As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
An-Nisa 4:125–135
4:125Page 98
وَمَنۡ أَحۡسَنُ دِينٗا مِّمَّنۡ أَسۡلَمَ وَجۡهَهُۥ لِلَّهِ وَهُوَ مُحۡسِنٞ وَٱتَّبَعَ مِلَّةَ إِبۡرَٰهِيمَ حَنِيفٗاۗ وَٱتَّخَذَ ٱللَّهُ إِبۡرَٰهِيمَ خَلِيلٗا ١٢٥
And who is better in religion than one who submits himself to Allāh while being a doer of good and follows the religion of Abraham, inclining toward truth? And Allāh took Abraham as an intimate friend.
اور کون زیادہ اچھا ہے دین میں اس شخص سے جس نے جھکا دیا، اپنا چہرہ اللہ کے لیےاور وہ نیکی کرنے والا (بھی) ہو اور پیروی کرے وہ ملت ابراہیم کی جو صرف حق کا پرستار تھا۔ اور بنا لیا اللہ نے ابراہیم کو خاص دوست(125)
[125] یعنی اس شخص کے دین سے بہتر کسی کا دین نہیں جس نے اخلاص اور اللہ کی طرف تمام اعضاء کی توجہ کو جمع کر لیا ہے۔ یہاں اخلاص سے مراد ہے چہرے کا اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جانا جو قلب کے خشوع، اس کی توجہ، اس کی انابت اور اس کے اخلاص پر دلالت کرتا ہے۔ اس اخلاص اور فرماں برداری کے ساتھ ساتھ ﴿ وَهُوَ مُحۡسِنٌ ﴾ ’’اور وہ نیکوکار بھی ہے۔‘‘ وہ اس شریعت کا متبع ہو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو مبعوث فرمایا، اپنی کتابیں نازل کیں اور اسے اپنے خاص بندوں اور ان کے متبعین کے لیے لائحہ عمل قرار دیا۔ ﴿ وَّاتَّبَعَ مِلَّةَ اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ ’’اور ابراہیم(u)کے دین کا پیرو ہے۔‘‘ یعنی اس نے حضرت ابراہیم کے دین اور شریعت کی اتباع کی ﴿ حَنِيۡفًا ﴾ ’’یکسو ہوکر‘‘ یعنی شرک کو چھوڑ کر توحید کو اپنایا، مخلوق سے توجہ ہٹا کر خالق کی طرف توجہ کی ﴿وَاتَّؔخَذَ اللّٰهُ اِبۡرٰهِيۡمَ خَلِيۡلًا ﴾ ’’اور اللہ نے ابراہیم کو خلیل بنایا‘‘ (خُلّتْ) محبت کی بلند ترین نوع ہے اور محبت کا یہ اعلیٰ ترین مرتبہ اللہ تعالیٰ کے دو خلیلوں کو حاصل ہوا ہے۔ یعنی جناب محمد مصطفیٰﷺاور جناب ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو۔ اور رہی اللہ تعالیٰ کی محبت عامہ تو یہ عام اہل ایمان کے لیے ہے۔ حضرت ابراہیمuکو خلیل اس لیے بنایا کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کو پورا کیا اور ہر آزمائش میں پورے اترے۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں تمام لوگوں کا امام ٹھہرایا اور اپنا خلیل بنا لیا اور تمام جہانوں میں ان کے ذکر کو بلند کیا۔
4:126Page 98
وَلِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٖ مُّحِيطٗا ١٢٦
And to Allāh belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. And ever is Allāh, of all things, encompassing.
اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہےاور ہے اللہ ہر چیز کو گھیرنے والا(126)
[126] اس آیت کریمہ میں اس حقیقت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس نے خبر دی ہے کہ ﴿ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے (سب اسی کا ہے)۔‘‘ یعنی ہر چیز اس کی ملکیت اور تمام لوگ اس کے غلام ہیں۔ پس تمام لوگ غلام اور وہ اکیلا ان کا مالک اور ان کے تمام معاملات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ اس کے علم نے تمام معلومات، اس کی بصر نے تمام مبصرات اور اس کی سماعت نے تمام مسموعات کا احاطہ کر رکھا ہے۔ اس کی مشیت اور قدرت تمام موجودات پر نافذ اور اس کی رحمت زمین و آسمان کی تمام مخلوق پر سایہ کناں ہے۔ وہ اپنے قہر اور غلبہ کی بنا پر تمام مخلوق پر غالب ہے اور تمام موجودات اس کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے۔
4:127Page 98
وَيَسۡتَفۡتُونَكَ فِي ٱلنِّسَآءِۖ قُلِ ٱللَّهُ يُفۡتِيكُمۡ فِيهِنَّ وَمَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ فِي يَتَٰمَى ٱلنِّسَآءِ ٱلَّٰتِي لَا تُؤۡتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرۡغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ وَٱلۡمُسۡتَضۡعَفِينَ مِنَ ٱلۡوِلۡدَٰنِ وَأَن تَقُومُواْ لِلۡيَتَٰمَىٰ بِٱلۡقِسۡطِۚ وَمَا تَفۡعَلُواْ مِنۡ خَيۡرٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِهِۦ عَلِيمٗا ١٢٧
And they request from you, [O Muḥammad], a [legal] ruling concerning women. Say, "Allāh gives you a ruling about them and [about] what has been recited to you in the Book concerning the orphan girls to whom you do not give what is decreed for them1 - and [yet] you desire to marry them - and concerning the oppressed among children and that you maintain for orphans [their rights] in justice." And whatever you do of good - indeed, Allāh is ever Knowing of it.
اور فتویٰ پوچھتے ہیں آپ سے عورتوں کے بارے میں کہہ دیجیے! اللہ فتویٰ دیتا ہے تمھیں ان کی بابت اور (وہ بھی) جو پڑھا جاتا ہے تم پر کتاب میں، (ان) یتیم عورتوں کے متعلق کہ نہیں دیتے تم ان کو جو مقرر کیا گیا ہے ان کے لیےاور رغبت کرتے ہو تم یہ کہ نکاح کرو ان سےاور کمزور بچوں (کے بارے) میں اور یہ کہ قائم رہو تم یتیموں کے لیے انصاف پر اور جو کرو تم کوئی اچھائی، پس تحقیق اللہ ہے اس کو خوب جاننے والا(127)
[127](اِسْتِفْتَاء) سے مراد ہے سائل کا مسؤل (مفتی یاعالم) سے اپنے مسئلہ کے بارے میں شرعی حکم کا بیان طلب کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے بارے میں خبر دی ہے کہ انھوں نے عورتوں کے بارے میں رسول اللہﷺسے استفتاء کیا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خود اس استفتاء کا جواب دیا ﴿ قُلِ اللّٰهُ يُفۡتِيۡكُمۡ فِيۡهِنَّ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ خود اللہ ان کے بارے میں تمھیں حکم دے رہا ہے‘‘ پس عورتوں کے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ نے جو فتویٰ دیا ہے اس پر عمل کرو۔ عام طور پر اور خاص طور پر ان کے حقوق کو ادا کرو اور ان پر ظلم کرنا چھوڑ دو۔یہ حکم عام ہے اور عورتوں کے حقوق کے بارے میں خواہ وہ بیویاں ہوں یا کوئی اور، چھوٹی ہوں یا بڑی ہوں۔ امر و نہی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مشروع کیا ہے، سب کو شامل ہے۔اس عموم کے بیان کرنے کے بعد ، اللہ تعالیٰ نے کمزور بچوں اور یتیموں کے معاملے میں اہتمام اور ان کے حقوق میں کوتاہی پر زجر و توبیخ کے طور پر، خصوصی وصیت فرمائی ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَا يُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ فِي الۡكِتٰبِ فِيۡ يَتٰمَى النِّسَآءِ ﴾ یتیم عورتوں کے معاملے میں کتاب اللہ کے اندر جو کچھ تم پر تلاوت کیا جاتا ہے (اللہ تعالیٰ تمھیں اسی کا فتویٰ دیتا ہے۔)‘‘﴿ الّٰتِيۡ لَا تُؤۡتُوۡنَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ ﴾ ’’وہ جن کو تم نہیں دیتے، جو ان کے لیے مقرر کیا گیا ہے‘‘ یہ اس وقت کی موجود حالت کے بارے میں خبر ہے۔ کیونکہ یتیم لڑکی جب کسی کی سرپرستی میں ہوتی تھی تو وہ اس کی حق تلفی کرتا اور اس پر ظلم کا ارتکاب کرتا تھا یا تو اس کا تمام مال یا اس کا کچھ حصہ کھا جاتا یا اس کو نکاح کرنے سے روکتا تاکہ اس کے مال سے فائدہ اٹھاتا رہے اور اس خوف سے کہ اگر اس نے اس کا نکاح کر دیا تو مال ہاتھ سے نکل جائے گا اور اگر وہ اس عورت میں رغبت نہیں رکھتا تو جس شخص سے یہ نکاح کرتی، اس پر شرائط وغیرہ عائد کرتا۔ یا اگر وہ اس کے حسن و جمال کی وجہ سے، اس کے ساتھ خود نکاح کرنے کی خواہش رکھتا تو اس کے مہر کو ساقط تو نہیں کرتا مگر وہ اسے اتنا حق مہر بھی ادا نہیں کرتا جتنے مہر کی وہ مستحق ہوتی۔ یہ تمام صورتیں ظلم کی تھیں، جو اس نص کے تحت آتی ہیں۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرۡغَبُوۡنَ اَنۡ تَنۡكِحُوۡهُنَّ ﴾ ’’تم ان سے نکاح کرنے کی رغبت رکھتے ہو۔‘‘ یعنی تم ان کے ساتھ نکاح کرنے سے گریز کرتے ہویا نکاح کرنے میں رغبت رکھتے ہو۔ جیسا کہ ہم نے اس کی مثال بیان کی ہے ﴿ وَالۡمُسۡتَضۡعَفِيۡنَ مِنَ الۡوِلۡدَانِ ﴾ ’’اور بے کس بچوں کے بارے میں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کمزور اور چھوٹے بچوں کے بارے میں تمھیں حکم دیتا ہے کہ تم وراثت میں ان کا حق ادا کرو اور ظلم و استبداد سے ان کے مال پر قبضہ نہ جما لو۔ ﴿ وَاَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلۡيَتٰمٰى بِالۡقِسۡطِ ﴾ ’’اور یہ (بھی حکم دیتاہے)کہ یتیموں کے بارے میں پورے عدل و انصاف سے کام لو‘‘ اس حکم میں ان کے معاملات کی دیکھ بھال، ان سے ان احکام کا التزام کروانا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب قرار دیے ہیں سب شامل ہیں اس بارے میں یتیموں کے سرپرست مکلف ٹھہرائے گئے کہ وہ ان سے اللہ تعالیٰ کے واجبات کا التزام کروائیں۔ اس حکم میں ان کے دنیاوی مصالح کی دیکھ بھال، ان کے مال میں اضافہ کرنا اور ان کے لیے بہتری طلب کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ نیز یہ کہ اس کے سرپرست احسن طریقے سے ان کے مال کے قریب جائیں۔ اسی طرح ان کے نکاح وغیرہ میں ان کی حق تلفی کرتے ہوئے کسی دوست وغیرہ کی محبت کو ترجیح نہ دیں۔یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت اور انتہائی درجے کی ترغیب ہے کہ ان لوگوں کے مصالح کی دیکھ بھال کی جائے جو اپنی کمزوری اور اپنے باپ سے محروم ہونے کی بنا پر خود اپنے مفادات کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔ پھر علی العموم بھلائی کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ ﴾ ’’اور تم جو بھلائی کروگے۔‘‘ یعنی تم یتیموں یا دوسروں کے ساتھ جو بھلائی کرو گے خواہ یہ بھلائی متعدی ہو یا صرف تمھیں تک محدود ہو ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِهٖ عَلِيۡمًا ﴾ ’’اللہ اس کو جانتا ہے۔‘‘ یعنی نیک عمل کرنے والوں کے اعمال کو اللہ تعالیٰ کے علم نے احاطہ کر رکھا ہے اعمال خواہ کم ہوں یا زیادہ، اچھے ہوں یا برے، اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا دے گا۔
4:128Page 99
وَإِنِ ٱمۡرَأَةٌ خَافَتۡ مِنۢ بَعۡلِهَا نُشُوزًا أَوۡ إِعۡرَاضٗا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَآ أَن يُصۡلِحَا بَيۡنَهُمَا صُلۡحٗاۚ وَٱلصُّلۡحُ خَيۡرٞۗ وَأُحۡضِرَتِ ٱلۡأَنفُسُ ٱلشُّحَّۚ وَإِن تُحۡسِنُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٗا ١٢٨
And if a woman fears from her husband contempt or evasion, there is no sin upon them if they make terms of settlement between them - and settlement is best. And present in [human] souls is stinginess.1 But if you do good and fear Allāh - then indeed Allāh is ever, of what you do, Aware.
اور اگر کوئی عورت اندیشہ کرے اپنے خاوند سے ظلم و زیادتی کا یا اعراض کا تو نہیں گناہ ان دونوں پر کہ صلح کر لیں وہ آپس میں (کسی طرح ) صلح کرنااور صلح بہت بہتر ہے اور حاضر کیے گئے ہیں نفس بخل کواور اگر تم نیکی کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بلاشبہ ہے اللہ، ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو، خبردار(128)
[128] یعنی جب عورت اپنے شوہر کے سخت رویے اور ظلم سے ڈرے یعنی خاوند اپنے آپ کو اس سے برتر سمجھے اور اس میں عدم رغبت کی وجہ سے اعراض کرے تو اس حالت میں بہتر صورت یہ ہے کہ وہ دونوں آپس میں مصالحت کر لیں۔ اور وہ اس طرح کہ بیوی اپنے بعض ان حقوق کو، جو شوہر پر لازم ہیں اس طرح نظر انداز کر دے کہ وہ شوہر کے ساتھ رہ سکے۔ یا تو وہ نان و نفقہ لباس، مکان وغیرہ میں سے قلیل ترین واجب پر راضی ہو جائے۔ یا اپنی باری میں سے اپنا حق ساقط کر دے یا اپنی باری کے شب و روز اپنی سوکن کو ہبہ کر دے اگر میاں بیوی اس صورت حال پر راضی ہو جائیں تو اس میں دونوں کے لیے کوئی حرج نہیں، اس میں میاں بیوی دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔ تب اس صورت حال میں اپنی بیوی کے ساتھ باقی رہنا جائز ہے اور یہ علیحدگی سے بہتر ہے بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالصُّلۡحُ خَيۡرٌ ﴾ ’’صلح بہتر ہے۔‘‘ اس لفظ اور معنی کے عموم سے یہ بات اخذ کی جاتی ہے کہ فریقین کے درمیان کسی حق یا تمام اشیاء میں نزاع ہو تو صلح اس سے بہتر ہے کہ وہ تمام اشیاء میں پورا پورا حق وصول کرنے کا مطالبہ کریں۔ کیونکہ اس صلح میں اصلاح، دونوں کے مابین الفت کی بقا اور سماحت (درگزر کرنے) کی صفت سے متصف ہونا ہے۔ یہ صلح تمام اشیاء میں جائز ہے سوائے اس صورت کے جس میں کسی حرام کو حلال یا کسی حلال کو حرام ٹھہرایا گیا ہو۔ تب یہ صلح نہیں بلکہ ظلم و جور ہے۔معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی حکم اس کے مقتضی کے وجود اور موانع کی نفی کے بغیر مکمل اور پورا نہیں ہوتا اس کی مثال یہی بڑا حکم ہے یعنی فریقین کے درمیان صلح، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کا تقاضا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بھلائی ہے اور عمل کرنے والا ہر شخص بھلائی کا طالب اور بھلائی میں رغبت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر اللہ تعالیٰ نے اس بھلائی کا حکم دیا ہو اور اس کی طرف رغبت دلائی ہو تو اس میں مومن کی طلب اور رغبت اور بڑھ جاتی ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے مانع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَاُحۡضِرَتِ الۡاَنۡفُسُ الشُّحَّ ﴾ ’’طمع ہر نفس میں شامل کر دی گئی ہے‘‘ یعنی بخل انسان کی جبلت ہے یہاں (الشُّ٘حَّ) ’’بخل‘‘ سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ انسان پر خرچ کرنا واجب ہے اسے خرچ کرنے میں راغب نہ ہو۔ اور اپنا حق حاصل کرنے کا بڑا حریص ہو۔ تمام نفوس طبعی طور پر اسی جبلت پر پیدا کیے گئے ہیں۔ یعنی تمھارے لیے مناسب یہ ہے کہ تم اپنے نفس سے اس گھٹیا خلق کا قلع قمع کرنے اور اس کی جگہ اس کی ضد یعنی سماحت کو اختیار کرنے کی کوشش کرو۔ سماحت سے مراد یہ ہے کہ تم اس حق کو ادا کرو جو تمھارے ذمہ ہے اور اپنے حق کے بارے میں اس کے کچھ حصے پر قناعت کرو۔ جب کبھی انسان کو اس خلق حسن کو اپنانے کی توفیق مل جاتی ہے تو اس کے لیے اپنے اور اپنے مخالف کے درمیان صلح آسان ہو جاتی ہے اور منزل مقصود تک پہنچنے کا راستہ سہل ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنی طبیعت سے بخل کو دور کرنے کی کوشش نہیں کرتا تو اس کے لیے صلح اور موافقت بہت مشکل کام ہے کیونکہ وہ اپنا پورا حق لیے بغیر راضی نہیں ہوتا اور اس پر جو حق واجب ہے اسے ادا کرنے پر تیار نہیں ہوتا۔ اگر دوسرے فریق کا رویہ بھی ایسا ہی ہو تو معاملہ اور زیادہ سخت ہو جاتا ہے۔پھر فرمایا: ﴿ وَاِنۡ تُحۡسِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا ﴾ ’’اگر تم اچھا سلوک کرو اور پرہیز گاری اختیار کرو‘‘ یعنی اگر تم خالق کی عبادت میں احسان سے کام لو یعنی بندہ اپنے رب کی عبادت اس طرح کرے گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے اگر ایسی کیفیت پیدا نہیں ہو سکتی تو یہ تصور پیدا کرے کہ وہ تو اسے دیکھ رہا ہے۔ اور تم احسان کے تمام طریقوں سے یعنی مال، اور جاہ وغیرہ کے ذریعے سے لوگوں سے بھلائی کرو ﴿ وَتَتَّقُوۡا ﴾ ’’پرہیز گاری اختیار کرو۔‘‘ یعنی تمام مامورات پر عمل کرتے ہوئے اور تمام محظورات سے اجتناب کرتے ہوئے اللہ سے ڈرو۔ یا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم مامورات پر عمل کرنے میں احسان سے کام لو اور محظورات کو ترک کر کے اللہ سے ڈرو۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرًا ﴾ ’’اللہ تمھارے سب کاموں سے باخبر ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ بندے کے ظاہر و باطن کا اپنے علم و خبر کے ذریعے سے احاطہ کیے ہوئے ہے پس وہ تمھارے اعمال کو محفوظ کر رہا ہے وہ تمھیں ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔
4:129Page 99
وَلَن تَسۡتَطِيعُوٓاْ أَن تَعۡدِلُواْ بَيۡنَ ٱلنِّسَآءِ وَلَوۡ حَرَصۡتُمۡۖ فَلَا تَمِيلُواْ كُلَّ ٱلۡمَيۡلِ فَتَذَرُوهَا كَٱلۡمُعَلَّقَةِۚ وَإِن تُصۡلِحُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورٗا رَّحِيمٗا ١٢٩
And you will never be able to be equal [in feeling] between wives, even if you should strive [to do so]. So do not incline completely [toward one] and leave another hanging.1 And if you amend [your affairs] and fear Allāh - then indeed, Allāh is ever Forgiving and Merciful.
اور ہرگز نہیں طاقت رکھو گے تم یہ کہ عدل کر سکو درمیان عورتوں کے اگرچہ حرص کرو تم، پس نہ جھک جاؤ تم مکمل جھک جانا (ایک طرف) کہ چھوڑ دو تم اس (دوسری) کو مانند (درمیان میں) لٹکی ہوئی کےاور اگر صلح کرو تم اور تقویٰ اختیار کرو تو یقینا اللہ بخشنے والا مہربان(129)
[129] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ شوہر اپنی بیویوں کے درمیان انصاف نہیں کر سکتے اور پورا پورا عدل و انصاف کرنا ان کے بس میں بھی نہیں۔ کیونکہ عدل اس بات کو مستلزم ہے کہ تمام بیویوں کے ساتھ یکساں محبت ہو، محبت کا داعیہ سب کے لیے برابر ہو اور دل کا میلان ان سب کے لیے مساوی ہو۔ پھر اس کے تقاضے کے مطابق عمل ہو۔ چونکہ یہ ناقابل عمل اور ناممکن ہے اس لیے جو چیز انسان کے بس میں نہیں اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کر دیا ہے اور اس چیز سے منع کر دیا جو انسان کے بس میں ہے چنانچہ فرمایا ﴿ فَلَا تَمِيۡلُوۡا كُلَّ الۡمَيۡلِ فَتَذَرُوۡهَا كَالۡمُعَلَّقَةِ۠ ﴾ ’’ایک ہی کی طرف مائل نہ ہوجانا کہ دوسروں کو ایسی حالت میں چھوڑدو کہ گویا وہ لٹک رہی ہے۔‘‘ یعنی تم ایک طرف بہت زیادہ نہ جھک جاؤ کہ تم ان کے وہ حقوق بھی ادا نہ کر سکو جو واجب ہیں۔ بلکہ اپنی استطاعت بھر عدل و انصاف سے کام لو۔ پس نان و نفقہ، لباس اور شب باشی کی تقسیم وغیرہ ایسے امور ہیں جن میں عدل کرنا تم پر فرض ہے، اس کے برعکس محبت اور مجامعت وغیرہ میں عدل و انصاف ممکن نہیں۔ پس جب شوہر بیوی کے وہ حقوق ترک کر دیتا ہے جنھیں ادا کرنا واجب ہے تو بیوی اس معلق عورت کی مانند ہو جاتی ہے جس کا خاوند نہیں ہوتا کہ جس سے وہ راحت حاصل کرے اور حقوق زوجیت ادا کرنے کی تیاری کرے اور نہ وہ خاوند والی ہوتی ہے جو اس کے حقوق کی دیکھ بھال کرے۔ ﴿ وَاِنۡ تُصۡلِحُوۡا ﴾ ’’اور اگر آپس میں موافقت کرلو۔‘‘ یعنی اگر تم اپنے اور اپنی بیویوں کے درمیان معاملات کی اصلاح کر لو۔ یعنی بیوی کے حقوق ادا کرتے ہوئے احتساب کے ساتھ اپنے نفس کو اس فعل پر مجبور کرو جس کو بجا لانے پر وہ آمادہ نہیں اور ان معاملات کی بھی اصلاح کر لو جو تمھارے اور لوگوں کے درمیان ہیں اور لوگوں کے تنازعات میں ان کے مابین صلح کرواؤ۔ یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ صلح کے لیے علی الاطلاق ہر طریقہ بروئے کار لایا جائے۔ ﴿ وَتَتَّقُوۡا ﴾ ’’اور پرہیز گاری کرو۔‘‘ مامورات پر عمل اور محظورات کو ترک کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مقدور بھر صبر کرو ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًؔا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ تمھارے تمام گناہوں کو معاف کر دے گا جو تم سے صادر ہوتے ہیں اور ان کوتاہیوں کو نظر انداز کر دے گا اور جیسے تم اپنی بیویوں کے ساتھ شفقت و مودت کا رویہ رکھتے ہو اللہ تعالیٰ بھی تم پر رحم کرے گا۔
4:130Page 99
وَإِن يَتَفَرَّقَا يُغۡنِ ٱللَّهُ كُلّٗا مِّن سَعَتِهِۦۚ وَكَانَ ٱللَّهُ وَٰسِعًا حَكِيمٗا ١٣٠
But if they separate [by divorce], Allāh will enrich each [of them] from His abundance. And ever is Allāh Encompassing and Wise.
اور اگر وہ دونوں الگ ہو جائیں تو بے نیاز کر دے گا اللہ ہر ایک کو اپنے فضل سےاور ہے اللہ وسعت والا حکمت والا(130)
[130] میاں بیوی کے درمیان تیسری حالت یہ ہے کہ جب اتفاق کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو دونوں کے درمیان علیحدگی میں کوئی حرج نہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِنۡ يَّتَفَرَّقَا ﴾ ’’اگر وہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں۔‘‘ یعنی اگر دونوں طلاق، فسخ یا خلع کے ذریعے سے ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں ﴿يُغۡنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنۡ سَعَتِهٖ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ دونوں میاں بیوی کو اپنے فضل و کرم اور لامحدود احسان کے ذریعے سے ایک دوسرے سے بے نیاز کر دے گا‘‘ شوہر کو کسی دوسری بیوی کے ذریعے سے پہلی بیوی سے اور بیوی کو اپنے فضل و کرم سے مستغنی کر دے گا۔ اگر بیوی کا اپنے شوہر کے رزق میں سے حصہ ختم ہو گیا ہے تو اس کا رزق اس ہستی کے ذمے ہے جو تمام مخلوق کو رزق عطا کرتی ہے اور ان کے مصالح کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ شاید اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر شوہر عطا کر دے۔ ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَؔكِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ بڑی کشائش والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بہت زیادہ فضل و کرم اور بے پایاں رحمت کا مالک ہے۔ جہاں جہاں اس کے علم نے احاطہ کیا ہوا ہے، وہاں تک اس کی رحمت سایہ کناں ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿ حَؔكِيۡمًا ﴾ ’’وہ حکمت والا ہے‘‘ اگر کسی کو عطا کرتا ہے تو حکمت کی بنیاد پر اور محروم کرتا ہے تو حکمت ہی کی بنیاد پر۔ جب اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ کسی بندے کو کسی سبب کی بنا پر اپنے فضل و احسان سے محروم کرے جس کا وہ مستحق نہیں، تو اپنے عدل و حکمت سے اسے محروم کر دیتا ہے۔
4:131–132Page 99
وَلِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۗ وَلَقَدۡ وَصَّيۡنَا ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكُمۡ وَإِيَّاكُمۡ أَنِ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ وَإِن تَكۡفُرُواْ فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَنِيًّا حَمِيدٗا ١٣١
And to Allāh belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. And We have instructed those who were given the Scripture before you and yourselves to fear Allāh. But if you disbelieve - then to Allāh belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. And ever is Allāh Free of need and Praiseworthy.
وَلِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًا ١٣٢
And to Allāh belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. And sufficient is Allāh as Disposer of affairs.1
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہےاور البتہ تحقیق وصیت کی ہم نے ان لوگوں کو جو دیے گئے کتاب تم سے پہلے اور خود تمھیں بھی یہ کہ ڈرو تم اللہ سےاور اگر کفر کرو گے تم تو تحقیق اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہےاور ہے اللہ بے پروا قابل تعریف(131) اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہےاور کافی ہے اللہ کارساز(132)
[132,131] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے وسیع اور عظیم اقتدار کے عموم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو اس امر کو مستلزم ہے کہ وہ شرعاً اور قدراً مختلف طریقوں سے کائنات کی تدبیر کرے اور گوناگوں تصرفات کے ذریعے سے اس میں تصرف کرے۔ اس کا تصرف شرعی یہ ہے کہ اس نے سابقین و اولین اور کتب سابقہ اور بعد میں نازل ہونے والی کتابوں کے ماننے والوں کو تقویٰ کی وصیت کی ہے جو امر و نہی، تشریح احکام اور اس شخص کے لیے ثواب کو متضمن ہے جو اس وصیت پر عمل کرتا ہے اور اس شخص کے لیے دردناک عذاب کی وعید کو متضمن ہے جو اس وصیت کو ضائع کرتا ہے۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تَكۡفُرُوۡا ﴾ ’’اور اگر کفر کروگے۔‘‘ یعنی اگر تم تقویٰ ترک کر دو اور کفر اختیار کر لو اور ایسی چیزوں کو اللہ کا شریک ٹھہرا لو جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی تو اس طرح تم صرف اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچاؤ گے، اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ تعالیٰ کے اقتدار میں ذرہ بھر کمی نہیں کر سکتے۔ اس کے اور بھی بندے ہیں جو تم سے بہتر اور تم سے زیادہ اطاعت گزار اور اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد فرمایا:﴿ وَاِنۡ تَكۡفُرُوۡا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَنِيًّا حَمِيۡدًا ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ کامل جود و کرم اور احسان کا مالک ہے جو کچھ اس کی رحمت کے خزانوں سے صادر ہوتا ہے وہ خرچ کرنے سے کم نہیں ہوتا۔ یہ خزانے اگر دن رات خرچ ہوتے رہیں تب بھی ختم نہیں ہوں گے۔ اگر زمین و آسمان کے رہنے والے اول سے لے کر آخر تک تمام لوگ اپنی اپنی آرزوؤں کے مطابق اللہ تعالیٰ سے سوال کریں تو اس کی ملکیت میں ذرہ بھر کمی نہ ہو گی۔ کیونکہ وہ جواد ہے، ہر چیز کو وجود بخشنے والا اور بزرگی کا مالک ہے۔ وہ اپنے کلام سے عطا کرتا ہے اور اپنے کلام سے عذاب دیتا ہے۔ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ’’ہوجا‘‘ اور وہ ہو جاتی ہے۔اس کی تمام تر بے نیازی یہ ہے کہ وہ کامل اوصاف کا مالک ہے کیونکہ اگر کسی بھی لحاظ سے اس میں کوئی نقص ہوتا تو وہ اس کمال کے لیے محتاج ہوتا۔ بلکہ اس کے لیے کمال کی ہر صفت ہے اور انھی میں سے ایک صفت کمال ہے اور یہ اس کی بے نیازی ہی ہے کہ اس کی کوئی بیوی اور کوئی اولاد نہیں۔ اقتدار میں اس کا کوئی شریک ہے نہ کوئی مددگار اور اس کے اپنے اقتدار کی تدبیر میں اس کا کسی قسم کا کوئی معاون نہیں۔یہ اس کا کامل غنا اور اس کی بے نیازی ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی اپنے تمام احوال اور تمام معاملات میں اسی کے محتاج ہیں اور اپنی چھوٹی بڑی حاجتوں میں اسی سے سوال کرتے ہیں..... اور اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے مطلوب اور سوال کو پورا کرتا ہے، ان کو غنی اور مال دار کر دیتا ہے ان کو اپنے لطف و کرم سے نوازتا ہے اور انھیں راہ ہدایت دکھاتا ہے۔رہا اسم گرامی (حمید) تو یہ نام اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنی میں شمار ہوتا ہے اور اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ہر قسم کی حمد و ثنا، محبت اور اکرام کا مستحق ہے۔ اس لیے وہ صفات حمد سے متصف ہے جو کہ جمال و جلال کی صفات ہیں اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اس لیے وہ ہر حال میں ’’محمود‘‘ ہے۔ ان دو اسمائے گرامی یعنی (اَلْغَنِیُّ)(اَلْحَمِیْدُ) کا یک جا ہونا کتنا خوبصورت ہے۔ یقینا وہ بے نیاز اور قابل تعریف ہے، اسے کمال بے نیازی بھی حاصل ہے اور کمال حمد بھی اور ان دونوں کے حسن امتزاج کا کمال بھی۔پھر اس نے مکرر فرمایا ہے کہ زمین اور آسمانوں میں اقتدار اسی کا ہے اور ہر چیز کو کفایت کرنے والا وہی ہے۔ یعنی وہ علم رکھنے والا اور اپنی حکمت کے مطابق تمام اشیاء کی تدبیر کرتا ہے اور یہی کامل کفایت اور وکالت ہے کیونکہ وکالت اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ جس چیز کا وکیل ہے اسے اس کا پورا پورا علم ہو۔ پھر اس کو نافذ کرنے اور تدبیر کرنے میں پوری قوت اور قدرت رکھتا ہو۔ اور یہ تدبیر حکمت اور مصلحت پر مبنی ہو۔ اگر ان امور میں کوئی کمی ہے تو وہ وکیل میں نقص کی وجہ سے ہے اور اللہ تعالیٰ ہر نقص سے منزہ ہے۔
4:133–134Page 99
إِن يَشَأۡ يُذۡهِبۡكُمۡ أَيُّهَا ٱلنَّاسُ وَيَأۡتِ بِـَٔاخَرِينَۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ قَدِيرٗا ١٣٣
If He wills, He can do away with you, O people, and bring others [in your place]. And ever is Allāh competent to do that.
مَّن كَانَ يُرِيدُ ثَوَابَ ٱلدُّنۡيَا فَعِندَ ٱللَّهِ ثَوَابُ ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ سَمِيعَۢا بَصِيرٗا ١٣٤
Whoever desires the reward of this world - then with Allāh is the reward of this world and the Hereafter. And ever is Allāh Hearing and Seeing.
اگر چاہے وہ تو لے جائے تمھیں اے لوگو! اور لے آئے دوسروں کواور ہے اللہ اوپر اس کے خوب قدرت رکھنے والا(133) جو کوئی ارادہ کرتا ہے ثواب (صلے) کا دنیا میں تو اللہ کے ہاں ثواب ہے دنیا کا اور آخرت کا اور ہے اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا(134)
[133] یعنی وہ (غَنِيٌّ حَمِیْدٌ) ہے اور وہ قدرت کاملہ اور مشیت نافذہ کا مالک ہے۔ ﴿ اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ اَيُّهَا النَّاسُ وَيَاۡتِ بِاٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کردے اور (تمھاری جگہ) اور لوگوں کو پیدا کردے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے علاوہ اور لوگوں کو لے آئے گا وہ تم سے بہتر اور اللہ تعالیٰ کی زیادہ اطاعت کرنے والے ہوں گے۔ یہ آیت کریمہ لوگوں کے لیے ان کے اپنے کفر پر قائم رہنے اور اپنے رب سے روگردانی کرنے پر تہدید ہے۔ اگر وہ اطاعت نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ کو ان کی ذرہ بھر بھی پروا نہیں۔ مگر وہ ان کو مہلت اور ڈھیل دیتا ہے تاہم ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا۔ (یعنی حساب ضرور لے گا)
[134] پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ جس کسی کی ہمت اور ارادہ گھٹیا ہے اور دنیا کے ثواب سے آگے نہیں بڑھتا۔ اور وہ آخرت کا کوئی ارادہ ہی نہیں رکھتا، پس اس کی نظر اور اس کی کوشش کوتاہ ہے۔ بایں ہمہ اسے دنیا کا ثواب بھی صرف اتنا ہی ملے گا جتنا اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک ہے دنیا و آخرت کا ثواب اسی کے پاس ہے، پس دنیا و آخرت اسی سے طلب کی جائے اور ان کے حصول کے لیے اسی سے مدد مانگی جائے۔ کیونکہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ صرف اس کی اطاعت ہی سے حاصل ہوسکتا ہے اور تمام دینی اور دنیاوی امور کا حصول اسی سے مدد طلب کرنے اور ہمیشہ صرف اسی کا محتاج ہونے سے ممکن ہے وہ جس کسی کو اپنی توفیق سے نوازتا ہے یا اسے توفیق سے محروم کر کے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے اس میں اس کی حکمت پنہاں ہے اس کا کسی کو عطا کرنا اور محروم کرنا اس کی حکمت ہی پر مبنی ہے۔ اسی لیے فرمایا:﴿ وَؔكَانَ اللّٰهُ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا﴾ ’’اللہ تعالیٰ سننے والا دیکھنے والا ہے۔‘‘
4:135Page 100
۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّٰمِينَ بِٱلۡقِسۡطِ شُهَدَآءَ لِلَّهِ وَلَوۡ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمۡ أَوِ ٱلۡوَٰلِدَيۡنِ وَٱلۡأَقۡرَبِينَۚ إِن يَكُنۡ غَنِيًّا أَوۡ فَقِيرٗا فَٱللَّهُ أَوۡلَىٰ بِهِمَاۖ فَلَا تَتَّبِعُواْ ٱلۡهَوَىٰٓ أَن تَعۡدِلُواْۚ وَإِن تَلۡوُۥٓاْ أَوۡ تُعۡرِضُواْ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٗا ١٣٥
O you who have believed, be persistently standing firm in justice, witnesses for Allāh, even if it be against yourselves or parents and relatives. Whether one is rich or poor, Allāh is more worthy of both.1 So follow not [personal] inclination, lest you not be just. And if you distort [your testimony] or refuse [to give it], then indeed Allāh is ever, of what you do, Aware.
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ہو جاؤ تم قائم رہنے والے انصاف پر، گواہی دینے والے اللہ کے لیے اگرچہ ہو وہ خلاف تمھاری اپنی جانوں کے یا والدین کے یا قرابت داروں کے۔ اگر ہو (وہ شخص) مال دار یا فقیر، پس اللہ زیادہ حق دار ہے، بہ نسبت ان دونوں کے، پس نہ پیروی کرو تم خواہش کی (کہ گریز کرو تم) انصاف کرنے سے اور اگر موڑو تم زبان کو یا اعراض کرو تم، پس تحقیق اللہ ہے، ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو، خبردار(135)
[135] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ انصاف پر قائم رہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی دینے والے بن جائیں۔ (اَلْقَوَّام) مبالغہ کا صیغہ ہے۔ یعنی اپنے تمام احوال میں عدل پر قائم رہو (قِسْطٌ) سے مراد حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں عدل و انصاف ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے حقوق میں انصاف یہ ہے کہ اس کی نعمتوں کو اس کی نافرمانی میں استعمال نہ کیا جائے بلکہ ان کو اس کی اطاعت و فرماں برداری میں صرف کیا جائے اور حقوق العباد میں عدل و انصاف یہ ہے کہ بندوں کے وہ تمام حقوق ادا کیے جائیں جو تجھ پر اسی طرح واجب ہیں جس طرح تیرے حقوق ان پر واجب ہیں اور تو اپنے حقوق کا مطالبہ کرتا ہے پس تو نفقات واجبہ اور قرض وغیرہ ادا کر اور تو لوگوں سے اسی اخلاق و حسن صلہ کے ساتھ معاملہ کر، جو تو اپنے بارے میں ان سے چاہتا ہے۔ سب سے بڑا انصاف، باتوں اور بات کہنے والوں کے بارے میں ہے۔ دو باتوں میں سے کسی ایک بات کے حق میں یا کسی تنازع کے فریقین میں کسی فریق کے حق میں محض اس وجہ سے فیصلہ نہ کرے کہ اسے اس بات سے یا فریق سے کوئی نسبت ہے یا اس کی طرف میلان ہے بلکہ ان دونوں کے درمیان عدل کو مقدم رکھے۔ عدل و انصاف کی ایک قسم یہ ہے کہ تو اس شہادت کو ادا کر جو تیرے ذمہ عائد ہے خواہ وہ کسی ہی کے خلاف کیوں نہ ہوں خواہ یہ شہادت تیرے محبوب لوگوں کے خلاف بلکہ خود تیری اپنی ذات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ شُهَدَآءَؔ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰۤى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ١ۚ اِنۡ يَّكُنۡ غَنِيًّا اَوۡ فَقِيۡرًا فَاللّٰهُ اَوۡلٰى بِهِمَا ﴾ ’’اللہ کے لیے سچی گواہی دینے والے اگرچہ وہ تمھارے اپنے خلاف ہو یا والدین کے یا رشتہ داروں کے وہ شخص اگر امیر ہو یا فقیر، پس اللہ زیادہ حق دار ہے بہ نسبت ان دونوں کے۔‘‘ یعنی کسی دولت مند کی اس کی دولت کی وجہ سے رعایت کرو نہ کسی محتاج پر بزعم خویش ترس کھاتے ہوئے اس کی رعایت کرو، بلکہ صحیح صحیح شہادت دو، خواہ کسی ہی کے خلاف کیوں نہ ہو۔ عدل و انصاف قائم کرنا عظیم ترین امور میں شمار ہوتا ہے نیز یہ چیز عدل قائم کرنے والے کے دین، ورع اور اسلام میں اس کے مقام پر دلالت کرتی ہے۔ پس یہ بات متعین ہے کہ جو کوئی اپنے نفس کا خیر خواہ ہے اور وہ اس کی نجات چاہتا ہے، تو وہ عدل کا پورا پورا اہتمام کرے، اس کو مدنظر رکھے اور اپنے ارادے کا مرکز بنائے رکھے اور نفس سے ہر اس داعیے کو دور کر دے جو عدل کے ارادے سے مانع اور اس پر عمل کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہو اور انصاف کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ خواہشات نفس کی پیروی ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس رکاوٹ کو دور کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿ فَلَا تَتَّبِعُوا الۡهَوٰۤى اَنۡ تَعۡدِلُوۡا ﴾ ’’تم خواہش نفس کے پیچھے چل کر عدل کو نہ چھوڑ دینا۔‘‘ یعنی تم حق کی مخالفت میں اپنے نفس کی اتباع نہ کرو۔ اگر تم نے اپنے نفس کی پیروی کی تو راہ صواب سے ہٹ جاؤ گے اور تم عدل و انصاف کی توفیق سے محروم ہو جاؤ گے۔ کیونکہ خواہش نفس یا تو انسان کی بصیرت کو اندھا کر دیتی ہے اور اسے حق باطل اور باطل حق دکھائی دیتا ہے۔ یا وہ حق کو پہچان لیتا ہے مگر اپنی خواہش نفس کی خاطر اسے چھوڑ دیتا ہے۔ پس جو شخص خواہش نفس سے محفوظ رہا اسے حق کی توفیق عطا ہوتی ہے اور وہ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی سے نوازا جاتا ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ عدل و انصاف کو قائم کرنا واجب ہے، تو اس نے ہر اس چیز سے بھی روک دیا جو عدل کی ضد ہے۔ یعنی شہادت وغیرہ میں زبان کو حق سے ہٹا دینا اور ہر لحاظ سے یا کسی ایک پہلو سے نطق زبان کو صواب مقصود سے پھیر دینا اور اسی میں، شہادت میں تحریف کرنا، اس کی عدم تکمیل اور شاہد کا شہادت کی تاویل کرتے ہوئے اس کا رخ کسی اور طرف پھیر دینا، بھی شامل ہے۔ اس لیے کہ یہ بھی (لَيّ) زبان کی کجی میں سے ہے، کیونکہ یہ حق سے انحراف ہے۔ ﴿ اَوۡ تُعۡرِضُوۡا ﴾ ’’یا تم اعراض کرو۔‘‘ یعنی اگر تم اس عدل و انصاف کو ترک کر دو جس کا دار و مدار تم پر ہے جیسے شاہد کا شہادت کو ترک کر دینا یا حاکم کا اپنے فیصلے کو ترک کر دینا جو کہ اس پر واجب تھا ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرًا ﴾ ’’تو (جان رکھو) اللہ تمھارے سب کاموں سے واقف ہے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے افعال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور تمھارے ظاہر و باطن تمام اعمال کا علم رکھتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت تہدید ہے جو زبان سے کجی اختیار کرتا یا حق سے اعراض کرتا ہے اور وہ شخص اس تہدید کا بدرجہ اولیٰ مستحق ہے جو باطل فیصلہ کرتا یا جھوٹی گواہی دیتا ہے۔ اس لیے کہ اس کا جرم سب سے بڑا ہے۔ کیونکہ پہلے دو اشخاص نے حق کو ترک کیا اور اس نے باطل کو قائم کیا۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences