As-Sa'diAn‑Nisa · 4:17–25

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

An-Nisa 4:17–25

4:17–18Page 80

إِنَّمَا ٱلتَّوۡبَةُ عَلَى ٱللَّهِ لِلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلسُّوٓءَ بِجَهَٰلَةٖ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٖ فَأُوْلَٰٓئِكَ يَتُوبُ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمٗا ١٧

The repentance accepted by Allāh is only for those who do wrong in ignorance [or carelessness] and then repent soon [after].1 It is those to whom Allāh will turn in forgiveness, and Allāh is ever Knowing and Wise.

وَلَيۡسَتِ ٱلتَّوۡبَةُ لِلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ حَتَّىٰٓ إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ ٱلۡمَوۡتُ قَالَ إِنِّي تُبۡتُ ٱلۡـَٰٔنَ وَلَا ٱلَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمۡ كُفَّارٌۚ أُوْلَٰٓئِكَ أَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابًا أَلِيمٗا ١٨

But repentance is not [accepted] of those who [continue to] do evil deeds up until, when death comes to one of them, he says, "Indeed, I have repented now," or of those who die while they are disbelievers. For them We have prepared a painful punishment.

یقینا توبہ (کا قبول کرنا) تو اللہ کے ذمے انھی لوگوں کے لیے ہے جو کرتے ہیں برا کام جہالت سے، پھر توبہ کر لیتے ہیں جلد ہی۔ پس یہی لوگ ہیں کہ متوجہ ہوتا ہے اللہ ان پر (یعنی توبہ قبول کر لیتا ہے) اور ہے اللہ بہت جاننے والا بڑا حکمت والا(17) اور نہیں توبہ (قبول ہوتی) ان لوگوں کی جو کرتے (رہتے) ہیں برے کام، یہاں تک کہ جب آتی ہے ایک کو ان میں سے موت تو کہتا ہے، بے شک میں نے توبہ کی اب اور نہ ان لوگوں کی جو مرتے ہیں اس حال میں کہ وہ کافر ہی ہوتے ہیں۔ یہ لوگ، تیار کیا ہے ہم نے ان کے لیے عذاب بہت دردناک(18)

[18,17] اللہ تعالیٰ کا بندوں کی طرف رجوع کرنے کی دو قسمیں ہیں: (۱) اللہ تعالیٰ کا بندے کو توبہ کی توفیق عطا کرنا۔ (۲) بندے کے توبہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا اس کو قبول کر لینا۔اللہ تعالیٰ نے یہاں آگاہ فرمایا ہے کہ توبہ اللہ تعالیٰ پر استحقاق ہے، قبولیت توبہ ایک ایسا حق ہے جسے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے جود و کرم کی بنا پر اپنے آپ پر اس بندے کے لیے لازم فرمایا ہے جو برا کام کر بیٹھتا ہے ﴿ بِجَهَالَةٍ ﴾یعنی وہ اس برائی کے انجام، اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے، جس کی یہ برائی موجب ہوتی ہے۔۔۔ لاعلمی کی وجہ سے برائی کا ارتکاب کرتا ہے۔ وہ برائی کرتے وقت اس بات سے بھی جاہل ہوتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے نیز وہ اس سے بھی لاعلم ہوتا ہے کہ برائی کا ارتکاب ایمان میں کمی یا اسے معدوم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا ہر نافرمان شخص اس اعتبار سے جاہل ہوتا ہے خواہ وہ اس برائی کی تحریم کا علم رکھتا ہو۔ بلکہ برائی کی تحریم کا علم، اس کے معصیت ہونے اور اس کے مرتکب کی سزا کے لیے شرط ہے۔﴿ ثُمَّ يَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِيۡبٍ ﴾ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وہ موت کو دیکھ لینے سے قبل توبہ کر لیتے ہیں۔ یہ بات قطعی ہے کہ جب بندہ موت کے معائنہ سے قبل توبہ کر لیتاہے تو اللہ بندے کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ موت کو دیکھ لینے کے بعد گناہ گاروں کی توبہ قابل قبول نہیں ہوتی اور نہ کفار کے لیے رجوع کی کوئی گنجائش رہتی ہے۔ فرعون کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدۡرَؔكَهُ الۡغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ وَاَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾(یونس : 10؍90) ’’یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ﴿ فَلَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗ وَؔكَفَرۡنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشۡرِكِيۡنَ۰۰ فَلَمۡ يَكُ يَنۡفَعُهُمۡ اِيۡمَانُهُمۡ لَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيۡ قَدۡ خَلَتۡ فِيۡ عِبَادِهٖ١ۚ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الۡكٰفِرُوۡنَ﴾(المومن:40؍84،85) ’’جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو انھوں نے کہا ہم ایک اللہ پر ایمان لائے اور ہم نے ان خداؤں کا انکار کیا جنھیں ہم اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے۔ مگر جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو ان کے ایمان نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں چلی آرہی ہے۔‘‘یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَيۡسَتِ التَّوۡبَةُ لِلَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ السَّؔيِّاٰتِ ﴾ ’’ان کی توبہ نہیں جو برائیاں کرتے چلے جائیں‘‘ یہاں برائیوں سے مراد کفر سے کم تر گناہ ہیں ﴿ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الۡمَوۡتُ قَالَ اِنِّيۡ تُبۡتُ الۡـٰٔنَ وَلَا الَّذِيۡنَ يَمُوۡتُوۡنَ وَهُمۡ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے تو کہہ دے کہ میں نے اب توبہ کی، ان کی توبہ قبول نہیں جو کفر پر ہی مر جائیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے ہم نے الم ناک عذاب تیار کر رکھے ہیں‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس حالت میں توبہ اضطراری توبہ ہے جو توبہ کرنے والے کو کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ صرف اختیاری توبہ فائدہ دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ مِنۡ قَرِيۡبٍ ﴾ میں اس معنیٰ کا بھی احتمال ہے کہ توبہ کے موجب، گناہ کے ارتکاب کے ساتھ ہی توبہ کی جائے ۔۔۔ تب آیت کا معنیٰ یہ ہو گا ’’جس کسی نے برائی کا ارتکاب کرتے ہی برائی کو چھوڑنے میں جلدی کی اور نادم ہو کر اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔‘‘ اس کے برعکس وہ شخص جو اپنے گناہ پر قائم اور اپنے عیوب پر مصر رہتا ہے یہاں تک کہ یہ گناہ اس کی عادت راسخہ بن جاتا ہے تب اس کے لیے پوری طرح توبہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ غالب طور پر اسے توبہ کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ اور اس کے لیے توبہ کے اسباب مہیا نہیں کیے جاتے۔ مثلاً وہ شخص جو جانتے بوجھتے اور اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے اور استہزا کے ساتھ برے اعمال کا ارتکاب کرتا ہے وہ اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ بند کر لیتا ہے۔ ہاں کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہوئے عمداً گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے اور ان گناہوں پر مصر رہتا ہے مگر اللہ اسے توبہ نافعہ کی توفیق عطا کر دیتا ہے یہ توبہ اس کے گزشتہ گناہ اور جرائم کو دھو ڈالتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی توفیق پہلے شخص کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت اس طرح ختم فرمائی:﴿ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ﴾ ’’اللہ علم اور حکمت والا ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے جاننے میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ جانتا ہے کہ کون سچی توبہ کرتا ہے اور کون اپنی توبہ میں جھوٹا ہے، ان میں سے ہر ایک کو اپنی حکمت کے مطابق، جس کا وہ مستحق ہو گا، جزا دیتا ہے اور یہ بھی اس کی حکمت کا حصہ ہے کہ وہ اسے توبہ کی توفیق عطا کر دیتا ہے جس کے لیے اس کی حکمت، رحمت اور توفیق تقاضا کرتی ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ کر علیحدہ ہو جاتا ہے جس کو چھوڑنا اس کا عدل و حکمت اور عدم توفیق تقاضا کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔

4:19–21Page 80

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا يَحِلُّ لَكُمۡ أَن تَرِثُواْ ٱلنِّسَآءَ كَرۡهٗاۖ وَلَا تَعۡضُلُوهُنَّ لِتَذۡهَبُواْ بِبَعۡضِ مَآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ إِلَّآ أَن يَأۡتِينَ بِفَٰحِشَةٖ مُّبَيِّنَةٖۚ وَعَاشِرُوهُنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ فَإِن كَرِهۡتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰٓ أَن تَكۡرَهُواْ شَيۡـٔٗا وَيَجۡعَلَ ٱللَّهُ فِيهِ خَيۡرٗا كَثِيرٗا ١٩

O you who have believed, it is not lawful for you to inherit women by compulsion.1 And do not make difficulties for them in order to take [back] part of what you gave them2 unless they commit a clear immorality [i.e., adultery]. And live with them in kindness. For if you dislike them - perhaps you dislike a thing and Allāh makes therein much good.

وَإِنۡ أَرَدتُّمُ ٱسۡتِبۡدَالَ زَوۡجٖ مَّكَانَ زَوۡجٖ وَءَاتَيۡتُمۡ إِحۡدَىٰهُنَّ قِنطَارٗا فَلَا تَأۡخُذُواْ مِنۡهُ شَيۡـًٔاۚ أَتَأۡخُذُونَهُۥ بُهۡتَٰنٗا وَإِثۡمٗا مُّبِينٗا ٢٠

But if you want to replace one wife with another and you have given one of them a great amount [in gifts], do not take [back] from it anything. Would you take it in injustice and manifest sin?

وَكَيۡفَ تَأۡخُذُونَهُۥ وَقَدۡ أَفۡضَىٰ بَعۡضُكُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٖ وَأَخَذۡنَ مِنكُم مِّيثَٰقًا غَلِيظٗا ٢١

And how could you take it while you have gone in unto each other and they have taken from you a solemn covenant?

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہیں ہے حلال تمھارے لیے یہ کہ وارث ہو جاؤ تم عورتوں کے زبردستی اور نہ روکو تم انھیں تاکہ لے لو تم کچھ (حصہ) اس (حق مہر) کا جو دیا تم نے ان کو۔ مگر یہ کہ کریں وہ بے حیائی کھلی کا کام۔ اور گزر بسر کرو تم ان کے ساتھ خوش اسلوبی سے۔ پس اگر ناپسند کرو تم ان کو تو شاید کہ ناپسند کرو تم کسی چیز کو اور کر دے اللہ اس میں بھلائی بہت (19) اور اگر چاہو تم بدلنا ایک بیوی کا ایک بیوی کی جگہ اور دیا ہو تم نے ایک کو ان میں سے بہت سا مال، پس نہ (واپس) لو تم اس میں سے کچھ بھی۔ کیا لو گے تم اسے بہتان باندھ کر اور گناہ صریح سے؟(20) اور کیسے لو گے تم اسے، جبکہ ملاپ کر چکا ہے ایک تمھارا دوسرے سےاور لیا ہے ان عورتوں نے تم سے عہد پختہ(21)

[19] زمانہ جاہلیت میں اگر کوئی شخص مر جاتا اور اپنے پیچھے بیوی چھوڑتا تو مرنے والے کا کوئی قریبی مثلاً بھائی یا چچا زاد بھائی وغیرہ سمجھتا تھا کہ وہ اس عورت کا سب سے زیادہ مستحق ہے۔ چنانچہ عورت خواہ پسند کرتی یا ناپسند کرتی وہ اس عورت پر قبضہ کر لیتا تھا اور اسے کسی اور کے ساتھ نکاح نہ کرنے دیتا۔ اگر وہ چاہتا تو وہ اس کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق حق مہر پر اس سے نکاح کر لیتا۔ اور اگر وہ اسے پسند نہ کرتا تو اسے نکاح کرنے سے روک دیتا اور صرف اسی کے ساتھ اس کا نکاح کرتا جسے وہ خود منتخب کرتا اور بسااوقات وہ اس کا نکاح اس وقت تک نہ ہونے دیتا جب تک وہ مرنے والے شوہر کی میراث یا مہر میں سے اسے کچھ نہ دے دیتی۔ نیز وہ اپنی ناپسندیدہ بیوی کو بھی روک رکھتا اور دوسری جگہ نکاح نہ کرنے دیتا تاکہ وہ اپنا حق مہر اور وہ سامان ساتھ نہ لے جائے جو اس نے اسے عطا کیا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان تمام امور سے اہل ایمان کو منع کیا ہے۔ سوائے مندرجہ ذیل دو حالتوں کے۔۱۔ جب عورت برضا و رغبت اپنے سابقہ شوہر کے کسی قریبی رشتہ دار کے ساتھ نکاح کر لے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ كَرۡهًا ﴾ کا مفہوم مخالف ہے۔۲۔ جب واضح بدکاری مثلاً زنا وغیرہ کا ارتکاب کرے اور فحش گوئی کے ذریعے سے اپنے شوہر کو اذیت دے، تو اس صورت میں خاوند کا اس کو اس کے کرتوتوں کی سزا کے طور پر، دوسری جگہ شادی کرنے سے روکنا جائز ہے، تاکہ وہ خاوند سے وصول کردہ مال واپس کرنے پر آمادہ ہو جائے۔ (یہ گویا خلع کی صورت ہے جس میں خاوند حق مہر وغیرہ واپس لے سکتا ہے)لیکن شرط یہی ہے کہ یہ روکنا عدل و انصاف کے مطابق ہو۔﴿ وَعَاشِرُوۡهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’اور ان سے اچھے طریقے سے گزران کرو‘‘ یہ حکم قولی اور فعلی دونوں قسم کی معاشرت (گزران)کو شامل ہے، پس شوہر پر فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ اچھے طریقے سے رہے، اسے کوئی اذیت نہ دے اس کے ساتھ بھلائی اور حسن معاملہ سے پیش آئے۔ اس میں نان و نفقہ، اور لباس وغیرہ سب شامل ہے۔ پس زمان و مکان کے احوال کے مطابق شوہر کا بیوی سے معروف طریقے سے پیش آنا فرض ہے اور اسی طرح بیوی پر بھی فرض ہے۔ یہ چیز احوال کے تفاوت کے مطابق متفاوت ہوتی ہے۔﴿ فَاِنۡ كَرِهۡتُمُوۡهُنَّ فَعَسٰۤى اَنۡ تَؔكۡرَهُوۡا شَيۡـًٔـا وَّيَجۡعَلَ اللّٰهُ فِيۡهِ خَيۡرًا كَثِيۡرًا ﴾ ’’اگر تم انھیں ناپسند کرو، لیکن بہت ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو برا جانو اور اللہ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے‘‘ یعنی اے شوہرو تم اپنی بیویوں کو ناپسند کرنے کے باوجود اپنے پاس رکھو کیونکہ ایسا کرنے میں خیر کثیر ہے۔ مثلاً، اس میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور اس کی وصیت کو قبول کرنا ہے، جس کے اندر دنیا و آخرت کی سعادت ہے۔۳۔ شوہر کا اپنی بیوی کے ساتھ عدم محبت کے باوجود اپنے آپ کو اس کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا، اس میں مجاہدۂ نفس بھی ہے اور خلق جمیل سے آراستہ ہونا بھی۔۴۔ بسااوقات ناپسندیدگی زائل ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ محبت لے لیتی ہے جیسا کہ فی الواقع ہوتا ہے۔۵۔ اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان دونوں کو صالح اولاد عطا کر دیتا ہے جو دنیا و آخرت میں اپنے والدین کو نفع دیتی ہے۔

[20] بیوی کو اپنے ساتھ رکھنے میں ان تمام امور کے امکانات موجود ہیں، البتہ جب بیوی سے مفارقت ناگزیر ہو جائے اور اس کو ساتھ رکھنے کی کوئی صورت بنتی نظر نہ آئے، تب اسے روک رکھنا لازم نہیں ﴿وَ اِنۡ اَرَدۡتُّمُ اسۡتِبۡدَالَ زَوۡجٍ مَّكَانَ زَوۡجٍ ﴾ یعنی جب تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لانا چاہو یعنی ایک بیوی کو طلاق دے کر دوسری بیوی سے نکاح کرنا چاہو تو اس میں کوئی گناہ اور حرج کی بات نہیں ﴿ وَّاٰتَيۡتُمۡ اِحۡدٰؔىهُنَّ ﴾ البتہ اگر تم نے جدا ہونے والی بیوی کو یا اس کو جس سے نکاح کیا ہے ﴿ قِنۡطَارًا ﴾ مال کثیر عطا کر رکھا ہو ﴿ فَلَا تَاۡخُذُوۡا مِنۡهُ شَيۡـًٔا ﴾ تو اس سے کوئی چیز واپس نہ لو بلکہ اس میں اور زیادتی کرو اور ان کے ساتھ ٹال مٹول نہ کرو۔یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کثرت مہر حرام نہیں۔ مگر بایں ہمہ تخفیف مہر میں رسول اللہﷺکی اقتدا افضل اور زیادہ لائق اعتنا ہے اور استدلال کا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک معاملے کی خبر دی ہے جو ان سے واقع ہوا، مگر اس پر نکیر نہیں فرمائی، جس سے معلوم ہوا کہ یہ فعل حرام نہیں ہے، مگر کبھی زیادہ حق مہر مقرر کرنے سے روکا بھی گیا ہے جبکہ اس میں دینی مفاسد ہوں اور اس کے مقابلے میں کوئی مصلحت نہ ہو۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اَتَاۡخُذُوۡنَهٗ۠ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّؔبِيۡنًا ﴾ ’’کیا تم اسے ناحق اور کھلا گناہ ہوتے ہوئے بھی لے لو گے‘‘ کیونکہ ایسا کرنا جائز نہیں خواہ تم بیوی کو عطا کی ہوئی چیز واپس لینے کے لیے کوئی بھی حیلہ کر لو، بہرحال یہ واضح گناہ ہے۔

[21] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی حکمت بیان فرمائی ہے ﴿ وَؔ كَيۡفَ تَاۡخُذُوۡنَهٗ وَقَدۡ اَفۡضٰى بَعۡضُكُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ وَّاَخَذۡنَ مِنۡكُمۡ مِّؔيۡثَاقًا غَلِيۡظًا ﴾ ’’تم اسے کیسے لے لو گے؟ حالانکہ تم ایک دوسرے سے مل چکے ہو اور ان عورتوں سے تم نے مضبوط عہدوپیمان لے رکھا ہے‘‘ اور اس کی توضیح یوں ہے کہ بیوی شوہر کے لیے نکاح سے قبل حرام ہوتی ہے اس نے بیوی کے طور پر حلال ہونے کے لیے صرف حق مہر کے عوض رضامندی کا اظہار کیا تھا جو وہ بیوی کو ادا کرے گا۔ جب اس نے اپنی بیوی کے ساتھ خلوت صحیحہ میں صحبت اور مباشرت کی جو اس سے قبل حرام تھی اور وہ بیوی اس کے لیے اس عوض کے بغیر راضی نہ تھی، پس شوہر نے مہر کا معوض پوری طرح وصول کر لیا، تو اس پر عوض (مہر) کی ادائیگی واجب ہو گئی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ شوہر معوض (یعنی صحبت و مباشرت) تو پورا پورا وصول کرے پھر اس کے بعد حق مہر ادا نہ کرے۔ یہ بہت بڑا ظلم اور جور ہے۔ (اس لیے ایسا نہ کرو) اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عقد میں بیوی کے حقوق کے قیام کے لیے شوہروں سے پکا عہد لیا ہے۔ (اس کا بھی تقاضا عدل و کرم ہے نہ کہ ظلم و جبر)پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

4:22Page 81

وَلَا تَنكِحُواْ مَا نَكَحَ ءَابَآؤُكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ إِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَۚ إِنَّهُۥ كَانَ فَٰحِشَةٗ وَمَقۡتٗا وَسَآءَ سَبِيلًا ٢٢

And do not marry those [women] whom your fathers married, except what has already occurred.1 Indeed, it was an immorality and hateful [to Allāh] and was evil as a way.

اور نہ نکاح کرو تم ان سے کہ نکاح کیا تمھارے باپوں نے جن عورتوں سے مگر جو پہلے گزر گیا، بلاشبہ یہ ہے بے حیائی کا کام اور ناراضی کی بات اور برا ہے طریقہ(22)

[22] یعنی ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمھارے باپ اور دادا نکاح کر چکے ہوں ﴿ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ﴾ ’’یہ بہت قبیح کام ہے‘‘ اور اس کی قباحت بہت بڑھی ہوئی ہے ﴿ وَّمَقۡتًا ﴾ تمھارے لیے اللہ تعالیٰ اور مخلوق کی ناراضی کا باعث ہے۔ بلکہ اس کے سبب سے بیٹا باپ سے اور باپ بیٹے سے ناراض ہو جاتا ہے، حالانکہ بیٹے کو باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کا حکم ہے ﴿ وَسَآءَؔ سَبِيۡلًا﴾(اس راستے پر) چلنے والے کے لیے یہ برا راستہ ہے۔ کیونکہ یہ جاہلیت کی قبیح رسم و عادات ہیں جن سے (معاشرے کو) پاک کرنے کے لیے اسلام آیا ہے۔

یہ آیات کریمہ نسبی محرمات، رضاعی محرمات اور سسرالی قرابت کی بنا پر محرمات، جمع کرنے کی بنا پر محرمات اور حلال عورتوں کے احکام پر مشتمل ہے۔

4:23–24Page 81

حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُكُمۡ وَأَخَوَٰتُكُمۡ وَعَمَّٰتُكُمۡ وَخَٰلَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُ ٱلۡأَخِ وَبَنَاتُ ٱلۡأُخۡتِ وَأُمَّهَٰتُكُمُ ٱلَّٰتِيٓ أَرۡضَعۡنَكُمۡ وَأَخَوَٰتُكُم مِّنَ ٱلرَّضَٰعَةِ وَأُمَّهَٰتُ نِسَآئِكُمۡ وَرَبَٰٓئِبُكُمُ ٱلَّٰتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَآئِكُمُ ٱلَّٰتِي دَخَلۡتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمۡ تَكُونُواْ دَخَلۡتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ وَحَلَٰٓئِلُ أَبۡنَآئِكُمُ ٱلَّذِينَ مِنۡ أَصۡلَٰبِكُمۡ وَأَن تَجۡمَعُواْ بَيۡنَ ٱلۡأُخۡتَيۡنِ إِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورٗا رَّحِيمٗا ٢٣

Prohibited to you [for marriage] are your mothers, your daughters, your sisters, your father's sisters, your mother's sisters, your brother's daughters, your sister's daughters, your [milk] mothers who nursed you, your sisters through nursing, your wives' mothers, and your step-daughters under your guardianship [born] of your wives unto whom you have gone in. But if you have not gone in unto them, there is no sin upon you. And [also prohibited are] the wives of your sons who are from your [own] loins, and that you take [in marriage] two sisters simultaneously, except for what has already occurred.1 Indeed, Allāh is ever Forgiving and Merciful.

۞ وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ مِنَ ٱلنِّسَآءِ إِلَّا مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡۖ كِتَٰبَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡۚ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَآءَ ذَٰلِكُمۡ أَن تَبۡتَغُواْ بِأَمۡوَٰلِكُم مُّحۡصِنِينَ غَيۡرَ مُسَٰفِحِينَۚ فَمَا ٱسۡتَمۡتَعۡتُم بِهِۦ مِنۡهُنَّ فَـَٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةٗۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيمَا تَرَٰضَيۡتُم بِهِۦ مِنۢ بَعۡدِ ٱلۡفَرِيضَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمٗا ٢٤

And [also prohibited to you are all] married women except those your right hands possess.1 [This is] the decree of Allāh upon you. And lawful to you are [all others] beyond these, [provided] that you seek them [in marriage] with [gifts from] your property, desiring chastity, not unlawful sexual intercourse. So for whatever you enjoy [of marriage] from them, give them their due compensation2 as an obligation. And there is no blame upon you for what you mutually agree to beyond the obligation. Indeed, Allāh is ever Knowing and Wise.

حرام کی گئی ہیں تم پر تمھاری مائیں اور تمھاری بیٹیاں اور تمھاری بہنیں اور تمھاری پھوپھیاں اور تمھاری خالائیں اور (بھتیجیاں) بیٹیاں بھائیوں کی اور (بھانجیاں) بیٹیاں بہنوں کی اور تمھاری مائیں وہ جنھوں نے دودھ پلایا تمھیں اور تمھاری بہنیں رضاعی اور (ساسیں) مائیں تمھاری بیویوں کی اور تمھاری سوتیلی بیٹیاں وہ جو (پرورش پائیں) تمھاری گودوں میں، ان عورتوں (کے بطن) سے کہ صحبت کی تم نے ان سے، پس اگر نہیں صحبت کی تم نے ان سے تو نہیں گناہ تم پراور (بہوئیں) بیویاں تمھارے بیٹوں کی، جو تمھاری پشتوں سے ہیں۔ اور (حرام ہے تم پر) جمع کرنا تمھارا درمیان دو بہنوں کے مگر جو پہلے گزر گیا، بلاشبہ اللہ ہے بہت بخشنے والا بڑا مہربان(23) اور (حرام ہیں) شادی شدہ عورتیں (بھی) مگر جن کے مالک ہوں تمھارے دائیں ہاتھ (یہ) لکھ دیا ہے اللہ نے تم پراور حلال کر دی گئی ہیں تمھارے لیے جو علاوہ ہیں ان کے (بشرطیکہ) تلاش کرو تم اپنے مالوں کے بدلے، نکاح میں لانے والے ہو نہ کہ بدکاری کرنے والے، پس جو فائدہ اٹھایا تم نے اس کے بدلے ان سے تو دو تم ان کو مہر ان کے مقرر شدہ اور نہیں گناہ تم پر اس (کمی بیشی) میں کہ باہم راضی ہو جاؤ تم ساتھ اس کے، بعد مقرر کر لینے کے، بلاشبہ اللہ ہے خوب جاننے والا بڑا حکمت والا(24)

[23] نسب کے اعتبار سے حرام عورتیں سات ہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے:(۱)ماں : اس میں ہر وہ عورت داخل ہے جس سے آپ پیدا ہوئے ہیں خواہ وہ کتنی ہی دور اوپر چلی جائیں۔(۲)بیٹی : بیٹی کے رشتے میں ہر وہ عورت داخل ہے جس کو آپ نے جنم دیا ہے۔(۳) بہن : اس رشتے میں تمام حقیقی، اخیافی (ماں شریک) اور علاتی (باپ شریک)بہنیں شامل ہیں۔(۴)پھوپھی : ہر وہ عورت جو آپ کے باپ یا دادا کی بہن ہے خواہ وہ کتنی ہی دور اوپر تک چلی جائیں۔(۵)خالہ : ہر وہ عورت جو آپ کی ماں یا آپ کی نانی کی بہن ہے خواہ کتنی ہی دور اوپر تک چلی جائیں، خواہ وہ وارث ہے یا نہیں ہے۔(۷،۶) اسی طرح بھائی کی بیٹیاں (بھتیجیاں) اور بہن کی بیٹیاں (بھانجیاں) خواہ کتنی ہی دور تک نیچے چلی جائیں۔یہ وہ سات محرمات ہیں جو نسب کے اعتبار سے حرام ہیں اور ان کی حرمت پر علماء کا اجماع ہے جیسا کہ آیت کریمہ کی نص سے ظاہر ہے۔ ان مذکورہ عورتوں کے علاوہ دیگر عورتیں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہیں ﴿ وَاُحِلَّ لَكُمۡ مَّؔا وَرَآءَؔ ذٰلِكُمۡ ﴾ ’’ان محرمات عورتوں کے سوا دیگر تمام عورتیں تمھارے لیے حلال کر دی گئیں‘‘ مثلاً: پھوپھی کی بیٹی، چچا کی بیٹی، ماموں کی بیٹی اور خالہ کی بیٹی۔جہاں تک رضاعت کے اعتبار سے محرمات کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں رضاعی ماں اور رضاعی بہن کا ذکر فرمایا ہے۔ مگر اس تحریم میں رضاعی ماں کی ماں بھی شامل ہے حالانکہ حرمت کا باعث دودھ اس کا نہیں بلکہ وہ تو دودھ کے مالک یعنی رضاعی ماں کے شوہر کا ہے۔ یہ تنبیہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رضاعی ماں کا شوہر (یعنی دودھ کا مالک) دودھ پینے والے کا (رضاعی) باپ ہے۔ جب رضاعی باپ ہونا اور ماں ہونا ثابت ہو گیا تو ان کی بہنوں وغیرہ اور ان کے اصول و فروع کی حرمت ثابت ہوگئی۔ رسول اللہﷺنے فرمایا: ’یَحْرُمُ مِنَ الرِّضَاعِ مَا یَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ‘ (صحیح مسلم، الرضاع، باب يحرم من الرضاعۃ.....، حديث: 1444 و سنن النسائی، النکاح، يحرم من الرضاع، حديث: 3304)’’جو رشتہ نسب کے اعتبار سے حرام ہے وہ رشتہ رضاعت کے اعتبار سے بھی حرام ہے۔‘‘ پس یہ تحریم دودھ پلانے والی کی جہت سے اور اس کے خاوند کی جہت سے پھیلے گی۔ جیسا کہ وہ تحریم نسبی اقارب میں پھیلتی ہے اور یہ تحریم دودھ پینے والے بچے میں صرف اس کی اولاد تک پھیلے گی۔ مگر اس شرط کے ساتھ کہ بچے نے اپنے دو سال کی عمر میں کم از کم پانچ بار دودھ پیا ہو۔ جیسا کہ سنت نے واضح کیا ہے۔سسرالی قرابت کے اعتبار سے حرام رشتے چار ہیں۔باپ دادا کی بیویاں ۔ خواہ وہ کتنی ہی دور اوپر تک چلے جائیں۔بیٹوں کی بیویاں : خواہ کتنی ہی دور نیچے تک چلے جائیں، خواہ وہ وارث ہوں یا محجوب۔بیوی کی ماں : خواہ کتنی ہی دور اوپر تک چلی جائیں۔یہ تین رشتے مجرد نکاح سے حرام ہو جاتے ہیں۔چوتھا رشتہ سوتیلی بیٹی کا ہے۔ سوتیلی بیٹی بیوی کے پچھلے شوہر کی بیٹی ہے۔ خواہ کتنی ہی دور نیچے چلی جائیں۔ یہ سوتیلی بیٹی اس وقت تک حرام نہیں ہوتی جب تک کہ اس کی ماں سے خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَبَآىِٕبُكُمُ الّٰتِيۡ فِيۡ حُجُوۡرِكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕكُمُ الّٰتِيۡ دَخَلۡتُمۡ بِهِنَّ ﴾ ’’اور تمھاری پرورش کردہ وہ لڑکیاں جو تمھاری گود میں ہیں، تمھاری ان عورتوں سے جن سے تم دخول (خلوت صحیحہ) کر چکے ہو۔‘‘جمہور اہل علم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ الّٰتِيۡ فِيۡ حُجُوۡرِكُمۡ ﴾ ’’جو تمھاری پرورش میں ہیں‘‘ کی قید ہے جس میں غالب احوال کا اعتبار کیا گیا ہے اس کا مفہوم مخالف معتبر نہیں۔ بنا بریں سوتیلی بیٹی خواہ سوتیلے باپ کے گھر میں نہ ہو تب بھی حرام ہے۔ البتہ اس تقیید کے دو فائدے ہیں۔ (اول) اس میں سوتیلی بیٹی کی تحریم کی حکمت کی طرف اشارہ ہے گویا وہ بھی صلبی بیٹی کی طرح ہے۔ لہٰذا اس کی اباحت بہت ہی قبیح بات ہے۔ (ثانی) اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ سوتیلی بیٹی کے ساتھ تنہائی اور خلوت جائز ہے کیونکہ وہ صلبی اور نسبی بیٹیوں کی مانند ہے۔ واللہ اعلم۔رہا ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے ممنوع اور حرام رشتے تو اللہ تعالیٰ نے دو بہنوں کو جمع کرنے کا ذکر فرمایا ہے اور ان کے جمع کرنے کو حرام ٹھہرایا ہے اور رسول اللہﷺنے بیوی اور اس کی پھوپھی، بیوی اور اس کی خالہ کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنے کو حرام ٹھہرایا ہے۔ پس ہر وہ دو عورتیں جن کے مابین رحم کا رشتہ ہے، اگر ان دونوں عورتوں میں سے ایک کو مرد اور دوسری کو عورت مان لیا جائے تو وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے حرام ہوں، تو ان دونوں کو جمع کرنا حرام ہو گا اور یہ اس لیے کہ اس صورت میں باہم قطع رحمی کے اسباب ہیں۔

[24] نیز ان عورتوں سے بھی نکاح حرام ہے جو اس آیت میں مذکور ہیں ﴿ وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ﴾ ’’اور شوہر والی عورتیں بھی‘‘ (تم پر حرام ہیں) یعنی جو پہلے سے شادی شدہ اور خاوند والی ہیں۔ جب تک یہ عورتیں پہلے شوہر کی زوجیت میں ہیں اور جب تک پہلا خاوند طلاق نہ دے دے اور یہ اپنی عدت پوری نہ کر لیں، اس وقت تک دوسرے خاوند کے لیے حرام ہیں۔ ﴿ اِلَّا مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ﴾ البتہ تمھارے لیے تمھاری لونڈیاں حلال ہیں اگر جنگ کے دوران خاوند والی عورت کو قیدی بنا لیا جائے تو وہ استبرائے رحم (ایک حیض) کے بعد مسلمانوں کے لیے حلال ہے۔ اگر منکوحہ لونڈی کو فروخت کر دیا جائے یا کسی کو ہبہ میں دے دی جائے تو اس سے لونڈی کا نکاح فسخ نہیں ہو گا۔ دوسرا مالک پہلے مالک کے مقام پر تصور کیا جائے گا اس کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں رسول اللہﷺنے بریرہrکو اپنے خاوند کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار عطا فرمایا تھا۔(سنن أبی داود، الطلاق، باب فی المملوکۃتعتق وھی تحت حراً وعبد، حديث:2231)﴿ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’(یہ حکم) اللہ نے تم پر فرض کر دیا ہے۔‘‘ اس کا التزام کرو اور اس کو راہنما بناؤ۔ کیونکہ اس کے اندر تمھارے لیے شفا اور روشنی ہے اور اس کے اندر حلال و حرام کی تفصیلات ہیں۔ ﴿ وَاُحِلَّ لَكُمۡ مَّؔا وَرَآءَؔ ذٰلِكُمۡ﴾ہر وہ عورت جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں نہیں ہے، وہ حلال ہے۔ حرام محدود ہے اور حلال لامحدود اور غیر محصور ہے یہ اللہ تعالیٰ کا بندوں پر لطف و کرم، اس کی رحمت اور ان کے لیے اس کی عطا کردہ آسانی ہے۔﴿ اَنۡ تَبۡتَغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ﴾ ’’اس طرح سے کہ مال خرچ کرکے ان سے نکاح کرلو۔‘‘ یعنی ان عورتوں میں سے جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے مباح قرار دیاہے، جن کو تمھاری نظر نے منتخب کیا (ان کو حق مہر کے عوض) اپنے نکاح میں لاؤ ﴿ مُّحۡصِنِيۡنَ﴾ ’’نکاح کرنے والے ہو‘‘ یعنی خود بھی زنا سے محفوظ رہتے ہوئے اور اپنی عورتوں کو بھی زنا سے بچاتے ہوئے ﴿ غَيۡرَ مُسٰفِحِيۡنَ﴾ ’’نہ کہ بدکاری کرنے والے‘‘ (اَلسَّفْحُ) سے مراد ہے حرام یا حلال جگہ پانی بہانا (یعنی مباشرت کرنا) کیونکہ زنا کا ارتکاب کرنے والا اپنی بیوی کو محفوظ نہیں رکھ سکتا کیونکہ وہ اپنی شہوت حرام طریقے سے پوری کرتا رہا، پس اس میں حلال طریقے سے شہوت پوری کرنے کا داعیہ کمزور پڑ گیا بنا بریں اپنی بیوی کو پاکباز رکھنے کے لیے اس کے پاس کچھ بھی باقی نہ بچا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ صرف پاک دامنوں سے نکاح کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ اَلزَّانِيۡ لَا يَنۡكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوۡ مُشۡرِكَةً١ٞ وَّالزَّانِيَةُ لَا يَنۡكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوۡ مُشۡرِكٌ﴾(النور : 24؍3)’’بدکار مرد بدکار عورت یا مشرک عورت کے ساتھ نکاح کرتا ہے اور بدکار عورت کے ساتھ بھی بدکار مرد یا مشرک ہی نکاح کرتا ہے۔‘‘﴿ فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ﴾ ’’تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو۔‘‘ یعنی جن کے ساتھ تم نے نکاح کیا ہے ﴿ فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ﴾ ’’تو ان کو ان کا مہر ادا کردو۔‘‘ یعنی تم ان کے جسم سے فائدہ اٹھانے کے بدلے میں ان کو ان کا اجر یعنی حق مہر ادا کرو۔ بنا بریں جب شوہر اپنی بیوی کے ساتھ خلوت کرے سب سے پہلے مہر مقرر کرے ﴿ فَرِيۡضَةً﴾ ’’جو مقرر کیا ہو۔‘‘ یعنی تمھاری اپنی بیویوں کو مہر عطا کرنا تم پر فرض ہے جسے اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے یہ کوئی عطیہ اور بخشش نہیں ہے کہ دل چاہا تو دے دیا اور دل چاہا تو واپس لے لیا۔ یا ’’فریضۃ‘‘ کے ایک معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں۔ کہ مہر ایک مقرر کردہ حق ہے جسے تم نے خود مقرر کیا ہے جس کی ادائیگی تم پر واجب ہے، پس تم اس میں سے کچھ کم نہ کرو۔ ﴿ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا تَرٰؔضَيۡتُمۡ بِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِالۡفَرِيۡضَةِ﴾ ’’اور تم پر گناہ نہیں اس میں جس پر تم مہر مقرر کرنے کے بعد باہم رضامند ہو جاؤ‘‘ یعنی اگر شوہر مقرر کردہ مہر سے زیادہ ادا کر دیتا ہے یا بیوی برضا و رغبت مہر میں سے کچھ حصہ ساقط کر دیتی ہے (تو ایسا کرنا جائز ہے)اکثر مفسرین کا قول یہی ہے۔ بعض دیگر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ آیت کریمہ متعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اسلام کے ابتدائی زمانہ میں حلال اور جائز تھا اس کے بعد رسول اللہﷺنے حرام قرار دے دیا۔ متعہ کی صورت یہ تھی کہ وقت اور معاوضہ مقرر کر دیا جاتا تھا۔ پھر جب ان دونوں کے درمیان معینہ مدت پوری ہو جائے اور مہر مقرر کرنے کے بعد باہم رضامند ہو جائیں تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔واللہ اعلم﴿ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا﴾ ’’بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ وسیع اور کامل علم اور کامل حکمت والا ہے۔ یہ اس کا علم اور حکمت ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے یہ قوانین بنائے اور تمھارے لیے یہ حدود مقرر کیں جو حلال و حرام کے درمیان فاصلہ رکھتی ہیں۔

4:25Page 82

وَمَن لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ مِنكُمۡ طَوۡلًا أَن يَنكِحَ ٱلۡمُحۡصَنَٰتِ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ فَمِن مَّا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُم مِّن فَتَيَٰتِكُمُ ٱلۡمُؤۡمِنَٰتِۚ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِإِيمَٰنِكُمۚ بَعۡضُكُم مِّنۢ بَعۡضٖۚ فَٱنكِحُوهُنَّ بِإِذۡنِ أَهۡلِهِنَّ وَءَاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِ مُحۡصَنَٰتٍ غَيۡرَ مُسَٰفِحَٰتٖ وَلَا مُتَّخِذَٰتِ أَخۡدَانٖۚ فَإِذَآ أُحۡصِنَّ فَإِنۡ أَتَيۡنَ بِفَٰحِشَةٖ فَعَلَيۡهِنَّ نِصۡفُ مَا عَلَى ٱلۡمُحۡصَنَٰتِ مِنَ ٱلۡعَذَابِۚ ذَٰلِكَ لِمَنۡ خَشِيَ ٱلۡعَنَتَ مِنكُمۡۚ وَأَن تَصۡبِرُواْ خَيۡرٞ لَّكُمۡۗ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٢٥

And whoever among you cannot [find] the means to marry free, believing women, then [he may marry] from those whom your right hands possess of believing slave girls. And Allāh is most knowing about your faith. You [believers] are of one another. So marry them with the permission of their people and give them their due compensation [i.e., mahr] according to what is acceptable. [They should be] chaste, neither [of] those who commit unlawful intercourse randomly nor those who take [secret] lovers. But once they are sheltered in marriage, if they should commit adultery, then for them is half the punishment for free [unmarried] women. This [allowance] is for him among you who fears affliction [i.e., sin], but to be patient is better for you. And Allāh is Forgiving and Merciful.

اور جو شخص نہ رکھے تم میں سے طاقت یہ کہ نکاح کرے وہ آزاد مومن عورتوں سے تو (نکاح کر لے) اس سے کہ مالک ہوئے دائیں ہاتھ تمھارے،تمھاری مومن لونڈیوں سےاور اللہ خوب جانتا ہے تمھارے ایمان کو۔ ایک تمھارا، دوسرے سے ہے، پس نکاح کر لو تم ان سے، اجازت سے ان کے مالکوں کی اور دو تم ان کو مہر ان کے موافق دستور کے، جبکہ وہ نکاح میں لائی گئی ہوں، نہ ہوں بدکاری کرنے والیں ا ور نہ بنانے والیں چھپے یار۔ پس جب وہ نکاح میں لے آئی جائیں، پھر اگر کریں وہ بے حیائی کا کام تو ان پر آدھی ہے وہ جو کہ اوپر آزاد عورتوں کے ہے سزا سے۔ یہ (اجازت) اس کے لیے ہے جو ڈرے تکلیف میں پڑنے سے تم میں سےاور یہ کہ صبر کرو تم (تو) بہتر ہے تمھارے لیے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے(25)

[25]یعنی تم میں سے جو کوئی آزاد اور مومن عورتوں کو حق مہر ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا اور اس کے ساتھ ساتھ اسے اپنے آپ پر بدکاری اور مشقت کا خطرہ ہو، تو اس کے لیے مومن لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے یہ تو ظاہری احوال کے مطابق ہے ورنہ اللہ تعالیٰ مومن صادق کو خوب جانتا ہے۔ دنیاوی امور ان کے ظاہر پر مبنی ہیں اور آخرت کے احکام کا تعلق انسان کے باطن میں چھپی نیتوں کے ساتھ ہے۔﴿ فَانۡؔكِحُوۡهُنَّ۠ بِـاِذۡنِ اَهۡلِهِنَّ﴾ ’’پس تم لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں کی اجازت لے کر نکاح کرلو‘‘ خواہ مالک ایک ہو یا متعدد ہوں ﴿ وَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ﴾ ’’اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو۔‘‘ یعنی اگرچہ جن کے ساتھ نکاح کیا جا رہا ہے وہ لونڈیاں ہیں تاہم ان کو مہر ادا کرنا اسی طرح فرض ہے جس طرح آزاد کو ادا کرنا فرض ہے۔ مگر لونڈیوں سے نکاح کرنا صرف اسی صورت میں جائز ہے کہ وہ ﴿ مُحۡصَنٰتٍ﴾ ہوں یعنی زنا سے پاک ہوں ﴿ غَيۡرَ مُسٰفِحٰؔتٍ﴾ علانیہ بدکاری سے بچی ہوئی ہوں ﴿ وَّلَا مُتَّؔخِذٰتِ اَخۡدَانٍ﴾نہ انھوں نے خفیہ یار دوست بنا رکھے ہوں۔حاصل کلام یہ ہے کہ آزاد مسلمان کے لیے لونڈی کے ساتھ ان چار شرائط کے بغیر نکاح کرنا جائز نہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔(۱) لونڈیاں مومن ہوں۔ (۲) ظاہر اور باطن میں پاکباز ہوں۔ (۳) آزاد عورت کے ساتھ نکاح کی استطاعت نہ ہو۔ (۴) عدم نکاح کی صورت میں بدکاری کا خوف ہو۔جب یہ شرائط پوری ہوں تو لونڈی کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے۔ بایں ہمہ لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنے سے باز رہنا افضل ہے کیونکہ لونڈیوں سے نکاح کرنے والے کی اولاد کو غلامی کا طعنہ دیا جاتا ہے نیزیہ گھٹیا بات ہے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ انسان صبر کر سکتا ہواگر وہ حرام میں پڑنے سے باز نہ رہ سکتا ہو تب اس پر لونڈی سے نکاح کرنا واجب ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاَنۡ تَصۡبِرُوۡا خَيۡرٌ لَّكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌؒ﴾’’اور تمھارا صبر کرنا تمھارے لیے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘﴿ فَاِذَاۤ اُحۡصِنَّ﴾ یعنی جب وہ نکاح کر لیں یا مسلمان ہو جائیں ﴿ فَاِنۡ اَتَيۡنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيۡهِنَّ نِصۡفُ مَا عَلَى الۡمُحۡصَنٰتِ مِنَ الۡعَذَابِ﴾ ’’پھر اگر ان سے بے حیائی کا کام سرزد ہو تو انھیں آزاد عورتوں سے آدھی سزا دی جائے گی‘‘ یعنی جو آزاد عورتوں کی سزا ہے اس سے نصف لونڈیوں کی سزا ہے۔ وہ سزا جس کا نصف ممکن ہے کوڑوں کی سزا ہے تب ان کے لیے پچاس کوڑوں کی سزا ہے۔ رہی رجم کی بات تو لونڈیوں کے لیے رجم نہیں ہے کیونکہ رجم کا نصف ممکن نہیں۔ لہٰذا اس میں پہلا قول یہ ہے کہ اگر انھوں نے نکاح نہ کیا ہو تو ان پر کوئی حد نہیں۔ البتہ ان کو تعزیری سزا دی جائے تاکہ وہ فواحش کے ارتکاب سے باز رہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ اگر غیر مسلم لونڈیاں فواحش کا ارتکاب کریں تو ان کو بھی تعزیر کی جائے۔ اور اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کا اختتام اپنے دو اسمائے مبارک ﴿ غَفُوۡرٌؔ﴾ ’’بخشنے والا‘‘ ﴿ رَّحِيۡمٌ﴾’’نہایت رحم کرنے والا‘‘ پر کیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے یہ احکام بندوں پر رحمت اور اس کا کرم و احسان ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو تنگی میں مبتلا نہیں کیا بلکہ ان کو کشادگی اور وسعت عطا کی۔ شاید حد کا ذکر کرنے کے بعد مغفرت کا ذکر کرنا، اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ حد کفارہ ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہ بخشتا ہے جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے۔مذکورہ بالا حد میں غلام کا بھی وہی حکم ہے جو لونڈی کا حکم ہے کیونکہ دونوں میں امتیاز اور فرق کرنے والا سبب معدوم ہے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском