As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Fatir 35:36–45
35:36–37Page 438
وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَهُمۡ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقۡضَىٰ عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوتُواْ وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُم مِّنۡ عَذَابِهَاۚ كَذَٰلِكَ نَجۡزِي كُلَّ كَفُورٖ ٣٦
And for those who disbelieve will be the fire of Hell. [Death] is not decreed for them1 so they may die, nor will its torment be lightened for them. Thus do We recompense every ungrateful one.
وَهُمۡ يَصۡطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَآ أَخۡرِجۡنَا نَعۡمَلۡ صَٰلِحًا غَيۡرَ ٱلَّذِي كُنَّا نَعۡمَلُۚ أَوَلَمۡ نُعَمِّرۡكُم مَّا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ وَجَآءَكُمُ ٱلنَّذِيرُۖ فَذُوقُواْ فَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِن نَّصِيرٍ ٣٧
And they will cry out therein, "Our Lord, remove us;1 we will do righteousness - other than what we were doing!" But did We not grant you life enough for whoever would remember therein to remember, and the warner had come to you? So taste [the punishment], for there is not for the wrongdoers any helper.
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان کے لیے آتش جہنم ہے، نہیں فیصلہ کیا جائے گا ان پر (موت کا) کہ وہ مر جائیں اور نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اس (جہنم) کا ، اسی طرح بدلہ (سزا) دیتے ہیں ہم ہر ناشکرے کو(36)اور وہ چلّائیں گے اس میں (اور کہیں گے) اے ہمارے رب! تو نکال ہم کو، (اب) ہم عمل کریں گے نیک، نہ کہ وہ جو تھے ہم عمل کرتے (پہلے)۔ (اللہ فرمائے گا) کیا نہیں عمر دی تھی ہم نے تمھیں اتنی کہ نصیحت پکڑ لیتا اس میں وہ شخص جو نصیحت حاصل کرنا چاہتا اور آیا تمھارے پاس ڈرانے والا(بھی) پس(اب)چکھو تم (عذاب) کہ نہیں ہے ظالموں کے لیے کوئی مددگار(37)
[36] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل جنت اور ان کو عطا کی جانے والی نعمتوں کا حال بیان کرنے کے بعد اہل جہنم اور ان کو دیے جانے والے عذاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ جنھوں نے آیات الٰہی کا جو رسول لے کر آئے تھے اور اپنے رب سے ملاقات کا انکار کیا۔ ﴿لَهُمۡ نَارُ جَهَنَّمَ ﴾ ’’ان کے لیے جہنم کی آگ ہے‘‘ جہاں انھیں نہایت سخت عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ ﴿لَا يُقۡضٰى عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’نہ تو ان کا قصہ پاک کیا جائے گا‘‘ موت کے ساتھ ﴿فَيَمُوۡتُوۡا﴾ ’’کہ وہ مر جائیں‘‘ اور آرام پا لیں ﴿وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُمۡ مِّنۡ عَذَابِهَا ﴾ ’’اور نہ ان کا عذاب ہی ان سے کم کیا جائے گا۔‘‘ پس ہر وقت اور ہر آن ان کے عذاب میں دائمی شدت رہے گی۔ ﴿كَذٰلِكَ نَجۡزِيۡ كُلَّ كَفُوۡرٍ﴾’’ہم ہر کافر کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔‘‘
[37]﴿وَهُمۡ يَصۡطَرِخُوۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’ اور وہ لوگ اس میں چلائیں گے‘‘ یعنی وہ جہنم میں چیخ و پکار کریں گے مدد کو پکاریں گے اور کہیں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا نَعۡمَلۡ صَالِحًا غَيۡرَ الَّذِيۡ كُنَّا نَعۡمَلُ ﴾ ’’ہمارے رب ہم کو نکال لے (اب) ہم نیک عمل کیا کریں گے برخلاف ان کاموں کے جو ہم کیا کرتے تھے۔‘‘ پس وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے اور انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں انصاف کیا ہے۔ وہ واپس لوٹنے کی خواہش کریں گے مگر اب وقت گزر گیا۔ان سے کہا جائے گا: ﴿اَوَلَمۡ نُعَمِّرۡؔكُمۡ مَّا ﴾ یعنی کیا ہم نے تمھیں ایک طویل عمر عطا نہیں کی تھی؟ ﴿ يَتَذَكَّـرُ فِيۡهِ مَنۡ تَذَكَّـرَ ﴾ جو کوئی اس طویل عرصہ میں نصیحت پکڑنا چاہتا وہ نصیحت پکڑ سکتا تھا۔ ہم نے تمھیں دنیا میں اسباب دنیا سے بہرہ ور کیا، تمھیں رزق عطا کیا، تمھارے لیے اسباب راحت مہیا کیے، تمھیں لمبی عمر عطا کی، تمھارے سامنے پے در پے اپنی نشانیاں ظاہر کیں، اور تمھارے پاس ڈرانے والے بھیجے اور تمھیں سختی اور نرمی کے ذریعے سے آزمایا گیا تاکہ تم ہماری طرف رجوع کرو اور ہماری طرف لوٹو۔مگر تمھیں کسی نصیحت اور انذار نے کوئی فائدہ نہ دیا۔ ہم نے تم سے عذاب کو مؤخر کر دیا حتی کہ تمھیں دی گئی مہلت پوری ہو گئی تمھاری عمریں اپنے اتمام کو پہنچیں، تم بدترین احوال کے ساتھ، دارالعمل سے نکل کر دارلجزا میں منتقل ہوئے، اب تم دنیا میں واپس لوٹنے کی درخواست کر رہے ہو۔ یہ بہت بعید ہے! اب عمل کا وقت گزر چکا، اب تو رحیم و رحمان کی ناراضی کا سامنا کرنا ہو گا، تم پر جہنم کی آگ بھڑکے گی اور اہل جنت نے تمھیں بھلا دیا۔ اب ہمیشہ کے لیے تم جہنم میں رہو اور ذلت اور رسوائی کے ساتھ عذاب بھگتو، اس لیے فرمایا:﴿فَذُوۡقُوۡا فَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ نَّصِيۡرٍ ﴾ ’’پس اب چکھو، ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔‘‘ جو ان کی مدد کر سکے اور ان کو اس عذاب سے نکال سکے یا اس عذاب میں تخفیف کر سکے۔
35:38Page 438
إِنَّ ٱللَّهَ عَٰلِمُ غَيۡبِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٣٨
Indeed, Allāh is Knower of the unseen [aspects] of the heavens and earth. Indeed, He is Knowing of that within the breasts.
بلاشبہ اللہ جانتا ہے پوشیدہ چیزیں آسمانوں اور زمین کی، بے شک وہ خوب جانتا ہے بھید (راز) سینوں کے(38)
[38] اللہ تعالیٰ نے اہل جنت اور اہل جہنم کی جزاوسزا اور ان کے اعمال کا ذکر کرنے کے بعد اپنی وسعت علم سے آگاہ فرمایا، نیز یہ کہ وہ آسمانوں اور زمین کے غیب سے مطلع ہے۔ ان امور غیبیہ کا علم رکھتا ہے جو مخلوق کے علم اور اس کی نظروں سے اوجھل ہیں وہ تمام بھیدوں کو جانتا ہے۔ سینوں میں جو اچھی یا بری باتیں چھپی ہوئی ہیں سب اس کے علم میں ہیں۔ وہ ہر ایک کو اس کے استحقاق کے مطابق جزا دے گا اور ہر ایک کے ساتھ اس کی قدر ومنزلت کے مطابق سلوک کرے گا۔
35:39Page 439
هُوَ ٱلَّذِي جَعَلَكُمۡ خَلَٰٓئِفَ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ فَمَن كَفَرَ فَعَلَيۡهِ كُفۡرُهُۥۖ وَلَا يَزِيدُ ٱلۡكَٰفِرِينَ كُفۡرُهُمۡ عِندَ رَبِّهِمۡ إِلَّا مَقۡتٗاۖ وَلَا يَزِيدُ ٱلۡكَٰفِرِينَ كُفۡرُهُمۡ إِلَّا خَسَارٗا ٣٩
It is He who has made you successors upon the earth. And whoever disbelieves - upon him will be [the consequence of] his disbelief. And the disbelief of the disbelievers does not increase them in the sight of their Lord except in hatred; and the disbelief of the disbelievers does not increase them except in loss.
وہی ہے جس نے بنایا تمھیں جانشین زمین میں، پس جس نے کفر کیا تو اسی پر (وبال) ہو گا اس کےکفر کا، اور نہیں زیادہ کرتا کافروں کو ان کا کفر نزدیک ان کے رب کے مگر ناراضی ہی میں اور نہیں زیادہ کرتا کافروں کو ان کا کفر مگر نقصان ہی میں(39)
[39] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی حکمت کاملہ اور بندوں پر اپنی رحمت سے آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنی قضا و قدر سے ان کو زمین کے اندر ایک دوسرے کا جانشین بنایا اور ہر قوم میں ڈرانے والے مبعوث کیے تاکہ وہ دیکھے کہ ان کے اعمال کیسے ہیں۔ پس جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی دعوت کا انکار کیا تو اس کے کفر اور گناہ کی سزا اسی کو ملے گی کوئی دوسرا اس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ کافر اپنے کفر سے اپنے رب کی ناراضی اور غضب میں اضافہ کرتا ہے۔ رب کریم کی ناراضی سے بڑھ کر اور کون سی سزا ہو سکتی ہے؟ ﴿وَلَا يَزِيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ كُفۡرُهُمۡ اِلَّا خَسَارًا ﴾ ’’اور کافروں کو ان کا کفر نقصان ہی میں زیادہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی ذات، اپنے گھر والوں، اپنے اعمال اور جنت میں اپنی منازل کے بارے میں گھاٹے میں رہیں گے۔ کفار ہمیشہ بدترین بدبختی، گھاٹے، اللہ تعالیٰ کے ہاں رسوائی اور اس کی مخلوق کے ہاں محرومیوں میں مبتلا رہیں گے۔
35:40Page 439
قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ شُرَكَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُواْ مِنَ ٱلۡأَرۡضِ أَمۡ لَهُمۡ شِرۡكٞ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ أَمۡ ءَاتَيۡنَٰهُمۡ كِتَٰبٗا فَهُمۡ عَلَىٰ بَيِّنَتٖ مِّنۡهُۚ بَلۡ إِن يَعِدُ ٱلظَّٰلِمُونَ بَعۡضُهُم بَعۡضًا إِلَّا غُرُورًا ٤٠
Say, "Have you considered1 your 'partners' whom you invoke besides Allāh? Show me what they have created from the earth, or have they partnership [with Him] in the heavens? Or have We given them a book so they are [standing] on evidence therefrom? [No], rather, the wrongdoers do not promise each other except delusion."2
کہہ دیجیے! خبر دو تم مجھے اپنے ان شریکوں(معبودوں) کی، وہ جنھیں تم پکارتے ہو، سوائے اللہ کے، دکھاؤ مجھے! کیا کچھ پیدا کیا انھوں نے زمین سے ، یا ان کا کوئی حصہ ہے آسمانوں (کی پیدائش) میں؟ یا دی ہے ہم نے ان کو کوئی کتاب، پس وہ اوپر کسی واضح دلیل کے ہیں اس میں سے؟بلکہ نہیں وعدہ دیتے ظالم، ( یعنی ) ان کے بعض بعض کو مگر دھوکے ہی کا (40)
[40] اللہ تبارک وتعالیٰ مشرکین کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی، ان کے نقص اور ہر لحاظ سے ان کے شرک کے بطلان کو واضح کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿قُلۡ ﴾ یعنی اے رسول! ان سے کہہ دیجیے: ﴿اَرَءَيۡتُمۡ ﴾ مجھے اپنے شریکوں کے بارے میں آگاہ کرو ﴿شُرَؔكَآءَكُمُ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔‘‘ کیا وہ دعا اور عبادت کے مستحق ہیں؟ ﴿اَرُوۡنِيۡ مَاذَا خَلَقُوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’مجھے دکھاؤ انھوں نے زمین سے کون سی چیز پیدا کی ہے؟‘‘ آیا انھوں نے سمندروں کو پیدا کیا ہے یا پہاڑوں کو؟ انھوں نے حیوانات کو پیدا کیا ہے یا جمادات کو؟ وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ ان تمام چیزوں کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ کیا تمھارے خود ساختہ شریکوں کے لیے ﴿فِي السَّمٰوٰتِ ﴾ آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں کوئی حصہ ہے؟ وہ یہی جواب دیں گے کہ تخلیق و تدبیر کائنات میں ان کا کوئی حصہ نہیں… جب ان خود ساختہ معبودوں نے کوئی چیز پیدا کی ہے نہ خالق کی تخلیق میں یہ شریک ہیں تو پھر تم ان کی بے بسی کا اقرار کرنے کے باوجود ان کو کیوں پکارتے اور ان کی کیوں عبادت کرتے ہو؟ پس ان کی عبادت کے جواز کی دلیل ختم ہو گئی اور ان کی عبادت کا بطلان ثابت ہو گیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی عبادت کے جواز کی سمعی دلیل کا ذکر کرتے ہوئے اس کا بھی ابطال فرمایا:﴿اَمۡ اٰتَيۡنٰهُمۡ كِتٰبًا ﴾ ’’کیا ہم نے انھیں کوئی کتاب دی ہے‘‘ جو ان کے شرک کو جائز قرار دیتی ہو یا انھیں شرک اور بتوں کی عبادت کا حکم دیتی ہو ﴿فَهُمۡ ﴾ اور وہ اپنے شرک کے بارے میں ﴿عَلٰى بَيِّنَتٍ ﴾ کسی دلیل پر ہوں یعنی اس نازل شدہ کتاب میں کوئی ایسی چیز ہو جو شرک کے جواز اور اس کے صحیح ہونے کو ثابت کرتی ہو؟معاملہ ایسے نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں کی گئی اور نہ محمد مصطفیٰ ﷺ سے قبل ان کی طرف کوئی رسول ہی مبعوث کیا گیا ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ ان پر کوئی کتاب نازل کی گئی ہے اور ان کی طرف کوئی رسول مبعوث کیا گیا ہے جس نے ان کے زعم کے مطابق، انھیں شرک کا حکم دیا ہے، تب بھی ہمیں قطعی یقین ہے کہ یہ جھوٹ کہتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ ﴾(الانبیاء:21؍25) ’’اور ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجا ہم نے اس کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس صرف میری عبادت کرو۔‘‘ لہذا تمام انبیاء و مرسلین اور تمام آسمانی کتابیں اس امر پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دین میں اخلاص کا حکم دیا ہے۔ ﴿وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ﴾(البینۃ:98؍5) ’’اور انھیں صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ یکسو ہو کر اور دین کو صرف اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں۔‘‘ اگر یہ کہا جائے کہ جب عقلی اور نقلی دلائل شرک کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں تب وہ کون سی چیز ہے جو مشرکین کو شرک پر آمادہ کرتی ہے حالانکہ ان کے اندر عقل مند اور ذہین و فطین لوگ بھی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا: ﴿بَلۡ اِنۡ يَّعِدُ الظّٰلِمُوۡنَ بَعۡضُهُمۡ بَعۡضًا اِلَّا غُرُوۡرًا ﴾ ’’بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے سے نرے دھوکے کی باتوں کا وعدہ کرتے ہیں‘‘ یعنی یہ وہ مسلک ہے جس پر گامزن ہونے والے لوگوں کے پاس کوئی دلیل نہیں، محض ایک دوسرے کو اس کی تلقین کرتے ہیں، ایک دوسرے کی باتوں کو آراستہ کرتے ہیں، متاخرین گمراہ متقدمین کی اقتدا کرتے ہیں، یہ جھوٹی آرزوئیں ہیں جو شیاطین انھیں دلاتے ہیں اور ان کے برے اعمال ان کے سامنے سجاتے ہیں۔ یہ برے اعمال ان کے قلوب میں جڑ پکڑ لیتے ہیں اور ان کی صفت بن جاتے ہیں تب ان کو زائل اور ختم کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور کفر اور شرک پر جمے رہنے سے وہ نتائج حاصل ہوتے ہیں جو سامنے ہیں۔
35:41Page 439
۞ إِنَّ ٱللَّهَ يُمۡسِكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ أَن تَزُولَاۚ وَلَئِن زَالَتَآ إِنۡ أَمۡسَكَهُمَا مِنۡ أَحَدٖ مِّنۢ بَعۡدِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ كَانَ حَلِيمًا غَفُورٗا ٤١
Indeed, Allāh holds the heavens and the earth, lest they cease. And if they should cease, no one could hold them [in place] after Him. Indeed, He is Forbearing1 and Forgiving.
بلاشبہ اللہ ہی تھامے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو اس بات سے کہ وہ ٹل جائیں (اپنی جگہ سے) اور البتہ اگر وہ دونوں ٹل جائیں تو نہیں روک سکے گا ان کو کوئی بھی اس کے بعد، بلاشبہ وہ ہے بڑا بردبار، بہت بخشنے والا(41)
[41] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے کمال قدرت، بے پایاں رحمت اور وسعت حلم و مغفرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز یہ کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روک رکھا ہے، اگر وہ ٹل جائیں تو اس کی مخلوق میں سے کوئی ہستی ایسی نہیں جو انھیں روک سکے۔ ان کی طاقت اور ان کے قویٰ ان کے بارے میں عاجز آ جائیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا کہ زمین و آسمان ویسے ہی رہیں جیسے وجود میں لائے گئے تاکہ مخلوق کو استقرار، فائدہ اور عبرت حاصل ہو، نیز وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت سلطان، قوت اور قدرت کو جان لیں اور ان کے دل اللہ کے جلال و تعظیم اور محبت و تکریم سے لبریز ہوں اور تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے گناہ گاروں کو مہلت عطا ہونے اور نافرمانوں کو سزا دینے میں عدم عجلت کی بنا پر جان لیں کہ وہ کامل حلم و حکمت کا مالک ہے حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ آسمان کو حکم دے تو ان پر پتھروں کی بارش برسا دے اور اگر اللہ تعالیٰ زمین کو حکم دے تو وہ ان کو نگل جائے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں مغفرت اور اس کا حلم و کرم ان پر سایہ کناں ہے ﴿اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًا ﴾ ’’بے شک وہ بہت بردبار معاف کرنے والا ہے۔‘‘
35:42–43Page 439
وَأَقۡسَمُواْ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡ لَئِن جَآءَهُمۡ نَذِيرٞ لَّيَكُونُنَّ أَهۡدَىٰ مِنۡ إِحۡدَى ٱلۡأُمَمِۖ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ نَذِيرٞ مَّا زَادَهُمۡ إِلَّا نُفُورًا ٤٢
And they swore by Allāh their strongest oaths that if a warner came to them, they would be more guided than [any] one of the [previous] nations. But when a warner came to them, it did not increase them except in aversion
ٱسۡتِكۡبَارٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَكۡرَ ٱلسَّيِّيِٕۚ وَلَا يَحِيقُ ٱلۡمَكۡرُ ٱلسَّيِّئُ إِلَّا بِأَهۡلِهِۦۚ فَهَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ ٱلۡأَوَّلِينَۚ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَبۡدِيلٗاۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ ٱللَّهِ تَحۡوِيلًا ٤٣
[Due to] arrogance in the land and plotting of evil; but the evil plot does not encompass except its own people. Then do they await except the way [i.e., fate] of the former peoples? But you will never find in the way [i.e., established method] of Allāh any change, and you will never find in the way of Allāh1 any alteration.2
اور قسمیں کھائیں انھوں نے اللہ کی پختہ قسمیں اپنی، البتہ اگر آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا تو ضرور ہوں گے وہ زیادہ ہدایت یافتہ ہر ایک امت سے پس جب آیا ان کے پاس ڈرانے والا تو نہیں زیادہ کیا(اس نے) ان کو مگر نفرت ہی میں(42)تکبر کی وجہ سے زمین میں اور بری تدبیر (کی وجہ سے) اور نہیں گھیرتی بری تدبیر مگر ا س کے کرنے والے ہی کو، پس وہ نہیں انتظار کرتے مگر (اللہ کے) طریقے کا پہلے لوگوں کے (بارے میں)پس ہرگزنہ پائیں گے آپ اللہ کے طریقے کا بدلنا اور ہرگز نہ پائیں گے آپ طریقۂ الٰہی کا ٹلنا(43)
[42] اے اللہ کے رسول! آپ کی تکذیب کرنے والے یہ لوگ پکی قسمیں کھاتے تھے کہ ﴿لَىِٕنۡ جَآءَهُمۡ نَذِيۡرٌ لَّـيَكُوۡنُنَّ اَهۡدٰؔى مِنۡ اِحۡدَى الۡاُمَمِ ﴾ ’’اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آئے تو وہ ہر ایک امت سے بڑھ کر ہدایت یافتہ ہونگے۔‘‘ یعنی وہ یہودونصاریٰ (اہل کتاب) سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوں گے مگر انھوں نے اپنی قسموں اور عہد کو پورا نہ کیا ﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ ﴾ ’’ چنانچہ جب ڈرانے والا ان کے پاس آ گیا‘‘ تو ان امتوں میں سے کسی بھی امت سے زیادہ ہدایت یافتہ نہ ہوئے بلکہ وہ اپنی گمراہی پر جمے رہے بلکہ ﴿مَّا زَادَهُمۡ ﴾ ’’نہیں زیادہ کیا ان کو‘‘ اس گمراہی نے ﴿اِلَّا نُفُوۡرَاِۨ﴾ ’’مگر نفرت ہی میں‘‘ ان کے اس رویے نے ان کی گمراہی، بغاوت اور عناد کو اور بڑھا دیا۔
[43] ان کا یہ قسمیں اٹھانا کسی اچھے مقصد اور طلب حق کے لیے نہ تھا، اگر ایسا ہوتا تو ان کو ضرور اس کی توفیق عطا کر دی جاتی لیکن ان کا قسمیں اٹھانا تومخلوق اور حق کے مقابلے میں زمین پر تکبر کرنے اور اپنی بات میں مکر وفریب کرنے سے صادر ہوا تھا۔ ان کا مقصد محض فریب کاری تھا اور یہ ظاہر کرنا تھا کہ وہ تو اہل حق اور حق کے متلاشی ہیں تو سادہ لوح لوگ ان کے فریب میں مبتلا ہو کر ان کے پیچھے چل پڑے۔ ﴿وَلَا يَحِيۡقُ الۡمَؔكۡرُ السَّيِّئُ ﴾ ’’اور نہیں پڑتا وبال بری چال کا‘‘ جس کا مقصد برا مقصد اور جس کا انجام برا اور باطل ہے ﴿اِلَّا بِاَهۡلِهٖ﴾ ’’مگر بری چال چلنے والوں ہی پر‘‘ ان کا مکروفریب انھی کی طرف لوٹے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان باتوں اور ان قسموں کے بارے میں اپنے بندوں کے سامنے واضح کر دیا ہے کہ وہ جھوٹے اور فریب کار ہیں پس اس سے ان کی رسوائی واضح، ان کی فضیحت نمایاں اور ان کا برا مقصد ظاہر ہو گیا۔ ان کا مکروفریب ان ہی کی طرف لوٹ گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے مکروفریب کو ان کے سینوں کی طرف لوٹا دیا۔ ان کے لیے کوئی حیلہ باقی نہ رہا سوائے اس کے کہ ان پر وہ عذاب نازل ہو جائے جو ان سے پہلے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے۔ جس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں۔ جو کوئی ظلم، عناد اور مخلوق کے ساتھ تکبر کے راستے پر گامزن ہو گا وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دے گا اور اس کی نعمتوں سے محروم ہو جائے گا، لہٰذا ان قوموں کے ساتھ جو کچھ ہوا، ان کو اس پر نظر رکھنی چاہیے۔
35:44–45Page 439
أَوَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ وَكَانُوٓاْ أَشَدَّ مِنۡهُمۡ قُوَّةٗۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعۡجِزَهُۥ مِن شَيۡءٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَلِيمٗا قَدِيرٗا ٤٤
Have they not traveled through the land and observed how was the end of those before them? And they were greater than them in power. But Allāh is not to be caused failure [i.e., prevented] by anything in the heavens or on the earth. Indeed, He is ever Knowing and Competent.
وَلَوۡ يُؤَاخِذُ ٱللَّهُ ٱلنَّاسَ بِمَا كَسَبُواْ مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهۡرِهَا مِن دَآبَّةٖ وَلَٰكِن يُؤَخِّرُهُمۡ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗىۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِعِبَادِهِۦ بَصِيرَۢا ٤٥
And if Allāh were to impose blame on the people for what they have earned, He would not leave upon it [i.e., the earth] any creature. But He defers them for a specified term. And when their time comes, then indeed Allāh has ever been, of His servants, Seeing.
کیا نہیں چلے پھرے وہ زمین میں کہ دیکھتے وہ، کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے، اور تھے وہ زیادہ سخت ان سے قوت میں اور نہیں ہے اللہ کہ عاجز کر دے اس کو کوئی چیز آسمانوں میں اور نہ (کوئی چیز) زمین میں، بلاشبہ ہے وہ خوب جاننے والا، خوب قدرت والا(44) اور اگر مؤاخذہ کرے اللہ لوگوں کا بہ سبب اس کے جو انھوں نے کمایا تو نہ چھوڑے وہ اس (زمین) کی پشت پر کوئی چلنے والا جاندار، اور لیکن وہ ڈھیل دیتا ہے ان کو ایک وقت مقرر تک، پس جب آ جائے گا ان کا وقت مقرر تو بلاشبہ اللہ ہے اپنے بندوں کو خوب دیکھنے والا(45)
[44] اللہ تعالیٰ لوگوں کو ترغیب دیتا ہے کہ محض غفلت کے ساتھ نہیں بلکہ عبرت حاصل کرنے کے لیے اپنے قلب و بدن کے ساتھ زمین میں چلیں پھریں اور دیکھیں کہ ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کا کیا انجام ہوا جنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی، جو ان سے زیادہ مال اور اولاد رکھنے والے اور ان سے زیادہ طاقتور تھے، جنھوں نے ان سے زیادہ زمین کو آباد کیا، جب ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تو ان کی قوت نے انھیں کوئی فائدہ نہ دیا اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کا مال اور اولاد کسی کام نہ آئے، اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت ان میں نافذ ہو کر رہی۔ ﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعۡجِزَهٗ مِنۡ شَيۡءٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اللہ ایسا نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز اسے عاجز کر سکے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کامل علم اور کامل قدرت کا مالک ہے۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَلِيۡمًا قَدِيۡرًا ﴾ ’’بے شک وہ جاننے والا قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘
[45] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے کامل حلم اور گناہ گاروں اور ارباب جرائم کو دی ہوئی ڈھیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَوۡ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوۡا﴾ ’’اور لوگوں نے جو گناہ کیے اگر اللہ تعالیٰ ان پر ان کا مواخذہ کرتا‘‘ ﴿مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهۡرِهَا مِنۡ دَآبَّةٍ ﴾ ’’تو روئے زمین پر ایک جاندار کو بھی نہ چھوڑتا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو پوری سزا دیتا اور اس سزا کی سختی کا یہ حال ہوتا کہ غیر مکلف حیوانات بھی اس سے نہ بچتے۔ ﴿وَّلٰكِنۡ ﴾ مگر اللہ تعالیٰ ان کو مہلت دیتا ہے مہمل نہیں چھوڑتا۔ ﴿يُّؤَخِّرُهُمۡ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمۡ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيۡرًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ان کو ایک وقت مقررہ تک مہلت دے رہا ہے ، پھر جب ان کا وقت آ جائے گا تو بے شک اللہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ پس اللہ اپنے علم کے مطابق ان کے اچھے اور برے اعمال کی جزا دے گا۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences