As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Al-Qasas 28:52–70
28:52–55Page 392
ٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِهِۦ هُم بِهِۦ يُؤۡمِنُونَ ٥٢
Those to whom We gave the Scripture before it - they1 are believers in it.
وَإِذَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِهِۦٓ إِنَّهُ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّنَآ إِنَّا كُنَّا مِن قَبۡلِهِۦ مُسۡلِمِينَ ٥٣
And when it is recited to them, they say, "We have believed in it; indeed, it is the truth from our Lord. Indeed we were, [even] before it, Muslims [i.e., submitting to Allāh]."
أُوْلَٰٓئِكَ يُؤۡتَوۡنَ أَجۡرَهُم مَّرَّتَيۡنِ بِمَا صَبَرُواْ وَيَدۡرَءُونَ بِٱلۡحَسَنَةِ ٱلسَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ ٥٤
Those will be given their reward twice for what they patiently endured and [because] they avert evil through good, and from what We have provided them they spend.
وَإِذَا سَمِعُواْ ٱللَّغۡوَ أَعۡرَضُواْ عَنۡهُ وَقَالُواْ لَنَآ أَعۡمَٰلُنَا وَلَكُمۡ أَعۡمَٰلُكُمۡ سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمۡ لَا نَبۡتَغِي ٱلۡجَٰهِلِينَ ٥٥
And when they hear ill speech, they turn away from it and say, "For us are our deeds, and for you are your deeds. Peace will be upon you;1 we seek not the ignorant."
وہ لوگ کہ دی ہم نے ان کو کتاب اس (قرآن) سے پہلے ، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں (52) اور جب تلاوت کیا جاتا ہے ان پر (قرآن) تو وہ کہتے ہیں ، ایمان لائے ہیں ہم اس پر، بے شک وہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے، بلاشبہ ہم تو تھے اس سے پہلے ہی مسلمان(53) یہ لوگ دیے جائیں گے اپنا اجر دوبار بوجہ اس کے کہ انھوں نے صبر کیا اور وہ دور کرتے ہیں بھلائی کے ساتھ برائی کو اور اس میں سے جورزق دیا ہم نے ان کو وہ خرچ کرتے ہیں (54) اور جب وہ سنتے ہیں لغو بات تو اعراض کرتے ہیں وہ اس سے اور کہتے ہیں ، ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال ہیں ، سلام ہو تم پر نہیں چاہتے ہم جاہلوں کو (55)
[52] اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کی عظمت، صداقت اور حقانیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ حقیقت کا علم رکھنے والے اہل علم ہی اس کو پہچانتے، اس پر ایمان لاتے اور اس کی حقانیت کا اقرارکرتے ہیں ، چنانچہ فرمایا ﴿اَلَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِهٖ ﴾ ’’جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی۔‘‘ اس سے مراد وہ اہل تورات اور اہل انجیل ہیں جنھوں نے اپنی کتابوں میں تغیر و تبدل نہیں کیا۔ ﴿ هُمۡ بِهٖ ﴾ وہی اس قرآن اور قرآن کے لانے والے پر ﴿يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’ایمان رکھتے ہیں ۔‘‘
[53]﴿ وَاِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور جب ان کے سامنے اس قرآن کو پڑھا جاتا ہے‘‘ تو اسے غور سے سنتے ہیں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیتے ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّنَاۤ ﴾ ’’تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے بے شک وہ ہمارے رب کی طرف سے برحق ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ان کتابوں کے موافق ہے جنھیں انبیاء ورسل لے کر مبعوث ہوئے ہیں اور ان کتابوں میں جو کچھ مذکور ہے اس کے عین مطابق ہے، سچی خبروں اور حکمت پر مبنی اوامر و نواہی پر مشتمل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی شہادت مفید اور ان کا قول نفع مند ہے۔ وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں ، علم و بصیرت کی بنیاد پر کہتے ہیں کیونکہ وہ اہل خبر اور اہل کتاب ہیں ۔ ان کے علاوہ دیگر لوگوں کا قرآن کو رد کرنا اور اس کی مخالفت کرنا ان کے لیے حجت ہونا تو کجا، وہ کسی شبہ پر بھی دلالت نہیں کرتا کیونکہ وہ لوگ جاہل یا حق کے بارے میں معاند متجاہل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ قُلۡ اٰمِنُوۡا بِهٖۤ اَوۡ لَا تُؤۡمِنُوۡا١ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ مِنۡ قَبۡلِهٖۤ اِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ يَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذۡقَانِ سُجَّدًا﴾(بنی اسرائیل: 17؍107) ’’کہہ دیجیے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے جب ان کے سامنے اسے پڑھا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدوں میں گر جاتے ہیں ۔‘‘اور ان کا قول ہے:﴿ اِنَّا كُنَّا مِنۡ قَبۡلِهٖ مُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم تو اس کے پہلے سے مطیع ہیں ۔‘‘ اسی لیے جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایمان اور اسلام سے سرفراز فرمایا تو ہم اس پر ثابت قدم رہے، ہم نے اس قرآن کی تصدیق کی اور ہم پہلی اور آخری کتاب پر ایمان لائے، ہمارے علاوہ دیگر لوگ جب اس کتاب کی تکذیب کرتے ہیں تو ان کی یہ تکذیب پہلی کتاب پر ایمان کے متناقض ہے۔
[54]﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی لوگ۔‘‘ یعنی جو دونوں کتابوں پر ایمان لائے۔ ﴿ يُؤۡتَوۡنَ اَجۡرَهُمۡ مَّرَّتَيۡنِ ﴾ ’’ان کو دوبار اجر عطا کیا جائے گا‘‘ ایک اجر پہلی کتاب پر ایمان لانے پر اور ایک اجر دوسری کتاب پر ایمان لانے پر ﴿ بِمَا صَبَرُوۡا ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اپنے ایمان پر صبر کیا اور عمل پر ثابت قدم رہے کوئی شبہ ان کے ایمان کو متزلزل کر سکا نہ کوئی ریاست و شہوت ان کو اپنے ایمان سے ہٹا سکی۔ وہ اپنے بہترین خصائل جو ان کے ایمان صحیح کے آثار ہیں ، کے ذریعے سے بے شک وہ ﴿ وَيَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ ﴾ ’’برائی کو بھلائی کے ساتھ دفع کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ان کی عادت اور طریقہ ہے۔ یہاں تک کہ جو کوئی قول و فعل کے ذریعے سے ان کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے تو یہ اچھی بات اور اچھے فعل کے ذریعے سے ان کا مقابلہ کرتے ہیں کیونکہ انھیں اس خلق عظیم کی فضیلت کا اچھی طرح علم ہے اور انھیں یہ بھی علم ہے کہ اس خلق عظیم کی توفیق کسی خوش قسمت ہی کو حاصل ہوتی ہے۔
[55]﴿ وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغۡوَ اَعۡرَضُوۡا ﴾ ’’اور جب وہ کوئی فضول بات سنتے ہیں ‘‘ کسی جاہل شخص سے جو ان سے لغو گفتگو کرتا ہے ﴿وَقَالُوۡا ﴾ تو وہ رحمان کے عقلمند بندوں کی مانند ان سے کہتے ہیں : ﴿ لَنَاۤ اَعۡمَالُنَا وَلَكُمۡ اَعۡمَالُكُمۡ﴾ ’’ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال۔‘‘ یعنی ہر شخص کو اسی اکیلے کے عمل کی جزا دی جائے گی اس پر کسی دوسرے کے عمل کا بوجھ نہیں ہو گا۔ اس سے لازم آتا ہے کہ وہ جہلاء کے لغو اور باطل کاموں اور بے فائدہ کلام سے بچے ہوئے ہیں ۔ ﴿ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’سلامتی ہو تم پر‘‘ یعنی تم لوگ ہم سے بھلائی کے سوا کچھ نہیں سنو گے اور نہ ہم تم سے تمھاری جہالت کے تقاضے کے مطابق مخاطب ہوں گے۔ کیونکہ تم اگرچہ اپنے لیے اس کمینگی پر راضی ہو مگر ہم اپنے آپ کو اس کمینے رویے سے پاک رکھتے ہیں اور اس میں ملوث ہونے سے بچتے ہیں ۔ ﴿ لَا نَبۡتَغِي الۡجٰهِلِيۡنَ ﴾ ’’ہم (کسی معاملے) میں جاہلوں سے نہیں الجھتے۔‘‘
28:56Page 392
إِنَّكَ لَا تَهۡدِي مَنۡ أَحۡبَبۡتَ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَهۡدِي مَن يَشَآءُۚ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَ ٥٦
Indeed, [O Muḥammad], you do not guide whom you like, but Allāh guides whom He wills. And He is most knowing of the [rightly] guided.
بلاشبہ آپ نہیں ہدایت دے سکتے جس کو آپ چاہیں لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو وہ چاہتا ہےاور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو (56)
[56] اللہ تبارک و تعالیٰ رسول مصطفیﷺ کو آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ… اور آپ کے علاوہ لوگ بدرجہ اولیٰ … کسی کو ہدایت دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے خواہ وہ آپ کو کتنا ہی زیادہ محبوب کیوں نہ ہوں کیونکہ یہ ایسا معاملہ ہے جو مخلوق کے اختیار میں نہیں ۔ ہدایت کی توفیق اور قلب میں ایمان جاگزیں کرنا اللہ تعالیٰ ہی کے قبضۂ قدرت میں ہے وہ جسے چاہتا ہے ہدایت سے سرفراز کرتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت کا اہل ہے پس اسے ہدایت عطا کر دیتا ہے اور کون ہدایت عطا كيے جانے کا اہل نہیں پس اسے اس کی گمراہی میں سرگرداں چھوڑ دیتا ہے۔رہا اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿ وَاِنَّكَ لَتَهۡدِيۡۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾(الشوریٰ:42؍52) ’’اور بلاشبہ آپ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کررہے ہیں ‘‘ میں رسول اللہ ﷺ کے لیے ہدایت کا اثبات تو یہ ہدایت بیان و ارشاد ہے۔ رسول اللہ ﷺ صراط مستقیم کو واضح کرتے ہیں لوگوں کو اس پر چلنے کی ترغیب دیتے ہیں اور لوگوں کو اس پر گامزن کرنے کی بھرپور جدوجہد کرتے ہیں ۔ رہی یہ بات کہ آیا آپ دلوں میں ایمان پیدا کرنے پر قادر ہیں اور فعل کی توفیق عطا کر سکتے ہیں … تو حاشا و کلا ایسا ہرگز نہیں … ایسا ہرگز نہیں ۔ لہذا اگر آپ اس پر قادر ہوتے تو آپ اس شخص کو ضرور ہدایت سے سرفراز فرماتے جس نے آپ پر احسان فرمایا تھا، جس نے آپ کو اپنی قوم سے بچایا اور آپ کی مدد فرمائی … یعنی آپ کے چچا ابو طالب … مگر آپ نے ابو طالب کو دین کی دعوت دے کر اور کامل خیر خواہی کے ساتھ ان پر احسان کیا اور یہ اس احسان سے بہت زیادہ ہے جو آپ کے چچا نے آپ کے ساتھ کیا مگر حقیقت یہ ہے کہ ہدایت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
28:57–59Page 392
وَقَالُوٓاْ إِن نَّتَّبِعِ ٱلۡهُدَىٰ مَعَكَ نُتَخَطَّفۡ مِنۡ أَرۡضِنَآۚ أَوَلَمۡ نُمَكِّن لَّهُمۡ حَرَمًا ءَامِنٗا يُجۡبَىٰٓ إِلَيۡهِ ثَمَرَٰتُ كُلِّ شَيۡءٖ رِّزۡقٗا مِّن لَّدُنَّا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ٥٧
And they [i.e., the Quraysh] say, "If we were to follow the guidance with you, we would be swept1 from our land." Have We not established for them a safe sanctuary to which are brought the fruits of all things as provision from Us? But most of them do not know.
وَكَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِن قَرۡيَةِۭ بَطِرَتۡ مَعِيشَتَهَاۖ فَتِلۡكَ مَسَٰكِنُهُمۡ لَمۡ تُسۡكَن مِّنۢ بَعۡدِهِمۡ إِلَّا قَلِيلٗاۖ وَكُنَّا نَحۡنُ ٱلۡوَٰرِثِينَ ٥٨
And how many a city have We destroyed that was insolent in its [way of] living, and those are their dwellings which have not been inhabited after them except briefly.1 And it is We who were the inheritors.
وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهۡلِكَ ٱلۡقُرَىٰ حَتَّىٰ يَبۡعَثَ فِيٓ أُمِّهَا رَسُولٗا يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِنَاۚ وَمَا كُنَّا مُهۡلِكِي ٱلۡقُرَىٰٓ إِلَّا وَأَهۡلُهَا ظَٰلِمُونَ ٥٩
And never would your Lord have destroyed the cities until He had sent to their mother [i.e., principal city] a messenger reciting to them Our verses. And We would not destroy the cities except while their people were wrongdoers.
اور وہ کہتے ہیں ، اگر ہم نے پیروی کی ہدایت کی تیرے ساتھ تو ہم اچک لیے جائیں گے اپنی زمین سے (اللہ نے فرمایا) کیا نہیں جگہ دی ہم نے انھیں حرم میں جو امن والا ہے؟ لائے جاتے ہیں (ہر جانب سے) اس کی طرف پھل ہرچیز (قسم) کے بطور رزق کے ہماری طرف سے لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے (57) اورکتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے بستیاں جو اتراتی تھیں اپنی (عمدہ) گزران پر، پس یہ (اجڑپڑے) ہیں ان کے گھر، نہیں آباد کیے گئے ان کے بعد مگر تھوڑے ہی اور تھے ہم ہی وارث (58)اور نہیں ہے آپ کارب ہلاک کرنے والا بستیوں کو یہاں تک کہ وہ بھیجتا ہے ان میں سے بڑی بستی میں کوئی رسول، وہ تلاوت کرتا ہے ان پر ہماری آیتیں اور نہیں ہم ہلاک کرنے والے بستیوں کو مگر جبکہ ہوں ان کے باشندے ظالم (59)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ قریش میں سے اہل تکذیب اور دیگر اہل مکہ رسول اللہ ﷺ سے کہا کرتے تھے: ﴿ اِنۡ نَّتَّبِـعِ الۡهُدٰؔى مَعَكَ نُتَخَطَّفۡ مِنۡ اَرۡضِنَا﴾ ’’اگر ہم تمھارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو ہم اپنے ملک سے اچک لیے جائیں ۔‘‘ یعنی ہمیں قتل کر کے، قیدی بنا کر اور ہمارا مال و متاع لوٹ کر زمین سے اچک لیاجائے گا کیونکہ لوگ آپ سے عداوت رکھتے ہیں اور آپ کی مخالفت کرتے ہیں لہذا اگر ہم نے آپ کی اتباع کی تو ہمیں تمام لوگوں کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑے گا اور ہم لوگوں کی دشمنی مول نہیں لے سکتے۔ ان کا یہ کلام اللہ تعالیٰ کے بارے میں ان کے سوء ظن پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو فتح و نصرت سے نوازے گا نہ اپنے کلمہ کو بلند کرے گا بلکہ اس کے برعکس وہ لوگوں کو اپنے دین کے حاملین پر غالب کرے گا جو انھیں بدترین عذاب میں مبتلا کریں گے اور وہ سمجھتے تھے کہ باطل حق پر غالب آ جائے گا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی حالت بیان کرتے اور لوگوں کی بجائے ان کے اختصاص کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ نُمَؔكِّنۡ لَّهُمۡ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجۡبٰۤى اِلَيۡهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيۡءٍ رِّزۡقًا مِّنۡ لَّدُنَّا﴾ ’’کیا ہم نے پر امن حرم کو ان کا جائے قیام نہیں بنایا جہاں ہماری طرف سے رزق کے طورپر ہر طرح کے پھل کھچے چلے آتے ہیں ؟‘‘ یعنی کیا ہم نے انھیں حرم میں اصحاب اختیار نہیں بنایا جہاں نہایت کثرت سے لوگ پے در پے آتے ہیں اور زائرین اس کی زیارت کا قصد کرتے ہیں ۔ قریب والے اور بعید والے سب لوگ اس کا احترام کرتے ہیں ۔ حرم کے رہنے والوں کو خوف زدہ نہیں کیا جاتا اور لوگ انھیں کم یا زیادہ کوئی نقصان نہیں پہنچاتے۔ حالانکہ ان کے اردگرد ہر جگہ خوف میں گھری ہوئی ہے اور وہاں کے رہنے والے محفوظ ہیں نہ مامون۔ اس لیے انھیں اپنے رب کی حمدوثنا بیان کرنی چاہیے کہ اس نے انھیں کامل امن سے نوازا جو دوسروں کو میسر نہیں ، انھیں اس رزق کثیر پر اپنے رب کا شکر ادا کرناچاہیے جو ہر طرف سے پھلوں ، کھانوں اور دیگر سازوسامان کی صورت میں ان کے پاس پہنچاتا ہے جس سے یہ متمتع ہوتے ہیں اور انھیں فراخی اور کشادگی حاصل ہوتی ہے۔ انھیں چاہیے کہ وہ اس رسول کریمﷺکی اتباع کریں تاکہ انھیں امن تام اور فراخی سے نوازا جائے۔وہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نعمت پر اترانے سے بچیں ورنہ ان کا امن خوف سے، ان کی عزت ذلت سے اور ان کی دولت مندی فقر سے بدل جائے گی۔
[58] اس لیے اللہ تعالیٰ نے گزشتہ قوموں کو ان کی بداعمالیوں کی جو سزا دی ہے ان کو بھی اس سزا سے ڈرایا ہے چنانچہ فرمایا: ﴿وَكَمۡ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍۭ بَطِرَتۡ مَعِيۡشَتَهَا﴾ ’’اور کتنی ہی بستیوں کو ہم نے تباہ و برباد کردیا جو اپنی معیشت پر اترایا کرتی تھیں ‘‘ یعنی یہ بستیاں اپنی معیشت پر فخر کرتی تھیں اور غفلت میں مبتلا تھیں اور ان کے رہائشی اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لانے کی بجائے اپنی خوشحالی میں مشغول رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا، ان سے نعمت چھین لی اور ان پر عذاب نازل کیا ﴿فَتِلۡكَ مَسٰكِنُهُمۡ لَمۡ تُسۡكَنۡ مِّنۢۡ بَعۡدِهِمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ یعنی ان پر لگاتار ہلاکت نازل ہونے، ان کے جان و مال کے تلف ہونے اور ان کے بعد ان کی بستیوں کے اجڑ جانے کے بعد وہ کبھی آباد نہ ہوئیں ۔ ﴿وَؔكُنَّا نَحۡنُ الۡوٰرِثِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم ہی ان کے وارث ہوئے۔‘‘ یعنی ہم بندوں کے وارث ہیں ، ہم انھیں موت دیں گے اور وہ تمام نعمتیں ہماری طرف لوٹ آئیں گی جو ہم نے ان کو عطا کی تھیں پھر ہم ان کو واپس اپنی طرف لوٹائیں گے اور ان کو ان کے اعمال کی جزاوسزا دیں گے۔
[59] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت اور رحمت ہے کہ وہ قوموں پر ان کے مجرد کفر کی بنا پر، ان پر حجت قائم کرنے اور ان کی طرف رسول مبعوث کرنے سے قبل، عذاب نازل نہیں کرتا۔ بنابریں فرمایا:﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهۡلِكَ الۡقُرٰى ﴾ ’’اور تمھارا رب بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا۔‘‘ یعنی ان کے کفر اور ظلم کی بنا پر ﴿ حَتّٰى يَبۡعَثَ فِيۡۤ اُمِّهَا ﴾ ’’جب تک ان کے بڑے شہر میں نہ بھیج لے۔‘‘ یعنی اس بستی اور شہر میں ، جہاں سے وہ گزرتے ہیں ، جہاں وہ آتے جاتے رہتے ہیں ، ان بستیوں کے اردگرد پھرتے رہتے ہیں اور ان سے ان کی خبریں اور واقعات مخفی نہیں رہتے ہیں ۔ ﴿ رَسُوۡلًا يَّتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾’’رسول جو ان پر ہماری آیتیں پڑھتا۔‘‘ جو اس وحی کی صحت پر دلالت کرتیں جسے رسول لے کر آیا اور اس کی دعوت کی تصدیق کرتی تھیں اور اللہ کا رسول ان کے قریب اور دور سب کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتا تھا۔ اس کے برعکس دور دراز بستیوں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں ، رسولوں کا مبعوث ہونا ان پر مخفی رہ سکتا ہے۔ مگر بڑے بڑے شہروں میں ان اخبار و واقعات کا شائع ہونا زیادہ یقینی ہے اور غالب حالات میں شہروں کے باشندوں میں دوسروں کی نسبت جفا کم ہوتی ہے۔﴿ وَمَا كُنَّا مُهۡلِـكِي الۡقُرٰۤى اِلَّا وَاَهۡلُهَا ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اسی وقت جبکہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں ۔‘‘ یعنی انھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے ظلم کیا اور سزا کے مستحق ٹھہرے۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کے ظلم کی بنا پر اور اس پر حجت قائم کرنے کے بعد ہی عذاب دیتا ہے۔
28:60–61Page 393
وَمَآ أُوتِيتُم مِّن شَيۡءٖ فَمَتَٰعُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَزِينَتُهَاۚ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰٓۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ ٦٠
And whatever thing you [people] have been given - it is [only for] the enjoyment of worldly life and its adornment. And what is with Allāh is better and more lasting; so will you not use reason?
أَفَمَن وَعَدۡنَٰهُ وَعۡدًا حَسَنٗا فَهُوَ لَٰقِيهِ كَمَن مَّتَّعۡنَٰهُ مَتَٰعَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا ثُمَّ هُوَ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ مِنَ ٱلۡمُحۡضَرِينَ ٦١
Then is he whom We have promised a good promise which he will meet [i.e., obtain] like he for whom We provided enjoyment of worldly life [but] then he is, on the Day of Resurrection, among those presented [for punishment in Hell]?
اور جو کچھ بھی دیے گئے ہو تم کوئی چیز تو وہ سامان ہے زندگانیٔ دنیا کا اور اس کی زینت اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہت بہتر اور دیرپا ہے، کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟ (60) کیا پس وہ شخص کہ وعدہ کیا ہم نے اس سے وعدہ اچھا، پھر وہ ملنے والا ہے اس کو، اس شخص جیسا ہے کہ فائدہ دیا ہم نے اسے (کچھ)فائدہ زندگانیٔ دنیا کا ، پھر وہ دن قیامت کے ، حاضر کردہ لوگوں میں سے ہو گا (61)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دنیا میں زہد کی ترغیب دی ہے نیز انھیں خبردار کیا ہے کہ وہ دنیا کے دھوکے میں نہ آئیں اور یہ کہ وہ آخرت میں رغبت رکھیں ، نیز اس نے آخرت کو بندے کا مطلوب و مقصود قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سب کچھ، جو مخلوق کو عطا کیا گیا ہے، مثلاً:سونا چاندی، حیوانات، مال و متاع، عورتیں ، بیٹے، ماکولات، مشروبات اور لذات صرف دنیا کی متاع اور اس کی زینت ہیں ۔ بندہ جن سے بہت تھوڑے وقت کے لیے متمتع ہوتا ہے وہ بہت ہی تھوڑی سی متاع ہے جو تکدر سے گھری ہوئی اور غم و اندوہ سے لبریز ہے۔ بندہ نہایت قلیل مدت کے لیے فخروریا کے طور پر اس دنیا سے اپنے آپ کو آراستہ کرتا ہے پھر جلد ہی یہ دنیا زائل اور تمام کی تمام ختم ہو جاتی ہے اور اس دنیا سے محبت کرنے والا حسرت، ندامت، ناکامی اور حرماں نصیبی کے سوا اس دنیا سے کچھ حاصل نہیں کر پاتا۔﴿ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس ہمیشہ رہنے والی نعمتیں اور ہر قسم کے تکدر سے محفوظ زندگی ﴿ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى ﴾ اپنے اوصاف اور کمیت کے اعتبار سے بہتر ہے وہ زندگی دائمی، سرمدی اور ابدی ہے۔ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم لوگوں میں عقل نہیں جس کے ذریعے سے تم دونوں امور کے مابین موازنہ کر سکو کہ کون سی زندگی ترجیح دیے جانے کی مستحق ہے اور کون سی زندگی اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ اس کے لیے بھاگ دوڑ کی جائے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ بندہ اپنی عقل کے مطابق، آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتا ہے اور اگر کوئی آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتا ہے تو اس کا باعث اس کی کم عقلی ہے۔
[61] بنابریں اللہ تعالیٰ نے انسانی عقلوں کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ دنیا کو ترجیح دینے والوں کے انجام اور آخرت کو ترجیح دینے والوں کے انجام کے مابین موازنہ کریں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَفَمَنۡ وَّعَدۡنٰهُ وَعۡدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيۡهِ ﴾ ’’بھلا جسے ہم نے کوئی اچھا وعدہ دیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو‘‘ کیا وہ مومن جو آخرت کے لیے کوشاں ہے، اپنے رب کے وعدۂ ثواب یعنی جنت کے لیے عمل پیرا ہے جس میں بڑی بڑی نعمتیں عطا ہوں گی اور بلاشبہ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا کیونکہ یہ ایک کریم ہستی کی طرف سے کیا گیا وعدہ ہے جس کا وعدہ سچا ہوتا ہے، وہ اپنے اس بندے سے کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتی جو اس کی رضا پر چلتا ہے اور اس کو ناراض کرنے والے امور سے اجتناب کرتا ہے۔ ﴿ كَمَنۡ مَّتَّعۡنٰهُ مَتَاعَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جسے ہم نے دنیاوی زندگی کے سروسامان سے نوازا ہو‘‘ جو اس دنیا کو حاصل کرتا ہے وہ کھاتا پیتا اور اس سے یوں متمتع ہوتا ہے جیسے جانور متمتع ہوتے ہیں ؟ یہ شخص اپنی آخرت سے غافل ہو کر اپنی دنیا میں مشغول ہے اس نے ہدایت الٰہی کی کوئی پروا کی نہ انبیاء و مرسلین کی اطاعت کی۔ یہ اپنے اسی رویے پر جما ہوا ہے۔ اس دنیا سے اس نے جو کچھ زاد راہ سمیٹا ہے وہ ہلاکت اور خسارے کے سوا کچھ نہیں ۔ ﴿ ثُمَّ هُوَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ مِنَ الۡمُحۡضَرِيۡنَ ﴾ ’’پھر قیامت کے دن وہ ان لوگوں میں ہو جو حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی پھر حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا۔ اسے معلوم ہے کہ اس کے دامن میں کوئی بھلائی نہیں ، اس کے پاس جو کچھ ہے وہ سب اس کے لیے نقصان دہ ہے… کیا تم جانتے ہو اس کا کیا انجام ہو گا؟ اور اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا … عقل مند شخص کو وہی چیز اختیار کرنی چاہیے جو اختیار كيے جانے کی مستحق ہے اور اسی چیز کو ترجیح دینا چاہیے جو ترجیح دیے جانے کے قابل ہے۔
28:62–66Page 393
وَيَوۡمَ يُنَادِيهِمۡ فَيَقُولُ أَيۡنَ شُرَكَآءِيَ ٱلَّذِينَ كُنتُمۡ تَزۡعُمُونَ ٦٢
And [warn of] the Day He will call them and say, "Where are My 'partners' which you used to claim?"
قَالَ ٱلَّذِينَ حَقَّ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقَوۡلُ رَبَّنَا هَٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَغۡوَيۡنَآ أَغۡوَيۡنَٰهُمۡ كَمَا غَوَيۡنَاۖ تَبَرَّأۡنَآ إِلَيۡكَۖ مَا كَانُوٓاْ إِيَّانَا يَعۡبُدُونَ ٦٣
Those upon whom the word1 will have come into effect will say, "Our Lord, these are the ones we led to error. We led them to error just as we were in error. We declare our disassociation [from them] to You. They did not used to worship [i.e., obey] us."2
وَقِيلَ ٱدۡعُواْ شُرَكَآءَكُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ فَلَمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَهُمۡ وَرَأَوُاْ ٱلۡعَذَابَۚ لَوۡ أَنَّهُمۡ كَانُواْ يَهۡتَدُونَ ٦٤
And it will be said, "Invoke your 'partners,'" and they will invoke them; but they will not respond to them, and they will see the punishment. If only they had followed guidance!
وَيَوۡمَ يُنَادِيهِمۡ فَيَقُولُ مَاذَآ أَجَبۡتُمُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ٦٥
And [mention] the Day He will call them and say, "What did you answer the messengers?"
فَعَمِيَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلۡأَنۢبَآءُ يَوۡمَئِذٖ فَهُمۡ لَا يَتَسَآءَلُونَ ٦٦
But the information1 will be unapparent to them that Day, so they will not [be able to] ask one another.
اور جس دن ندا دے گا انھیں (اللہ)، پھر وہ کہے گا (ان سے)، کہاں ہیں میرے شریک وہ جن کو تھے تم (شریک) گمان کرتے؟ (62)کہیں گے وہ لوگ کہ ثابت ہو چکا ان پر قول (عذاب) کا ، اے ہمارے رب! یہی ہیں وہ لوگ جنھیں گمراہ کیا تھا ہم نے، ہم نے گمراہ کیا تھا انھیں جس طرح ہم گمراہ ہوئے تھے ہم بیزاری ظاہر کرتے ہیں تیرے سامنے (ان سے) نہیں تھے وہ خاص ہماری ہی عبادت کرتے (63) اور کہا جائے گا، بلاؤ تم اپنے شریکوں کو پس وہ پکاریں گے ان کوتو وہ نہیں جواب دیں گے انھیں اور وہ (سب) دیکھ لیں گے عذاب کاش کہ! بے شک ہوتے وہ ہدایت پر چلتے (64) اور (یاد کرو!) جس دن پکارے گا ان کا (اللہ)، پھر وہ کہے گا، کیا جواب دیا تھا تم نے رسولوں کو؟ (65) پس اندھی ہو جائیں گی ان پر خبریں اس دن! پس وہ نہیں کریں گے ایک دوسرے سے سوال بھی (66)
[63,62] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کے روز خلائق سے چند سوال کرے گا:1 اصولی چیزوں کے بارے میں سوال کرے گا۔2 اللہ تعالیٰ ان سے اپنی عبادت کے بارے میں سوال کرے گا۔3 اور انھوں نے اس کے رسولوں کو کیا جواب دیا اس بارے میں سوال کرے گا۔چنانچہ فرمایا: ﴿ وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو پکار کر کہے گا جنھوں نے اس کے شریک بنائے، وہ ان کی عبادت کرتے رہے، جلب منفعت اور دفع ضرر میں ان پر امیدیں رکھتے رہے۔ اللہ تعالیٰ مخلوقات کے سامنے انھیں اس لیے پکار کر کہے گا تاکہ ان کے سامنے ان کے معبودوں کی بے بسی اور خود ان کی گمراہی ظاہر ہو جائے۔ ﴿ فَيَقُوۡلُ اَيۡنَ شُرَؔكَآءِيَ ﴾ ’’پس وہ (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں ؟‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اللہ تعالیٰ کی یہ ندا ان کے زعم اور ان کی بہتان طرازی پر طنز کے طور پر ہو گی، اس لیے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴾ ’’جن کا تمھیں دعویٰ تھا۔‘‘ تمھارے مزعومہ معبود اپنی ذات کے ساتھ کہاں ہیں اور کہاں ہے ان کی نفع دینے اور نقصان دینے کی طاقت؟اور یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اس وقت ان کے سامنے یہ بات اچھی طرح عیاں ہو جائے گی کہ جن خودساختہ معبودوں کی وہ عبادت کرتے رہے ہیں جن پر ان کو بہت امیدیں اور توقعات تھیں ، سب باطل اور کمزور تھے اور وہ امیدیں بھی بے ثمر تھیں جو انھوں نے ان معبودوں سے وابستہ کر رکھی تھیں وہ اپنے بارے میں ضلالت اور بے راہ روی کا اعتراف کریں گے۔ بنابریں ﴿ قَالَ الَّذِيۡنَ حَقَّ عَلَيۡهِمُ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’وہ لوگ جن پر عذاب کی بات واجب ہوجائے گی کہیں گے‘‘ کفروشر میں ان کی قیادت کرنے والے سردار اپنے پیروکاروں کو گمراہ کرنے کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’اے ہمارے رب یہی‘‘ وہ پیروکار ہیں ﴿الَّذِيۡنَ اَغۡوَيۡنَا١ۚ اَغۡوَيۡنٰهُمۡ كَمَا غَوَيۡنَا﴾ ’’جن کو ہم نے بدراہ کیا، ہم نے ان کو اسی طرح بدراہ کیا جس طرح ہم خود بدراہ ہوئے۔‘‘ یعنی گمراہی اور بدراہی میں ہم میں سے ہر ایک شریک ہے اور اس پر عذاب واجب ہو گیا۔ وہ کہیں گے:﴿ تَبَرَّاۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ یعنی ہم ان کی عبادت سے بری الذمہ ہیں ہم ان سے اور ان کے عمل سے براء ت کا اظہار کرتے ہیں ۔ ﴿ مَا كَانُوۡۤا اِيَّانَا يَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے۔‘‘ یہ لوگ تو شیاطین کی عبادت کیا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَقِيۡلَ ﴾ ’’کہا جائے گا‘‘ ان سے ﴿ ادۡعُوۡا شُرَؔكَآءَكُمۡ ﴾ ’’اپنے ان معبودوں کو بلالو‘‘ جن سے تمھیں کوئی نفع پہنچنے کی امید تھی چنانچہ مصیبت کی ایسی گھڑی میں ان کو اپنے مزعومہ معبودوں کو بلانے کا حکم دیا جائے گا جس میں عابد اپنے معبود کا پکارنے پر مجبور ہوتا ہے۔ ﴿ فَدَعَوۡهُمۡ ﴾ ’’پس وہ ان کو پکاریں گے‘‘ تاکہ وہ ان کو کوئی فائدہ پہنچائیں یا ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچائیں ﴿ فَلَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهُمۡ ﴾ ’’مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے‘‘ تب کفار کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ جھوٹے اور سزا کے مستحق ہیں ۔ ﴿ وَرَاَوُا الۡعَذَابَ﴾ ’’اور وہ اس عذاب کو دیکھیں گے‘‘ جو ان کے آنکھوں دیکھتے نازل ہو گا جس کو وہ جھٹلایا اور اس کا انکار کیا کرتے تھے۔ ﴿ لَوۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’کاش وہ ہدایت یاب ہوتے۔‘‘ تو ان کو اس عذاب کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور انھیں جنت کے راستے کی طرف راہنمائی حاصل ہوتی، جیسے انھیں دنیا میں راہنمائی حاصل ہوئی تھی مگر اس کے برعکس وہ دنیا میں راہ راست پر گامزن نہ ہوئے، اس لیے آخرت میں انھیں جنت کا راستہ نہیں ملا۔
[66,65]﴿ وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ فَيَقُوۡلُ مَاذَاۤ اَجَبۡتُمُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’اور جس روز اللہ ان کو پکارے گا اور کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟‘‘ یعنی آیا تم نے ان کی تصدیق کر کے ان کی اتباع کی یا تم نے ان کی تکذیب کر کے ان کی مخالفت کا راستہ اختیار کیا؟ ﴿ فَعَمِيَتۡ عَلَيۡهِمُ الۡاَنۢۡبَآءُ يَوۡمَىِٕذٍ فَهُمۡ لَا يَتَسَآءَلُوۡنَ۠ ﴾ یعنی انھیں اس سوال کا جواب بن نہیں پڑے گا اور نہ انھیں صواب کا راستہ ہی ملے گا اور یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ اس مقام پر صریح اور صحیح جواب دیے بغیر ان کی جان نہیں چھوٹے گی، یعنی اپنے احوال کے مطابق انھیں بتانا پڑے گا کہ انھوں نے ایمان اور اطاعت کے ساتھ رسولوں کی آواز پر لبیک کہی تھی مگر جب انھیں اپنے رسولوں کو جھٹلانے کے رویے، ان کے ساتھ اپنے عناد اور ان کے احکام کی مخالفت کے بارے میں معلوم ہو گا تو وہ کچھ نہیں بولیں گے اور نہ ایک دوسرے سے پوچھ سکیں گے کہ کیا جواب دیں خواہ جواب جھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔
28:67Page 393
فَأَمَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَعَسَىٰٓ أَن يَكُونَ مِنَ ٱلۡمُفۡلِحِينَ ٦٧
But as for one who had repented, believed, and done righteousness, it is expected [i.e., promised by Allāh] that he will be among the successful.
پس لیکن جس شخص نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اس نے عمل کیا نیک تو امید ہے یہ کہ ہو گا وہ فلاح پانے والوں میں سے (67)
[67]اللہ تبارک و تعالیٰ مخلوق سے ان کے معبود اور ان کے رسولوں کے بارے میں اپنے سوال کا ذکر کرنے کے بعد اس طریق کا ذکر کرتا ہے جس کے ذریعے سے بندہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ سکتا ہے۔ بے شک صرف وہی شخص نجات حاصل کر سکتا ہے جو شرک اور معاصی سے توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے، اس کی عبادت کرتا ہے، اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہے، ان کی تصدیق کرتا ہے، نیک عمل کرتا ہے اور پنے اعمال میں رسولوں کی اتباع کرتا ہے۔﴿ فَعَسٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ ﴾ ’’پس امید ہے کہ وہ ہوں ‘‘ یعنی وہ لوگ جن میں یہ تمام خصائل جمع ہیں ۔ ﴿ مِنَ الۡمُفۡلِحِيۡنَ ﴾ ’’کامیاب ہونے والوں میں سے۔‘‘ اپنا مطلوب و مقصود حاصل کرنے اور خوف سے نجات پانے میں کامیاب ہونے والے۔ پس متذکرہ بالا امور کے بغیر فلاح کا کوئی راستہ نہیں ۔
28:68–70Page 393
وَرَبُّكَ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ وَيَخۡتَارُۗ مَا كَانَ لَهُمُ ٱلۡخِيَرَةُۚ سُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ ٦٨
And your Lord creates what He wills and chooses; not for them was the choice. Exalted is Allāh and high above what they associate with Him.
وَرَبُّكَ يَعۡلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمۡ وَمَا يُعۡلِنُونَ ٦٩
And your Lord knows what their breasts conceal and what they declare.
وَهُوَ ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ لَهُ ٱلۡحَمۡدُ فِي ٱلۡأُولَىٰ وَٱلۡأٓخِرَةِۖ وَلَهُ ٱلۡحُكۡمُ وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ ٧٠
And He is Allāh; there is no deity except Him. To Him is [due all] praise in the first [life] and the Hereafter. And His is the [final] decision, and to Him you will be returned.
اور آپ کا رب پیدا کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے اور (جو) وہ پسند کرتا ہے، نہیں ہے ان (لوگوں ) کے لیے کوئی اختیار، پاک ہے اللہ اور وہ برتر ہے ان سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (68)اور آپ کا رب جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں سینے ان کے اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں (69) اور وہی ہے اللہ، نہیں کوئی اور الٰہ مگر وہی، اسی کے ہے تمام حمد دنیا اور آخرت میں اور اسی کا ہے حکم،اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تم (سب)(70)
[70-68] اللہ تبارک وتعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا پھر ان میں اپنی مشیت نافذ کی اور وہ اپنے اختیار میں متفرد ہے۔ وہ اشخاص، اوامر، ازمان اور اماکن میں سے جو چاہتا ہے چن کر مختص کر لیتا ہے کسی کو اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان تمام شریکوں ، مددگاروں ، اولاد اور بیوی وغیرہ سے منزہ اور مبرا ہے جنھیں یہ مشرکین اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو خوب جانتا ہے جنھیں یہ اپنے سینوں میں چھپاتے ہیں اور جنھیں یہ ظاہر کرتے ہیں ۔ وہ اکیلا ہی دنیا و آخرت میں اپنی صفات جمال و کمال اور اپنی مخلوق پر احسان و اکرام کی بنا پر مستحق عبادت اور لائق ستائش ہے۔ وہی دنیا و آخرت میں فیصلے کرنے والا ہے، دنیا میں اپنے حکم کونی و قدری کے مطابق فیصلے کرتا ہے جو تمام مخلوق میں جاری و ساری ہیں اور وہ اپنے حکم دینی کے مطابق فیصلے کرتا ہے جس سے تمام شرائع اوامر و نواہی وجود میں آتے ہیں ۔ وہ آخرت میں بھی اپنے حکم قدری و جزائی کے مطابق فیصلے کرے گا اس لیے فرمایا:﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ تب وہ تم میں سے ہر ایک کو اس کے اچھے اور برے عمل کی جزا دے گا۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences