As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Ghafir 40:13–22
40:13–17Page 468
هُوَ ٱلَّذِي يُرِيكُمۡ ءَايَٰتِهِۦ وَيُنَزِّلُ لَكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ رِزۡقٗاۚ وَمَا يَتَذَكَّرُ إِلَّا مَن يُنِيبُ ١٣
It is He who shows you His signs and sends down to you from the sky, provision. But none will remember except he who turns back [in repentance].
فَٱدۡعُواْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ وَلَوۡ كَرِهَ ٱلۡكَٰفِرُونَ ١٤
So invoke Allāh, [being] sincere to Him in religion, although the disbelievers dislike it.
رَفِيعُ ٱلدَّرَجَٰتِ ذُو ٱلۡعَرۡشِ يُلۡقِي ٱلرُّوحَ مِنۡ أَمۡرِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦ لِيُنذِرَ يَوۡمَ ٱلتَّلَاقِ ١٥
[He is] the Exalted above [all] degrees, Owner of the Throne; He places the inspiration of His command [i.e., revelation] upon whom He wills of His servants to warn of the Day of Meeting.
يَوۡمَ هُم بَٰرِزُونَۖ لَا يَخۡفَىٰ عَلَى ٱللَّهِ مِنۡهُمۡ شَيۡءٞۚ لِّمَنِ ٱلۡمُلۡكُ ٱلۡيَوۡمَۖ لِلَّهِ ٱلۡوَٰحِدِ ٱلۡقَهَّارِ ١٦
The Day they come forth nothing concerning them will be concealed from Allāh. To whom belongs [all] sovereignty this Day? To Allāh, the One, the Prevailing.1
ٱلۡيَوۡمَ تُجۡزَىٰ كُلُّ نَفۡسِۭ بِمَا كَسَبَتۡۚ لَا ظُلۡمَ ٱلۡيَوۡمَۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ ١٧
This Day every soul will be recompensed for what it earned. No injustice today! Indeed, Allāh is swift in account.
وہی ہے جو دکھاتا ہے تمھیں اپنی نشانیاں اور نازل کرتا ہے تمھارے لیے آسمان سے رزق، اور نہیں نصیحت پکڑتا مگر وہ جو رجوع کرتا ہے (13)پس تم پکارو اللہ کو خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی کو، اگرچہ ناپسند (برا) سمجھیں کافر(14)(وہ) بہت بلند درجوں والا عرش کا مالک ہے وہ ڈالتا ہے روح (وحی) اپنے حکم سے اوپر جس کے چاہتا ہے اپنے بندوں سے تاکہ وہ ڈرائے ملاقات کے دن سے (15) جس دن وہ (قبروں سے) نکلیں گے نہیں مخفی ہو گی اللہ پر ان میں سے کوئی چیز، (اللہ تعالی پوچھے گا)کس کے لیے ہے بادشاہی آج کے دن؟ ( پھر خود ہی فرمائے گا)اللہ ہی کے لیے جو ایک ہے بڑا زبردست (16) آج بدلہ دیا جائے گا ہر نفس کو ساتھ اس کے جو اس نے کمایا، نہیں کوئی ظلم آج، بلاشبہ اللہ جلد حساب لینے والا ہے (17)
[13] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی عظیم نعمتوں کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے باطل میں سے حق کو واضح کیا، وہ اپنے بندوں کو آیات نفسیہ، آیات آفاقیہ اور آیات قرآنیہ کا مشاہدہ کراتا ہے جو ہر مطلوب و مقصود پر اس طرح دلالت کرتی ہیں کہ ان میں غوروفکر کرنے والے کے لیے معرفت حقائق میں ادنیٰ سا بھی شک نہیں رہتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے کہ اس نے حق کو مشتبہ رکھا ہے نہ صواب کو مشکوک۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے دلائل کو متنوع طریقوں سے بیان اور آیات کو واضح کیا تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جوزندہ رہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ مسائل جتنے اہم اور بڑے ہوں گے، ان کے دلائل اتنے ہی زیادہ اور آسان ہوں گے۔ آپ توحید میں غور کیجیے، توحید کا مسئلہ بڑے مسائل میں شمار ہوتا ہے، بلکہ یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے اس لیے اس کے عقلی اور نقلی دلائل بہت زیادہ اور متنوع ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے تمثیلیں بیان کی ہیں اور بہت کثرت سے استدلال کیا ہے اس لیے اس مقام پر توحید کے جملہ دلائل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَادۡعُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾ ’’پس اللہ کی عبادت کو خالص کر کے اسی کو پکارو۔‘‘ جب اس نے ذکر فرمایا کہ وہ اپنے بندوں کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے، تو ایک بڑی نشانی کی طرف اشارہ کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَيُنَزِّلُ لَكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ رِزۡقًا ﴾ ’’اور وہ آسمان سے تمھارے لیے رزق اتارتا ہے۔‘‘ یعنی وہ آسمان سے بارش نازل کرتا ہے، جس سے تمھیں رزق دیا جاتا ہے، جس سے تم اور تمھارے مویشی زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں۔دینی نعمتیں بھی اسی کی طرف سے ہیں اس سے مراد دینی مسائل، ان کے دلائل اور ان پر عمل ہے اور دنیاوی نعمتیں بھی اسی کی طرف سے ہیں، مثلاً: وہ تمام نعمتیں جو بارش سے وجود میں آتی ہیں، بارش سے زمین اور بندوں کو زندگی عطا ہوتی ہے اور یہ چیز قطعی طور پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اکیلا ہی معبود برحق ہے جس کے لیے اخلاص دین متعین ہے جیسا کہ وہ اکیلا ہی منعم حقیقی ہے۔ ﴿وَمَا يَتَذَكَّـرُ ﴾ جب اللہ تعالیٰ ان آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتا ہے تو اس سے نہیں نصیحت حاصل کرتا ہے ﴿اِلَّا مَنۡ يُّنِيۡبُ ﴾ مگر وہی شخص جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کی خشیت، اس کی اطاعت اور اس کے سامنے عاجزی اور فروتنی اختیار کرتا ہے۔ پس یہی وہ شخص ہے جو آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتا ہے اور یہ آیات اس کے حق میں رحمت بن جاتی ہیں اور ان آیات سے اسی کی بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے۔
[14] چونکہ آیات الٰہی کا ثمرہ تذکر ہے اور تذکر اللہ تعالیٰ کے اخلاص کا موجب ہے اس لیے اخلاص کے حکم کو ’’فاء‘‘ کے ذریعے سے اس پر مرتب فرمایا جو سببیت پر دلالت کرتی ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿فَادۡعُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾ یہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ، دونوں کو شامل ہے۔ اخلاص کا معنی ہے تمام عبادات واجبہ و مستحبہ، حقوق اللہ اور حقوق العباد میں قصد کو اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کرنا۔ یعنی ان تمام امور میں، جن پر تم دین کے طور پر عمل کرتے ہو اور جن کو تم اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ بناتے ہو، ان میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص سے کام لو۔ ﴿وَلَوۡ كَرِهَ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’خواہ یہ کفار کے لیے ناگوار ہی کیوں نہ ہو‘‘ اس لیے تم ان میں ان کی پروا نہ کرو۔ یہ چیز تمھیں تمھارے دین سے نہ پھیر دے، کسی ملامت کرنے والے کی ملامت تمھیں اللہ کے راستے سے روک نہ دے۔ کیونکہ کفار اخلاص کو بہت ناپسند کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحۡدَهُ اشۡمَاَزَّتۡ قُلُوۡبُ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ١ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾(الزمر:39؍45) ’’جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل کراہت سے تنگ ہو جاتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جب اللہ کے سوا خود ساختہ معبودوں کا نام لیا جاتا ہے تو یہ خوش ہو جاتے ہیں۔‘‘
[15] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے جلال و کمال کا ذکر فرمایا جو عبادت میں اخلاص کا تقاضا کرتا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿رَفِيۡعُ الدَّرَجٰؔتِ ذُو الۡعَرۡشِ ﴾ ’’وہ درجاتِ عالی کا مالک اور صاحب عرش ہے۔‘‘ یعنی وہ بلند اور اعلیٰ ہے جو عرش پر مستوی ہے، عرش اس کے لیے مختص ہے، اس کے درجات بہت بلند ہیں وہ ان کی وجہ سے مخلوقات سے علیحدہ ہے اور ان کے ساتھ اس کامرتبہ بلند ہے۔ اس کے اوصاف جلیل القدر اور اس کی ذات اس سے بلندتر ہے کہ اس کا قرب حاصل کیا جائے سوائے پاک اور طاہر و مطہر عمل کے ذریعے سے اور وہ ہے اخلاص جو مخلص مومنین کے درجات کو بلند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے اور تمام مخلوق پر فوقیت عطا کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رسالت اور وحی کی نعمت کا ذکر کرتا ہے، فرمایا:﴿يُلۡقِي الرُّوۡحَ ﴾ ’’وہ نازل کرتا ہے روح۔‘‘ یعنی وحی، جو قلب و روح کے لیے وہی حیثیت رکھتی ہے جو اجساد کے لیے ارواح کی ہے۔ جیسے روح کے بغیر بدن زندہ ہوتا ہے نہ زندہ رہ سکتا ہے، اسی طرح روح اور قلب، روحِ وحی کے بغیر درست رہ سکتے ہیں نہ فلاح سے بہرہ مند ہو سکتے ہیں۔ ﴿يُلۡقِي الرُّوۡحَ مِنۡ اَمۡرِهٖ﴾ ’’اپنے حکم سے وحی بھیجتا ہے۔‘‘ جس میں بندوں کی منفعت اور مصلحت ہے ﴿عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾ ’’اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے۔‘‘ اس سے اللہ تعالیٰ کے رسول مراد ہیں جن کو اس نے فضیلت بخشی اور انھیں اپنی وحی اور بندوں کو دعوت دینے کے لیے مختص فرمایا۔انبیاء و مرسلین مبعوث کرنے کا فائدہ بندوں کے لیے، ان کے دین، دنیا اور آخرت میں سعادت کا حصول اور ان کے دین، دنیا اور آخرت میں بدبختی کو دور کرنا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿لِيُنۡذِرَ ﴾ تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جن کی طرف وحی بھیجی گئی ہے۔ ﴿يَوۡمَ التَّلَاقِ﴾ ’’ملاقات کے دن سے‘‘ یعنی وہ اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ملاقات کے دن سے ڈرائے اور انھیں ان اسباب کو تیار کرنے کے لیے آمادہ کرے جو ان کو اس صورت حال سے نجات دیتے ہیں جس میں وہ گھرے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس دن کو (یَوْمَ التَّلَاقْ) کے نام سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس دن خالق اور مخلوق کی ملاقات ہو گی، مخلوق ایک دوسرے سے ملاقات کرے گی اور عمل کرنے والے اپنے اعمال اور ان کی جزا کا سامنا کریں گے۔
[16]﴿يَوۡمَ هُمۡ بٰرِزُوۡنَ ﴾ ’’جس روز سب لوگ ظاہر ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی جس روز یہ زمین پر ظاہر ہوں گے اور ایک ہی میدان میں جمع ہوں گے، جس میں کوئی نشیب و فراز نہ ہو گا، پکارنے والا ان کو اپنی آواز سنا سکے گا اور نگاہ سب تک پہنچ سکے گی۔ ﴿لَا يَخۡفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنۡهُمۡ شَيۡءٌ ﴾ ’’ ان کی کوئی بات اللہ سے چھپی نہ رہے گی۔‘‘ یعنی ان کی ذات چھپ سکے گی نہ ان کے اعمال، اور نہ ان اعمال کی جزا ہی اللہ تعالیٰ سے چھپی ہوئی ہو گی ﴿لِمَنِ الۡمُلۡكُ الۡيَوۡمَ ﴾ ’’آج بادشاہی کس کی ہے؟‘‘ یعنی اس عظیم دن کا کون مالک ہے؟ جس نے اولین و آخرین، آسمانوں اور زمین کی مخلوق کو جمع کیا ہے، آج اقتدار میں خود ساختہ شراکت ختم اور تمام اسباب منقطع ہو گئے، اور کچھ باقی نہیں رہا سوائے اچھے برے اعمال کے۔ ﴿لِلّٰهِ الۡوَاحِدِ الۡقَهَّارِ﴾ ’’اللہ اکیلے کے لیے جو سب پر غالب ہے۔‘‘ یعنی آج اقتدار کی مالک وہ ذات بابرکات ہے جو اپنی ذات، اسماء و صفات اور افعال میں منفرد ہے اور کسی بھی لحاظ سے اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿الۡقَهَّارِ ﴾ تمام مخلوقات پر غالب و قاہر ہے، تمام مخلوقات اس کی مطیع، اس کے سامنے عاجز ہے خاص طور پر اس دن لوگوں کے سر اس حیّ و قیّوم ہستی کے سامنے جھک جائیں گے اور اس روز اس کی اجازت کے بغیر کوئی کلام نہیں کر سکے گا۔
[17]﴿اَلۡيَوۡمَ تُجۡزٰى كُلُّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ ﴾ ’’آج ہر نفس کو، جو اس نے کمایا، اس کی جزا دی جائے گی۔‘‘ یعنی اس نے دنیا کے اندر، تھوڑی یا بہت، جو بھی نیکی اور بدی کا اکتساب کیا ہے، آج اس کی جزا دی جائے گی۔ ﴿لَا ظُلۡمَ الۡيَوۡمَ ﴾ ’’آج کسی پر ظلم نہیں ہوگا‘‘ آج کسی نفس پر، برائیوں میں اضافہ کر کے یا اس کی نیکیوں میں کمی کر کے، ظلم نہیں کیا جائے گا۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ ﴾ ’’بلاشبہ اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔‘‘ یعنی اس دن کو دور نہ سمجھو یہ دن ضرور آنے والا ہے اور ہر آنے والی چیز قریب ہی ہوتی ہے۔ نیز وہ قیامت کے روز اپنے بندوں کا بہت جلد حساب لے لے گا کیونکہ اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ قدرت کاملہ کا مالک ہے۔
40:18–20Page 469
وَأَنذِرۡهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡأٓزِفَةِ إِذِ ٱلۡقُلُوبُ لَدَى ٱلۡحَنَاجِرِ كَٰظِمِينَۚ مَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنۡ حَمِيمٖ وَلَا شَفِيعٖ يُطَاعُ ١٨
And warn them, [O Muḥammad], of the Approaching Day, when hearts are at the throats, filled [with distress]. For the wrongdoers there will be no devoted friend and no intercessor [who is] obeyed.
يَعۡلَمُ خَآئِنَةَ ٱلۡأَعۡيُنِ وَمَا تُخۡفِي ٱلصُّدُورُ ١٩
He knows that which deceives the eyes and what the breasts conceal.
وَٱللَّهُ يَقۡضِي بِٱلۡحَقِّۖ وَٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَقۡضُونَ بِشَيۡءٍۗ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ ٢٠
And Allāh judges with truth, while those they invoke1 besides Him judge not with anything. Indeed, Allāh - He is the Hearing, the Seeing.
اور ڈرائیں ان کو قریب آنے والے دن (قیامت) سے جبکہ دل نزدیک گلوں کے ہوں گے غم سے بھرے ہوئے، نہیں ہو گا ظالموں کے لیے کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی کہ جس کی بات مانی جائے (18) وہ جانتا ہے خیانت کرنے والی آنکھوں کو اور اس کو بھی جو کچھ چھپاتے ہیں سینے(19) اور اللہ فیصلہ کرے گا ساتھ حق (انصاف)کے اور وہ جن کو پکارتے ہیں اس کے سوا وہ نہیں فیصلہ کر سکتے کسی بھی چیز کا، بلاشبہ اللہ، وہی ہے خوب سننے والا خوب دیکھنے والا (20)
[18] اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿وَاَنۡذِرۡهُمۡ يَوۡمَ الۡاٰزِفَةِ ﴾ ’’(اے نبی!) انھیں (قریب) آپہنچنے والے دن سے ڈرائیے‘‘ یعنی انھیں قیامت کے دن سے ڈرائیے جو بہت قریب ہے، اس کے اہوال اور اس کے زلزلوں کے پہنچنے کا وقت ہو گیا ہے ﴿اِذِ الۡقُلُوۡبُ لَدَى الۡحَنَاجِرِ ﴾ ’’جبکہ دل گلوں تک آرہے ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے دل ہوا ہو جائیں گے۔ خوف اور کرب سے دل گلے میں اٹک جائیں گے اور آنکھیں اوپر اٹھی کی اٹھی رہ جائیں گی ﴿كٰظِمِيۡنَ ﴾ وہ کلام نہیں کر سکیں گے سوائے اس شخص کے، جسے رحمٰن اجازت دے اور وہ درست بات کہے۔ وہ دلوں میں چھپے ہوئے خوف اور دہشت کو زبان پر نہیں لائیں گے۔ ﴿مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ ﴾ اور ظالموں کا کوئی قریبی اور ساتھی نہیں ہو گا۔ ﴿وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾ ’’نہ کوئی ایسا سفارشی ہو گا جس کی بات مانی جائے‘‘ کیونکہ اگر سفارشیوں کی سفارش کو فرض کر بھی لیا جائے تب بھی یہ سفارشی شرک کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والوں کی سفارش نہیں کریں گے۔ اگر یہ سفارش کریں بھی، تو اللہ تعالیٰ ان کی سفارش پر راضی ہو گا نہ اس کو قبول کرے گا۔
[19]﴿يَعۡلَمُ خَآىِٕنَةَ الۡاَعۡيُنِ ﴾ ’’وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے۔‘‘ یہ وہ نظر ہے جسے بندہ اپنے ہم نشین اور ساتھی سے چھپاتا ہے اور یہ چوری کی نظر ہے۔ ﴿وَمَا تُخۡفِي الصُّدُوۡرُ ﴾ ’’اور ان مخفی باتوں کو بھی جو سینوں نے چھپا رکھی ہیں۔‘‘ یعنی وہ امور جنھیں بندہ دوسروں پر ظاہر نہیں کرتا اللہ تعالیٰ سینوں میں چھپے ہوئے ان بھیدوں کو بھی جانتا ہے۔ ظاہری امور سے آگاہ ہونا تو زیادہ اولیٰ ہے۔
[20]﴿وَاللّٰهُ يَقۡضِيۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور اللہ حق کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے۔‘‘ کیونکہ اس کا قول حق ہے، اس کا حکم شرعی حق ہے اور اس کا حکم جزائی حق ہے۔ اس کا علم محیط ہے، اس نے ہر چیز کو لکھ رکھا ہے اور اس کے پاس ہر چیز محفوظ ہے۔ وہ ظلم، نقص اور تمام عیوب سے پاک ہے۔ وہی ہے جو اپنی قضا و قدر کے مطابق فیصلہ کرتا ہے، جب وہ کوئی چیز چاہتا ہے تو وہ ہو جاتی ہے، جب نہیں چاہتا تو نہیں ہوتی۔ وہ دنیا میں اپنے مومن اور کافر بندوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور فتح و نصرت کے ذریعے سے اپنے اولیاء اور محبوب بندوں کی مدد کرتا ہے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ﴾ ’’اور جن کو یہ اس (اللہ) کے سوا پکارتے ہیں۔‘‘ یہ ان تمام ہستیوں کو شامل ہے جن کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ ﴿لَا يَقۡضُوۡنَ بِشَيۡءٍ ﴾ ’’وہ کسی چیز کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔‘‘ کیونکہ وہ عاجز اور بے بس ہیں ان میں بھلائی کا ارادہ معدوم اور وہ اس کے فعل کی استطاعت سے محروم ہیں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ اللہ تعالیٰ ہی تمام آوازوں کو، اختلاف زبان اور اختلاف حاجات کے باوجود سنتا ہے۔ ﴿الۡبَصِيۡرُ ﴾ ’’وہ دیکھنے والا ہے۔‘‘ جو کچھ تھا اور جو کچھ ہے، جو کچھ نظر آتا ہے اور جو کچھ نظر نہیں آتا، جسے بندے جانتے ہیں اور جسے بندے نہیں جانتے، سب اس کی نظر میں ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دو آیات کریمہ کی ابتدا میں فرمایا تھا:﴿وَاَنۡذِرۡهُمۡ يَوۡمَ الۡاٰزِفَةِ ﴾ ’’ان کو قریب آنے والے دن (قیامت) سے ڈرائیے۔‘‘ پھر اس کے یہ اوصاف بیان فرمائے جو اس عظیم دن کے لیے تیاری کا تقاضا کرتے ہیں کیونکہ یہ ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں۔
40:21–22Page 469
۞ أَوَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ كَانُواْ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَانُواْ هُمۡ أَشَدَّ مِنۡهُمۡ قُوَّةٗ وَءَاثَارٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُ بِذُنُوبِهِمۡ وَمَا كَانَ لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن وَاقٖ ٢١
Have they not traveled through the land and observed how was the end of those who were before them? They were greater than them in strength and in impression on the land, but Allāh seized them for their sins. And they had not from Allāh any protector.
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ كَانَت تَّأۡتِيهِمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَكَفَرُواْ فَأَخَذَهُمُ ٱللَّهُۚ إِنَّهُۥ قَوِيّٞ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ٢٢
That was because their messengers were coming to them with clear proofs, but they disbelieved, so Allāh seized them. Indeed, He is Powerful and severe in punishment.
کیا نہیں سیر کی انھوں نے زمین میں، پس وہ دیکھتے کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو تھے ان سے پہلے، تھے وہ زیادہ سخت ان سے قوت میں اور نشانیوں میں (جو چھوڑ گئے وہ) زمین میں، پس پکڑ لیا ان کو اللہ نے بسبب ان کے گناہوں کے، اور نہ تھا ان کے لیے اللہ سے کوئی بچانے والا (21) یہ اس سبب سے کہ بے شک وہ تھے کہ آتے تھے ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلوں کے ساتھ ، تو انھوں نے انکار کیا، پس پکڑ لیا ان کو اللہ نے، بلاشبہ وہ بڑا قوت والا سخت سزا دینے والاہے (22)
[21، 22] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَوَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں؟‘‘ یعنی انھوں نے اپنے قلوب و ابدان کے ساتھ، گزشتہ قوموں کے آثار میں غوروفکر کرنے اور ان سے عبرت حاصل کرنے کے لیے چل پھر کر نہیں دیکھا؟ ﴿فَيَنۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا؟‘‘ یعنی جو ان سے پہلے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والے تھے۔ وہ دیکھیں گے کہ ان کا بدترین انجام ہوا وہ تباہ و برباد کر دیے گئے اور انھیں فضیحت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ ﴿كَانُوۡا ﴾ وہ ان لوگوں سے زیادہ طاقت ور تھے، یعنی وہ تعداد، سازوسامان اور جسمانی طور پر بہت طاقتور تھے۔ ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ بہت زیادہ تھے، ﴿اٰثَارًا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’زمین میں (چھوڑے ہوئے)آثار کے لحاظ سے‘‘ یعنی عمارات اور باغات وغیرہ کے لحاظ سے انھوں نے بہت زبردست آثار زمین میں چھوڑے۔ آثار کی قوت آثار چھوڑنے والے کی قوت اور اس کی شان و شوکت پر دلالت کرتی ہے۔﴿فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں پکڑ لیا‘‘ اپنے عذاب کے ساتھ ﴿بِذُنُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’ان کے گناہوں کی وجہ سے‘‘ جبکہ انھوں نے گناہوں پر اصرار کیا اور ان پر جمے رہے ۔ ﴿اِنَّهٗ قَوِيٌّ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک وہ صاحب قوت اور سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ کی قوت کے سامنے ان کی قوت کسی کام نہ آئی بلکہ قوم عاد، سب سے طاقتور قوم تھی، جو کہا کرتے تھے:﴿مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾(حٰمٓ السجدۃ: 41؍15) ’’ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہوا بھیجی جس نے ان کے قویٰ مضمحل کر دیے اور ان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے احوال کا نمونہ بیان فرمایا یعنی فرعون اور اس کے لشکروں کی مثال ، چنانچہ فرمایا:
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسٰی کو ساتھ اپنی نشانیوں اور (ساتھ) دلیل واضح کے (23) طرف فرعون اور ہامان اور قارون کے، پس انھوں نے کہا، (یہ تو)جادوگر ہے بڑا جھوٹا (24) پس جب آیا وہ ان کے پاس حق لے کر ہماری طرف سے تو انھوں نے کہا، قتل کرو بیٹوں کو ان لوگوں کے جو ایمان لائے ساتھ اس (موسیٰ)کے اور زندہ رکھو ان کی عورتوں(بیٹیوں) کو، اور نہیں تھی چال کافروں کی مگر ناکام ہی (25) اور کہا فرعون نے، چھوڑو مجھے(تاکہ) قتل کر دوں میں موسیٰ کو اور چاہیے کہ پکارے وہ اپنے رب کو، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں کہ وہ بدل دے گا تمھارے دین کو، یا یہ کہ پھیلائے گا وہ زمین میں فساد (26) اور کہا موسیٰ نے، بے شک میں پناہ میں آتا ہوں اپنے رب کی اور تمھارے رب کی ہراس متکبر سے جو نہیں ایمان رکھتا یوم حساب پر(27) اور کہا ایک مرد مومن نے آلِ فرعون میں سے (جو) چھپاتا تھا ایمان اپنا، کیا قتل کرتے ہو تم ایک آدمی کو اس بات پر کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور تحقیق وہ لایا ہے تمھارے پاس روشن دلائل تمھارے رب کی طرف سے ، اوراگر ہے وہ جھوٹا تو اسی پر وبال ہے اس کےجھوٹ کا اور اگر وہ ہے سچا تو پہنچے گا تم کو کچھ حصہ اس (عذاب)کا جس کا وہ وعدہ کرتا ہے تم سے، بے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا اس شخص کو کہ ہے وہ حد سے بڑھنے والا بہت جھوٹا (28) اے میری قوم! تمھارے لیے ہی بادشاہی ہے آج جبکہ غالب ہو تم زمین میں، پس کون مدد کرے گا ہماری اللہ کے عذاب سے اگر آ گیا وہ ہمارے پاس؟ کہا فرعون نے ، نہیں دکھاتا میں تمھیں مگر وہی جو میں دیکھتا ہوں اور نہیں رہنمائی کرتا میں تمھاری مگر بھلائی ہی کے راستے کی(29) اورکہا اس شخص نے جو ایمان لایا تھااے میری قوم! بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر مانند دن(گزشتہ)گروہوں کے سے(30) مانند حال قوم نوح اور عاد اور ثمود کے اور ان لوگوں کے جو ان کے بعد ہوئے اور نہیں اللہ چاہتا ظلم کرنا بندوں پر (31) اور اے میری قوم! بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر ایک دوسرے کو پکارنے کے دن سے (32) جس دن پھرو(بھاگو)گے تم پیٹھ پھیرتے ہوئے، نہیں ہو گا تمھارے لیے اللہ(کے عذاب) سے کوئی بچانے والا اور جس کو گمراہ کر دے اللہ تو نہیں ہے اس کو کوئی ہدایت دینے والا (33) اور البتہ تحقیق آیا تمھارے پاس یوسف(بھی)اس سے پہلے ساتھ واضح دلائل کے، پس ہمیشہ رہے تم شک میں اس سے جو وہ لایا تمھارے پاس، یہاں تک کہ جب وہ فوت ہو گیا تو تم نے کہا ہرگز نہیں بھیجے گا اللہ اس کے بعد کوئی رسول، اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ اس شخص کو کہ ہو وہ حد سے بڑھنے والا شک کرنے والا (34) وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں میں بغیر کسی دلیل کے جو آئی ہو ان کے پاس (یہ جھگڑنا) بڑی ناراضی کا باعث ہے نزدیک اللہ کے اور نزدیک ان لوگوں کے جو ایمان لائے، اسی طرح مہرلگا دیتا ہے اللہ دل پر ہر متکبر سر کش کے (35) اور کہا فرعون نے اے ہامان! تو بنا میرے لیے ایک بلند عمارت تاکہ پہنچوں میں راستوں پر (36) راستوں پر آسمانوں کے، پس جھانک کر دیکھوں میں موسیٰ کے معبود کی طرف اور بے شک میں تو یقیناً گمان کرتا ہوں اسے جھوٹا اور اسی طرح مزین کر دیا گیا فرعون کے لیے اس کا براعمل اور روک دیا گیا وہ (سیدھے) راستے سے اور نہیں تھی چال فرعون کی مگر تباہی ہی میں (37) اور کہا اس شخص نے جو ایمان لایا تھا، اے میری قوم!پیروی کرو تم میری، میں بتلاؤ ں گا تمھیں راستہ بھلائی (نیکی) کا (38) اے میری قوم! بلاشبہ یہ زندگانی ٔ دنیا تو کچھ فائدہ اٹھا لینا ہے، اور بے شک آخرت، وہی ہے گھر ٹھہرنے کا(39) جس نے کی کوئی برائی تو نہیں بدلہ دیا جائے گا وہ مگر اسی کے برابر اور جس نے کیا کوئی نیک کام، وہ مرد ہو یا عورت درآں حالیکہ وہ مومن ہو، تو یہی لوگ داخل ہوں گے جنت میں، رزق دیے جائیں گے وہ اس میں بے حساب (40) اوراے میری قوم! کیا ہے میرے لیے کہ میں تو بلاتا ہوں تمھیں نجات کی طرف اور تم بلاتے ہو مجھے آگ کی طرف؟ (41) تم بلاتے ہو مجھے کہ کفر کروں میں اللہ کے ساتھ اورشریک ٹھہراؤ ں اس کے ساتھ اس کو کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور میں بلاتا ہوں تمھیں طر ف غالب بہت بخشنے والے کی (42) نہیں شک (اس میں)کہ وہ چیز، کہ بلاتے ہو تم مجھے اس کی طرف نہیں ہے اس کے لیے پکار (قبول کرنا) دنیا میں اور نہ آخرت میں اور بلاشبہ لوٹنا ہمارا اللہ کی طرف ہے اور بلاشبہ حد سے بڑھنے والے ہی ہیں دوزخی (43) پس عنقریب یاد کرو گے تم جو کہتا ہوں میں تم سے اور سونپتا ہوں میں اپنا معاملہ اللہ کی طرف، بلاشبہ اللہ خوب دیکھنے والا ہے بندوں کو (44) پس بچا لیا اس کو اللہ نے اس تدبیر کی برائیوں سے جو انھوں نے کی اورگھیر لیا آل فرعون کو برے عذاب نے (45)(وہ) آگ ہے، پیش کیے جاتے ہیں وہ اس پر صبح اور شام اور جس دن قائم ہو گی قیامت (کہا جائے گا) داخل کرو آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں (46)
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences