As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
الروم
Ar-Rum
The Romans · Meccan · 60 ayahs
30:1–7Page 404
الٓمٓ ١
Alif, Lām, Meem.1
غُلِبَتِ ٱلرُّومُ ٢
The Byzantines have been defeated1
فِيٓ أَدۡنَى ٱلۡأَرۡضِ وَهُم مِّنۢ بَعۡدِ غَلَبِهِمۡ سَيَغۡلِبُونَ ٣
In the nearest land.1 But they, after their defeat, will overcome
فِي بِضۡعِ سِنِينَۗ لِلَّهِ ٱلۡأَمۡرُ مِن قَبۡلُ وَمِنۢ بَعۡدُۚ وَيَوۡمَئِذٖ يَفۡرَحُ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٤
Within three to nine years. To Allāh belongs the command [i.e., decree] before and after. And that day the believers will rejoice
بِنَصۡرِ ٱللَّهِۚ يَنصُرُ مَن يَشَآءُۖ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ ٥
In the victory of Allāh.1 He gives victory to whom He wills, and He is the Exalted in Might, the Merciful.
وَعۡدَ ٱللَّهِۖ لَا يُخۡلِفُ ٱللَّهُ وَعۡدَهُۥ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٦
[It is] the promise of Allāh. Allāh does not fail in His promise, but most of the people do not know.
يَعۡلَمُونَ ظَٰهِرٗا مِّنَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَهُمۡ عَنِ ٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ غَٰفِلُونَ ٧
They know what is apparent of the worldly life, but they, of the Hereafter, are unaware.
الٓمّٓ(1)مغلوب ہو گئے رومی(2) قریب ترین زمین (شام وغیرہ) میں، اور وہ بعد اپنے مغلوب ہونے کے عنقریب غالب ہوں گے(3) چند سالوں میں، اللہ ہی کے لیے ہے اختیار پہلے بھی اور بعد میں بھی، اور اس (غلبے کے) دن خوش ہوں گے مومن(4) اللہ کی مدد سے، وہ مدد دیتاہے جسے چاہتا ہے، اور وہ ہے نہایت غالب، بہت رحم کرنے والا(5) وعدہ ہے اللہ کا،نہیں خلاف کرتا اللہ اپنے وعدے کے، اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(6) وہ جانتے ہیں ظاہر کو زندگانی دنیا سے، اور وہ آخرت سے وہ غافل ہیں(7)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1]اس زمانے میں ایران اور روم دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں تھیں ان دونوں کے درمیان اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں جیسا کہ ہم پلہ سلطنتوں کے مابین اس قسم کی لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ایرانی مشرک تھے اور آگ کی پوجا کرتے تھے۔ رومی اہل کتاب تھے اور اپنے آپ کو تورات اور انجیل کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اہل فارس کی نسبت رومی مسلمانوں کے زیادہ قریب تھے اس لیے مسلمان چاہتے تھے کہ رومی ایرانیوں پر فتح حاصل کریں چونکہ مشرکین مکہ اور اہل فارس شرک میں مشترک تھے اس لیے مشرکین مکہ رومیوں پر اہل فارس کی فتح چاہتے تھے۔ ایرانیوں کو رومیوں کے خلاف جنگی کامیابیاں حاصل ہوئیں لیکن انھیں مکمل فتح حاصل نہ ہوئی بلکہ ایران سے ملحق بعض رومی علاقے ایرانیوں کے قبضہ میں آ گئے اس پر مشرکین مکہ نے خوشیاں منائیں اور مسلمان اس فتح پر بہت رنجیدہ ہوئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آگاہ کیا بلکہ ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ عنقریب رومی اہل فارس پر فتح حاصل کریں گے۔﴿فِيۡ بِضۡعِ سِنِيۡنَ ﴾’’چند سالوں میں۔‘‘ تقریباً آٹھ نو سال کی مدت میں جو دس سال سے زیادہ اور تین سال سے کم نہ ہو گی۔ یہ رومیوں پر ایرانیوں کی فتح اور پھر ایرانیوں پر رومیوں کا غلبہ سب اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی قضاوقدر پر مبنی ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿لِلّٰهِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَمِنۢۡ بَعۡدُ ﴾ ’’اس (شکست) سے پہلے بھی اللہ ہی کا حکم چلتا تھا اور بعد میں بھی اسی کا چلے گا۔‘‘ یعنی غلبہ اور فتح و نصرت مجرد و جود اسباب پر منحصر نہیں ہوتے بلکہ ان کے لیے قضاوقدر کا مقرون ہونا ضروری ہے۔ ﴿وَيَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’اور اس روز‘‘ یعنی جس روز رومیوں کو ایرانیوں کے خلاف فتح حاصل ہو گی اور ان پر غالب آئیں گے ﴿يَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ بِنَصۡرِ اللّٰهِ١ؕ يَنۡصُرُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اہل ایمان خوش ہو رہے ہوں گے اللہ کی مدد سے۔ وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے۔‘‘ یعنی اہل ایمان ایرانیوں کے خلاف رومیوں کی فتح پر خوش ہو رہے ہوں گے... اگرچہ دونوں قومیں کافر تھیں تاہم کچھ برائیاں بعض دیگر برائیوں سے کم تر ہوتی ہیں... اور اس روز مشرکین سوگ منا رہے ہوں گے۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ غالب ہے۔‘‘ یعنی اللہ وہ ہستی ہے جو عزت و غلبہ کی مالک ہے جس کی بنا پر وہ تمام مخلوقات پر غالب ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے اقتدار عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے، جسے چاہتا ہے عزت سے سرفراز کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے۔ ﴿الرَّحِيۡمُ﴾ اپنے مومن بندوں پر بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے، کیونکہ اس نے ان کے لیے بے حدو حساب اسباب فراہم کیے جو ان کو سعادت مند بناتے اور فتح و نصرت سے ہم کنار کرتے ہیں۔
[6]﴿وَعۡدَ اللّٰهِ١ؕ لَا يُخۡلِفُ اللّٰهُ وَعۡدَهٗ﴾ ’’یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔‘‘ پس تم اس وعدے پر یقین رکھو، اسے حتمی سمجھو اور جان لو کہ یہ وعدہ ضرور پورا ہو گا۔ جب یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں، جن میں اس وعدہ کا ذکر ہے، تو اس وعدے کی مسلمانوں نے تصدیق کی مگر مشرکین نے اس کو نہ مانا حتیٰ کہ بعض مسلمانوں اور بعض کفار نے اس پر شرط لگا لی اور کچھ سالوں کی مدت مقر کر لی۔ جب وہ مدت آئی جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھی تھی تو رومیوں کو ایرانیوں کے خلاف فتوحات حاصل ہونے لگیں۔ رومیوں نے ایرانی افواج کو ان تمام علاقوں سے نکال باہر کیا جو انھوں نے رومیوں سے چھینے تھے اور یوں اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو گیا۔اس کا تعلق امور غیبیہ سے ہے جن کے متعلق ان کے وقوع سے قبل اللہ تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر آگاہ فرما دیا تھا اور یہ پیش گوئی انھی مسلمانوں اور کافروں کے دور میں وقوع پذیر ہوئی جن کے دور میں یہ پیش گوئی کی گئی تھی ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ کہ اللہ تعالیٰ کا کیا ہوا وعدہ حق ہے۔ بنابریں ان میں ایک ایسا گروہ بھی موجود ہے جو اللہ کے وعدے کو سچ نہیں مانتا اور اس کی آیتوں کو جھٹلاتا ہے۔
[7] یہ وہ لوگ ہیں جو علم نہیں رکھتے یعنی جو اشیاء کے اسرار نہاں اور ان کے عواقب کو نہیں جانتے۔﴿يَعۡلَمُوۡنَ ظَاهِرًا مِّنَ الۡحَيٰؔوةِ الدُّنۡيَا ﴾’’وہ تو صرف دنیاوی زندگی کے ظاہر کو دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ یہ لوگ صرف اسباب پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ ان واقعات کے وقوع پذیر ہونے پر حتمی یقین رکھتے ہیں جن کے اسباب ان کی رائے کے مطابق پورے ہوچکے ہوں اور اگر انھوں نے ان اسباب کا مشاہدہ نہ کیا ہو جوان واقعات کے وقوع کا تقاضا کرتے ہیں تو وہ ان کے عدم وقوع پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ پس یہ لوگ اسباب کے ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں ان کی نظر مسبب الاسباب پر نہیں جو ان اسباب میں تصرف کی پوری قدرت رکھتا ہے۔﴿وَهُمۡ عَنِ الۡاٰخِرَةِ هُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت سے غافل ہیں۔‘‘ ان کے دل، ان کی خواہشات اور ان کے ارادے، دنیا اور دنیا کی شہوات اور اس کے چند ٹکڑوں پر مرتکز ہیں۔ ان کے ارادے اور خواہشات اس دنیا کے لیے کام کرتے ہیں، اسی کے لیے کوشاں ،اسی کی طرف متوجہ اور آخرت سے غافل ہیں۔ ان کے سامنے کوئی جنت نہیں جس کا انھیں اشتیاق ہو، ان کے سامنے کوئی جہنم نہیں جس کا انھیں خوف ہو اور نہ اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لیے کھڑے ہونے کا تصور ہے، جس سے یہ ڈر کر کانپ اٹھتے ہوں۔ یہ بدبختی کی علامت اور آخرت سے غفلت کا عنوان ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ اس گروہ کے لوگ اس ظاہری دنیا میں ذہانت اور فطانت کے اس درجے تک پہنچے ہوئے ہیں جس سے عقل حیران اور دہشت زدہ ہو جاتی ہے۔ ان کے ہاتھوں برقی اور جوہری عجائبات ظاہر ہوئے، انھوں نے بری، بحری اورفضائی سواریاں ایجاد کیں، وہ اپنی عقل کی مدد سے سب پر فوقیت لے گئے اور اپنی عقل کے ذریعے سے لوگوں کو حیران کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں وہ قدرت عطا کی جس کے سامنے دیگر لوگ عاجز تھے۔ پس انھوں نے دوسروں کو نہایت حقارت کی نظر سے دیکھا حالانکہ وہ خود اپنے دین کے معاملے میں سب سے زیادہ کند ذہن، اپنی آخرت کے بارے میں سب سے زیاہ غافل اور اپنی عاقبت کے بارے میں سب سے کم علم رکھتے ہیں۔ اہل بصیرت کی رائے ہے کہ وہ اپنی جہالت میں پاگل، اپنی گمراہی میں سرگرداں اور اپنے باطل میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کر دیا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو بھلا دیا۔ درحقیقت یہی لوگ نافرمان ہیں۔اگر وہ ان صلاحیتوں پر غور کریں جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بہرہ ور کیا ہے اور اس ظاہری دنیا میں انھیں دقیق افکار سے نوازا، پھر غور کریں کہ انھوں نے اپنے آپ کو عقل عالی سے محروم کیا، تو انھیں معلوم ہو جائے گا کہ تمام معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، اس کے بندوں میں اسی کا حکم جاری ہے اور یہ سب اس کی توفیق یا عدم توفیق کا معاملہ ہے تو وہ اپنے رب سے ڈرنے لگیں اور اس سے دعا کریں کہ وہ ان کی عقل اور ایمان کی تکمیل کرے جو اس نے ان کو عطا کی ہے حتیٰ کہ وہ اس کے پاس پہنچ جائیں اور اس کے جوار میں نازل ہوجائیں۔ اگر یہ صلاحیتیں ایمان کے ساتھ مقرون ہوتیں اور ان کی بنیاد ایمان پر اٹھائی گئی ہوتی تو ترقی کے ساتھ ساتھ پاک صاف زندگی اس کا ثمرہ ہوتی مگر چونکہ ان کی بہت سی صلاحیتیں الحاد پر مبنی ہیں اس لیے ان کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔
30:8–10Page 405
أَوَلَمۡ يَتَفَكَّرُواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۗ مَّا خَلَقَ ٱللَّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَآ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَأَجَلٖ مُّسَمّٗىۗ وَإِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلنَّاسِ بِلِقَآيِٕ رَبِّهِمۡ لَكَٰفِرُونَ ٨
Do they not contemplate within themselves?1 Allāh has not created the heavens and the earth and what is between them except in truth and for a specified term. And indeed, many of the people, in the meeting with their Lord, are disbelievers.
أَوَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَانُوٓاْ أَشَدَّ مِنۡهُمۡ قُوَّةٗ وَأَثَارُواْ ٱلۡأَرۡضَ وَعَمَرُوهَآ أَكۡثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِۖ فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظۡلِمَهُمۡ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ ٩
Have they not traveled through the earth and observed how was the end of those before them? They were greater than them in power, and they plowed [or excavated] the earth and built it up more than they [i.e., the Makkans] have built it up, and their messengers came to them with clear evidences. And Allāh would not ever have wronged them, but they were wronging themselves.
ثُمَّ كَانَ عَٰقِبَةَ ٱلَّذِينَ أَسَٰٓـُٔواْ ٱلسُّوٓأَىٰٓ أَن كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَكَانُواْ بِهَا يَسۡتَهۡزِءُونَ ١٠
Then the end of those who did evil was the worst [consequence] because they denied the signs of Allāh and used to ridicule them.
کیا نہیں غورو فکر کیا انھوں نے اپنے دلوں میں کہ نہیں پیدا کیا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے مگر ساتھ حق کے اور ایک وقت مقرر کے لیے؟ اور بلاشبہ بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے البتہ کافر (منکر) ہیں(8) کیا نہیں سیر کی انھوں نے زمین میں، پس دیکھتے وہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو پہلے تھے ان سے؟ تھے وہ زیادہ ان سے قوت میں، اور پھاڑا تھا انھوں نے زمین کو اور آباد کیا تھا انھوں نے اسے بہت زیادہ اس سے جو انھوں نے آباد کیا ہے اسے اور آئے تھے ان کے پاس ان کے رسول ساتھ واضح دلائل کے پس نہیں تھا اللہ کہ وہ ظلم کرتا ان پر اور لیکن تھے وہ (خود ہی) اپنے آپ پر ظلم کرتے(9) پھر ہوا انجام ان لوگوں کا، جنھوں نے برا کیا تھا، برا ہی اس لیے کہ جھٹلایا انھوں نے اللہ کی آیتوں کو، اور تھے وہ ان کا مذاق اڑاتے(10)
[8] کیا اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کی ملاقات کو جھٹلانے والوں نے کبھی غور نہیں کیا ﴿فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾’’اپنے آپ پر؟‘‘ کیونکہ خود ان کی ذات میں نشانیاں ہیں جن کے ذریعے سے وہ اس حقیقت کی معرفت حاصل کر سکتے ہیں کہ وہ ہستی جو انھیں عدم سے وجود میں لائی وہ عنقریب اس کا اعادہ کرے گی، وہ ہستی جس نے انھیں نطفہ، جمے ہوئے خون اور گوشت کی بوٹی کے مراحل سے گزار کر آدمی بنایا، پھر اس میں روح پھونکی، پھر اسے بچہ بنایا، اس بچے سے اسے جوان بنایا، پھر اسے بڑھاپے میں منتقل کیا اور پھر اسے انتہائی بڑھاپے کی طرف لے گیا۔ اس ہستی کے شایان شان نہیں کہ وہ ان کو مہمل اور بے کار چھوڑ دے کہ انھیں کسی چیز کا حکم دیا جائے نہ کسی چیز سے روکا جائے اور انھیں نیکی پر ثواب دیا جائے نہ بدی پر سزا دی جائے۔﴿مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان کو حق کے ساتھ پیدا کیا۔‘‘ تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔ ﴿وَاَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’اور وقت مقرر تک۔‘‘ یعنی زمین و آسمان کی مدت اس وقت تک ہے جب تک کہ دنیا کی مدت ختم ہو کر قیامت قائم نہیں ہو جاتی، تب یہ زمین و آسمان بدل کر کوئی اور ہی آسمان و زمین بن جائیں گے۔ ﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمۡ لَكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور بلاشبہ بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کے قائل ہی نہیں۔‘‘ اسی لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی تیاری نہیں کی اور نہ انھوں نے ان رسولوں کی تصدیق کی جنھوں نے قیامت کے قائم ہونے کی خبر دی تھی۔
[9] ان کے اس کفر پر کوئی دلیل نہیں بلکہ اس کے برعکس قطعی دلائل قیامت اور جزا و سزا کے اثبات پر دلالت کرتے ہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں تنبیہ کی کہ وہ زمین میں چل پھر کر دیکھیں اور ان لوگوں کے انجام پر غور کریں جنھوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور ان کے حکم کی مخالفت کی۔ وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے اور ان سے زیادہ شاندار آثار چھوڑ گئے، مثلاً: انھوں نے محلات اور کارخانے بنائے، باغات اور کھیتیاں اگائیں اور نہریں کھودیں۔ مگر جب انھوں نے اپنے رسولوں کی، جو حق پر اور اپنی دعوت کی صحت پر واضح دلائل لے کر آئے تھے، تکذیب کی تو ان کی قوت ان کے کسی کام آئی نہ ان آثار نے انھیں کوئی فائدہ دیا... کیونکہ جب وہ ان کے آثار دیکھیں گے تو وہ دیکھیں گے کہ وہ قومیں ہلاک ہو کر صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں ان کے مسکن غیر آباد پڑے ہیں اور وہ مسلسل مخلوق کی مذمت کا نشانہ ہیں۔ یہ تو اس دنیا کی سزا ہے جو اخروی عذاب کی تمہید ہے۔ ان ہلاک شدہ قوموں کو ہلاک کر کے اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انھوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا اور اپنی ہلاکت کے اسباب مہیا کیے۔
[10]﴿ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِيۡنَ اَسَآءُوا السُّوۡٓاٰۤى ﴾ ’’ پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا۔‘‘ یعنی بہت قبیح اور بری حالت ہوئی اور یہ چیز ان کے لیے عذاب کی داعی بن گئی کہ ﴿كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَكَانُوۡا بِهَا يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’انھوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا۔‘‘ یہ ان کی برائیوں اور گناہوں کی سزا ہے، پھر یہ تمسخر اور تکذیب ان کے لیے سب سے بڑی سزا کا سبب بنے گی۔
30:11–16Page 405
ٱللَّهُ يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ ثُمَّ إِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ ١١
Allāh begins creation; then He will repeat it; then to Him you will be returned.
وَيَوۡمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يُبۡلِسُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ ١٢
And the Day the Hour appears the criminals will be in despair.
وَلَمۡ يَكُن لَّهُم مِّن شُرَكَآئِهِمۡ شُفَعَٰٓؤُاْ وَكَانُواْ بِشُرَكَآئِهِمۡ كَٰفِرِينَ ١٣
And there will not be for them among their [alleged] partners any intercessors, and they will [then] be disbelievers in their partners.
وَيَوۡمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يَوۡمَئِذٖ يَتَفَرَّقُونَ ١٤
And the Day the Hour appears - that Day they will become separated.
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَهُمۡ فِي رَوۡضَةٖ يُحۡبَرُونَ ١٥
And as for those who had believed and done righteous deeds, they will be in a garden [of Paradise], delighted.
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَلِقَآيِٕ ٱلۡأٓخِرَةِ فَأُوْلَٰٓئِكَ فِي ٱلۡعَذَابِ مُحۡضَرُونَ ١٦
But as for those who disbelieved and denied Our verses and the meeting of the Hereafter, those will be brought into the punishment [to remain].
اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کو ، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا اسے ، پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تم(11) اور جس دن قائم ہو گی قیامت مایوس ہوجائیں گے مجرم(12) اور نہیں ہوں گے ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی سفارشی، اور ہو جائیں گے وہ (خود بھی) اپنے شریکوں (معبودوں) کا انکار کرنے والے(13) اور جس دن قائم ہو گی قیامت، اس دن وہ (مومن اور کافر) الگ الگ ہو جائیں گے(14) پس لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک تو وہ باغ (بہشت) میں خوش حال کیے جائیں گے(15)اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو، پس یہی لوگ عذاب میں حاضر (داخل) کیے جائیں گے(16)
[13-11] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ مخلوقات کی ابتدا کرنے میں تنہا ہے اور وہی ان کی تخلیق کا اعادہ کرے گا۔ پھر اس اعادۂ تخلیق کے بعد تمام مخلوقات اسی کی طرف لوٹیں گی تاکہ وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے۔ اسی لیے اس نے پہلے بدکاروں کی بدی کی سزا کا ذکر کیا ، پھر نیکوکاروں کی نیکی کی جزا کا ذکر فرمایا:﴿وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ ﴾ ’’اور جس دن قیامت برپا ہوگی‘‘ اور لوگ رب العالمین کے حضور حاضر ہوں گے اور قیامت کو عیاں طور پر دیکھ لیں گے تو اس روز ﴿يُبۡلِسُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’گناہ گار ناامید ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اس کی وجہ یہ ہو گی کہ ان لوگوں نے اس روز کے لیے جرائم کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا ہوگا۔ جرائم سے مراد کفر، شرک اور دیگر بڑے بڑے گناہ ہیں۔چونکہ انھوں نے ایسے اعمال آگے روانہ کیے تھے جو عذاب کے موجب تھے اور ان کے پاس کوئی بھی ایسا عمل نہ تھا جو ثواب کا موجب ہوتا اس لیے وہ اعمال خیر کے اعتبار سے مفلس ہوں گے اور سخت مایوس ہوں گے۔ ان کی تمام افترا پردازیاں گم ہو جائیں گی، ان کے خود ساختہ معبود ان کو کوئی فائدہ دے سکیں گے نہ ان کی کوئی سفارش کر سکے گا۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ مِّنۡ شُرَؔكَآىِٕهِمۡ ﴾ ’’اور نہیں ہوگا ان کے لیے ان کے شریکوں میں سے کوئی بھی‘‘ جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کیا کرتے تھے۔ ﴿شُفَعٰٓؤُا وَؔكَانُوۡا بِشُرَؔكَآىِٕهِمۡ كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’سفارشی اور وہ اپنے شریکوں کا انکارکردیں گے۔‘‘ یعنی مشرکین اپنے ان خود ساختہ معبودوں سے بے زاری کا اظہار کریں گے جن کو انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا تھا اور معبود اپنے پجاریوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿تَبَرَّاۡنَاۤ اِلَيۡكَ١ٞ مَا كَانُوۡۤا اِيَّانَا يَعۡبُدُوۡنَ ﴾(القصص:28؍63) ’’(اے اللہ!) ہم تیرے سامنے براء ت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ہماری عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔‘‘ وہ اپنے آپ پر لعنت بھیجیں گے اور اللہ کی رحمت سے دور ہو جائیں گے۔
[16-14] اس روز اہل خیر اور اہل شر علیحدہ علیحدہ کھڑے ہوں گے جس طرح دنیا میں ان کے اعمال علیحدہ علیحدہ تھے۔﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے اس ایمان کی تصدیق کی ﴿فَهُمۡ فِيۡ رَوۡضَةٍ ﴾ ’’تو وہ باغ میں‘‘ جس میں ہر قسم کے درخت، پودے اور تمام دل پسند چیزیں ہوں گی ﴿يُّحۡبَرُوۡنَ ﴾ ’’خوش ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کو خوش رکھا جائے گا اور نعمتوں سے نوازا جائے گا ، مثلاً:نہایت لذیذ ماکولات و مشروبات، خوبصورت حوریں، خدام، خدمت گار لڑکے، طرب انگیز آوازیں، سرور انگیز نغمے، خوبصورت و خوش کن مناظر، بہترین خوشبوئیں، فرحت و سرور اور لذت و نعمت وغیرہ جن کے اوصاف بیان کرنے کی کوئی شخص قدرت نہیں رکھتا۔﴿وَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کیا، ان کے مقابلے میں کفر کیا ﴿وَؔكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور ہماری (ان) آیتوں کو جھٹلایا‘‘ جنھیں ہمارے رسول لے کر آئے تھے ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ لوگ عذاب میں ڈالے جائیں گے۔‘‘ جہنم ان کو ہر طرف سے گھیر لے گی، دردناک عذاب ان کے دلوں تک پہنچ جائے گا، ابلتا ہوا پانی ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ دونوں گروہوں کے درمیان کتنا فرق ہے؟ نعمتوں سے سرفراز اور عذاب میں مبتلا دونوں گروہوں کے مابین کہاں برابری ہے؟
30:17–19Page 406
فَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ حِينَ تُمۡسُونَ وَحِينَ تُصۡبِحُونَ ١٧
So exalted is Allāh when you reach the evening and when you reach the morning.
وَلَهُ ٱلۡحَمۡدُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَعَشِيّٗا وَحِينَ تُظۡهِرُونَ ١٨
And to Him is [due all] praise throughout the heavens and the earth. And [exalted is He] at night and when you are at noon.
يُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَيُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتَ مِنَ ٱلۡحَيِّ وَيُحۡيِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۚ وَكَذَٰلِكَ تُخۡرَجُونَ ١٩
He brings the living out of the dead and brings the dead out of the living and brings to life the earth after its lifelessness. And thus will you be brought out.1
پس تسبیح کرو اللہ کی جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو(17) اور اسی کے لیے ہیں تمام تعریفیں آسمانوں اور زمین میں اور سہ پہر کو اور جب تم ظہر کرو(18) وہ نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور وہی نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے، اور وہی زندہ (آباد) کرتا ہے زمین کو بعداس کی موت (ویرانی) کے، اور اسی طرح نکالے جاؤ گے تم بھی(19)
[17، 18] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اس حقیقت کی خبر ہے کہ وہ ہر برائی اور ہر نقص سے پاک اور منزہ ہے نیز وہ اس سے بھی منزہ اور پاک ہے کہ مخلوق میں سے کوئی اس کا مثیل ہو۔ اس نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ وہ صبح و شام، عشاء اور ظہر کے وقت اس کی تسبیح بیان کریں۔ یہ پانچ اوقات، پانچ نمازوں کے اوقات ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ان اوقات میں اس کی حمد و تسبیح بیان کریں۔ اس میں فرائض و واجبات بھی داخل ہیں جیسے نماز پنجگانہ اور مستحبات بھی شامل ہیں جیسے صبح و شام اور فرض نمازوں کے بعد اذکار و تسبیحات اور فرض نمازوں کے ساتھ والے نوافل (سنن موکدہ وغیرہ) کیونکہ یہ اوقات، جن کو اللہ تعالیٰ نے فرائض کی ادائیگی کے طور پر اپنے بندوں کے لیے منتخب کیا ہے، افضل ترین اوقات ہیں، اس لیے ان اوقات میں تسبیح و تحمید اور عبادات، دیگر اوقات کی نسبت زیادہ فضیلت کی حامل ہیں بلکہ ان اوقات میں عبادات، اگرچہ وہ ’’سبحان اللہ‘‘ پر مشتمل نہ بھی ہوں (وہ تسبیح و تحمید کے زمرے میں آئیں گی) کیونکہ عبادت کے اندر اخلاص عملی طورپر اللہ تعالیٰ کی اس بات سے تنزیہ ہے کہ عبادت میں اس کا کوئی شریک ہو یا جس اخلاص اور انابت کا اللہ تعالیٰ مستحق ہے اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی مستحق ہو۔
[19]﴿يُخۡرِجُ الۡحَيَّ مِنَ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’وہی زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے۔‘‘ جیسے زندہ نباتات مردہ زمین سے، خوشہ بیج کے دانے سے، درخت گٹھلی سے، چوزہ انڈے سے اور مومن کافر سے نکلتا ہے۔ ﴿وَيُخۡرِجُ الۡمَيِّتَ مِنَ الۡحَيِّ ﴾ ’’اور وہی مردہ کو زندہ سے نکالتا۔‘‘ متذکرہ بالا چیزوں کے برعکس ﴿وَيُحۡيِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ﴾ اللہ تعالیٰ زمین پر بارش برساتا ہے جبکہ زمین خشک اور مردہ پڑی ہوتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اس پر بارش برساتا ہے تو وہ لہلہا اٹھتی، پھول جاتی اور ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگاتی ہے۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ تُخۡرَجُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح تمھیں بھی نکالا جائے گا‘‘ تمھاری قبروں سے۔ یہ قطعی اور بہت بڑی دلیل و برہان ہے کہ وہ ہستی جس نے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندگی عطا کی، وہ مردوں کو زندہ کرے گی۔ عقل کے لحاظ سے دونوں امور کے مابین کوئی فرق نہیں، ایک چیز کے مشاہدے کے بعد دوسرے کے بعید ہونے کا کوئی موجب نہیں۔
30:20–21Page 406
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنۡ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٖ ثُمَّ إِذَآ أَنتُم بَشَرٞ تَنتَشِرُونَ ٢٠
And of His signs is that He created you from dust; then, suddenly you were human beings dispersing [throughout the earth].
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنۡ خَلَقَ لَكُم مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ أَزۡوَٰجٗا لِّتَسۡكُنُوٓاْ إِلَيۡهَا وَجَعَلَ بَيۡنَكُم مَّوَدَّةٗ وَرَحۡمَةًۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ ٢١
And of His signs is that He created for you from yourselves mates that you may find tranquility in them; and He placed between you affection and mercy. Indeed in that are signs for a people who give thought.
اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے پیدا کیا تمھیں مٹی سے، پھر ناگہاں تم انسان ہو، تم پھیل رہے ہو(زمین میں)(20) اور اس کی نشانیوں میں سے ہے یہ کہ اس نے پیدا کیں (بنائیں) تمھارے لیے، تمھارے نفسوں (تمھاری جنس) سے بیویاں تاکہ تم سکون حاصل کرو ان سے، اور پیدا کر دی ا س نے تمھارے درمیان محبت اور مہربانی ، بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں(21)
[20] یہاں سے وہ متعدد آیات شروع ہوتی ہیں جو الوہیت میں اللہ تعالیٰ کے یکتا ہونے، اس کی عظمت کے کمال، اس کی مشیت کے نفوذ، اس کی قوت و اقتدار، اس کی صنعت کے جمال اور اس کی بے پایاں رحمت و احسان پر دلالت کرتی ہیں۔ ﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهٖۤ اَنۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ﴾ ’’اور اسی کے نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا۔‘‘ یہ تھی نسل انسانی کے جدامجد، حضرت آدم u کی تخلیق ﴿ثُمَّ اِذَاۤ اَنۡتُمۡ بَشَرٌ تَنۡتَشِرُوۡنَ ﴾ ’’پھر اب تم انسان ہوکر جابجا پھیل رہے ہو۔‘‘ اور اس نے تمھیں زمین کے تمام گوشوں اور کناروں تک پھیلایا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جس ہستی نے تمھیں اس اصل سے تخلیق کیااور پھر تمھیں زمین کے کناروں تک پھیلایا، وہی ہستی رب معبود، قابل ستائش بادشاہ کائنات، نہایت مہربان اور محبت کرنے والا پروردگار ہے جو تمھیں موت کے بعد دوبارہ اٹھائے گا۔
[21]﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهٖۤ ﴾ اور اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی، جو اس کے بندوں پر اس کی رحمت، اس کی عنایت، اس کی عظیم حکمت اور اس کے علم محیط پر دلالت کرتی ہے، یہ ہے ﴿اَنۡ خَلَقَ لَكُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ اَزۡوَاجًا ﴾ ’’کہ اس نے تمھاری جنس ہی سے تمھارے جوڑے بنائے‘‘ جو تم سے مشابہت رکھتے ہیں اور تم ان سے مشابہت رکھتے ہو۔ ﴿لِّتَسۡكُنُوۡۤا اِلَيۡهَا وَجَعَلَ بَيۡنَكُمۡ مَّوَدَّةً وَّرَحۡمَةً ﴾ ’’تاکہ ان کی طرف آرام حاصل کرو اور تمھارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کردی‘‘ نکاح و ازدواج پر مترتب ہونے والے اسباب کے ذریعے سے جو محبت و مودت کے موجب ہیں۔ بیوی سے لذت تمتع، وجود اولاد کی منفعت، اولاد کی تربیت اور سکون حاصل ہوتا ہے۔ جس طرح شوہر اور بیوی کے درمیان محبت اور مودت ہوتی ہے غالب حالات میں آپ کبھی دو افراد کے درمیان اتنی محبت اور مودت نہیں پائیں گے ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَؔكَّـرُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک جو لوگ غوروفکر کرتے ہیں ان کے لیے ان باتوں میں نشانیاں ہیں۔‘‘ وہ اپنی عقل کو استعمال کر کے اللہ تعالیٰ کی آیات میں غوروفکر کرتے ہیں اور وہ استدلال کے ذریعے سے ایک چیز سے دوسری چیز تک پہنچ جاتے ہیں۔
30:22Page 406
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ خَلۡقُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَٰفُ أَلۡسِنَتِكُمۡ وَأَلۡوَٰنِكُمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّلۡعَٰلِمِينَ ٢٢
And of His signs is the creation of the heavens and the earth and the diversity of your languages and your colors. Indeed in that are signs for those of knowledge.
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے پیدا کرنا (بنانا) آسمانوں اور زمین کا، اور اختلاف تمھاری زبانوں اور تمھارے رنگوں کا بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانیاں ہیں علم والوں کے لیے(22)
[22] اہل علم وہ لوگ ہیں جو مقام عبرت کو سمجھتے ہیں اور آیات الٰہی میں تدبر کرتے ہیں۔ اس بارے میں بہت سی آیات وارد ہوئی ہیں۔ اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے اندر موجود ہے اسے پیدا کرنا ہے۔ یہ تخلیق اللہ تعالیٰ کی عظمت سلطان اور اس کے کامل اقتدار پر دلالت کرتی ہے جو ان بڑی بڑی مخلوقات کو وجود میں لایا نیز یہ تخلیق اللہ کی کامل حکمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ ان مخلوقات کی تخلیق میں کمال درجے کی مہارت اور وسعت علم پائی جاتی ہے کیونکہ خالق کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے بارے میں پورا علم رکھتا ہو۔ ﴿اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ﴾(الملک:67؍14) ’’بھلا جس نے پیدا کیا ہے وہ بے علم ہوسکتا ہے؟‘‘نیز یہ تخلیق اللہ تعالیٰ کی عمومی رحمت اور اس کے فضل و کرم پر دلالت کرتی ہے کیونکہ ان کی تخلیق میں منافع جلیلہ ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ارادے کا مالک ہے وہ جو چاہتا ہے خصوصیات کی بنا پر اس کو منتخب کر لیتا ہے۔ وہ اکیلا اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس کو ایک مانا جائے۔ چونکہ وہ تخلیق میں یکتا ہے اس لیے وہ مستحق ہے کہ وہ عبادت میں بھی یکتا ہو۔ یہ تمام عقلی دلائل ہیں، اللہ تعالیٰ نے عقل انسانی کو ان کی طرف توجہ دلائی ہے اور انھیں ان میں غوروفکر کرنے اور عبرت حاصل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ اسی طرح ﴿اخۡتِلَافُ اَلۡسِنَتِكُمۡ وَاَلۡوَانِكُمۡ﴾ ’’ تمھاری زبانوں اور رنگوں کا جدا جدا ہونا‘‘بھی نشانی ہے جو تمھاری کثرت اور ایک دوسرے سے جدا ہونے کی بنا پر ہے حالانکہ تمھاری اصل ایک اور حروف کے مخارج ایک ہیں۔ بایں ہمہ آپ دو آوازیں بھی ایسی نہیں پائیں گے جو ہر لحاظ سے ایک جیسی ہوں نہ دو رنگ ایسے پائیں گے جو ہر لحاظ سے مشابہت رکھتے ہوں آپ دونوں کے درمیان ضرور فرق پائیں گے جس کے ذریعے سے ان کے مابین امتیاز کیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور مشیت نافذہ پر دلالت کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر عنایت اور رحمت ہے کہ اس نے ان کے درمیان زبانوں اور رنگوں کا اختلاف پیدا کیا تاکہ ان میں تشابہ واقع نہ ہو جس کی بنا پر اضطراب پیدا ہو جائے اور بہت سے مقاصد و مطالب فوت ہو جائیں۔
30:23Page 406
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ مَنَامُكُم بِٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ وَٱبۡتِغَآؤُكُم مِّن فَضۡلِهِۦٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَسۡمَعُونَ ٢٣
And of His signs is your sleep by night and day and your seeking of His bounty. Indeed in that are signs for a people who listen.
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے سونا تمھارا رات اور دن میں اور تلاش کرنا تمھارا اس کے فضل کو، بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں(23)
[23] یعنی آیات و معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے تدبر و تفکر کے ساتھ سننے والوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔ یہ آیت کریمہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت پر دلالت کرتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمِنۡ رَّحۡمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ لِتَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾(القصص:28؍73) ’’یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم رات کے وقت سکون حاصل کرو اور دن میں اس کا فضل تلاش کرو اور شاید کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو۔‘‘ نیز یہ آیت کریمہ اس کی کامل حکمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ لوگ کسی وقت سکون حاصل کریں تاکہ وہ آرام کر سکیں اور کسی وقت اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے لیے زمین پر پھیل جائیں اور یہ مصالح اس وقت تک پورے نہیں ہوتے جب تک کہ رات اور دن ایک دوسرے کا تعاقب کرتے ہوئے نہ آئیں۔ جس اکیلی ہستی نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے لگایا ہے وہی اکیلی ہستی عبادت کی مستحق ہے۔
30:24Page 406
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ يُرِيكُمُ ٱلۡبَرۡقَ خَوۡفٗا وَطَمَعٗا وَيُنَزِّلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَيُحۡيِۦ بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَآۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ ٢٤
And of His signs is [that] He shows you the lightning [causing] fear and aspiration, and He sends down rain from the sky by which He brings to life the earth after its lifelessness. Indeed in that are signs for a people who use reason.
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ دکھاتا ہے تمھیں بجلی ڈر اور امیدکے لیے، اور وہی نازل کرتا ہے آسمان سے پانی، پس وہ زندہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے زمین کو بعد اس کی موت کے، بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں(24)
[24] یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ وہ تم پر بارش برساتا ہے جس سے زمین اور بندوں میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ بارش برسانے سے قبل وہ تمھیں اس کے مقدمات کا مشاہدہ کراتا ہے، مثلاً: بجلی کی چمک اور بجلی کی کڑک، جس سے امید وابستہ ہوتی ہے اور اس سے خوف بھی آتا ہے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں‘‘ جو اس کے بے پایاں احسان، لا محدود علم، کامل مہارت اور عظیم حکمت پر دلالت کرتی ہیں، نیز اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا جس طرح اس نے زمین کو اس کے مر جانے کے بعد زندگی بخشی ﴿لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں۔‘‘ وہ جو کچھ سنتے اور دیکھتے ہیں اس عقل کے ذریعے سے اسے سمجھنے اور یاد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ، پھر اس عقل کے ذریعے سے ان امور پر استدلال کرتے ہیں جن پر ان نشانیوں کو دلیل بنایا ہے۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences