As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Ali 'Imran 3:156–171
3:156–158Page 70
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَقَالُواْ لِإِخۡوَٰنِهِمۡ إِذَا ضَرَبُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَوۡ كَانُواْ غُزّٗى لَّوۡ كَانُواْ عِندَنَا مَا مَاتُواْ وَمَا قُتِلُواْ لِيَجۡعَلَ ٱللَّهُ ذَٰلِكَ حَسۡرَةٗ فِي قُلُوبِهِمۡۗ وَٱللَّهُ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ ١٥٦
O you who have believed, do not be like those who disbelieved and said about their brothers when they traveled through the land or went out to fight, "If they had been with us, they would not have died or have been killed," so Allāh makes that [misconception] a regret within their hearts. And it is Allāh who gives life and causes death, and Allāh is Seeing of what you do.
وَلَئِن قُتِلۡتُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أَوۡ مُتُّمۡ لَمَغۡفِرَةٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَحۡمَةٌ خَيۡرٞ مِّمَّا يَجۡمَعُونَ ١٥٧
And if you are killed in the cause of Allāh or die - then forgiveness from Allāh and mercy are better than whatever they accumulate [in this world].
وَلَئِن مُّتُّمۡ أَوۡ قُتِلۡتُمۡ لَإِلَى ٱللَّهِ تُحۡشَرُونَ ١٥٨
And whether you die or are killed, unto Allāh you will be gathered.
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ ہو تم مانند ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا اور کہا انھوں نے واسطے اپنے بھائیوں کے، جب سفر کیا انھوں نے زمین میں یا تھے وہ لڑنے والے، اگر ہوتے وہ ہمارے پاس تو نہ مرتے وہ اور نہ قتل کیے جاتےتاکہ کر دے اللہ اس (فاسد خیال) کو پچھتاوا ان کے دلوں میں اور اللہ زندہ کرتا اور مارتا ہے اور اللہ ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہے(156) اور البتہ اگر قتل کر دیے گئے تم اللہ کے راستے میں یا مر گئے تو البتہ بخشش اللہ کی اور رحمت، بہت بہتر ہے اس سے جو وہ جمع کرتے ہیں(157) اور البتہ اگر تم مر گئے یا قتل کر دیے گئے تو یقینا اللہ ہی کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے(158)
[156] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اہل ایمان بندوں کو کفار اور منافقین وغیرہ کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے جو اپنے رب اور اس کی قضا و قدر پر ایمان نہیں رکھتے ۔ اس نے ہر چیز میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا ہے۔ خاص طور پر اس معاملے میں کہ وہ اپنے دینی یا نسبی بھائیوں سے کہتے ہیں ﴿اِذَا ضَرَبُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ یعنی جب تجارت وغیرہ کے لیے سفر کرتے ہیں ﴿اَوۡ كَانُوۡا غُزًّى﴾ یا وہ غزوات کے لیے نکلتے ہیں۔ پھر اس دوران میں انھیں موت آ جاتی ہے یا وہ قتل ہو جاتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں ﴿لَّوۡ كَانُوۡا عِنۡدَنَا مَا مَاتُوۡا وَمَا قُتِلُوۡا﴾ ’’اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو وہ نہ مرتے اور نہ قتل ہوتے‘‘ یہ ان کا جھوٹ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿قُلۡ لَّوۡ كُنۡتُمۡ فِيۡ بُيُوۡتِكُمۡ لَـبَرَزَ الَّذِيۡنَ كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقَتۡلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمۡ﴾(آل عمران : 3؍154) ’’کہہ دو اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھا تھا تو وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے۔‘‘ مگر اس تکذیب نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا البتہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول اور عقیدے کو ان کے دلوں میں حسرت بنا دیا پس ان کی مصیبت میں اور اضافہ ہو گیا۔ رہے اہل ایمان ، تو وہ جانتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے پس وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اسے تسلیم کرتے ہیں اور یوں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو ہدایت دیتا ہے اور ان کو مضبوط کر دیتا ہے اور اس طرح ان کی مصیبت میں تخفیف کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ منافقین کی تردید کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿وَاللّٰهُ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ﴾ یعنی زندہ کرنے اور موت دینے کا اختیار وہ اکیلا ہی رکھتا ہے۔ اس لیے صرف احتیاط تقدیر سے نہیں بچا سکتی۔ ﴿وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اس لیے وہ تمھارے اعمال اور تمھاری تکذیب کا بدلہ ضرور دے گا۔
[157] پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل ہو جانا یا مر جانا، اس میں کوئی نقص یا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے پرہیز کیا جائے بلکہ یہ تو ایک ایسا معاملہ ہے جس میں رغبت کے لیے لوگوں کو مسابقت کرنی چاہیے کیونکہ یہ ایک سبب ہے جو اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت تک پہنچاتا ہے۔ اور یہ اس دنیاوی مال و متاع سے کہیں بہتر ہے جسے دنیا والے جمع کرتے ہیں۔
[158] نیز مخلوق کو جب بھی موت آئے گی یا کسی بھی حالت میں ان کو قتل کیا جائے انھیں اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ اس لیے اللہ کے سوا کوئی جائے فرار نہیں اور مخلوق کو کوئی بچانے والا نہیں، سوائے اس کے کہ اس کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا جائے۔
3:159Page 71
فَبِمَا رَحۡمَةٖ مِّنَ ٱللَّهِ لِنتَ لَهُمۡۖ وَلَوۡ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ ٱلۡقَلۡبِ لَٱنفَضُّواْ مِنۡ حَوۡلِكَۖ فَٱعۡفُ عَنۡهُمۡ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِۖ فَإِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُتَوَكِّلِينَ ١٥٩
So by mercy from Allāh, [O Muḥammad], you were lenient with them. And if you had been rude [in speech] and harsh in heart, they would have disbanded from about you. So pardon them and ask forgiveness for them and consult them in the matter. And when you have decided, then rely upon Allāh. Indeed, Allāh loves those who rely [upon Him].
پس بہ سبب رحمت کے اللہ کی، نرم ہوگئے آپ ان کے لیےاور اگر ہوتے آپ تند خو، سخت دل تو ضرور منتشر ہو جاتے وہ آپ کے پاس سے، پس آپ معاف کر دیں انھیں اور بخشش مانگیں ان کے لیے اور مشورہ کریں ان سے (اہم) معاملے میں، پس جب پختہ ارادہ کر لیں آپ تو توکل کریں اللہ پر، بلاشبہ اللہ پسند کرتا ہے توکل کرنے والوں کو(159)
[159] یعنی یہ آپ پر اور آپ کے اصحاب پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اور یہ اللہ کا آپ پر احسان ہے کہ آپ ان کے لیے نہایت نرم دل ہو گئے، آپ ان سے نہایت مہربانی اور شفقت سے پیش آتے ہیں اور ان کے ساتھ آپ کا خلق بہت اچھا ہے اس لیے وہ آپ کے ارد گر جمع ہو گئے اور وہ آپ سے محبت کرتے اور آپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ ﴿وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا﴾ یعنی اگر آپ بداخلاق ہوتے ﴿غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ﴾ یعنی سخت دل ہوتے ﴿لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ﴾ ’’تو وہ آپ کے پاس سے چھٹ جاتے‘‘ کیونکہ بدخوئی اور سخت دلی لوگوں کو متنفر اور ان کے دلوں میں بغض پیدا کرتی ہے۔ پس دنیاوی سربراہ کے اچھے اخلاق لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف کھینچتے ہیں اور دین کے بارے میں لوگوں میں رغبت پیدا کرتے ہیں اس کے علاوہ وہ لوگوں میں قابل تعریف اور اللہ کے ہاں اجر خاص کا مستحق ہوتا ہے اور دینی سربراہ کے برے اخلاق لوگوں کو دین سے متنفر کرتے اور دین کے بارے میں لوگوں میں بغض پیدا کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بدخو دینی سربراہ قابل مذمت اور خاص سزا کا مستحق ہے۔ یہ رسول معصوم(ﷺ)ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے تب کسی دوسرے کا کیا حال ہو گا۔کیا یہ سب سے زیادہ واجب اور سب سے زیادہ اہم بات نہیں کہ ہم رسول اللہﷺکے اخلاق کی پیروی کریں اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف راغب کرنے کے لیے ہم ان کے ساتھ نرمی، حسن خلق اور الفت کے ساتھ پیش آئیں جیسے رسول اللہﷺپیش آیا کرتے تھے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺکو حکم دیا ہے کہ وہ ان کی کوتاہیاں معاف کر دیں جو آپ کے حق میں ان سے صادر ہوئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حق میں جو کوتاہیاں ان سے سرزد ہوئی ہیں اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے بخشش طلب کریں اور اس طرح عفو اور احسان کو یکجا کر دیں۔ ﴿وَشَاوِرۡهُمۡ فِي الۡاَمۡرِ﴾ یعنی ان امور میں ان سے مشورہ کریں جو مشاورت اور فکر و نظر کے محتاج ہیں۔ کیونکہ مشاورت میں بہت سے فوائد اور بے شمار دینی اور دنیاوی مصالح ہیں۔ جیسے:۱۔ مشاورت دینی عبادات میں شمار ہوتی ہے جن سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوتا ہے۔۲۔ مشاورت میں لوگوں کی دل جوئی اور اس قلق کا ازالہ ہوتا ہے جو حوادث کے وقت دلوں میں پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جس شخص کے ہاتھ میں لوگوں کے معاملات کا اختیار ہوتا ہے، جب وہ کسی حادثہ اور اہم موقع پر اہل رائے اور اہل فضیلت اصحاب کو جمع کر کے ان سے مشورہ لیتا ہے تو لوگوں کے دل اس پر مطمئن ہو جاتے ہیں اور وہ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور انھیں معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی ہی رائے کو ترجیح نہیں دیتا بلکہ وہ تمام لوگوں کے لیے کلی مصلحت عامہ میں غور و فکر کرتا ہے۔ تب وہ اس کی اطاعت کی پوری کوشش کرتے ہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ وہ مصالح عامہ میں تگ و دو کرتا ہے۔ اس کے برعکس جو یہ طرز عمل اختیار نہیں کرتا لوگ اس سے سچی محبت کرتے ہیں نہ اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اگر وہ اس کی اطاعت کرتے بھی ہیں تو یہ اطاعت کامل نہیں ہوتی۔۳۔ مشاورت میں افکار نکھر کر سامنے آ جاتے ہیں کیونکہ ان کو ان کے اصل مقام پر استعمال کیا جاتا ہے اور اس طرح لوگوں کی عقل و فہم میں اضافہ ہوتا ہے۔۴۔ مشاورت کے نتیجے میں صحیح رائے سامنے آ جاتی ہے مشاورت سے کام لینے والا عام طور پر غلطی نہیں کرتا۔ اگر اس سے غلطی سرزد ہو بھی جائے یا مقصد پورا نہ ہو تو وہ ملامت کا مستحق نہیں ٹھہرتا۔جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺسے فرمایا ہے ﴿وَشَاوِرۡهُمۡ فِي الۡاَمۡرِ﴾ درآں حالیکہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ عقل، سب سے زیادہ علم اور سب سے افضل رائے رکھتے ہیں… تو وہ دوسروں کو یہ حکم کیسے نہ دے گا؟ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَاِذَا عَزَمۡتَ﴾ یعنی اگر کسی ایسے معاملے میں جس میں مشاورت کی حاجت ہو تو مشاورت کے بعد جب آپ کوئی عزم کر لیں ﴿فَتَوَؔكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ﴾ تو اپنی طاقت اور اپنی دوربینی پر بھروسہ چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی قوت و قدرت پر بھروسہ کریں ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَوَكِّلِيۡنَ﴾ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کے پاس پناہ لیتے ہیں۔
3:160Page 71
إِن يَنصُرۡكُمُ ٱللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمۡۖ وَإِن يَخۡذُلۡكُمۡ فَمَن ذَا ٱلَّذِي يَنصُرُكُم مِّنۢ بَعۡدِهِۦۗ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ١٦٠
If Allāh should aid you, no one can overcome you; but if He should forsake you, who is there that can aid you after Him? And upon Allāh let the believers rely.
اگر مدد کرے تمھاری اللہ تو نہیں کوئی غالب آنے والا تم پر اور اگر وہ (بے مدد) چھوڑ دے تمھیں تو پس کون ہے جو مدد کرے تمھاری بعد اس کے؟ اور اللہ ہی پر پس چاہیے کہ توکل کریں مومن (160)
[160] اگر اللہ تعالیٰ اپنی فتح و نصرت اور اعانت کے ذریعے سے تمھاری مدد کرے ﴿فَلَا غَالِبَ لَكُمۡ﴾ تو تم پر کوئی غالب نہیں آ سکتا، خواہ دنیا کے تمام گوشوں سے جمع ہو کر لوگ تمھارے خلاف کیوں نہ آ جائیں اور خواہ ان کے پاس کتنی ہی زیادہ تعداد اور کتنا ہی سروسامان کیوں نہ ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔ تمام بندے اس کے سامنے مغلوب و مقہور ہیں۔ ان کی پیشانی اس کے قبضہ قدرت میں ہے، پس کوئی جاندار اس کی اجازت کے بغیر حرکت کر سکتا ہے نہ اس کی اجازت کے بغیر سکون اختیار کر سکتا ہے۔ ﴿وَاِنۡ يَّؔخۡذُلۡكُمۡ﴾ ’’اور اگر وہ تمھاری مدد نہ کرے‘‘ یعنی تمھیں تمھارے نفس کے حوالے کر دے ﴿فَمَنۡ ذَا الَّذِيۡ يَنۡصُرُؔكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِهٖ﴾ ’’پس کون ہے جو اس کے بعد تمھاری مدد کرے؟‘‘ اس لیے اگر تمام مخلوق بھی تمھاری اعانت پر مجتمع ہو جائے تو پھر بھی تم مدد سے محروم ہو گے۔ یہ آیت کریمہ اس حکم کو متضمن ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے فتح و نصرت طلب کی جائے، اسی پر بھروسہ کیا جائے اور اپنی طاقت و قدرت سے براء ت کا اظہار کیا جائے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَؔكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ معمول کو عامل سے قبل لانا حصر کا معنی دیتا ہے۔ یعنی تم صرف اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ کرو، کسی اور پر بھروسہ نہ کرو۔ کیونکہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ وہ اکیلا مدد کرنے والا ہے۔ اس لیے اس پر اعتماد اور بھروسہ کرنا توحید ہے اور اس سے مقصود و مطلوب حاصل ہوتا ہے اور کسی دوسرے پر بھروسہ کرنا شرک ہے اور بھروسہ کرنے والے کو کچھ حاصل نہیں ہوتا بلکہ وہ نقصان دہ ہے۔ اس آیت میں صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کا حکم ہے اور بندۂ مومن کے ایمان کے مطابق ہی اس کا توکل ہوتا ہے۔
3:161Page 71
وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَغُلَّۚ وَمَن يَغۡلُلۡ يَأۡتِ بِمَا غَلَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ ١٦١
It is not [attributable] to any prophet that he would act unfaithfully [in regard to war booty]. And whoever betrays, [taking unlawfully], will come with what he took on the Day of Resurrection. Then will every soul be [fully] compensated for what it earned, and they will not be wronged.
اور نہیں لائق کسی نبی کے خیانت کرنا اور جو خیانت کرے تو آئے گا وہ ساتھ اس چیز کے جس کی خیانت کی، دن قیامت کے، پھر پورا (بدلہ) دیا جائے گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا اور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(161)
[161] یہاں (غلول) سے مراد ہے مال غنیمت چھپانا اور اس چیز میں خیانت کرنا جس کا اسے منتظم بنایا گیا ہے۔ خیانت کے حرام ہونے پر اتفاق ہے بلکہ اس کا شمار کبائر میں ہوتا ہے۔ جیسا کہ یہ آیت کریمہ اور دیگر نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ مال غنیمت میں خیانت کرنا ایک نبی کے شایان شان نہیں ۔ کیونکہ مال غنیمت میں خیانت، جیسا کہ آپ کو علم ہے۔۔۔ سب سے بڑا گناہ اور بدترین عیب ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے انبیائے کرام کو ہر عیب سے محفوظ رکھا ہے جو ان میں کسی اعتراض کا باعث بن سکتا ہے۔ اخلاق و اطوار کے لحاظ سے انھیں دنیا میں افضل ترین انسان، سب سے زیادہ پاک نفوس کے مالک اور سب سے زیادہ طیب و طاہرہستیاں بنایا ہے اور انھیں ہر عیب سے پاک کیا ہے۔ انھیں اپنی رسالت کا محل اور اپنی حکمت کا خزانہ بنایا ہے۔ ﴿اَللّٰهُ اَعۡلَمُ حَيۡثُ يَجۡعَلُ رِسَالَتَهٗ﴾(الانعام : 6؍124) ’’اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ اس کی رسالت کا کون سا محل ہے اور وہ اپنی رسالت کسے عنایت فرمائے۔‘‘ان میں سے کسی ایک رسول کے بارے میں بندے کا مجرد علم، تمام رسولوں کے ہر عیب سے محفوظ اور سلامت ہونے کا قطعی فیصلہ کر دیتا ہے اور انبیاء و مرسلین کے بارے میں ان کے دشمنوں کی طرف سے جو کچھ کہا گیا ہے اس کے فاسد ہونے پر کسی دلیل کی حاجت نہیں، کیونکہ ان کی نبوت کی معرفت ان تمام اعتراضات کو دفع کرنے کو مستلزم ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسلوب کے ساتھ ذکر کیا جو اس فعل کے وجود کو مانع ہے چنانچہ فرمایا:﴿وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنۡ يَّغُلَّ﴾ یعنی جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نبوت کے لیے چنا ہے اس کے بارے میں یہ ممتنع اور محال ہے کہ وہ مال غنیمت میں خیانت کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت میں خیانت کرنے والوں کے لیے وعید سنائی ہے، فرمایا:﴿وَمَنۡ يَّغۡلُلۡ يَاۡتِ بِمَا غَلَّ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ﴾یعنی مال غنیمت میں خیانت کرنے والا قیامت کے روز اس مال کو، خواہ وہ کوئی حیوان ہے یا مال و متاع وغیرہ، اپنی پیٹھ پر اٹھائے ہوئے آئے گا اور اس مال کے ذریعے سے اسے عذاب دیا جائے گا۔﴿ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ﴾ یعنی مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کو اس کی خیانت کی مقدار کے مطابق اس کے گناہ کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ﴿وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور ان پر ظلم نہیں ہو گا‘‘ یعنی ان کی برائیوں میں اضافہ اور ان کی نیکیوں میں کمی نہیں کی جائے گی ۔اس آیت کریمہ میں آپ اس حسن احتراز (مفہوم مخالف سے بچاؤ کے احسن پیرائے) پر غور کیجیے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کی سزا کا ذکر کیا ہے کہ وہ قیامت کے روز خیانت شدہ مال کے ساتھ آئے گا اور چونکہ وہ اس غنیمت میں خیانت کرنے والے کی پوری جزا کا ذکر کرنا چاہتا ہے اور اس میں صرف غنیمت میں خیانت کی سزا کے ذکر پر اقتصار کیا ہے۔ یوں اس آیت کے مفہوم مخالف سے یہ وہم لازم آتا ہے کہ دیگر عمل کرنے والوں کو ہو سکتا ہے کہ پورا پورا بدلہ نہ دیا جائے۔ اس لیے یہاں ایسا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو غنیمت میں خیانت کرنے والوں اور دیگر عمل کرنے والوں، دونوں کے لیے جامع ہے۔
3:162–163Page 71
أَفَمَنِ ٱتَّبَعَ رِضۡوَٰنَ ٱللَّهِ كَمَنۢ بَآءَ بِسَخَطٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَمَأۡوَىٰهُ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ ١٦٢
So is one who pursues the pleasure of Allāh like one who brings upon himself the anger of Allāh and whose refuge is Hell? And wretched is the destination.
هُمۡ دَرَجَٰتٌ عِندَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ بَصِيرُۢ بِمَا يَعۡمَلُونَ ١٦٣
They are [varying] degrees in the sight of Allāh, and Allāh is Seeing of whatever they do.
کیا پس جس نے پیروی کی رضائے الٰہی کی، مانند اس شخص کے ہوگا جو لوٹا ساتھ ناراضی کے اللہ کی اور ٹھکانا اس کا جہنم ہے؟ اور وہ بری ہے جگہ لوٹنے کی(162) وہ (الگ الگ) درجوں پر ہوں گے اللہ کے ہاں اور اللہ دیکھنے والا ہے ساتھ اس کے جو وہ کرتے ہیں(163)
[163,162] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ شخص، جس کا مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا ہی کے مطابق اس کے اعمال ہوں اس شخص کے برابر نہیں ہو سکتا جو گناہوں میں مشغول ہے اور اپنے رب کو ناراض کرنے میں لگا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم ، اس کی حکمت اور فطرت انسانی میں یہ دونوں قسم کے اشخاص مساوی نہیں ہو سکتے ﴿اَفَمَنۡ كَانَ مُؤۡمِنًا كَمَنۡ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا يَسۡتَوٗنَ﴾(السجدۃ : 32؍18) ’’بھلا جو شخص مومن ہے وہ اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جو فاسق ہے؟ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿هُمۡ دَرَجٰؔتٌ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’لوگوں کے مختلف درجے ہیں اللہ کے ہاں‘‘ یعنی یہ تمام لوگ اپنے اعمال میں تفاوت کی بنا پر اپنے درجات اور منزلت میں بھی متفاوت ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی پیروی کرنے والے بلند درجات و منازل اور بالاخانوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کے مطابق اپنے فضل و کرم سے انھیں عطا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے سبب والے امور کی پیروی کرنے والے پست سے پست اور فروترین ٹھکانے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق جزا پائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو دیکھتا ہے اور ان کا کوئی عمل اس سے چھپا ہوا نہیں۔ بلکہ ان کے تمام اعمال اس کے احاطہ علم میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے اور اس کے امین و کریم فرشتے ان اعمال کو لکھ کر محفوظ رکھتے ہیں۔
3:164Page 71
لَقَدۡ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ إِذۡ بَعَثَ فِيهِمۡ رَسُولٗا مِّنۡ أَنفُسِهِمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبۡلُ لَفِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٍ ١٦٤
Certainly did Allāh confer [great] favor upon the believers when He sent among them a Messenger from themselves, reciting to them His verses and purifying them and teaching them the Book [i.e., the Qur’ān] and wisdom,1 although they had been before in manifest error.
تحقیق احسان کیا اللہ نے مومنوں پر، جب بھیجا ان میں ایک رسول انھی میں سے، وہ تلاوت کرتا ہے ان پر اس کی آیتیں اور پاک کرتا ہے ان کواور سکھلاتا ہے ان کو کتاب اور حکمت اور بلاشبہ تھے وہ اس سے پہلے گمراہی ظاہر میں(164)
[164] اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ احسان جو اس نے اپنے بندوں پر کیا ہے اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے، بلکہ اصل نعمت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریمﷺکو مبعوث فرما کر ان پر بہت بڑا احسان کیا۔ جس کے ذریعے سے اس نے ان کو گمراہی کے گڑھے سے بچایا اور انھیں ہلاکت سے محفوظ کیا۔ پس فرمایا:﴿لَقَدۡ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’یقینا اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا، جو بھیجا ان میں رسول، انھی میں سے‘‘ یعنی وہ اس کا حسب و نسب، اس کے احوال اور اس کی زبان جانتے ہیں۔ وہ ان کی اپنی قوم اور ان کے اپنے قبیلے سے تعلق رکھتا ہے وہ ان کے لیے خیر خواہی کے جذبات رکھتا اور ان پر بہت شفیق اور مہربان ہے۔ ﴿يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ﴾ یعنی وہ ان کو ان آیات کے الفاظ اور معانی سکھاتا ہے ﴿وَيُزَؔكِّيۡهِمۡ﴾ یعنی وہ ان کو شرک، گناہ، رذائل اور دیگر تمام برے اخلاق و اطوار سے پاک کرتا ہے ﴿وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور انھیں کتاب سکھاتا ہے‘‘ یا تو اس سے مراد جنس کتاب ہے جو کہ قرآن مجید ہے تب اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ﴾ سے مراد آیات کونیہ ہوں گی۔ یا کتاب سے مراد ’’کتابت‘‘ ہے تب اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب اور کتابت کی تعلیم دے کر ان پر بڑا احسان کیا ہے، جس کے ذریعے سے علوم حاصل کیے جاتے ہیں اور ان کو محفوظ کیا جاتا ہے۔ ﴿وَالۡحِكۡمَةَ﴾ یہاں حکمت سے مراد سنت ہے جو کہ قرآن مجید کی مانند ہے نیز اس سے مراد تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھنا اور اسرار شریعت کی معرفت بھی ہے۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے تعلیم احکام، تنفیذ احکام کے ذرائع اور ان احکام کے فوائد و ثمرات کے حصول کے ذرائع کو جمع کر دیا۔ پس وہ ان عظیم امور کی بنا پر تمام لوگوں سے آگے نکل گئے اور ان کا شمار علمائے ربانی میں ہونے لگا۔ ﴿وَاِنۡ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ﴾ یعنی اس رسولﷺکی بعثت سے قبل ﴿لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’وہ کھلی گمراہی میں تھے‘‘ اور اپنے رب تک پہنچانے والے راستے کی معرفت سے محروم تھے اور نہ انھیں اس طریق کا علم تھا جو ان کا تزکیہ نفس کر کے ان کو پاک کرے بلکہ وہ تو اس راستے پر گامزن تھے جو ان کی جہالت کو مزین کرتا تھا۔ خواہ یہ جہالت تمام جہانوں کی عقل کے متناقض ہی کیوں نہ ہو۔
3:165–168Page 71
أَوَلَمَّآ أَصَٰبَتۡكُم مُّصِيبَةٞ قَدۡ أَصَبۡتُم مِّثۡلَيۡهَا قُلۡتُمۡ أَنَّىٰ هَٰذَاۖ قُلۡ هُوَ مِنۡ عِندِ أَنفُسِكُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ١٦٥
Why [is it that] when a [single] disaster struck you [on the day of Uḥud], although you had struck [the enemy in the battle of Badr] with one twice as great, you said, "From where is this?" Say, "It is from yourselves [i.e., due to your sin]." Indeed, Allāh is over all things competent.
وَمَآ أَصَٰبَكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡتَقَى ٱلۡجَمۡعَانِ فَبِإِذۡنِ ٱللَّهِ وَلِيَعۡلَمَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١٦٦
And what struck you on the day the two armies met [at Uḥud] was by permission of Allāh that He might make evident the [true] believers
وَلِيَعۡلَمَ ٱلَّذِينَ نَافَقُواْۚ وَقِيلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡاْ قَٰتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أَوِ ٱدۡفَعُواْۖ قَالُواْ لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالٗا لَّٱتَّبَعۡنَٰكُمۡۗ هُمۡ لِلۡكُفۡرِ يَوۡمَئِذٍ أَقۡرَبُ مِنۡهُمۡ لِلۡإِيمَٰنِۚ يَقُولُونَ بِأَفۡوَٰهِهِم مَّا لَيۡسَ فِي قُلُوبِهِمۡۚ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا يَكۡتُمُونَ ١٦٧
And that He might make evident those who are hypocrites. For it was said to them, "Come, fight in the way of Allāh or [at least] defend." They said, "If we had known [there would be] battle, we would have followed you." They were nearer to disbelief that day than to faith, saying with their mouths what was not in their hearts. And Allāh is most knowing of what they conceal -
ٱلَّذِينَ قَالُواْ لِإِخۡوَٰنِهِمۡ وَقَعَدُواْ لَوۡ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُواْۗ قُلۡ فَٱدۡرَءُواْ عَنۡ أَنفُسِكُمُ ٱلۡمَوۡتَ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ١٦٨
Those who said about their brothers while sitting [at home], "If they had obeyed us, they would not have been killed." Say, "Then prevent death from yourselves, if you should be truthful."
کیا جب (اُحد کے دن) پہنچی تمھیں مصیبت، حالانکہ پہنچا چکے تھے تم (بدر کے دن) دوگنی اس سے تو کہا تم نے، کہاں سے آئی یہ؟ کہہ دیجیے! وہ تمھاری ہی طرف سے ہے، بلاشبہ اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(165) اور جو کچھ پہنچا تمھیں جس دن ملیں دو جماعتیں، پس ساتھ حکم اللہ کے اور تاکہ جان لے وہ مومنوں کو(166)اور تاکہ جان لے وہ ان لوگوں کو جنھوں نے منافقت کی اور کہا گیا ان سے آؤ! لڑو! اللہ کے راستے میں یا (دشمن کو) دفع کرو! تو انھوں نے کہا، اگر جانتے ہم لڑائی کو تو ضرور ساتھ چلتے ہم تمھارے، وہ کفر کے اس دن زیادہ قریب تھے ان سے، بہ نسبت ایمان کے، کہتے تھے ساتھ اپنے مونہوں کے وہ جو نہیں تھا ان کے دلوں میں اور اللہ خوب جانتا ہے ساتھ اس کے جو وہ چھپاتے ہیں(167) وہ لوگ جنھوں نے کہا اپنے بھائیوں سے، جبکہ وہ خود بیٹھے رہے اگر اطاعت کرتے وہ ہماری تو نہ قتل کیے جاتے وہ، کہہ دیجیے! تو ٹال لو تم اپنے نفسوں سے موت کو، اگر ہو تم سچے(168)
[165] جب اہل ایمان کو غزوۂ احد میں بہت بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا اور ان میں سے تقریباً ستر صحابہ نے جام شہادت نوش کیا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے ان مومن بندوں کے لیے تسلی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَيۡهَا﴾’’پہنچا چکے ہو تم اس سے دو چند‘‘ یعنی تمھارے ہاتھوں سے دشمنوں پر دوچند مصیبت پڑ چکی ہے۔ تم نے ان کے ستر آدمیوں کو قتل کیا اور ستر آدمیوں کو قیدی بنایا تھا۔ بنا بریں تمھارے لیے یہ معاملہ آسان اور تم پر یہ مصیبت ہلکی ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ تم اور وہ برابر نہیں ہو۔ تمھارے مقتول جنت میں ہیں اور ان کے مقتول جہنم میں۔﴿قُلۡتُمۡ اَنّٰى هٰؔذَا﴾ ’’تم نے کہا، یہ کہاں سے آئی؟‘‘ یعنی یہ مصیبت جو ہمیں پہنچی ہے اور یہ ہزیمت جو ہمیں اٹھانا پڑی ہے کہاں سے آ گئی؟ ﴿قُلۡ هُوَ مِنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِكُمۡ﴾ یہ مصیبت تمھارے نفس ہی کی طرف سے وارد ہوئی ہے جس وقت اللہ تعالیٰ نے تمھیں وہ چیز دکھائی جسے تم پسند کرتے تھے اس کے بعد تم نے آپس میں جھگڑا کیا اور رسول کے حکم کی نافرمانی کی پس اپنے ہی نفس کو ملامت کرو اور ہلاکت کے اسباب سے بچو﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ پس اللہ تعالیٰ کے بارے میں برے گمان سے بچو۔ وہ تمھاری مدد کرنے پر قادر ہے مگر تمھیں آزمائش اور مصیبت میں مبتلا کرنے میں اس کی کامل حکمت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ذٰلِكَ١ۛؕ وَلَوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَانۡتَصَرَ مِنۡهُمۡ وَلٰكِنۡ لِّيَبۡلُوَاۡ بَعۡضَكُمۡ بِبَعۡضٍ﴾(محمد : 47؍4) ’’یہ (حکم یاد رکھو) ’’اگر اللہ چاہتا تو ان سے انتقام لے لیتا مگر وہ ایک دوسرے کے ذریعے سے تمھاری آزمائش کرتا ہے۔‘‘
[167,166]پھر اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ دونوں لشکروں یعنی مسلمانوں کے لشکر اور کفار کے لشکر میں مڈبھیڑ ہونے کے روز، احد میں ان کو ہزیمت اور قتل کی جو مصیبت پہنچی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی قضا و قدر سے پہنچی جس کو کوئی روکنے والا نہیں۔ لہٰذا اس مصیبت کا واقع ہونا ایک لابدی امر تھا اور جب امر قدری نافذ ہو جائے تب اس کے سامنے سرتسلیم خم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں اور یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ اس نے اس امر کو عظیم حکمتوں اور بہت بڑے فوائد کے لیے مقدر کیا ہے۔ تاکہ جب مسلمانوں کو جنگ کا حکم دیا جائے تو اس امر قدری کے ذریعے سے مومن اور منافق کے مابین فرق واضح ہو جائے۔﴿وَقِيۡلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡا قَاتِلُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور ان سے کہا گیا کہ آؤ! اللہ کی راہ میں لڑو‘‘ یعنی تم دین کی مدافعت اور حمایت اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی خاطر اللہ کے راستے میں جنگ کرو ﴿ اَوِ ادۡفَعُوۡا ﴾ ’’یا دشمن کو دفع کرو‘‘ یعنی اگر تمھاری نیت صالح نہیں ہے تو پھر تم اپنے حرم اور شہر کے دفاع کی خاطر لڑو۔ مگر انھوں نے انکار کر دیا اور عذر یہ پیش کیا ﴿ قَالُوۡا لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعۡنٰكُمۡ ﴾ یعنی اگر ہم یہ جانتے ہوتے کہ تمھارے درمیان اور ان کے درمیان جنگ ہو گی تو ہم ضرور تمھارے ساتھ چلتے، حالانکہ وہ اس میں جھوٹے تھے۔ وہ جانتے تھے اور انھیں یقین تھا بلکہ ہر شخص جانتا تھا کہ مشرکین کو اہل ایمان نے شکست دی ہے اس لیے مشرکین کے دل اہل ایمان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز ہیں۔ ان سے انتقام لینے کے لیے مشرکین نے مال خرچ کیا۔ اہل ایمان کے خلاف لوگوں اور سامان حرب کو اکٹھا کرنے کے لیے اپنی پوری قوت صرف کر دی ہے اور وہ ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ اہل ایمان پر ان کے شہر میں حملہ آور ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ لڑائی میں ان میں سخت جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ جب حملہ آوروں کی یہ حالت اور کیفیت ہو تو کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ان کے اور مسلمانوں کے درمیان جنگ نہیں ہو گی۔ خاص طور پر جبکہ مسلمان کفار کا مقابلہ کرنے کے لیے مدینہ سے باہر نکل آئے تھے؟۔۔۔ یہ محال ہے۔ مگر منافقین کا خیال تھا کہ ان کا یہ عذر مسلمانوں کو مطمئن کر دے گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ هُمۡ لِلۡكُفۡرِ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’وہ اس دن کفر کے‘‘ یعنی اس حال میں جس میں انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ مدینہ منورہ سے باہر نکلنے سے انکار کیا ﴿ اَقۡرَبُ مِنۡهُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ١ۚ يَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِهِمۡ مَّا لَيۡسَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’زیادہ قریب ہیں، بہ نسبت ایمان کے، اپنے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں‘‘ یہ منافقین کی خاصیت ہے کہ وہ اپنے کلام اور افعال سے وہ کچھ ظاہر کرتے ہیں جو ان کے دلوں میں چھپے ہوئے خیالات اور ارادوں کی ضد ہوتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ﴿ لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعۡنٰكُمۡ ﴾ بھی اسی زمرے میں آتا ہے کیونکہ انھیں علم تھا کہ جنگ ضرور ہوگی۔اس آیت کریمہ میں اس فقہی قاعدہ پر دلیل ملتی ہے ’’کہ بوقت ضرورت بڑی برائی کو روکنے کے لیے چھوٹی برائی کو اختیار کرنا جائز ہے۔ اسی طرح دو مصلحتوں میں سے اگر بڑی مصلحت پر عمل کرنے سے عاجز ہو تو اسے چھوڑ کر کم تر مصلحت پر عمل کرنا جائز ہے۔‘‘ اس لیے کہ منافقین کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ دین کے لیے جنگ کریں۔ اگر وہ دین کے لیے جنگ نہیں کرتے تو اپنے اہل و عیال اور وطن کے دفاع کے لیے ہی جنگ کریں ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يَكۡتُمُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں‘‘ پس وہ اسے اپنے مومن بندوں کے سامنے ظاہر کرے گا اس پر ان منافقین کو سزا دے گا۔
[168] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ قَالُوۡا لِاِخۡوَانِهِمۡ وَقَعَدُوۡا لَوۡ اَطَاعُوۡنَا مَا قُتِلُوۡا ﴾ ’’وہ لوگ جو کہتے ہیں اپنے بھائیوں سے اور آپ بیٹھے رہے، اگر وہ ہماری بات مانتے تو مارے نہ جاتے‘‘ یعنی انھوں نے دو برائیوں کو اکٹھا کر لیا تھا، جہاد سے جی چرا کر پیچھے رہنا اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر اعتراض اور اس کی تکذیب کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ فَادۡرَءُوۡا ﴾ یعنی دور ہٹا دو ﴿ عَنۡ اَنۡفُسِكُمُ الۡمَوۡتَ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اپنے اوپر سے موت کو، اگر تم سچے ہو‘‘ یعنی اگر تم یہ کہنے میں سچے ہو کہ اگر وہ تمھاری بات مانتے تو کبھی قتل نہ ہوتے۔ تم اس پر قدرت نہیں رکھتے اور نہ تم ان کو قتل ہونے سے بچانے کی استطاعت رکھتے ہو۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ بندے میں کبھی کبھی کفر کی کوئی خصلت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ایمان کی خصلت بھی اس کے اندر موجود ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ ایک خصلت کی نسبت دوسری خصلت کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
3:169–171Page 72
وَلَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ أَمۡوَٰتَۢاۚ بَلۡ أَحۡيَآءٌ عِندَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُونَ ١٦٩
And never think of those who have been killed in the cause of Allāh as dead. Rather, they are alive with their Lord, receiving provision,
فَرِحِينَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦ وَيَسۡتَبۡشِرُونَ بِٱلَّذِينَ لَمۡ يَلۡحَقُواْ بِهِم مِّنۡ خَلۡفِهِمۡ أَلَّا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ١٧٠
Rejoicing in what Allāh has bestowed upon them of His bounty, and they receive good tidings about those [to be martyred] after them who have not yet joined them - that there will be no fear concerning them, nor will they grieve.
۞ يَسۡتَبۡشِرُونَ بِنِعۡمَةٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَضۡلٖ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١٧١
They receive good tidings of favor from Allāh and bounty and [of the fact] that Allāh does not allow the reward of believers to be lost -
اور نہ ہرگز گمان کریں آپ ان لوگوں کو جو قتل کر دیے گئے اللہ کے راستے میں، مردےبلکہ (وہ) زندہ ہیں، نزدیک اپنے رب کے وہ رزق دیے جاتے ہیں(169) وہ خوش ہیں ان پر جو دیا ان کو اللہ نے اپنے فضل سے اور خوشی محسوس کرتے ہیں وہ ساتھ ان کے جو نہیں ملے ان کو ان کے پیچھے سے، یہ کہ نہ خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے(170) وہ خوشی محسوس کرتے ہیں ساتھ احسان کے اللہ کی طرف سے اور (ساتھ اس کے) فضل کے اور اس پر کہ بلاشبہ اللہ نہیں ضائع کرتا اجر مومنوں کا(171)
[169] ان آیات کریمہ میں شہداء کی کرامت اور فضیلت بیان کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا ذکر ہے جن سے شہداء کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے نوازا ہے اور اسی ضمن میں ان زندہ لوگوں کے لیے تسلی اور تعزیت ہے جن کے اقرباء نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ نیز ان کو جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب دینا اور ان میں شوق شہادت پیدا کرنا ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ یعنی جو دشمنان دین کے ساتھ اس قصد کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو، قتل ہو گئے ﴿ اَمۡوَاتًا ﴾ ’’ان کو مردہ گمان مت کرو‘‘ یعنی ان کے بارے میں تمھارے دل میں اس خیال کا گزر بھی نہ ہو کہ وہ موت سے ہم کنار ہو کر مفقود ہو گئے اور دنیاوی زندگی کی لذات ان سے دور ہو گئیں اور وہ دنیا کی رنگینیوں سے متمتع ہونے سے محروم ہو گئے۔ جن سے محرومی کے خوف اور بزدلی کی وجہ سے جہاد سے گریز کیا جاتا اور شہادت سے بچا جاتا ہے۔ ﴿ بَلۡ ﴾ بلکہ وہ اس سے بھی بلند مراتب حاصل کر چکے ہیں جن کے حصول کے لیے لوگ بڑھ چڑھ کر کوشش کرتے ہیں ﴿ اَحۡيَآءٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے عزت و تکریم کے گھر میں زندہ ہیں۔ (عِنْدَ رَبِّهِمْ) کا لفظ ان کے بلند درجات اور ان کے رب کے قرب پر دلالت کرتا ہے ﴿ يُرۡزَقُوۡنَ﴾ یعنی ان انواع و اقسام کی نعمتوں سے رزق عطا کیا جاتا ہے جن کے اوصاف کو صرف وہی ہستی جانتی ہے جس نے ان کو یہ نعمتیں عطا کی ہیں۔
[170] اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿ فَرِحِيۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ ﴾ یعنی ان نعمتوں کے حصول پر وہ خوش ہوتے ہیں۔ ان کی آنکھیں ٹھنڈی اور نفس خوش ہوتے ہیں۔ یہ فرحت ان نعمتوں کی خوبصورتی، ان کی کثرت و عظمت، ان نعمتوں تک پہنچنے میں کامل لذت اور ان نعمتوں کے کبھی ختم نہ ہونے کی بنا پر ہو گی۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے رزق کے ذریعے سے بدنی نعمت اور اپنے فضل و کرم پر فرحت کے ذریعے سے قلبی اور روحانی نعمت کو جمع کر دیا ہے۔پس ان کے لیے نعمت اور مسرت کی تکمیل ہو گئی ﴿ وَيَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ بِالَّذِيۡنَ لَمۡ يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ مِّنۡ خَلۡفِهِمۡ ﴾ یعنی وہ ایک دوسرے کو اپنے ان بھائیوں کے پہنچنے پر جو ابھی تک نہیں پہنچے، خوشخبری دیتے ہیں نیز ان کو بھی وہی نعمتیں حاصل ہوں گی جن سے وہ بہرہ ور ہو چکے ہیں ﴿ اَلَّا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ﴾ یعنی ڈرانے والے امور کے ان سے اور ان کے بھائیوں سے زائل ہونے کی وجہ سے بہت خوش ہوں گے جن کا زوال کامل مسرت کو مستلزم ہے۔
[171]﴿يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ بِنِعۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضۡلٍ ﴾ وہ ایک دوسرے کو ہدیہ تبریک پیش کر رہے ہوں گے اور یہ ان کے رب کی نعمت اور اس کا فضل و کرم ہے۔ ﴿وَّاَنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ اور اللہ اہل ایمان کے اجر کو ضائع نہیں کرتا بلکہ وہ اسے بڑھاتا ہے اس کی قدر کرتا ہے اپنے فضل و کرم سے اس میں اتنا اضافہ کرتا ہے کہ ان کی کوشش وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ برزخ میں بھی نعمتیں عطا ہوں گی اور برزخ میں شہداء اپنے رب کے پاس بلند ترین مقامات پر فائز ہوں گے۔ نیز نیک ارواح ایک دوسرے سے ملاقات اور ایک دوسرے کی زیارت کرتی ہیں اور ایک دوسرے کو خوشخبری دیتی ہیں۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences