As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Ali 'Imran 3:187–200
3:187–188Page 75
وَإِذۡ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهُۥ لِلنَّاسِ وَلَا تَكۡتُمُونَهُۥ فَنَبَذُوهُ وَرَآءَ ظُهُورِهِمۡ وَٱشۡتَرَوۡاْ بِهِۦ ثَمَنٗا قَلِيلٗاۖ فَبِئۡسَ مَا يَشۡتَرُونَ ١٨٧
And [mention, O Muḥammad], when Allāh took a covenant from those who were given the Scripture, [saying], "You must make it clear [i.e., explain it] to the people and not conceal it." But they threw it away behind their backs and exchanged it for a small price. And wretched is that which they purchased.
لَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ يَفۡرَحُونَ بِمَآ أَتَواْ وَّيُحِبُّونَ أَن يُحۡمَدُواْ بِمَا لَمۡ يَفۡعَلُواْ فَلَا تَحۡسَبَنَّهُم بِمَفَازَةٖ مِّنَ ٱلۡعَذَابِۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ ١٨٨
And never think that those who rejoice in what they have perpetrated and like to be praised for what they did not do - never think them [to be] in safety from the punishment, and for them is a painful punishment.
اور جب لیا اللہ نے عہد ان لوگوں سے جو دیے گئے کتاب، البتہ ضرور بیان کرو گے تم اسے واسطے لوگوں کے اور نہ چھپاؤ گے اسے، پس پھینک دیا انھوں نے اسے پیچھے اپنی پیٹھوں کے اور خرید لیا اس کے بدلے مول تھوڑا، پس برا ہے وہ جو خریدتے ہیں(187) نہ گمان کریں آپ ان لوگوں کوجو خوش ہوتے ہیں ساتھ اس کے جو انھوں نے (کرتوت) کیے اور پسند کرتے ہیں وہ یہ کہ تعریف کیے جائیں ساتھ اس کے جو نہیں کیا انھوں نے، پس نہ گمان کریں آپ ان کی بابت چھوٹ جانے کا عذاب سےاور ان کے لیے عذاب ہے دردناک(188)
[187]﴿ مِيۡثَاقَ ﴾اس عہد کو کہتے ہیں جو بہت موکد اور بھاری ذمہ داری کا حامل ہو۔ یہ عہد اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص سے لیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا کی اور اسے علم سے نوازا۔ اس سے یہ عہد لیا کہ لوگ اس کے علم میں سے جس چیز کے محتاج ہوں وہ ان کے سامنے بیان کرے اور ان سے کوئی چیز نہ چھپائے اور نہ علم بیان کرنے میں بخل سے کام لے خاص طور پر جب اس سے کوئی مسئلہ پوچھا جائے یا کوئی ایسا واقعہ پیش آ جائے جو علمی راہنمائی کا متقاضی ہو۔ پس اس صورتحال میں ہر صاحب علم پر فرض ہے کہ وہ مسئلہ کو بیان کر کے حق اور باطل کو واضح کر دے اور جن لوگوں کو اللہ نے توفیق سے نوازا ہے۔ وہ اس ذمہ داری کو پوری طرح نبھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو علم ان کو عطا کیا ہے وہ اسے اللہ کی رضا کی خاطر لوگوں پر شفقت کی وجہ سے اور کتمان علم کے گناہ سے ڈرتے ہوئے لوگوں کو سکھاتے ہیں۔رہے وہ لوگ جن کو کتاب عطا کی گئی، یعنی یہود و نصاریٰ اور ان جیسے دیگر لوگ تو انھوں نے اس عہد اور میثاق کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا اور اس میثاق کی انھوں نے پروا نہیں کی۔ پس انھوں نے حق کو چھپا لیا اور باطل کو ظاہر کیا، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو حقیر سمجھتے ہوئے محرمات کے ارتکاب کی جرأت کی اور اس کتمان حق کے بدلے بہت معمولی قیمت لی۔ وہ یہ تھی کہ انھیں کتمان حق کی بنا پر سرداری حاصل ہوئی اور ان کے گھٹیا پیروکاروں کی طرف سے، جو ان کی خواہشات کی پیروی کرتے تھے اور حق پر خواہشات کو مقدم رکھتے تھے، ان کو حقیر سے مال کے نذرانے پیش ہوتے تھے۔﴿ فَبِئۡسَ مَا يَشۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا برا ہے جو وہ خریدتے (حاصل کرتے) ہیں‘‘ کیونکہ یہ خسیس ترین معاوضہ ہے جو انھوں نے حاصل کیا ہے اور جس حق کے بیان کرنے سے انھوں نے روگردانی کی، اس حق میں ان کی ابدی سعادت، دینی اور دنیاوی مصالح موجود ہیں اور یہ حق سب سے بڑا اور جلیل ترین مطلوب و مقصود ہے۔ پس انھوں نے محض اپنی بدنصیبی اور ذلت کی بنا پر عالی مرتبہ دین کو چھوڑ کر گھٹیا طریق زندگی اختیار کر لیا، نیز اس لیے بھی کہ انھوں نے وہی چیز اختیار کر لی جس کے لیے وہ پیدا ہوئے تھے۔
[188] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوۡا ﴾ ’’آپ ان کی نسبت خیال نہ کریں جو اپنے (ناپسندیدہ) کاموں سے خوش ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ جن قبیح امور اور قولی اور فعلی باطل کا ارتکاب کرتے ہیں ﴿ وَّيُحِبُّوۡنَ اَنۡ يُّحۡمَدُوۡا بِمَا لَمۡ يَفۡعَلُوۡا ﴾ یعنی اس بھلائی کی وجہ سے ان کی تعریف کی جائے جو انھوں نے کبھی نہیں کی اور اس حق کی وجہ سے ان کی تعریف کی جائے جو انھوں نے کبھی نہیں بولا۔ پس انھوں نے برائی کے قول و فعل اور اس پر اظہار فرحت کو یکجا کر دیا۔ وہ چاہتے تھے کہ بھلائی کے اس کام پر ان پر تعریف کے ڈونگرے برسائے جائیں جو انھوں نے کیا ہی نہیں۔ فرمایا: ﴿ فَلَا تَحۡسَبَنَّهُمۡ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الۡعَذَابِ ﴾ یعنی وہ یہ نہ سمجھیں کہ انھیں عذاب سے نجات اور سلامتی حاصل ہو گئی ہے بلکہ وہ تو عذاب کے مستحق ہو گئے ہیں عنقریب انھیں عذاب میں ڈالا جائے گا۔ اسی لیے فرمایا ﴿ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘اس آیت کریمہ کی وعید میں وہ اہل کتاب شامل ہیں جو اس بات پر خوش ہیں کہ ان کے پاس علم ہے درآں حالیکہ انھوں نے رسولﷺکی اطاعت نہ کی اور وہ اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ وہ اپنے حال و مقال میں حق پر ہیں۔ اسی طرح ہر وہ شخص بھی اس وعید میں شامل ہے جو کوئی قولی یا فعلی بدعت ایجاد کرتا ہے اور اس پر خوش ہوتا ہے اور پھر اس بدعت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور وہ اس بارے میں اپنے موقف کو حق اور دوسروں کے موقف کو باطل سمجھتا ہے جیسا کہ اہل بدعت کا وتیرہ ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ خواہش کرتا ہے کہ نیکی کے کام اور اتباع حق پر اس کی تعریف کی جائے جبکہ اس سے اس کا مقصد ریااور شہرت نہ ہو تو یہ مذموم نہیں۔ بلکہ اس کا شمار تو ان امور میں ہوتا ہے جو مطلوب و مقصود ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ ان نیکیوں کی بنا پر نیکوکاروں کو ان کے قول و فعل کا بدلہ دیتا ہے۔ اس نے اپنے خاص بندوں کو ان نیکیوں پر جزا سے نوازا ہے اور ان خاص بندوں نے اللہ تعالیٰ سے ان نیکیوں کا سوال کیا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیمuنے اللہ تعالیٰ سے عرض کی ﴿ وَاجۡعَلۡ لِّيۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾(الشعراء:26؍84) ’’اور پچھلے لوگوں میں میرا نیک ذکر جاری کر۔‘‘ اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ سَلٰمٌ عَلٰى نُوۡحٍ فِي الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾(الصافات : 37؍79، 80) ’’تمام جہان میں نوح پر سلام ہو۔ ہم نیکوکاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔‘‘ رحمٰن کے بندوں نے عرض کی ﴿وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِيۡنَ اِمَامًا ﴾(الفرقان:25؍74) ’’اور ہمیں متقی لوگوں کا امام بنا۔‘‘ یہ اپنے بندے پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان کا فیضان ہے جن پر اللہ تعالیٰ کے شکر کی ضرورت ہے۔
3:189Page 75
وَلِلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ ١٨٩
And to Allāh belongs the dominion of the heavens and the earth, and Allāh is over all things competent.
اور اللہ ہی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(189)
[189] یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تمام آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود تمام مخلوق کا مالک ہے اور وہی اپنی قدرت کاملہ اور انوکھی ربوبیت کے ذریعے سے ان پر تصرف کرتا ہے۔ کوئی اس کے دائرہ اختیار سے باہر نہیں اور کوئی اسے عاجز و لاچار نہیں کر سکتا۔
3:190–194Page 75
إِنَّ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَٰفِ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ لَأٓيَٰتٖ لِّأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ ١٩٠
Indeed, in the creation of the heavens and the earth and the alternation of the night and the day are signs for those of understanding -
ٱلَّذِينَ يَذۡكُرُونَ ٱللَّهَ قِيَٰمٗا وَقُعُودٗا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمۡ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هَٰذَا بَٰطِلٗا سُبۡحَٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ ١٩١
Who remember Allāh while standing or sitting or [lying] on their sides and give thought to the creation of the heavens and the earth, [saying], "Our Lord, You did not create this aimlessly; exalted are You [above such a thing]; then protect us from the punishment of the Fire.
رَبَّنَآ إِنَّكَ مَن تُدۡخِلِ ٱلنَّارَ فَقَدۡ أَخۡزَيۡتَهُۥۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنۡ أَنصَارٖ ١٩٢
Our Lord, indeed whoever You admit to the Fire - You have disgraced him, and for the wrongdoers there are no helpers.
رَّبَّنَآ إِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِيٗا يُنَادِي لِلۡإِيمَٰنِ أَنۡ ءَامِنُواْ بِرَبِّكُمۡ فَـَٔامَنَّاۚ رَبَّنَا فَٱغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرۡ عَنَّا سَيِّـَٔاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ ٱلۡأَبۡرَارِ ١٩٣
Our Lord, indeed we have heard a caller [i.e., Prophet Muḥammad (ﷺ)] calling to faith, [saying], 'Believe in your Lord,' and we have believed. Our Lord, so forgive us our sins and remove from us our misdeeds and cause us to die among the righteous.
رَبَّنَا وَءَاتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخۡزِنَا يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۖ إِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ ٱلۡمِيعَادَ ١٩٤
Our Lord, and grant us what You promised us through Your messengers and do not disgrace us on the Day of Resurrection. Indeed, You do not fail in [Your] promise."
بے شک پیدائش میں آسمانوں اور زمین کی اور بدل بدل کر آنے جانے میں رات اور دن کے، البتہ نشانیاں ہیں واسطے اہل عقل کے (190)وہ جو یاد کرتے ہیں اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اوپر اپنے پہلوؤں کےاور غور و فکر کرتے ہیں پیدائش میں آسمانوں اور زمین کی (اور کہتے ہیں) اے ہمارے رب! نہیں پیدا کیا تونے یہ بے فائدہ پاک ہے تو! پس بچا تو ہمیں عذاب سے آگ کے (191) اے ہمارے رب! بلاشبہ جس کو داخل کرے تو آگ میں تو یقینا رسوا کر دیا تونے اسےاور نہیں واسطے ظالموں کے کوئی مددگار(192) اے ہمارے رب! بلاشبہ ہم نے سنا ایک مُنادی کو، پکارتا ہے وہ ایمان کی طرف، یہ کہ ایمان لاؤ ساتھ اپنے رب کے! پس ایمان لائے ہم، اے ہمارے رب! پس بخش دے واسطے ہمارے، ہمارے گناہ اور دور کر دے ہم سے ہماری برائیاں اور فوت کر ہمیں ساتھ نیک لوگوں کے(193) اے ہمارے رب! اور دے ہمیں جو وعدہ کیا تونے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی اور نہ رسوا کرنا ہمیں دن قیامت کے۔ بلاشبہ تو نہیں خلاف ورزی کرتا وعدے کی(194)
[190] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ اس کی آیات میں غور و فکر اور اس کی مخلوق میں تدبر کیا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد ﴿ لَاٰيٰتٍ ﴾ کو مبہم رکھا ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ فلاں معاملے میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غور و فکر کرو۔ اور یہ آیات کے عموم اور ان کی کثرت پر اشارہ ہے۔ کیونکہ اس کائنات میں عجیب و غریب نشانیاں ہیں جو دیکھنے والوں کو متحیر اور غور و فکر کرنے والوں کو عاجز کر دیتی ہیں جو اہل صدق کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں اور عقل روشن کو تمام مطالب الہیہ کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ یہ آیات جن تفصیلات پر مشتمل ہیں ان کو احاطہ شمار میں لانا مخلوق کے بس میں نہیں۔ البتہ مخلوق ان میں سے بعض چیزوں کا احاطہ کر سکتی ہے۔ مجمل طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کائنات کی عظمت، وسعت، اور اس کی حرکت و رفتار کا ایک نظم کے تحت ہونا، اس کے خالق کی عظمت پر دلالت کرتا ہے نیز اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا تسلط و غلبہ اور اس کی قدرت سب کو شامل ہے۔ اس کائنات کا محکم اور مضبوط انداز، اس میں نت نئی تخلیقات اور انوکھے افعال اللہ تعالی کی حکمت اور اس کے علم کی وسعت پر دلالت کرتے ہیں نیز اس بات پر دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھا ہے۔اس کائنات میں مخلوق کے لیے جو فوائد ہیں وہ اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع، اس کا فضل عام، اس کا احسان سب کو شامل اور اس کا شکر واجب ہے۔یہ تمام امور اس پر دلالت کرتے ہیں کہ قلب کے اپنے خالق اور پیدا کرنے والے کے ساتھ تعلق جوڑنے اور اس کی رضا کے حصول کے لیے پوری کوشش ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ کسی ایسی ہستی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے جو خود اپنی ذات اور زمین و آسمان میں ذرہ بھر کی بھی مالک نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے ساتھ صرف عقل مندوں کو مخصوص کیا ہے کیونکہ یہی لوگ ان آیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور عقل مند لوگ ہی اپنی آنکھوں کی بجائے اپنی عقل کے ذریعے سے غور و فکر کرتے ہیں۔
[191] پھر اللہ تعالیٰ نے ان عقل مندوں لوگوں کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ يَذۡكُرُوۡنَ اللّٰهَ ﴾ وہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ﴿قِيٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰى جُنُوۡبِهِمۡ ﴾ یہ قلبی و قولی ذکر اور ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے اور اس میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنا، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اگر بیٹھنے کی طاقت نہ ہو تو لیٹ کر نماز پڑھنا بھی شامل ہے۔ نیز ﴿ وَيَتَفَؔكَّـرُوۡنَ فِيۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ وہ زمین و آسمان کی تخلیق پر غوروفکر کرتے یعنی ان سے ان کی تخلیق کے مقصد پر استدلال کرتے ہیں۔ نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات میں غور و فکر کرنا عبادت ہے اور عارفین اولیاء اللہ کی صفت ہے۔ جب وہ اس کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں تو انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عبث پیدا نہیں کیا، پس وہ پکار اٹھتے ہیں ﴿ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هٰؔذَا بَاطِلًا١ۚ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ تیری ذات ہر اس وصف سے پاک ہے جو تیرے جلال کے لائق نہیں، تو نے اسے حق کے ساتھ حق کے لیے بلکہ حق پر مشتمل پیدا کیا ہے۔ ﴿ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴾ ’’پس تو ہمیں جہنم سے بچا‘‘ بایں طور کہ ہمیں برائیوں سے بچا اور نیک اعمال کی توفیق عطا کر، تاکہ اس کے ذریعے سے ہم جہنم کی آگ سے نجات حاصل کر سکیں۔ یہ دعا جنت کے سوال کو بھی متضمن ہے۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ انھیں جہنم کے عذاب سے بچا لے گا تو انھیں جنت حاصل ہو جائے گی۔ مگر جب ان کے دلوں پر خوف چھا گیا تو انھوں نے ان امور کی دعا مانگی جو ان کے لیے زیادہ اہم تھے۔
[192]﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنۡ تُدۡخِلِ النَّارَ فَقَدۡ اَخۡزَيۡتَهٗ ﴾ ’’اے ہمارے رب! جس کو تو نے دوزخ میں ڈال دیا، تو اس کو تو نے رسوا کر دیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور اس کے اولیاء کو ناراض کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو رسوا کیا اور اسے فضیحت میں مبتلا کر دیا۔ جس سے نجات کی کوئی راہ ہے نہ اس سے کوئی بچانے والا ہے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴾ ’’ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے ظلم کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئے ہیں۔
[193] اللہ تبارک و تعالیٰ نے نقل فرمایا: ﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِيًا يُّنَادِيۡ لِلۡاِيۡمَانِ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم نے ایک منادی کو سنا جو ایمان لانے کی ندا دیتا ہے‘‘ ایمان کی منادی دینے والے محمد رسول اللہﷺہیں جو لوگوں کو ایمان کی دعوت دیتے ہیں اور اس کے اصول و فروع میں ان کو ترغیب دیتے ہیں ﴿فَاٰمَنَّا ﴾پس ہم نے جلدی سے آگے بڑھ کر ان کی دعوت پر لبیک کہا۔اس آیت کریمہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کے احسان، اس کی نعمت پر اظہار فخر اور اس ایمان کو اپنے گناہوں کی بخشش اور برائیوں کو مٹانے کے لیے وسیلہ بنانے کی خبر ہے کیونکہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ وہ ہستی جس نے انھیں ایمان سے نوازا ہے وہی انھیں کامل امان سے نوازے گی۔﴿ وَتَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ﴾ ’’اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت دے‘‘ یہ دعا اس بات کو متضمن ہے کہ نیکی کرنا اور برائی کو ترک کرنا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہوتا ہے جس کی بنا پر بندہ ابرار میں شمار ہوتا ہے اور اس توفیق کی بنا پر نیکی کرنے اور برائی چھوڑنے پر اپنی موت تک ہمیشہ ثابت قدم رہتا ہے۔
[194] جب انھوں نے ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کی توفیق اور تکمیل نعمت کے لیے اس ایمان کو وسیلہ بنانے کا ذکر کیا تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اس پر اجر و ثواب کا سوال کیا اور دعا کی کہ وہ اپنی فتح و نصرت، دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت اور اپنی رضا کا وہ وعدہ پورا کر دے جو اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کی زبانی کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا اور تضرع و زاری کو قبول فرما لیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
3:195Page 76
فَٱسۡتَجَابَ لَهُمۡ رَبُّهُمۡ أَنِّي لَآ أُضِيعُ عَمَلَ عَٰمِلٖ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوۡ أُنثَىٰۖ بَعۡضُكُم مِّنۢ بَعۡضٖۖ فَٱلَّذِينَ هَاجَرُواْ وَأُخۡرِجُواْ مِن دِيَٰرِهِمۡ وَأُوذُواْ فِي سَبِيلِي وَقَٰتَلُواْ وَقُتِلُواْ لَأُكَفِّرَنَّ عَنۡهُمۡ سَيِّـَٔاتِهِمۡ وَلَأُدۡخِلَنَّهُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ ثَوَابٗا مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِۚ وَٱللَّهُ عِندَهُۥ حُسۡنُ ٱلثَّوَابِ ١٩٥
And their Lord responded to them, "Never will I allow to be lost the work of [any] worker among you, whether male or female; you are of one another. So those who emigrated or were evicted from their homes or were harmed in My cause or fought or were killed - I will surely remove from them their misdeeds, and I will surely admit them to gardens beneath which rivers flow as reward from Allāh, and Allāh has with Him the best reward."
پس قبول کی (دعا) ان کی ان کے رب نے، یہ کہ نہیں ضائع کروں گا میں عمل کسی کرنے والے کا تم میں سے مرد ہو یا عورت، بعض تمھارا بعض سے ہے، ( یعنی تم ایک ہی ہو) پس وہ لوگ جنھوں نے ہجرت کی اور نکال دیے گئے وہ اپنے گھروں سے اور تکلیف دیے گئے میرے راستے میں اور لڑے وہ اور قتل کر دیے گئے وہ تو دور کر دوں گا ان سے ان کی برائیاں اور یقینا داخل کروں گا میں ان کو ایسے باغوں میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، بطور ثواب کے اللہ کی طرف سے اور اللہ، اسی کے پاس ہے اچھا ثواب(195)
[195] اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائے عبادت اور دعائے طلب، (دونوں دعائیں) قبول فرما لیں اور فرمایا: ﴿ اَنِّيۡ لَاۤ اُضِيۡعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنۡكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى﴾ ’’میں کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا، وہ مرد ہو یا عورت‘‘ پس تمام لوگ اپنے اعمال کا پورا پورا اور وافر اجر پائیں گے۔۔۔ تم میں سے تمام لوگ (خواہ مرد ہوں یا عورت)ثواب اور عقاب میں مساوی ہیں۔﴿ فَالَّذِيۡنَ هَاجَرُوۡا وَاُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَاُوۡذُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِيۡ وَقٰتَلُوۡا وَقُتِلُوۡا ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکال دیے گئے اور جنھیں میری راہ میں ایذا دی گئی اور جنھوں نے جہاد کیا اور شہید کر دیے گئے‘‘ پس انھوں نے ایمان، ہجرت اور اپنے رب کی رضا کی خاطر اپنے وطن اور مال و متاع جیسی محبوب چیزوں سے مفارقت کو جمع کر دیا نیز انھوں نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا۔ ﴿ لَاُكَفِّرَنَّ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ وَلَاُدۡخِلَنَّهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ١ۚ ثَـوَابًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’میں بالضرور ان کی برائیاں ان سے دور کروں گا اور بالضرور انھیں ان جنتوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، بدلہ اللہ کی طرف سے‘‘ جو اپنے بندے کو اس کے بہت تھوڑے سے عمل پر بہت زیادہ ثواب عطا کرتا ہے ﴿ وَاللّٰهُ عِنۡدَهٗ حُسۡنُ الثَّوَابِ ﴾ ’’اور اللہ کے پاس ہی بہترین اجر و ثواب ہے‘‘ ایسا ثواب جو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں اس کے تصور کا گزر ہوا ہے۔ پس جو کوئی اس ثواب کے حصول کا ارادہ رکھتا ہے وہ حسب استطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت اس کے تقرب کے ذریعے سے اس سے یہ ثواب طلب کرے۔
3:196–198Page 76
لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فِي ٱلۡبِلَٰدِ ١٩٦
Be not deceived by the [uninhibited] movement of the disbelievers throughout the land.
مَتَٰعٞ قَلِيلٞ ثُمَّ مَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمِهَادُ ١٩٧
[It is but] a small enjoyment; then their [final] refuge is Hell, and wretched is the resting place.
لَٰكِنِ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ رَبَّهُمۡ لَهُمۡ جَنَّٰتٞ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا نُزُلٗا مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِۗ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيۡرٞ لِّلۡأَبۡرَارِ ١٩٨
But those who feared their Lord will have gardens beneath which rivers flow, abiding eternally therein, as accommodation from Allāh. And that which is with Allāh is best for the righteous.
نہ دھوکے میں ڈالے آپ کو چلنا پھرنا ان لوگوں کا، جنھوں نے کفر کیا، شہروں میں(196)(یہ) فائدہ ہے تھوڑا سا، پھر ٹھکانا ان کا جہنم ہے اور برا بچھونا ہے (وہ)(197) لیکن وہ لوگ جو ڈر گئے اپنے رب سے، ان کے لیے باغ ہیں چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، بطور مہمان نوازی کے اللہ کے پاس سےاور جو پاس ہے اللہ کے وہ بہتر ہے واسطے نیک لوگوں کے(198)
[196] اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کو اس بارے میں تسلی دینا مقصود ہے کہ کفار کو جو دنیا کی نعمتیں، دنیا کی متاع، شہروں پر ان کا تصرف، مختلف قسم کی تجارتیں، مکاسب، انواع و اقسام کی لذات، اقتدار کی مختلف صورتیں اور بعض اوقات اہل ایمان پر ان کا غلبہ یہ تمام چیزیں:
[197]﴿ مَتَاعٌ قَلِيۡلٌ ﴾ ’’بہت ہی تھوڑا فائدہ ہے‘‘ بے ثبات ہیں باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقت حال یہ ہے کہ وہ اس متاع قلیل سے بہت تھوڑا فائدہ اٹھائیں گے اور اس کی وجہ سے بہت ہی طویل عذاب بھگتیں گے۔ یہ کافر کی بلند ترین حالت ہے اور آپ نے دیکھ لیا ہے کہ اس کا ٹھکانا کیا ہو گا۔
[198] اور جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے اور اس پر ایمان رکھتے ہیں انھیں دنیا کی عزت اور دنیا کی نعمتوں کے حصول کے ساتھ ساتھ ﴿ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘اگر یہ مقدر کر لیا جائے کہ انھیں دنیا میں ہر قسم کی تکلیف، شدت، عناد اور مشقت کا سامنا کرنا پڑا تو یہ جنت میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں، کدورتوں سے سلامت زندگی، بے پایاں مسرت، خوشی اور تروتازگی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ یہ تو محنت کی صورت میں نوازش ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ ﴾ ’’اور جو اللہ کے پاس ہے وہ ابرار کے لیے بہتر ہے‘‘ اور (ابرار) وہ لوگ ہیں جن کے دل پاک اور اطاعت گزار ہوں اور ان کے اقوال و افعال بھی نیک ہوں۔ پس بھلائی کرنے والا اللہ مہربان اپنی عنایت سے انھیں اجر عظیم، بہت بڑی عطا و بخشش اور دائمی فوز و فلاح عطا کرے گا۔
3:199–200Page 76
وَإِنَّ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ لَمَن يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكُمۡ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِمۡ خَٰشِعِينَ لِلَّهِ لَا يَشۡتَرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنٗا قَلِيلًاۚ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ أَجۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ ١٩٩
And indeed, among the People of the Scripture are those who believe in Allāh and what was revealed to you and what was revealed to them, [being] humbly submissive to Allāh. They do not exchange the verses of Allāh for a small price. Those will have their reward with their Lord. Indeed, Allāh is swift in account.
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱصۡبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ٢٠٠
O you who have believed, persevere1 and endure2 and remain stationed3 and fear Allāh that you may be successful.
اور بلاشبہ اہل کتاب میں سے، البتہ وہ (بھی) ہے جو ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ کے اور جو نازل کیا گیا تمھاری طرف اور جو نازل کیا گیا ان کی طرف، جھکنے والے ہیں وہ واسطے اللہ کے، نہیں خریدتے (لیتے) وہ ساتھ اللہ کی آیتوں کے مول تھوڑا، یہ لوگ، ان کے لیے اجر ہے ان کا، نزدیک ان کے رب کے، بلاشبہ اللہ جلد لینے والا ہے حساب(199) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! صبر کرو اور ڈٹے رہو اور کمر بستہ رہواور ڈرو اللہ سےتاکہ تم فلاح پاؤ(200)
[199] یعنی اہل کتاب میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنھیں بھلائی کی توفیق عطا کی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو تم پر نازل کی گئی اور اس پر بھی جو ان کی طرف نازل کی گئی اور یہی وہ ایمان ہے جو نفع پہنچاتا ہے اور اس شخص کے ایمان کی مانند نہیں، جو بعض رسولوں اور کتابوں پر ایمان لاتا ہے اور بعض کا انکار کرتا ہے۔ بنا بریں، چونکہ ان کا ایمان عام اور حقیقت پر مبنی ہے اس لیے یہ نفع پہنچانے والا ہے، یہ ایمان ان کے دلوں میں خشیت الٰہی اور اللہ تعالیٰ کے جلال کے سامنے خشوع و خضوع پیدا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی پر عمل کرنے اور اس کی مقرر کردہ حدود پر رک جانے کا موجب ہے۔ یہی لوگ درحقیقت اہل کتاب اور اہل علم ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ اِنَّمَا يَخۡشَى اللّٰهَ مِنۡ عِبَادِهِ الۡعُلَمٰٓؤُا ﴾(فاطر : 35؍28) ’’اللہ تعالیٰ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔‘‘ اور کامل خشیت الٰہی یہ ہے کہ ﴿ لَا يَشۡتَرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا﴾ ’’وہ اللہ کی آیات کو معمولی قیمت پر نہیں بیچتے، پس دین پر دنیا کو ترجیح نہیں دیتے، جیسا کہ اہل انحراف کا وتیرہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے بہت معمولی قیمت حاصل کرتے ہیں۔ لیکن یہ اہل کتاب، تو انھوں نے معاملے کی حقیقت کو پہچان لیا ہے اور انھیں معلوم ہو گیا ہے کہ دین سے کم تر چیز پر راضی ہونا، نفس کے بعض سفلی حظوظ کے ساتھ ٹھہرنا اور حق کو ترک کرنا جو دنیا و آخرت میں سب سے بڑا حظ اور فوز و فلاح کا ضامن ہے… سب سے بڑا خسارہ ہے، اس لیے وہ حق کو مقدم رکھتے ہیں، اس کو بیان کرتے ہیں اور اس کی طرف دعوت دیتے ہیں اور باطل سے ڈراتے اور بچاتے ہیں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ بدلہ دیا ہے کہ اس نے ان کے لیے اجر عظیم اور ثواب جمیل کا وعدہ کیا ہے اور اپنے قرب کی خبر دی ہے نیز آگاہ فرمایا ہے کہ وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے جو وعدہ کیا ہے اس میں دیر نہ سمجھیں یہ وعدہ پورا ہونے والا ہے اور اس کا حصول متحقق ہو چکا ہے۔ پس یہ وعدہ بہت قریب ہے۔
[200]پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس چیز کی ترغیب دی ہے جو انھیں فوز و فلاح کی منزل پر پہنچاتی ہے۔ اور وہ ہے سعادت اور کامیابی۔ اس سعادت تک پہنچانے والا راستہ صبر کا التزام ہے اور صبر کیا ہے؟ نفس انسانی کو ایسی چیز پر روکے رکھنا جو اس کو ناپسند ہو، جیسے گناہ کا چھوڑ دینا، مصائب پر صبر کرنا اور نفوس کو ان پر گراں گزرنے والے اوامر پر روکے رکھنا۔ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ تمام امور پر صبر کرنے کا حکم دیا ہے۔(مصابرہ)صبر کے دائمی اور مسلسل التزام اور تمام احوال میں دشمن کا مقابلہ کرنے کا نام ہے۔﴿ وَرَابِطُوۡا ﴾(مرابطۃ) سے مراد اس مقام پر جمے رہنا جہاں سے دشمن کے آنے کا خطرہ ہو۔ نیز یہ کہ اہل ایمان دشمنوں سے ہوشیار رہیں اور ان کو اپنا مقصد حاصل نہ کرنے دیں۔۔۔۔ شاید وہ فلاح پا لیں یعنی دینی، دنیاوی اور اخروی محبوب کے حاصل کرنے میں وہ کامیاب ہو جائیں اور اسی طرح ناپسندیدہ چیزوں سے نجات پا لیں۔اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ صرف صبر، صبر پر دوام اور دشمن سے ہمیشہ ہوشیار رہنا ہی فلاح کا راستہ ہے۔ جس کسی نے فلاح پائی تو اسی راستہ پر چل کر فلاح پائی اور جو کوئی اس فلاح سے محروم ہوا تو ان تمام امور کو یا ان میں سے بعض کو ترک کر کے محروم ہوا۔
واللہ الموفق ولا حول ولا قوۃ إلا بہ
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences