As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
As-Sajdah 32:23–30
32:23–25Page 417
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ فَلَا تَكُن فِي مِرۡيَةٖ مِّن لِّقَآئِهِۦۖ وَجَعَلۡنَٰهُ هُدٗى لِّبَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ ٢٣
And We certainly gave Moses the Scripture, so do not be in doubt over his meeting.1 And We made it [i.e., the Torah] guidance for the Children of Israel.
وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ أَئِمَّةٗ يَهۡدُونَ بِأَمۡرِنَا لَمَّا صَبَرُواْۖ وَكَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يُوقِنُونَ ٢٤
And We made from among them leaders guiding by Our command when they were patient and [when] they were certain of Our signs.
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ ٢٥
Indeed, your Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning that over which they used to differ.
اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو کتاب ، پس نہ ہوں آپ شک میں اس (موسیٰ) کی ملاقات سے، اور کیا ہم نے اس (تورات) کو ہدایت (کا ذریعہ) واسطے بنی اسرائیل کے(23) اور بنائے ہم نے کچھ ان میں سے پیشوا، وہ رہنمائی کرتے تھے ہمارے حکم سے، جب انھوں نے صبر کیا اور تھے وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے (24) بلاشبہ آپ کا رب، وہ (ہی) فیصلہ کرے گا درمیان ان کے دن قیامت کے اس (معاملے) میں کہ تھے وہ اس میں اختلاف کرتے(25)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب اپنی ان آیات کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اس نے اپنے بندوں کو نصیحت کی، اور وہ قرآن مجید ہے جو اس نے نبی مصطفی حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمایا، تو اس بات کا تذکرہ فرمایا کہ یہ قرآن کوئی انوکھی کتاب ہے نہ اس کتاب کو لانے والا رسول کوئی انوکھا رسول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو کتاب دی تھی جو کہ تورات ہے وہ قرآن کی تصدیق کرتی ہے اور قرآن نے اس کی تصدیق کی ہے، دونوں کا حق ایک دوسرے کے مطابق اور موافق ہے اور دونوں کی دلیل ثابت ہے ﴿فَلَا تَكُنۡ فِيۡ مِرۡيَةٍ مِّنۡ لِّقَآىِٕهٖ﴾’’پس آپ اس کے ملنے سے شک میں نہ پڑنا۔‘‘ کیونکہ حق کے دلائل و براہین ثابت ہو چکے ہیں اس لیے شک و شبہے کا کوئی مقام نہیں۔﴿وَجَعَلۡنٰهُ ﴾ ’’اور ہم نے اس کو بنایا۔‘‘ یعنی اس کتاب کو جو ہم نے موسیٰ کو عطا کی ﴿هُدًى لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡ﴾ ’’بنی اسرائیل کے لیے ہدایت۔‘‘ یعنی وہ اپنے دین کے اصول و فروع میں اس کتاب سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔ اس کی شریعت اور قوانین صرف اسرائیلیوں کے لیے اور اس زمانے کے مطابق تھے... رہا یہ قرآن کریم تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے تمام انسانوں کے لیے ہدایت بنایا ہے کیونکہ یہ اپنے کامل اور عالی شان ہونے کی بنا پر قیامت تک کے لیے تمام مخلوق اور ان کے دینی اور دنیاوی امور میں راہنمائی عطا کرتا ہے۔ ﴿وَاِنَّهٗ فِيۡۤ اُمِّ الۡكِتٰبِ لَدَيۡنَا لَعَلِيٌّ حَكِيۡمٌ﴾(الزخرف:43؍4) ’’اور بے شک یہ لوح محفوظ میں درج ہے جو ہمارے ہاں بہت عالی مرتبہ، حکمت والی کتاب ہے۔‘‘
[24]﴿وَجَعَلۡنَا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے ان میں سے بنائے‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿اَىِٕمَّةً يَّهۡدُوۡنَ بِاَمۡرِنَا ﴾ ایسے علماء جو شریعت اور ہدایت کے راستوں کا علم رکھتے تھے۔ وہ خود ہدایت یافتہ تھے اور اس ہدایت کے ذریعے سے دوسروں کی راہنمائی کرتے تھے۔ جو کتاب ان کی طرف نازل کی گئی وہ سراسر ہدایت تھی اور اس پر ایمان رکھنے والے دو اقسام میں منقسم تھے: (۱) ائمہ، جو اللہ کے حکم سے راہنمائی کرتے تھے۔ (۲) جو ان ائمہ سے راہنمائی حاصل کرتے تھے۔پہلی قسم کے لوگ انبیاء و رسل کے بعد سب سے بلند درجے پر فائز ہیں اور یہ صدیقین کا درجہ ہے اور یہ بلند درجہ انھیں اس لیے حاصل ہوا کہ انھوں نے تعلیم و تعلم، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت اور اس کے راستے میں پیش آنے والی اذیتوں پر صبر کیا اور نفوس کو معاصی اور شہوات سے روکا۔ ﴿وَكَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ اور وہ آیات الٰہی پر ایمان میں درجۂ یقین پر پہنچ چکے تھے۔ یقین سے مراد وہ علم تام ہے جو عمل کا موجب ہے۔ وہ درجۂ یقین پر اس لیے پہنچے کہ انھوں نے صحیح طریقے سے علم حاصل کیا اور ان دلائل کے ذریعے سے مسائل کو اخذ کیا جو یقین کا فائدہ دیتے ہیں۔ وہ مسائل سیکھتے رہے اور کثرت دلائل سے ان پر استدلال کرتے رہے یہاں تک کہ وہ درجۂ یقین پر پہنچ گئے۔ پس صبر اور یقین کے ذریعے سے دین میں امامت کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔
[25] کچھ مسائل ایسے ہیں جن کے بارے میں بنی اسرائیل میں اختلاف واقع ہوا۔ ان میں سے کچھ لوگ صحیح راہ پر تھے اور کچھ عمداً یا غیر ارادی طور پر راہ صواب سے محروم تھے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’وہ ان کے درمیان ان باتوں میں جن کے متعلق وہ اختلاف کرتے تھے قیامت کے دن فیصلہ کردے گا۔‘‘ اور یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے کچھ مسائل کا ذکر کرتا ہے جن کی تصدیق قرآن کریم میں موجود ہے، وہی حق ہے، اس کے علاوہ وہ تمام اقوال جو اس کے خلاف ہیں، باطل ہیں۔
32:26–27Page 417
أَوَلَمۡ يَهۡدِ لَهُمۡ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِن قَبۡلِهِم مِّنَ ٱلۡقُرُونِ يَمۡشُونَ فِي مَسَٰكِنِهِمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٍۚ أَفَلَا يَسۡمَعُونَ ٢٦
Has it not become clear to them how many generations We destroyed before them, [as] they walk among their dwellings? Indeed in that are signs; then do they not hear?
أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا نَسُوقُ ٱلۡمَآءَ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ ٱلۡجُرُزِ فَنُخۡرِجُ بِهِۦ زَرۡعٗا تَأۡكُلُ مِنۡهُ أَنۡعَٰمُهُمۡ وَأَنفُسُهُمۡۚ أَفَلَا يُبۡصِرُونَ ٢٧
Have they not seen that We drive water [in clouds] to barren land and bring forth thereby crops from which their livestock eat and [they] themselves? Then do they not see?
کیا نہیں واضح ہوا ان کے لیے کہ کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں، چلتے (پھرتے) ہیں وہ ان کے گھروں میں، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں، کیا پس وہ نہیں سنتے؟(26)کیا نہیں دیکھا انھوں نے، بے شک ہم ہانک لے جاتے ہیں پانی طرف چٹیل زمین کی، پس نکالتے ہیں ہم اس کے ذریعے سے کھیتی، کھاتے ہیں اس سے چوپائے ان کے اور وہ خود بھی، کیا پس وہ نہیں دیکھتے؟(27)
[26] کیا رسول (ﷺ)کی تکذیب کرنے والے ان کفار پر واضح نہیں ہوا اور انھیں راہ صواب نہیں ملی کہ ﴿كَمۡ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنَ الۡقُرُوۡنِ ﴾ ’’ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کردیا۔‘‘ جو ان کی گمراہی کے مسلک پر گامزن تھے۔ ﴿يَمۡشُوۡنَ فِيۡ مَسٰكِنِهِمۡ ﴾ ’’ان کے مکانوں میں یہ چل پھر رہے ہیں‘‘ اور وہ عیاں طور پر ان کے مساکن کا مشاہدہ کرتے ہیں، مثلاً: قوم ہود، قوم صالح اور قوم لوط کے مساکن۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں‘‘ جن کے ذریعے سے وہ رسولوں کی صداقت اور شرک اور شر پر مبنی اپنے موقف کے بطلان پر استدلال کر سکتے ہیں نیز جو ان جیسے کرتوت کرے گا اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو گا جو ان لوگوں کے ساتھ ہوا تھا۔ نیز وہ اس پر بھی استدلال کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کے اعمال کی جزا دے گا اور حشر کے لیے ان کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ ﴿اَفَلَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ کیا وہ آیات الٰہی کو سن کر یاد نہیں رکھتے کہ ان سے فائدہ اٹھائیں۔ اگر ان کی سماعت صحیح ہوتی اور وہ عقل راجح سے بہرہ مند ہوتے تو اس حالت پر کبھی بھی قائم نہ رہتے جس میں ہلاکت یقینی ہے۔
[27]﴿اَوَلَمۡ يَرَوۡا ﴾ کیا انھوں نے اپنی کھلی آنکھوں کے ساتھ ہماری نعمت اور ہماری حکمت کاملہ کا مشاہدہ نہیں کیا؟ ﴿اَنَّا نَسُوۡقُ الۡمَآءَ اِلَى الۡاَرۡضِ الۡجُرُزِ﴾ ’’ہم بنجر زمین کی طرف پانی رواں کرتے ہیں۔‘‘ یعنی اس زمین کی طرف جو بے آب و گیاہ ہے اللہ تعالیٰ بارش کو لاتا ہے جو اس سے قبل موجود نہ تھی وہ اس زمین پر بادل برساتا ہے یا دریاؤ ں سے سیراب کرتا ہے۔ ﴿فَنُخۡرِجُ بِهٖ زَرۡعًا ﴾ پس ہم اس پانی کے ذریعے سے مختلف انواع کی نباتات اگاتے ہیں ﴿تَاۡكُلُ مِنۡهُ اَنۡعَامُهُمۡ ﴾ ’’جس میں سے ان کے چوپائے کھاتے ہیں۔‘‘ اس سے مراد مویشیوں کا چارہ ہے ﴿وَاَنۡفُسُهُمۡ ﴾’’اور وہ خود بھی‘‘ اس سے مراد آدمیوں کا کھانا ہے۔﴿اَفَلَا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ کیا وہ اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو دیکھتے نہیں جس کے ذریعے سے اس نے زمین اور بندوں کو زندگی بخشی؟ اگر وہ دیکھتے تو انھیں صاف نظر آتا اور اس بصارت اور بصیرت کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل کرتے، مگر ان پر اندھا پن غالب اور غفلت چھائی ہوئی ہے، لہٰذا انھوں نے اس بارے میں مردوں کی طرح نہیں دیکھا۔ بس انھوں نے اس کو غفلت کی نظر سے اور محض عادت کے طور پر دیکھا، اس لیے انھیں بھلائی کی توفیق نہیں ملی۔
32:28–30Page 417
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلۡفَتۡحُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٢٨
And they say, "When will be this conquest,1 if you should be truthful?"
قُلۡ يَوۡمَ ٱلۡفَتۡحِ لَا يَنفَعُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِيمَٰنُهُمۡ وَلَا هُمۡ يُنظَرُونَ ٢٩
Say, [O Muḥammad], "On the Day of Conquest the belief of those who had disbelieved will not benefit them, nor will they be reprieved."
فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَٱنتَظِرۡ إِنَّهُم مُّنتَظِرُونَ ٣٠
So turn away from them and wait. Indeed, they are waiting.
اور وہ کہتے ہیں: کب ہو گا یہ فیصلہ، اگر ہو تم سچے؟(28) کہہ دیجیے: دن فیصلے کے نہیں نفع دے گا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ایمان لانا ان کا اور نہ وہ مہلت دیے جائیں گے(29) پس آپ منہ پھیر لیں ان سے اور انتظار کریں، بلاشبہ وہ بھی منتظر ہیں (30)
[28] یعنی مجرم جہالت اور عناد کی بنا پر عذاب میں جلدی مچاتے ہیں جس کا ان کے ساتھ ان کے جھٹلانے کی پاداش میں وعدہ کیا گیا ہے۔ ﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰؔذَا الۡفَتۡحُ ﴾ ’’اور کہتے ہیں: یہ فیصلہ کب ہوگا؟‘‘ جو ہمارے اور تمھارے درمیان فیصلہ کر دے اور تمھارے زعم کے مطابق ہمیں عذاب میں مبتلا کر دے ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ اے رسول! اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو۔
[29]﴿قُلۡ يَوۡمَ الۡفَتۡحِ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ فیصلے کے دن‘‘ یعنی جس روز تمھیں عذاب دیا جائے گا تم اس روز سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکو گے۔ اگر تمھیں ایمان حاصل ہو جائے تو تمھیں مہلت کا ملناممکن ہے تاکہ جو چیز تمھارے ہاتھ سے نکل چکی ہے تم اس کی تلافی کر لو کیونکہ یقینی طورپر معاملہ ابھی تک تمھارے ہاتھ میں ہے۔ مگر جب فیصلے کا دن آئے گا تو تمام معاملہ ختم ہو جائے گا اور امتحان و ابتلا کا کوئی موقع باقی نہیں رہے گا، اس وقت ﴿لَا يَنۡفَعُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِيۡمَانُهُمۡ ﴾ ’’کافروں کو ان کاایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا۔‘‘ کیونکہ اس ایمان کی حیثیت اضطراری ایمان کی سی ہو گی۔ ﴿وَلَا هُمۡ يُنۡظَرُوۡنَ ﴾ اور نہ ان کو کوئی مہلت دی جائے گی کہ عذاب کو مؤخر کر دیا جائے اور یہ اپنے معاملے کو سدھار لیں۔
[30]﴿فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’پس آپ ان سے اعراض کریں۔‘‘ جب ان کا خطاب جہالت کی حدود کو چھونے لگے اور وہ عذاب کے لیے جلدی مچانے لگیں ﴿وَانۡتَظِرۡ ﴾اور اس عذاب کا انتظار کیجیے جو ان پر نازل ہونے والا ہے کیونکہ یہ عذاب ضرور نازل ہو گا، مگر اس کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آ جائے گا تو وہ آگے پیچھے نہیں ہو گا۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّنۡتَظِرُوۡنَ ﴾ وہ بھی آپ کے بارے میں شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں اور برے وقت کے منتظر ہیں حالانکہ اچھا انجام تقویٰ کا ہے۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences