As-Sa'diAz‑Zumar · 39:1–10

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

الزمر

Az-Zumar

The Troops · Meccan · 75 ayahs

39:1–3Page 458

تَنزِيلُ ٱلۡكِتَٰبِ مِنَ ٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَكِيمِ ١

The revelation of the Book [i.e., the Qur’ān] is from Allāh, the Exalted in Might, the Wise.

إِنَّآ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ فَٱعۡبُدِ ٱللَّهَ مُخۡلِصٗا لَّهُ ٱلدِّينَ ٢

Indeed, We have sent down to you the Book, [O Muḥammad], in truth. So worship Allāh, [being] sincere to Him in religion.

أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ مَا نَعۡبُدُهُمۡ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَآ إِلَى ٱللَّهِ زُلۡفَىٰٓ إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِي مَا هُمۡ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي مَنۡ هُوَ كَٰذِبٞ كَفَّارٞ ٣

Unquestionably, for Allāh is the pure religion.1 And those who take protectors besides Him [say], "We only worship them that they may bring us nearer to Allāh in position." Indeed, Allāh will judge between them concerning that over which they differ. Indeed, Allāh does not guide he who is a liar and [confirmed] disbeliever.

(یہ) نازل کردہ کتاب ہے اللہ کی طرف سے، جو بڑا غالب، بہت حکمت والا ہے (1) بے شک ہم نے نازل کیا آپ کی طرف اس کتاب کو ساتھ حق کے، پس عبادت کیجیے آپ اللہ کی، خالص کرتے ہوئے ا س کے لیے بندگی کو(2) سنو! اللہ ہی کے لیے ہے بندگی خالص، اور وہ لوگ جنھوں نے بنا لیے، اس کےسوا، اور کارساز، (کہتے ہیں) نہیں عبادت کرتے ہم ان کی مگر اس لیے کہ قریب کر دیں وہ ہمیں اللہ کے زیادہ قریب، بے شک اللہ فیصلہ فرمائے گا درمیان ان کے ان باتوں میں کہ وہ ان میں اختلاف کرتے تھے، بلاشبہ اللہ نہیں ہدایت کرتا اس کو جو ہے جھوٹا ناشکرا(3)

[1] اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کی عظمت اور اس ہستی کے جلال کے بارے میں آگاہ کرتا ہے جس نے اس قرآن کے ذریعے سے کلام کیا اور جس کی طرف سے یہ قرآن نازل ہوا۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ قرآن، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔ مخلوق کے لیے الوہیت اس کا وصف ہے کیونکہ وہ عظمت و کمال اور عزت و غلبہ کا مالک ہے جس کی بنا پر وہ تمام مخلوق پر غالب اور ہر چیز اس کی مطیع اور اس کے سامنے سرافگندہ ہے۔ اس کی تخلیق و امر حکمت پر مبنی ہے۔ قرآن اس ہستی کی طرف سے نازل ہوا ہے جس کا یہ وصف ہے، کلام متکلم کا وصف ہے اور وصف ہمیشہ اپنے موصوف کے تابع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے کامل ہے، اس کا کوئی مثیل و نظیر نہیں اسی طرح اس کا کلام بھی ہر لحاظ سے کامل اور بے مثال و بے نظیر ہے۔ یہ ایک وصف ہی اللہ تعالیٰ کے مرتبہ پر دلالت کرنے کے لیے کافی ہے۔

[2] مگر بایں ہمہ، اللہ تعالیٰ نے جس ہستی پر اسے نازل فرمایا ہے اس کے ذریعے سے اس کے کمال کو بیان فرمایا اور وہ ہستی حضرت محمد مصطفیﷺ کی ذات بابرکات ہے جو تمام مخلوق میں سب سے زیادہ شرف کی حامل ہے۔ تب معلوم ہوا کہ یہ کتاب اپنی دعوت سمیت، تمام کتابوں میں سب سے زیادہ شرف کی حامل ہے اور یہ سراسر حق ہے۔ پس قرآن حق کے ساتھ نازل ہوا جو اپنی سچی خبروں اور عدل و انصاف پر مبنی احکام پر مشتمل ہے، تاکہ مخلوق کو گمراہی کی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت کی روشنی میں لائے اور یہ کتاب اپنی اخبار صادقہ اور اپنے احکام عادلہ کے بارے میں حق پر مشتمل نازل ہوئی۔ یہ کتاب تمام مطالب علمیہ میں سے جس چیز پر دلالت کرتی ہے، وہ سب سے بڑا حق ہے اور حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا باقی رہ جاتا ہے۔ چونکہ یہ قرآن حق کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، مخلوق کی ہدایت کے لیے حق پر مشتمل ہے اور تمام مخلوق میں سب سے زیادہ شرف کی حامل ہستی پر نازل کیا گیا ہے، اس لیے یہ نعمت بہت عظیم اور جلیل القدر ہے، اس کا شکر ادا کرنا فرض ہے اور اس کا شکریہ ہے کہ دین کو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیا جائے۔ بنابریں فرمایا:﴿فَاعۡبُدِ اللّٰهَ مُخۡلِصًا لَّهُ الدِّيۡنَ﴾ اپنے تمام دین یعنی ظاہری اور باطنی اعمالِ شریعت، (اسلام، ایمان اور احسان) کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیجیے۔ ان تمام امور میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھیے اور اس کے سوا آپ کا کوئی اور مقصد نہ ہو۔

[3]﴿اَلَا لِلّٰهِ الدِّيۡنُ الۡخَالِصُ ﴾ آیت کریمہ کا یہ ٹکڑا اخلاص کے حکم کو متحقق کرتا ہے اور اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے تمام تر کمال کا مالک ہے اور اس نے اپنے بندوں کو ہر لحاظ سے اپنے فضل و کرم سے نوازا ہے اسی طرح ہر قسم کے شک وشبے سے پاک دین خالص بھی اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ یہی وہ دین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے پسند فرمایا اور مخلوق میں سے چنے ہوئے بندوں کے لیے منتخب فرمایا اور اسی کو اختیار کرنے کا اپنے بندوں کو حکم دیا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی محبت، اس سے خوف، اس پر امید، اس کی طرف انابت کے ذریعے سے بندوں کے مطالب کے حصول میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کو متضمن ہے۔ یہی وہ دین ہے جو قلوب کی اصلاح کر کے ان کو پاک اور ان کی تطہیر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کسی بھی قسم کی عبادت میں شرک کرنا کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ شرک سے بری الذمہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا شرک سے کوئی تعلق نہیں اور وہ شریکوں سے، سب سے زیادہ بے نیاز ہے۔ شرک قلب و روح اور دنیاوآخرت کو فاسد کرتا ہے اور نفوس کو بدبختی کی انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ اس لیے جہاں اللہ تعالیٰ نے توحید اور اخلاص کا حکم دیا ہے، وہاں شرک سے بھی روکا ہے اور ان لوگوں کی مذمت کی خبر دی ہے جنھوں نے شرک کا ارتکاب کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَالَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ ﴾ یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ان کو پکارتے ہیں وہ انھیں اپنا والی و مددگار بناتے ہیں وہ اپنا عذر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ﴿مَا نَعۡبُدُهُمۡ اِلَّا لِيُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلۡفٰى ﴾ ’’ہم انھیں صرف ، اس لیے پوجتے ہیں کہ وہ ہم کو اللہ کا مقرب بنادیں۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری حاجتیں پیش کریں اور اس کے ہاں ہماری سفارش کریں۔ ورنہ درحقیقت ہمیں معلوم ہے کہ یہ کوئی چیز پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق دے سکتے ہیں اور نہ انھیں کسی قسم کا کچھ اختیار ہی حاصل ہے۔ یعنی ان مشرکین نے اخلاص کو چھوڑ دیا جس کو اختیار کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ سب سے بڑی چیز، یعنی شرک کاارتکاب کیا اور اس ہستی کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کیا جس کی نظر کوئی چیز نہیں، جو عظیم بادشاہ ہے۔ وہ اپنی فاسد عقل اور سقیم رائے کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ جس طرح بادشاہوں کی خدمت میں ان کے مقربین، سفارشیوں اور وزیروں کے بغیر حاضر نہیں ہوا جاسکتا جو رعایا کی ضروریات اور حاجتیں ان بادشاہوں تک پہنچاتے ہیں، رعایا کے لیے بادشاہوں سے رحم طلب کرتے ہیں ان بادشاہوں کے پاس رعایا کے معاملات پیش کرتے ہیں… اللہ تعالیٰ بھی ان بادشاہوں کی مانند ہے۔ یہ فاسد ترین قیاس ہے کیونکہ عقل و نقل اور فطرت کے مطابق خالق اور مخلوق کے درمیان عظیم فرق ہونے کے باوجود یہ قیاس خالق اور مخلوق میں مساوات کو متضمن ہے۔ بادشاہ براہ راست رعایا کے احوال نہیں جانتے اس لیے انھیں اپنے اور رعایا کے درمیان واسطے کی ضرورت ہوتی ہے، رعایا کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو بادشاہوں تک ان کے حالات پہنچائیں۔ بسااوقات ان بادشاہوں کے دلوں میں ضرورت مند کے لیے کوئی رحم نہیں ہوتا تب رعایا سفارش کرنے والوں اور وزراء وغیرہ کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور ان سے ڈرتے ہیں ۔ یہ لوگ بادشاہوں کے ہاں ان کے لیے مراعات کے حصول اور ان کی دلجوئی کے لیے واسطہ بننے والے سفارشیوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ بسااوقات رعایا خود محتاج اور مفلس ہوتی ہے اس لیے وہ محتاجی کے ڈر سے ان کی خاطرومدارات نہیں کر سکتی۔ جہاں تک رب تعالیٰ کا معاملہ ہے تووہ ایسی ہستی ہے جس کے علم نے تمام امور کے ظاہر اور باطن کا احاطہ کر رکھا ہے، وہ کسی ایسی ہستی کا محتاج نہیں جو اسے اس کے بندوں اور اس کی رعایا کے احوال سے آگاہ کرے، وہ سب سے بڑا رحم کرنے والا اور سب سے بڑھ کر سخی ہے، وہ مخلوق میں سے کسی ہستی کا محتاج نہیں جو اسے بندوں پر رحم کرنے پر آمادہ کرے بلکہ رب تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرتا ہے جو وہ خود اپنے آپ پر یا ان کے والدین ان پر رحم کرتے ہیں۔ وہ انھیں ترغیب دیتا ہے کہ وہ ایسے اسباب اختیار کریں جن کی بنا پر وہ اس کی رحمت کو حاصل کر لیں وہ ان کی بھلائی چاہتا ہے جو وہ خود بھی اپنے لیے نہیں چاہتے۔ اللہ تعالیٰ غنی ہے جو کامل غنائے مطلق کا مالک ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ اگر اول سے لے کر آخر تک تمام مخلوق، ایک میدان میں اکٹھی ہو جائے اور وہ اس سے اپنی اپنی ضرورت اور تمنا کے مطابق سوال کریں تو وہ سب کو عطا کرے گی۔ وہ اس کی غنا میں سے ذرہ بھر کمی کر سکتے ہیں نہ اس کے خزانوں میں، مگر اتنی سی کہ جو سمندر میں سوئی ڈبونے سے اس کے پانی میں کمی واقع ہوتی ہے، پھر تمام سفارشی اس سے ڈرتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکتا۔ تمام تر سفارش کا صرف وہی مالک ہے۔ اس فرق سے مشرکین کی جہالت، حماقت اور اللہ کے حضور ان کی جسارت ظاہر ہوتی ہے اور اس سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ شرک کے مرتکب کے لیے عدم مغفرت میں کیا حکمت ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ شرک اللہ تعالیٰ کی ذات میں جرح و قدح کو متضمن ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فریقین، یعنی مخلص مومنوں اور مشرکین کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا… اور اس میں مشرکین کے لیے تہدید بھی ہے ﴿اِنَّ اللّٰهَ يَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ فِيۡ مَا هُمۡ فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’بے شک جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں، اللہ ان میں ان کا فیصلہ کردے گا۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ معلوم ہے جو یہ ہے کہ مخلص اہل ایمان، نعمتوں بھری جنت میں ہوں گے اور جس کسی نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا، اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِيۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ راہ راست پر گامزن ہونے کی توفیق عطا نہیں کرتا ﴿مَنۡ هُوَؔ كٰذِبٌ كَفَّارٌ ﴾ ’’اس شخص کو جو جھوٹا اور ناشکرا ہو‘‘ یعنی جس کا وصف کذب اور کفر ہے، اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی نشانیاں اور نصیحتیں آتی ہیں، مگر اس کے برے اوصاف دور نہیں ہوتے، اللہ تعالیٰ اسے بڑے بڑے معجزات دکھاتا ہے، مگر یہ ان کا انکار کر دیتا ہے ان کے ساتھ کفر کرتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے۔ پس ان حالات میں ایسے شخص کے لیے ہدایت کیسے ہوسکتی ہے جس نے اپنے لیے ہدایت کا دروازہ بند کردیا ہو اور انجام کے طورپر اللہ تعالیٰ نے اس کے دل پر مہر لگا دی پس وہ ایمان نہیں لائے گا۔

39:4Page 458

لَّوۡ أَرَادَ ٱللَّهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَدٗا لَّٱصۡطَفَىٰ مِمَّا يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ سُبۡحَٰنَهُۥۖ هُوَ ٱللَّهُ ٱلۡوَٰحِدُ ٱلۡقَهَّارُ ٤

If Allāh had intended to take a son, He could have chosen from what He creates whatever He willed. Exalted is He; He is Allāh, the One, the Prevailing.1

اگر ارادہ کرتا اللہ(اس کا) کہ بنائے فرزند وہ، تو چن لیتا، ان میں سے جن کو وہ پیدا کرتا ہے، جس کو وہ چاہتا، (لیکن) وہ تو پاک ہے(ان چیزوں سے) وہ اللہ ایک ہے بڑا زبردست(4)

[4]﴿لَوۡ اَرَادَ اللّٰهُ اَنۡ يَّؔتَّؔخِذَ وَلَدًا﴾ ’’اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اپنا بیٹا بنانا چاہتا‘‘ جیسا کہ بعض بے وقوف لوگوں کا خیال ہے ﴿لَّاصۡطَفٰى مِمَّا يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ ﴾ تو وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن کر اپنے لیے مختص کر لیتا اور اسے اپنا بیٹا بنا لیتا اور اسے بیوی کی ضرورت نہ ہوتی۔ ﴿سُبۡحٰؔنَهٗ ﴾ مگر اللہ تبارک و تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک اور منزہ ہے جن کا یہ کفار اللہ تعالیٰ کے بارے میں گمان کرتے ہیں اور ملحدین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ﴿هُوَ اللّٰهُ الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات اور اپنے افعال میں ایک ہے، لہٰذا اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شبیہ ہے نہ مثیل۔ اگر اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہوتا تو وہ اپنی وحدت میں اس کا شبیہ ہونے کا مقتضی ہوتا، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حصہ اور اس کا جز ہوتا۔ وہ تمام عالم علوی اور عالم سفلی پر غالب ہے۔ اگر اس کا کوئی بیٹا ہوتا تو وہ مقہورومغلوب نہ ہوتا اور اپنے باپ کے خلاف جرأت اور گستاخی کر نے والا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی وحدت اور اس کا قہر لازم و ملزوم ہیں۔ صرف ایک ہستی ہی غالب اور قاہر ہو سکتی ہے۔ اس لیے یہ چیز ہر لحاظ سے شراکت کی نفی کرتی ہے۔

39:5–7Page 458

خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِٱلۡحَقِّۖ يُكَوِّرُ ٱلَّيۡلَ عَلَى ٱلنَّهَارِ وَيُكَوِّرُ ٱلنَّهَارَ عَلَى ٱلَّيۡلِۖ وَسَخَّرَ ٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَۖ كُلّٞ يَجۡرِي لِأَجَلٖ مُّسَمًّىۗ أَلَا هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡغَفَّٰرُ ٥

He created the heavens and earth in truth. He wraps the night over the day and wraps the day over the night and has subjected the sun and the moon, each running [its course] for a specified term. Unquestionably, He is the Exalted in Might, the Perpetual Forgiver.1

خَلَقَكُم مِّن نَّفۡسٖ وَٰحِدَةٖ ثُمَّ جَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ ٱلۡأَنۡعَٰمِ ثَمَٰنِيَةَ أَزۡوَٰجٖۚ يَخۡلُقُكُمۡ فِي بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمۡ خَلۡقٗا مِّنۢ بَعۡدِ خَلۡقٖ فِي ظُلُمَٰتٖ ثَلَٰثٖۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡ لَهُ ٱلۡمُلۡكُۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ فَأَنَّىٰ تُصۡرَفُونَ ٦

He created you from one soul. Then He made from it its mate, and He produced for you from the grazing livestock eight mates.1 He creates you in the wombs of your mothers, creation after creation, within three darknesses.2 That is Allāh, your Lord; to Him belongs dominion. There is no deity except Him, so how are you averted?

إِن تَكۡفُرُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِيٌّ عَنكُمۡۖ وَلَا يَرۡضَىٰ لِعِبَادِهِ ٱلۡكُفۡرَۖ وَإِن تَشۡكُرُواْ يَرۡضَهُ لَكُمۡۗ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٞ وِزۡرَ أُخۡرَىٰۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرۡجِعُكُمۡ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٧

If you disbelieve - indeed, Allāh is Free from need of you. And He does not approve for His servants disbelief. And if you are grateful, He approves [i.e., likes] it for you; and no bearer of burdens will bear the burden of another. Then to your Lord is your return, and He will inform you about what you used to do. Indeed, He is Knowing of that within the breasts.

پیدا کیا اس نے آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے، وہ لپیٹتا ہے رات کو اوپر دن کے اور لپیٹتا ہے دن کو اوپر رات کے، اور کام میں لگا دیا اس نے سورج اورچاند کو، ہرایک چل رہا ہے ایک وقت مقرر تک، سنو! وہ ہے بڑا غالب بہت بخشنے والا(5) اس نے پیدا کیا تمھیں ایک ہی جان سے، پھر بنایا اس نے اس سے جوڑا اس کا اور اتارے اس نے تمھارے لیے چارپایوں میں سے آٹھ جوڑے (نر اورمادہ)، پیدا کرتا ہے وہ تم کو تمھاری ماؤ ں کے پیٹوں میں، ایک (طرح کی) پیدائش بعد دوسری پیدائش کے، اندھیروں میں تین قسم کے یہ ہے اللہ رب تمھارا، اسی کی ہے بادشاہی، نہیں کوئی معبود مگروہی، پس کہاں تم پھیرے جاتے ہو؟(6) اگر کفرکرو گے تم تو اللہ بے پروا ہے تم سے، اور نہیں پسند کرتا وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو اور اگرشکر کرو گے تم تو پسند کرتا ہے وہ اسے تمھارے لیے اور نہیں بوجھ اٹھائے گا کوئی بوجھ اٹھانے والا بوجھ دوسرے کا ، پھر طرف اپنے پروردگار ہی کے تمھارا لوٹنا ہے، پس وہ خبر دے گا تمھیں ساتھ اس چیز کے جو تھے تم عمل کرتے، بلاشبہ وہ جانتا ہے راز سینوں کے(7)

[5] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ بے شک اس نے ﴿خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ زمین و آسمان کو حکمت اور مصلحت کے ساتھ پیدا کیا ہے تاکہ وہ بندوں پراپنے امرونہی کے ضابطے نافذ کرے اور ان کو ثواب و عقاب عطا کرے ﴿يُكَوِّرُ الَّيۡلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّيۡلِ ﴾ یعنی وہ رات اور دن دونوں کو ایک دوسرے میں داخل کرتا ہے، وہ دن اور رات دونوں کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے، دن اور رات کبھی یکجا نہیں ہوتے بلکہ جب ان میں سے ایک آتا ہے تو دوسرا علیحدہ ہو جاتا ہے۔ ﴿وَسَخَّرَ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ ﴾ اور اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو انتہائی منظم طور پر اور ایک خاص رفتار کے ساتھ مسخر کر رکھا ہے۔ ﴿كُلٌّ ﴾ یعنی چاند اور سورج ﴿يَّجۡرِيۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی تسخیر کے مطابق چلتے ہیں۔ ﴿لِاَجَلٍ مُّسَمًّى﴾ ’’ایک وقت مقررہ تک‘‘ یعنی ان دونوں کو ایک مدت مقررہ تک کے لیے مسخر کر رکھا ہے… یعنی اس دنیا کے خاتمے اور اس کے تباہ ہونے تک… اللہ تعالیٰ اس دنیا میں موجود ہر چیز کو، چاند اور سورج کو تباہ کر دے گا، پھر وہ مخلوق کو دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ وہ اپنے اپنے ٹھکانے یعنی جنت اور جہنم میں رہیں۔ ﴿اَلَا هُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو ہر چیز پر غالب اور قاہر ہے کوئی چیز اس کی نافرمانی نہیں کر سکتی۔ جس نے اپنی قوت عالیہ سے اس عظیم کائنات کو وجود بخشا اور اس کو مسخر کیا جو اس کے حکم کے تحت چل رہی ہے۔ ﴿الۡغَفَّارُ ﴾ وہ اپنے توبہ شعار بندوں کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَاِنِّيۡ لَغَفَّارٌ لِّمَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهۡتَدٰؔى ﴾(طٰہٰ: 20؍82) ’’اور جو کوئی توبہ کرے، ایمان لاکر نیک عمل کرے اور راہ راست اختیار کرے، تو میں اسے بخش دیتا ہوں۔‘‘ میں اس شخص کو بھی بخش دیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں کو دیکھنے اور شرک کرنے کے بعد ایمان لے آئے۔

[6] یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہے کہ ﴿خَلَقَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ تمھاری کثرت اور زمین کے دور دراز گوشوں میں پھیل جانے کے باوجود، اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے۔ ﴿ثُمَّ جَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا ﴾’’پھر اس کا جوڑا بنایا۔‘‘ تاکہ وہ اس کے پاس سکون حاصل کرے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہو۔﴿وَاَنۡزَلَ لَكُمۡ مِّنَ الۡاَنۡعَامِ ﴾ ’’اور اسی نے تمھارے لیے چوپایوں میں سے بنائے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی تقدیر سے تخلیق فرمایا جو آسمان سے نازل ہوتی ہے، یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے ﴿ثَمٰنِيَةَ اَزۡوَاجٍ ﴾ ’’آٹھ جوڑے‘‘ اس سے مراد وہ مویشی ہیں جن کا سورۃ الانعام میں ذکر آیا ہے ﴿ثَمٰنِيَةَ اَزۡوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاۡنِ اثۡنَيۡنِ وَمِنَ الۡمَعۡزِ اثۡنَيۡنِ ﴾(الانعام: 6/143) ’’یہ چوپائے آٹھ قسم کے ہیں دو بھیڑوں میں سے اور دو بکریوں میں سے‘‘ ﴿وَمِنَ الۡاِبِلِ اثۡنَيۡنِ وَمِنَ الۡبَقَرِ اثۡنَيۡنِ ﴾(الانعام: 6؍144) اور دو اونٹوں میں سے اور دو گایوں میں سے۔‘‘ متذکرہ بالا مویشیوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے مصالح کے لیے بہت سے مویشی تخلیق فرمائے ہیں، مگر مذکورہ مویشوں میں فوائد کی کثرت، ان کے مصالح کی عمومیت اور ان کے شرف کی بنا پر خاص طور پر ان کا ذکر کیا ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ یہ بعض امور کے لیے مخصوص ہیں جن کے لیے کوئی دوسرا مویشی مخصوص نہیں ہے، مثلاً: قربانی، ہدی، عقیقہ، ان میں زکاۃ کا واجب ہونا اور دیت کی ادائیگی کے لیے ان کا مختص ہونا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے جدامجد اور ہماری ماں (حضرت حوا[) کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد ہماری تخلیق کی ابتدا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَخۡلُقُكُمۡ فِيۡ بُطُوۡنِ اُمَّهٰؔتِكُمۡ خَلۡقًا مِّنۢۡ بَعۡدِ خَلۡقٍ ﴾’’اللہ تعالیٰ تمھیں تمھاری ماؤ ں کے پیٹوں میں ایک مرحلہ کے بعد دوسرے مرحلے میں تخلیق دیتا چلا جاتا ہے‘‘ اور تمھاری یہ حالت ہوتی ہے کہ کسی مخلوق کا ہاتھ تمھیں چھو سکتا ہے نہ کوئی آنکھ تمھیں دیکھ سکتی ہے۔ اس تنگ جگہ پر اللہ تعالیٰ نے تمھاری پرورش کی ہے ﴿فِيۡ ظُلُمٰؔتٍ ثَلٰثٍ ﴾ ’’تین اندھیروں میں‘‘ یعنی پیٹ کا اندھیرا، رحم کا اندھیرا اور اس جھلی کا اندھیرا جس میں بچہ لپٹا ہوتا ہے۔ ﴿ذٰلِكُمُ ﴾ وہ ہستی جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، سورج اور چاند کو مسخر کیا، جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھارے لیے مویشی اور نعمتیں پیدا کیں۔ ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ اللہ، تمھارا معبود حقیقی ہے۔ جس نے تمھاری پرورش کی اور تمھاری تدبیر کی۔ جس طرح وہ تمھیں پیدا کرنے اور تمھاری پرورش کرنے میں اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اپنی الوہیت میں بھی اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصۡرَفُوۡنَ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو؟‘‘ اس توضیح کے بعد اس استحقاق کو بیان فرمایا کہ بتوں کی عبادت کی بجائے اللہ تعالیٰ کے لیے عبادت کو خالص کیا جائے، جو کسی چیز کی تدبیر کرتے ہیں نہ انھیں کوئی اختیار ہے۔

[7]﴿اِنۡ تَكۡفُرُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنۡكُمۡ ﴾ ’’اگر ناشکری کروگے تو اللہ تم سے بے نیاز ہے۔‘‘ جس طرح تمھاری اطاعت اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی اسی طرح تمھارا کفر اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، بلکہ تمھارے لیے اس کا امرونہی تم پر اس کا محض فضل و احسان ہے ﴿وَلَا يَرۡضٰى لِعِبَادِهِ الۡكُفۡرَ ﴾ ’’اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری پسند نہیں کرتا۔‘‘ کیونکہ ان پر اس کا کامل احسان ہے اسے معلوم ہے کہ کفر ان کو ایسی بدبختی میں مبتلا کر دے گا کہ اس کے بعد انھیں کبھی خوش بختی نصیب نہ ہو گی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہی وہ غرض و غایت ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، اس لیے اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ بندے اس مخلوق کو پکاریں جس کو اس مقصد کے لیے تخلیق نہیں کیا گیا ﴿وَاِنۡ تَشۡكُرُوۡا ﴾ اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے لیے دین میں اخلاص اختیار کر کے اس کا شکر ادا کرو تو ﴿يَرۡضَهُ لَكُمۡ ﴾ ’’وہ اس کو تمھارے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘ کیونکہ تم پر اس کی بے پایاں رحمت سایہ کناں ہے، وہ تم پر احسان کو پسند کرتا ہے اور تم اس فعل کو بجا لارہے ہو جس کے لیے تمھیں پیدا کیا گیا ہے۔تمھارے شرک سے اسے کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے نہ تمھارے اعمال اور تمھاری توحید سے اسے کوئی فائدہ، تم میں سے ہر شخص کا اچھا برا عمل اسی کے لیے ہے۔ ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾ ’’کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ ﴿ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ مَّرۡجِعُكُمۡ ﴾ ’’، پھر تم کو اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے‘‘ یعنی قیامت کے روز ﴿فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’ وہ تمھارے اعمال کے بارے میں آگاہ کرے گا‘‘ جن کا اس کے علم نے احاطہ کر رکھا ہے، جن پر اس کا قلم جاری ہو چکا ہے، جنھیں معزز محافظین نے صحیفوں میں درج کر رکھا ہے اور جن پر تمھارے جوارح تمھارے خلاف گواہی دیں گے اور وہ تم میں سے ہر ایک کو اس کے استحقاق کے مطابق جزا دے گا۔ ﴿اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ اللہ تعالیٰ سینوں کے اندر پنہاں نیکی اور برائی کے اوصاف کو خوب جانتا ہے۔ اس آیت کریمہ کا مقصود کامل عدل و انصاف پر مبنی جزا و سزا کے بارے میں خبر دینا ہے۔

39:8Page 459

۞ وَإِذَا مَسَّ ٱلۡإِنسَٰنَ ضُرّٞ دَعَا رَبَّهُۥ مُنِيبًا إِلَيۡهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُۥ نِعۡمَةٗ مِّنۡهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدۡعُوٓاْ إِلَيۡهِ مِن قَبۡلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَندَادٗا لِّيُضِلَّ عَن سَبِيلِهِۦۚ قُلۡ تَمَتَّعۡ بِكُفۡرِكَ قَلِيلًا إِنَّكَ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلنَّارِ ٨

And when adversity touches man, he calls upon his Lord, turning to Him [alone]; then when He bestows on him a favor from Himself, he forgets Him whom he called upon before,1 and he attributes to Allāh equals to mislead [people] from His way. Say, "Enjoy your disbelief for a little; indeed, you are of the companions of the Fire."

اور جب پہنچتی ہے انسان کو کوئی تکلیف تو پکارتا ہے اپنے رب کو رجوع کرتے ہوئے اس کی طرف، پھرجب عطا کرتا ہے وہ اسے کوئی نعمت اپنی طرف سے تو بھول جاتا ہے وہ اس کو جو تھا وہ پکارتا اس کی طرف اس سے پہلے اور ٹھہراتا ہے اللہ کے لیے شریک تاکہ گمراہ کرے اس کے راستے سے، کہہ دیجیے:فائدہ اٹھا ساتھ اپنے کفر کے تھوڑا، بلاشبہ تو دوزخیوں میں سے ہے(8)

[8] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے پر اپنے فضل و کرم اور اپنے احسان اور بندے کی ناشکری کا ذکر کرتا ہے، بندے کو جب مرض اور فقروفاقہ وغیرہ کی کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا وہ سمندر وغیرہ میں گھر جاتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس صورت حال میں اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا تو نہایت عاجزی اور انابت کے ساتھ اسے پکارتا ہے اور اس مصیبت کو دور کرنے میں گڑگڑا کر اس سے مدد طلب کرتا ہے۔ ﴿ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعۡمَةً مِّؔنۡهُ ﴾ ’’ پھر جب اللہ تعالیٰ اسے نعمت سے نواز دیتا ہے‘‘ اور اس سے مصیبت اور تکلیف کو دور کر دیتا ہے ﴿نَسِيَ مَا كَانَ يَدۡعُوۡۤا اِلَيۡهِ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ تو وہ اس تکلیف اور مصیبت کو بھول جاتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کو پکارتا تھا اور اس طرح گزرتا ہے گویا اس پر کبھی کوئی مصیبت نازل ہی نہیں ہوئی اور یوں اپنے شرک پر جما رہتا ہے۔ ﴿وَجَعَلَ لِلّٰهِ اَنۡدَادًؔا لِّيُضِلَّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ﴾ ’’اور اللہ کا شریک بنانے لگتا ہے تاکہ (لوگوں کو)اس کے راستے سے گمراہ کرے۔‘‘ یعنی خود اپنے نفس کو بھی گمراہ کرے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے کیونکہ دوسروں کو گمراہ کرنا، گمراہ ہونے ہی کا ایک شعبہ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے لازم پر دلالت کرنے کے لیے ملزوم کا ذکر کیا ہے۔﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے!‘‘ اس سرکش انسان سے جس نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل ڈالا ﴿تَمَتَّعۡ بِكُفۡرِكَ قَلِيۡلًا١ۖ ۗ اِنَّكَ مِنۡ اَصۡحٰؔبِ النَّارِ ﴾ ’’اپنے کفر کاتھوڑا سا فائدہ اٹھالے یقیناتو جہنمیوں میں سے ہے۔‘‘ جب تیرا انجام جہنم ہے تو یہ نعمتیں جن سے تو فائدہ اٹھا رہا ہے تیرے کسی کام نہ آئیں گی۔ ﴿اَفَرَءَيۡتَ اِنۡ مَّتَّعۡنٰهُمۡ سِنِيۡنَۙ۰۰ ثُمَّ جَآءَهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُوۡعَدُوۡنَۙ۰۰ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُمَتَّعُوۡنَ﴾(الشعراء :26؍205-207) ’’کیا آپ نے دیکھا کہ اگر ہم انھیں مہلت دے کر برسوں فائدہ اٹھانے دیں ، پھر ان کے پاس وہ چیز آ جائے جس سے انھیں ڈرایا جا رہا تھا تو یہ سامان زیست جو انھیں عطا کیا گیا ہے، ان کے کسی کام نہ آئے گا۔‘‘

39:9Page 459

أَمَّنۡ هُوَ قَٰنِتٌ ءَانَآءَ ٱلَّيۡلِ سَاجِدٗا وَقَآئِمٗا يَحۡذَرُ ٱلۡأٓخِرَةَ وَيَرۡجُواْ رَحۡمَةَ رَبِّهِۦۗ قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِي ٱلَّذِينَ يَعۡلَمُونَ وَٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ ٩

Is one who is devoutly obedient during periods of the night, prostrating and standing [in prayer], fearing the Hereafter and hoping for the mercy of his Lord, [like one who does not]? Say, "Are those who know equal to those who do not know?" Only they will remember [who are] people of understanding.

کیا (یہ برابر ہو سکتا ہے اس کے) جو شخص کہ وہ عبادت کرنے والا ہو رات کی گھڑیوں میں سجدہ کرتے اور کھڑے، ڈرتا ہے آخرت سے اور امید رکھتا ہے اپنے رب کی رحمت کی، کہہ دیجیے! کیا برابر ہو سکتے ہیں وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو نہیں علم رکھتے؟ بلاشبہ نصیحت تو پکڑتے ہیں عقل والے ہی(9)

[9]یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے اور نافرمانی کرنے والے کے درمیان اور عالم اور جاہل کے مابین مقابلہ ہے۔ نیز اس کا شمار ایسے امور میں ہوتا ہے جن کا تضاد عقل انسانی میں راسخ اور ان کے درمیان تفاوت یقینی طور پر معلوم ہے۔ پس اپنے رب کی اطاعت سے روگرداں اور خواہشات کی پیروی کرنے والا اس شخص کی مانند نہیں ہو سکتا ہے جو افضل اوقات یعنی رات کے اوقات میں بہترین عبادت، یعنی نماز کے ذریعے سے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرماں برداری کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بہترین اعمال کو کثرت کے ساتھ بجالانے کے وصف سے موصوف کیا، پھر اسے خوف اور امید کی صفات سے موصوف کیا، نیز ذکر فرمایا کہ خوف ان گناہوں کے بارے میں آخرت کے عذاب سے تعلق رکھتا ہے، جو اس سے سرزد ہو چکے ہیں اور امید کا تعلق اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ظاہری اور باطنی عمل سے موصوف فرمایا۔﴿قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِي الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے کیا وہ برابر ہوسکتے ہیں جو جانتے ہیں۔‘‘ جو اپنے رب، اس کے دین شرعی، دین جزائی اور دین کے اسرار اور حکمتوں کا علم رکھتے ہیں ﴿وَالَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ اور جو ان مذکورہ امور کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے؟ یہ دونوں قسم کے لوگ کبھی برابر نہیں ہوتے جس طرح رات اور دن، روشنی اور اندھیرا اور آگ اور پانی برابر نہیں ہوتے۔ ﴿اِنَّمَا يَتَذَكَّـرُ ﴾ جب نصیحت کی جاتی ہے تو صرف وہی لوگ نصیحت پکڑتے ہیں ﴿اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴾ جو صاف ستھری اور تیز عقل کے مالک ہیں۔ پس یہی لوگ اعلیٰ کو ادنیٰ پر مقدم رکھتے ہیں، چنانچہ یہ لوگ علم کو جہالت پر اور اللہ کی اطاعت کو اس کی مخالفت پر ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ان کی عقل ان کو عواقب میں غوروفکر کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اس کے برعکس بے عقل شخص اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیتا ہے۔

39:10Page 459

قُلۡ يَٰعِبَادِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ رَبَّكُمۡۚ لِلَّذِينَ أَحۡسَنُواْ فِي هَٰذِهِ ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٞۗ وَأَرۡضُ ٱللَّهِ وَٰسِعَةٌۗ إِنَّمَا يُوَفَّى ٱلصَّٰبِرُونَ أَجۡرَهُم بِغَيۡرِ حِسَابٖ ١٠

Say,1 "O My servants who have believed, fear your Lord. For those who do good in this world is good, and the earth of Allāh is spacious. Indeed, the patient will be given their reward without account [i.e., limit]."

کہہ دیجیے :اے میرے بندو! جو ایمان لائے! ڈرو اپنے رب سے، واسطے ان لوگوں کے، جنھوں نے اچھے عمل کیے اس دنیا میں، بھلائی ہے، اور زمین اللہ کی کشادہ ہے، بلاشبہ پورا دیا جائے گا صبر کرنے والوں کو، ثواب ان کا، بے شمار (10)

[10] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اشرف المخلوقات یعنی اہل ایمان کو دینی امور میں سے سب سے بہتر چیز تقوی کا حکم دیتے ہوئے کہہ دیجیے اور ان کے سامنے اس سبب کا بھی ذکر کیجیے جو تقویٰ کا موجب ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اس کی نعمتوں کا اقرار، جو ان سے تقویٰ اختیار کرنے کا تقاضا کرتی ہیں اور ان میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اس نے ان کو ایمان کی دولت سے سرفراز فرمایا، جو تقویٰ کا موجب ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے آپ کسی سخی شخص سے کہیں ’’اے سخی! صدقہ کر‘‘ اور کسی بہادر شخص سے کہیں ’’اے بہادر لڑائی کر۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے ثواب کا ذکر فرمایا جو دنیا میں ان کے اندر نشاط پیدا کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’جنھوں نے اس دنیا میں نیکی کی‘‘ اپنے رب کی عبادت کے ذریعے سے تو ان کے لیے ﴿حَسَنَةٌ ﴾ ’’بھلائی‘‘ لامحدود رزق، نفس مطمئنہ اور انشراح قلب ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَنُحۡيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ﴾(النحل: 16؍97)’’جو کوئی بھی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہو، ہم اسے نہایت پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے۔‘‘﴿وَاَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ ﴾ ’’اور اللہ کی زمین وسیع ہے۔‘‘ یعنی اگر تمھیں زمین کے کسی خطے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روک دیا جائے تو زمین کے کسی دوسرے خطے کی طرف ہجرت کر جاؤ جہاں تم اپنے رب کی عبادت کر سکو اور جہاں تمھارے لیے اقامت دین ممکن ہو۔جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةٌ ﴾ اور چونکہ یہ نص عام ہے… تو اس مقام پر بعض لوگوں کے لیے یہ کہنے کی مجال تھی کہ جو شخص بھی نیک کام کرے گا اس کے لیے دنیا میں بھلائی ہے، تو اس شخص کا کیا حال ہے جو کسی خطۂ زمین میں ایمان لایا بایں ہمہ وہ مظلوم اور محکوم و مجبور ہے اور وہ اس بھلائی سے محروم ہے؟ اس لیے اس گمان کا جواب ان الفاظ میں فرمایا:﴿وَاَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ ﴾ ’’اور اللہ کی زمین بڑی فراخ ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہے۔ حضرت نبی اکرم ﷺ نے بھی اس بشارت کو ان الفاظ میں منصوص فرمایا ’’میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، کسی کا ان سے علیحدہ ہونا اور مخالفت کرنا انھیں کوئی نقصان نہ دے سکے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ پہنچے گا اور یہ گروہِ حق اسی نہج پر ہو گا۔‘‘ (صحیح البخاري، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ ﴿انما قولنا لشئي اذا اردنٰه﴾‘ ح:7460۔ وصحیح مسلم، الجہاد، باب قولہﷺ لاتزال طائفۃ من امتي…، ح: 1920۔) یہ آیت کریمہ اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس کی زمین بہت کشادہ ہے اس لیے جب کبھی بھی کسی جگہ تمھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روک دیا جائے تو تم کسی دوسری جگہ ہجرت کر جاؤ ۔ ہر زمان و مکان میں یہ حکم عام ہے۔ تب لازم ٹھہرا کہ ہر ہجرت کرنے والے مومن کے لیے مسلمانوں کے اندر کوئی ٹھکانا ہو جہاں وہ پناہ لے سکے اور ایک جگہ ہو جہاں وہ اپنے دین کو قائم کر سکے۔ ﴿اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰؔبِرُوۡنَ اَجۡرَهُمۡ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’جو صبر کرنے والے ہیں، انھیں بے شمار ثواب ملے گا۔‘‘ یہ آیت کریمہ صبر کی تمام انواع کے لیے عام ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضا و قدر پر اس طرح صبر کرنا کہ اس میں ناراضی کا شائبہ نہ ہو، گناہ اور معاصی کے مقابلے میں صبر کرتے ہوئے ان کے ارتکاب سے بچنا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کرتے ہوئے اس پر قائم رہنا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے صبر شعار لوگوں کے لیے بے حساب اجر کا وعدہ کیا ہے، یعنی کسی حد، تعداد اور مقدار کے بغیر۔ یہ صبر کی فضیلت ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں اس موقع ومحل ہے اور بلاشبہ یہ ہر معاملے میں معین ہے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском