As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
An-Nisa 4:97–104
4:97–99Page 94
إِنَّ ٱلَّذِينَ تَوَفَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ ظَالِمِيٓ أَنفُسِهِمۡ قَالُواْ فِيمَ كُنتُمۡۖ قَالُواْ كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ قَالُوٓاْ أَلَمۡ تَكُنۡ أَرۡضُ ٱللَّهِ وَٰسِعَةٗ فَتُهَاجِرُواْ فِيهَاۚ فَأُوْلَٰٓئِكَ مَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَسَآءَتۡ مَصِيرًا ٩٧
Indeed, those whom the angels take [in death] while wronging themselves1 - [the angels] will say, "In what [condition] were you?" They will say, "We were oppressed in the land." They [the angels] will say, "Was not the earth of Allāh spacious [enough] for you to emigrate therein?" For those, their refuge is Hell - and evil it is as a destination.
إِلَّا ٱلۡمُسۡتَضۡعَفِينَ مِنَ ٱلرِّجَالِ وَٱلنِّسَآءِ وَٱلۡوِلۡدَٰنِ لَا يَسۡتَطِيعُونَ حِيلَةٗ وَلَا يَهۡتَدُونَ سَبِيلٗا ٩٨
Except for the oppressed among men, women and children who cannot devise a plan nor are they directed to a way1 -
فَأُوْلَٰٓئِكَ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَعۡفُوَ عَنۡهُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَفُوًّا غَفُورٗا ٩٩
For those it is expected that Allāh will pardon them, and Allāh is ever Pardoning1 and Forgiving.
تحقیق جو لوگ کہ فوت کرتے ہیں ان کو فرشتے دراں حالیکہ وہ ظلم کرنے والے ہیں اپنی جانوں پر تو کہتے ہیں کس حال میں تھے تم؟ کہتے ہیں وہ، تھے ہم کمزور زمین میں، کہتے ہیں وہ(فرشتے) کیا نہ تھی زمین اللہ کی فراخ؟ پس ہجرت کرتے تم اس میں، پس یہ لوگ ان کا ٹھکانا جہنم ہےاور بہت بری جگہ ہے وہ ، پھرنے کی(97) مگر وہ جو کمزور ہیں مردوں اور عورتوں اور بچوں سے، نہیں (اختیار) کر سکتے وہ کوئی تدبیر اور نہ پاتے ہیں کوئی راہ(98) پس یہ لوگ، امید ہے کہ اللہ معاف فرما دے انھیں اور ہے اللہ نہایت معاف کرنے والا بہت بخشنے والا(99)
[97] اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت وعید آئی ہے جو ہجرت کی قدرت رکھنے کے باوجود ہجرت نہیں کرتا اور دارالکفر ہی میں مر جاتا ہے۔ کیونکہ جب فرشتے اس کی روح قبض کریں گے تو اس کو سخت زجر و توبیخ کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ فِيۡمَ كُنۡتُمۡ﴾’’تم کس حال میں تھے‘‘ اور کیسے تم نے اپنے تشخص کو مشرکین کے درمیان ممیز رکھا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم ان کی تعداد میں اضافے کا باعث بنے اور بسا اوقات اہل ایمان کے خلاف تم نے کفار کی مدد کی، تم خیر کثیر، اللہ کے رسول کی معیت میں جہاد، مسلمانوں کی رفاقت اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی معاونت کی سعادت سے محروم رہے۔﴿ قَالُوۡا كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِيۡنَ۠ فِي الۡاَرۡضِ﴾ وہ کہیں گے کہ ہم کمزور مجبوراور مظلوم تھے اور ہجرت کی قدرت نہ رکھتے تھے۔ حالانکہ وہ اپنے اس قول میں سچے نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کی ہے اور ان کو وعید سنائی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ اس نے حقیقی مستضعفین کو مستثنی قرار دیا ہے اس لیے فرشتے ان سے کہیں گے ﴿ اَلَمۡ تَكُنۡ اَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوۡا فِيۡهَا﴾ ’’کیا اللہ کی زمین وسیع و فراخ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر کے چلے جاتے‘‘ یہ استفہام تقریری ہے یعنی ہر ایک کے ہاں یہ چیز متحقق ہے کہ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ بندۂ مومن جہاں کہیں بھی ہو اگر وہاں اپنے دین کا اظہار نہیں کر سکتا تو زمین اس کے لیے بہت وسیع ہے جہاں وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کر سکتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يٰعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ اَرۡضِيۡ وَاسِعَةٌ فَاِيَّايَ فَاعۡبُدُوۡنِ﴾(العنکبوت : 29؍56) ’’اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو بے شک میری زمین بہت وسیع ہے پس میری ہی عبادت کرو۔‘‘اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں جن کے پاس کوئی عذر نہیں، فرمایا:﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ مَاۡوٰىهُمۡ جَهَنَّمُ١ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہو گا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے‘‘ جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے کہ اس میں سبب موجب کا بیان ہے جس پر ، اس کی شرائط کے جمع ہونے اور موانع کے نہ ہونے کے ساتھ، مقتضا مرتب ہوتا ہے۔ کبھی کبھی کوئی مانع اس مقتضا کو روک دیتا ہے۔اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ ہجرت سب سے بڑا فرض ہے اور اس کو ترک کرنا حرام بلکہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جس شخص نے وفات پائی اس نے اپنا وہ رزق، عمر اور عمل پورا کر لیا جو اس کے لیے مقدر کیا گیا تھا۔ یہ دلیل لفظ ’’تَوَفّٰی‘‘ سے ماخوذ ہے۔ کیونکہ اگر اس نے وہ سب کچھ پورا نہیں کیا جو اس کے لیے مقدر کیا گیا تھا تو لفظ ’’ تَوَفّٰی ‘‘ کا اطلاق صحیح نہیں۔ اس آیت میں فرشتوں پر ایمان لانے اور ان کی مدح کی دلیل بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اثبات، ان کی تحسین اور اپنی موافقت کے انداز میں فرشتوں سے خطاب کیا ہے۔
[99,98] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حقیقی مستضعفین کو مستثنیٰ قرار دیا جو کسی وجہ سے ہجرت کرنے پر قادر نہیں۔ فرمایا: ﴿ وَّلَا يَهۡتَدُوۡنَ سَبِيۡلًا﴾ ’’نہ وہ کوئی راستہ جانتے ہیں۔‘‘ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّعۡفُوَ عَنۡهُمۡ١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوۡرًا ﴾ ’’امید ہے کہ ان لوگوں کو اللہ بخش دے اور اللہ بہت درگزر کرنے والا اور نہایت بخشنے والا ہے‘‘ )عَسَی( اور اس کا ہم معنی کلمہ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور احسان کے تقاضے کے مطابق اس کو لازم کرتا ہے۔جو کوئی کچھ نیک اعمال بجا لاتا ہے اس کو ثواب کی امید دلانے میں فائدہ ہے اور وہ یہ کہ ایک شخص ہے جو پوری طرح عمل نہیں کرتا اور نہ وہ اس عمل کو اس طریقے سے بجا لاتا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے بلکہ وہ کوتاہی کا مرتکب ہوتا ہے لہٰذا وہ اس ثواب کا مستحق قرار نہیں پاتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی کسی امر واجب کی تعمیل کرنے سے عاجز ہو وہ معذور ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد سے عاجز رہنے والوں کے بارے میں فرمایا:﴿ لَيۡسَ عَلَى الۡاَعۡمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡمَرِيۡضِ حَرَجٌ ﴾(الفتح : 48؍17) ’’نہ تو اندھے کے لیے کوئی گناہ ہے نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر۔‘‘ اور تمام احکام کی عمومی اطاعت کے بارے میں فرمایا: ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ ﴾(التغابن : 64؍16) ’’اپنی استطاعت بھر اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔‘‘ نبی اکرمﷺنے فرمایا: ’اِذَا اَمَرْتُکُمْ بِشَيْءٍ فَاْتُوْا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ‘ ’’جس چیز کا میں تمھیں حکم دوں مقدور بھر اس پر عمل کرو‘‘ (صحیح مسلم، الحج، باب فرض الحج مرۃ في العمر، حديث:1337) جب انسان پوری کوشش کرتا ہے مگر اس پر ہر قسم کے حیلے کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں تب اس صورت میں وہ گناہ گار نہیں ہوتا کیونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿ لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ حِيۡلَةً ﴾ ’’وہ کوئی تدبیر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے‘‘ یعنی وہ لاچار ہیں۔ آیت میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ حج و عمرہ اور اس قسم کی دیگر عبادات میں جن میں سفر کی ضرورت پیش آتی ہے، رہنمائی کرنے والے کا ہونا بھی ’’استطاعت‘‘ کی شرطوں میں سے ہے۔
4:100Page 94
۞ وَمَن يُهَاجِرۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ يَجِدۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُرَٰغَمٗا كَثِيرٗا وَسَعَةٗۚ وَمَن يَخۡرُجۡ مِنۢ بَيۡتِهِۦ مُهَاجِرًا إِلَى ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ثُمَّ يُدۡرِكۡهُ ٱلۡمَوۡتُ فَقَدۡ وَقَعَ أَجۡرُهُۥ عَلَى ٱللَّهِۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمٗا ١٠٠
And whoever emigrates for the cause of Allāh will find on the earth many [alternative] locations and abundance. And whoever leaves his home as an emigrant to Allāh and His Messenger and then death overtakes him - his reward has already become incumbent upon Allāh. And Allāh is ever Forgiving and Merciful.
اور جو شخص ہجرت کرے راستے میں اللہ کے، پائے گا وہ زمین میں جگہ بہت اور فراوانی اور جو شخص نکلے اپنے گھر سے ہجرت کرتے ہوئے طرف اللہ اور اس کے رسول کی، پھر آپکڑے اس کو موت پس تحقیق ثابت ہو گیا اس کا اجر اللہ پراور ہے اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان(100)
[100] اس آیت کریمہ میں ہجرت کی ترغیب دی گئی ہے اور ان مصالح اور فوائد کا بیان ہے جو ہجرت میں پنہاں ہیں۔ اس سچی ہستی نے وعدہ کیا ہے کہ جو کوئی اس کی رضا کی خاطر اس کی راہ میں ہجرت کرتا ہے وہ زمین میں بہت سے راستے اور کشادگی پائے گا۔ پس یہ راستے دینی مصالح، زمین کی وسعت اور دنیاوی مصالح پر مشتمل ہیں۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہجرت، وصال کے بعد فراق، غنا کے بعد فقر، عزت کے بعد ذلت اور فراخی کے بعد تنگدستی میں پڑنے کا نام ہے۔ معاملہ دراصل یہ نہیں کیونکہ بندۂ مومن جب تک کفار کے درمیان رہ رہا ہے اس کا دین انتہائی ناقص ہے اس کی وہ عبادات بھی ناقص ہیں جن کا تعلق صرف اسی کی ذات سے ہے جیسے نماز وغیرہ۔ اور اس کی وہ عبادات بھی ناقص ہیں جن کا تعلق دوسروں سے ہے، مثلاً: قولی و فعلی جہاد اور اس کے دیگر توابع۔ کیونکہ یہ اس کے بس کی بات نہیں۔ اور وہ اپنے دین کے بارے میں ہمیشہ فتنے اور آزمائش میں مبتلا رہے گا۔ خاص طور پر جبکہ وہ مستضعفین ’’کمزوروں‘‘ میں شمار ہوتا ہو۔ پس جب وہ دارالکفر سے ہجرت کر جاتا ہے تو اقامت دین کی کوشش اور اللہ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کر سکتا ہے۔ کیونکہ (اَلْمُرَاغَمَۃ) ایک جامع نام ہے اور اس سے مراد ہر وہ قول و فعل ہے جس سے اللہ کے دشمنوں کے خلاف غیظ و غضب پیدا ہو۔ اسی طرح (مُرَاغَمٌ) سے مراد رزق وغیرہ کی فراخی ہے اور یہ چیز اسی طرح واقع ہوئی جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔چونکہ صحابہ کرامyنے اللہ کے راستے میں ہجرت کی، اللہ کی رضا کے لیے اپنا گھر بار، اپنا مال اور اپنی اولاد کو چھوڑ دیا اس لیے ہجرت کے ذریعے سے ان کے ایمان کی تکمیل ہوئی، انھیں ایمان کامل، جہاد عظیم اور اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت حاصل ہوئی۔ بنابریں وہ بعد میں آنے والوں کے لیے امام بن گئے۔ اس ایمان کی تکمیل پر انھیں فتوحات اور غنائم حاصل ہوئیں اور وہ سب سے زیادہ بے نیاز ہو گئے۔ اسی طرح، قیامت تک ہر وہ شخص جو ان کی سیرت کو اختیار کرے گا اس کو بھی انھی انعامات سے نوازا جائے گا جن انعامات سے ان کو نوازا گیا تھا۔پھر فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّخۡرُجۡ مِنۢۡ بَيۡتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ﴾ ’’اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرکے گھر سے نکل جائے۔‘‘ یعنی جو شخص صرف اپنے رب کی رضا اور اس کے رسولﷺکی محبت اور اللہ کے دین کی نصرت کی خاطر ہجرت کے لیے اپنے گھر سے نکلتا ہے اور اس کے سوا اس کا کوئی اور مقصد نہیں ﴿ ثُمَّ يُدۡرِكۡهُ الۡمَوۡتُ ﴾ ’’پھر اس کو موت آپکڑے۔‘‘ یعنی پھر قتل یا کسی اور سبب سے اسے موت آ جاتی ہے ﴿ فَقَدۡ وَ قَعَ اَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’تو اس کا ثواب اللہ کے ذمے ہوچکا۔‘‘ یعنی اسے اس مہاجر کا اجر حاصل ہو گیا جسے اللہ تعالیٰ کی ضمانت سے اپنی منزل مقصود مل گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے عزم جازم کے ساتھ ہجرت کی نیت کی تھی اور اس پر عملدرآمد کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس پر، اور اس جیسے دوسرے لوگوں پر یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اگرچہ انھوں نے اپنے عمل کو مکمل نہیں کیا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو کامل عمل عطا کر دیا۔ اور ہجرت وغیرہ کے معاملے میں ان سے جو کوتاہی ہوئی اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو ان دو اسمائے حسنی پر ختم کیا ہے ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ان تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے جس کا وہ ارتکاب کرتے ہیں خاص طور پر، وہ اہل ایمان جو توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ﴿ رَّحِيۡمًا﴾ یعنی وہ تمام مخلوق پر رحم کرنے والا ہے، اس کی رحمت ہی انھیں وجود میں لائی، اس کی رحمت ہی نے انھیں عافیت عطا کی اور اس کی رحمت ہی نے انھیں مال، بیٹوں اور قوت وغیرہ سے نوازا۔ وہ اہل ایمان پر رحم کرنے والا ہے، کیونکہ اسی نے اہل ایمان کو ایمان کی توفیق عطا کی، انھیں ایسے علم سے نوازا جس سے ایقان حاصل ہوتا ہے۔ ان کے لیے سعادت اور فلاح کی راہیں آسان کر دیں، جن کے ذریعے سے وہ بے انتہا فائدہ اٹھاتے ہیں وہ عنقریب اس کی رحمت اور فضل و کرم کے وہ نظارے دیکھیں گے جو کسی آنکھ نے دیکھے ہوں گے نہ کسی کان نے سنے ہوں گے اور نہ کسی بشر کے قلب سے ان کا گزر ہوا ہو گا۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ہماری برائیوں کی وجہ سے اپنی بھلائیوں سے محروم نہ کرے۔
4:101–102Page 94
وَإِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ أَن تَقۡصُرُواْ مِنَ ٱلصَّلَوٰةِ إِنۡ خِفۡتُمۡ أَن يَفۡتِنَكُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْۚ إِنَّ ٱلۡكَٰفِرِينَ كَانُواْ لَكُمۡ عَدُوّٗا مُّبِينٗا ١٠١
And when you travel throughout the land, there is no blame upon you for shortening the prayer,1 [especially] if you fear that those who disbelieve may disrupt [or attack] you.2 Indeed, the disbelievers are ever to you a clear enemy.
وَإِذَا كُنتَ فِيهِمۡ فَأَقَمۡتَ لَهُمُ ٱلصَّلَوٰةَ فَلۡتَقُمۡ طَآئِفَةٞ مِّنۡهُم مَّعَكَ وَلۡيَأۡخُذُوٓاْ أَسۡلِحَتَهُمۡۖ فَإِذَا سَجَدُواْ فَلۡيَكُونُواْ مِن وَرَآئِكُمۡ وَلۡتَأۡتِ طَآئِفَةٌ أُخۡرَىٰ لَمۡ يُصَلُّواْ فَلۡيُصَلُّواْ مَعَكَ وَلۡيَأۡخُذُواْ حِذۡرَهُمۡ وَأَسۡلِحَتَهُمۡۗ وَدَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوۡ تَغۡفُلُونَ عَنۡ أَسۡلِحَتِكُمۡ وَأَمۡتِعَتِكُمۡ فَيَمِيلُونَ عَلَيۡكُم مَّيۡلَةٗ وَٰحِدَةٗۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ إِن كَانَ بِكُمۡ أَذٗى مِّن مَّطَرٍ أَوۡ كُنتُم مَّرۡضَىٰٓ أَن تَضَعُوٓاْ أَسۡلِحَتَكُمۡۖ وَخُذُواْ حِذۡرَكُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ أَعَدَّ لِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٗا مُّهِينٗا ١٠٢
And when you [i.e., the commander of an army] are among them and lead them in prayer,1 let a group of them stand [in prayer] with you and let them carry their arms. And when they have prostrated, let them be [in position] behind you and have the other group come forward which has not [yet] prayed and let them pray with you, taking precaution and carrying their arms. Those who disbelieve wish that you would neglect your weapons and your baggage so they could come down upon you in one [single] attack. But there is no blame upon you, if you are troubled by rain or are ill, for putting down your arms, but take precaution. Indeed, Allāh has prepared for the disbelievers a humiliating punishment.
اور جب سفر کرو تم زمین میں، پس نہیں تم پر گناہ یہ کہ قصر کرو تم نماز اگر ڈرو تم اس بات سے کہ فتنے میں ڈال دیں گے تمھیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، یقیناً کافر ہیں تمھارے دشمن ظاہر(101) اور جب ہوں آپ ان میں، پھر قائم کریں ان کے لیے نماز تو چاہیے کہ کھڑی ہو ایک جماعت ان میں سے آپ کے ساتھ اور چاہیے کہ (ساتھ) لے لے وہ اپنے ہتھیار، پھر جب سجدہ کر لے وہ تو ہو جائے تمھارے پیچھے اور چاہیے کہ آئے جماعت دوسری کہ نہیں نماز پڑھی اس نے، کہ نماز پڑھے وہ آپ کے ساتھ اور چاہیے کہ لے لے وہ اپنا بچاؤ اور اپنے ہتھیار، چاہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش کہ غافل ہو تم اپنے اسلحے اور اپنے سامان سے، پس ٹوٹ پڑیں وہ تم پر ٹوٹ پڑنا، یک بارگی اور نہیں گناہ تم پر اگر ہو تمھیں تکلیف بارش سے یا ہو تم بیمار یہ کہ رکھ دو تم اپنے ہتھیاراور (ساتھ) لے لو تم اپنا بچاؤ، تحقیق اللہ نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے عذاب رسواکن(102)
[101] یہ دو آیات کریمہ سفر کے دوران نماز میں قصر کی رخصت اور نماز خوف کے لیے اصل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جب چلو تم زمین میں‘‘ یعنی سفر کے دوران۔ آیت کریمہ کا ظاہر سفر کے دوران نمازمیں قصر کی رخصت کا تقاضا کرتا ہے سفر خواہ کیسا ہی ہو، خواہ معصیت کا سفر ہی کیوں نہ ہو۔ جیسا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ جمہور فقہاء یعنی ائمہ ثلاثہ اور دیگر اہل علم آیت کے معنی اور مناسبت کے اعتبار سے آیت کے عموم کی تخصیص کرتے ہوئے معصیت کے سفر کے دوران نماز میں قصر کی رخصت کو جائز قرار نہیں دیتے۔ کیونکہ رخصت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے سہولت ہے کہ جب وہ سفر کریں تو نماز میں قصر کر لیا کریں اور روزہ چھوڑ دیا کریں۔ یہ تخفیف گناہ کا سفر کرنے والے شخص کے حال سے مناسبت نہیں رکھتی۔ ﴿ فَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَقۡصُرُوۡا مِنَ الصَّلٰوةِ ﴾ ’’تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں‘‘ یعنی تم پر کوئی حرج اور گناہ نہیں۔ یہ چیز قصر کے افضل ہونے کے منافی نہیں ہے کیونکہ آیت کریمہ میں مذکورہ نفئ حرج اس وہم کا ازالہ کرتی ہے جو بہت سے نفوس میں واقع ہوتا ہے۔ بلکہ یہ تو نماز قصر کے واجب ہونے کے بھی منافی نہیں جیسا کہ اس کی نظیر سورۂ البقرۃ کی اس آیت میں گزر چکی ہے ﴿ اِنَّ الصَّفَا وَالۡمَرۡوَةَ مِنۡ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ...الي آخر الآيۃ ﴾(البقرۃ : 2؍158) ’’صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں… آیت کے آخر تک۔‘‘اس مقام پر وہم کا ازالہ ظاہر ہے کیونکہ مسلمانوں کے ہاں نماز کا وجوب اس کی اس کامل صفت کے ساتھ متحقق ہے۔ اور یہ وہم اکثر نفوس سے اس وقت تک زائل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس امر کا ذکر نہ کیا جائے جو اس کے منافی ہے۔ اتمام پر قصر کی افضلیت کو دو امور ثابت کرتے ہیں:اول: رسول اللہﷺکا اپنے تمام سفروں کے دوران میں قصر کا التزام کرنا۔ثانی: قصر، بندوں کے لیے وسعت، رخصت اور رحمت کا دروازہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ اس کی رخصتوں سے استفادہ کیا جائے۔ جس طرح وہ یہ بات ناپسند کرتا ہے کہ اس کی نافرمانی کا کوئی کام کیا جائے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَنۡ تَقۡصُرُوۡا مِنَ الصَّلٰوةِ ﴾ ’’نماز میں سے کچھ کم کر دو‘‘ اور یہ نہیں فرمایا (اَنْ تَقْصُرُوا الصَّلٰوۃَ) ’’نماز کو کم کر دو‘‘ اس میں دو فائدے ہیں:اول: اگر یہ کہا ہوتا کہ ’’نماز کو کم کر دو‘‘ تو قصر غیر منضبط اور غیر محدود ہوتی۔ اور بسا اوقات یہ بھی سمجھا جا سکتا تھا کہ اگر نماز کا بڑا حصہ کم کر دیا جائے اور صرف ایک رکعت پڑھ لی جائے، تو کافی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے (مِنَ الصَّلٰوۃِ) کا لفظ استعمال فرمایا۔ تاکہ وہ اس امر پر دلالت کرے کہ قصر محدود اور منضبط ہے اور اس بارے میں اصل مرجع وہ نماز قصر ہے جو رسول اللہﷺاور آپ کے اصحاب کرامyکے فعل سے ثابت ہے۔ثانی: حرف جار (مِنْ) تبعیض کا فائدہ دیتا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ صرف بعض فرض نمازوں میں قصر ہے تمام نمازوں میں جائز نہیں۔ کیونکہ فجر اور مغرب کی نماز میں قصر نہیں۔ صرف ان نمازوں میں قصر کر کے دو رکعت پڑھی جاتی ہیں جن میں چار رکعتیں فرض کی گئی ہیں۔جب یہ بات متحقق ہو گئی کہ سفر میں نماز قصر ایک رخصت ہے تو معلوم ہونا چاہیے کہ مفسرین میں اس قید کے تعین کے بارے میں اختلاف ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں وارد ہوئی ہے ﴿ اِنۡ خِفۡتُمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَكُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اگر تم اس بات سے ڈرو کہ کافر تمھیں فتنے میں ڈال دیں گے‘‘ جس کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ نماز قصر اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ یہ دو امور ایک ساتھ موجود نہ ہوں سفر اور خوف۔ ان کے اختلاف کا حاصل یہ ہے کہ (اَنْ تَقْصُرُوْا) سے مراد صرف عدد رکعات میں کمی ہے یا عدد رکعات اور صفت نماز دونوں میں کمی ہے؟اشکال صرف پہلی صورت میں ہے اور یہ اشکال امیر المومنین جناب عمر بن خطابtکو لاحق ہوا تھا۔ حتیٰ کہ انھوں نے رسول اللہﷺسے پوچھا ’’یارسول اللہ! ہم نماز میں قصر کیوں کرتے ہیں حالانکہ ہم مامون ہوتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے ﴿ اِنۡ خِفۡتُمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَكُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اگر تمھیں کافروں کا خوف ہو کہ وہ تمھیں فتنے میں ڈال دیں گے‘‘ رسول اللہﷺنے جواب میں فرمایا: ’’یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر صدقہ ہے پس تم اللہ تعالیٰ کے صدقہ کو قبول کرو‘‘(اَوْ کَمَا قَالَ عَلَیْہِ السَّلَامُ)(صحیح مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ المسافرین وقصرہا، حديث:1573)اس صورت میں یہ قید ان غالب حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عائد کی گئی تھی جن سے رسول اللہﷺاور صحابہ کرام دو چار تھے۔ کیونکہ رسول اللہﷺکے اکثر سفر جہاد کے لیے ہوتے تھے۔اس میں دوسرا فائدہ یہ ہے کہ قصر کی رخصت کی مشروعیت میں حکمت اور مصلحت بیان کی گئی ہے۔ اس آیت کریمہ میں وہ انتہائی مشقت بیان کی گئی ہے، جس کا قصر کی رخصت کے بارے میں تصور کیا جا سکتا ہے اور وہ ہے سفر اور خوف کا اجتماع اور اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ اکیلے سفر میں قصر نہ کی جائے جو کہ مشقت کا باعث ہے۔ رہی قصر کی دوسری صورت یعنی عدد رکعات اور نماز کی صفت میں قصر تو یہ قید اپنے اپنے باب کے مطابق ہو گی۔ یعنی انسان کو اگر سفر اور خوف دونوں کا سامنا ہو تو عدد اور صفت دونوں میں قصر کی رخصت ہے۔ اگر وہ بلا خوف کسی سفر پر ہے تو صرف عدد رکعات میں قصر ہے اور اگر صرف دشمن کا خوف لاحق ہے تو صرف وصف نماز میں قصر ہے۔
[102] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد آنے والی آیت کریمہ میں نماز خوف کی صفت بیان فرمائی ہے۔ ﴿ وَاِذَا كُنۡتَ فِيۡهِمۡ فَاَقَمۡتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اور (اے پیغمبر!) جب آپ ان (مجاہدین کے لشکر میں ہوں) اور ان کو نماز پڑھانے لگو۔‘‘ یعنی جب آپ ان کے ساتھ نماز پڑھیں اور اس کے ان واجبات کو پورا کریں جن کا پورا کرنا آپ پر اور آپ کے اصحاب پر لازم ہے۔پھر اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر بیان فرمائی ﴿ فَلۡتَقُمۡ طَآىِٕفَةٌ مِّؔنۡهُمۡ مَّعَكَ ﴾ ’’تو ان میں سے ایک گروہ آپ کے ساتھ نماز کے لیے کھڑا ہو‘‘ اور دوسری جماعت دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہو جیسا کہ آیت کا ٹکڑا ﴿ فَاِذَا سَجَدُوۡا ﴾’’جب وہ سجدہ کرچکیں۔‘‘ اس پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو آپﷺکے ساتھ نماز میں شریک ہیں اپنی نماز مکمل کر لیں۔ یہاں نماز کو سجدے سے تعبیر کیا ہے تاکہ سجدے کی فضیلت ظاہر ہو۔ نیز یہ کہ سجدہ نماز کا رکن بلکہ سب سے بڑا رکن ہے۔﴿ فَلۡيَكُوۡنُوۡا مِنۡ وَّرَؔآىِٕكُمۡ١۪ وَلۡتَاۡتِ طَآىِٕفَةٌ اُخۡرٰى لَمۡ يُصَلُّوۡا ﴾ ’’تو یہ تمھارے پیچھے آجائیں اور وہ دوسری جماعت آجائے جس نے نماز نہیں پڑھی‘‘ اور یہ وہ گروہ ہے جو دشمن کے مقابلے میں کھڑا تھا ﴿ فَلۡيُصَلُّوۡا مَعَكَ ﴾ ’’اب یہ گروہ آپ کے ساتھ نماز پڑھے۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پہلے گروہ کے نماز سے چلے جانے کے بعد امام نماز میں باقی رہے اور دوسرے گروہ کا انتظار کرے جب دوسرا گروہ آجائے تو ان کے ساتھ اپنی باقی نماز پڑھے پھر بیٹھ جائے اور ان کا انتظار کرے جب وہ اپنی نماز مکمل کر لیں تو ان کے ساتھ سلام پھیرے۔یہ نماز خوف اد اکرنے کے متعدد طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے۔ رسول اللہﷺسے نماز خوف کے متعدد طریقے مروی ہیں۔ ان تمام طریقوں سے نماز پڑھنا جائز ہے۔یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ نماز باجماعت دو وجوہ سے فرض عین ہے۔اول: اللہ تعالیٰ نے خوف کی اس شدید حالت میں یعنی دشمن کے حملہ کے خوف کی حالت میں بھی جماعت کے ساتھ نماز کا حکم دیا ہے۔ جب اس شدید حالت میں بھی جماعت کو واجب قرار دیا ہے تو امن و اطمینان کی حالت میں اس کا واجب ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ثانی: نماز خوف ادا کرنے والے نمازی نماز کی بہت سی شرائط اور لوازم کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس نماز میں نماز کو باطل کرنے والے بہت سے افعال کو نظرانداز کر کے ان کو معاف کر دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ صرف جماعت کے وجوب کی تاکید کی بنا پر ہے۔ کیونکہ فرض اور مستحب میں کوئی تعارض نہیں۔ اگر جماعت کے ساتھ نماز کا پڑھنا فرض نہ ہوتا، تو اس کی خاطر نماز کے ان واجبات کو ترک کرنے کی کبھی اجازت نہ دی جاتی۔آیت کریمہ یہ بھی دلالت کرتی ہے کہ افضل یہ ہے کہ ایک ہی امام کے پیچھے نماز پڑھی جائے۔ اگر ایسا کرنا کسی خلل کا باعث ہو تو متعدد ائمہ کے پیچھے نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔ یہ سب کچھ مسلمانوں کے اجتماع و اتفاق اور ان کے عدم افتراق کی خاطر ہے تاکہ یہ اتفاق ان کے دشمنوں کے دلوں میں رعب اور ہیبت ڈال دے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے نماز خوف کے اندر مسلح اور ہوشیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ نماز خوف میں اگرچہ کچھ زائد حرکات ہوتی ہیں اور نماز کے بعض احوال چھوٹ جاتے ہیں تاہم اس میں ایک راجح مصلحت ہے اور وہ ہے نماز اور جہاد کا اجتماع اور ان دشمنوں سے ہوشیار رہنا جو مسلمانوں پر حملہ کرنے اور ان کے مال و متاع لوٹنے کے سخت حریص ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَدَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَوۡ تَغۡفُلُوۡنَ عَنۡ اَسۡلِحَتِكُمۡ وَاَمۡتِعَتِكُمۡ فَيَمِيۡلُوۡنَ عَلَيۡكُمۡ مَّيۡلَةً وَّاحِدَةً﴾ ’’کافر چاہتے ہیں کہ کسی طرح تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان سے بے خبر ہو جاؤ تو وہ تم پر اچانک دھاوا بول دیں۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے عذر کو قبول فرمایا جو کسی مرض یا بارش کی وجہ سے اپنا اسلحہ اتار دیتا ہے مگر بایں ہمہ وہ دشمن سے چوکنا ہے۔ ﴿ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اِنۡ كَانَ بِكُمۡ اَذًى مِّنۡ مَّطَرٍ اَوۡ كُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤى اَنۡ تَضَعُوۡۤا اَسۡلِحَتَكُمۡ١ۚ وَخُذُوۡا حِذۡرَؔكُمۡ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابًا مُّهِيۡنًا ﴾ ’’ہاں! اپنے ہتھیار اتار رکھنے میں اس وقت تم پر کوئی گناہ نہیں جبکہ تمھیں تکلیف ہو بوجہ بارش کے یا تم بیمار ہو۔ اور بچاؤ کی چیزیں ساتھ رکھو۔ یقینا اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘ اور اس کا رسوا کن عذاب یہ ہے کہ اس نے اہل ایمان اور اپنے دین کے موحدین انصار کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کو جہاں کہیں پائیں ان کو پکڑیں اور ان کو قتل کریں، ان کے ساتھ جنگ کریں، ان کا محاصرہ کریں، ہر جگہ ان کے لیے گھات لگائیں اور ہر حال میں ان سے چوکنا رہیں۔ ان کی طرف سے کبھی غافل نہ ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ کفار اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ حمد و ثنا ہے کہ اس نے اہل ایمان پر احسان فرمایا اور اس نے اپنی مدد اور تعلیم کے ذریعے سے ان کی تائید فرمائی اگر وہ اس تعلیم پر صحیح معنوں میں عمل پیرا ہوں تو ان کاپرچم کبھی سرنگوں نہیں ہو سکتا اور کسی زمانے میں بھی دشمن ان پر غالب نہیں آ سکتا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ فَاِذَا سَجَدُوۡا فَلۡيَكُوۡنُوۡا مِنۡ وَّرَؔآىِٕكُمۡ ﴾ ’’جب وہ سجدہ کرچکیں تو پرے ہوجائیں۔‘‘ دلالت کرتا ہے کہ اس گروہ نے دشمن کے مقابلے میں جانے سے پہلے اپنی نماز مکمل کر لی تھی۔ اور یہ کہ رسول اللہﷺسلام پھیرنے سے پہلے دوسرے گروہ کے منتظر تھے۔ کیونکہ پہلے ذکر فرمایا کہ وہ گروہ نماز میں آپﷺکے ساتھ کھڑا ہو پس آپﷺسے ان کی مصاحبت کی خبر دی۔ پھر رسولﷺکو چھوڑ کر فعل کو ان کی طرف مضاف کیا یہ چیز ہمارے اس موقف پر دلالت کرتی ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ وَلۡتَاۡتِ طَآىِٕفَةٌ اُخۡرٰى لَمۡ يُصَلُّوۡا فَلۡيُصَلُّوۡا مَعَكَ ﴾ ’’پھر دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی (ان کی جگہ) آئے‘‘ اس امر پر دلیل ہے کہ پہلا گروہ نماز پڑھ چکا تھا۔ اور دوسرے گروہ کی تمام نماز امام کی معیت میں پڑھی گئی۔ ان کی پہلی رکعت حقیقی طور پر امام کے ساتھ تھی اور دوسری حکمی طور پر۔ اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ امام ان کا انتظار کرے یہاں تک کہ وہ اپنی نماز مکمل کر لیں پھر ان کے ساتھ سلام پھیرے۔ یہ چیز غور کرنے والے پر صاف واضح ہے۔
4:103Page 95
فَإِذَا قَضَيۡتُمُ ٱلصَّلَوٰةَ فَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ قِيَٰمٗا وَقُعُودٗا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمۡۚ فَإِذَا ٱطۡمَأۡنَنتُمۡ فَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَۚ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ كَانَتۡ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ كِتَٰبٗا مَّوۡقُوتٗا ١٠٣
And when you have completed the prayer, remember Allāh standing, sitting, or [lying] on your sides. But when you become secure, re-establish [regular] prayer. Indeed, prayer has been decreed upon the believers a decree of specified times.
پھر جب پوری کر لو تم نماز تو ذکر کرو اللہ کا کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور اپنی کروٹوں پر، پس جب بے خوف ہو جاؤ تم تو، پھر قائم کرو نماز کو (باقاعدہ)، تحقیق نماز ہے مسلمانوں پر فرض مقررہ وقتوں میں(103)
[103] جب تم اپنی نماز سے فارغ ہو جاؤ، یعنی نماز خوف وغیرہ سے تو اپنے تمام احوال اور تمام ہیئات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ یہاں یہ حکم خاص طور پر نماز خوف کے بارے میں دیا گیا ہے، جس کے چند فائدے ہیں:(۱)قلب کی صلاح و فلاح اور اس کی سعادت اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی انابت اور اس کے ساتھ محبت میں پنہاں ہے نیز اس بات میں ہے کہ قلب اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی حمد و ثنا سے لبریز رہے۔ سب سے بڑا ذریعہ جس سے یہ مقصد حاصل ہوتا ہے نماز ہے جو درحقیقت بندے اور اس کے رب کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے۔(۲)نماز حقائق ایمان اور معارف ایقان پر مشتمل ہے جو اس امر کے موجب ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر دن اور رات کے اوقات میں نماز فرض قرار دے دے اور معلوم ہے کہ نماز خوف کے ذریعے سے یہ مقاصد حمیدہ حاصل نہیں ہو سکتے، کیونکہ قلب و بدن خوف میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی تلافی کے لیے نماز خوف کے بعد ذکر کا حکم دیا ہے۔(۳)خوف قلب میں قلق کا موجب بنتا ہے جو کہ کمزوری کا باعث ہے۔ جب دل کمزور ہو جاتا ہے تو بدن بھی دشمن کے مقابلے میں کمزور پڑ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی کثرت سب سے بڑی مقویات قلب سے ہے۔(۴) صبر و استقامت کی معیت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر فوز و فلاح اور دشمنوں کے خلاف فتح و ظفر کا سبب بنتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمۡ فِئَةً فَاثۡبُتُوۡا وَاذۡكُرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾(الانفال : 8؍45)’’اے مومنو! اگر تمھارا کفار کی کسی جماعت کے ساتھ مقابلہ ہو جائے تو ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو شاید کہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس حال میں کثرت سے ذکر کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں اللہ تعالیٰ کی دیگر حکمتیں پوشیدہ ہیں۔﴿ فَاِذَا اطۡمَاۡنَنۡتُمۡ فَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ ﴾ ’’پھر جب خوف جاتا رہے تو نماز قائم کرو۔‘‘ یعنی جب تم خوف سے مامون ہو جاؤ، تمھارے دلوں اور تمھارے ابدان کو اطمینان میسر آجائے تو نماز کو ظاہری اور باطنی طور پر اس کے تمام ارکان و شرائط اور نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ کامل طریقے سے ادا کرو۔ ﴿اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتۡ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ كِتٰبًا مَّوۡقُوۡتًا ﴾ ’’نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں پر فرض ہے‘‘ یعنی اپنے وقت میں فرض کی گئی ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نماز فرض ہے اور اس کو ادا کرنے کا ایک وقت مقرر کیا گیا ہے اور نماز مقررہ وقت پر پڑھے بغیر قبول نہیں ہوتی۔ نماز کے اوقات وہی ہیں جو تمام مسلمانوں کے ہاں معروف اور متحقق ہیں نماز کے اوقات کو چھوٹے بڑے، عالم اور جاہل سب جانتے ہیں انھوں نے یہ اوقات اپنے نبیﷺسے اخذ کیے ہیں آپﷺنے فرمایا ﴿صَلُّوۡا كَمَا رَاَيۡتُمُوۡنِيۡ اُصَلِّيۡ﴾ ’’ویسے ہی نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الأذان، باب الأذان ……الخ، حديث:631)اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ﴿ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’مومنوں پر‘‘ دلالت کرتا ہے کہ نماز ایمان کی میزان ہے اور بندۂ مومن کے ایمان کی مقدار کے مطابق نماز کی تکمیل ہوتی ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ کفار، جو اگرچہ اہل ذمہ کی طرح مسلمانوں کے احکام و قوانین پر عمل کرنے کے پابند ہیں، تاہم وہ فروع دین میں مخاطب نہیں مثلاً نماز وغیرہ اس لیے ان کو نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔ بلکہ جب تک وہ اپنے کفر پر قائم ہیں ان کی نماز صحیح نہیں البتہ ان کو نماز اور دیگر تمام احکام کو ترک کرنے پر آخرت میں سزا دی جائے گی۔
4:104Page 95
وَلَا تَهِنُواْ فِي ٱبۡتِغَآءِ ٱلۡقَوۡمِۖ إِن تَكُونُواْ تَأۡلَمُونَ فَإِنَّهُمۡ يَأۡلَمُونَ كَمَا تَأۡلَمُونَۖ وَتَرۡجُونَ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا يَرۡجُونَۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ١٠٤
And do not weaken in pursuit of the enemy. If you should be suffering - so are they suffering as you are suffering, but you expect from Allāh that which they expect not. And Allāh is ever Knowing and Wise.
اور نہ ہمت ہارو تم تلاش میں (دشمن) قوم کی، اگر ہو تم دکھ اٹھاتے تو بلاشبہ وہ بھی دکھ اٹھاتے ہیں، جیسے تم دکھ اٹھاتے ہو۔ اور تم امید رکھتے ہو اللہ سے جس کی وہ نہیں امید رکھتے اور ہے اللہ جاننے والا حکمت والا(104)
[104] یعنی اپنے دشمن کفار کو طلب کرنے ان کے خلاف جہاد اور ان کے مقابلے میں تیار رہنے میں کمزوری اور سستی کا مظاہرہ نہ کرو۔ کیونکہ دل کی کمزوری بدن کی کمزوری کو دعوت دیتی ہے۔ اور یہ کمزوری دشمن کے مقابلے میں کمزوری کا باعث بنتی ہے بلکہ دشمن کے خلاف جنگ میں چست و چالاک اور طاقتور بنو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا ہے جو اہل ایمان کے دل کو قوت بخشتے ہیں اور وہ دو چیزیں ہیں:اول: جس درد و الم، مشقت اور تھکاوٹ اور زخموں وغیرہ کا تمھیں سامنا کرنا پڑتا ہے انھی چیزوں کا سامنا تمھارے دشمن کو بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے انسانی مروت اور اسلامی شجاعت و شہامت کے شایاں نہیں کہ تم ان کے مقابلے میں زیادہ کمزوری کا مظاہرہ کرو جبکہ تمھیں اور ان کو برابر کی تکالیف کا سامنا ہے۔ عادت جاریہ یہ ہے کہ صرف وہی شخص کمزور ہوتا ہے جو نہایت تسلسل کے ساتھ رنج و آلام کا شکار رہا ہو اور دشمن دائمی طور پر اس پر غالب ہو۔ نہ کہ وہ شخص جو کبھی غالب رہا ہو اور کبھی مغلوب۔ثانی: اللہ تعالیٰ پر جو امید تم رکھتے ہو وہ امید کفار نہیں رکھتے۔ تم اللہ تعالیٰ کے ثواب کے حصول اور اس کے عذاب سے نجات کی امید رکھتے ہو بلکہ خواص اہل ایمان تو اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت، اس کی شریعت کے نفاذ، گمراہوں کی راہ نمائی اور دین کے دشمنوں کے قلع قمع جیسے بلند مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہیں۔پس یہ تمام امور صاحب تصدیق مومن کی قوت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں، ان سے ان کی چستی اور بہادری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ جو دنیاوی عزت و جاہ کے حصول کی خاطر جنگ کرتا ہے اور اس میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ وہ اس شخص کی مانند تو نہیں ہو سکتا جو دنیاوی اور اخروی سعادت، اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کے حصول کی خاطر لڑتا ہے۔پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندوں کے درمیان تفاوت رکھا ہے اور اپنے علم اور حکمت کے ذریعے سے ان کے مابین تفریق کی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا﴾ ’’اور اللہ سب کچھ جانتا، بڑی حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ علم کامل اور حکمت کامل کا مالک ہے۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences