As-Sa'diSad · 38:21–40

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Sad 38:21–40

38:21–26Page 454

۞ وَهَلۡ أَتَىٰكَ نَبَؤُاْ ٱلۡخَصۡمِ إِذۡ تَسَوَّرُواْ ٱلۡمِحۡرَابَ ٢١

And has there come to you the news of the adversaries, when they climbed over the wall of [his] prayer chamber -

إِذۡ دَخَلُواْ عَلَىٰ دَاوُۥدَ فَفَزِعَ مِنۡهُمۡۖ قَالُواْ لَا تَخَفۡۖ خَصۡمَانِ بَغَىٰ بَعۡضُنَا عَلَىٰ بَعۡضٖ فَٱحۡكُم بَيۡنَنَا بِٱلۡحَقِّ وَلَا تُشۡطِطۡ وَٱهۡدِنَآ إِلَىٰ سَوَآءِ ٱلصِّرَٰطِ ٢٢

When they entered upon David and he was alarmed by them? They said, "Fear not. [We are] two adversaries, one of whom has wronged the other, so judge between us with truth and do not exceed [it] and guide us to the sound path.

إِنَّ هَٰذَآ أَخِي لَهُۥ تِسۡعٞ وَتِسۡعُونَ نَعۡجَةٗ وَلِيَ نَعۡجَةٞ وَٰحِدَةٞ فَقَالَ أَكۡفِلۡنِيهَا وَعَزَّنِي فِي ٱلۡخِطَابِ ٢٣

Indeed this, my brother, has ninety-nine ewes, and I have one ewe; so he said, 'Entrust her to me,' and he overpowered me in speech."

قَالَ لَقَدۡ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعۡجَتِكَ إِلَىٰ نِعَاجِهِۦۖ وَإِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡخُلَطَآءِ لَيَبۡغِي بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٍ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَقَلِيلٞ مَّا هُمۡۗ وَظَنَّ دَاوُۥدُ أَنَّمَا فَتَنَّٰهُ فَٱسۡتَغۡفَرَ رَبَّهُۥ وَخَرَّۤ رَاكِعٗاۤ وَأَنَابَ۩ ٢٤

[David] said, "He has certainly wronged you in demanding your ewe [in addition] to his ewes. And indeed, many associates oppress one another, except for those who believe and do righteous deeds - and few are they." And David became certain that We had tried him, and he asked forgiveness of his Lord1 and fell down bowing [in prostration] and turned in repentance [to Allāh].

فَغَفَرۡنَا لَهُۥ ذَٰلِكَۖ وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلۡفَىٰ وَحُسۡنَ مَـَٔابٖ ٢٥

So We forgave him that; and indeed, for him is nearness to Us and a good place of return.

يَٰدَاوُۥدُ إِنَّا جَعَلۡنَٰكَ خَلِيفَةٗ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱحۡكُم بَيۡنَ ٱلنَّاسِ بِٱلۡحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ ٱلۡهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ لَهُمۡ عَذَابٞ شَدِيدُۢ بِمَا نَسُواْ يَوۡمَ ٱلۡحِسَابِ ٢٦

[We said], "O David, indeed We have made you a successor upon the earth, so judge between the people in truth and do not follow [your own] desire, as it will lead you astray from the way of Allāh." Indeed, those who go astray from the way of Allāh will have a severe punishment for having forgotten the Day of Account.

اور کیا آئی آپ کے پاس خبر جھگڑنے والوں کی، جبکہ وہ دیوار پھاند کر آگئے کمرے میں (21) جب وہ اندر آئے داؤ د پر تو گھبرا گئے وہ ان سے، انھوں نے کہا، نہ ڈریے(ہم) دو جھگڑنے والے ہیں، زیادتی کی ہے ہمارے بعض نے بعض پر، تو آپ فیصلہ فرمائیں ہمارے درمیان ساتھ حق کے اور نہ کیجیے بے انصافی اور رہنمائی کیجیے ہماری طرف سیدھی راہ کے (22) بے شک یہ میرا بھائی ہے، اس کے لیے ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس دنبی ہے ایک ہی، پس(یہ) کہتا ہے، میرے سپرد کر دے وہ بھی، اور غالب آ جاتا ہے مجھ پر بات کرنے میں (23) آپ نے فرمایا البتہ تحقیق ظلم کیا ہے اس نے تجھ پر سوال کر کے تیری دنبی کا(تاکہ ملا لے اسے بھی) اپنی دنبیوں میں، اور بلاشبہ بہت سے شرکاء البتہ زیادتی کرتے ہیں بعض ان کے بعض پر، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، اور تھوڑے ہیں ایسے لوگ، اور گمان کیا داؤ د نے کہ بے شک ہم نے آزمایا ہے اسے، پس بخشش مانگی اس نے اپنے رب سے اور گر پڑا رکوع میں اور رجوع ہوا (24) پس بخش دی ہم نے اس کی یہ( غلطی)، اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب ہے اور اچھا ٹھکانا ہے(25) اے داؤ د! بے شک ہم نے بنایا تجھے خلیفہ زمین میں، پس فیصلہ کر درمیان لوگوں کے ساتھ حق کے اور نہ اتباع کر خواہش نفس کی کہ وہ گمراہ کر دے تجھے اللہ کے راستے سے، بلاشبہ وہ لوگ جو گمراہ ہوتے ہیں اللہ کے راستے سے ان کے لیے ہے عذاب سخت ، بہ سبب اس کے جو بھلا دیا انھوں نے یوم حساب کو (26)

[21] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے نبی حضرت داؤ دu کو فیصلہ کن خطاب کی صلاحیت سے نوازا اور وہ فیصلہ کرنے میں معروف تھے، نیز اس معاملے میں ان کی طرف لوگ قصد کرتے تھے ، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دو اشخاص کے بارے میں خبر دی جو ایک جھگڑا لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کے لیے آزمائش اور ایک ایسی لغزش سے نصیحت بنایا جو حضرت داؤ دu سے واقع ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی توبہ قبول کر کے بخش دیا اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا:﴿وَهَلۡ اَتٰىكَ نَبَؤُا الۡخَصۡمِ ﴾ ’’اور کیا تمھارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے۔‘‘ یہ بڑی ہی تعجب انگیز خبر ہے۔ ﴿اِذۡ تَسَوَّرُوا ﴾ ’’جب وہ دیوار پھاند کر آئے تھے‘‘ حضرت داؤ دu کے پاس ﴿الۡمِحۡرَابَ﴾ ’’محراب میں۔‘‘ یعنی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی عبادت کرنے کی جگہ میں دروازے کے علاوہ دوسرے راستے سے داخل ہوئے۔

[22] جب وہ اس طریقے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ گھبرا گئے اور ان سے ڈر گئے، انھوں نے آپ سے کہا کہ ہم ﴿خَصۡمٰنِ ﴾ ’’دو جھگڑا کرنے والے ہیں‘‘ اس لیے ڈریے مت، ﴿بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کا ارتکاب کیا ہے‘‘ ظلم کرتے ہوئے ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَنَا بِالۡحَقِّ ﴾ لہٰذا ہمارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کیجیے اور کسی ایک طرف مائل نہ ہوں ﴿وَلَا تُشۡطِطۡ وَاهۡدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ ﴾ ’’اور بے انصافی نہ کیجیے اور سیدھے راستے کی طرف ہماری راہ نمائی کیجیے۔‘‘

[23] اس پورے واقعہ سے مقصود یہ ہے کہ حضرت داؤ دu کو معلوم ہو گیا تھا کہ ان دو اشخاص کا مقصد واضح اور صریح حق تھا۔ جب یہ معاملہ ہے تو وہ حضرت داؤ دu کے سامنے حق کے ساتھ قصہ بیان کرتے ہیں تب اللہ کے نبی داؤدu ان کے وعظ و نصیحت سے منقبض ہوئے نہ آپ نے ان کو ملامت کی۔ ان میں سے ایک نے کہا: ﴿اِنَّ هٰؔذَاۤ اَخِيۡ ﴾ ’’ بے شک یہ میرا بھائی‘‘ یعنی اس نے دین، نسب یا دوستی کی اخوت کا ذکر کیا جو تقاضا کرتی ہے کہ زیادتی نہ کی جائے۔ اس بھائی سے زیادتی کا صادر ہونا غیر کی زیادتی سے بڑھ کر تکلیف دہ ہے ﴿لَهٗ تِسۡعٌ وَّتِسۡعُوۡنَ نَعۡجَةً ﴾ ’’اس کی ننانوے دنبیاں ہیں‘‘ اور یہ خیر کثیر ہے اور اس چیز پر قناعت کی موجب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہے ﴿وَّلِيَ نَعۡجَةٌ وَّاحِدَةٌ ﴾ ’’اور میرے پاس ایک دنبی ہے‘‘ اور یہ اس میں بھی طمع رکھتا ہے۔ ﴿فَقَالَ اَكۡفِلۡنِيۡهَا ﴾ اس کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میری خاطر اسے چھوڑ دے اور اسے میری کفالت میں دے دے ﴿وَعَزَّنِيۡ فِي الۡخِطَابِ ﴾ اور اس نے بات چیت میں مجھے دبا لیا ہے حتیٰ کہ وہ میری دنبی کو حاصل کرنے ہی والا ہے۔

[24] جب داؤ دu نے اس کی بات سنی… فریقین کی باتوں کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا تھا کہ فی الواقع ایسا ہوا ہے، اس لیے حضرت داؤ دu نے ضرورت نہ سمجھی کہ دوسرا فریق بات کرے ، لہٰذا اعتراض کرنے والے کے لیے اس قسم کے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ حضرت داؤ دu نے فریق ثانی کا موقف سننے سے پہلے فیصلہ کیوں کیا؟ تو فرمایا:﴿لَقَدۡ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعۡجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ﴾ ’’یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملا لے بے شک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔‘‘ اکثر ساتھ اور مل جل کر رہنے والوں کی یہی عادت ہے، بنا بریں فرمایا:﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡؔخُلَطَآءِ لَيَبۡغِيۡ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ ﴾ ’’اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔‘‘ کیونکہ ظلم کرنا نفوس کا وصف ہے ﴿اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے۔‘‘ کیونکہ انھیں ایمان اور عمل صالح کی معیت حاصل ہوتی ہے جو انھیں ظلم سے باز رکھتے ہیں۔ ﴿وَقَلِيۡلٌ مَّا هُمۡ ﴾ ’’اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾(سبا: 34؍13) ’’اور میرے بندوں میں کم لوگ ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔‘‘ ﴿وَظَنَّ دَاوٗدُ ﴾ جب حضرت داؤ دu نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیا تو آپ سمجھ گئے کہ ﴿اَنَّمَا فَتَنّٰهُ ﴾ یعنی ہم نے حضرت داؤ دu کی آزمائش کے لیے یہ مقدمہ بنا کر ان کے سامنے پیش کیا ہے۔ ﴿فَاسۡتَغۡفَرَ رَبَّهٗ﴾ جب آپ سے لغزش سرزد ہوئی تو آپ نے اپنے رب سے بخشش طلب کی ﴿وَخَرَّ رَاكِعًا ﴾ ’’اور جھک کر گر پڑے۔‘‘ یعنی سجدے میں گر پڑے ﴿وَّاَنَابَ﴾ اور سچی توبہ اور عبادت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔

[25]﴿فَغَفَرۡنَا لَهٗ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس ہم نے معاف کردی یہ لغزش‘‘ جو آپ سے صادر ہوئی تھی اور مختلف انواع کی کرامات کے ذریعے سے آپ کو اکرام سے سرفراز کیا، فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى ﴾ ’’اور بلاشبہ ہمارے ہاں اس کے لیے خاص مرتبہ ہے‘‘ یعنی بہت بلند مرتبہ، ہمارا قرب ﴿وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور اچھا انجام ہے‘‘ حضرت داؤ دu سے جو لغزش سرزد ہوئی، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ اس کی کوئی حاجت نہیں اس لیے اس بارے میں تعرض کرنا محض تکلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو واقعہ بیان فرمایا ہے صرف اسی میں فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے لطف و کرم سے نوازا، آپ کی توبہ اور انابت کو قبول کیا، آپ کا مرتبہ بلند ہوا ، لہٰذا توبہ کے بعد آپ کو پہلے سے بہتر مرتبہ حاصل ہوا۔

[26]﴿يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلۡنٰكَ خَلِيۡفَةً فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اے داود! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا۔‘‘ تاکہ آپ دنیا میں دینی اور دنیاوی احکام نافذ کر سکیں۔ ﴿فَاحۡكُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’پس لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کیجیے‘‘ یعنی عدل وانصاف کے ساتھ۔ اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ واجب کا علم اور واقع کا علم نہ ہو اور حق کو نافذ کرنے کی قدرت نہ ہو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِـعِ الۡهَوٰى ﴾ ’’اور خواہشات نفس کی پیروی نہ کیجیے‘‘ ایسا نہ ہو کہ آپ کا دل کسی کی طرف اس کی قرابت، دوستی یا محبت یا فریق مخالف سے ناراضی کے باعث مائل ہو جائے ﴿فَيُضِلَّكَ ﴾ ’’پس وہ (خواہش نفس) آپ کو گمراہ کر دے‘‘ ﴿عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی راہ سے‘‘ اور آپ کو صراط مستقیم سے دور کر دے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے راستے سے گمراہ ہوجاتے ہیں‘‘ خاص طور پر وہ لوگ جو دانستہ طور پر اس کاارتکاب کرتے ہیں۔ ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌۢ بِمَا نَسُوۡا يَوۡمَ الۡحِسَابِ ﴾ ’’ ان کے لیے یوم جزا سے غافل رہنے کی وجہ سے سخت عذاب ہے۔‘‘ اگر وہ اسے یاد رکھتے اور ان کے دل میں اس کا خوف ہوتا تو فتنے میں مبتلا کرنے والی خواہشات نفس کبھی بھی انھیں ظلم اور ناانصافی کی طرف مائل نہ کر سکتیں۔

38:27–29Page 455

وَمَا خَلَقۡنَا ٱلسَّمَآءَ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا بَٰطِلٗاۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۚ فَوَيۡلٞ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنَ ٱلنَّارِ ٢٧

And We did not create the heaven and the earth and that between them aimlessly. That is the assumption of those who disbelieve, so woe to those who disbelieve from the Fire.

أَمۡ نَجۡعَلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ كَٱلۡمُفۡسِدِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَمۡ نَجۡعَلُ ٱلۡمُتَّقِينَ كَٱلۡفُجَّارِ ٢٨

Or should We treat those who believe and do righteous deeds like corrupters in the land? Or should We treat those who fear Allāh like the wicked?

كِتَٰبٌ أَنزَلۡنَٰهُ إِلَيۡكَ مُبَٰرَكٞ لِّيَدَّبَّرُوٓاْ ءَايَٰتِهِۦ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ ٢٩

[This is] a blessed Book which We have revealed to you, [O Muḥammad], that they might reflect upon its verses and that those of understanding would be reminded.

اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، بے کار یہ تو گمان ہے ان لوگوں کا جنھوں نے کفر کیا، پس ہلاکت ہے واسطے ان کے جنھوں نے کفر کیا، دوزخ سے (27) کیا ہم کر دیں گے ان کو جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، مانند ان کی جو فساد کرنے والے ہیں زمین میں؟ یا کردیں گے ہم پرہیز گاروں کو مانند بدکاروں کی؟ (28)(یہ)ایک کتاب ہے، نازل کیا ہم نے اسے آپ کی طرف، بڑی برکت والی، تاکہ وہ غور کریں اس کی آیتوں پر اور تاکہ نصیحت پکڑیں عقل والے(29)

[27] اللہ تبارک وتعالیٰ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی حکمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز یہ کہ اس نے زمین وآسمان کو باطل، یعنی بغیر کسی فائدے، مصلحت اور کھیل تماشے کے طور پر عبث پیدا نہیں کیا۔ ﴿ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ہے‘‘ اپنے رب کے ساتھ کہ وہ اپنے رب کے بارے میں ایسا گمان رکھتے ہیں جو اس کے جلال کے لائق نہیں۔ ﴿فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنَ النَّارِ﴾ ’’پس کافروں کے لیے آگ کی ہلاکت ہے۔‘‘ یہ آگ ہے جو ان سے حق حاصل کرے گی اور انھیں پوری طرح عذاب میں مبتلا کرے گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ اور حق کی خاطر تخلیق فرمایا ہے، ان کو اس لیے تخلیق فرمایا تاکہ بندوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کامل علم، کامل قدرت اور لامحدود قوت کا مالک ہے اور وہی اکیلا معبود ہے اور وہ معبود نہیں ہیں جو زمین و آسمان میں ایک ذرہ بھی تخلیق نہیں کر سکتے۔ حیات بعدالموت حق ہے قیامت کے روز اللہ نیکوکاروں اور بدکاروں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ کوئی جاہل شخص اللہ تعالیٰ کی حکمت کے بارے میں یہ گمان نہ کرے کہ وہ اپنے فیصلے میں نیک اور بد کے ساتھ مساوی سلوک کرے گا۔

[28] اس لیے فرمایا: ﴿اَمۡ نَجۡعَلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ كَالۡمُفۡسِدِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ١ٞ اَمۡ نَجۡعَلُ الۡمُتَّقِيۡنَ كَالۡفُجَّارِ ﴾ ’’کیا ہم انھیں جو ایمان لائے ہیں ان کی طرح بنادیں جو زمین میں فساد کرتے ہیں یا ہم متقین اور بدکاروں کو یکساں کردیں؟‘‘ یعنی ایسا کرنا ہماری حکمت اور ہمارے حکم کے شایاں نہیں۔

[29]﴿كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ اِلَيۡكَ مُبٰرَكٌ ﴾ ’’یہ کتاب جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے۔‘‘ جو خیر کثیر اور علم بسیط کی حامل ہے۔ اس کے اندر ہدایت، ہر بیماری کی شفا اور نور ہے جس سے گمراہی کی تاریکیوں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے اندر ہر وہ حکم موجود ہے، جس کے مکلفین محتاج ہیں اور اس کے اندر ہر مطلوب کے لیے قطعی دلائل موجود ہیں۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق فرمایا ہے اس وقت سے لے کر اس کتاب سے زیادہ کوئی جلیل القدر کتاب نہیں آئی ﴿لِّيَدَّبَّرُوۡۤا اٰيٰتِهٖ﴾ یعنی اس کتاب جلیل کو نازل کرنے کی حکمت یہ ہے کہ لوگ اس کی آیات میں تدبر کریں، اس کے علم کا استنباط کریں اور اس کے اسرار و حکم میں غوروفکر کریں۔ یہ آیت کریمہ قرآن کریم میں تدبر کرنے کی ترغیب دیتی ہے اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کریم میں تدبر اور غور وفکر کرنا سب سے افضل عمل ہے، نیز یہ اس کی دلیل ہے کہ وہ قراء ت جو تدبر وتفکر پر مشتمل ہو اس تلاوت سے کہیں افضل ہے جو بہت تیزی سے کی جاری ہو، مگر اس سے متذکرہ بالا مقصد حاصل نہ ہو رہا ہو۔ ﴿وَلِيَتَذَكَّـرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ تاکہ عقل صحیح کے حاملین، اس میں غوروفکر کر کے ہر علم اور ہر مطلوب حاصل کریں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر انسان کو اپنی عقل کے مطابق اس عظیم کتاب سے نصیحت حاصل ہوتی ہے۔

38:30–40Page 455

وَوَهَبۡنَا لِدَاوُۥدَ سُلَيۡمَٰنَۚ نِعۡمَ ٱلۡعَبۡدُ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ ٣٠

And to David We gave Solomon. An excellent servant, indeed he was one repeatedly turning back [to Allāh].

إِذۡ عُرِضَ عَلَيۡهِ بِٱلۡعَشِيِّ ٱلصَّٰفِنَٰتُ ٱلۡجِيَادُ ٣١

[Mention] when there were exhibited before him in the afternoon the poised [standing] racehorses.

فَقَالَ إِنِّيٓ أَحۡبَبۡتُ حُبَّ ٱلۡخَيۡرِ عَن ذِكۡرِ رَبِّي حَتَّىٰ تَوَارَتۡ بِٱلۡحِجَابِ ٣٢

And he said, "Indeed, I gave preference to the love of good [things] over the remembrance of my Lord until it [i.e., the sun] disappeared into the curtain [of darkness]."

رُدُّوهَا عَلَيَّۖ فَطَفِقَ مَسۡحَۢا بِٱلسُّوقِ وَٱلۡأَعۡنَاقِ ٣٣

[He said], "Return them to me," and set about striking1 [their] legs and necks.

وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمَٰنَ وَأَلۡقَيۡنَا عَلَىٰ كُرۡسِيِّهِۦ جَسَدٗا ثُمَّ أَنَابَ ٣٤

And We certainly tried Solomon and placed on his throne a body;1 then he returned.2

قَالَ رَبِّ ٱغۡفِرۡ لِي وَهَبۡ لِي مُلۡكٗا لَّا يَنۢبَغِي لِأَحَدٖ مِّنۢ بَعۡدِيٓۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡوَهَّابُ ٣٥

He said, "My Lord, forgive me and grant me a kingdom such as will not belong to anyone after me. Indeed, You are the Bestower."

فَسَخَّرۡنَا لَهُ ٱلرِّيحَ تَجۡرِي بِأَمۡرِهِۦ رُخَآءً حَيۡثُ أَصَابَ ٣٦

So We subjected to him the wind blowing by his command, gently, wherever he directed,

وَٱلشَّيَٰطِينَ كُلَّ بَنَّآءٖ وَغَوَّاصٖ ٣٧

And [also] the devils [of jinn] - every builder and diver

وَءَاخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي ٱلۡأَصۡفَادِ ٣٨

And others bound together in irons.

هَٰذَا عَطَآؤُنَا فَٱمۡنُنۡ أَوۡ أَمۡسِكۡ بِغَيۡرِ حِسَابٖ ٣٩

[We said], "This is Our gift, so grant or withhold without account."

وَإِنَّ لَهُۥ عِندَنَا لَزُلۡفَىٰ وَحُسۡنَ مَـَٔابٖ ٤٠

And indeed, for him is nearness to Us and a good place of return.

اور عطا کیا ہم نے داؤ د کو سلیمان، اچھا بندہ تھا وہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (30) جب پیش کیے گئے اوپر اس کےشام کے وقت(گھوڑے) اصیل تیز رَو عمدہ (31) تو اس نے کہا، بلاشبہ میں نے محبوب رکھا ہے اس مال کی محبت کو، بوجہ اپنے رب کی یاد کے، یہاں تک کہ چھپ گئے (گھوڑے)اوٹ میں (32)(کہا)واپس لاؤ ان کو میرے پاس، پس لگے وہ (ہاتھ) پھیرنے پنڈلیوں اورگردنوں پر (33) اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے سلیمان کو اور ڈالا ہم نے اس کی کرسی پر ایک دھڑ، پھراس نے رجوع کیا (34)کہا: اے میرے رب! بخش دے مجھے اور عطا کر مجھے ایسی بادشاہی، کہ نہ لائق ہو واسطے کسی کے میرے بعد، بلاشبہ تو ہی ہے بہت عطا کرنے والا (35) پس تابع کر دی ہم نے اس کےہوا، چلتی تھی وہ اس کےحکم سے نرمی سے، جہاں کا وہ ارادہ کرتا (36) اور(تابع کر دیے) شیا طین(بھی) معمار اور غوطہ لگانے والے کو (37) اور دوسرے جوجکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں (38) یہ ہے ہماری بخشش پس احسان کر یا محفوظ رکھ، نہیں ہو گا کوئی حساب(39) اور بے شک اس کے لیے ہمارے پاس البتہ بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے (40)

[30] اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی مدح و ثنا بیان کرنے، ان کے ساتھ اور ان کی طرف سے جو کچھ پیش آیا اس کا ذکر کرنے کے بعد، ان کے بیٹے سلیمانu کی مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَهَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے داؤ دu کو سلیمانu عطا کر کے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’سلیمانu بہترین بندے تھے‘‘ کیونکہ وہ ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو مدح و ثنا کے موجب ہیں۔ ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ﴾ یعنی وہ اپنے تمام احوال میں، تعبد، انابت، محبت، ذکر ودعا، آہ وزاری، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے اور اس کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنے میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف نہایت کثرت سے رجوع کرنے والے تھے۔

[33-31] بنا بریں جب ان کی خدمت میں خوب تربیت یافتہ، تیز رفتار گھوڑے پیش کیے گئے، جن کا وصف یہ تھا کہ جب وہ کھڑے ہوتے تو ایک پاؤ ں زمین سے اٹھائے رکھتے۔ ان کو پیش کیے جانے کا منظر نہایت ہی خوبصورت، خوش کن اور تعجب انگیز تھا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنھیں ان گھوڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ، مثلاً: بادشاہ وغیرہ۔ سلیمانu کی خدمت میں یہ گھوڑے پیش ہوتے رہے حتیٰ کہ سورج چھپ گیا اور گھوڑوں کی محبت اور ان میں مصروفیت نے آپ کو عصر کی نماز اور ذکر الٰہی سے غافل کر دیا۔ سلیمانu نے اس کوتاہی پر جو ان سے ہوئی اظہار ندامت کرتے ہوئے، جس چیز نے آپ کو ذکر الٰہی سے غافل کیا اس کی وجہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہوئے اور محبت الٰہی کو غیراللہ کی محبت پر مقدم کرتے ہوئے فرمایا:﴿اِنِّيۡۤ اَحۡبَبۡتُ حُبَّ الۡخَيۡرِ ﴾ یہاں (أَحْبَبْتُ،آثَرْتُ) کے معنیٰ کو متضمن ہے یعنی میں نے ’’خیر‘‘ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ ’’خیر‘‘ کا معنی عام طور پر مال لیا جاتا ہے۔ مگر اس مقام پر متذکرہ بالا گھوڑے مراد ہیں ﴿عَنۡ ذِكۡرِ رَبِّيۡ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ﴾ ’’اپنے رب کی یاد سے حتیٰ کہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔‘‘ سلیمانu نے فرمایا: ﴿رُدُّوۡهَا عَلَيَّ ﴾ ’’ان کو میرے پاس واپس لاؤ ۔‘‘ حضرت سلیمانu کے پاس گھوڑے واپس لائے گئے۔ ﴿فَطَفِقَ مَسۡحًۢا بِالسُّوۡقِ وَالۡاَعۡنَاقِ ﴾ تو سلیمانu نے تلوار کے ساتھ ان کی ٹانگیں اور گردنیں کاٹنا شروع کر دیں۔

[34] اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ فَتَنَّا سُلَيۡمٰنَ ﴾ یعنی ہم نے حضرت سلیمانu سے ان کا اقتدار لے کر اس خلل کے سبب سے ان کو آزمایا، جس کا طبیعت بشری تقاضا کرتی ہے۔ ﴿وَاَلۡقَيۡنَا عَلٰى كُرۡسِيِّهٖ جَسَدًا ﴾ ’’اور ان کی کرسی پر ایک جسد ڈال دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے قضا وقدر کے ذریعے سے مقدر کر دیا کہ ایک شیطان سلیمانu کی کرسی پر آپ کی آزمائش کے عرصہ کے دوران بیٹھے اور آپ کی سلطنت میں تصرف کرے(فاضل مفسر رحمہ اللہ کی یہ رائے اسرائیلی روایات ہی پر مبنی ہے جن سے مفسر نے اپنی پوری تفسیر میں بجا طور پر اجتناب کیاہے۔ پتہ نہیں فاضل مؤلف نے یہاں اس پر اعتماد کرکے کیوں یہ بات لکھ دی ہے۔ یہ آزمائش کیاتھی؟ کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کا تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کی کوئی تفصیل قرآن کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ اس لیے امام ابن کثیر وغیرہ کی رائے میں اس پر خاموشی ہی بہتر ہے۔ (ص۔ی)﴿ثُمَّ اَنَابَ ﴾ پھر سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور توبہ کی۔

[39-35]﴿قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَهَبۡ لِيۡ مُلۡكًا لَّا يَنۢۡبَغِيۡ لِاَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِيۡ١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ﴾ ’’کہنے لگے اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما کر آپ کو بخش دیا اور آپ کی سلطنت آپ کو واپس کر دی اور اقتدار اور سلطنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ آپ کے بعد اتنا زیادہ اقتدار کسی اور کو عطا نہیں کیا، شیاطین آپ کے لیے مسخر کر دیے گئے، آپ جو کچھ چاہتے وہ تعمیر کرتے تھے، وہ آپ کے حکم پر سمندر میں غوطہ خوری کرتے اور سمندر کی تہہ سے موتی نکال کر لاتے۔ ان میں جو کوئی آپ کی نافرمانی کرتا آپ اسے زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیتے۔ ہم نے سلیمانu سے کہا:﴿هٰؔذَا عَطَآؤُنَا ﴾ ’’یہ ہمارا عطیہ ہے‘‘ اس سے آنکھیں ٹھنڈی کیجیے۔ ﴿فَامۡنُنۡ ﴾ جسے چاہیں عطا کریں۔ ﴿اَوۡ اَمۡسِكۡ ﴾ اور جسے چاہیں عطا نہ کریں۔ ﴿بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ اس بارے میں آپ پر کوئی حرج ہے نہ آپ سے کوئی حساب لیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ حضرت سلیمانu کے کامل عدل اور بہترین فیصلوں کے بارے میں خوب جانتا تھا۔

[40] آپ یہ نہ خیال کیجیے کہ یہ تمام نعمتیں سلیمانu کو صرف دنیا ہی میں حاصل تھیں، آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، بلکہ آخرت میں بھی ان کو خیرکثیر سے نوازا جائے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لَهٗ عِنۡدَنَا لَزُلۡفٰى وَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴾ ’’اور بے شک ان کے لیے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقربین اور مکرمین کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انواع کی کرامات سے سرفراز فرمایا۔

فوائد حضرت داؤ د اور سلیمانi کے قصے سے مندرجہ ذیل فوائد اور حکمتیں مستفاد ہوتی ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کے سامنے آپ سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی خبریں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ آپ کی ہمت بندھاتا رہے اور آپ کو اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت، ان کے صبر کی شدت اور ان کی انابت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ آپ میں آگے بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کا شوق اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کا جذبہ پیدا ہو۔ بنا بریں اس مقام پر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی اذیت رسانی، آپ کے اور آپ کی دعوت کے بارے میں ان کی بدکلامی کا ذکر کیا تو آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی تلقین کی کہ آپ اس کے بندے داؤ دu کو یاد کر کے اس سے تسلی حاصل کریں۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت میں استعمال ہونے والی قوت قلب اور قوت بدن کو پسند کرتا ہے اور اس کی مدح کرتا ہے، کیونکہ قوت کے ذریعے سے اطاعت الٰہی کے آثار، اس کی خوبی اور اس کی جو کثرت حاصل ہوتی ہے وہ کمزوری اور عدم قوت سے حاصل نہیں ہوتی۔ نیز آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اسباب قوت کے حصول کی کوشش کرتا رہے اور نفس کو کمزور کرنے والی بے کاری اور سستی کی طرف مائل ہونے سے بچے۔ ۳۔ تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کی خاص مخلوق کا وصف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس وصف کی بنا پر حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کی مدح و ثنا کی ہے۔ اقتدا کرنے والوں کو چاہیے کہ ان کی اقتدا کریں اور اہل سلوک ان کی راہ پر گامزن ہوں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰؔىهُمُ اقۡتَدِهۡ ﴾(الانعام:6؍90) ’’یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، لہٰذا ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔‘‘ ۴۔ ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی داؤ دu کو بہت خوبصورت آواز سے نوازا تھا جس کے سبب سے ٹھوس پہاڑ اور پرندے جھوم اٹھتے تھے۔ جب آپ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پرندے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ تسبیح بیان کرتے۔ ۵۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے علم نافع عطا کرے، اسے دانائی اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے سرفراز کرے جیسا کہ اس نے اپنے بندے حضرت داؤ دu کو ان صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ۶۔ جب کبھی اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں اور اس کے انبیاء و رسل سے کوئی خلل واقع ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انھیں آزمائش اور ابتلا میں مبتلا کرتا ہے جس سے یہ خلل زائل ہو جاتا ہے اور وہ پہلے حال سے بھی زیادہ کامل حال کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو آزمائش پیش آئی۔ ۷۔ انبیاء ومرسلین اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں خطا سے پاک اور معصوم ہوتے ہیں کیونکہ اس وصف کے بغیر رسالت کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا لیکن کبھی کبھی طبیعت بشری کے تقاضوں کی بنا پر کسی معصیت کا ارتکاب ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے فوراً اس کا تدارک کر دیتا ہے۔ ۸۔ آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت داؤ دu اپنے غالب احوال میں، اپنے رب کی عبادت کے لیے اپنے محراب میں گوشہ نشین رہتے تھے، اسی لیے دونوں جھگڑنے والے اشخاص کو دیوار پھاند کر محراب میں آنا پڑا کیونکہ حضرت داؤ دu جب اپنی محراب میں چلے جاتے تو کوئی ان کے پاس نہ جا سکتا تھا۔ آپ کے پاس لوگوں کے بکثرت مقدمات آنے کے باوجود اپنا تمام وقت لوگوں کے لیے صرف نہیں کرتے تھے بلکہ انھوں نے اپنے لیے کچھ وقت مقرر کیا ہوا تھا جس میں خلوت نشیں ہو کر اپنے رب کی عبادت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے تھے۔ یہ عبادت تمام امور میں اخلاص کے لیے ان کی مدد کرتی تھی۔ ۹۔ حضرت داؤ دu کے قصہ سے مستنبط ہوتا ہے کہ حکاّم کے پاس حاضر ہونے میں ادب کو استعمال میں لایا جائے کیونکہ مذکورہ بالا دونوں اشخاص جب اپنا جھگڑا لے کر حضرت داؤ دu کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عام دروازے اور اس راستے سے آپ کے پاس نہیں گئے جو عام طور پر استعمال میں آتا تھا اس لیے حضرت داؤ دu ان کو دیکھ کر گھبرا گئے۔ یہ چیز آپ پر نہایت گراں گزری، ان کے خیال میں یہ صورت حال آپ کے لائق نہ تھی۔ ۱۰۔ جھگڑے کے کسی فریق کی طرف سوئے ادبی اور اس کا ناگوار رویہ حاکم کو حق کے مطابق فیصلہ کرنے سے نہ روکے۔ ۱۱۔ ان آیات مبارکہ سے حضرت داؤ دu کے کمال حلم کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ جب مذکورہ بالا دونوں شخص آپ کی اجازت طلب کیے بغیر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے… حالانکہ آپ وقت کے بادشاہ تھے… تو آپ ان پر ناراض ہوئے نہ ان کو جھڑکا اور نہ ہی انھیں کوئی زجروتوبیخ کی۔ ۱۲۔ آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مظلوم کے لیے ظالم کو اس قسم کے الفاظ سے مخاطب کرنا جائز ہے۔ ’’تو نے مجھ پر ظلم کیا‘‘ ’’اے ظالم‘‘! ’’اے مجھ پر زیادتی کرنے والے! ‘‘وغیرہ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں کہا تھا ﴿خَصۡمٰنِ بَغٰى بَعۡضُنَا عَلٰى بَعۡضٍ ﴾(صٓ: 38؍22) ’’ہم مقدے کے دو فریق ہیں۔ جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی۔‘‘ ۱۳۔ کوئی آدمی خواہ وہ کتنا ہی جلیل القدر اور صاحب علم کیوں نہ ہو، جب کوئی شخص خیرخواہی کرتے ہوئے اس کو نصیحت کرے تو اسے ناراض ہونا چاہیے نہ یہ نصیحت اس کو ناگوار گزرنی چاہیے بلکہ شکر گزاری کے ساتھ اسے قبول کر لینا چاہیے۔ کیونکہ مقدمے کے فریقین نے حضرت داؤ دu کو نصیحت کی تو آپ نے برا منایا نہ ناراض ہوئے اور نہ اس چیز نے آپ کو راہ حق سے ہٹایا بلکہ آپ نے صریح حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔ ۱۴۔ اس قصہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عزیز و اقارب اور دوستوں کا باہمی اختلاط، دنیاوی اور مالی تعلقات کی کثرت ان کے درمیان عداوت اور ایک دوسرے پر زیادتی کی موجب بنتی ہے، نیز یہ کہ اس قسم کی صورت حال سے صرف تقویٰ اور ایمان و عمل پر صبر ہی کے ذریعے سے بچا جا سکتا ہے اور یہی چیز لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ ۱۵۔ ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ استغفار اور عبادت، خاص طور پر نماز گناہوں کو مٹا دیتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu کی لغزش کی بخشش کو آپ کے استغفار اور سجود پر مترتب فرمایا۔ ۱۶۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں حضرت داؤ د اور حضرت سلیمانi کو اکرام و تکریم، اپنے قرب اور بہترین ثواب سے سرفراز فرمایا۔ ان کے بارے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا، اس کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے درجہ میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے مخلص بندوں پر کامل لطف و کرم ہے کہ جب وہ ان کی لغزشوں کو بخش دیتا ہے اور ان کے گناہوں کے اثرات کو زائل کر دیتا ہے تو ان پر مترتب ہونے والے تمام آثار کو بھی زائل کر دیتا ہے یہاں تک کہ ان اثرات کو مٹا دیتا ہے جو مخلوق کے دلوں میں واقع ہوتے ہیں کیونکہ جب مخلوق کو ان کے گناہ کا علم ہوتا ہے تو ان دلوں میں ان کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مخلوق کے دلوں میں اس اثر کو زائل کر دیتا ہے اور کریم و غفار کے لیے ایسا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ۱۷۔ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنا ایک دینی منصب ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور خاص بندوں کو مقرر فرمایا ہے، جسے یہ ذمہ داری سونپی جائے اسے حق کے ساتھ اور خواہشات نفس سے الگ ہو کر فیصلہ کرناچاہیے۔ حق کے ساتھ فیصلے کرنا امور شرعیہ کے علم، محکوم بہ مقدمے کی صورت کے علم اور اس کو حکم شرعی میں داخل کرنے کی کیفیت کے علم کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے علم سے بے بہرہ ہے وہ فیصلہ کرنے کے منصب کا اہل نہیں۔ اسے فیصلہ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ ۱۸۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ خواہش نفس سے بچے اور اس سے کنارہ کش رہے کیونکہ نفس خواہشات سے خالی نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرے تاکہ حق ہی اس کا مقصود و مطلوب ہو۔ فیصلہ کرتے وقت مقدمے کے فریقین میں سے کسی کے لیے محبت یا کسی کے لیے ناراضی دل سے نکال دے۔ ۱۹۔ حضرت سلیمانu حضرت داؤ دu کے فضائل ہی میں سے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حضرت داؤ دu پر احسان تھا کہ اس نے آپ کو سلیمانu سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ اسے صالح اولاد عطا کرے اور اگر اولاد عالم فاضل ہو تو یہ نور علیٰ نور ہے۔ ۲۰۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمانu کی مدح و ثنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’بہت اچھا بندہ اور نہایت کثرت سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔‘‘ ۲۱۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے خیرکثیر اور ان پر احسان ہے کہ وہ انھیں صالح اعمال اور مکارم اخلاق کی توفیق سے سرفراز کرتا ہے ، پھر ان اخلاق و اعمال کی بنا پر ان کی مدح و ثنا کرتا ہے، حالانکہ وہ خود ہی عطا کرنے والا ہے۔ ۲۲۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانu اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر چیز کی محبت پر ترجیح دیتے تھے۔ ۲۳۔ ان آیات سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو بندۂ مومن کو اللہ تعالیٰ سے غافل کر کے اپنے اندر مشغول کر لے وہ مذموم اور منحوس ہے۔ بندۂ مومن چاہیے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے اور اس چیز کی طرف توجہ دے جو اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ۲۴۔ ان آیات کریمہ سے یہ مشہور قاعدہ مستفاد ہوتا ہے کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیزترک کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عوض عطا کرتا ہے‘‘ چنانچہ سلیمانu نے اللہ تعالیٰ کی محبت کو مقدم رکھتے ہوئے، سدھائے ہوئے تیز رفتار گھوڑوں کو ذبح کر دیا، جو نفوس کو بہت محبوب ہوتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عوض عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے نرم رفتار ہوا کو مسخر کر دیا، جو آپ کے حکم سے اسی سمت میں جس کا آپ قصد و ارادہ کرتے، صبح کے وقت ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت ایک مہینے کی راہ تک چلتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے شیاطین کو مسخر کر دیا جو ایسے کام کر سکتے تھے جنھیں کرنے پر انسان قادر نہ تھے۔ ۲۵۔ سلیمانu ایک بادشاہ اور نبی تھے جو اپنی من مرضی کرسکتے تھے لیکن انھوں نے عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کیا۔ نبیٔ عبد کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوتا ہے اس کا ہر فعل و ترک صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے جیسا کہ ہمارے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ کا حال تھا اور یہ زیادہ کامل حال ہے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском