As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Ali 'Imran 3:16–27
3:16–17Page 52
ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَآ إِنَّنَآ ءَامَنَّا فَٱغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ ١٦
Those who say, 'Our Lord, indeed we have believed, so forgive us our sins and protect us from the punishment of the Fire,' "
ٱلصَّٰبِرِينَ وَٱلصَّٰدِقِينَ وَٱلۡقَٰنِتِينَ وَٱلۡمُنفِقِينَ وَٱلۡمُسۡتَغۡفِرِينَ بِٱلۡأَسۡحَارِ ١٧
The patient, the true, the obedient, those who spend [in the way of Allāh], and those who seek forgiveness before dawn.
وہ لوگ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! بے شک ہم ایمان لائے، پس بخش دے واسطے ہمارے گناہ ہمارے،اور بچا ہم کو آگ کے عذاب سے(16) وہ جو صبر کرنے والےاور سچ بولنے والے اور حکم بجا لانے والے اور خرچ کرنے والے اور مغفرت طلب کرنے والے ہیں سحری کے اوقات میں(17)
[16] اور اپنی دعاؤں میں کہا: ﴿رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لاچکے، اس لیے ہمارے گناہ معاف فرما۔ اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘انھوں نے اللہ کے اس احسان کا ذکر کیا کہ اس نے انھیں ایمان کی توفیق دی ہے اور اس کے وسیلے سے یہ دعا کی کہ وہ ان کے گناہ معاف کردے۔ اور گناہوں کے برے اثرات و نتائج یعنی جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔
[17] اس کے بعد تقویٰ کے اوصاف تفصیل سے بیان کیے۔ اور فرمایا: ﴿اَلصّٰؔبِرِيۡنَ﴾ ’’صبر کرنے والے‘‘ جو اپنے آپ کو اللہ کے پیارے کاموں اور اس کی اطاعت کے اعمال پر قائم رکھتے ہیں، اس کی نافرمانی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہوئے صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں، اور اللہ کی تقدیر کے مطابق پیش آنے والے مصائب و مشکلات پر بھی صبر کرتے ہیں۔ ﴿وَالصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’اور سچ بولنے والے‘‘ جوا پنے ایمان میں، اقوال میں اور احوال میں راست باز اور سچے ہیں۔ ﴿وَالۡمُنۡفِقِيۡنَ﴾ ’’اور خرچ کرنے والے‘‘ جو کچھ اللہ نے انھیں دیا ہے اس میں سے مختلف انداز سے ضرورت مند افراد کو دیتے ہیں خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا اجنبی، ﴿وَالۡمُسۡتَغۡفِرِيۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ﴾ ’’اور پچھلی رات بخشش مانگنے والے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی اچھی صفات میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو معمولی سمجھتے ہیں۔ اپنے آپ کو اعلیٰ مقام پر فائز نہیں سمجھتے، بلکہ خود کو گناہ گار اور کوتاہی کرنے والے سمجھتے ہیں، اس لیے رب سے مغفرت کی درخواست کرتے ہیں۔ اور اس مقصد کے لیے ایسا وقت منتخب کرتے ہیں جب قبولیت کی امید زیادہ ہو اور وہ صبح صادق کا وقت ہے۔ حسن فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نماز اتنی لمبی کرتے ہیں کہ سحر ہوجاتی ہے۔ پھر بیٹھ کر رب سے استغفار اور دعائے مغفرت کرنے لگتے ہیں۔ ان آیات میں یہ مسائل بیان ہوئے ہیں۔ دنیا میں لوگوں کی حالت، دنیا ختم ہونے والا مال و متاع ہے۔ جنت کا بیان، اس کی نعمتیں، آخرت کا دنیا سے افضل ہونا، جس میں یہ ارشاد ہے کہ آخرت کو ترجیح دینا اور آخرت کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اہل جنت یعنی متقیوں کی صفات، تقوی پر مشتمل اعمال کا تفصیلی بیان۔ ان کی روشنی میں ہر شخص اپنا فیصلہ خود کرسکتا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی؟
3:18Page 52
شَهِدَ ٱللَّهُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ وَأُوْلُواْ ٱلۡعِلۡمِ قَآئِمَۢا بِٱلۡقِسۡطِۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ١٨
Allāh witnesses that there is no deity except Him, and [so do] the angels and those of knowledge - [that He is] maintaining [creation] in justice. There is no deity except Him, the Exalted in Might, the Wise.
گواہی دی ہے اللہ نے کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود سوائے اس کے، اور فرشتوں نے اور اہل علم نے (بھی) اس حال میں کہ وہ قائم ہے ساتھ انصاف کے، نہیں کوئی معبود مگر وہی، غالب ہے خوب حکمت والا(18)
[18] اللہ تعالیٰ نے توحید کا پختہ ترین ثبوت پیش کیا ہے، وہ ہے اللہ عزوجل کی اپنی گواہی۔ اور اس کے مخلوق میں سے معزز ترین افراد، یعنی فرشتوں اور علماء کی گواہی۔ اللہ تعالیٰ کی گواہی یہ ہے کہ اس نے توحید پر دلائل و براہین قاطعہ قائم فرمائے ہیں۔ آفاق و انفس کے دلائل اس عظیم اصول پر قائم ہیں۔ اللہ کا جو بندہ بھی توحید کا علم لے کر کھڑا ہوا ہے۔ اللہ نے ہمیشہ توحید کے منکروں اور مشرکوں کے خلاف اس کی مدد کی ہے۔ بندوں کو جو بھی نعمت حاصل ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ مشکلات کو اس کے سوا کوئی دور نہیں کرسکتا۔ مخلوق کے تمام افراد عاجز ہیں جو نہ اپنے آپ کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان سے بچا سکتے ہیں، نہ کسی اور کے نفع نقصان پر اختیار رکھتے ہیں۔ یہ زبردست دلیل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا واجب ہے۔ اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک کرنا باطل ہے۔ فرشتوں کی گواہی کا علم ہمیں اللہ کے بتانے سے اور اس کے رسولوں کے بتانے سے ہوا ہے۔ اہل علم کی گواہی اس لیے معتبر ہے کہ تمام دینی امور میں انھی سے رجوع کیا جاتا ہے۔ خصوصاً سب سے عظیم، سب سے زیادہ جلالت و شرف والے مسئلہ یعنی توحید کے مسئلہ میں۔ علماء کا اول سے آخر تک اس پر اتفاق ہے، انھوں نے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی ہے اور توحید تک پہنچنے کے راستے بتائے ہیں۔ لہٰذا مخلوق پر واجب ہے کہ اتنی عظیم گواہیوں والے حکم کو تسلیم کریں اور اس پر عمل کریں۔ اس سے بھی یہ ثابت ہوا کہ سب سے زیادہ شرف والا کام توحید کو جاننا ہے۔ لہٰذا اس کی گواہی اللہ نے خود دی ہے۔ اور اپنی مخلوق میں سے عظیم ترین افراد کو اس کا گواہ بنایا ہے۔ شہادت (گواہی) علم و یقین کی بنیاد پر ہی دی جاسکتی ہے، جو آنکھ سے مشاہدہ کے برابر ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص توحید کے معاملہ میں اس مقام تک نہیں پہنچتا وہ اہل علم میں شامل نہیں۔ اس آیت میں علم کے شرف و منزلت کے بہت سے دلائل ہیں۔ (۱) اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں میں سے انبیاء کو منتخب کرکے اس عظیم ترین مسئلہ پر شہادت دینے کے لیے مقرر کیا۔ (۲) اللہ نے ان کی گواہی کو اپنی گواہی اور فرشتوں کی گواہی کے ساتھ ملا کر ذکر فرمایا۔ اور یہ بہت بڑی فضیلت ہے۔ (۳) اللہ نے انھیں ’’علم والے‘‘ فرمایا۔ ان کی اضافت علم کی طرف کی۔ کیونکہ وہی اسے لے کر اٹھنے والے اور اس صفت سے متصف ہیں۔ (۴) اللہ تعالیٰ نے انھیں لوگوں پر شاہد اور حجت قرار دیا اور جس چیز کی انھوں نے گواہی دی تھی، لوگوں کو اس پر عمل کرنے کاحکم دیا۔ اس طرح وہ اس کا سبب بنے اور اس کے مطابق ہونے والے ہر عمل کا ثواب انھیں پہنچے گا۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عنایت فرماتا ہے۔ (۵) اللہ تعالیٰ نے اہل علم کو گواہ بنایا ہے اس سے ان کا سچا اور قابل اعتماد ہونا ثابت ہوتا ہے، اور یہ کہ اللہ نے انھیں جس چیز کا محافظ بنایا ہے، وہ اس معاملے میں دیانت دار ہیں۔ اپنی توحیدکے اثبات کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنا عدل ثابت فرمایا ہے۔ ارشاد ہے ﴿قَآىِٕمًۢا بِالۡقِسۡطِ﴾ ’’عدل کے ساتھ قائم‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے افعال میں، اور بندوں کے معاملات کے فیصلے کرنے میں ازل سے انصاف کے ساتھ متصف ہے۔ امرونہی میں بھی اس کا راستہ ’’صراط مستقیم‘‘ ہے خلق و تقدیر میں بھی۔ اس کے بعد پھر توحید کی تاکید فرمائی اور فرمایا:﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’ ’اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔‘‘بنیادی مسئلہ کہ اللہ کی توحید کو تسلیم کیا جائے اور صرف اسی کی عبادت کی جائے، اس کے اتنے زیادہ نقلی اور عقلی دلائل موجود ہیں کہ صاحب بصیرت حضرات کے ہاں یہ سورج سے بھی زیادہ واضح ہوگیا ہے۔ نقلی دلائل میں قرآن و حدیث کی وہ تمام نصوص شامل ہیں جن میں اس کا حکم دیا گیا ہے، اس کی تائید کی گئی ہے، اہل توحید سے محبت، اور منکرین توحید سے نفرت اور ان کی عقوبت مذکور ہے، اور شرک و اہل شرک کی مذمت ہے۔ یہ سب توحید کے نقلی دلائل ہیں۔ قرآن تقریباً تمام ہی توحید کے دلائل پر مشتمل ہے۔ عقلی دلائل جنھیں غوروفکر کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے، قرآن نے ان کی طرف بھی رہنمائی فرمائی ہے اور بہت سے دلائل کی طرف توجہ دلائی ہے۔ سب سے بڑی عقلی دلیل اللہ کی ربوبیت کا اعتراف ہے۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ اللہ ہی خالق، رازق، تمام معاملات میں مختار کل ہے۔ وہ لازماً اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ معبود بھی اللہ ہی ہے، اس کے سوا کسی کی عبادت درست نہیں۔ چونکہ یہ واضح ترین اور عظیم ترین دلیل ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کثرت کے ساتھ اس سے استدلال کیا ہے۔ صرف اللہ کے مستحق عبادت ہونے کی ایک اور عقلی دلیل یہ ہے کہ نعمتیں دینے والا اور مصیبتیں دور کرنے والا صرف وہی ہے۔ جس شخص کو یہ یقین ہے کہ ظاہری، باطنی، چھوٹی، بڑی، قلیل اور کثیر تمام نعمتیں اللہ کی طرف سے ہیں اور ہر مصیبت، سختی، تکلیف اور پریشانی کو صرف وہی دور کرسکتا ہے اور مخلوق میں سے کوئی فرد کسی کے لیے تو درکنار، اپنے لیے بھی حصول نعمت اور دفع مضرت کا مالک نہیں، اسے ضرور یہ یقین ہوگا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت کرنا سب سے بڑا باطل ہے۔ اور عبودیت اسی کا حق ہے جو اکیلا ہی نعمتیں دینے والا اور مصیبتیں ٹالنے والا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب پر اس دلیل کو بہت ہی زیادہ ذکر فرمایا ہے۔ ایک عقلی دلیل یہ بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمائی ہے کہ اللہ کے سوا جن معبودوں کی عبادت کی جاتی ہے وہ نہ نفع کے مالک ہیں نہ نقصان کے۔ وہ نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں نہ کسی اور کی۔ اور فرمایا ہے کہ وہ سماعت و بصارت سے محروم ہیں۔ اور اگر فرض کرلیا جائے کہ سنتے ہیں تو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ ان کی دوسری صفات بھی انھیں انتہائی ناقص ثابت کرتی ہیں۔ ان کی یہ حقیقت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم صفات اور افعال جمیلہ کا ذکر فرمایا ہے اور قدرت و غلبہ وغیرہ صفات ذکر کی ہیں جو سمعی اور عقلی دلائل سے معلوم ہوتی ہیں جو اس چیز کو کماحقہ سمجھ لے گا (کہ غیر اللہ مجبور ہیں اور اللہ تعالیٰ عظیم صفات، قوت غلبہ وغیرہ کا حامل ہے) اسے معلوم ہوجائے گا کہ عبادت کے لائق صرف رب عظیم ہے، جسے ہر لحاظ سے کمال، ہر قسم کی عظمت، تمام تعریف، ہر ایک قدرت، اور تمام تر کبریائی حاصل ہے۔ وہ عبادت کے لائق نہیں جو پیدا کیے گئے ہیں، جن کے فیصلے کوئی اور کرتا ہے، جو ناقص ہیں، بہرے اور گونگے ہیں، عقل و فہم سے محروم ہیں۔ ایک اور عقلی دلیل، جو اللہ کے بندے زمانہ قدیم میں بھی اور زمانہ جدید میں بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں وہ اہل توحید کی عزت افزائی اور اہل شرک کی رسوائی اور عقوبت ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ نے توحید کو دین و دنیا کی ہر بھلائی کے حصول، اور ہر سحر سے بچاؤ کا ذریعہ بنایا ہے۔ اور شرک و کفر کو تمام دینی و دنیاوی سزاؤں کا سبب قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب رسولوں کے واقعات بیان فرمائے جو انھیں اطاعت کرنے والوں اور نافرمانی کرنے والوں کے ساتھ پیش آئے، نافرمانوں کی سزائیں ذکر کیں، رسولوں اور ان کے پیروکاروں کی نجات کا ذکر فرمایا، تو ہر واقعہ کے بعد فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً﴾ ’’بے شک اس میں نشانی ہے‘‘ یعنی عبرت ہے جس سے لوگ نصیحت حاصل کرسکتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں کہ توحید ہی نجات کا باعث ہے، اور اسے چھوڑنا تباہی کا باعث ہے۔ یہ بڑے بڑے عقلی اور نقلی دلائل ہیں جن سے یہ عظیم اصول ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اسے بار بار مختلف انداز سے بیان کیا ہے تاکہ حق واضح ہوجائے۔ پھر جو چاہے اسے قبول کرکے نجات پالے اور جو چاہے انکار کرکے تباہی کا نشانہ بن جائے۔ وللہ الحمد۔
3:19Page 52
إِنَّ ٱلدِّينَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلۡإِسۡلَٰمُۗ وَمَا ٱخۡتَلَفَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۗ وَمَن يَكۡفُرۡ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ ١٩
Indeed, the religion in the sight of Allāh is Islām. And those who were given the Scripture did not differ except after knowledge had come to them - out of jealous animosity between themselves. And whoever disbelieves in the verses of Allāh, then indeed, Allāh is swift in [taking] account.
بے شک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہےاور نہیں اختلاف کیا ان لوگوں نے جو دیے گئے کتاب مگر بعد اس کے کہ آگیا ان کے پاس (صحیح) علم، سرکشی کرتے ہوئے آپس میں، اور جو کوئی کفر کرے ساتھ اللہ کی آیات کے، تو بے شک اللہ جلد حساب لینے والا ہے(19) پھر اگر وہ جھگڑا کریں آپ سے تو کہہ دیجیے، جھکا دیا میں نے اپنا چہرہ اللہ کے لیےاور (انھوں نے بھی) جنھوں نے اتباع کیا میرا، اور کہہ دیجیے ان لوگوں سے جو دیے گئے کتاب اور ان پڑھوں سے، کیا تم اسلام لاتے ہو؟ پھر اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو یقیناً وہ ہدایت پا گئے اور اگر وہ منہ پھیریں تو یقینا ً آپ کے ذمے (صرف پیغام) پہنچا دیناہے،اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے اپنے بندوں کو (20)
[19] جب یہ ثابت ہوگیا کہ معبود برحق صرف اللہ ہی ہے، تب یہ بتایا کہ کس طرح عبادت کرنا، اور کس دین کو قبول کرنا ضروری ہے۔ وہ دین اسلام ہے ’’اسلام‘‘ کا مطلب ’’سرتسلیم خم کرنا‘‘ ہے، یعنی اللہ کی توحید اور اطاعت جس کی دعوت اس کے رسولوں نے دی، جس کی ترغیب اس کی کتابوں نے دی۔ اس کے سوا کوئی دین قبول نہیں، اس میں یہ بھی شامل ہے کہ محبت، خوف، امید، انابت اور دعا خالصتاً اس کے لیے ہو اور اس مقصد کے لیے اس کے رسول کی پیروی کی جائے۔ یہی تمام رسولوں کا دین ہے ۔ جو ان کی پیروی کرے گا، وہ ان کے راستے پر ہوگا۔
3:20Page 52
فَإِنۡ حَآجُّوكَ فَقُلۡ أَسۡلَمۡتُ وَجۡهِيَ لِلَّهِ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِۗ وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡأُمِّيِّـۧنَ ءَأَسۡلَمۡتُمۡۚ فَإِنۡ أَسۡلَمُواْ فَقَدِ ٱهۡتَدَواْۖ وَّإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّمَا عَلَيۡكَ ٱلۡبَلَٰغُۗ وَٱللَّهُ بَصِيرُۢ بِٱلۡعِبَادِ ٢٠
So if they argue with you, say, "I have submitted myself to Allāh [in Islām], and [so have] those who follow me." And say to those who were given the Scripture and [to] the unlearned,1 "Have you submitted yourselves?" And if they submit [in Islām], they are rightly guided; but if they turn away - then upon you is only the [duty of] notification. And Allāh is Seeing of [His] servants.
پھر اگر وہ جھگڑا کریں آپ سے تو کہہ دیجیے، جھکا دیا میں نے اپنا چہرہ اللہ کے لیےاور (انھوں نے بھی) جنھوں نے اتباع کیا میرا، اور کہہ دیجیے ان لوگوں سے جو دیے گئے کتاب اور ان پڑھوں سے، کیا تم اسلام لاتے ہو؟ پھر اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو یقیناً وہ ہدایت پا گئے اور اگر وہ منہ پھیریں تو یقینا ً آپ کے ذمے (صرف پیغام) پہنچا دیناہے،اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے اپنے بندوں کو (20)
[20] اہل کتاب کو ان کی کتابیں متحد ہوکر اللہ کے دین پر عمل کرنے کا حکم دیتی تھیں۔ انھوں نے ان کتابوں کے آنے کے بعد ظلم و زیادتی کرتے ہوئے آپس میں اختلاف کیا۔ ورنہ ان کے پاس اختلاف سے بچ کر حق کی راہ اختیار کرنے کا سب سے بڑا سبب موجود تھا۔ اسے پس پشت ڈال دینا ان کا کفر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا اخۡتَلَفَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ اِلَّا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡيًۢا بَيۡنَهُمۡ١ؕ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ﴾ ’’اور اہل کتاب نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بنا پر ہی اختلاف کیا ہے اور اللہ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے۔ اللہ اس کا جلد حساب لینے والا ہے‘‘ پھر وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ بالخصوص جس نے حق کو پہچان کر ترک کیا، یہ سخت وعید اور عذاب الیم کا مستحق ہے۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے رسولﷺکو حکم دیا کہ عیسائی اور دیگر جو لوگ اسلام پر دوسرے مذاہب کو فوقیت دیتے ہیں ان سے بحث کرتے ہوئے انھیں فرما دیں کہ ﴿اَسۡلَمۡتُ وَجۡهِيَ لِلّٰهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ﴾ ’’میں نے اور میرے تابع داروں نے اللہ کی اطاعت میں اپنا چہرہ مطیع کردیا‘‘ یعنی میں نے اور میرے پیروکاروں نے اقرار کیا ہے، گواہی دی ہے اور اپنے مالک کے سامنے سرجھکا دیے ہیں۔ ہم نے اسلام کے سوا دوسرے تمام مذاہب کو چھوڑ دیا ہے، ہمیں ان کے باطل ہونے پر یقین حاصل ہے۔ یہ کہہ کر آپ ان لوگوں کو مایوس کردیں جن کو تمھارے بارے میں کوئی امید ہے (کہ شاید اسلام چھوڑ کر ہمارا دین اختیار کرلیں) اور شبہات پیش آنے پر اس طرح تمھارے دین کی تجدید ہوجائے گی، اور جو شبہات کا شکار ہے اس کے خلاف حجت قائم ہوجائے گی۔ کیونکہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اہل علم بندوں کو توحید کی دلیل اور گواہ کے طورپر پیش کیا ہے۔ تاکہ وہ دوسروں کے خلاف حجت بن جائیں، اہل علم کے سردار، سب سے افضل اور سب سے بڑے عالم ہمارے نبی محمدﷺہیں۔ اس کے بعد آپ کے متبعین درجہ بدرجہ عالم ہیں۔ انھیں وہ صحیح علم او رکامل عقل حاصل ہے کہ کسی اور کو ان کے برابر تو کیا، قریب تر بھی حاصل نہیں۔ جب اللہ کی توحید اور اس کے دین کی حقانیت واضح دلیلوں سے ثابت ہوچکی ہے، مخلوقات میں سے کامل ترین او رعالم ترین شخصیت نے انھیں مانا اور پیش کیا، تو اس سے یقین حاصل ہوگیا اور ہر شک و شبہ دور ہوگیا اور معلوم ہوگیا کہ اس کے سوا ہر مذہب باطل ہے، اس لیے فرمایا:﴿وَقُلۡ لِّلَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡاُمِّيّٖنَ﴾ ’’اہل کتاب سے (یعنی نصاریٰ اور یہود سے۔) اور ان پڑھ لوگوں سے (یعنی عرب و عجم کے مشرکین سے) کہہ دیجیے‘‘ ﴿ءَاَسۡلَمۡتُمۡ١ؕ فَاِنۡ اَسۡلَمُوۡا﴾ ’’کیا تم بھی اطاعت اختیار کرتے ہو پھر اگر یہ بھی تابع دار بن جائیں۔‘‘ اور تمھاری طرح ایمان لے آئیں ﴿ فَقَدِ اهۡتَدَوۡا﴾ ’’تو وہ یقیناً ہدایت پانے والے ہیں۔ جس طرح تم ہدایت یافتہ ہو۔ اس صورت میں وہ تمھارے بھائی بن جائیں گے۔ ان کو وہی حقوق حاصل ہوں گے جو تمھیں حاصل ہیں۔ اور ان کے وہی فرائض ہوں گے، جو تمھارے ہیں ﴿وَاِنۡ تَوَلَّوۡا﴾ ’’اور اگر یہ روگردانی کریں‘‘ اور اسلام قبول نہ کریں اور اسلام کے مخالف مذاہب پر قائم رہیں۔ ﴿فَاِنَّمَا عَلَيۡكَ الۡبَلٰغُ﴾ ’’تو آپ پر صرف پہنچا دینا ہے‘‘ آپ کو آپ کا رب ضرور اجر و ثواب دے گا۔ مخالف پر حجت قائم ہوچکی۔ اس کے بعد صرف یہی چیز باقی رہ گئی ہے کہ وہ انھیں ان کے جرم کی سزا دے، اس لیے فرمایا:﴿وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’اور اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے۔‘‘
3:21–22Page 52
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَيَقۡتُلُونَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ بِغَيۡرِ حَقّٖ وَيَقۡتُلُونَ ٱلَّذِينَ يَأۡمُرُونَ بِٱلۡقِسۡطِ مِنَ ٱلنَّاسِ فَبَشِّرۡهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ٢١
Those who disbelieve in the signs of Allāh and kill the prophets without right and kill those who order justice from among the people - give them tidings of a painful punishment.
أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّٰصِرِينَ ٢٢
They are the ones whose deeds have become worthless in this world and the Hereafter, and for them there will be no helpers.
بے شک وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں ساتھ اللہ کی آیتوں کے اور قتل کرتے ہیں نبیوں کو ناحق اور قتل کرتے ہیں ان لوگوں کو جو حکم دیتے ہیں ساتھ انصاف کے لوگوں میں سے، پس خوشخبری سنا دیجیے ان کو عذاب دردناک کی (21) یہی وہ لوگ ہیں کہ برباد ہو گئے عمل ان کے دنیا اور آخرت میں اور نہیں واسطے ان کے کوئی مددگار (22)
[22-21] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کی خبر دی ہے، عظیم ترین جرائم کے مرتکب ہیں۔ اس سے بڑا جرم کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ کی ان آیات کا انکار کیا جائے جو اس حق کا قطعی ثبوت پیش کرتی ہیں، جس کا انکار کرنے والا انتہائی درجے کے کفر و عناد میں مبتلا ہے۔ وہ اللہ کے نبیوں کو قتل کرتے ہیں جن کا حق اللہ کے حق کے بعد سب سے بڑا ہے، جن کی اطاعت کرنا، ان پر ایمان لانا، ان کا احترام کرنا اور ان کی مدد کرنا، اللہ نے فرض قرار دیا ہے۔ لیکن انھوں نے اس کے بالکل برعکس عمل کیا۔ وہ انصاف کا حکم دینے والوں بھی قتل کرتے ہیں۔ انصاف سے مراد نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ہے جو احسان اور خیر خواہی ہے ان لوگوں کی، جنھیں اچھی بات بتائی جاتی ہے یا بری بات سے منع کیا جاتا ہے۔ لیکن انھوں نے اس احسان اور خیر خواہی کا انتہائی برا جواب دیا کہ اپنے محسنوں کو شہید کردیا۔ ان شنیع جرائم کی وجہ سے وہ انتہائی سخت عذاب کے مستحق ہوگئے۔ یعنی ایسا شدید اور دردناک عذاب جس کو پوری طرح بیان کرنا، اور اس کی شدت کا اندازہ کرنا ناممکن ہے۔ جس کی تکلیف بدنوں، دلوں اور روحوں کے لیے ہے۔ ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کی نیکیاں ضائع ہوگئیں۔ انھیں کوئی اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا، بلکہ اللہ کی دی ہوئی سزا میں کوئی ذرہ برابر کمی نہیں کرسکتا۔ یہ لوگ ہر خیر سے مایوس ہیں۔ انھیں ہر شر اور مصیبت حاصل ہوگی۔ یہ حالت یہود کی، اور ان جیسے دوسرے لوگوں کی ہے۔ اللہ ان کا برا کرے۔ یہ اللہ پر، نبیوں پر اور نیک لوگوں پر کتنے جری ہیں؟
3:23–25Page 53
أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُواْ نَصِيبٗا مِّنَ ٱلۡكِتَٰبِ يُدۡعَوۡنَ إِلَىٰ كِتَٰبِ ٱللَّهِ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٞ مِّنۡهُمۡ وَهُم مُّعۡرِضُونَ ٢٣
Do you not consider, [O Muḥammad], those who were given a portion of the Scripture? They are invited to the Scripture of Allāh that it should arbitrate between them;1 then a party of them turns away, and they are refusing.
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُواْ لَن تَمَسَّنَا ٱلنَّارُ إِلَّآ أَيَّامٗا مَّعۡدُودَٰتٖۖ وَغَرَّهُمۡ فِي دِينِهِم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ ٢٤
That is because they say, "Never will the Fire touch us except for [a few] numbered days," and [because] they were deluded in their religion by what they were inventing.
فَكَيۡفَ إِذَا جَمَعۡنَٰهُمۡ لِيَوۡمٖ لَّا رَيۡبَ فِيهِ وَوُفِّيَتۡ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ ٢٥
So how will it be when We assemble them for a Day about which there is no doubt? And each soul will be compensated [in full for] what it earned, and they will not be wronged.
کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دیے گئے کچھ حصہ کتاب سے، وہ بلائے جاتے ہیں کتاب اللہ کی طرف تاکہ فیصلہ کرے وہ (کتاب) ان کے درمیان ، پھر منہ پھیر لیتا ہے ایک فریق ان میں سے،اور وہ اعراض کرنے والے ہیں (23) یہ بسبب اس کے کہ بے شک انھوں نے کہا، ہرگز نہیں چھوئے گی ہمیں آگ مگر چند دن گنتی کے،اور دھوکے میں ڈال دیا ان کو ان کے دین (کے بارے) میں، ان چیزوں نے جو تھے وہ گھڑتے (24) پس کیا حال ہوگا جب ہم جمع کریں گے ان کو ایسے دن میں کہ نہیں شک اس (کے وقوع) میں، اور پورا (بدلہ) دیا جائے گا ہر نفس کو اس کا جو اس نے کمایااور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (25)
[25-23] اللہ تعالیٰ اہل کتاب کی حالت بیان فرما رہا ہے جن پر انعام کرتے ہوئے اللہ نے انھیں اپنی کتاب دی۔ ان کا فرض تھا کہ سب سے زیادہ وہ اس پر قائم رہتے، اور سب سے پہلے وہ اس کے احکام کو تسلیم کرتے، لیکن اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں بتا رہا ہے کہ انھیں جب کتاب کے فیصلے (کو قبول کرنے) کی طرف بلایا جاتا ہے تو ان میں سے کچھ لوگ منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں۔ اپنے بدنوں کے ساتھ بھی منہ پھیرتے ہیں اور دلوں کے ساتھ بھی انکار کرتے ہیں۔ یہ انتہائی قابل مذمت رویہ ہے۔ اس میں ہمارے لیے تنبیہ ہے کہ ان جیسا کام نہ کریں، ورنہ ہم بھی اس مذمت کے مستحق ہوں گے۔ اور ہمیں بھی ان جیسی سزا مل سکتی ہے۔ بلکہ جس کو اللہ کی کتاب کی طرف بلایا جائے اس کا فرض ہے کہ سنے، اطاعت کرے اور دل سے تسلیم کرے، جیسے اللہ نے فرمایا:﴿اِنَّمَا كَانَ قَوۡلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذَا دُعُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا﴾(النور:24؍51) ’’مومنوں کو جب اللہ کی طرف اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کردے، تو وہ صرف یہی کہتے ہیں: ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا‘‘ اہل کتاب کو جو دھوکا لگا ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ کی نافرمانی کی جراء ت کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں:﴿لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعۡدُوۡدٰتٍ١۪ وَّغَرَّهُمۡ فِيۡ دِيۡنِهِمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ﴾(آل عمران:3؍24) ’’ہمیں تو آگ گنے چنے چند دن کے لیے ہی جلائے گی، اور ان کی گھڑی ہوئی باتوں نے ان کو ان کے دین کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا۔‘‘ انھوں نے اپنے پاس سے ایک بات بنا کر اس کو حقیقت سمجھ لیا اور اس پر عمل کرنے لگے اور گناہوں سے اجتناب نہیں کرتے۔ کیونکہ ان کے دلوں نے ان کو یہ دھوکا دے رکھا ہے کہ وہ جنت میں جائیں گے۔ ان کی یہ بات سراسر جھوٹ اور کذب بیانی ہے۔ ان کا انجام تو بہت برا اور انتہائی اندوہناک ہونے والا ہے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿فَكَـيۡفَ اِذَا جَمَعۡنٰهُمۡ لِيَوۡمٍ لَّا رَيۡبَ فِيۡهِ﴾ ’’پس کیا حال ہوگا، جب ہم انھیں اس دن جمع کریں گے۔ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔‘‘ ان کا حال اتنا برا ہوگا کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ وہ دن کمائی کا پورا پورا بدلہ ملنے کا دن ہے اور یہ بدلہ انصاف کے ساتھ ملے گا، جس میں ظلم بالکل شامل نہیں ہوگا۔ اور یہ بات یقینی ہے کہ یہ نتیجہ اعمال کے مطابق ہوگا اور ان کے اعمال ایسے ہیں جو انہیں شدید ترین عذاب کا مستحق ثابت کرتے ہیں۔
3:26–27Page 53
قُلِ ٱللَّهُمَّ مَٰلِكَ ٱلۡمُلۡكِ تُؤۡتِي ٱلۡمُلۡكَ مَن تَشَآءُ وَتَنزِعُ ٱلۡمُلۡكَ مِمَّن تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَآءُۖ بِيَدِكَ ٱلۡخَيۡرُۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ٢٦
Say, "O Allāh, Owner of Sovereignty, You give sovereignty to whom You will and You take sovereignty away from whom You will. You honor whom You will and You humble whom You will. In Your hand1 is [all] good. Indeed, You are over all things competent.
تُولِجُ ٱلَّيۡلَ فِي ٱلنَّهَارِ وَتُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِي ٱلَّيۡلِۖ وَتُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَتُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتَ مِنَ ٱلۡحَيِّۖ وَتَرۡزُقُ مَن تَشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٖ ٢٧
You cause the night to enter the day, and You cause the day to enter the night; and You bring the living out of the dead, and You bring the dead out of the living. And You give provision to whom You will without account [i.e., limit or measure]."
آپ کہہ دیجیے، اے اللہ! اے مالک بادشاہی کے! توہی دیتا ہے بادشاہی جس کو چاہے،اور چھین لیتا ہے بادشاہی اس سے جس سے چاہے،اور توہی عزت دیتا ہے جس کو چاہے،اور تو ہی ذلت دیتا ہے جس کو چاہے، تیرے ہی ہاتھ میں ہے سب بھلائی، یقیناً تو اوپر ہر چیز کے قادر ہے (26) تو داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں، اور نکالتا ہے تو زندہ کو مُردہ سے اور نکالتا ہے مُردہ کو زندہ سے،اور تو رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے بے حساب (27)
[27-26] اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ کہہ دیجیے ﴿اللّٰهُمَّ مٰؔلِكَ الۡمُلۡكِ﴾ ’’اے اللہ! بادشاہی کے مالک‘‘ یعنی تو بادشاہ ہے جو تمام ملکوں کا مالک ہے۔ بادشاہ کی صفت علی الاطلاق تیرے لیے ہے۔ اور آسمان کی اور زمین کی تمام سلطنت تیری ہی ہے۔ اس میں تبدیلیاں لانا اور انتظام کرنا سب تیرے ہاتھ میں ہے۔ پھر چند تبدیلیاں ذکرکی ہیں جو اکیلے باری تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ فرمایا: ﴿تُؤۡتِي الۡمُلۡكَ مَنۡ تَشَآءُ وَتَنۡزِعُ الۡمُلۡكَ مِمَّنۡ تَشَآءُ﴾ ’’تو جسے چاہے باشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے‘‘ اس میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایران کے کسریٰ بادشاہوں سے، اور روم کے قیصر بادشاہوں سے، اور ان کے پیروکاروں سے حکومت چھین کر محمدﷺکو عطا فرمائے گا۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ وللہ الحمد۔ لہٰذا حکومت کا مل جانا یا چھن جانا اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے۔ یہ فرمان اللہ کی اس سنت کے خلاف نہیں جو اس نے کچھ تکوینی اور دینی اسباب قائم کر رکھے ہیں جن کی وجہ سے حکومت باقی رہتی،ملتی اور ختم ہوجاتی ہے۔ یہ اسباب بھی اللہ کی مشیت کے تابع ہیں ۔کوئی سبب مستقل بالذات نہیں۔ بلکہ تمام اسباب قضاء و قدر کے تحت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بادشاہی کے حصول کے جو اسباب مقرر کیے ہیں ان میں ایمان اور عمل صالح بھی ہیں۔ اس مقصد کے لیے چند ضروری اعمال صالحہ یہ ہیں: مسلمانوں کا اتفاق و اتحاد، جو آلات تیار کرنے اور حاصل کرنے ممکن ہوں، جمع کرنا، صبر و ثبات، باہمی تنازعات سے پرہیز۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾(النور:24؍55) ’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے، کہ وہ انھیں زمین میں ضرور خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا‘‘ اللہ نے بتایا ہے کہ مذکورہ خلافت کے حصول کی شرط ایمان اور عمل صالح ہے۔ اور فرمایا:﴿هُوَ الَّذِيۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَۙ۰۰۶۲ وَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ﴾(الانفال:8؍62۔63) ’’وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ قوت بخشی اور ان کے دلوں میں محبت ڈال دی‘‘ اور فرمایا ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً فَاثۡبُتُوۡا وَاذۡكُرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَۚ۰۰ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَا تَنَازَعُوۡا فَتَفۡشَلُوۡا وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ وَاصۡبِرُوۡا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰؔبِرِيۡنَ﴾(الانفال:8؍45۔46) ’’اے مومنو! جب تم کسی جماعت کا سامنا کرو تو ثابت قدم رہو، اور اللہ کو بہت یاد کرو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ اور اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اور جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو۔ یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یعنی اللہ نے بتایا ہے کہ مومنوں کی باہمی محبت، ثابت قدمی اور اتفاق دشمنوں پر فتح کا باعث ہے۔ اگر آپ مسلمان ملکوں کے حالات پر غور کریں تو ان کی سلطنت ختم ہونے کا بڑا سبب دین سے دوری اور باہمی افتراق ہے جس سے دشمنوں کو حوصلہ ہوا اور ان کے درمیان لڑائی ڈال دی۔ پھر اللہ نے فرمایا:﴿وَتُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ﴾ ’’تو جسے چاہے (اپنی اطاعت کی وجہ سے) عزت دے‘‘ ﴿ وَتُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ ﴾ ’’اور جسے چاہے (معصیت کی وجہ سے) ذلت دے‘‘ ﴿ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ کوئی چیز تیرے حکم سے سرتابی نہیں کرسکتی۔ بلکہ سب کچھ تیری قدرت اور مشیت کے تحت ہے ﴿ تُوۡلِجُ الَّيۡلَ فِي النَّهَارِ وَتُوۡلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيۡلِ ﴾ ’’توہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے، اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔‘‘ جس کی وجہ سے موسم پیدا ہوتے ہیں، روشنی، دھوپ، سایہ، سکون اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔ جو اللہ کی قدرت، عظمت، حکمت اور رحمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَتُخۡرِجُ الۡحَيَّ مِنَ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’تو نکالتا ہے جان دار کو بے جان سے۔‘‘ جیسے انڈے سے چوزہ، گٹھلی سے درخت، بیج سے کھیتی اور کافر سے مومن ۔ ﴿ وَتُخۡرِجُ الۡمَيِّتَ مِنَ الۡحَيِّ ﴾ ’’اور نکالتا ہے بے جان کو جان دار سے۔‘‘ جیسے پرندے سے انڈا، درخت سے گٹھلی، پودے سے دانہ اور مومن میں سے کافر۔ یہ اللہ کی قدرت کی سب سے بڑی دلیل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام اشیا مسخر ہیں، ان کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا متضاد اشیا کو پیدا کرنا اور ایک چیز میں سے اس سے متضاد چیز پیدا کرنا ثابت کرتا ہے کہ یہ سب مجبور و لاچار ہیں۔ ﴿وَتَرۡزُقُ مَنۡ تَشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’توہی جسے چاہتا ہے، بے حساب روزی دیتا ہے۔‘‘ تو جسے چاہتا ہے وہاں سے وسیع رزق دے دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا، اور نہ اس نے کمائی کی ہوتی ہے۔ پھر فرمایا:
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences