As-Sa'diAz‑Zumar · 39:45–63

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Az-Zumar 39:45–63

39:45–46Page 463

وَإِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَحۡدَهُ ٱشۡمَأَزَّتۡ قُلُوبُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِۖ وَإِذَا ذُكِرَ ٱلَّذِينَ مِن دُونِهِۦٓ إِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُونَ ٤٥

And when Allāh is mentioned alone, the hearts of those who do not believe in the Hereafter shrink with aversion, but when those [worshipped] other than Him are mentioned, immediately they rejoice.

قُلِ ٱللَّهُمَّ فَاطِرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ عَٰلِمَ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ أَنتَ تَحۡكُمُ بَيۡنَ عِبَادِكَ فِي مَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ ٤٦

Say, "O Allāh, Creator of the heavens and the earth, Knower of the unseen and the witnessed, You will judge between your servants concerning that over which they used to differ."

اور جب ذکرکیا جاتا ہے اللہ اکیلے کا تو (توحید الٰہی سے) نفرت کرتے (تنگ پڑ جاتے) ہیں دل ان کے جو نہیں ایمان رکھتے آخرت پراور جب ذکر کیاجاتا ہے ان (معبودوں) کا جو اس کے سوا ہیں تو اس وقت وہ بڑے خوش ہوتے ہیں(45) کہہ دیجیے: اے اللہ! پیدا کرنے والے آسمانوں اور زمین کے، جاننے والے چھپے اور ظاہر کے! تو ہی فیصلہ کرے گا درمیان اپنے بندوں کے ا ن باتوں میں کہ تھے وہ ان میں اختلاف کرتے (46)

[45، 46] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے حال اور ان کے شرک کے تقاضے کا ذکر کرتا ہے۔ ﴿وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحۡدَهُ ﴾ ’’جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے‘‘ یعنی جب اس کی توحید کا ذکر کیا جاتا ہے، دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرکے عمل کرنے اور اس کے سوا دیگر معبودوں کو چھوڑنے کے لیے کہا جاتا ہے جن کی وہ عبادت کرتے ہیں، تو وہ منقبض ہو جاتے ہیں، نفرت کرتے ہیں اور شدید ناگواری کا اظہار کرتے ہیں۔ ﴿وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ﴾ اور جب اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں اور خود ساختہ معبودوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور دعوت دینے والا ان کی عبادت اور ان کی مدح کی دعوت دیتا ہے۔ ﴿اِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾ تو وہ اپنے معبودوں کا ذکر سن کر فرحت اور خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔ کیونکہ شرک ان کی خواہشات نفس کے موافق ہے ، ان کی یہ حالت بدترین حالت ہے، مگر ان سے روز جزا تک کے لیے مہلت کا وعدہ کیا گیا ہے، اس لیے اس دن ان سے حق وصول کیا جائے گا اور اس دن دیکھا جائے گا کہ آیا ان کے معبود ان کو کوئی فائدہ دے سکتے ہیں جن کی یہ لوگ عبادت کیا کرتے ہیں؟ اسی لیے فرمایا:﴿قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ یعنی کہہ دیجیے: اے اللہ! زمین و آسمان کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے والے ﴿عٰؔلِمَ الۡغَيۡبِ ﴾ اور ان تمام امور کو جاننے والے جو ہماری آنکھوں اور ہمارے علم سے غائب ہیں ﴿وَالشَّهَادَةِ ﴾ اور جن کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔ ﴿اَنۡتَ تَحۡكُمُ بَيۡنَ عِبَادِكَ فِيۡ مَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’تو ہی اپنے بندوں میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں، فیصلہ کرے گا۔‘‘ اور سب سے بڑا اختلاف جو موحد و مخلص بندوں، جو کہتے ہیں کہ ان کا موقف حق ہے اور آخرت میں صرف انھی کے لیے بھلائی ہے، اور مشرکین کے درمیان ہے جنھوں نے تجھے چھوڑ کر بتوں اور دوسری ہستیوں کو اپنا معبود بنا لیا اور ان ہستیوں کو تیرے برابر ٹھہرایا جو کسی طرح بھی برابر نہیں ہیں وہ تجھے انتہائی حد تک ناقص قرار دیتے ہیں، جب ان کے خود ساختہ معبودوں کا ذکر ہوتا ہے تو خوشی سے کھل اٹھتے ہیں اور جب تیرا ذکر ہوتا ہے تو وہ نہایت کراہت سے منقبض ہو جاتے ہیں بایں ہمہ ان کو زعم ہے کہ وہ حق پر ہیں اور دوسرے باطل پر ہیں اور وہ آخرت میں بھلائی سے بہرہ مند ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ هَادُوۡا وَالصّٰؔبِــِٕيۡنَ وَالنَّصٰرٰى وَالۡمَجُوۡسَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡۤا١ۖ ۗ اِنَّ اللّٰهَ يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾(الحج: 22؍17) ’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے، جو یہودی، عیسائی، صابی اور مجوسی ہیں اور وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان سب کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ بے شک اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اس کے بعد آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے فیصلے سے آگاہ فرمایا:﴿هٰؔذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِيۡ رَبِّهِمۡ١ٞ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا قُطِّعَتۡ لَهُمۡ ثِيَابٌ مِّنۡ نَّارٍ١ؕ يُصَبُّ مِنۡ فَوۡقِ رُؔءُوۡسِهِمُ الۡحَمِيۡمُۚ۰۰ يُصۡهَرُ بِهٖ مَا فِيۡ بُطُوۡنِهِمۡ وَالۡجُلُوۡدُؕ۰۰ وَلَهُمۡ مَّقَامِعُ مِنۡ حَدِيۡدٍ۰۰كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَا مِنۡ غَمٍّ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا١ۗ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِؒ۰۰ اِنَّ اللّٰهَ يُدۡخِلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ يُحَلَّوۡنَ فِيۡهَا مِنۡ اَسَاوِرَ مِنۡ ذَهَبٍ وَّلُؤۡلُؤًا١ؕ وَلِبَاسُهُمۡ فِيۡهَا حَرِيۡرٌ ﴾(الحج: 22؍19-23) ’’یہ جھگڑے کے دو فریق ہیں جنھوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا۔ پس ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان کو آگ کے کپڑے پہنائے جائیں گے اور ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا۔ جس سے ان کی کھالیں اور پیٹ کے اندر تک کے حصے گل جائیں گے اور ان کے لیے لوہے کے گرز ہوں گے، جب بھی وہ غم کے مارے جہنم سے نکلنا چاہیں گے تو اسی میں لوٹادیے جائیں گے (اور انھیں کہا جائے گا:) اب جلا دینے والے عذاب کا مزا چکھو، بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اللہ تعالیٰ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ انھیں اس میں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان کے لباس ریشم کے ہوں گے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ يَلۡبِسُوۡۤا اِيۡمَانَهُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الۡاَمۡنُ وَهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾(الانعام: 6؍82) ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہ کیا، وہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے (مکمل) امن ہے اور وہی راہ راست پر ہیں۔‘‘ اور فرمایا: ﴿اِنَّهٗ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ ﴾(المائدۃ: 5؍72) ’’جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو بلاشبہ اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے عموم تخلیق، عموم علم اور بندوں کے درمیان عموم حکم کا بیان ہے، تمام مخلوقات اس کی قدرت سے پیدا ہوئی ہے اس کا علم ہر شے کو محیط ہے اور دلالت کرتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور انھیں دوبارہ زندہ کرے گا، بندوں کے اچھے برے اعمال اور ان کی جزاوسزا اور اس کی تخلیق اس کے علم پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ ﴾(الملک:67؍14)’’ کیا وہ نہیں جانتا جس نے (انھیں) پیدا کیا؟‘‘

39:47–48Page 463

وَلَوۡ أَنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ مَا فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا وَمِثۡلَهُۥ مَعَهُۥ لَٱفۡتَدَوۡاْ بِهِۦ مِن سُوٓءِ ٱلۡعَذَابِ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ وَبَدَا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مَا لَمۡ يَكُونُواْ يَحۡتَسِبُونَ ٤٧

And if those who did wrong had all that is in the earth entirely and the like of it with it, they would [attempt to] ransom themselves thereby from the worst of the punishment on the Day of Resurrection. And there will appear to them from Allāh that which they had not taken into account.1

وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّـَٔاتُ مَا كَسَبُواْ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ ٤٨

And there will appear to them the evils they had earned, and they will be enveloped by what they used to ridicule.

اور اگر بلاشبہ ہو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا جو کچھ زمین میں ہے سب اور اس کی مثل اس کے ساتھ (اور بھی) تو وہ البتہ فدیے میں دے دیں اسے برے عذاب سے، قیامت کے دن، اور ظاہر ہو جائے گا ان کے لیے اللہ کی طرف سے وہ (عذاب) جس کا نہیں تھے وہ گمان کرتے (47) اورظاہر ہو جائیں گی ان کے لیے برائیاں ان (عملوں)کی جو انھوں نے کمائے ہو ں گے اور گھیر لے گا ان کو وہ (عذاب) کہ تھے وہ جس کے ساتھ ٹھٹھا کرتے (48)

[47] اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، مشرکین کے قول اور اس کی قباحت کا ذکر کیا۔ گویا نفوس اس انتظار میں ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کے لیے ﴿سُوۡٓءِ الۡعَذَابِ ﴾ سخت ترین اور بدترین عذاب ہے جس طرح وہ سخت ترین اور بدترین کفر کی باتیں کیا کرتے تھے۔ فرض کیا زمین کا تمام سونا، چاندی، جواہرات، اس کے تمام حیوانات، اس کے تمام درخت اور کھیتیاں، اس کے تمام برتن اور اثاثے اور اتنا ہی سب کچھ اور ان کی ملکیت ہو اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے خرچ کریں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان میں سے کچھ بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے کام نہیں آسکے گا ﴿يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ﴾(الشعراء: 26؍88، 89) ’’اس روز مال فائدہ دے گا نہ بیٹے، سوائے اس کے جو قلب سلیم کے ساتھ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔‘‘

[48]﴿وَبَدَا لَهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمۡ يَكُوۡنُوۡا يَحۡتَسِبُوۡنَ ﴾’’اور ان پر اللہ کی طرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا انھیں خیال بھی نہ تھا۔‘‘ یعنی اس بہت بڑی ناراضی کا تو انھیں گمان تک نہ تھا وہ تو اپنے بارے میں اس کے برعکس فیصلے کرتے رہے تھے۔﴿وَبَدَا لَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا ﴾ یعنی ان کے کرتوتوں کے سبب ان پر وہ امور ظاہر ہوں گے جو ان کو بہت برے لگیں گے ﴿وَحَاقَ بِهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ اور وہ عذاب اور وعید جن کا یہ تمسخر اڑایا کرتے تھے، وہ ان پر آنازل ہوگی۔

39:49–52Page 464

فَإِذَا مَسَّ ٱلۡإِنسَٰنَ ضُرّٞ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلۡنَٰهُ نِعۡمَةٗ مِّنَّا قَالَ إِنَّمَآ أُوتِيتُهُۥ عَلَىٰ عِلۡمِۭۚ بَلۡ هِيَ فِتۡنَةٞ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ٤٩

And when adversity touches man, he calls upon Us; then when We bestow on him a favor from Us, he says, "I have only been given it because of [my] knowledge." Rather, it is a trial, but most of them do not know.

قَدۡ قَالَهَا ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ فَمَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ ٥٠

Those before them had already said it, but they were not availed by what they used to earn.

فَأَصَابَهُمۡ سَيِّـَٔاتُ مَا كَسَبُواْۚ وَٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنۡ هَٰٓؤُلَآءِ سَيُصِيبُهُمۡ سَيِّـَٔاتُ مَا كَسَبُواْ وَمَا هُم بِمُعۡجِزِينَ ٥١

And the evil consequences of what they earned struck them. And those who have wronged of these [people] will be struck [i.e., afflicted] by the evil consequences of what they earned; and they will not cause failure.1

أَوَلَمۡ يَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ٥٢

Do they not know that Allāh extends provision for whom He wills and restricts [it]? Indeed in that are signs for a people who believe.

پس جب پہنچتی ہے انسان کو کوئی تکلیف تو پکارتا ہے ہمیں، پھر جب عطا کر دیتے ہیں ہم اس کو کوئی نعمت اپنی طرف سے، تو کہتا ہے بلاشبہ دیا گیا ہوں میں یہ (اپنے) علم کی بدولت (نہیں)بلکہ وہ توایک آزمائش ہے، اور لیکن اکثر ان میں سے نہیں جانتے(49)تحقیق کہی یہی بات ان لوگوں نے جو ہوئے ان سے پہلے، پس نہ کام آیاان کے وہ جو تھے وہ کماتے (50) پس پہنچیں ان کو برائیاں ان(عملوں)کی جو انھوں نے کمائے، اور وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا ان میں سے، عنقریب پہنچیں گی ان کو برائیاں ان(عملوں)کی جو انھوں نے کمائے ہوں گے اور نہیں ہیں وہ عاجز کرنے والے (51)کیانہیں جانا انھوں نے کہ بلاشبہ اللہ ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں (52)

[49] اللہ تعالیٰ انسان کے حال اور اس کی فطرت کے بارے میں آگاہ کرتا ہے کہ جب اسے کوئی بیماری، شدت یا تکلیف پہنچتی ہے ﴿دَعَانَا ﴾ تو وہ اس نازل ہونے والی مصیبت کو دور کرنے کے لیے گڑگڑا کر ہمیں پکارتا ہے۔ ﴿ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰهُ نِعۡمَةً مِّؔنَّا ﴾ ’’پھر جب ہم اسے اپنی نعمت عطا کر دیتے ہیں‘‘ یعنی جب ہم اس کی تکلیف کو دور اور اس کی مشقت کو زائل کر دیتے ہیں تو وہ اپنے رب کی ناسپاسی اور اس کے احسان کا اعتراف کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور ﴿قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ ’’کہتا ہے: مجھے تو یہ سب کچھ علم کے سبب دیا گیا ہے‘‘ یعنی اللہ کی طرف سے علم کی بنا پر حاصل ہواہے اور میں اس کا اہل اور اس کا مستحق ہوں کیونکہ میں اس کے ہاں بہت برگزیدہ ہوں،یا اس کا معنی یہ ہے کہ یہ سب کچھ مجھے مختلف طریقوں سے حاصل کیے گئے میرے علم کے سبب سے مجھے عطا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿بَلۡ هِيَ فِتۡنَةٌ ﴾ ’’بلکہ یہ ایک فتنہ ہے‘‘ جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس کا شکر گزار ہے اور کون اس کی ناشکری کرتا ہے۔ ﴿وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے وہ فتنہ اور آزمائش کو اللہ تعالیٰ کی نوازش سمجھتے ہیں، ان کے سامنے خالص بھلائی اس چیز کے ساتھ مشتبہ ہو جاتی ہے جو بھلائی یا برائی کا سبب ہے۔

[50] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قَدۡ قَالَهَا الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ یعنی ان سے پہلے لوگ بھی یہی کہتے تھے، یعنی ان کا یہ مقولہ:﴿اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اہل تکذیب کے ہاں ہمیشہ سے متوارث چلا آرہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے ہیں نہ اس کا کوئی حق سمجھتے ہیں۔ گزشتہ لوگوں کی یہی عادت رہی یہاں تک کہ ان کو ہلاک کر دیا گیا ﴿فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ جب ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے پکڑا تو ان کی کمائی ان کے کسی کام نہ آئی۔

[51]﴿فَاَصَابَهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا ﴾ ’’ان پر ان کے اعمال کے وبال پڑ گئے۔‘‘ اس مقام پر (سیئات) سے مراد ’’عقوبات‘‘ ہیں کیونکہ یہ عقوبات ہی انسان کے لیے تکلیف دہ اور اس کو غم زدہ کرتی ہیں۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ هٰۤؤُلَآءِ سَيُصِيۡبُهُمۡ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ان میں سے ظلم کرتے رہے ہیں عنقریب ان پر ان کے عملوں کے وبال پڑیں گے۔‘‘ پس یہ لوگ نہ تو گزشتہ لوگوں سے بہتر ہیں اور نہ ان کو کوئی براء ت نامہ ہی لکھ کر دیا گیا ہے۔

[52] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایاکہ یہ لوگ اپنے مال کی وجہ سے فریب میں مبتلا ہو گئے ہیں اور اپنی جہالت کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ مال اپنے مالک کے حسن حال پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو خبردار کرتے ہوئے فرمایاکہ اس کا رزق اس بات پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ بے شک اللہ تعالیٰ ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ﴾ اپنے بندوں میں سے، خواہ وہ نیک ہوں یا بد، جس کے لیے چاہتا ہے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے۔ ﴿وَيَقۡدِرُ ﴾اور جس کو چاہتا ہے نپاتلا دیتا ہے، یعنی وہ اپنے بندوں میں سے خواہ وہ نیک ہوں یا بد جس کا چاہے اس کا رزق تنگ کر دیتا ہے، اس کا رزق تمام مخلوق میں مشترک ہے، مگر ایمان اور عمل صالح صرف ان لوگوں کے لیے مختص کرتا ہے جو مخلوق میں بہترین لوگ ہوتے ہیں۔﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں بھی ان کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔‘‘ یعنی رزق کی کشادگی اور تنگی میں اہل ایمان کے لیے نشانیاں ہیں۔ کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ رزق کی تنگی اور کشادگی کا مرجع محض اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حال کو خوب جانتا ہے۔ کبھی کبھی اپنے بندوں پر لطف و کرم کی وجہ سے بھی ان پر رزق تنگ کر دیتا ہے کیونکہ اگر وہ ان کا رزق کشادہ کر دے تو وہ زمین میں سرکشی کرتے ہیں۔ رزق کی اس تنگی میں اللہ تعالیٰ ان کے دین کی اصلاح کی رعایت رکھتا ہے جو ان کی سعادت اور فلاح کی بنیاد ہے۔ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ۔

39:53–59Page 464

۞ قُلۡ يَٰعِبَادِيَ ٱلَّذِينَ أَسۡرَفُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُواْ مِن رَّحۡمَةِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَغۡفِرُ ٱلذُّنُوبَ جَمِيعًاۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ٥٣

Say, "O My servants who have transgressed against themselves [by sinning], do not despair of the mercy of Allāh. Indeed, Allāh forgives all sins.1 Indeed, it is He who is the Forgiving, the Merciful."

وَأَنِيبُوٓاْ إِلَىٰ رَبِّكُمۡ وَأَسۡلِمُواْ لَهُۥ مِن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَكُمُ ٱلۡعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ ٥٤

And return [in repentance] to your Lord and submit to Him before the punishment comes upon you; then you will not be helped.

وَٱتَّبِعُوٓاْ أَحۡسَنَ مَآ أُنزِلَ إِلَيۡكُم مِّن رَّبِّكُم مِّن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَكُمُ ٱلۡعَذَابُ بَغۡتَةٗ وَأَنتُمۡ لَا تَشۡعُرُونَ ٥٥

And follow the best of what was revealed to you from your Lord [i.e., the Qur’ān] before the punishment comes upon you suddenly while you do not perceive,

أَن تَقُولَ نَفۡسٞ يَٰحَسۡرَتَىٰ عَلَىٰ مَا فَرَّطتُ فِي جَنۢبِ ٱللَّهِ وَإِن كُنتُ لَمِنَ ٱلسَّٰخِرِينَ ٥٦

Lest a soul should say,1 "Oh, [how great is] my regret over what I neglected in regard to Allāh and that I was among the mockers."

أَوۡ تَقُولَ لَوۡ أَنَّ ٱللَّهَ هَدَىٰنِي لَكُنتُ مِنَ ٱلۡمُتَّقِينَ ٥٧

Or [lest] it say, "If only Allāh had guided me, I would have been among the righteous."

أَوۡ تَقُولَ حِينَ تَرَى ٱلۡعَذَابَ لَوۡ أَنَّ لِي كَرَّةٗ فَأَكُونَ مِنَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٥٨

Or [lest] it say when it sees the punishment, "If only I had another turn1 so I could be among the doers of good."

بَلَىٰ قَدۡ جَآءَتۡكَ ءَايَٰتِي فَكَذَّبۡتَ بِهَا وَٱسۡتَكۡبَرۡتَ وَكُنتَ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ ٥٩

But yes, there had come to you My verses, but you denied them and were arrogant, and you were among the disbelievers.

کہہ دیجیے: اے میرے بندو! وہ جنھوں نے ظلم کیا ہے اپنی جانوں پر، نہ مایوس ہو تم اللہ کی رحمت سے، بلاشبہ اللہ معاف کر دیتا ہے گناہ سب، یقیناً وہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے(53)اور رجوع کرو تم اپنے رب کی طرف اورمطیع ہو جاؤ اس کے پہلے اس کےکہ آ جائے تمھارے پاس عذاب ، پھر نہ تم مدد کیے جاؤ (54) اورپیروی کرو تم اس بہترین بات کی جو نازل کی گئی تمھاری طرف تمھارے رب کی طرف سے پہلے اس کےکہ آجائے تمھارے پاس عذاب اچانک اس حال میں کہ تم نہ شعور رکھتے ہو (55)(ایسا نہ ہو)کہ کہے کوئی نفس، ہائے افسوس اس پر جو کوتاہی کی میں نے اللہ کے حق میں اور بلاشبہ رہا میں ٹھٹھا کرنے والوں میں سے (56) یا کہے اگر بے شک اللہ ہدایت دیتا مجھے تو ضرور ہو جاتا میں پرہیز گاروں میں سے (57) یا کہے جس وقت دیکھے گا عذاب، اگر بے شک (ہو) میرے لیے دوبارہ لوٹنا تو ہو جاؤ ں گا میں نیکوکاروں میں سے (58)کیوں نہیں، تحقیق آئیں تیرے پاس میری آیتیں تو جھٹلایا تو نے ان کو اور تکبر کیا تو نے اور تھا تو کافروں میں سے(59)

[53] اللہ تعالیٰ اپنے حد سے بڑھ جانے والے، یعنی بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے، بندوں کو آگاہ کرتا ہے کہ اس کا فضل و کرم بہت وسیع ہے نیز انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے پر آمادہ کرتا ہے، اس سے قبل کہ رجوع کرنا ان کے لیے ممکن نہ رہے ، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! اور جو کوئی دعوت دین میں آپ کا قائم مقام ہو! اپنے رب کی طرف سے بندوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے: ﴿يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے‘‘ یعنی جنھوں نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اور علام الغیوب کی ناراضی کے امور میں کوشاں ہو کر اپنے آپ پر زیادتی کی ﴿لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ کہ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالو اور کہنے لگو کہ ہمارے گناہ بہت زیادہ اور ہمارے عیوب بہت بڑھ گئے اب ایسا کوئی طریقہ نہیں جس سے وہ گناہ زائل ہو جائیں ، پھر اس بنا پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مصر رہو اور اس طرح رحمٰنکی ناراضی مول لیتے رہو۔اپنے رب کو اس کے ان اسماء سے پہچانو جو اس کے جودوکرم پر دلالت کرتے ہیں اور جان رکھو کہ بے شک اللہ تعالیٰ ﴿يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا ﴾ ’’سارے ہی گناہ معاف کردیتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ شرک، قتل، زنا ، سودخوری اور ظلم وغیرہ تمام چھوٹے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے‘‘ یعنی مغفرت اور رحمت دونوں اللہ تعالیٰ کے لازم اور ذاتی اوصاف ہیں جو اس کی ذات سے کبھی جدا نہیں ہوتے اور نہ ان کے آثار ہی زائل ہوتے ہیں جو تمام کائنات میں جاری و ساری اور تمام موجودات پر سایہ کناں ہیں۔ دن رات اس کے ہاتھوں کی سخاوت جاری ہے، کھلے اور چھپے وہ اپنے بندوں کو اپنی لگاتار نعمتوں سے نوازتا رہتا ہے۔ عطا کرنا اسے محروم کرنے سے زیادہ پسند ہے اور اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب اور اس پر سبقت لے گئی ہے۔

[54] اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کے حصول کے کچھ اسباب ہیں، بندہ اگر ان اسباب کو اختیار نہیں کرتا تو وہ اپنے آپ پر عظیم ترین اور جلیل ترین رحمت و مغفرت کا دروازہ بند کر لیتا ہے۔ بلکہ خالص توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع، دعا، اس کے سامنے عاجزی و انکسار اور اظہار تعبد کے سوا کوئی سبب نہیں۔ پس اس جلیل القدر سبب اور اس عظیم راستے کی طرف بڑھو۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف انابت میں جلدی کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:﴿وَاَنِيۡبُوۡۤا اِلٰى رَبِّكُمۡ ﴾ ’’اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو ﴿وَاَسۡلِمُوۡا لَهٗ﴾ اور اپنے اپنے جوارح کے ساتھ اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دو۔ اگر ’’انابت‘‘ کو مفرد بیان کیا گیا ہو تو اس میں اعمال جوارح بھی داخل ہیں اور اگر ’’انابت‘‘ کو دوسرے امور کے ساتھ بیان کیا گیا ہو جیسا کہ اس مقام پر کیا گیا ہے تو اس کا معنیٰ وہی ہو گا جو ہم نے بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿اِلٰى رَبِّكُمۡ وَاَسۡلِمُوۡا لَهٗ ﴾ اخلاص پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اخلاص کے بغیر ظاہری اور باطنی اعمال کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ ﴿مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو۔‘‘ اور اسے روکا نہ جا سکے گا ﴿ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ ﴾ پھر اس عذاب کے مقابلے میں تمھاری مدد کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔

[55] گویا کہ پوچھا گیا کہ ’’انابت‘‘ اور ’’اسلام‘‘ کیا ہیں ،ان کی جزئیات و اعمال کیا ہیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا:﴿وَاتَّبِعُوۡۤا اَحۡسَنَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’اور پیروی کرو ان بہترین باتوں کی جو نازل کی گئیں تمھاری طرف تمھارے پروردگار کی طرف سے۔‘‘ یعنی باطنی اعمال کو بجا لاؤ جن کا تمھیں حکم دیا گیا ہے ، مثلاً: محبت الٰہی، خشیت الٰہی، خوف الٰہی، اللہ پر امید، اس کے بندوں کی خیرخواہی، ان کے لیے ہمیشہ بھلائی چاہنا اور ان امور سے متضاد امور سے اجتناب اور ظاہری اعمال بجالانا ، مثلاً: نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، حج کرنا، صدقہ دینا اور بھلائی کے مختلف کام کرنا جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور یہی بہترین کام ہیں جن کو ہمارے رب نے ہماری طرف نازل فرمایا ہے ، لہٰذا ان امور میں اپنے رب کے احکام کی تعمیل کرنے والا ’’منیب‘‘ اور ’’مسلم‘‘ ہے۔ ﴿مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمُ الۡعَذَابُ بَغۡتَةً وَّاَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘ اور یہ سب کچھ جلدی کرنے اور فرصت سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب ہے۔

[56] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ڈراتے (اوران کی خیرخواہی کرتے) ہوئے فرمایا: ﴿اَنۡ ﴾ کہ وہ اپنی غفلت پر نہ جمے رہیں یہاں تک کہ وہ دن آجائے جس دن انھیں نادم ہونا پڑے اور اس دن ندامت کسی کام نہیں آئے گی۔ اور ﴿تَقُوۡلَ نَفۡسٌ يّٰحَسۡرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطۡتُّ فِيۡ جَنۢۡبِ اللّٰهِ ﴾ ’’کوئی نفس کہے: اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے اللہ کے حق میں کی۔‘‘ ﴿وَاِنۡ كُنۡتُ ﴾ ’’بے شک میں تو تھا‘‘ دنیا میں ﴿لَمِنَ السّٰخِرِيۡنَ﴾ ’’مذاق اڑانے والوں میں سے‘‘ یعنی میں دنیا میں جزاوسزا کا تمسخر اڑایا کرتا تھا، یہاں تک کہ میں نے اسے عیاں (آنکھوں سے) دیکھ لیا۔

[57]﴿اَوۡ تَقُوۡلَ لَوۡ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰؔىنِيۡ لَكُنۡتُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’یا یوں کہے کہ اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں پرہیز گاروں میں سے ہوتا۔‘‘ اس مقام پر (لَوْ) تمنا کے معنی میں ہے۔ یعنی کاش اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت عطا کی ہوتی تو میں بھی پرہیز گار بن جاتا اور عذاب سے بچ جاتا اور ثواب کا مستحق بن جاتا۔ یہاں (لو) شرطیہ نہیں ہے اگر یہاں (لو) شرطیہ ہو تا تو ان کو اپنی گمراہی کے لیے قضاوقدر کی حجت ہاتھ آجاتی ہے اور یہ باطل حجت ہے اور قیامت کے روز ہر باطل حجت مضمحل ہو جائے گی۔

[58]﴿اَوۡ تَقُوۡلَ حِيۡنَ تَرَى الۡعَذَابَ ﴾ ’’یا جب عذاب دیکھ لے تو کہنے لگے۔‘‘ جب اسے عذاب کے وارد ہونے کا یقین ہو جائے گا تو وہ کہے گا ﴿لَوۡ اَنَّ لِيۡ كَرَّةً ﴾ یعنی اگر ایک بار اور مجھے دنیا میں واپس بھیجا جائے تو میں ہوجاؤں گا ﴿مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ نیک عمل کرنے والوں میں سے۔

[59] اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا کہ اس کا دنیا میں دوبارہ بھیجا جانا ممکن ہے نہ مفید، یہ تو محض باطل آرزو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ انسان کو دنیا میں دوبارہ نہیں بھیجا جائے گا۔ اگر اسے دنیا میں بھیج بھی دیا جائے تو پہلے بیان اور احکام کے بعد اب کوئی نیا بیان اور حکم نہیں آئے گا۔ ﴿بَلٰى قَدۡ جَآءَتۡكَ اٰيٰتِيۡ ﴾ ’’کیوں نہیں میری آیتیں تیرے پاس پہنچ گئی تھیں۔‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں، ایسی دلالت کہ اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا تھا۔ ﴿فَكَذَّبۡتَ بِهَا وَاسۡتَكۡبَرۡتَ ﴾ ’’تونے ان کو جھٹلایا اور تکبر کیا۔‘‘ اور تکبر کی بنا پر تو نے ان کی اتباع نہیں کی ﴿وَؔكُنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور تو کافر بن گیا۔‘‘ اس لیے دنیا کی طرف لوٹائے جانے کا مطالبہ عبث ہے۔ ﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍28) ’’اگر انھیں پھر دنیا کی زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں گے جس سے ان کو روکا گیا تھا اور بے شک وہ جھوٹے ہیں۔‘‘

39:60–61Page 465

وَيَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ تَرَى ٱلَّذِينَ كَذَبُواْ عَلَى ٱللَّهِ وُجُوهُهُم مُّسۡوَدَّةٌۚ أَلَيۡسَ فِي جَهَنَّمَ مَثۡوٗى لِّلۡمُتَكَبِّرِينَ ٦٠

And on the Day of Resurrection you will see those who lied about Allāh [with] their faces blackened. Is there not in Hell a residence for the arrogant?

وَيُنَجِّي ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ بِمَفَازَتِهِمۡ لَا يَمَسُّهُمُ ٱلسُّوٓءُ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ٦١

And Allāh will save those who feared Him by their attainment;1 no evil will touch them, nor will they grieve.

اوردن قیامت کے آپ دیکھیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے جھوٹ بولا اللہ پر، ان کے چہرے سیاہ ہوں گے، کیا نہیں ہے جہنم میں ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا؟ (60) اور نجات دے گا اللہ ان لوگوں کو جنھوں نے تقوی اختیار کیا، ساتھ ان کی کامیابی کے، نہیں پہنچے گی ان کو برائی اور نہ وہ غمگین ہوں گے (61)

[60] جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں افترا پردازی کی، اللہ تعالیٰ ان کی رسوائی بیان کرتا ہے کہ قیامت کے روز ان کے چہرے سیاہ تاریک رات کی مانند سیاہ ہوں گے، ان کے سیاہ چہروں کی وجہ سے اہل موقف انھیں پہچانیں گے اور روشن صبح کی مانند حق صاف واضح ہو گا۔ جس طرح انھوں نے دنیا کے اندر حق کے چہرے کو جھوٹ کے ساتھ سیاہ کر دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے ان کے چہروں کو بھی سیاہ کر دیا۔ یہ سزا ان کے عمل کی جنس ہی سے ہے۔ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور ان کے لیے جہنم کا نہایت سخت عذاب ہو گا اس لیے فرمایا:﴿اَلَيۡسَ فِيۡ جَهَنَّمَ مَثۡوًى لِّلۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ﴾ کیا جو لوگ حق اور اپنے رب کی عبادت کے بارے میں تکبر کا رویہ رکھتے تھے اور اس پر بہتان طرازی کرتے تھے، ان کا ٹھکانا دوزخ میں نہیں اللہ کی قسم! بلاشبہ جہنم میں شدید عذاب، بے انتہا رسوائی اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی ہوگی۔ جہاں متکبرین کو پور ی طرح عذاب دیا جائے گا اور ان سے حق وصول کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا، اس کا بیٹا اور بیوی قرار دینا، اس کی طرف سے کوئی ایسی خبر دینا جو اس کے جلال کے لائق نہ ہو، نبوت کا دعویٰ کرنا، اس کی شریعت میں ایسی بات کہنا جو اس نے نہ کہی ہو اور دعویٰ کرنا کہ اسے اللہ تعالیٰ نے مشروع کیا ہے، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے۔

[61] متکبرین کا حال بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل تقویٰ کا حال بیان کیا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَيُنَجِّي اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا بِمَفَازَتِهِمۡ ﴾ ’’اور جو پرہیز گار ہیں ان کی کامیابی کے سبب اللہ ان کو نجات دے گا۔‘‘ کیونکہ ان کے پاس آلۂ نجات یعنی تقویٰ ہو گا جو ہر شدت اور ہولناکی کے وقت بچاؤ کا ذریعہ ہے۔ ﴿لَا يَمَسُّهُمُ السُّوۡٓءُ ﴾ یعنی تکلیف دہ عذاب انھیں چھوئے گا نہیں۔ ﴿وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ ﴾ ’’اوروہ غمگین نہیں ہوں گے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب اور خوف کی نفی کر دی اور یہ ا من کی انتہا ہے۔ ان کے لیے مکمل امن ہو گا اور یہ امن ان کے ساتھ رہے گا یہاں تک کہ وہ سلامتی کے گھر یعنی جنت میں داخل ہو جائیں گے تب وہ ہر تکلیف اور ہر برائی سے محفوظ و مامون ہوں گے اور ان پر نعمتوں کی تازگی چھا جائے گی اور وہ پکار اٹھیں گے: ﴿ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡۤ اَذۡهَبَ عَنَّا الۡحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوۡرٌ شَكُوۡرُ ﴾(فاطر: 35؍34)’’ہر قسم کی تعریف ہے اس ذات کے لیے جس نے ہم سے حزن و غم کو دور کیا بلاشبہ ہمارا رب بخشنے والا قدردان ہے۔‘‘

39:62–63Page 465

ٱللَّهُ خَٰلِقُ كُلِّ شَيۡءٖۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ وَكِيلٞ ٦٢

Allāh is the Creator of all things, and He is, over all things, Disposer of affairs.

لَّهُۥ مَقَالِيدُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ ٦٣

To Him belong the keys of the heavens and the earth. And they who disbelieve in the verses of Allāh - it is those who are the losers.

اللہ ہی خالق ہے ہر چیز کا اور وہ اوپر ہر چیز کے نگہبان ہے (62) اسی کے پاس ہیں چابیاں آسمانوں اور زمین کی اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اللہ کی آیتوں کے ساتھ، یہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے (63)

[62] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی عظمت و کمال کے متعلق آگاہ فرماتا ہے جو اس شخص کے لیے خسارے کا باعث ہیں جس نے ان کا انکار کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اَللّٰهُ خَالِـقُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ یہ عبارت اور اس قسم کی دیگر عبارات، قرآن کریم میں بکثرت ملتی ہیں، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ (اور اس کے اسماء و صفات) کے سوا ہر چیز مخلوق ہے۔ اس آیت کریمہ میں ہر اس شخص کے نظریے کا رد ہے جو مخلوق کے قدیم ہونے کا قائل ہے، مثلاً: فلاسفہ کہتے ہیں کہ یہ آسمان اور زمین قدیم ہیں۔ اسی طرح ان لوگوں کے قول اور دیگر باطل نظریات کا بھی رد ہے جو روح کو قدیم مانتے ہیں۔ اہل باطل کے ان باطل نظریات کو مان لینے سے خالق کا اپنی تخلیق سے معطل ہونا لازم آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کلام مخلوق نہیں کیونکہ کلام متکلم کی صفت ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اسماء و صفات کے ساتھ ہمیشہ سے موجود ہے، اس سے پہلے کچھ بھی موجود نہ تھا۔معتزلہ نے اس آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات سے یہ استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام مخلوق ہے۔ یہ ان کی سب سے بڑی جہالت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اسماء و صفات سمیت قدیم ہے، اس کی صفات نئی پیدا ہوئی ہیں نہ اس سے کسی صفت کا تعطل ہواہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں خود خبر دی ہے کہ اس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور وہ ہر چیز پر وکیل ہے۔ اور وکالتِ کامل میں وکیل کے لیے لازم ہے کہ وہ جس چیز کی وکالت کر رہا ہے اسے اس کا پورا علم ہو اور وہ اس کی تمام تفاصیل کا احاطہ کیے ہوئے ہو، جس چیز پر وہ وکیل ہے اس میں تصرف کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہو، اس کی حفاظت کر سکتا ہو، تصرف کے تمام پہلوؤ ں کی حکمت اور معرفت رکھتا ہو تاکہ بہترین طریقے سے اس میں تصرف اور اس کی تدبیر کر سکے۔ مذکورہ بالا تمام امور کے بغیر وکالت کی تکمیل ممکن نہیں۔ ان امور میں جتنا نقص واقع ہو گا اس کی وکالت بھی اتنی ہی ناقص ہوگی۔ یہ چیز متحقق اور معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی صفات میں سے ہر صفت میں ہر قسم کے نقص سے منزہ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا یہ خبر دینا کہ وہ ہر چیز پر وکیل ہے دلالت کرتا ہے کہ اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وہ ہر چیز کی تدبیر پر کامل قدرت اور کامل حکمت رکھتا ہے جس کے ذریعے سے اس نے تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔

[63]﴿لَهٗ مَقَالِيۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔‘‘ یعنی علم اور تدبیر کے لحاظ سے زمین و آسمان کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہیں اس لیے: ﴿مَا يَفۡتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَةٍ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا١ۚ وَمَا يُمۡسِكۡ١ۙ فَلَا مُرۡسِلَ لَهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ١ؕ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾(فاطر:35؍2) ’’اللہ اپنے بندوں کے لیے اپنی رحمت کا جو دروازہ کھول دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور اگر وہ اپنی رحمت کو روک لے تو اس کے بعد اسے کوئی کھول نہیں سکتا۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ کی عظمت واضح ہو گئی جو اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ بندوں کے دل اللہ تعالیٰ کے اجلال و اکرام سے لبریز ہوں تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا حال بیان کیا جن کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر نہ کی جس طرح قدر کرنے کا حق ہے۔ فرمایا: ﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جنھوں نے آیات الٰہی کا انکار کیا‘‘ جو حق، یقین اور صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتی ہیں ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے۔‘‘ یعنی اس چیز کے بارے میں خسارے میں رہے جس سے قلوب کی اصلاح ہوتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے لیے اخلاص۔ جس سے زبانوں کی اصلاح ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہوتی ہیں اور جس سے جوارح کی اصلاح ہوتی ہے اور وہ اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کے بدلے انھوں نے ہر وہ چیز لے لی جو قلوب و ابدان کو فاسد کرتی ہے، وہ نعمتوں بھری جنت سے محروم رہے اور اس کے بدلے انھوں نے دردناک عذاب لے لیا۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском