As-Sa'diAn‑Nisa · 4:58–70

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

An-Nisa 4:58–70

4:58–59Page 87

۞ إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُكُمۡ أَن تُؤَدُّواْ ٱلۡأَمَٰنَٰتِ إِلَىٰٓ أَهۡلِهَا وَإِذَا حَكَمۡتُم بَيۡنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحۡكُمُواْ بِٱلۡعَدۡلِۚ إِنَّ ٱللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِۦٓۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ سَمِيعَۢا بَصِيرٗا ٥٨

Indeed, Allāh commands you to render trusts to whom they are due and when you judge between people to judge with justice. Excellent is that which Allāh instructs you. Indeed, Allāh is ever Hearing and Seeing.

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ فَإِن تَنَٰزَعۡتُمۡ فِي شَيۡءٖ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمۡ تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ وَأَحۡسَنُ تَأۡوِيلًا ٥٩

O you who have believed, obey Allāh and obey the Messenger and those in authority among you. And if you disagree over anything, refer it to Allāh and the Messenger, if you should believe in Allāh and the Last Day. That is the best [way] and best in result.

بلاشبہ اللہ حکم دیتا ہے تمھیں یہ کہ ادا کرو تم امانتیں ان کے اہل کواور جب فیصلہ کرو تم درمیان لوگوں کے تو فیصلہ کرو ساتھ انصاف کے۔ بلاشبہ اللہ، بہت ہی اچھی بات ہے وہ کہ نصیحت کرتا ہے تمھیں ساتھ اس کے۔ بے شک اللہ ہے سننے والا دیکھنے والا(58) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اطاعت کرو تم اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اصحاب امر کی اپنے میں سے، پھر اگر تم باہم اختلاف کرو کسی چیز میں تو لوٹا دو اس کو اللہ اور رسول کی طرف، اگر ہو تم ایمان رکھتے ساتھ اللہ اور دن آخرت کے۔ یہ بہتر اور بہت اچھا ہے انجام میں(59)

[58] ہر وہ چیز جس پر انسان کو امین بنایا جائے اور اس کے انتظام کی ذمہ داری اس کے سپرد کی جائے، امانت کہلاتی ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ امانتیں بغیر کسی کمی اور بغیر کسی ٹال مٹول کے پوری کی پوری ادا کر دیں۔اس میں عہدوں کی امانت، اموال کی امانت، بھید اور رازوں کی امانت اور ان مامورات کی امانت جنھیں اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا، سب شامل ہیں۔فقہاء کہتے ہیں کہ جس کسی کے پاس کوئی امانت رکھی جائے اس پر اس کی حفاظت کرنا واجب ہے۔ چونکہ امانت کی حفاظت کیے بغیر اس کو واپس ادا کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے حفاظت واجب ہے۔ اللہ تعالی کے ارشاد ﴿ اِلٰۤى اَهۡلِهَا ﴾’’اس کے مالک کی طرف‘‘ میں اس بات کی دلیل ہے کہ امانت صرف اسی شخص کو لوٹائی جائے اور ادا کی جائے جو اس کا مالک ہے۔ اور وکیل مالک ہی کے قائم مقام ہے۔ اگر وہ امانت مالک کے سوا کسی اور شخص کے حوالے کر دے تو اس نے امانت ادا نہیں کی۔﴿ وَاِذَا حَكَمۡتُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡكُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ ﴾ ’’اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے مطابق کرو‘‘ یہ حکم ان کے درمیان قتل کے مقدمات ، مالی مقدمات اور عزت و آبرو کے مقدمات، خواہ یہ چھوٹے ہوں یا بڑے، سب کو شامل ہے اور اس کا اطلاق قریب، بعید، صالح، فاجر، دوست اور دشمن سب پر ہوتا ہے۔ وہ عدل جس کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں حکم دیا ہے اس سے مراد حدود و احکام میں عدل کے وہ ضابطے ہیں جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکی زبان پر مشروع فرمایا ہے۔ یہ حکم معرفت عدل کو مستلزم ہے تاکہ اس کے مطابق فیصلہ کیا جا سکے۔چونکہ یہ احکام بہت اچھے اور عدل و انصاف پر مبنی ہیں اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا ﴾ ’’اللہ تم کو اچھی نصیحت کرتا ہے، بے شک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے‘‘ یہ اللہ تعالی کی طرف سے اپنے اوامر و نواہی کی مدح و تعریف ہے کیونکہ یہ اوامر و نواہی دنیا و آخرت کے مصالح کے حصول اور دنیا و آخرت کی مضرتوں کو دور کرنے پر مشتمل ہیں کیونکہ ان اوامر و نواہی کو مشروع کرنے والی ہستی سمیع و بصیر ہے۔ جس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے وہ اپنے بندوں کے ان مصالح کو جانتا ہے جو وہ خود نہیں جانتے۔

[59] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور یہ اطاعت اللہ اور اس کے رسول کے مشروع کردہ واجبات و مستحبات پر عمل اور ان کی منہیات سے اجتناب ہی کے ذریعے سے ہو سکتی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے اولو الامر کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ اولو الامر سے مراد لوگوں پر مقرر کردہ حکام، امراء اور اصحاب فتویٰ ہیں کیونکہ لوگوں کے دینی اور دنیاوی معاملات اس وقت تک درست نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکی فرماں برداری کرتے ہوئے اولو الامر کی اطاعت نہیں کرتے مگر اس شرط کے ساتھ کہ اولو الامر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم نہ دیں اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دیں تو خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی فرماں برداری ہرگز جائز نہیں۔ شاید یہی سر نہاں ہے کہ اولو الامر کی اطاعت کے حکم کے وقت فعل کو حذف کر دیا گیا ہے اور اولو الامر کی اطاعت کو رسول کی اطاعت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے کیونکہ رسول اللہﷺصرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں لہٰذا جو کوئی رسولﷺکی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ رہے اولو الامر تو ان کی اطاعت کے لیے یہ شرط عائد کی ہے کہ ان کا حکم معصیت نہ ہو۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ لوگ اپنے تمام تنازعات کو، خواہ یہ اصول دین میں ہوں یا فروع دین میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹائیں۔ یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف ۔ کیونکہ تمام اختلافی مسائل کا حل قرآن و سنت میں موجود ہے یا تو ان اختلافات کا حل صراحت کے ساتھ قرآن اور سنت میں موجود ہوتا ہے یا ان کے عموم، ایماء، تنبیہ، مفہوم مخالف اور عموم معنی میں ان اختلافات کا حل موجود ہوتا ہے اور عموم معنی میں اس کے مشابہہ مسائل میں قیاس کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ کتاب اللہ اور رسول اللہﷺکی سنت پر دین کی بنیاد قائم ہے ان دونوں کو حجت تسلیم کیے بغیر ایمان درست نہیں۔ اپنے تنازعات کو قرآن و سنت کی طرف لوٹانا شرط ایمان ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾’’اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی نزاعی مسائل کو قرآن و سنت پر پیش نہیں کرتا وہ حقیقی مومن نہیں بلکہ وہ طاغوت پر ایمان رکھتا ہے۔ جیسا کہ بعد والی آیت میں ذکر فرمایا ہے۔﴿ ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی تنازعات کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانا ﴿ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا﴾ ’’یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکا فیصلہ سب سے بہتر اور سب سے زیادہ عدل و انصاف کا حامل اور لوگوں کے دین و دنیا اور ان کی عاقبت کی بھلائی کے لیے سب سے اچھا فیصلہ ہے۔

4:60–63Page 88

أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يَزۡعُمُونَ أَنَّهُمۡ ءَامَنُواْ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبۡلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوٓاْ إِلَى ٱلطَّٰغُوتِ وَقَدۡ أُمِرُوٓاْ أَن يَكۡفُرُواْ بِهِۦۖ وَيُرِيدُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَن يُضِلَّهُمۡ ضَلَٰلَۢا بَعِيدٗا ٦٠

Have you not seen those who claim to have believed in what was revealed to you, [O Muḥammad], and what was revealed before you? They wish to refer legislation to ṭāghūt,1 while they were commanded to reject it; and Satan wishes to lead them far astray.

وَإِذَا قِيلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡاْ إِلَىٰ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَإِلَى ٱلرَّسُولِ رَأَيۡتَ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودٗا ٦١

And when it is said to them, "Come to what Allāh has revealed and to the Messenger," you see the hypocrites turning away from you in aversion.

فَكَيۡفَ إِذَآ أَصَٰبَتۡهُم مُّصِيبَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ ثُمَّ جَآءُوكَ يَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ إِنۡ أَرَدۡنَآ إِلَّآ إِحۡسَٰنٗا وَتَوۡفِيقًا ٦٢

So how [will it be] when disaster strikes them because of what their hands have put forth and then they come to you swearing by Allāh, "We intended nothing but good conduct and accommodation."

أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ يَعۡلَمُ ٱللَّهُ مَا فِي قُلُوبِهِمۡ فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَعِظۡهُمۡ وَقُل لَّهُمۡ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ قَوۡلَۢا بَلِيغٗا ٦٣

Those are the ones of whom Allāh knows what is in their hearts, so turn away from them1 but admonish them and speak to them a far-reaching [i.e., effective] word.

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو دعویٰ کرتے ہیں اس بات کا کہ وہ ایمان لائے ہیں ساتھ اس کے جو اُتارا گیا طرف آپ کی اور جو نازل کیا گیا پہلے آپ سے، وہ ارادہ کرتے ہیں یہ کہ فیصلہ لے جائیں طرف طاغوت کی، حالانکہ حکم دیے گئے تھے وہ یہ کہ کفر کریں ساتھ اس کے۔ اور ارادہ کرتا ہے شیطان یہ کہ گمراہ کر دے ان کو گمراہ کرنا دور کا(60) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، آؤ تم طرف اس کی جو نازل کیا اللہ نے اور (آؤ) طرف رسول کی تو دیکھیں گے آپ منافقوں کو، رکتے ہیں وہ آپ سے اعراض کرتے ہوئے(61) پس کیا حال ہوتا ہے جب پہنچتی ہے ان کو مصیبت، بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے، پھر آتے ہیں وہ آپ کے پاس، قسمیں کھاتے ہیں وہ اللہ کی، نہیں ارادہ کیا تھا ہم نے مگر بھلائی اور موافقت کا(62) یہ وہ لوگ ہیں کہ جانتا ہے اللہ جو ان کے دلوں میں ہے، پس اعراض کریں آپ ان سے اور نصیحت کریں انھیں اور کہیں ان سے ان کے دلوں میں بات اثر کرنے والی(63)

[61,60] اللہ تعالیٰ منافقین کی حالت کے بارے میں اپنے بندوں پر تعجب کا اظہار کرتا ہے ﴿ الَّذِيۡنَ يَزۡعُمُوۡنَ اَنَّهُمۡ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ وہ ایمان رکھتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس چیز پر ایمان لائے جو رسول اللہﷺلے کر آئے اور جو کچھ آپﷺسے پہلے تھا۔ بایں ہمہ ﴿ يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّتَحَاكَمُوۡۤا۠ اِلَى الطَّاغُوۡتِ ﴾ ’’وہ چاہتے ہیں کہ وہ فیصلے طاغوت کی طرف لے جائیں۔‘‘ ہر وہ شخص جو شریعت الٰہی کے بغیر فیصلے کرتا ہے طاغوت ہے۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ ﴿ وَقَدۡ اُمِرُوۡۤا اَنۡ يَّكۡفُرُوۡا بِهٖ ﴾ ’’انھیں اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ طاغوت کا انکار کریں۔‘‘ ان کا یہ رویہ اور ایمان کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ایمان اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کی پیروی کی جائے اور اس کی تحکیم کو قبول کیا جائے۔ پس جو کوئی مومن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو چھوڑ کر طاغوت کے فیصلے کو قبول کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ شیطان نے ان کو گمراہ کر دیا ہے ﴿ وَيُرِيۡدُ الشَّيۡطٰنُ اَنۡ يُّضِلَّهُمۡ ضَلٰلًۢا بَعِيۡدًا ﴾ ’’اور شیطان تو چاہتا ہے کہ انھیں بہکا کر راستے سے دور کردے۔‘‘ یعنی شیطان چاہتا ہے کہ وہ انھیں حق سے دور کر دے۔

[62] فرمایا ﴿ فَكَـيۡفَ ﴾ یعنی ان گمراہوں کا کیا حال ہوتا ہے ﴿ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’جب ان پر ان کے کرتوتوں کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے‘‘ یعنی گناہ معاصی اور طاغوت کی تحکیم بھی اس میں شامل ہے ﴿ ثُمَّ جَآءُوۡكَ ﴾ ’’پھر آپ کے پاس آتے ہیں۔‘‘ یعنی جو کچھ ان سے صادر ہوا اس پر معذرت کرتے ہوئے آپﷺکے پاس آتے ہیں ﴿ يَحۡلِفُوۡنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًا وَّتَوۡفِيۡقًا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا۔‘‘ یعنی ہمارا مقصد تو صرف جھگڑے کے فریقین کے ساتھ بھلائی کرنا اور ان کے درمیان صلح کروانا ہے۔ حالانکہ وہ اس بارے میں سخت جھوٹے ہیں۔ بھلائی تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺکی تحکیم میں ہے ﴿ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكۡمًا لِّقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ﴾(المائدۃ : 5؍50) ’’جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اچھا فیصلہ کس کا ہے؟‘‘

[63] اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُ اللّٰهُ مَا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے دلوں کا بھید اللہ تعالیٰ پر بخوبی روشن ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے نفاق اور برے مقاصد کو جانتا ہے ﴿ فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’آپ ان کا کچھ خیال نہ کریں۔‘‘ یعنی ان کی پروا نہ کیجیے اور جو کچھ انھوں نے کیا ہے اس پر دھیان نہ دیجیے ﴿ وَعِظۡهُمۡ﴾ ’’اور انھیں نصیحت کریں۔‘‘ یعنی انھیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ترغیب دیتے ہوئے اور ترک اطاعت پر انھیں ڈراتے ہوئے ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا حکم بیان کیجیے ﴿ وَقُلۡ لَّهُمۡ فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَوۡلًۢا بَلِيۡغًا ﴾ ’’اور ان سے وہ بات کیجیے جو ان کے دلوں میں گھر کرنے والی ہو‘‘ یعنی اپنے درمیان اور ان کے درمیان معاملے کو راز رکھتے ہوئے انھیں نصیحت کیجیے۔ حصول مقصد کے لیے یہ طریقہ زیادہ مفید ہے اور ان کو برائیوں سے روکنے اور زجر و توبیخ میں پوری کوشش سے کام لیجیے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ گناہ گار کے ساتھ اگر اعراض کیا جائے تو پوشیدہ طور پر اس کے لیے خیر خواہی کا اہتمام ضرور کیا جائے اور اس کو نصیحت کرنے میں پوری کوشش سے کام لیا جائے جس سے وہ اپنا مقصد حاصل کر سکے۔

4:64–65Page 88

وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَلَوۡ أَنَّهُمۡ إِذ ظَّلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ جَآءُوكَ فَٱسۡتَغۡفَرُواْ ٱللَّهَ وَٱسۡتَغۡفَرَ لَهُمُ ٱلرَّسُولُ لَوَجَدُواْ ٱللَّهَ تَوَّابٗا رَّحِيمٗا ٦٤

And We did not send any messenger except to be obeyed by permission of Allāh. And if, when they wronged themselves, they had come to you, [O Muḥammad], and asked forgiveness of Allāh and the Messenger had asked forgiveness for them, they would have found Allāh Accepting of Repentance and Merciful.

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ لَا يَجِدُواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ حَرَجٗا مِّمَّا قَضَيۡتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسۡلِيمٗا ٦٥

But no, by your Lord, they will not [truly] believe until they make you, [O Muḥammad], judge concerning that over which they dispute among themselves and then find within themselves no discomfort from what you have judged and submit in [full, willing] submission.

اور نہیں بھیجا ہم نے کوئی رسول مگر یہ کہ اطاعت کیا جائے وہ، اللہ کے حکم سے۔ اور اگر وہ لوگ، جب ظلم کیا انھوں نے اپنی جانوں پر آتے وہ آپ کے پاس، پھر معافی مانگتے وہ اللہ سے اور معافی مانگتا ان کے لیے رسول تو یقینا پاتے وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان(64) قسم ہے آپ کے رب کی، نہیں مومن ہو سکتے وہ یہاں تک کہ حاکم مانیں آپ کو اس چیز میں کہ اختلاف ہو جائے درمیان ان کے، پھر نہ پائیں وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی اس سے جو آپ فیصلہ کر دیں اور تسلیم کر لیں وہ اسے (دل و جان سے) تسلیم کرنا(65)

[64]اللہ تبارک و تعالیٰ اوامر کے ضمن میں اور رسول اللہﷺکی اطاعت اور فرماں برداری کی ترغیب دیتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ انبیاء و رسل کو مبعوث کرنے کی غرض و غایت صرف یہی ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے اور جن کی طرف رسول بھیجا گیا ہے وہ اس کے تمام احکام کی تعمیل کریں اور اس کے نواہی سے اجتناب کریں اور وہ اس کی ویسے ہی تعظیم کریں جیسے اطاعت کرنے والا مطاع کی تعظیم کرتا ہے۔ اس آیت میں عصمت انبیاء کا اثبات ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے، حکم دینے اور منع کرنے میں ہر لغزش سے پاک ہیں۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کو انبیاء کرام کی مطلق اطاعت کا حکم دیا ہے اگر وہ منصب تشریع میں خطا سے پاک نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی مطلق اطاعت کا حکم نہ دیتا۔﴿ بِـاِذۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے فرمان کے مطابق۔‘‘ یعنی اطاعت کرنے والے کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے صادر ہوتی ہے۔ پس اس آیت میں قضا و قدر کا اثبات ہے نیز اس میں اس امر کی ترغیب ہے کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہیے نیز اس میں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ انسان اس وقت تک رسول کی اطاعت نہیں کر سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال نہ ہو۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم جود و کرم کا ذکر فرمایا ہے اور ان لوگوں کو دعوت دی ہے جن سے گناہ سرزد ہوئے کہ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں، توبہ کر کے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کریں۔ چنانچہ فرمایا:﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ جَآءُوۡكَ ﴾ ’’اگر یہ لوگ جب انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا آپ کے پاس آجاتے‘‘ یعنی اپنے گناہوں کا اعتراف اور اقرار کرتے ہوئے آپﷺکے پاس آتے۔ ﴿ فَاسۡتَغۡفَرُوا اللّٰهَ وَاسۡتَغۡفَرَ لَهُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ سے استغفار کرتے اور رسول ان کے لیے استغفار کرتا تو یقینا یہ لوگ اللہ کو معاف کرنے والا مہربان پاتے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کا ظلم بخش کر ان کی طرف پلٹ آتا۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر کے ، توبہ کی توفیق اور اس پر ثواب عطا کر کے ان پر رحم فرماتا۔ رسول اللہﷺکی خدمت میں اس حاضری کا تعلق آپ کی زندگی کے ساتھ مختص تھا۔ کیونکہ سیاق دلالت کرتا ہے کہ رسول(ﷺ)کی طرف سے استغفار آپ کی زندگی ہی میں ہو سکتا ہے۔ آپ کی وفات کے بعد آپ سے کچھ نہ مانگا جائے، بلکہ یہ شرک ہے۔

[65] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اقدس کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے جھگڑوں میں اس کے رسول کو حَکَم تسلیم نہ کریں۔ یعنی ہر اس معاملے میں رسول اللہﷺکو حکم اور فیصل تسلیم کریں جس میں اجماعی مسائل کے برعکس ان کے درمیان کسی قسم کا کوئی اختلاف واقع ہو۔ کیونکہ اجماعی مسائل کتاب و سنت کی دلیل پر مبنی ہوتے ہیں۔ پھر اس تحکیم کو تسلیم کرنا ہی کافی قرار نہیں دیا بلکہ یہ شرط بھی عائد کی کہ آپ کو حکم تسلیم کرنا محض اغماض کے پہلو سے نہ ہو بلکہ ان کے دلوں میں کسی قسم کی تنگی اور حرج نہ ہو۔ اور اس تحکیم کو ہی کافی قرار نہیں دیا جب تک کہ وہ شرح صدر، اطمینان نفس، ظاہری اور باطنی اطاعت کے ساتھ آپ کے فیصلے کو تسلیم نہ کر لیں۔ پس آپ کو حکم تسلیم کرنا اسلام کے مقام میں ہے۔ اس تحکیم میں تنگی محسوس نہ کرنا، ایمان کے مقام میں ہے۔ اور آپ کے فیصلے پر تسلیم و رضا احسان کے مقام میں ہے۔جس کسی نے ان مراتب کو مکمل کر لیا اس نے دین کے تمام مراتب کی تکمیل کر لی۔ اور جس نے اس کا التزام کیے بغیر اس تحکیم کو ترک کر دیا وہ کافر ہے اور جس نے التزام کرنے کے باوجود اس تحکیم کو ترک کر دیا وہ دیگر گناہ گاروں کی مانند ہے۔

4:66–68Page 89

وَلَوۡ أَنَّا كَتَبۡنَا عَلَيۡهِمۡ أَنِ ٱقۡتُلُوٓاْ أَنفُسَكُمۡ أَوِ ٱخۡرُجُواْ مِن دِيَٰرِكُم مَّا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٞ مِّنۡهُمۡۖ وَلَوۡ أَنَّهُمۡ فَعَلُواْ مَا يُوعَظُونَ بِهِۦ لَكَانَ خَيۡرٗا لَّهُمۡ وَأَشَدَّ تَثۡبِيتٗا ٦٦

And if We had decreed upon them, "Kill yourselves" or "Leave your homes," they would not have done it, except for a few of them. But if they had done what they were instructed, it would have been better for them and a firmer position [for them in faith].

وَإِذٗا لَّأٓتَيۡنَٰهُم مِّن لَّدُنَّآ أَجۡرًا عَظِيمٗا ٦٧

And then We would have given them from Us a great reward.

وَلَهَدَيۡنَٰهُمۡ صِرَٰطٗا مُّسۡتَقِيمٗا ٦٨

And We would have guided them to a straight path.

اور اگر بے شک فرض کر دیتے ہم ان پر یہ کہ قتل کرو تم اپنی جانوں کو یا نکلو تم اپنے گھروں سے تو نہ کرتے وہ یہ کام مگر تھوڑے ان میں سےاور اگر بلاشبہ کر لیتے وہ (وہ کام) کہ نصیحت کیے جاتے ہیں وہ اس کی تو ہوتا بہت بہتر ان کے لیے اور زیادہ ثابت قدم رکھنے والا (دین میں)(66) اور تب ، البتہ دیتے ہم انھیں اپنی طرف سے اجر بہت بڑا(67) اور ضرور چلاتے ہم انھیں راستے سیدھے پر(68)

[66] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر اس نے اپنے بندوں پر شاق گزرنے والے احکام فرض کیے ہوتے مثلاً، اپنے آپ کو قتل کرنا اور گھروں سے نکلنا وغیرہ تو اس پر بہت کم لوگ عمل کر سکتے، پس انھیں اپنے رب کی حمد و ثنا اور اس کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسے آسان احکام نافذ کیے ہیں جن پر عمل کرنا ہر ایک کے لیے آسان ہے اور ان میں کسی کے لیے مشقت نہیں۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندۂ مومن کو چاہیے کہ اسے جو امور گراں گزرتے ہیں، وہ ان کی ضد کو ملاحظہ کرے تاکہ اس پر عبادات آسان ہو جائیں۔ تاکہ اپنے رب کے لیے اس کی حمد و ثنا اور شکر میں اضافہ ہو۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر انھوں نے اس چیز پر عمل کیا ہوتا جس کی انھیں نصیحت کی گئی ہے، یعنی تمام اوقات کے مطابق ان کے لیے جو اعمال مقرر کیے گئے ہیں، ان کے لیے اپنی ہمتیں صرف کرتے ان کے انتظام اور ان کی تکمیل کے لیے ان کے نفوس پوری کوشش کرتے اور جو چیز انھیں حاصل نہ ہو سکتی اس کے لیے کوشش نہ کرتے اور اس کے درپے نہ ہوتے اور بندے کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ اپنے حال پر غور کرے جس کو قائم کرنا لازم ہے اس کی تکمیل میں جدوجہد کرے۔ پھر بتدریج تھوڑا تھوڑا آگے بڑھتا رہے یہاں تک کہ جو دینی اور دنیاوی علم و عمل اس کے لیے مقدر کیا گیا ہے اسے حاصل کر لے۔ یہ اس شخص کے برعکس ہے جو اس معاملے پر ہی نظریں جمائے رکھتا ہے جہاں تک وہ نہ پہنچ سکا اور نہ اس کو اس کا حکم دیا گیا تھا۔ کیونکہ وہ تفریق ہمت، سستی اور عدم نشاط کی بنا پر اس منزل تک نہیں پہنچ سکا۔پھر ان کو جو نصیحت کی گئی ہے اس پر عمل کرنے سے جو نتائج حاصل ہوتے ہیں ان کے چار مراتب ہیں:اول: بھلائی کا حصول۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ذکر کیا گیا ہے ﴿ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ ﴾ ’’البتہ ان کے لیے بہتر ہوتا‘‘ یعنی ان کا شمار نیک لوگوں میں ہوتا جو ان افعال خیر سے متصف ہیں جن کا ان کو حکم دیا گیا تھا اور ان سے شریر لوگوں کی صفات زائل ہو جاتیں کیونکہ کسی چیز کے ثابت ہونے سے اس کی ضد کی نفی لازم آتی ہے۔ثانی: ثابت قدمی اور اس میں اضافے کا حصول ۔ کیونکہ اہل ایمان کے ایمان کو قائم رکھنے کے سبب سے، جسے قائم رکھنے کی انھیں نصیحت کی گئی تھی، اللہ تعالیٰ انھیں ثابت قدمی عطا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ دنیا کی زندگی میں، اوامر و نواہی میں فتنوں کے وارد ہونے اور مصائب کے نازل ہونے کے وقت انھیں ثابت قدمی عطا کرتا ہے، تب انھیں ثبات حاصل ہوتا ہے اوامر پر عمل کرنے اور ان نواہی سے اجتناب کی توفیق عطا ہوتی ہے نفس جن کے فعل کا تقاضا کرتا ہے اور ان مصائب کے نازل ہونے پر ثابت قدمی اور استقامت عطا ہوتی ہے جن کو بندہ ناپسند کرتا ہے۔ بندے کو صبر و رضا اور شکر کی توفیق کے ذریعے سے ثابت قدمی عطا ہوتی ہے پس بندے پر اس کی ثابت قدمی کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد نازل ہوتی ہے اور اسے نزع کے وقت اور قبر میں ثابت قدمی سے نواز دیا جاتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کے اوامر کو قائم رکھنے والا بندۂ مومن شرعی احکام کا عادی بن جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ان احکام سے مانوس ہو جاتا ہے اور ان احکام کا مشتاق بن جاتا ہے اور یہ الفت اور اشتیاق نیکیوں پر ثبات کے لیے اس کے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

[67] ثالث: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَّاِذًا لَّاٰتَيۡنٰهُمۡ مِّنۡ لَّدُنَّـاۤ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾ ’’اور تب تو انھیں ہم اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتے۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں ہم اسے اجر عظیم سے نوازتے جو قلب و روح اور بدن کے لیے ہے اور ایسی ہمیشہ رہنے والی نعمت ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے طائر خیال کا وہاں سے گزر ہوا ہے۔

[68] رابع: صراط مستقیم کی طرف راہنمائی ۔ یہ خصوص کے بعد عموم کا ذکر ہے کیونکہ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی شرف کی حامل ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہدایت حق کے علم کو، حق کے ساتھ محبت اور حق کو ترجیح دینے اور اس پر عمل کرنے کو اور اس پر فلاح و سعادت کے موقوف ہونے کو متضمن ہوتی ہے۔ پس جس کسی کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کر دی گئی اسے گویا ہر بھلائی کی توفیق عطا کر دی گئی اور اس سے ہر برائی اور ہر ضرر کو دور کر دیا گیا۔

4:69–70Page 89

وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ فَأُوْلَٰٓئِكَ مَعَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ وَٱلصِّدِّيقِينَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَٱلصَّٰلِحِينَۚ وَحَسُنَ أُوْلَٰٓئِكَ رَفِيقٗا ٦٩

And whoever obeys Allāh and the Messenger - those will be with the ones upon whom Allāh has bestowed favor of the prophets, the steadfast affirmers of truth, the martyrs and the righteous. And excellent are those as companions.

ذَٰلِكَ ٱلۡفَضۡلُ مِنَ ٱللَّهِۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ عَلِيمٗا ٧٠

That is the bounty from Allāh, and sufficient is Allāh as Knower.

اور جو کوئی اطاعت کرے اللہ اور رسول کی تو یہ لوگ ساتھ ہوں گے ان لوگوں کے کہ انعام کیا اللہ نے ان پر، یعنی نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں اور صالحین (کے ساتھ) اور اچھے ہیں یہ لوگ رفیق (ساتھی) کے طور پر(69) یہ فضل ہے اللہ کی طرف سےاور کافی ہے اللہ جاننے والا(70)

[69] یعنی ہر وہ شخص جو اپنے حسب حال، قدر واجب کے مطابق، خواہ مرد ہو یا عورت اور بچہ ہو یا بوڑھا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ﴾’’پس یہی وہ لوگ ہیں جو ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے فضل کیا‘‘ یعنی ان کو عظیم نعمت سے نوازا، جو کمال ، فلاح اور سعادت کی مقتضی ہے۔﴿ مِّنَ النَّبِيّٖنَ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے وحی عطا کر کے فضیلت بخشی اور انھیں خصوصی فضیلت عطا کی کہ ان کو لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا اور انھوں نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی ﴿ وَالصِّدِّؔيۡقِيۡنَ۠ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس وحی کی کامل تصدیق کی جو رسول لے کر آئے تھے۔ انھوں نے حق کو جان لیا اور یقین کامل کے ساتھ اس کی تصدیق کی اور پھر اپنے قول و فعل، حال اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے کر اس حق کو قائم کیا ﴿ وَالشُّهَدَآءِ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا تاکہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو اور قتل کر دیے گئے ﴿ وَالصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ظاہر و باطن درست ہے اور اس کے نتیجے میں ان کے اعمال درست ہیں۔ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے وہ ان لوگوں کی صحبت سے بہرہ ور ہو گا ﴿ وَحَسُنَ اُولٰٓىِٕكَ رَفِيۡقًا﴾ ان مذکورہ اصحاب فضیلت کے ساتھ نعمت والے باغوں میں اکٹھے ہونا اور اللہ رب العالمین کے جوار میں ان اصحاب کی قربت کا انس، ایک اچھی رفاقت ہے۔

[70]﴿ ذٰلِكَ الۡفَضۡلُ ﴾ یہ فضیلت جو انھوں نے حاصل کی ہے ﴿ مِنَ اللّٰهِ ﴾ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے انھیں اس کی توفیق سے نوازا، اس کے حصول میں ان کی مدد کی اور انھیں اتنا زیادہ ثواب عطا کیا کہ ان کے اعمال وہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے ﴿ وَؔ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِيۡمًا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے احوال کا علم رکھتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ ان میں سے کون ان اعمال صالحہ کے ذریعے سے، جن پر ان کا دل اور اعضاء متفق ہوں، ثواب جزیل (زیادہ اجر) کا مستحق ہے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском