As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
العنكبوت
Al-'Ankabut
The Spider · Meccan · 69 ayahs
29:1–3Page 396
الٓمٓ ١
Alif, Lām, Meem.1
أَحَسِبَ ٱلنَّاسُ أَن يُتۡرَكُوٓاْ أَن يَقُولُوٓاْ ءَامَنَّا وَهُمۡ لَا يُفۡتَنُونَ ٢
Do the people think that they will be left to say, "We believe" and they will not be tried?
وَلَقَدۡ فَتَنَّا ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۖ فَلَيَعۡلَمَنَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ صَدَقُواْ وَلَيَعۡلَمَنَّ ٱلۡكَٰذِبِينَ ٣
But We have certainly tried those before them, and Allāh will surely make evident those who are truthful, and He will surely make evident the liars.
الٓمّٓ(1)کیا گمان کیا ہے لوگوں نے یہ کہ چھوڑدیے جائیں گے (صرف) یہ کہنے پر کہ ہم ایمان لائےاور وہ نہیں آزمائے جائیں گے (2) اور البتہ تحقیق آزمایا تھا ہم نے ان لوگوں کو جو ان سے پہلے تھے پس البتہ ضرور جان لے گا اللہ ان لوگوں کوجنھوں نے سچ بولااور البتہ وہ ضرور جان لے گا ان کو جو جھوٹے ہیں (3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بیان فرماتا ہے کہ یہ اس کی حکمت کا تقاضا نہیں کہ جس کسی نے کہہ دیا کہ ’’وہ مومن ہے‘‘ اور وہ ایمان کا دعویٰ کرے … اسے ایسی حالت میں باقی رکھا جائے کہ جس میں وہ آزمائش و ابتلا سے سلامت رہے گا اور اسے کوئی ایسا امر پیش نہیں آئے گا جو اس کے ایمان اور اس کی فروع کو مضطرب کرے اور اگر معاملہ اسی طرح ہو تو سچے اور جھوٹے، حق اور باطل میں امتیاز نہیں ہو سکتا لیکن اس کی عادت یہ رہی ہے کہ وہ اہل ایمان کو خوشحالی اور تنگدستی، راحت اور مشقت، بشاشت اور ناگواری، فراخی اور محتاجی، بعض اوقات دشمنوں کی فتح و غلبہ اور دشمنوں کے خلاف قول و فعل کے ساتھ جہاد وغیرہ جیسی آزمائشوں کے ذریعے سے آزماتا ہے جو تمام تر شبہات کے فتنے کی طرف لوٹتی ہیں جو عقیدہ کی معارض ہیں اور شہوات کی طرف لوٹتی ہیں ، جو ارادے کی معارض ہیں ۔شبہات کے وارد ہونے کے وقت جس کسی کا ایمان مضبوط رہتا ہے اور متزلزل نہیں ہوتا اور اس حق کے ذریعے سے شبہات کو دور کرتا ہے جو اس کے پاس ہے اور ان شہوات کے وارد ہونے کے وقت… جو گناہ اور معاصی کے موجب اور داعی ہیں یا وہ اسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم سے روگرداں کرتے ہیں … ایمان کے تقاضوں پر عمل کرتا ہے، اپنی شہوات کے خلاف جدوجہد کرتا ہے یہ چیز اس کے ایمان کی صداقت اور صحت پر دلالت کرتی ہے۔ شبہات کے وارد ہونے کے وقت جس کسی کے دل میں شک وریب جڑ پکڑ لیتا ہے اور شہوات کے پیش آنے پر شہوات اسے گناہوں کی طرف موڑ دیتی یا واجبات کی ادائیگی سے روک دیتی ہیں تو یہ چیز اس کے ایمان کی عدم صحت اور عدم صداقت پر دلالت کرتی ہے۔اس مقام پر لوگ بہت سے درجات میں منقسم ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شمار نہیں کر سکتا کچھ لوگوں کے پاس بہت قلیل ایمان اور کچھ لوگ اس سے بہت زیادہ سے بہرہ ور ہیں ۔ پس ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں دنیا و آخرت کی زندگی میں قول ثابت کے ذریعے سے ثابت قدمی عطا کرے اور ہمیں اپنے دین پر ثبات سے سرفراز کرے۔ ابتلا اور امتحان نفوس انسانی کے لیے ایک بھٹی کی مانند ہے جو اچھی چیز میں سے گندگی اور میل کچیل کو نکال باہر کرتی ہے۔
29:4Page 396
أَمۡ حَسِبَ ٱلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن يَسۡبِقُونَاۚ سَآءَ مَا يَحۡكُمُونَ ٤
Or do those who do evil deeds think they can outrun [i.e., escape] Us? Evil is what they judge.
کیا گمان کیا ہے ان لوگوں نے جو عمل کرتے ہیں برے، یہ کہ وہ بچ نکل جائیں گے ہم سے؟ بہت برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں (4)
[4] یعنی کیا ان لوگوں نے، جن کے ارادوں پر جرائم کا ارتکاب اور برے افعال غالب ہیں ، یہ سمجھ رکھا ہے کہ ان کے اعمال کو یونہی چھوڑ دیا جائے گا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں عنقریب غافل ہو جائے گا یا وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نکل بھاگیں گے۔ اسی لیے وہ گناہوں کا ارتکاب کر رہے ہیں اور ان کے لیے ان گناہوں پر عمل کرنا بہت آسان اور سہل ہے؟ ﴿سَآءَ مَا يَحۡكُمُوۡنَ ﴾ یعنی ان کا فیصلہ بہت برا ہے، یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کے انکار کو متضمن ہے نیز ان کے اس دعوے کو متضمن ہے کہ ان میں اتنی طاقت اور قدرت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ سکیں حالانکہ وہ سب سے کمزور اور سب سے عاجز مخلوق ہیں ۔
29:5–6Page 396
مَن كَانَ يَرۡجُواْ لِقَآءَ ٱللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ ٱللَّهِ لَأٓتٖۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ ٥
Whoever should hope for the meeting with Allāh - indeed, the term [decreed by] Allāh is coming. And He is the Hearing, the Knowing.
وَمَن جَٰهَدَ فَإِنَّمَا يُجَٰهِدُ لِنَفۡسِهِۦٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٦
And whoever strives only strives for [the benefit of] himself. Indeed, Allāh is Free from need of the worlds.
جو شخص امید رکھتا ہے ملاقات کی اللہ سے،پس بلاشبہ وعدہ اللہ کا ضرور آنے والا ہے اور وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (5) اور جو شخص جہاد کرے تو یقینا وہ جہاد کرتا ہے اپنی ذات ہی کے فائدے کے لیے، بے شک اللہ البتہ بے نیاز ہے تمام جہان والوں سے (6)
[5] اے اپنے رب کے ساتھ محبت کرنے والے! اس کے قرب اور اس کی ملاقات کا اشتیاق رکھنے والے! اور اس کی رضا کے حصول کی خاطر بھاگ دوڑ کرنے والے! اپنے محبوب کی ملاقات کے وقت کے قریب آنے پر خوش ہو جا کیونکہ وہ وقت آنے والا ہے اور ہر آنے والا وقت قریب ہوتا ہے۔ اپنے محبوب کی ملاقات کے لیے زادراہ لے کر، امید کو اپنا ساتھی بنا کر اور محبوب کے وصل کی آرزو کرتے ہوئے اس کی طرف رواں دواں ہو جا۔
[6]مگر ہر شخص کو، اس کے دعویٰ کرنے پر عطا نہیں کر دیا جاتا اور نہ اس کی ہر تمنا پوری کر دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آوازوں کو سننے والا اور نیتوں کو جاننے والا ہے اس لیے جو کوئی اپنے دعوے اور تمناؤں میں سچا ہے اللہ تعالیٰ اس کی امیدوں کو پورا کر دیتا ہے اور جو کوئی اپنے دعوے میں جھوٹا ہے اس کا دعویٰ اسے کوئی فائدہ نہیں دیتا وہ خوب جانتا ہے کہ کون اس کی محبت کا اہل ہے اور کون اس کا اہل نہیں ۔﴿ وَمَنۡ جَاهَدَ ﴾ جس نے اپنے نفس، شیطان اور کافر دشمن کے خلاف جہاد کیا ﴿ فَاِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفۡسِهٖ ﴾ ’’تووہ اپنے ہی فائدے کے لیے جہاد کرتا ہے۔‘‘ کیونکہ اس جہاد کا فائدہ اور اس کا ثمرہ اسی کی طرف لوٹتا ہے اور اللہ تو تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا ہے اس کا مقصد یہ نہیں کہ اس سے اسے کوئی فائدہ حاصل ہو گا اور نہ اللہ تعالیٰ نے بخل کی بنا پر بعض چیزوں سے روک رکھا ہے۔ یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اوامرونواہی میں ، مکلف جدوجہد کا محتاج ہے کیونکہ اس کا نفس طبعاً نیکی کرنے میں سستی کرتا ہے، اس کا شیطان اسے نیکی کی راہ سے روکتا ہے اور اس کا کافر دشمن اسے اقامت دین سے منع کرتا ہے ان تمام معارضات کو دور کرنے کے لیے مجاہدے اور سخت کوشش کی ضرورت ہے۔
29:7Page 397
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنۡهُمۡ سَيِّـَٔاتِهِمۡ وَلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ أَحۡسَنَ ٱلَّذِي كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٧
And those who believe and do righteous deeds - We will surely remove from them their misdeeds and will surely reward them according to the best of what they used to do.
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، البتہ ضرور مٹا دیں گے ہم ان سے برائیاں ان کی اور البتہ ضرور جزا دیں گے ہم انھیں بہترین ان کی جو تھے وہ عمل کرتے (7)
[7] یعنی وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح سے نوازا، وہ ان کے گناہوں کو ختم کر دے گا کیونکہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں ﴿ وَلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ اَحۡسَنَ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم ان کو ان کے اعمال کابہت اچھا صلہ دیں گے۔‘‘ اس سے مراد اعمال خیر ہیں ، مثلاً:واجبات و مستحباب وغیرہ اور یہ بندے کے بہترین اعمال ہیں کیونکہ بندہ مباح کام بھی کرتا ہے۔
29:8Page 397
وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيۡهِ حُسۡنٗاۖ وَإِن جَٰهَدَاكَ لِتُشۡرِكَ بِي مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٞ فَلَا تُطِعۡهُمَآۚ إِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٨
And We have enjoined upon man goodness to parents. But if they endeavor to make you associate with Me that of which you have no knowledge,1 do not obey them. To Me is your return, and I will inform you about what you used to do.
اور وصیت کی ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیکی کر نے کی اور اگر وہ کوشش کریں تیرے ساتھ کہ شریک ٹھہرائے تو میرے ساتھ اس چیز کو کہ نہیں تجھے اس کا کوئی علم تو نہ اطاعت کر تو ان دونوں کی، میری طرف واپسی ہے تمھاری، پس میں خبر دوں گا تمھیں اس کی جو کچھ کہ تھے تم عمل کرتے (8)
[8] یعنی ہم نے انسان کو حکم دیا اور اس کو وصیت کی ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے یعنی وہ اپنے قول و فعل کے ذریعے سے ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اپنے اس رویے کی حفاظت کرے، نیز وہ اپنے قول و فعل میں والدین کی نافرمانی کرے نہ ان کے ساتھ برا سلوک کرے۔ ﴿وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ لِتُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’اور اگر وہ (والدین) دونوں تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک بنائے جبکہ حقیقت سے تجھے واقفیت نہیں ۔‘‘ اور کسی کے پاس شرک کی صحت پر کوئی دلیل نہیں ۔ اس آیت کریمہ میں شرک کے معاملے کی اہمیت کی بنا پر یہ اسلوب اختیار کیا ہے۔ ﴿ فَلَا تُطِعۡهُمَا١ؕ اِلَيَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَاُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تو ان کا کہنا نہ ماننا، تم سب کو میری ہی طرف ہی لوٹ کر آنا ہے، پھر جو کچھ تم کرتے تھے میں تم کو بتاؤں گا۔‘‘ پس میں تمھارے اعمال کی جزا دوں گا۔ اس لیے تم اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو ان کی اطاعت کو ہر شخص کی اطاعت پر مقدم رکھو، سوائے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت ہر چیز پر مقدم ہے۔
29:9Page 397
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَنُدۡخِلَنَّهُمۡ فِي ٱلصَّٰلِحِينَ ٩
And those who believe and do righteous deeds - We will surely admit them among the righteous [into Paradise].
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک ، البتہ ہم ضرور داخل کریں گے انھیں نیک صالح لوگوں میں (9)
[9] جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اس نے نیک عمل كيے، اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اسے اپنے نیک بندوں کے ساتھ جنت میں داخل کرے گا، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر ایک کا اپنا اپنا درجہ اور اپنا اپنا مرتبہ ہے۔ ایمان صحیح اور عمل صالح، بندے کی سعادت کا عنوان ہے اور بے شک وہ اہل رحمان میں سے اور اللہ کے نیک بندوں میں سے ہے۔
29:10–11Page 397
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ فَإِذَآ أُوذِيَ فِي ٱللَّهِ جَعَلَ فِتۡنَةَ ٱلنَّاسِ كَعَذَابِ ٱللَّهِۖ وَلَئِن جَآءَ نَصۡرٞ مِّن رَّبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمۡۚ أَوَلَيۡسَ ٱللَّهُ بِأَعۡلَمَ بِمَا فِي صُدُورِ ٱلۡعَٰلَمِينَ ١٠
And of the people are some who say, "We believe in Allāh," but when one [of them] is harmed for [the cause of] Allāh, he considers the trial [i.e., harm] of the people as [if it were] the punishment of Allāh. But if victory comes from your Lord, they say, "Indeed, We were with you." Is not Allāh most knowing of what is within the breasts of the worlds [i.e., all creatures]?
وَلَيَعۡلَمَنَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَيَعۡلَمَنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ ١١
And Allāh will surely make evident those who believe, and He will surely make evident the hypocrites.
اور بعض لوگوں میں سے وہ ہیں جو کہتے ہیں ایمان لائے ہم اللہ پر، پھر جب ایذا دیا جاتا ہے وہ اللہ (کی راہ) میں تو بناتا ہے وہ ایذا رسانی کو لوگوں کی، مانند عذاب کی اللہ کے اور البتہ اگر آجائے مدد آپ کے رب کی طرف سے تو وہ ضرور کہیں گے، بلاشبہ ہم تو تھے تمھارے ساتھ ہی، کیا نہیں ہے اللہ خوب جاننے والا اس کو جو کچھ ہے سینوں میں جہاں والوں کے؟ (10)اور ضرور جان لے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائےاور ضرور جان لے گا منافقوں کو بھی (11)
[11,10] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ اس شخص کی آزمائش ہونا لازمی ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان فرق ظاہر ہو جائے تو یہ بھی واضح کر دیا کہ لوگوں میں سے ایک گروہ محن و ابتلا پر صبر نہیں کر سکتا بعض تکلیفوں اور مصیبتوں پر ثابت قدم نہیں رہ سکتا، چنانچہ فرمایا:﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوۡذِيَ فِي اللّٰهِ ﴾ ’’اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے اور جب ان کو اللہ (کے راستے) میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔‘‘ مار کر مال چھین کر اور عار دلا کر اسے اذیت دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے دین کو چھوڑ کر باطل کی طرف لوٹ آئے ﴿ جَعَلَ فِتۡنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ﴾ ’’تو لوگوں کی تکلیف (یوں )سمجھتے ہیں جیسے اللہ کا عذاب۔‘‘ لوگوں کی ایذا رسانی انھیں متزلزل کر کے ایمان سے روک دیتی ہے جیسے عذاب انھیں اس چیز سے روک دیتا ہے جو اس عذاب کی باعث بنتی ہے۔﴿ وَلَىِٕنۡ جَآءَ نَصۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكَ لَيَقُوۡلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمۡ﴾ ’’اور اگر تمھارے رب کی طرف سے مدد پہنچے تو کہتے ہیں ہم تو تمھارے ساتھ تھے۔‘‘ کیونکہ یہ ان کی خواہشات نفس کے موافق ہے۔ یہ لوگوں کی اس صنف سے تعلق رکھتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّعۡبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرۡفٍ١ۚ فَاِنۡ اَصَابَهٗ خَيۡرُ نِ اطۡمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَاِنۡ اَصَابَتۡهُ فِتۡنَةُنِ انۡقَلَبَ عَلٰى وَجۡهِهٖ١ۚ ۫ خَسِرَ الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِيۡنُ﴾(الحج:22؍11)’’اور لوگوں میں وہ شخص بھی ہے جو کنارے پر رہ کر اللہ کی عبادت کرتا ہے اگر بھلائی پہنچے تو مطمئن ہو جاتا ہے اور کوئی مصیبت آ جائے تو الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ وہ دنیا و آخرت میں خسارے میں ہے اور یہ واضح خسارہ ہے۔‘‘﴿ اَوَلَيۡسَ اللّٰهُ بِاَعۡلَمَ بِمَا فِيۡ صُدُوۡرِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾’’کیا جو جہاں والوں کے سینوں میں ہے اللہ اس سے واقف نہیں ؟‘‘ اس نے تمھیں اس فریق کے بارے میں آگاہ فرمایا جن کا حال وہی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وصف بیان فرمایا ہے پس تم اس بات سے اس کے کامل علم اور بے پایاں حکمت کو جان سکتے ہو۔﴿ وَلَيَعۡلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَيَعۡلَمَنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ان کو ضرور معلوم کرلے گا جو (سچے) مومن ہیں اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے گا۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آزمائش و ابتلا مقرر کی ہے تاکہ ان کے بارے میں اپنا علم ظاہر کرے اور ان سے جو اعمال ظاہر ہوتے ہیں ان کے مطابق ان کو جزا دے اور مجرد اپنے علم ہی پر ان کو جزاوسزا نہ دے کیونکہ اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے حجت پیش کریں گے کہ اگر ان کو آزمایا گیا ہوتا تو وہ بھی ثابت قدم رہتے۔
29:12–13Page 397
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّبِعُواْ سَبِيلَنَا وَلۡنَحۡمِلۡ خَطَٰيَٰكُمۡ وَمَا هُم بِحَٰمِلِينَ مِنۡ خَطَٰيَٰهُم مِّن شَيۡءٍۖ إِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ ١٢
And those who disbelieve say to those who believe, "Follow our way, and we will carry your sins."1 But they will not carry anything of their sins. Indeed, they are liars.
وَلَيَحۡمِلُنَّ أَثۡقَالَهُمۡ وَأَثۡقَالٗا مَّعَ أَثۡقَالِهِمۡۖ وَلَيُسۡـَٔلُنَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ عَمَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ ١٣
But they will surely carry their [own] burdens and [other] burdens along with their burdens,1 and they will surely be questioned on the Day of Resurrection about what they used to invent.
اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، ان لوگوں سے جو ایمان لائے، پیروی کرو تم ہمارے راستے کی اور چاہیے کہ اٹھالیں ہم تمھارے گناہ حالانکہ نہیں وہ اٹھانے والے ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی، بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں (12) اور البتہ ضرور اٹھائیں گے وہ اپنے بوجھ اور کئی بوجھ (دوسروں کے بھی) ساتھ اپنے بوجھوں کےاور البتہ ضرور پوچھے جائیں گے وہ دن قیامت کے ان باتوں کی بابت جو تھے وہ افتراباندھتے (13)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کی بہتان طرازی اور اہل ایمان کو اپنے دین کی طرف ان کی دعوت کا ذکر کرتا ہے۔ اس ضمن میں اہل ایمان کو آگاہ کیا ہے کہ وہ کفار سے دھوکہ کھائیں نہ اس کی چالوں میں آئیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوۡا سَبِيۡلَنَا ﴾ ’’اور جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے طریق کی پیروی کرو۔‘‘ یعنی اپنے دین یا دین کے کچھ حصے کو ترک کر دو اور ہمارے دین میں ہماری پیروی کرو ہم تمام معاملے کی ذمہ داری لیتے ہیں ۔ ﴿ وَلۡنَحۡمِلۡ خَطٰيٰؔكُمۡ ﴾ ’’اور ہم تمھاری خطاؤں کو اپنے اوپر لے لیں گے۔‘‘ حالانکہ یہ معاملہ ان کے ہاتھ میں نہیں ہے، لہٰذا فرمایا:﴿ وَمَا هُمۡ بِحٰؔمِلِيۡنَ مِنۡ خَطٰيٰؔهُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’حالانکہ وہ ان کے گناہوں کا کچھ بھی بوجھ اٹھانے والے نہیں ۔‘‘ یعنی وہ کم یا زیادہ، کچھ بھی خطائیں اپنے اوپر نہیں لے سکتے۔ خطاؤں کو اپنے ذمے لینے والا خواہ راضی ہی کیوں نہ ہوں ، وہ کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور اللہ تعالیٰ بندے کو اپنے حکم کے بغیر اپنے حق میں تصرف کی اجازت نہیں دیتا اور اس کا حکم:﴿ اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى﴾(النجم:53؍38) ’’کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ کے اصول پر مبنی ہے۔
[13] چونکہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿ وَمَا هُمۡ بِحٰؔمِلِيۡنَ مِنۡ خَطٰيٰؔهُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ سے یہ وہم بھی ہو سکتا ہے کہ اہل ایمان کو کفر وغیرہ کی طرف دعوت دینے کا کفار کو صرف وہی گناہ ہوگا جس کا انھوں نے ارتکاب کیا دوسروں کے گناہوں میں ان کا کوئی حصہ نہیں خواہ وہ دوسروں کے گناہوں کا سبب ہی کیوں نہ بنے ہوں … اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس وہم کو دور کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَلَيَحۡمِلُنَّ اَثۡقَالَهُمۡ ﴾ ’’اور وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔‘‘ یعنی اپنے ان گناہوں کا بوجھ جن کا انھوں نے ارتکاب کیا ﴿ وَاَثۡقَالًا مَّعَ اَثۡقَالِهِمۡ﴾ ’’اور اپنے بوجھ کے ساتھ اور بوجھ بھی (اٹھائیں گے)۔‘‘ اس سے مراد وہ گناہ ہیں جو ان کے سبب سے اور ان کی جسارت کی بنا پر ان کے اعمال نامے میں لکھے گئے۔وہ گناہ جس کا ارتکاب کوئی تابع شخص کرتا ہے اس میں تابع اور متبوع دونوں کا حصہ ہوتا ہے تابع کا حصہ اس لیے ہے کہ اس نے اس گناہ کا ارتکاب کیا اور متبوع کا حصہ اس لیے کہ وہ اس گناہ کا سبب بنا اور اس نے اس گناہ کی طرف دعوت دی۔ بالکل اسی طرح جب کوئی تابع شخص نیکی کرتا ہے تو نیکی کرنے والے کو اس کا ثواب ملتا ہے اور وہ شخص بھی اس ثواب سے بہرہ ور ہوتا ہے جس نے اسے نیکی کی دعوت دی اور نیکی کا سبب بنا۔﴿ وَلَيُسۡئَلُنَّ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور جو بہتان یہ باندھتے رہے قیامت کے دن ان کی ان سے ضرور پرسش ہوگی۔‘‘ یعنی انھوں نے جو بری بات گھڑی ہے پھر اس کو آراستہ کیا ہے، نیز ان سے ان کے اس قول:﴿ وَلۡنَحۡمِلۡ خَطٰيٰؔكُمۡ﴾ ’’ہم تمھاری خطاؤں کو اپنے اوپر لے لیں گے۔‘‘ کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا۔
29:14–15Page 397
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوۡمِهِۦ فَلَبِثَ فِيهِمۡ أَلۡفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمۡسِينَ عَامٗا فَأَخَذَهُمُ ٱلطُّوفَانُ وَهُمۡ ظَٰلِمُونَ ١٤
And We certainly sent Noah to his people, and he remained among them a thousand years minus fifty years, and the flood seized them while they were wrongdoers.
فَأَنجَيۡنَٰهُ وَأَصۡحَٰبَ ٱلسَّفِينَةِ وَجَعَلۡنَٰهَآ ءَايَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ ١٥
But We saved him and the companions of the ship, and We made it1 a sign for the worlds.
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف، پس ٹھہرا رہا وہ ان میں ہزار سال مگر پچاس سال (کم) پھر پکڑ لیا ان کو طوفان نے اس حال میں کہ وہ ظالم تھے (14) پس نجات دی ہم نے اس کو اور کشتی والوں کواور بنا دیا ہم نے اس (کشتی) کو (عظیم) نشانی جہانوں کے لیے (15)
[14] اللہ تعالیٰ گزشتہ امتوں کے عذاب کی بابت اپنے حکم اور اپنی حکمت بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت نوحu کو ان کی قوم میں مبعوث فرمایا، جو ان کو توحید کی دعوت دیتے تھے، ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا حکم دیتے، بتوں اور ان کے خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے روکتے تھے۔ ﴿فَلَبِثَ فِيۡهِمۡ اَلۡفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمۡسِيۡنَ عَامًا ﴾ ’’پس وہ پچاس برس کم ایک ہزار سال ان کے درمیان رہے‘‘ وہ نبی کی حیثیت سے ان کو دعوت دینے سے اکتائے نہ ان کی خیرخواہی سے باز آئے وہ رات دن اور کھلے چھپے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے مگر وہ رشدوہدایت کی راہ پر نہ آئے۔ بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے کفر اور سرکشی پر جمے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے نبی حضرت نوحu نے اپنے بے انتہا صبر، حلم اور تحمل کے باوجود ان کے لیے ان الفاظ میں بددعا کی:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا ﴾(نوح:71؍26)’’اے میرے رب! روئے زمین پر کسی کافر کو بستا نہ چھوڑ۔‘‘﴿ فَاَخَذَهُمُ الطُّوۡفَانُ ﴾ ’’پس ان کو طوفان نے آپکڑا۔‘‘ یعنی ان کو اس پانی نے (طوفان کی صورت میں ) آ لیا جو بہت کثرت سے آسمان سے برسا تھا اور نہایت شدت سے زمین سے پھوٹا تھا۔ ﴿ وَهُمۡ ظٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’ اور وہ ظالم تھے‘‘ اور اس عذاب کے مستحق تھے۔
[15]﴿ فَاَنۡؔجَيۡنٰهُ وَاَصۡحٰؔبَ السَّفِيۡنَةِ﴾ ’’پس ہم نے ان کو اور کشتی والوں کو نجات دی۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے تھے، یعنی ان کے گھر والے اور ان پر ایمان لانے والے دیگر لوگ ﴿وَجَعَلۡنٰهَاۤ ﴾ ’’اور ہم نے اس کو بنایا۔‘‘ یعنی کشتی کو یا قصۂ نوح کو ﴿ اٰيَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’تمام جہانوں کے لیے نشانی‘‘ جس سے لوگ عبرت پکڑتے ہیں کہ جو کوئی اپنے رسولوں کی تکذیب کرتا ہے اس کا انجام ہلاکت ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ہر غم سے نجات دیتا اور ہر تنگی سے نکلنے کی راہ دکھاتا ہے، نیز اللہ تبارک و تعالیٰ نے کشتی کو … یعنی کشتی کی جنس کو، تمام جہانوں کے لیے نشانی بنا دیا جسے وہ اپنے رب کی رحمت سے تعبیر کرتے ہیں ، جس نے ان کے لیے اس کے اسباب مہیا كيے اور اس کے معاملے کو ان کے لیے آسان بنایا اور وہ انھیں ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک اٹھائے پھرتی ہے۔
29:16–22Page 398
وَإِبۡرَٰهِيمَ إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱتَّقُوهُۖ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ١٦
And [We sent] Abraham, when he said to his people, "Worship Allāh and fear Him. That is best for you, if you should know.
إِنَّمَا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوۡثَٰنٗا وَتَخۡلُقُونَ إِفۡكًاۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَا يَمۡلِكُونَ لَكُمۡ رِزۡقٗا فَٱبۡتَغُواْ عِندَ ٱللَّهِ ٱلرِّزۡقَ وَٱعۡبُدُوهُ وَٱشۡكُرُواْ لَهُۥٓۖ إِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ ١٧
You only worship, besides Allāh, idols, and you produce a falsehood. Indeed, those you worship besides Allāh do not possess for you [the power of] provision. So seek from Allāh provision and worship Him and be grateful to Him. To Him you will be returned."
وَإِن تُكَذِّبُواْ فَقَدۡ كَذَّبَ أُمَمٞ مِّن قَبۡلِكُمۡۖ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُ ٱلۡمُبِينُ ١٨
And if you [people] deny [the message] - already nations before you have denied. And there is not upon the Messenger except [the duty of] clear notification.1
أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ كَيۡفَ يُبۡدِئُ ٱللَّهُ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥٓۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ ١٩
Have they not considered how Allāh begins creation and then repeats it? Indeed that, for Allāh, is easy.
قُلۡ سِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ بَدَأَ ٱلۡخَلۡقَۚ ثُمَّ ٱللَّهُ يُنشِئُ ٱلنَّشۡأَةَ ٱلۡأٓخِرَةَۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ٢٠
Say, [O Muḥammad], "Travel through the land and observe how He began creation. Then Allāh will produce the final creation [i.e., development]. Indeed Allāh, over all things, is competent."
يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَرۡحَمُ مَن يَشَآءُۖ وَإِلَيۡهِ تُقۡلَبُونَ ٢١
He punishes whom He wills and has mercy upon whom He wills, and to Him you will be returned.
وَمَآ أَنتُم بِمُعۡجِزِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا فِي ٱلسَّمَآءِۖ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٖ ٢٢
And you will not cause failure [to Allāh] upon the earth or in the heaven. And you have not other than Allāh any protector or any helper.
اور (یاد کیجیے) ابراہیم کو، جب کہا اس نے اپنی قوم سے، عبادت کرو تم اللہ کی اور ڈرو تم اس سے، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم جانتے (16)یقینا تم تو عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے بتوں کی اور گھڑتے ہو تم جھوٹ، بلاشبہ وہ جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، نہیں اختیار رکھتے وہ تمھارے لیے رزق کا، پس تلاش کرو تم اللہ کے ہاں رزق اور عبادت کرو تم اس کی اور شکر کرو تم اس کا، اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تم (17)اور اگر جھٹلاؤ تم (مجھے) تو تحقیق جھٹلایا تھا کئی امتوں نے تم سے پہلے بھی اور نہیں ہے اوپر رسول کے مگر صرف پہنچا دینا واضح طور پر (18) کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ کیسے پہلی بار پیدا کرتا ہے اللہ مخلوق کو؟ پھر وہ لوٹائے گا اس کو، بلاشبہ یہ ہے اللہ پر بہت آسان (19) کہہ دیجیے! سیر کروتم زمین میں ، پھر دیکھو تم کس طرح پہلی بار پیدا کی اس نے مخلوق، پھر اللہ ہی پیدا کرے گا (اس کو) پیدا کرنا دوسری بار، بلاشبہ اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے (20) وہ عذاب دے گا جس کو چاہے گااور وہ رحم کرے گا جس پر چاہے گااور اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے تم (21) اور نہیں تم عاجز کرنے والے (اللہ کو) زمین میں اور نہ آسمان میں اورنہیں ہے تمھارے لیے سوائے اللہ کے کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار (22)
[16] اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے اپنے خلیل ابراہیم u کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے تھے، چنانچہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا:﴿ اعۡبُدُوا اللّٰهَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو، صرف اسی کی عبادت کرو اور جو کچھ وہ تمھیں حکم دیتا ہے اس کی اطاعت کرو ﴿وَاتَّقُوۡهُ﴾ ’’اور اس سے ڈرو‘‘ کہ وہ تم پر ناراض ہو، تمھیں عذاب دے اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ تم ان امورکو چھوڑ دو جو اس کی ناراضی کا باعث ہیں ﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’یہ ۔‘‘یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تقویٰ ﴿ خَيۡرٌ لَّكُمۡ ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ یعنی عبادت اور تقویٰ کو اختیار کرنا ان کو ترک کرنے سے بہتر ہے۔یہ اسم تفضیل کے ایسے باب میں سے ہے جس کے دوسری طرف کچھ نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کا تقویٰ ترک کرنے میں کسی طرح بھی کوئی بھلائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تقویٰ صرف اس لیے لوگوں کے لیے بہتر ہے کہ دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی کرامت کا حصول، عبادت اور تقویٰ کے سوا ممکن نہیں ۔ دنیا و آخرت میں جو بھی بھلائی پائی جاتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے تقویٰ کی وجہ سے ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم اس کا علم رکھتے ہو۔‘‘ پس تمام امور میں خوب غور کرو اور دیکھو کہ ان میں سے کون سا امر ترجیح کے لائق ہے۔
[18,17] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور تقویٰ کا حکم دیا ہے اس لیے ان کو بتوں کی عبادت سے روکا ہے اور ان کے نقص اور عبودیت کے لیے ان کے عدم استحقاق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَوۡثَانًا وَّتَخۡلُقُوۡنَ اِفۡكًا﴾ ’’تم اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہو اور جھوٹ گھڑتے ہو۔‘‘ تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑ کر ان بتوں کو تخلیق کرتے ہو، پھر تم ان کے معبودوں والے نام رکھتے ہو اور پھر تم ان کی عبادت اور تمسک کے لیے جھوٹے احکام گھڑتے ہو ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’بے شک جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔‘‘ وہ ناقص ہیں ان میں کوئی بھی ایسی صفت نہیں ہے جو ان کی عبادت کی مقتضی ہو۔ ﴿ لَا يَمۡلِكُوۡنَ لَكُمۡ رِزۡقًا ﴾ ’’وہ تمھیں رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔‘‘ گویا یوں کہا گیا ہے کہ ہم پر واضح ہو چکا ہے کہ یہ بت گھڑے ہوئے اور ناقص ہیں جو کسی نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ موت و حیات کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ دوبارہ اٹھانے ہی کا۔ پس جس ذات کے یہ اوصاف ہوں وہ ذرہ بھر عبادت کی مستحق نہیں ۔ قلوب ایسے معبود کے طالب ہوتے ہیں جن کی وہ عبادت کریں اور ان سے اپنی حوائج کا سوال کریں … پس ان کے جواب میں ، اس ہستی کی عبادت کی ترغیب دی گئی ہے جو عبادت کی مستحق ہے۔ ﴿ فَابۡتَغُوۡا عِنۡدَ اللّٰهِ الرِّزۡقَ ﴾’’پس اللہ ہی کے ہاں رزق طلب کرو۔‘‘ کیونکہ وہی رزق میسر اور مقدر کرتا ہے اور وہی اس شخص کی دعا قبول کرتا ہے جو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے لیے اس سے دعا کرتا ہے۔﴿ وَاعۡبُدُوۡهُ ﴾ ’’اور اسی (اکیلے) کی عبادت کرو‘‘ جس کا کوئی شریک نہیں کیونکہ وہ کامل، نفع و نقصان دینے والا اور تدبیر کائنات میں متفرد ہے۔ ﴿وَاشۡكُرُوۡا لَهٗ ﴾ اور اسی (اکیلے) کا شکر کرو‘‘ کیونکہ جتنی بھی تمھیں نعمتیں حاصل ہوئی ہیں یا تمام مخلوق کو حاصل ہو رہی ہیں صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور جو بھی مصیبت ان سے دور ہوتی ہے ان کو دور کرنے والا وہی ہے۔ ﴿ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ تب وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا اور جو کچھ تم چھپاتے اور ظاہر کرتے رہے ہو اس کے بارے میں تمھیں آگاہ کرے گا پس تم شرک کی حالت میں اس کی خدمت میں حاضر ہونے سے بچو اور ان امور میں رغبت رکھو جو تمھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں اور جب تم اس کے پاس حاضر ہوگے تو وہ تمھیں ان پر ثواب عطا کرے گا۔
[19]﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا كَيۡفَ يُبۡدِئُ اللّٰهُ الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ ﴾ ’’کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ کس طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔‘‘ یعنی قیامت کے روز اس کا اعادہ کرے گا۔ ﴿ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک مخلوق کا اعادہ کرنا تو اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿وَهُوَ الَّذِيۡ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ وَهُوَ اَهۡوَنُ عَلَيۡهِ﴾(الروم:30؍27) ’’وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا اور ایسا کرنا اس کے لیے زیادہ آسان ہے۔‘‘
[20]﴿ قُلۡ ﴾ ’’آپ (ان سے) کہہ دیجیے!‘‘ کہ اگر انھیں ابتدائے تخلیق میں کوئی شک و شبہ ہے تو ﴿ سِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’تم زمین میں چلو پھرو‘‘ اپنے قلب و بدن کے ساتھ ﴿ فَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ بَدَاَ الۡخَلۡقَ﴾ ’’پھر غور کرو کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ابتدا کی‘‘ تم دیکھو گے کہ انسانوں کے گروہ تھوڑا تھوڑا کر کے وجود میں آ رہے ہیں ، تم دیکھو گے کہ درخت اور نباتات وقتاً فوقتاً جنم لے رہے ہیں ، تم بادلوں اور ہواؤں کو پاؤ گے کہ وہ لگاتار اپنی تجدید کے مراحل میں رہتے ہیں بلکہ تمام مخلوق دائمی طور پر ابتدائے تخلیق اور اعادۂ تخلیق کے دائرے میں گردش کر رہی ہے۔ ان کی موت صغریٰ … یعنی نیند … کے وقت، ان پر غور کرو کہ رات اپنی تاریکیوں کے ساتھ ان کو ڈھانپ لیتی ہے تب تمام حرکات ساکن اور تمام آوازیں منقطع ہو جاتی ہیں ۔ اپنے بستروں اور ٹھکانوں میں تمام مخلوق کی حالت یوں ہوتی ہے جیسے وہ مردہ ہوں ۔ رات بھر وہ اس حالت میں رہتے ہیں حتیٰ کہ جب صبح نمودار ہوتی ہے تو وہ اپنی نیند سے بیدار اور اپنی اس عارضی موت کے بعد دوبارہ زندہ كيے جاتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہوئے اٹھتے ہیں :(اَلْحَمْدُ لِلٰہِ الَّذِي اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُورِ) ’’تعریف ہے اللہ کی جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف قبر سے اٹھ کر جانا ہے۔‘‘بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ ثُمَّ اللّٰهُ ﴾ ’’پھر اللہ ہی‘‘ یعنی اس اعادۂ تخلیق کے بعد ﴿ يُنۡشِئُ النَّشۡاَةَ الۡاٰخِرَةَ ﴾ ’’دوسری نئی پیدائش کرے گا۔‘‘ یہ ایسی زندگی ہے جس میں موت ہے نہ نیند اس زندگی کو، جنت یا جہنم میں … خلود اور دوام حاصل ہو گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی قدرت کسی چیزمیں عاجز نہیں جس طرح وہ تخلیق کی ابتدا پر قادر ہے اسی طرح تخلیق کے اعادہ پر اس کا قادر ہونا زیادہ اولیٰ اور زیادہ لائق ہے۔
[21]﴿ يُعَذِّبُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَرۡحَمُ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’وہ جسے چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے۔‘‘ یعنی حکم جزائی میں وہ متفرد ہے، یعنی وہ اکیلا ہے جو اطاعت کرنے والوں کو ثواب عطا کرتا ہے انھیں اپنی وسیع رحمت کے سائے میں لیتا ہے اور نافرمانوں کو عذاب دیتا ہے۔ ﴿ وَاِلَيۡهِ تُقۡلَبُوۡنَ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ یعنی تم اس گھر کی طرف لوٹو گے جہاں تم پر اس کے عذاب یا رحمت کے احکام جاری ہوں گے، اس لیے اس دنیا میں نیکیوں کا اکتساب کر لو جو اس کی رحمت کا سبب ہیں اور اس کی نافرمانیوں سے دور رہو جو اس کے عذاب کا باعث ہیں ۔
[22]﴿ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ وَلَا فِي السَّمَآءِ﴾ ’’ اور تم اس کو زمین میں عاجز کرسکتے ہو نہ آسمان میں ۔‘‘ یعنی اے جھٹلانے والے لوگو جو گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کرتے ہو! یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ تم سے غافل ہے یا تم زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کو عاجز کر سکو گے۔ تمھاری قدرت واختیار تمھیں دھوکے میں نہ ڈالے۔ تمھارے نفس نے جن امور کو مزین کر کے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات کے بارے میں تمھیں فریب میں مبتلا کر رکھا ہے، وہ تمھیں دھوکے میں نہ رکھیں ۔ کائنات کے تمام گوشوں میں تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہ کر سکو گے ﴿ وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِيٍّ ﴾ ’’اور نہ اللہ کے سوا تمھارا کوئی دوست ہے۔‘‘ جو تمھاری سرپرستی کرے اور تمھیں تمھارے دینی اور دنیاوی مصالح حاصل ہوں ۔ ﴿ وَّلَا نَصِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ کوئی مددگار‘‘ جو تمھاری مدد کرے اور تمھاری تکالیف کو دور کرے۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences