As-Sa'diAs‑Saffat · 37:123–166

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

As-Saffat 37:123–166

37:123–132Page 450

وَإِنَّ إِلۡيَاسَ لَمِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ١٢٣

And indeed, Elias was from among the messengers,

إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦٓ أَلَا تَتَّقُونَ ١٢٤

When he said to his people, "Will you not fear Allāh?

أَتَدۡعُونَ بَعۡلٗا وَتَذَرُونَ أَحۡسَنَ ٱلۡخَٰلِقِينَ ١٢٥

Do you call upon Baʿl1 and leave the best of creators -

ٱللَّهَ رَبَّكُمۡ وَرَبَّ ءَابَآئِكُمُ ٱلۡأَوَّلِينَ ١٢٦

Allāh, your Lord and the Lord of your first forefathers?"

فَكَذَّبُوهُ فَإِنَّهُمۡ لَمُحۡضَرُونَ ١٢٧

And they denied him, so indeed, they will be brought [for punishment],

إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلۡمُخۡلَصِينَ ١٢٨

Except the chosen servants of Allāh.

وَتَرَكۡنَا عَلَيۡهِ فِي ٱلۡأٓخِرِينَ ١٢٩

And We left for him [favorable mention] among later generations:

سَلَٰمٌ عَلَىٰٓ إِلۡ يَاسِينَ ١٣٠

"Peace upon Elias."1

إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ ١٣١

Indeed, We thus reward the doers of good.

إِنَّهُۥ مِنۡ عِبَادِنَا ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ١٣٢

Indeed, he was of Our believing servants.

اور بے شک الیاس (بھی) البتہ رسولوں میں سے تھا (123) جب کہا اس نے اپنی قوم سے، کیا نہیں تم ڈرتے؟ (124) کیا تم پکارتے ہو بعل (بت) کو اورچھوڑ دیتے ہو تم سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو (125) اللہ کو، (جو) رب ہے تمھارا اور رب ہے تمھارے پہلے باپ دادوں کا (126) پس جھٹلایا انھوں نے اس کو، بے شک وہ (سب) البتہ حاضر کیے جائیں گے (127) سوائے بندگانِ الٰہی کے(جو) خالص کیے (چنے) ہوئے ہیں (128) اورچھوڑا ہم نے اوپر اس کےپچھلے لوگوں میں(129) کہ سلام ہو ا لیا سین پر(130) بے شک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (131) بے شک وہ (تھا) ہمارے مومن بندوں میں سے(132)

[132-123]اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے اور رسول حضرت الیاسu کی مدح کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے انھیں نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا۔ حضرت الیاسu نے اپنی قوم کو تقویٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا، انھیں ’’بعل‘‘ کے بت کی عبادت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑنے سے روکا، جس نے انھیں بہترین طریقے سے تخلیق فرمایا، بہترین طریقے سے ان کی تربیت کی اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بہرہ مند کیا۔ جس کی یہ شان ہو، تم اس اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر، اس بت کی عبادت کیسے کرتے ہو جو کسی نقصان کی قدرت رکھتا ہے نہ نفع کی، جو کچھ پیدا کر سکتا ہے نہ کسی کو رزق عطا کر سکتا ہے بلکہ اس کی حالت تو یہ ہے کہ وہ کھا سکتا ہے نہ بول سکتا ہے، کیا اس کی عبادت کرنا سب سے بڑی گمراہی اور سب سے بڑی حماقت نہیں۔﴿فَكَذَّبُوۡهُ ﴾ انھوں نے حضرت الیاسu کی دعوت کو جھٹلایا اور ان کی اطاعت نہ کی ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَاِنَّهُمۡ لَمُحۡضَرُوۡنَ﴾ یعنی قیامت کے روز انھیں عذاب میں ڈالا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کے لیے دنیاوی عذاب کا ذکر نہیں فرمایا۔ ﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ جن کو اللہ تعالیٰ نے اخلاص اور اپنے نبی کی اطاعت سے بہرہ ور کیا، ان کو عذاب میں مبتلا نہیں کیا جائے گا، ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑے ثواب سے نوازا جائے گا۔ ﴿وَتَرَؔكۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ یعنی الیاسu کے لیے چھوڑ دیا ﴿فِي الۡاٰخِرِيۡنَ﴾ یعنی آنے والے لوگوں میں ان کے لیے ثنائے حسن کو باقی رکھا ﴿سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلۡ يَاسِيۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کی طرف سے الیاس پر سلام ہے ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۰۰اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے الیاسu کی اسی طرح مدح و ثنا بیان کی جس طرح دیگر انبیاء و مرسلینi کو مدح و ثنا سے نوازا۔

37:133–138Page 451

وَإِنَّ لُوطٗا لَّمِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ١٣٣

And indeed, Lot was among the messengers.

إِذۡ نَجَّيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥٓ أَجۡمَعِينَ ١٣٤

[So mention] when We saved him and his family, all,

إِلَّا عَجُوزٗا فِي ٱلۡغَٰبِرِينَ ١٣٥

Except an old woman [i.e., his wife] among those who remained [with the evildoers].

ثُمَّ دَمَّرۡنَا ٱلۡأٓخَرِينَ ١٣٦

Then We destroyed the others.

وَإِنَّكُمۡ لَتَمُرُّونَ عَلَيۡهِم مُّصۡبِحِينَ ١٣٧

And indeed, you pass by them in the morning

وَبِٱلَّيۡلِۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ ١٣٨

And at night. Then will you not use reason?

اور بلاشبہ لوط البتہ رسولوں میں سے تھا (133) جب نجات دی ہم نے اس کو اور اس کے اہل کو سب کو (134) سوائے ایک بڑھیا کے(جو تھی) پیچھے رہ جانے والوں میں (135) پھر ہلاک کر دیا ہم نے دوسروں کو (136) اور بے شک تم البتہ گزرتے ہو، ان (کے گھروں) پر صبح کے وقت (137) اور رات میں، کیا پس نہیں تم عقل رکھتے؟ (138)

[138-133] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے اور رسول حضرت لوطu کی مدح و ثنا ہے کہ اس نے آپ کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے منصب پر سرفراز فرمایا، نیز یہ کہ آپ نے اپنی قوم کو شرک اور فواحش سے روکا جب وہ شرک اور فواحش سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوطu اور ان کے گھر والوں کو ان بداعمال لوگوں سے بچا لیا اور وہ راتوں رات نکل گئے۔ ﴿اِلَّا عَجُوۡزًا فِي الۡغٰؔبِرِيۡنَ ﴾سوائے ایک بڑھیا کے، جو عذاب کی لپیٹ میں آنے والوں کے ساتھ شامل تھی۔ یہ لوطu کی بیوی تھی اور آپ کے دین پر نہ تھی۔﴿ثُمَّ دَمَّرۡنَا الۡاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’ پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستیوں کو الٹ دیا: ﴿جَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ١ۙ۬ مَّنۡضُوۡدٍ﴾(ہود: 11؍82)’’ہم نے ان کی بستی کو تلپٹ کر دیا اور ان پر کھنگر کے پتھر برسائے۔‘‘ حتی کہ ان کا نام و نشان مٹ گیا۔﴿وَاِنَّـكُمۡ لَتَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهِمۡ ﴾ یعنی قوم لوط کی بستیوں پر سے تمھارا گزر ہوتا ہے ﴿مُّصۡبِحِيۡنَ۰۰ وَبِالَّيۡلِ ﴾ ’’دن کو بھی اور رات کو بھی۔‘‘ یعنی ان اوقات میں، نہایت کثرت سے تم وہاں سے گزرتے ہو، ان بستیوں کے بارے میں کوئی شک نہیں۔ ﴿اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ کیا تم آیات کو سمجھتے نہیں؟ اور کیا تم ان اعمال سے رکتے نہیں جو ہلاکت کے موجب ہیں۔

37:139–148Page 451

وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ١٣٩

And indeed, Jonah was among the messengers.

إِذۡ أَبَقَ إِلَى ٱلۡفُلۡكِ ٱلۡمَشۡحُونِ ١٤٠

[Mention] when he ran away to the laden ship.

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ ٱلۡمُدۡحَضِينَ ١٤١

And he drew lots1 and was among the losers.

فَٱلۡتَقَمَهُ ٱلۡحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٞ ١٤٢

Then the fish swallowed him, while he was blameworthy.1

فَلَوۡلَآ أَنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلۡمُسَبِّحِينَ ١٤٣

And had he not been of those who exalt Allāh,

لَلَبِثَ فِي بَطۡنِهِۦٓ إِلَىٰ يَوۡمِ يُبۡعَثُونَ ١٤٤

He would have remained inside its belly until the Day they are resurrected.1

۞ فَنَبَذۡنَٰهُ بِٱلۡعَرَآءِ وَهُوَ سَقِيمٞ ١٤٥

But We threw him onto the open shore while he was ill.

وَأَنۢبَتۡنَا عَلَيۡهِ شَجَرَةٗ مِّن يَقۡطِينٖ ١٤٦

And We caused to grow over him a gourd vine.1

وَأَرۡسَلۡنَٰهُ إِلَىٰ مِاْئَةِ أَلۡفٍ أَوۡ يَزِيدُونَ ١٤٧

And We sent him1 to [his people of] a hundred thousand or more.

فَـَٔامَنُواْ فَمَتَّعۡنَٰهُمۡ إِلَىٰ حِينٖ ١٤٨

And they believed, so We gave them enjoyment [of life] for a time.

اور بے شک یونس البتہ رسولوں میں سے تھا(139) جب وہ بھاگ کر گیا طرف کشتی بھری ہوئی کے (140) پس قرعہ اندازی کی(اہل کشتی نے) تو ہو گیا وہ شکست خوردگان میں سے (141) پس نگل لیا اس کو مچھلی نے جبکہ وہ (خودکو) ملامت کرنے والا تھا (142) پس اگر نہ ہو تی یہ بات کہ بے شک تھا وہ تسبیح کرنے والوں میں سے (143) تو رہتا وہ اس کےپیٹ میں اس دن تک کہ اٹھائے جائیں گے لوگ زندہ کر کے (اس میں)(144) پس ڈال دیا ہم نے اسے چٹیل میدان میں، اس حال میں کہ وہ بیمار تھا (145) اور اگا دیا ہم نے اس پر ایک درخت بیل دار(جیسے کدو وغیرہ کی بیل)(146) اور بھیجا ہم نے اس کو طرف ایک لاکھ کی یا (اس سے کچھ) زیادہ ہوں گے (147) پس وہ ایمان لے آئے تو ہم نے فائدہ (اٹھانے کا موقع) دیا ان کو ایک وقت (مقرر) تک (148)

[139] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اپنے بندے اور رسول یونس بن متیu کی مدح و ثنا ہے، جیسا کہ اس نے آپ کے بھائی دیگر انبیاء و مرسلین کو نبوت، رسالت اور دعوت الی اللہ کے ذریعے سے مدح و ثنا سے نوازا۔

[140] اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے حضرت یونسu کو دنیاوی عقوبت میں مبتلا کیا، پھر آپ کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے آپ کو اس عذاب سے نجات دی۔ ﴿اِذۡ اَبَقَ ﴾ ’’جب بھاگے‘‘یعنی اپنے رب سے ناراض ہو کر یہ سمجھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مچھلی کے پیٹ میں محبوس کرنے کی قدرت نہیں رکھتا کشتی میں فرار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے ناراضی کا سبب نہیں بتایا اور نہ اس گناہ ہی کا ذکر فرمایا جس کا آپ نے ارتکاب کیا کیونکہ اس کے تذکرے میں ہمارے لیے کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں صرف اسی چیز میں فائدہ ہے جس کا ذکر کیا گیا کہ حضرت یونسu سے گناہ سرزد ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو، آپ کے رسول ہونے کے باوجود سزا دی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کرب سے نجات دی، آپ سے ملامت کو دور کر دیا اور آپ کے لیے وہ امور مقدر کیے جو آپ کی اصلاح کا سبب تھے۔ جب آپ بھاگ کر ﴿اِلَى الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ مسافروں اور سامان سے بھری ہوئی کشتی میں جاسوار ہوئے۔

[141] کشتی پہلے ہی سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی جب آپ سوار ہوئے تو کشتی بوجھل ہو گئی۔ انھیں حاجت محسوس ہوئی کہ وہ سواریوں میں سے کسی سواری کو سمندر میں پھینک دیں مگر یوں لگتا ہے کہ کسی کو سمندر میں پھینکنے کے لیے اس کی کوئی امتیازی علامت نہ تھی اس لیے انھوں نے قرعہ اندازی کی کہ جس کے نام قرعہ نکلے گا اسے سمندر میں پھینک دیا جائے گا یہ کشتی والوں کا انصاف پر مبنی فیصلہ تھا۔اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے اسباب فراہم کر دیتا ہے۔ جب کشتی والوں نے قرعہ اندازی کی تو حضرت یونسu کے نام قرعہ نکل آیا ﴿فَكَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِيۡنَ﴾ یعنی حضرت یونسu قرعہ اندازی میں مغلوب ہو گئے اور ان کو سمندر میں ڈال دیا گیا۔

[142]﴿فَالۡتَقَمَهُ الۡحُوۡتُ وَ هُوَ﴾ ’’پس مچھلی نے انھیں نگل لیا اور وہ‘‘ ﴿مُلِيۡمٌ ﴾ ’’ملامت کرنے والے تھے‘‘ یعنی انھوں نے ایسے فعل کا ارتکاب کیا تھا جس پر ملامت کی جاتی ہے اور وہ ہے آپ کا اپنے رب سے ناراض ہونا۔

[144,143]﴿فَلَوۡلَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُسَبِّحِيۡنَ۠﴾ یعنی مچھلی کے پیٹ میں جانے سے پہلے اگر حضرت یونسu نے اپنے رب کی نہایت کثرت سے عبادت اور تسبیح و تحمید نہ کی ہوتی اور مچھلی کا لقمہ بن جانے کے بعد، نہایت کثرت سے یہ نہ کہا ہوتا ﴿ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰؔنَكَ١ۖ ۗ اِنِّيۡؔ كُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾(الانبیاء: 21؍87) ’’تیرے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔‘‘ ﴿لَلَبِثَ فِيۡ بَطۡنِهٖۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ﴾ ’’تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس کے پیٹ ہی میں رہتے‘‘ یعنی مچھلی کا پیٹ یونسu کی قبر ہوتا، مگر آپ کی عبادت الٰہی اور تسبیح کے باعث اللہ تعالیٰ نے آپ کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی اور اہل ایمان جب کبھی کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسی طرح انھیں نجات دیتا ہے۔

[145]﴿فَنَبَذۡنٰهُ بِالۡعَرَآءِ ﴾ یعنی مچھلی نے حضرت یونسu کو ایک چٹیل زمین پر نکال پھینکا: (اَلْعَرَاء) سے مراد وہ زمین ہے جو ہر لحاظ سے خالی ہو، بسااوقات وہاں درخت بھی نہیں ہوتے۔ ﴿وَهُوَ سَقِيۡمٌ﴾ مچھلی کے پیٹ میں محبوس رہنے کی بنا پر آپ بیمار ہو گئے تھے حتیٰ کہ آپ کی یہ حالت ہو گئی تھی جیسے انڈے سے نکلا ہوا بے بال چوزہ ہو۔

[146]﴿وَاَنۢۡـبَتۡنَا عَلَيۡهِ شَجَرَةً مِّنۡ يَّقۡطِيۡنٍ﴾ ’’اور ان پر کدو کی بیل اگائی۔‘‘ جس نے آپ کو اپنے گھنے سائے تلے لے لیا کیونکہ اس کا سایہ ٹھنڈا ہوتا ہے اور اس پر مکھیاں نہیں بیٹھتیں۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لطف و کرم تھا۔

[147، 148] ایک اور پہلو سے بھی آپ پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا لطف و کرم اور ایک عظیم احسان تھا ﴿وَاَرۡسَلۡنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلۡفٍ ﴾ ’’ہم نے مبعوث کیا ان کو ایک لاکھ کی طرف لوگوں میں سے ﴿اَوۡ يَزِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’یا ان سے زیادہ کی طرف۔‘‘ معنی یہ ہے کہ اگر یہ لوگ ایک لاکھ سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہ تھے۔حضرت یونسu نے ان کو اللہ کی طرف دعوت دی: ﴿فَاٰمَنُوۡا ﴾ ’’پس وہ ایمان لائے۔‘‘ چنانچہ ان کا ایمان لانا بھی حضرت یونسu کے اعمال نامہ میں لکھا گیا کیونکہ وہی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے تھے ﴿فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾ ’’پس ہم نے انھیں ایک مدت تک فائدہ پہنچایا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا حالانکہ اس کے تمام اسباب ظاہر ہو چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَهَاۤ اِيۡمَانُهَاۤ اِلَّا قَوۡمَ يُوۡنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡيِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ﴾(یونس: 10؍98) ’’کیا کوئی ایسی بستی ہے، جو (عذاب دیکھ کر) ایمان لائی اور ان کے ایمان نے ان کو کوئی فائدہ دیا ہو، یونس کی قوم کے سوا۔ وہ لوگ ایمان لے آئے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے رسوا کن عذاب ٹال دیا اور ایک وقت تک ہم نے ان کو دنیا سے بہرہ مند ہونے دیا۔‘‘

37:149–157Page 451

فَٱسۡتَفۡتِهِمۡ أَلِرَبِّكَ ٱلۡبَنَاتُ وَلَهُمُ ٱلۡبَنُونَ ١٤٩

So inquire of them, [O Muḥammad], "Does your Lord have daughters while they have sons?1

أَمۡ خَلَقۡنَا ٱلۡمَلَٰٓئِكَةَ إِنَٰثٗا وَهُمۡ شَٰهِدُونَ ١٥٠

Or did We create the angels as females while they were witnesses?"

أَلَآ إِنَّهُم مِّنۡ إِفۡكِهِمۡ لَيَقُولُونَ ١٥١

Unquestionably, it is out of their [invented] falsehood that they say,

وَلَدَ ٱللَّهُ وَإِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ ١٥٢

"Allāh has begotten," and indeed, they are liars.

أَصۡطَفَى ٱلۡبَنَاتِ عَلَى ٱلۡبَنِينَ ١٥٣

Has He chosen daughters over sons?

مَا لَكُمۡ كَيۡفَ تَحۡكُمُونَ ١٥٤

What is [wrong] with you? How do you make judgement?

أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ١٥٥

Then will you not be reminded?

أَمۡ لَكُمۡ سُلۡطَٰنٞ مُّبِينٞ ١٥٦

Or do you have a clear authority?1

فَأۡتُواْ بِكِتَٰبِكُمۡ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ١٥٧

Then produce your scripture, if you should be truthful.

پوچھیے ان سے، کیا آپ کے رب کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے؟(149) یا پیدا کیا ہم نے فرشتوں کو مؤنث اور وہ دیکھ رہے تھے؟(150) خبردار! بلاشبہ وہ اپنی طرف سے جھوٹ گھڑ کر البتہ کہتے ہیں(151) اولاد ہے اللہ کی، اور بے شک وہ البتہ جھوٹے ہیں(152) کیا اس نے پسند کیا بیٹیوں کو اوپر بیٹوں کے؟ (153) کیا ہے تمھیں، کیسا تم فیصلہ کرتے ہو؟ (154) کیا پس نہیں تم غور کرتے؟ (155) یا تمھارے لیے ہے کوئی دلیل واضح ؟ (156) پس لے آؤ تم اپنی کتاب اگر ہو تم سچے (157)

[149] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿فَاسۡتَفۡتِهِمۡ ﴾ یعنی غیراللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے والوں سے پوچھیے، جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، انھوں نے شرک کے ساتھ ساتھ، اللہ تعالیٰ کو ایسی صفات سے موصوف کیا جو اس کی جلالت شان کے لائق نہیں ﴿اَلِرَبِّكَ الۡبَنَاتُ وَلَهُمُ الۡبَنُوۡنَ﴾ ’’کیا آپ کے رب کی تو بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں؟‘‘ یہ نہایت ہی ظالمانہ تقسیم اور جور پر مبنی قول ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد بنا دی، اور دونوں اقسام میں کمتر قسم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دی، یعنی اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بنا دیں حالانکہ وہ خود اپنے لیے بیٹیوں پر راضی نہیں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿وَيَجۡعَلُوۡنَ لِلّٰهِ الۡبَنٰتِ سُبۡحٰؔنَهٗ١ۙ وَلَهُمۡ مَّا يَشۡتَهُوۡنَ﴾(النحل: 16؍57) ’’اور وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں مقرر کرتے ہیں اور خود اپنے لیے وہ مقرر کرتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔‘‘ نیز اس لحاظ سے انھوں نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے دیا۔

[150] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی دروغ گوئی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿اَمۡ خَلَقۡنَا الۡمَلٰٓىِٕكَةَ اِنَاثًا وَّهُمۡ شٰهِدُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے؟‘‘ یعنی کیا وہ ان کی تخلیق کے گواہ ہیں؟ ایسا نہیں ہے، وہ فرشتوں کی تخلیق کو دیکھ نہیں رہے تھے لہذا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا قول بلاعلم اور اللہ تعالیٰ پر بہتان ہے۔

[157-151] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّهُمۡ مِّنۡ اِفۡــكِهِمۡ ﴾ ’’آگاہ رہو! یہ لوگ صرف افترا پردازی سے یعنی واضح جھوٹ کی بنا پر ﴿لَيَقُوۡلُوۡنَۙ۰۰ وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’کہتے ہیں کہ اللہ کی اولاد ہے، بلاشک یہ جھوٹے ہیں۔‘‘ ﴿اَصۡطَفَى ﴾ ’’کیا اس نے ترجیح دی ہے‘‘ یعنی اس نے چنا ہے ﴿الۡبَنَاتِ عَلَى الۡبَنِيۡنَؕ۰۰ مَا لَكُمۡ١۫ كَيۡفَ تَحۡكُمُوۡنَ ﴾ ’’بیٹوں کی بجائے بیٹیوں کو تم (ظلم و جور پر مبنی) کیسا فیصلہ کرتے ہو‘‘ ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ﴾ کیا تم نصیحت حاصل کر کے اس باطل اور ظلم کے حامل قول کو سمجھتے نہیں؟ اگر تم نے نصیحت پکڑی ہوتی تو ہرگز ایسی بات نہ کہتے۔ ﴿اَمۡ لَكُمۡ سُلۡطٰنٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’کیا تمھارے پاس کوئی واضح دلیل ہے؟‘‘ یعنی کتاب یا رسول کی کوئی واضح حجت ہے؟ یہ سب کچھ خلاف واقعہ ہے، اس لیے فرمایا ﴿فَاۡتُوۡا بِكِتٰبِكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو۔‘‘ کیونکہ جو کوئی ایسی بات کہتا ہے جس پر کوئی شرعی دلیل قائم نہ کر سکے، وہ جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے یا بلادلیل اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی بات منسوب کرتا ہے۔

37:158–160Page 452

وَجَعَلُواْ بَيۡنَهُۥ وَبَيۡنَ ٱلۡجِنَّةِ نَسَبٗاۚ وَلَقَدۡ عَلِمَتِ ٱلۡجِنَّةُ إِنَّهُمۡ لَمُحۡضَرُونَ ١٥٨

And they have made [i.e., claimed] between Him and the jinn a lineage, but the jinn have already known that they [who made such claims] will be brought [to punishment].

سُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ ١٥٩

Exalted is Allāh above what they describe,

إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلۡمُخۡلَصِينَ ١٦٠

Except the chosen servants of Allāh [who do not share in that sin].

اور ٹھہرایا انھوں نے درمیان اس (اللہ) کے اور درمیان جنوں کے رشتہ، اور البتہ تحقیق جان لیا جنوں نے کہ بلاشبہ وہ حاضر کیے جائیں گے(158) پاک ہے اللہ ان باتوں سے جو وہ (اس کی بابت) بیان کرتے ہیں(159) سوائے بندگان الٰہی کے (جو) خالص کیے (چنے) ہوئے ہیں(160)

[158] یعنی ان مشرکین نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان بھی نسبی تعلق جوڑ دیا ہے۔ ان کا زعم باطل ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور بڑے بڑے سردار جن ان کی مائیں ہیں، حالانکہ جنات بھی جانتے ہیں کہ وہ جزا و سزا کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے عاجز اور فروتر بندے ہیں۔ اگر ان کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی نسبی رشتہ ہوتا تو ان کی یہ حالت نہ ہوتی۔

[159، 160]﴿سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ ﴾ ان کا رب بادشاہ عظیم اور حلیمِ کامل ان تمام اوصاف سے منزہ اور پاک ہے جو مشرکین اس کے بارے میں بیان کررہے ہیں جو ان کے کفر و شرک نے اس کے متعلق واجب ٹھہرایا ہے ﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں نے اسے جن اوصاف سے موصوف کیا اللہ تعالیٰ نے ان اوصاف سے اپنے آپ کو منزہ نہیں کہا کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات کو صرف انھی اوصاف سے موصوف کیا ہے جو اس کے جلال کے لائق ہیں اور بایں وجہ وہ مخلص بندے ہیں۔

37:161–163Page 452

فَإِنَّكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُونَ ١٦١

So indeed, you [disbelievers] and whatever you worship,

مَآ أَنتُمۡ عَلَيۡهِ بِفَٰتِنِينَ ١٦٢

You cannot tempt [anyone] away from Him

إِلَّا مَنۡ هُوَ صَالِ ٱلۡجَحِيمِ ١٦٣

Except he who is to [enter and] burn in the Hellfire.1

بے شک تم اور(وہ) جن کی تم عبادت کرتے ہو(161) نہیں ہو تم اس (اللہ) کے خلاف بہکانے والے (162) مگر اسی کو جو ہے جانے والا جہنم میں (163)

[163-161] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: اے مشرکو! تم اور تمھارے خود ساختہ الٰہ کسی کو فتنہ میں مبتلا کرنے یا گمراہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتے سوائے ان لوگوں کے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نافذ ہو گیا۔ یہاں کسی کو گمراہ کرنے کے بارے میں، ان کا اور ان کے معبودوں کا عجز اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کو بیان کرنا مقصود ہے… یعنی اللہ تعالیٰ کے مخلص اور فلاح یافتہ بندوں کو راہ راست سے ہٹانے کی امید نہ رکھو۔

37:164–166Page 452

وَمَا مِنَّآ إِلَّا لَهُۥ مَقَامٞ مَّعۡلُومٞ ١٦٤

[The angels say],1 "There is not among us any except that he has a known position.2

وَإِنَّا لَنَحۡنُ ٱلصَّآفُّونَ ١٦٥

And indeed, we are those who line up [for prayer].

وَإِنَّا لَنَحۡنُ ٱلۡمُسَبِّحُونَ ١٦٦

And indeed, we are those who exalt Allāh."

اور نہیں ہے ہم میں سے (کوئی) مگر اس کے لیے مرتبہ ہے معلوم(اللہ کے نزدیک)(164) اور بلاشبہ ہم البتہ صف باندھے، کھڑے رہنے والے ہیں (165) اور بے شک ہم البتہ تسبیح (پاکیزگی بیان) کرنے والے ہیں(166)

[166-164] یہ فرشتوں کے بارے میں کفار کی بہتان طرازی سے براء ت کا بیان ہے، نیز یہ کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اس کی نافرمانی نہیں کر سکتے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر ایک کو ایک مقام اور کسی تدبیر کی ذمہ داری سونپی ہے وہ اس سے تجاوز کر سکتے ہیں نہ انھیں کسی چیز کا کوئی اختیار ہے۔ ﴿وَّاِنَّا لَنَحۡنُ الصَّآفُّوۡنَ﴾ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور خدمت میں صف آرا ہوتے ہیں۔ ﴿وَاِنَّا لَنَحۡنُ الۡمُسَبِّحُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور بے شک ہم پاکی بیان کرتے ہیں‘‘ اللہ تعالیٰ کی ہر ایسے وصف سے جو اس کی کبریائی کے لائق نہیں۔ بایں ہمہ ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا کیسے درست ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان مشرکین کے بہتان سے بلندوبالاتر ہے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском