As-Sa'diGhafir · 40:23–60

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Ghafir 40:23–60, continued

[42] پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿تَدۡعُوۡنَنِيۡ لِاَكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَاُشۡرِكَ بِهٖ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ اس کو شریک کروں جس کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں۔‘‘ یعنی جس کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کا مستحق ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بلاعلم بات کہنا سب سے بڑا اور انتہائی گھناؤ نا گناہ ہے۔ ﴿وَّاَنَا اَدۡعُوۡؔكُمۡ اِلَى الۡعَزِيۡزِ ﴾ ’’جبکہ میں تمھیں غالب (اللہ) کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘ جو تمام طاقت کا مالک ہے اور غیراللہ کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ ﴿الۡغَفَّارِ ﴾ ’’بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔‘‘ جب بندے اپنی جانوں پر زیادتی کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لینے کی جرأت کرتے ہیں ، پھر وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی برائیوں اور گناہوں کو مٹا ڈالتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی دنیاوی اور اخروی سزا کو ہٹا دیتا ہے۔

[43]﴿لَا جَرَمَ ﴾ ’’کوئی شک نہیں۔‘‘ یقینا ﴿اَنَّمَا تَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَيۡهِ لَيۡسَ لَهٗ دَعۡوَةٌ فِي الدُّنۡيَا وَلَا فِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جس کی طرف تم مجھے بلا تے ہو ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت (پکارا جانا) ہے اور نہ آخرت میں۔‘‘ یعنی جس ہستی کی طرف تم مجھے دعوت دے رہے ہو وہ اس کی مستحق نہیں کہ اس کی طرف دعوت دی جائے یا دنیا و آخرت میں اس کی پناہ لینے کی ترغیب دی جائے۔ کیونکہ وہ عاجز و ناقص ہستی ہے، جوکسی کو نفع و نقصان پہنچانے، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں۔ ﴿وَاَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور ہم کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ اور وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ ﴿وَاَنَّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ هُمۡ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ ﴾ ’’اور بے شک زیادتی کرنے والے جہنمی ہیں۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کے حضور کفر اور معاصی کے ارتکاب کی جسارت کر کے اپنے آپ پر زیادتی کی۔

[44] جب اس شخص نے ان کی خیرخواہی کی اور ان کو برے انجام سے ڈرایا اور انھوں نے اس کی اطاعت کی نہ اس کی بات مانی، تو اس نے ان سے کہا:﴿فَسَتَذۡكُرُوۡنَ۠ مَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ ﴾ ’’جو کچھ میں تمھیں کہہ رہا ہوں عنقریب تم اسے یاد کرو گے۔‘‘ یعنی تم میری اس خیرخواہی کو یاد کرو گے اور اس خیرخواہی کو قبول نہ کرنے کا انجام خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے جب تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا اور تم اللہ تعالیٰ کے بے پایاں ثواب سے محروم کر دیے جاؤ گے۔ ﴿وَاُفَوِّضُ اَمۡرِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تو اپنا معاملہ اللہ ہی کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘ یعنی میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں اور اپنے تمام امور اسی پر چھوڑتا ہوں۔ میں اپنے مصالح میں اور اس ضرر کو دور کرنے میں، جو تمھاری طرف سے یا کسی اور کی طرف سے لاحق ہو سکتا ہے، اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ﴾ ’’یقینا اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ ان کے تمام احوال کو اور جس چیز کے وہ مستحق ہیں خوب جانتا ہے۔ وہ میرے حال اور میری کمزوری کو بھی جانتا ہے۔ وہ تم سے میری حفاظت کرے گا اور تمھارے شر کے مقابلے میں میرے لیے کافی ہو گا۔ تم اس کے ارادے اور اس کی مشیت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کر سکتے۔ اگر وہ تمھیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں بھی اس کی کوئی حکمت ہو گی اور یہ بھی اس کے ارادے اور مشیت سے صادر ہو گا۔

[45، 46]﴿فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوۡا ﴾ ’’پس اللہ نے اسے ان کی تدبیروں کے شر سے محفوظ رکھ لیا۔‘‘ قوت والے اللہ نے اس توفیق یافتہ مرد مومن کو فرعون اور آل فرعون کی سازشوں سے بچا لیا جو انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کے لیے کی تھیں کیونکہ اس نے ان کے سامنے ایسے امور کا اظہار کیا تھا جو انھیں ناپسند تھے، ان کے سامنے حضرت موسیٰu کے ساتھ پوری موافقت کا اظہار کیا اور ان کے سامنے وہی دعوت پیش کی جو حضرت موسیٰu نے پیش کی تھی۔ یہ ایک ایسا معاملہ تھا جسے وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے، اس وقت طاقت اور اقتدار ان کے پاس تھا اور اس نے ان کو سخت غضب ناک کر دیا تھا، چنانچہ انھوں نے اس کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کے مکروفریب سے محفوظ رکھا، ان کی سازشیں اور منصوبے انھی پر الٹ گئے۔ ﴿وَحَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ﴾ ’’اور آل فرعون کو برے عذاب نے آگھیرا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی عذاب میں ان کے آخری شخص تک کو سمندر میں غرق کر دیا۔اور برزخ میں ﴿اَلنَّارُ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا١ۚ وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ١۫ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ ﴾ ’’وہ صبح و شام آگ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی (تو کہا جائے گا:) آل فرعون کو سخت عذاب میں داخل کر دو۔‘‘ یہ وہ سزائیں ہیں جو اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے اور اس کے احکام سے عناد رکھنے والوں کو دی جائیں گی۔

40:47–50Page 472

وَإِذۡ يَتَحَآجُّونَ فِي ٱلنَّارِ فَيَقُولُ ٱلضُّعَفَٰٓؤُاْ لِلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُوٓاْ إِنَّا كُنَّا لَكُمۡ تَبَعٗا فَهَلۡ أَنتُم مُّغۡنُونَ عَنَّا نَصِيبٗا مِّنَ ٱلنَّارِ ٤٧

And [mention] when they will argue within the Fire, and the weak will say to those who had been arrogant, "Indeed, we were [only] your followers, so will you relieve us of a share of the Fire?"

قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُوٓاْ إِنَّا كُلّٞ فِيهَآ إِنَّ ٱللَّهَ قَدۡ حَكَمَ بَيۡنَ ٱلۡعِبَادِ ٤٨

Those who had been arrogant will say, "Indeed, all [of us] are in it. Indeed, Allāh has judged between the servants."

وَقَالَ ٱلَّذِينَ فِي ٱلنَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ٱدۡعُواْ رَبَّكُمۡ يُخَفِّفۡ عَنَّا يَوۡمٗا مِّنَ ٱلۡعَذَابِ ٤٩

And those in the Fire will say to the keepers of Hell, "Supplicate your Lord to lighten for us a day from the punishment."

قَالُوٓاْ أَوَلَمۡ تَكُ تَأۡتِيكُمۡ رُسُلُكُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِۖ قَالُواْ بَلَىٰۚ قَالُواْ فَٱدۡعُواْۗ وَمَا دُعَٰٓؤُاْ ٱلۡكَٰفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَٰلٍ ٥٠

They will say, "Did there not come to you your messengers with clear proofs?" They will say, "Yes." They will reply, "Then supplicate [yourselves], but the supplication of the disbelievers is not except in error [i.e., futility]."

اور جب وہ باہم جھگڑیں گے جہنم میں، پس کہیں گے کمزور لوگ ان لوگوں سے جنھوں نے تکبر کیا تھا، بلاشبہ ہم تو تھے تمھارے تابع، کیا پس تم ہٹاؤ گے ہم سے کچھ حصہ آگ سے؟ (47) کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے تکبر کیا تھا، بے شک ہم سب ہی اس(آگ) میں ہیں، بلاشبہ اللہ نے تحقیق فیصلہ (بھی)کردیا ہے درمیان بندوں کے (48) اورکہیں گے وہ (سب)لوگ جو آگ میں ہوں گے دربانان جہنم سے، دعا کرو تم اپنے رب سے ہلکا کر دے وہ ہم سے کسی دن کچھ عذاب(49) وہ کہیں گے، کیا نہیں تھے آتے تمھارے پاس تمھارے رسول ساتھ واضح دلائل کے؟ وہ کہیں گے، کیوں نہیں، وہ کہیں گے، پس تم (خود ہی) دعا کرو اور نہیں ہو گی دعا کافروں کی مگر تباہی ہی میں (50)

[47] اللہ تبارک وتعالیٰ اہل جہنم کے جھگڑنے، ایک دوسرے پر عتاب کرنے اور جہنم کے داروغے سے مدد مانگنے اور اس کے بے فائدہ ہونے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِذۡ يَتَحَآجُّوۡنَ فِي النَّارِ ﴾’’اور جب وہ دوزخ میں باہم جھگڑیں گے۔‘‘ یعنی پیروکار یہ حجت پیش کریں گے کہ ان کے قائدین نے ان کو گمراہ کیا اور قائدین اپنے پیروکاروں سے بیزاری اور براء ت کا اظہار کریں گے۔﴿فَيَقُوۡلُ الضُّعَفٰٓؤُا ﴾ ’’پس ضعفاء کہیں گے۔‘‘ یعنی پیروکار ﴿لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا ﴾ ان قائدین سے جنھوں نے حق کے خلاف تکبر کیا اور جنھوں نے ان کو اس موقف کی طرف بلایا جو ان کے تکبر کا باعث تھا۔ ﴿اِنَّا كُنَّا لَكُمۡ تَبَعًا ﴾ ’’ہم تمھارے تابع تھے۔‘‘ تم نے ہم کو گمراہ کیا اور ہمارے سامنے شرک اور شر کو مزین کیا۔ ﴿فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّغۡنُوۡنَ عَنَّا نَصِيۡبًا مِّنَ النَّارِ ﴾ ’’تو کیا تم دوزخ کے عذاب کا کچھ حصہ ہم سے دور کرسکتے ہو۔‘‘ خواہ وہ کتنا ہی قلیل ہو۔

[48]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا ﴾ ’’بڑے آدمی کہیں گے۔‘‘ یعنی اپنی بے بسی اور سب پر حکم الٰہی کے نفاذ کا ذکر کرتے ہوئے کہیں گے۔ ﴿اِنَّا كُلٌّ فِيۡهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدۡ حَكَمَ بَيۡنَ الۡعِبَادِ ﴾ ’’ہم سب اس (دوزخ) میں ہیں، بے شک اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا۔‘‘ یعنی ہر ایک کے لیے عذاب کا ایک حصہ ہے جس میں اضافہ یا کمی نہیں ہو گی اور حکیم نے جو فیصلہ کیا ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوگا۔

[49]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ فِي النَّارِ ﴾ ’’جو لوگ آگ میں ہوں گے، کہیں گے۔‘‘ یعنی وہ تکبر کرنے والے اور کمزور لوگ جو آگ میں ڈالے گئے تھے ﴿لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادۡعُوۡا رَبَّكُمۡ يُخَفِّفۡ عَنَّا يَوۡمًا مِّنَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دوزخ کے داروغوں سے: اپنے رب سے دعا کرو کہ ایک روز تو ہم سے عذاب ہلکا کردے۔‘‘ شاید اس سے کچھ راحت حاصل ہو۔

[50]﴿قَالُوۡۤا ﴾ تو جہنم کے داروغے ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے اور ان پر واضح کرتے ہوئے کہ سفارش اور چیخ و پکار ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی، یہ کہیں گے:﴿اَوَلَمۡ تَكُ تَاۡتِيۡكُمۡ رُسُلُكُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’کیا تمھارے پاس تمھارے رسول نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے؟‘‘ ان دلائل سے تم پر حق اور صراط مستقیم واضح ہوتا اور تمھیں یہ معلوم ہوتا کہ کون سی چیز تمھیں اللہ کے قریب کرتی ہے اور کون سی چیز اللہ سے دور کرتی ہے۔ ﴿قَالُوۡا بَلٰى ﴾ ’’وہ کہیں گے، کیوں نہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے رسول دلائل و معجزات کے ساتھ ہماری طرف معبوث ہوئے اور ہم پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی مگر ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھا۔ ﴿قَالُوۡا ﴾ جہنم کے داروغے جہنمیوں سے، ان کی پکار اور سفارش سے بیزار ہو کر کہیں گے:﴿فَادۡعُوۡا ﴾ تم اللہ کو پکارو، مگر کیا یہ پکار تمھیں کوئی فائدہ دے گی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا:﴿وَمَا دُعٰٓؤُا الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾ یعنی ان کی دعا اور پکار اکارت جائے گی کیونکہ کفر تمام اعمال کو ساقط کر دیتا ہے اور دعا کی قبولیت کی راہ میں حائل ہو جاتا ہے۔

40:51–52Page 473

إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَيَوۡمَ يَقُومُ ٱلۡأَشۡهَٰدُ ٥١

Indeed, We will support Our messengers and those who believe during the life of this world and on the Day when the witnesses will stand -

يَوۡمَ لَا يَنفَعُ ٱلظَّٰلِمِينَ مَعۡذِرَتُهُمۡۖ وَلَهُمُ ٱللَّعۡنَةُ وَلَهُمۡ سُوٓءُ ٱلدَّارِ ٥٢

The Day their excuse will not benefit the wrongdoers, and they will have the curse, and they will have the worst home [i.e., Hell].

بلاشبہ ہم البتہ مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے زندگانی ٔدنیا میں اور اس دن کہ (جب) کھڑے ہوں گے گواہ (51) اس دن نہیں نفع دے گی ظالموں کو معذرت ان کی اور ان کے لیے لعنت ہو گی اور ان کے لیے برا گھر ہوگا (52)

[ً51] جب اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کے لیے دنیا، برزخ اور قیامت کے روز کے عذاب کا ذکر فرمایا اور اہل جہنم کے، جو اس کے رسولوں سے عناد رکھتے اور ان کے خلاف جنگ کرتے تھے، برے حال کا ذکر کیا، تو فرمایا:﴿اِنَّا لَنَنۡصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’ہم یقینا اپنے رسولوں کی اور ان کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم دنیا میں دلیل، برہان اور نصرت کے ذریعے سے اپنے رسولوں کی مدد کرتے ہیں۔ ﴿وَيَوۡمَ يَقُوۡمُ الۡاَشۡهَادُ﴾ ’’اور اس دن بھی (مدد کریں گے) جب گواہ کھڑے ہوں گے۔‘‘ اور آخرت میں ان کے حق میں فیصلے کے ذریعے سے ان کی مدد کریں گے، ان کے متبعین کو ثواب سے نوازیں گے اور ان لوگوں کو سخت عذاب دیں گے جنھوں نے اپنے رسولوں کے خلاف جنگ کی۔

[52]﴿يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ الظّٰلِمِيۡنَ مَعۡذِرَتُهُمۡ ﴾ ’’(جب وہ معذرت کریں گے تو) ظالموں کی معذرت اس دن انھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔‘‘ ﴿وَلَهُمُ اللَّعۡنَةُ وَلَهُمۡ سُوۡٓءُ الدَّارِ ﴾ ’’اور ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر ہے۔‘‘ یعنی بہت برا گھر جو وہاں داخل ہونے والوں کو بہت تکلیف دے گا۔

40:53–55Page 473

وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡهُدَىٰ وَأَوۡرَثۡنَا بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ ٱلۡكِتَٰبَ ٥٣

And We had certainly given Moses guidance, and We caused the Children of Israel to inherit the Scripture

هُدٗى وَذِكۡرَىٰ لِأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ ٥٤

As guidance and a reminder for those of understanding.

فَٱصۡبِرۡ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢبِكَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ بِٱلۡعَشِيِّ وَٱلۡإِبۡكَٰرِ ٥٥

So be patient, [O Muḥammad]. Indeed, the promise of Allāh is truth. And ask forgiveness for your sin1 and exalt [Allāh] with praise of your Lord in the evening and the morning.

اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کو ہدایت اوروارث کیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب کا (53) برائے ہدایت اور نصیحت ارباب عقل کے لیے (54) پس صبر کیجیے! بلاشبہ وعدہ اللہ کا سچا ہے اور معافی مانگیے اپنے گناہ کی اور پاکیزگی بیان کیجیے اپنے رب کی حمد کے ساتھ شام کو اور صبح کو (55)

[53، 54] موسیٰu اور فرعون کے مابین جو کچھ واقع ہوا نیز فرعون اور اس کے لشکروں کا جو انجام ہوا اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا، پھر وہ حکم عام بیان کیا جو اس کو اور تمام جہنمیوں کو شامل ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے موسیٰu کو ﴿الۡهُدٰؔى ﴾ ہدایت سے سرفراز فرمایا، یعنی آیات اور علم سے نوازا جن سے راہنمائی حاصل کرنے والے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ ﴿وَاَوۡرَثۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡكِتٰبَ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا‘‘ یعنی ہم نے نسل در نسل ان کو کتاب کا وارث بنایا اور اس سے مراد تورات ہے۔ یہ کتاب ہدایت پر مشتمل ہے اور ہدایت سے مراد احکام شرعیہ کا علم ہے اور اس کے اندر بھلائی کی یاد دہانی، اس کی ترغیب اور برائی سے ترہیب و تخویف ہے اور یہ چیز ہر ایک کو عطا نہیں ہوتی بلکہ یہ صرف ﴿لِاُولِي الۡاَلۡبَابِ ﴾ عقل مندوں کو نصیب ہوتی ہے۔

[55]﴿فَاصۡبِرۡ ﴾ ’’(اے رسول!) صبر کیجیے‘‘ جس طرح آپ سے پہلے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا تھا۔ ﴿اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’بے شک اللہ کا وعدہ حق ہے۔‘‘ یعنی اللہ کے وعدے میں کوئی شک وشبہ ہے نہ اس میں کسی جھوٹ کا شائبہ ہے جس کی بنا پر صبر کرنا آپ کے لیے مشکل ہو، یہ تو خالص حق اور ہدایت ہے جس کے لیے صبر کرنے والے صبر کرتے ہیں اور اہل بصیرت اس سے تمسّک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پس اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد:﴿اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ان اسباب کے زمرے میں آتا ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ امور سے رکنے پر آمادہ کرتا ہے۔ ﴿وَّاسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢۡبِكَ ﴾ ’’اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔‘‘ یعنی جو آپ کے لیے فوزوفلاح اور سعادت کے حصول سے مانع ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا جو محبوب و مرغوب کے حصول کا ذریعہ ہے اور مغفرت طلب کرنے کا حکم دیا جو مکروہ کو دور کرنے کا ذریعہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرنے کا حکم دیا۔ خاص طور پر ﴿بِالۡعَشِيِّ وَالۡاِبۡكَارِ ﴾ ’’صبح و شام کو‘‘ جو بہترین اوقات ہیں اور یہی اوقات واجب اور مستحب اذکارو وظائف کے اوقات ہیں کیونکہ ان اوقات میں تمام امور کی تعمیل میں مدد ملتی ہے۔

40:56Page 473

إِنَّ ٱلَّذِينَ يُجَٰدِلُونَ فِيٓ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ بِغَيۡرِ سُلۡطَٰنٍ أَتَىٰهُمۡ إِن فِي صُدُورِهِمۡ إِلَّا كِبۡرٞ مَّا هُم بِبَٰلِغِيهِۚ فَٱسۡتَعِذۡ بِٱللَّهِۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ ٥٦

Indeed, those who dispute concerning the signs of Allāh without [any] evidence having come to them - there is not within their breasts except pride, [the extent of] which they cannot reach. So seek refuge in Allāh. Indeed, it is He who is the Hearing, the Seeing.

بلاشبہ وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں میں بغیر کسی دلیل کے جو آئی ہو ان کے پاس، نہیں ہے ان کے سینوں میں مگر بڑائی (کا خبط) نہیں ہیں وہ پہنچنے والے اس تک، پس پناہ مانگیے اللہ سے، بلاشبہ وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے (56)

[56] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو باطل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی آیات کا ابطال کرنے کے لیے کسی دلیل اور حجت کے بغیر جھگڑتے ہیں، ان کا یہ جدال، حق اور اس کے لانے والے کے بارے میں، ان کے سینوں میں موجود تکبر کی وجہ سے صادر ہوتا ہے۔ وہ اپنے باطل نظریات کے ذریعے سے حق پر غالب آنا چاہتے ہیں اور یہی ان کا مقصد اور یہی ان کی مراد ہےمگر ان کایہ مقصد کبھی حاصل نہ ہو گا اور ان کی یہ مراد کبھی پوری نہ ہو گی۔ یہ صریح نص اور واضح بشارت ہے کہ جو کوئی حق کے خلاف بحث و جدال کرتا ہے وہ مغلوب ہوتا ہے اور جو حق کے خلاف تکبر کا رویہ رکھتا ہے وہ نہایت ذلیل وخوار ہوتا ہے۔ ﴿فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’ لہٰذا آپ (ان کی شرارتوں سے) اللہ کی پناہ مانگیے‘‘ یعنی اللہ کی پناہ طلب کریں۔ یہاں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ آپ کس چیز سے پناہ طلب کریں؟ درحقیقت اس سے عموم مراد ہے، یعنی کبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں جو حق کے مقابلے میں تکبر کا موجب ہے۔ شیاطین جن و انس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں اور ہر قسم کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کریں۔ ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ وہ تمام آوازوں کو ان کے اختلاف کے باوجود سنتا ہے ﴿الۡبَصِيۡرُ﴾ تمام مرئیات، خواہ وہ کسی بھی زمان و مکان میں ہوں، اس کی نظر میں ہیں۔

40:57–59Page 473

لَخَلۡقُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ أَكۡبَرُ مِنۡ خَلۡقِ ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٥٧

The creation of the heavens and earth is greater than the creation of mankind, but most of the people do not know.

وَمَا يَسۡتَوِي ٱلۡأَعۡمَىٰ وَٱلۡبَصِيرُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَلَا ٱلۡمُسِيٓءُۚ قَلِيلٗا مَّا تَتَذَكَّرُونَ ٥٨

And not equal are the blind and the seeing, nor are those who believe and do righteous deeds and the evildoer. Little do you remember.

إِنَّ ٱلسَّاعَةَ لَأٓتِيَةٞ لَّا رَيۡبَ فِيهَا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يُؤۡمِنُونَ ٥٩

Indeed, the Hour is coming - no doubt about it - but most of the people do not believe.

البتہ پیدائش آسمانوں اور زمین کی زیادہ بڑی (بات) ہے لوگوں کی پیدائش سے ، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (57) اور نہیں برابر ہوتاہے اندھا اوردیکھنے والا اور وہ لوگ جوایمان لائے اورعمل کیے انھوں نے نیک اور نہ برائی کرنے والا، بہت تھوڑی ہی تم نصیحت پکڑتے ہو (58) بلاشبہ قیامت البتہ آنے والی ہے، نہیں ہے کوئی شک اس میں، لیکن اکثر لوگ نہیں ایمان لاتے (59)

[57] اللہ تبارک و تعالیٰ ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو عقلا ثابت ہے۔ آسمانوں اور زمین کی تخلیق، ان کی عظمت و وسعت کے ساتھ، انسانوں کی تخلیق سے زیادہ بڑا کرشمہ ہے۔ کیونکہ انسان آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی نسبت سے بہت معمولی ہے۔ پس وہ ہستی جس نے اتنے بڑے بڑے اجرام فلکی کو نہایت مہارت سے تخلیق کیا ہے اس کا لوگوں کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا، زیادہ اولیٰ ہے۔ یہ عقل مند کے لیے حیات بعدالموت پر قطعی اور عقلی دلیل ہے، جو حیات بعدالموت کے بارے میں کسی شک و شبہ کو قبول نہیں کرتی، جس کے وقوع کی انبیاء و مرسلین نے خبر دی ہے، مگر ہر شخص اس میں غوروفکر نہیں کر سکتا۔ بنابریں فرمایا:﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے وہ اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں نہ اس کی پروا کرتے ہیں۔

[58]﴿وَمَا يَسۡتَوِي الۡاَعۡمٰى وَالۡبَصِيۡرُ١ۙ۬ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَلَا الۡمُسِيۡٓءُ ﴾ ’’اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہوسکتا اور (اسی طرح) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کیے ،وہ اور بدکار برابر نہیں ہوسکتے۔‘‘ یعنی جس طرح بینا اور نابینا برابر نہیں ہو سکتے اسی طرح اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے نیک لوگ اور وہ لوگ برابر نہیں ہو سکتے جو تکبر سے اپنے رب کی عبادت نہیں کرتے، اس کی نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس کی ناراضی کے موجب کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے ہیں۔ ﴿قَلِيۡلًا مَّا تَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’تم کم ہی نصیحت پکڑتے ہو‘‘ ورنہ اگر تم معاملات کے مراتب، خیروشر کے مقامات اور نیکوکاروں اور فاسقوں کے مابین فرق سے نصیحت پکڑتے اور تم اس کا عزم و ارادہ کرتے تو تم ضرر رساں پر نفع رساں کو، گمراہی پر ہدایت کو اور فانی دنیا پر ہمیشہ رہنے والی سعادت کو ترجیح دیتے۔

[59]﴿اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ لَّا رَيۡبَ فِيۡهَا ﴾ ’’بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔‘‘ اس کے بارے میں انبیاء و مرسلین خبر دے چکے اور وہ سب سے زیادہ سچے لوگ ہیں اور اس کے بارے میں تمام کتب الٰہیہ نے بھی خبر دی ہے جن کی دی ہوئی تمام خبریں صدق کے بلند ترین درجے کی حامل ہیں، جن کی شہادت، شواہد مرئیہ اور آیات افقیہ دیتے ہیں۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ ان مذکورہ بالا امور کے بارے میں جو کامل تصدیق اور اطاعت کے موجب ہیں، اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

40:60Page 474

وَقَالَ رَبُّكُمُ ٱدۡعُونِيٓ أَسۡتَجِبۡ لَكُمۡۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِي سَيَدۡخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ ٦٠

And your Lord says, "Call upon Me; I will respond to you." Indeed, those who disdain My worship will enter Hell [rendered] contemptible.

اورکہا تمھارے رب نے، پکارو تم مجھے میں قبول کروں گا تمھاری پکار، بلاشبہ وہ لوگ جو تکبر کرتے ہیں میری عبادت سے، عنقریب وہ داخل ہوں گے جہنم میں ذلیل ہو کر (60)

[60] یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور اس کی عظیم نعمت ہے کہ اس نے انھیں اس چیز کی طرف دعوت دی جس میں ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس سے دعا کریں... یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ… اور ان سے وعدہ فرمایا کہ وہ ان کی دعا قبول فرمائے گا اور ان متکبرین کو وعید سنائی ہے جو تکبر کی بنا پر اس کی عبادت سے منہ موڑتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ عَنۡ عِبَادَتِيۡ سَيَدۡخُلُوۡنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيۡنَ ﴾ ’’جو لوگ میری عبادت (دعا) سے تکبر کرتے ہیں وہ جہنم میں ذلیل ہوکر داخل ہوں گے۔‘‘ یعنی ان کے تکبر کی پاداش میں، ان کے لیے عذاب اور رسوائی کو اکٹھا کر دیا جائے گا۔

ان آیات کریمہ میں غوروفکر کیجیے، جو اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اس کے لامحدود فضل و کرم، اس کے لیے وجوب شکر، اس کی قدت کاملہ، اس کی عظیم طاقت، اس کے وسیع اقتدار، تمام اشیاء کو اس کے تخلیق کرنے، اس کی حیات کاملہ اور اس کے تمام صفات کاملہ اور افعال حسنہ سے موصوف ہونے کی بنا پر ہر قسم کی حمدوثنا سے متصف ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ آیات کریمہ اس کی کامل ربوبیت اور اس ربوبیت میں اس کے متفرد ہونے پر دلالت کرتی ہیں نیز اس عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام تدابیر، ماضی، حال اور مستقبل کے اوقات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی ہستی کو کوئی قدرت و اختیار نہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود حقیقی ہے اس کے سوا جس طرح کوئی ہستی ربوبیت کی مستحق نہیں اسی طرح عبودیت کی مستحق نہیں۔ یہ حقیقت اس امر کی موجب ہے کہ دل اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کے خوف اور اس پر امید سے لبریز ہوں۔ یہ دو امور ہیں جن کی خاطر اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات کو تخلیق فرمایا… اور وہ ہیں معرفت الٰہی اور عبادت الٰہی… یہی دو امور ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقصد مقرر فرمایا ہے۔ یہی دو امور ہر قسم کی بھلائی، خیروفلاح، دینی اور دنیاوی سعادت کی منزل تک پہنچاتے ہیں، یہی دو امور اللہ کریم کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے بہترین عطیہ ہیں اور یہی دو امور علی الاطلاق لذید ترین چیزیں ہیں۔ اگر بندہ ان دو چیزوں سے محروم ہو جائے تو وہ ہر خیر سے محروم ہو کر ہر شر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے دلوں کو اپنی معرفت و محبت سے لبریز کر دے، ہماری باطنی اور ظاہری تمام حرکات صرف اس کی رضا کے لیے اور صرف اسی کے حکم کے تابع ہوں، کوئی سوال اس کے لیے پورا کرنا مشکل ہے نہ اس کی کوئی عطا اسے لاچار کر سکتی ہے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском