنَجۡعَلُ لَكُمَا سُؔلۡطٰنًا ﴾ ہم آپ کو دلیل اور برہان کے ذریعے سے آپ کی دعوت میں قوت اور آپ کے دشمن کے مقابلے میں ہیبت الٰہیہ عطا کریں گے۔ ﴿ فَلَا يَصِلُوۡنَ اِلَيۡكُمَا﴾’’پس وہ آپ دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘‘ اور اس کا سبب ہماری نشانیاں اور وہ حق ہے جس پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں ۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ جو کوئی ان نشانیوں کو دیکھتا خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ انھی نشانیوں کے سبب سے آپ کو قوت حاصل ہو گی اور دشمن کے فریب کا تاروپود بکھر جائے گا اور یہ نشانیاں آپ کو، سازوسامان سے لیس بڑے بڑے لشکروں سے بڑھ کر کام دیں گی۔﴿ اَنۡتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الۡغٰلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم اور تمھارے متبعین غالب رہو گے۔‘‘ یہ وعدہ موسیٰu سے اس وقت کیا گیا تھا جب آپ بالکل تنہا تھے اور فرار رہنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹے تھے۔ حالات و واقعات بدلتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور آپ کو ملک اور بندوں پر اختیار عطا کر دیا آپ اور آپ کے پیروکار ملک میں غالب آ گئے۔

[36] حضرت موسیٰu اپنے رب کے پیغام کے ساتھ فرعون کے پاس گئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ﴾ ’’پس جب موسیٰ(u) ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu اپنی دعوت کی تائید میں واضح دلائل لائے جن میں کوئی کوتاہی تھی نہ کوئی پوشیدہ چیز ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو فرعون کی قوم نے ظلم، تکبر اور عناد کی بنا پر کہا:﴿ مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’یہ تو جادو ہے جو اس نے بنا کر کھڑا کیا ہے۔‘‘ جیسا کہ فرعون نے اس وقت کہا تھا جب حق ظاہر ہو کر باطل پر غالب آ گیا اور باطل مضمحل ہو گیا، تمام بڑے بڑے سردار جو معاملات کے حقائق کو جانتے تھے آپ کے سامنے سرنگوں ہو گئے تو فرعون نے کہا تھا:﴿ اِنَّهٗ لَكَبِيۡرُؔكُمُ الَّذِيۡ عَلَّمَكُمُ السِّحۡرَ﴾(طٰہٰ:20؍71)’’یہ تمھارا سردار ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے۔‘‘ یہ ذہین مگر ناپاک شخص جو مکروفریب اور چالبازی کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کا قصہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اسے زمین و آسمان کے رب نے نازل کیا ہے۔ مگر اس پر بدبختی غالب تھی۔﴿ وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰؔذَا فِيۡۤ اٰبَآىِٕنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی یہ بات) نہیں سنی۔‘‘ یہ بھی انھوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا تھا جیسا کہ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِيۡ شَكٍّ مِّؔمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ﴾(غافر:40؍34) ’’اس سے پہلے تمھارے پاس یوسف واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ جو کچھ لے کر آئے تھے اس کے بارے میں تم شک میں مبتلا رہے پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا اب اللہ ان کے بعد کوئی رسول مبعوث نہیں کرے گا۔ اسی طرح اللہ ہر ایسے شخص کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والا اور شکی ہوتا ہے۔‘‘

[37]﴿ وَقَالَ مُوۡسٰؔى﴾ جب انھوں نے دعویٰ کیا کہ جو چیز موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ جادو اور گمراہی ہے اور ان کا موقف سراسر ہدایت پر مبنی ہے۔ تو موسیٰu نے فرمایا: ﴿ رَبِّيۡۤ اَعۡلَمُ بِمَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰؔى مِنۡ عِنۡدِهٖ وَمَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ﴾ ’’میرا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا اچھا انجام ہوگا۔‘‘ جب تمھارے ساتھ بحث کرنے اور تمھارے سامنے واضح دلائل بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، تم نے گمراہی ہی میں سرگرداں رہنے اور اپنے کفر کی تائید میں جھگڑنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور ہدایت سے محرومی کس کے حصے میں آئی ہے، نیز کس کا انجام اچھا ہے ہمارا یا تمھارا؟ ﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ﴾ ’’بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔‘‘ اچھی عاقبت اور فوزوفلاح سے موسیٰu اور ان کے متبعین سرفراز ہوئے اور ان منکرین حق کے نصیب میں برا انجام، خسارہ اور ہلاکت لکھ دیے گئے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском