As-Sa'diFussilat · 41:19–35

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Fussilat 41:19–35

41:19–24Page 478

وَيَوۡمَ يُحۡشَرُ أَعۡدَآءُ ٱللَّهِ إِلَى ٱلنَّارِ فَهُمۡ يُوزَعُونَ ١٩

And [mention, O Muḥammad], the Day when the enemies of Allāh will be gathered to the Fire while they are [driven], assembled in rows,

حَتَّىٰٓ إِذَا مَا جَآءُوهَا شَهِدَ عَلَيۡهِمۡ سَمۡعُهُمۡ وَأَبۡصَٰرُهُمۡ وَجُلُودُهُم بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٢٠

Until, when they reach it, their hearing and their eyes and their skins will testify against them of what they used to do.

وَقَالُواْ لِجُلُودِهِمۡ لِمَ شَهِدتُّمۡ عَلَيۡنَاۖ قَالُوٓاْ أَنطَقَنَا ٱللَّهُ ٱلَّذِيٓ أَنطَقَ كُلَّ شَيۡءٖۚ وَهُوَ خَلَقَكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةٖ وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ ٢١

And they will say to their skins, "Why have you testified against us?" They will say, "We were made to speak by Allāh, who has made everything speak; and He created you the first time, and to Him you are returned.

وَمَا كُنتُمۡ تَسۡتَتِرُونَ أَن يَشۡهَدَ عَلَيۡكُمۡ سَمۡعُكُمۡ وَلَآ أَبۡصَٰرُكُمۡ وَلَا جُلُودُكُمۡ وَلَٰكِن ظَنَنتُمۡ أَنَّ ٱللَّهَ لَا يَعۡلَمُ كَثِيرٗا مِّمَّا تَعۡمَلُونَ ٢٢

And you were not covering [i.e., protecting] yourselves,1 lest your hearing testify against you or your sight or your skins, but you assumed that Allāh does not know much of what you do.

وَذَٰلِكُمۡ ظَنُّكُمُ ٱلَّذِي ظَنَنتُم بِرَبِّكُمۡ أَرۡدَىٰكُمۡ فَأَصۡبَحۡتُم مِّنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٢٣

And that was your assumption which you assumed about your Lord. It has brought you to ruin, and you have become among the losers."

فَإِن يَصۡبِرُواْ فَٱلنَّارُ مَثۡوٗى لَّهُمۡۖ وَإِن يَسۡتَعۡتِبُواْ فَمَا هُم مِّنَ ٱلۡمُعۡتَبِينَ ٢٤

So [even] if they are patient, the Fire is a residence for them; and if they ask to appease [Allāh], they will not be of those who are allowed to appease.

اور جس دن (ہانک ہانک کر) جمع کیا جائے گا اللہ کے دشمنوں کو آگ کی طرف، پس وہ رو کے جائیں گے(19) یہاں تک کہ جب وہ آجائیں گے اس کےپاس تو گواہی دیں گے ان کے خلاف ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی جلدیں ، ساتھ ان (عملوں) کے جو تھے وہ کرتے (20) اور وہ کہیں گے اپنی جلدوں سے کیوں گواہی دی تم نے ہمارے خلاف؟ تو وہ کہیں گی بلوایا ہمیں اللہ نے جس نے بلوایا ہر چیز کو اور اسی نے پیدا کیا تمھیں پہلی مرتبہ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (21) اور نہیں تھے تم پردہ کرتے اس(خوف) سے کہ گواہی دیں گے تمھارے خلاف تمھارے کان اور نہ تمھاری آنکھیں اور نہ تمھاری جلدیں اورلیکن گمان کیا تم نے کہ بلاشبہ اللہ نہیں جانتا بہت سے ان عملوں کو جو تم کرتے (تھے)(22) اور یہ تمھارا گمان وہ جو گمان کیا تم نے اپنے رب کے بارے میں، اسی نے ہلاک کیا تم کو، پس ہو گئے تم خسارہ پانے والوں میں سے (23) پس اگر وہ صبر کریں تو بھی آگ ہی ٹھکانا ہے ان کے لیے ، اور اگر وہ معافی طلب کریں گے تو نہیں ہوں گے وہ معاف کیے گئے لوگوں میں سے (24)

[19] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دشمنوں کے بارے میں خبر دیتا ہے جنھوں نے اس کے ساتھ اور اس کی آیات کے ساتھ کفر کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب اور ان کے خلاف جنگ کی، کہ قیامت کے روز ان کا کتنا برا حال ہو گا، جب ان کو اکٹھا کیا جائے گا۔ ﴿اِلَى النَّارِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ ﴾ ’’آگ کی طرف، پس وہ روکے جائیں گے۔‘‘ ان کے پہلے شخص کو آخری شخص کے آنے تک روکے رکھا جائے گا اور آخری شخص پہلے شخص کی پیروی کرے گا، پھر نہایت سختی کے ساتھ جہنم کی طرف ہانکا جائے گا وہ جہنم سے بچ نہیں سکیں گے وہ اپنی مددخود کر سکیں گے نہ ان کی مدد کی جا سکے گی۔

[20]﴿حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوۡهَا ﴾ یعنی جب وہ سب جہنم میں وارد ہوں گے اور اپنی بداعمالیوں کا انکار کرنے کا ارادہ کریں گے۔ ﴿شَهِدَ عَلَيۡهِمۡ سَمۡعُهُمۡ وَاَبۡصَارُهُمۡ وَجُلُوۡدُهُمۡ ﴾ ’’تو ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان کے خلاف شہادت دیں گے۔‘‘ یہ خصوص کے بعد عموم ہے۔ ﴿بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’ان اعمال کی جو وہ کرتے رہے۔‘‘ یعنی ان کا ہر ہر عضو ان کے خلاف گواہی دے گا۔ ان کا ہر ہر عضو یہ کہے گا ’’میں نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیا تھا۔‘‘ پھر ان تین اعضاء کا خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ اکثر گناہوں کا ارتکاب یہی تین اعضاء کرتے ہیں، یا انھی کے سبب سے اکثر گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے۔

[21] جب یہ اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے تو یہ ان اعضاء پر سخت ناراض ہوں گے ﴿وَقَالُوۡا لِجُلُوۡدِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے:‘‘ یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ ہر عضو کی طرف سے گواہی واقع ہو گی جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں۔ ﴿لِمَ شَهِدۡتُّمۡ عَلَيۡنَا ﴾ ’’تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟‘‘ حالانکہ ہم تمھارا دفاع کیا کرتے تھے ﴿قَالُوۡۤا اَنۡطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيۡۤ اَنۡطَقَ كُلَّ شَيۡءٍ ﴾ ’’تووہ جواب دیں گے کہ ہمیں اس اللہ نے قوتِ گویائی بخشی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے۔‘‘ لہٰذا گواہی دینے سے انکار کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں، اس کی مشیت کے سامنے کسی چیز کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ ﴿وَّهُوَ خَلَقَكُمۡ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾ ’’اور اس نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا‘‘ جس طرح اس نے تمھاری ذوات و اجسام کو تخلیق فرمایا اسی طرح تمھاری صفات کو بھی تخلیق فرمایا اور گویائی بھی انھی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ ﴿وَّاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم (آخرت میں) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے‘‘ پھر وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد تخلیق اول کے ذریعے سے مرنے کے بعد زندہ کیے جانے پر استدلال ہو۔ جیسا کہ قرآن کریم کا طریقہ ہے۔

[22]﴿وَمَا كُنۡتُمۡ تَسۡتَتِرُوۡنَ اَنۡ يَّشۡهَدَ عَلَيۡكُمۡ سَمۡعُكُمۡ وَلَاۤ اَبۡصَارُؔكُمۡ وَلَا جُلُوۡدُكُمۡ ﴾ ’’اور (گناہ کرتے وقت) تم اس بات کے خوف سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمھارے کان اور تمھاری آنکھیں اور تمھارے چمڑے تمھارے خلاف شہادت دیں گے۔‘‘ یعنی تم اپنے اعضاء کی گواہی سے اپنے آپ کو چھپا سکتے ہو نہ اس سے بچ سکتے ہو۔ ﴿وَلٰكِنۡ ظَنَنۡتُمۡ ﴾ ’’لیکن تم یہ سمجھتے رہے‘‘ گناہوں کا ارتکاب کر کے ﴿اَنَّ اللّٰهَ لَا يَعۡلَمُ كَثِيۡرًا مِّؔمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ کو تمھارے بہت سے عملوں کی خبر ہی نہیں۔‘‘ اسی لیے تم سے یہ گناہ صادر ہوئے۔

[23] ان کا یہ گمان ان کی ہلاکت اور بدبختی کا سبب بنا۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَذٰلِكُمۡ ظَنُّكُمُ الَّذِيۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّكُمۡ ﴾ ’’تمھارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے متعلق کر رکھا تھا‘‘ یعنی تم نے اپنے رب کے بارے میں برا گمان کیا جو اس کے جلال کے لائق نہ تھا۔ ﴿اَرۡدٰىكُمۡ ﴾ ’’وہی تمھیں لے ڈوبا۔‘‘ یعنی اس نے تمھیں ہلاک کر دیا۔ ﴿فَاَصۡبَحۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِيۡنَ ﴾ ’’ لہٰذا تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے۔‘‘ تم نے اپنے اعمال کے سبب سے، جن کا موجب اپنے رب کے بارے میں تمھارا براگمان تھا، اپنے آپ کو، اپنے گھر والوں اور اپنے دین کو خسارے میں ڈالا۔ بنابریں تم عذاب اور بدبختی کے مستحق ٹھہرے اور تمھارے لیے عذاب جہنم میں دائمی خلود واجب ہوا، یہ عذاب ایک گھڑی کے لیے بھی تم سے علیحدہ نہ ہو گا۔

[24]﴿فَاِنۡ يَّصۡبِرُوۡا فَالنَّارُ مَثۡوًى لَّهُمۡ ﴾ ’’اب اگر یہ صبر کریں (یا نہ کریں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔‘‘ اس پر کسی بھی حالت میں صبر نہیں ہوگا۔ اگر کسی حال میں صبر کا امکان فرض کر لیا جائے تاہم آگ کے سامنے صبر کرنا ممکن نہیں اور اس آگ پر صبر کرنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے جس کی حرارت بے انتہا شدید ہے، اس کی حرارت دنیا کی آگ کی حرارت سے ستر گنا زیادہ ہے، اس کا پانی شدید گرم ہو گا، اس کی پیپ بے انتہا بدبودار ہو گی، جہنم کے ٹھنڈے طبقے کی ٹھنڈک کئی گنا زیادہ ہو گی، اس کی زنجیریں، طوق اور گرز بہت بڑے ہوں گے۔ اس کے داروغے نہایت درشت مزاج ہوں گے اور ان کے دلوں سے ہر قسم کا رحم نکل چکا ہو گا اور آخری چیز یہ کہ جبار کی سخت ناراضی ہو گی ، چنانچہ جب وہ اسے مدد کے لیے پکاریں گے تو وہ فرمائے گا:﴿اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ ﴾(المؤمنون: 23؍108)’’دفع ہو جاؤ ، اسی میں پڑے رہو اور میرے ساتھ کلام نہ کرو۔‘‘﴿وَاِنۡ يَّسۡتَعۡتِبُوۡا۠﴾ ’’اگر وہ توبہ کرنا چاہیں‘‘ یعنی اگر وہ عتاب الٰہی کا ازالہ چاہتے ہوئے درخواست کریں گے کہ انھیں دنیا میں دوبارہ بھیجا جائے تاکہ وہ نئے سرے سے عمل کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو دور کر سکیں۔ ﴿فَمَا هُمۡ مِّنَ الۡمُعۡتَبِيۡنَ ﴾ ’’تو ان کی توبہ قبول نہ کی جائے گی۔‘‘ کیونکہ اس کا وقت گزر چکا تھا، اس گزرے ہوئے عرصے کے دوران ان کو غوروفکر کا موقع دیا گیا اور ان کے پاس برے انجام سے خبردار کرنے والے بھی آئے۔ ان کی حجت منقطع ہو گئی، نیز ان کی عتاب دور کرنے کی التجا بھی محض جھوٹ ہے۔ ﴿وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍28) ’’اگر ان کو لوٹا بھی دیا گیا تو یہ دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو روکا گیا اور بے شک یہ جھوٹے ہیں۔‘‘

41:25Page 479

۞ وَقَيَّضۡنَا لَهُمۡ قُرَنَآءَ فَزَيَّنُواْ لَهُم مَّا بَيۡنَ أَيۡدِيهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ وَحَقَّ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقَوۡلُ فِيٓ أُمَمٖ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهِم مِّنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِۖ إِنَّهُمۡ كَانُواْ خَٰسِرِينَ ٢٥

And We appointed for them companions1 who made attractive to them what was before them and what was behind them [of sin], and the word [i.e., decree] has come into effect upon them among nations which had passed on before them of jinn and men. Indeed, they [all] were losers.

اور مقرر کر دیے ہم نے ان کے لیے کچھ ہم نشین، پس اچھے کر دکھائے انھوں نے ان کے لیے و ہ جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور ثابت ہو گئی ان پر بات ساتھ ان امتوں کے جو گزر چکیں ان سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے، بلاشبہ تھے وہ خسارہ پانے والوں میں سے (25)

[25] یعنی ہم نے حق کا انکار کرنے والے ان ظالموں کے لیے ﴿قُرَنَآءَ ﴾ ’’ہم نشین‘‘ شیاطین کو ساتھی مقرر کر دیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَمۡ تَرَ اَنَّـاۤ اَرۡسَلۡنَا الشَّيٰطِيۡنَ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ تَؤُزُّهُمۡ اَزًّا﴾(مریم: 19؍83) ’’کیا آپ دیکھتے نہیں ہم کفار کی طرف شیاطین کو بھیجتے ہیں جو انھیں برائی پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ انھیں گناہ کا ارتکاب کرنے کے لیے بے قرار رکھتے ہیں اور ان کو بہکاتے رہتے ہیں۔اس کا سبب یہ ہے کہ ان شیاطین نے مزین کردیا۔﴿ لَهُمۡ مَّا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ ﴾ ’’ان کے لیے جو ان کے آگے تھا اور جو ان کے پیچھے تھا۔‘‘ پس ان شیاطین نے دنیا اور اس کی خوبصورتی کو ان کی آنکھوں کے سامنے مزین کر دیا اور انھیں اس کی لذات و شہوات محرمہ کے حوالے کر دیا، یہاں تک کہ وہ فتنے میں مبتلا ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا اقدام کیا اور جیسے چاہا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے خلاف جنگ کی راہ چل نکلے اور انھوں نے آخرت کو ان سے دور کر دیا اور اس کی یاد کو فراموش کرا دیا۔ بسااوقات آخرت کے وقوع کے بارے میں ان کے دلوں میں شبہات پیدا کیے جس سے ان کے دلوں سے آخرت کا خوف چلا گیا اور وہ ان کو لے کر کفر، بدعات اور معاصی کی راہوں پر گامزن ہو گئے۔اللہ تعالیٰ کا ان مکذبینِ حق پر شیاطین کو مسلط کرنا، ان کی اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کی آیات سے روگردانی اور ان کے انکار حق کے سبب سے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَمَنۡ يَّعۡشُ عَنۡ ذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ نُقَيِّضۡ لَهٗ شَيۡطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيۡنٌ۰۰۳۶ وَاِنَّهُمۡ لَيَصُدُّوۡنَهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ وَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ ﴾(الزخرف: 43؍36۔37)’’جو شخص رحمان کے ذکر سے غفلت برتتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں جو اس کا ساتھی ہوتا ہے، یہ شیاطین انھیں راہ راست پر چلنے سے روک دیتے ہیں اور یہ اپنی جگہ یہی سمجھتے ہیں کہ راہ راست پر چل رہے ہیں۔‘‘﴿وَحَقَّ عَلَيۡهِمُ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور ان پر حکم الٰہی ثابت ہوگیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا قول ان پر واجب ہو گیا اور اس کی قضاوقدر کا فیصلہ، عذاب کے ساتھ ان پر نازل ہو گیا۔ ﴿فِيۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ١ۚ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا خٰسِرِيۡنَ ﴾ ’’جنوں اور انسانوں کی جماعتوں میں جو ان سے پہلے گزر چکیں (جن پر بھی اللہ کا وعدہ پورا ہوا) کہ بے شک یہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔‘‘ جو اپنے دین اور آخرت کے بارے میں گھاٹے میں پڑ گئے اور جو شخص گھاٹے میں پڑ جائے تو اسے ذلت ، اور عذاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

41:26–29Page 479

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَا تَسۡمَعُواْ لِهَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ وَٱلۡغَوۡاْ فِيهِ لَعَلَّكُمۡ تَغۡلِبُونَ ٢٦

And those who disbelieve say, "Do not listen to this Qur’ān and speak noisily1 during [the recitation of] it that perhaps you will overcome."

فَلَنُذِيقَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ عَذَابٗا شَدِيدٗا وَلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ أَسۡوَأَ ٱلَّذِي كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٢٧

But We will surely cause those who disbelieve to taste a severe punishment, and We will surely recompense them for the worst of what they had been doing.

ذَٰلِكَ جَزَآءُ أَعۡدَآءِ ٱللَّهِ ٱلنَّارُۖ لَهُمۡ فِيهَا دَارُ ٱلۡخُلۡدِ جَزَآءَۢ بِمَا كَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يَجۡحَدُونَ ٢٨

That is the recompense of the enemies of Allāh - the Fire. For them therein is the home of eternity as recompense for what they, of Our verses, were rejecting.

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ رَبَّنَآ أَرِنَا ٱلَّذَيۡنِ أَضَلَّانَا مِنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ نَجۡعَلۡهُمَا تَحۡتَ أَقۡدَامِنَا لِيَكُونَا مِنَ ٱلۡأَسۡفَلِينَ ٢٩

And those who disbelieved will [then] say, "Our Lord, show us those who misled us of the jinn and men [so] we may put them under our feet1 that they will be among the lowest."

اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، نہ سنو تم اس قرآن کو اور غل مچاؤ اس (کے پڑھنے کے وقت) میں تاکہ تم غالب آ جاؤ (26) پس البتہ ہم ضرور چکھائیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا عذاب سخت اور البتہ ہم ضرور بدلہ دیں گے ان کو برے عملوں کا جو تھےوہ کرتے(27) یہ بدلہ ہے اللہ کے دشمنوں کا آگ، ان کے لیے اس میں گھر ہے ہمیشہ کا، بدلہ اس کا جو تھے وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے(28) اور کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اے ہمارے رب! دکھا ہم کو وہ دونوں (فریق) جنھوں نے گمراہ کیا تھا ہم کو جنوں اور انسانوں میں سے، کر دیں ہم انھیں نیچے اپنے قدموں کے تاکہ ہوں وہ سب سے نچلے لوگوں میں سے(29)

[26] اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن کے بارے میں کفار کی روگردانی اور اس روگردانی کے ضمن میں ان کی ایک دوسرے کو وصیت سے آگاہ فرماتا ہے: ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِهٰؔذَا الۡقُرۡاٰنِ ﴾ ’’اور کافر (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں اس قرآن کو نہ سنو‘‘ یعنی اس قرآن کو سننے سے گریز کرو، اس کی طرف کوئی التفات کرو نہ اس کے لانے والے کی بات کی طرف کوئی توجہ دو۔ اگر تمھیں اس کے سننے کا کبھی اتفاق ہو یا اس کے احکام سننے کی دعوت دی جائے تو اس کی مخالفت کرو۔ ﴿وَالۡغَوۡا فِيۡهِ ﴾ ’’(جب پڑھا جائے تو)خوب شور مچاؤ‘‘ یعنی ایسی باتیں کرو جن کا کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ الٹا نقصان ہو۔ جہاں تک تمھارے بس میں ہو کسی کو اپنے ساتھ، قرآن کی بات کرنے اور اس کے الفاظ یا اس کے معانی کی تلاوت کی اجازت نہ دو۔ اس قرآن مجید سے اعراض کے بارے میں یہ ان کی زبانِ حال اور زبانِ مقال ہے۔﴿لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تم‘‘ اگر تم نے یہ سب کچھ کیا ﴿تَغۡلِبُوۡنَ ﴾ ’’تم غالب رہو۔‘‘ یہ دشمنوں کی طرف سے گواہی ہے اور واضح ترین حق وہ ہوتا ہے جس کی گواہی خود دشمن دیں۔ کیونکہ انھوں نے اس شخص پر جو حق لے کر آیا، اپنے غلبے کا حکم صرف اعراض اور روگردانی کے حال میں ایک دوسرے کو روگردانی کی وصیت کی صورت میں لگایا۔ ان کے کلام کا مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ اس کی تلاوت میں خلل نہ ڈالیں اور اسے غور سے سنیں تو وہ کبھی غالب نہیں آسکتے کیونکہ حق ہمیشہ غالب رہتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہو سکتا۔ اس حقیقت کو اصحاب حق اور اعدائے حق سب جانتے ہیں۔

[27] چونکہ یہ سب کچھ ان کے ظلم اور عناد کے باعث تھا، اس لیے ان کی ہدایت کی توقع باقی نہیں رہی اب ان کے لیے عذاب اور سزا باقی رہ گئی تھی۔ بنابریں فرمایا:﴿فَلَنُذِيۡقَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَذَابًا شَدِيۡدًا١ۙ وَّلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’پس ہم بھی کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور ان کے برے عملوں کی، جو وہ کرتے تھے، سزا دیں گے۔‘‘ اس سے مراد کفر اور معاصی ہے اور یہ ان کے بدترین اعمال ہیں۔ یہ عذاب کی سزا ان کے شرک کی جزا ہے۔ ﴿وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18/49) ’’اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘

[28]﴿ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعۡدَآءِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے دشمنوں کی یہی سزا ہے‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ کی اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے ساتھ جنگ کی۔ ان کی جزا ان کے کفر، تکذیب، مجادلہ اور جنگ کے سبب سے ﴿النَّارُ١ۚ لَهُمۡ فِيۡهَا دَارُ الۡخُلۡدِ ﴾ ’’جہنم کی آگ (ہے) جس میں ان کا ہمیشگی کا گھر ہے۔‘‘ یعنی وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے گھڑی بھر کے لیے ان سے عذاب دور نہیں ہو گا اور نہ ان کی مدد ہی کی جائے گی۔ ﴿جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ اس بات کی سزا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔‘‘ کیونکہ یہ نہایت واضح آیات اور قطعی دلائل ہیں جو یقین کا فائدہ دیتے ہیں، لہٰذا ان کا انکار کرنا سب سے بڑا عناد اور سب سے بڑا ظلم ہے۔

[29]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور کافروں نے کہا‘‘ اس سے مراد متبعین ہیں اور اس کی دلیل بعد میں آنے والا کلام ہے یعنی یہ کفار ان لوگوں پر سخت غصے کی وجہ سے یہ بات کہیں گے جنھوں نے ان کو گمراہ کیا ﴿رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَيۡنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے وہ لوگ دکھلادے جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی جن و انس کی دونوں اصناف، جنھوں نے گمراہی اور عذاب کی طرف ہمیں دعوت دی اور اس راہ میں ہماری قیادت کی، وہ ہمیں دکھا۔ ﴿نَجۡعَلۡهُمَا تَحۡتَ اَقۡدَامِنَا لِيَكُوۡنَا مِنَ الۡاَسۡفَلِيۡنَ ﴾ ’’ہم انھیں اپنے پاؤ ں تلے روند ڈالیں، تاکہ وہ سب سے زیادہ ذلیل و خوار لوگوں میں شمار ہوں۔‘‘ انھوں نے ہمیں گمراہ کیا، ہمیں فتنے میں مبتلا کیا اور ہمیں جہنم میں ڈالنے کا سبب بنے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جہنمی ایک دوسرے کے خلاف سخت بغض رکھیں گے اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔

41:30–32Page 480

إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُواْ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسۡتَقَٰمُواْ تَتَنَزَّلُ عَلَيۡهِمُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ أَلَّا تَخَافُواْ وَلَا تَحۡزَنُواْ وَأَبۡشِرُواْ بِٱلۡجَنَّةِ ٱلَّتِي كُنتُمۡ تُوعَدُونَ ٣٠

Indeed, those who have said, "Our Lord is Allāh" and then remained on a right course - the angels will descend upon them, [saying], "Do not fear and do not grieve but receive good tidings of Paradise, which you were promised.

نَحۡنُ أَوۡلِيَآؤُكُمۡ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِۖ وَلَكُمۡ فِيهَا مَا تَشۡتَهِيٓ أَنفُسُكُمۡ وَلَكُمۡ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ ٣١

We [angels] were your allies in worldly life and [are so] in the Hereafter. And you will have therein whatever your souls desire, and you will have therein whatever you request [or wish]

نُزُلٗا مِّنۡ غَفُورٖ رَّحِيمٖ ٣٢

As accommodation from a [Lord who is] Forgiving and Merciful."

بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کہا، ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر جم گئے، اترتے ہیں ان پر فرشتے(یہ کہتے ہوئے)کہ نہ خوف کرو تم اور نہ غم کھاؤ اورخوش ہو جاؤ تم ساتھ جنت کے، وہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (30) ہم دوست ہیں تمھارے زندگانی ٔدنیا میں اور آخرت میں بھی اور تمھارے لیے ہے اس میں جو چاہیں گے تمھارے جی اور تمھارے لیے ہے اس میں جو تم مانگو گے (31) بطور مہمانی کے بڑے بخشنے والے نہایت مہربان کی طرف سے (32)

[30] اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کا ذکر فرماتا ہے اور اس ضمن میں اہل ایمان میں نشاط پیدا کرتا اور انھیں ان کی اقتدا کرنے کی ترغیب دیتا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا ﴾ ’’بے شک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے ، پھر وہ اس پر ڈٹ گئے‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اعتراف کر کے اس کا اعلان کیا، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر راضی ہوئے، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا ، پھر علم و عمل کے اعتبار سے راہ راست پر استقامت کے ساتھ گامزن ہوئے۔ ان کے لیے دنیا و آخرت میں خوشخبری ہے۔ ﴿تَتَنَزَّلُ عَلَيۡهِمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ ’’ان پر (نہایت عزت و اکرام والے) فرشتے نازل ہوتے ہیں‘‘ یعنی ان کا نزول بتکرار ہوتا ہے۔ وہ ان کے پاس حاضر ہو کر خوشخبری دیتے ہیں: ﴿اَلَّا تَخَافُوۡا ﴾ ’’نہ ڈرو‘‘ یعنی اس معاملے پر خوف نہ کھاؤ جو مستقبل میں تمھیں پیش آنے والا ہے۔ ﴿وَ لَا تَحۡزَنُوۡا ﴾ ’’اور نہ غمگین رہو‘‘ یعنی جو کچھ گزر چکا ہے اس پر غم نہ کھاؤ ۔ گویا ماضی اور مستقبل میں ان سے کسی بھی ناگوار امر کی نفی کر دی گئی ہے۔ ﴿وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّةِ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’اور تمھیں اس جنت کی بشارت ہو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یہ جنت تمھارے لیے واجب ہو گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تو پورا ہو کر رہے گا۔

[31] وہ ثابت قدمی کے لیے ان کی ہمت بڑھاتے اور ان کو خوشخبری دیتے ہوئے یہ بھی کہیں گے: ﴿نَحۡنُ اَوۡلِيٰٓؤُكُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’ہم تمھارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں۔‘‘ وہ دنیا کے اندر انھیں بھلائی کی ترغیب دیتے ہیں اور بھلائی کو ان کے سامنے مزین کرتے ہیں۔ وہ ان کو برائی سے ڈراتے ہیں اور ان کے دلوں میں برائی کو قبیح بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں اور مصائب اور مقاماتِ خوف میں ان کو ثابت قدم رکھتے ہیں۔ خاص طور پر موت کی سختیوں، قبر کی تاریکیوں، قیامت کے روز پل صراط کے ہولناک منظر کے وقت ان کی ہمت بڑھاتے ہیں اور جنت کے اندر ان کے رب کی طرف سے عطا کردہ اکرام و تکریم پر انھیں مبارک باد دیتے اور ہر دروازے میں سے داخل ہوتے ہوئے ان سے کہیں گے:﴿سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِ﴾(الرعد: 13؍24) ’’تم پر سلامتی ہے، دنیا میں تمھارے صبر کے سبب سے، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر!‘‘ نیز وہ ان سے یہ بھی کہیں گے:﴿وَلَكُمۡ فِيۡهَا ﴾ ’’اور اس میں تمھارے لیے‘‘ یعنی جنت کے اندر ﴿ مَا تَشۡتَهِيۡۤ اَنۡفُسُكُمۡ ﴾ ’’جو چیز تمھارے نفس چاہیں گے‘‘ وہ تیار اور مہیا ہو گی۔ ﴿وَلَكُمۡ فِيۡهَا مَا تَدَّعُوۡنَ﴾ ’’اور تمھارے لیے ہوگا جو کچھ تم طلب کرو گے‘‘ یعنی لذات و شہوات میں سے جس چیز کا تم ارادہ کرو گے تمھیں حاصل ہو گی۔ ان لذات کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے قلب میں اس کا خیال گزرا ہے۔

[32]﴿نُزُلًا ﴾ یہ بے پایاں ثواب اور ہمیشہ رہنے والی نعمت، مہمانی اور ضیافت ہے ﴿مِّنۡ غَفُوۡرٍ ﴾ ’’بخش دینے والی ہستی کی طرف سے‘‘ جس نے تمھارے گناہوں کو بخش دیا ہے۔ ﴿رَّحِيۡمٍ ﴾ ’’اور بہت ہی رحم کرنے والی ہستی کی طرف سے‘‘ جس نے تمھیں نیکیوں کی توفیق دی ، پھر ان نیکیوں کو قبول فرمایا۔ اس نے اپنی مغفرت سے برائی کو تم سے دور کیا اور اپنی رحمت سے تمھارا مطلوب تمھیں عطا کیا۔

41:33Page 480

وَمَنۡ أَحۡسَنُ قَوۡلٗا مِّمَّن دَعَآ إِلَى ٱللَّهِ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ ٣٣

And who is better in speech than one who invites to Allāh and does righteousness and says, "Indeed, I am of the Muslims."

اور کون زیادہ اچھا ہے بات کے اعتبار سے، اس شخص سے جس نے بلایا اللہ کی طرف اور عمل کیا نیک اور کہا، بے شک میں تو فرماں برداروں میں سے ہوں (33)

[33] یہ استفہام متحقق اور ثابت شدہ نفی کے معنوں میں ہے۔ یعنی کسی کا قول اچھا نہیں، یعنی کسی کا کلام، طریقہ اور حال اس شخص سے بڑھ کر اچھا نہیں ﴿مِّمَّنۡ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’جس نے اللہ کی طرف بلایا‘‘ جو جہلاء کو تعلیم کے ذریعے سے، غافلین اور اعراض کرنے والوں کو وعظ و نصیحت کے ذریعے سے اور اہل باطل کو بحث و جدال کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی تمام انواع کی عبادت کا حکم اور اس کی ترغیب دیتا ہے اور جیسے بھی ممکن ہو اس عبادت کی تحسین کرتا ہے۔ اور ہر اس چیز پر زجروتوبیخ کرتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہو اور ہر اس طریقے سے اس کی قباحت بیان کرتا ہے جو اس کے ترک کرنے کا موجب ہے۔ خاص طور پر یہ دعوت اصول دین اسلام، اس کی تحسین اور اس کے دشمنوں کے ساتھ احسن طریقے سے مباحثہ و مجادلہ کی دعوت، اس دعوت کے متضاد امور ، مثلاً: کفروشرک سے ممانعت، امربالمعروف اور نہی عن المنکر پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی تفاصیل، اس کے لامحدود جودو احسان، اس کی کامل رحمت، اس کے اوصاف کمال اور نعوت جلال کے ذکر کے ذریعے سے اس کے بندوں میں اس کی محبت پیدا کرنا، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا ہے۔ کتاب اللہ اور سنت رسول سے علم و ہدایت کے حصول کی ترغیب اور ہر طریقے سے اس پر آمادہ کرنا، دعوت الی اللہ کے زمرے میں آتا ہے۔ مکارم اخلاق کی ترغیب، تمام مخلوق کے ساتھ بھلائی کرنا، برائی کرنے والے کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا، صلہ رحمی اور والدین کے ساتھ حسن سلوک سب دعوت الی اللہ کا حصہ ہے۔ مختلف مواقع، حوادث اور مصائب پر حالات کی مناسبت سے عام لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنا دعوت الی اللہ میں شمار ہوتا ہے۔ الغرض ہر بھلائی کی ترغیب اور ہر برائی سے ترہیب دعوت الی اللہ میں شامل ہے۔ پھر فرمایا:﴿وَعَمِلَ صَالِحًا ﴾ ’’اور نیک عمل کیے‘‘ یعنی لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے کے ساتھ ساتھ، خود بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے عمل صالح کرتا ہو ﴿وَّقَالَ اِنَّنِيۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہے کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں‘‘ یعنی جو اس کے حکموں کے تابع اور اس کی راہ پر گامزن ہیں اور یہ تمام ترصدیقین کا مرتبہ ہے، جو اپنی تکمیل اور دوسروں کی تکمیل کے لیے عمل پیرا رہتے ہیں۔ انھیں انبیاء و مرسلین کی مکمل وراثت حاصل ہوئی ہے۔ اسی طرح گمراہی کے راستے پر چلنے والے گمراہ داعیوں کا قول بدترین قول ہے۔ ان دو متباین مراتب کے درمیان، جن میں ایک اعلی علیین کا مرتبہ اور دوسرا اسفل السافلین کا مرتبہ ہے، اتنے مراتب ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ہر مرتبہ لوگوں سے معمور ہے ﴿وَلِكُلٍّ دَرَجٰؔتٌ مِّؔمَّا عَمِلُوۡا١ؕ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍132) ’’اور ہر شخص کے لیے اس کے عمل کے مطابق درجہ ہے اور آپ کا رب ان اعمال سے بے خبر نہیں جو یہ لوگ کرتے ہیں۔‘‘

41:34–35Page 480

وَلَا تَسۡتَوِي ٱلۡحَسَنَةُ وَلَا ٱلسَّيِّئَةُۚ ٱدۡفَعۡ بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ فَإِذَا ٱلَّذِي بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهُۥ عَدَٰوَةٞ كَأَنَّهُۥ وَلِيٌّ حَمِيمٞ ٣٤

And not equal are the good deed and the bad. Repel [evil] by that [deed] which is better; and thereupon, the one whom between you and him is enmity [will become] as though he was a devoted friend.

وَمَا يُلَقَّىٰهَآ إِلَّا ٱلَّذِينَ صَبَرُواْ وَمَا يُلَقَّىٰهَآ إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٖ ٣٥

But none is granted it except those who are patient, and none is granted it except one having a great portion [of good].

اور نہیں برابر ہوتی نیکی اور نہ برائی، ٹالیے(برائی کو) ایسی بات سے کہ وہ احسن ہو، تو یکایک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے(ایسا ہو جائے گا) گویا کہ وہ دوست ہے نہایت گہرا (34) اور نہیں سکھلائی جاتی یہ (خصلت) مگر انھی لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور نہیں سکھلائی جاتی یہ (خصلت) مگر اسی کو جو بڑا نصیبے والا ہے (35)

[34]﴿وَلَا تَسۡتَوِي الۡحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ﴾ ’’نیکی اور بدی یکساں نہیں ہوسکتیں‘‘ یعنی نیکی اور اطاعت کا فعل، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر سرانجام دیا گیا اور بدی اور گناہ کا فعل جس میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی ہو، کبھی برابر نہیں ہو سکتے، مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور مخلوق کے ساتھ برا سلوک دونوں برابر نہیں ہو سکتے، اپنی ذات میں برابر ہو سکتے ہیں نہ اپنے اوصاف میں اور نہ اپنی جزا میں۔ فرمایا:﴿هَلۡ جَزَآءُ الۡاِحۡسَانِ اِلَّا الۡاِحۡسَانُ﴾(الرحمن: 55؍60) ’’نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں۔‘‘ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے احسانِ خاص کا ذکر فرمایا، اس کا بڑا مقام ہے اور وہ ہے اس شخص کے ساتھ احسان کرنا، جس نے آپ کے ساتھ برا سلوک کیا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِدۡفَعۡ بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ ﴾ ’’آپ (بدی کا) ایسی بات سے دفاع کیجیے جو اچھی ہو‘‘ یعنی جب کبھی لوگوں میں سے کوئی شخص آپ کے ساتھ برا سلوک کرے، خاص طور پر وہ شخص، جس کا آپ پر بہت بڑا حق ہے، مثلاً: عزیز و اقارب اور دوست احباب وغیرہ۔ یہ برا سلوک قول کے ذریعے سے ہو یا فعل کے ذریعے سے، اس کا مقابلہ ہمیشہ حسن سلوک سے کریں۔ اگر اس نے آپ سے قطع رحمی کی ہے تو آپ اس سے صلہ رحمی کریں، اگر وہ آپ پر ظلم کرے، آپ اس کو معاف کریں اگر وہ آپ کے بارے میں آپ کی موجودگی میں کوئی بات کہے یا غیر موجودگی میں کوئی بات کہے تو آپ اس کا مقابلہ نہ کریں بلکہ اس کو معاف کر دیں اور اس کے ساتھ انتہائی نرمی سے بات کریں۔ اگر وہ آپ سے بول چال چھوڑ دے تو آپ اس سے اچھی طرح بات کریں اور اسے کثرت سے سلام کریں۔ جب آپ اس کی برائی کے بدلے حسن سلوک سے پیش آئیں گے تو آپ کو عظیم فائدہ حاصل ہو گا۔ ﴿فَاِذَا الَّذِيۡ بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيۡمٌ ﴾ ’’کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمھارا گرم جوش دوست ہے۔‘‘ یعنی گویا کہ وہ قریبی اور انتہائی مشفق ہے۔

[35]﴿وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ ﴾ ’’اور نہیں نصیب ہوتی یہ (صفت)‘‘ یعنی اس خصلت حمیدہ کی توفیق نہیں دی جاتی ہے۔ ﴿اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا ﴾’’مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں۔‘‘ جو اپنے نفس کو ان امور کا پابند بناتے ہیں، جنھیں ان کے نفس ناپسند کرتے ہیں اور انھیں ایسے امور پر عمل کرنے پر مجبور کرتے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ نفس انسانی کی جبلت ہے کہ وہ برائی کا مقابلہ برائی اور عدم عفو سے کرتا ہے۔ تب وہ احسان کیوں کر کر سکتا ہے؟ جب انسان اپنے نفس کو صبر کا پابند بنالیتا ہے اور اپنے رب کی اطاعت کرتا ہے اور اس کے بے پایاں ثواب کو جانتا ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ برا سلوک کرنے والے کے ساتھ اسی جیسا سلوک کرنا اسے کچھ فائدہ نہیں دے گا اور عداوت صرف شدت ہی میں اضافے کا باعث ہو گی اور یہ بھی علم ہے کہ برا سلوک کرنے والے کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے اس کی قدرومنزلت کم نہیں ہو گی، بلکہ جو اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے رفعت عطا کرتا ہے، تب معاملہ اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے اور وہ اس فعل کو سرانجام دیتے ہوئے لذت محسوس کرتا ہے۔﴿وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’اور یہ مقام انھی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جو بڑے صاحب نصیب ہیں۔‘‘ یہ خاص لوگوں کی خصلت ہے جس کے ذریعے سے بندے کو دنیا و آخرت میں رفعت عطا ہوتی ہے اور یہ مکارم اخلاق میں سب سے بڑی خصلت ہے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском