As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Fussilat 41:36–51
41:36–39Page 480
وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ نَزۡغٞ فَٱسۡتَعِذۡ بِٱللَّهِۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ ٣٦
And if there comes to you from Satan an evil suggestion, then seek refuge in Allāh. Indeed, He is the Hearing, the Knowing.
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِ ٱلَّيۡلُ وَٱلنَّهَارُ وَٱلشَّمۡسُ وَٱلۡقَمَرُۚ لَا تَسۡجُدُواْ لِلشَّمۡسِ وَلَا لِلۡقَمَرِ وَٱسۡجُدُواْۤ لِلَّهِۤ ٱلَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمۡ إِيَّاهُ تَعۡبُدُونَ ٣٧
And of His signs are the night and day and the sun and moon. Do not prostrate to the sun or to the moon, but prostrate to Allāh, who created them, if it should be Him that you worship.1
فَإِنِ ٱسۡتَكۡبَرُواْ فَٱلَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ يُسَبِّحُونَ لَهُۥ بِٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ وَهُمۡ لَا يَسۡـَٔمُونَ۩ ٣٨
But if they are arrogant - then those who are near your Lord [i.e., the angels] exalt Him by night and by day, and they do not become weary.
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنَّكَ تَرَى ٱلۡأَرۡضَ خَٰشِعَةٗ فَإِذَآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡهَا ٱلۡمَآءَ ٱهۡتَزَّتۡ وَرَبَتۡۚ إِنَّ ٱلَّذِيٓ أَحۡيَاهَا لَمُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰٓۚ إِنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ ٣٩
And of His signs is that you see the earth stilled, but when We send down upon it rain, it quivers and grows. Indeed, He who has given it life is the Giver of Life to the dead. Indeed, He is over all things competent.
اور اگر ابھارے آپ کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ تو پناہ مانگیے اللہ کی، یقیناً وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے (36) اور اس کی نشانیوں میں سے ہے رات اور دن اور سورج اور چاند، نہ سجدہ کرو تم سورج کو اور نہ چاند کو اور سجدہ کرو اللہ کو جس نے پیدا کیا ان (سب) کو، اگر ہو تم صرف اسی کی عبادت کرتے (37) پس اگر وہ تکبر کریں، تو وہ لوگ جو آپ کے رب کے پاس ہیں، وہ تسبیح کرتے ہیں اس کی رات کو اور دن کو اور وہ نہیں تھکتے (38) اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ دیکھتے ہیں آپ زمین کو دبی ہوئی(بنجر) پس جب نازل کیا ہم نے اس پر پانی تو وہ لہلہانے لگی اور ابھر آئی(بلند ہو کر) بلاشبہ وہ (اللہ) جس نے زندہ کیا اس(زمین)کو البتہ زندہ کرنے و الا ہے مردوں کو، بے شک وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(39)
[36] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ انسان کو اپنے دشمن انسان کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے، یعنی اسے اس کی برائی کے مقابلے میں حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔ اس کے بعد ذکر فرمایا کہ انسان شیطان کو، جو اس کا دشمن ہے، کیسے دور ہٹائے؟ اور وہ اس طرح کہ بندہ شیطان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِمَّا يَنۡزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيۡطٰنِ نَزۡغٌ ﴾ ’’اگر تمھیں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہو۔‘‘ یعنی آپ کسی بھی وقت، شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ محسوس کریں، یعنی شیطان کا وسوسہ، اس کا شر کو آراستہ کرنا اور خیر کو بدنما بنا کر پیش کرنا، یا اس کے کسی حکم کی اطاعت کا خدشہ محسوس کریں۔ ﴿فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’تو اللہ کی پناہ مانگیے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی احتیاج کا اظہار کرتے ہوئے اس سے سوال کریں کہ وہ آپ کو پناہ دے اور آپ کو شیطان سے محفوظ رکھے۔ ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ کیونکہ وہ آپ کی بات اور عاجزانہ دعا کو سنتا ہے، وہ آپ کے حال کو جانتا ہے، اسے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ اس کی حمایت و حفاظت کے ضرورت مند ہیں۔
[37] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهِ ﴾ ’’اس کی نشانیوں میں سے‘‘ جو اس کے کمال قدرت، نفوذ مشیت، لامحدود قوت اور بندوں پر بے پایاں رحمت پر دلالت کرتی ہیں، نیز اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿الَّيۡلُ وَالنَّهَارُ ﴾ ’’دن اور رات ہیں۔‘‘ دن اپنی روشنی کی منفعت کی بنا پر نشانی ہے کہ لوگ دن کی روشنی میں اپنے کام کاج کے لیے چلتے پھرتے ہیں۔ رات اپنی تاریکی کی منفعت کی بنا پر نشانی ہے کہ مخلوق رات کی تاریکی میں آرام کرتی ہے۔ ﴿وَالشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ ﴾’’اور سورج اور چاندہیں۔‘‘ جن کے بغیر بندوں کی معاش، ان کے ابدان اور ان کے حیوانات کے ابدان درست نہیں رہتے۔ سورج اور چاند کے ساتھ مخلوق کے بے شمار مصالح وابستہ ہیں۔﴿لَا تَسۡجُدُوۡا لِلشَّمۡسِ وَلَا لِلۡقَمَرِ ﴾ ’’سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو‘‘ کیونکہ یہ دونوں تو مخلوق اور اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت مسخر ہیں ﴿وَاسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِيۡ خَلَقَهُنَّ ﴾ ’’اور اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی اسی اکیلے کی عبادت کرو کیونکہ وہی خالق عظیم ہے اور اس کے سوا تمام مخلوقات کی عبادت چھوڑ دو خواہ وہ کتنی ہی بڑی اور ان کے فوائد کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں کیونکہ یہ مصالح اور فوائد ان کے خالق کی طرف سے ودیعت کیے گئے ہیں۔ جو نہایت بابرکت اور بلند ہے، ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔‘‘ پس اسی کے لیے اپنی عبادت کو خاص کرو اور اسی کے لیے اپنے دین کو خالص کرو۔
[38]﴿فَاِنِ اسۡتَكۡبَرُوۡا ﴾ اگر وہ تکبرو استکبار کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی آیات و براہین کے سامنے سرتسلیم خم نہ کریں تو وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، اللہ ان سے بے نیاز ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ مکرم بندے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور ان کو جو حکم دیا جاتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿فَالَّذِيۡنَ عِنۡدَ رَبِّكَ ﴾ ’’پس جو تیرے رب کے پاس ہیں‘‘ یعنی مقرب فرشتے ﴿يُسَبِّحُوۡنَ لَهٗ بِالَّيۡلِ وَالنَّهَارِ وَهُمۡ لَا يَسۡـَٔمُوۡنَ﴾ ’’وہ دن رات اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ تھکتے نہیں۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اکتاتے نہیں، کیونکہ وہ نہایت طاقتور ہوتے ہیں۔ ان کے اندر عبادت کا داعیہ بھی نہایت قوی ہوتا ہے۔
[39]﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهٖۤ﴾ ’’اور اس کی نشانیوں میں سے‘‘ جو اس کے کمال قدرت اور ملکیت و تدبیر کائنات اور وحدانیت میں متفرد ہونے پر دلالت کرتی ہیں، ایک نشانی یہ ہے ﴿اَنَّكَ تَرَى الۡاَرۡضَ خَاشِعَةً ﴾ ’’کہ بے شک تو زمین کو دبی ہوئی دیکھتا ہے۔‘‘ یعنی اس کے اندر کوئی نباتات نہیں ہوتی ﴿فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهَا الۡمَآءَ ﴾ ’’پس جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں۔‘‘ یعنی بارش برساتے ہیں ﴿اهۡتَزَّتۡ ﴾ ’’تو وہ شاداب ہو جاتی ہے۔‘‘ یعنی نباتات کے ساتھ لہلہا اٹھتی ہے۔ ﴿وَرَبَتۡ ﴾ ’’اور ابھرنے لگتی ہے‘‘ یعنی وہ ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگاتی ہے، جس سے تمام بندوں اور زمین کی زندگی ہوتی ہے۔ ﴿اِنَّ الَّذِيۡۤ اَحۡيَاهَا ﴾ ’’بے شک جس نے اس (زمین) کو زندہ کیا‘‘ جس نے اس کے مر جانے اور بنجر ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کیا ﴿لَمُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ﴾ وہ قبروں سے مردوں کو بھی قیامت کے روز زندہ کرے گا۔ ﴿اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ جس طرح اس کی قدرت زمین کے مردہ اور بنجر ہو جانے کے بعد اس کو زندہ کرنے سے عاجز نہیں اسی طرح وہ مردوں کو زندہ کرنے میں بھی بے بس نہیں۔
41:40–42Page 481
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُلۡحِدُونَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا لَا يَخۡفَوۡنَ عَلَيۡنَآۗ أَفَمَن يُلۡقَىٰ فِي ٱلنَّارِ خَيۡرٌ أَم مَّن يَأۡتِيٓ ءَامِنٗا يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ ٱعۡمَلُواْ مَا شِئۡتُمۡ إِنَّهُۥ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٌ ٤٠
Indeed, those who inject deviation into Our verses1 are not concealed from Us. So, is he who is cast into the Fire better or he who comes secure on the Day of Resurrection? Do whatever you will; indeed, He is Seeing of what you do.
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِٱلذِّكۡرِ لَمَّا جَآءَهُمۡۖ وَإِنَّهُۥ لَكِتَٰبٌ عَزِيزٞ ٤١
Indeed, those who disbelieve in the message [i.e., the Qur’ān]1 after it has come to them...2 And indeed, it is a mighty3 Book.
لَّا يَأۡتِيهِ ٱلۡبَٰطِلُ مِنۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهِۦۖ تَنزِيلٞ مِّنۡ حَكِيمٍ حَمِيدٖ ٤٢
Falsehood cannot approach it from before it or from behind it; [it is] a revelation from a [Lord who is] Wise and Praiseworthy.
بلاشبہ وہ لوگ جو کج روی کرتے ہیں ہماری آیتوں میں نہیں وہ مخفی رہتے ہم پر، کیا پس جو شخص ڈالا جائے گا آگ میں، وہ بہتر ہے یا وہ جو آئے گا امن سے دن قیامت کے؟ عمل کرو تم جو چاہو، بے شک وہ (اللہ) ساتھ اس کےجوتم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے (40) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ ذکر (قرآن) کے جب آیا وہ ان کے پاس(تو وہ ہلاک ہوں گے) اور بے شک وہ البتہ ایک کتاب ہے بہت زبردست (41) نہیں آ سکتا اس کےپاس باطل اس کےآگے سے اور نہ اس کےپیچھے سے، وہ نازل کر دہ ہے بڑی حکمت والی قابل تعریف ذات کی طرف سے (42)
[40] اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحاد سے مراد ہے کہ ان کو کسی بھی لحاظ سے حق و صواب سے ہٹا دینا۔ یا تو ان آیات الٰہی کا انکار کر دینا اور ان آیات کو لانے والے رسول کی تکذیب کرنا، یا ان آیات الٰہی کو ان کے حقیقی معانی سے ہٹا کر، ایسے معانی کا اثبات کرنا جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے الحاد کرنے والوں کو وعید سنائی ہے کہ اس پر کوئی چیز مخفی نہیں، اسے اس کے ظاہر و باطن کی اطلاع ہےاور وہ عنقریب اسے اس کے الحاد کی سزا دے گا۔ بنابریں فرمایا:﴿اَفَمَنۡ يُّلۡقٰى فِي النَّارِ ﴾ ’’کیا جو شخص آگ میں ڈالا جائے گا۔‘‘ مثلاً: اللہ تعالیٰ کی آیات میں الحاد کرنے والا ﴿خَيۡرٌ اَمۡ مَّنۡ يَّاۡتِيۡۤ اٰمِنًا يَّوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن و امان سے آئے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ و مامون اور اس کے ثواب کا مستحق ہے؟ اور یہ بدیہی طور پر معلوم ہے کہ یہی شخص بہتر ہے۔جب باطل سے حق واضح ہو گیا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دینے والا راستہ ہلاکت کی گھاٹیوں میں پہنچانے والے راستے سے الگ ہو گیا تو فرمایا:﴿اِعۡمَلُوۡا مَا شِئۡتُمۡ ﴾ ’’تم جو چاہو کرلو۔‘‘ چاہو تو ہدایت کا راستہ اختیار کر لو جو رضائے الٰہی اور جنت کی منزل کو جاتا ہے، اور چاہو تو گمراہی کے راستے کو اختیار کر لو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور بدبختی کی منزل پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ ﴿اِنَّهٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔‘‘ اس لیے وہ تمھارے احوال و اعمال کے مطابق جزا دے گا۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿وَقُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ١۫ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡيُؤۡمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ ﴾(الکہف: 18؍29) ’’کہہ دیجیے: حق تمھارے رب کی طرف سے ہے، جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کفر کا رویہ اختیار کرے۔‘‘
[41، 42] پھرفرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِالذِّكۡرِ ﴾ ’’بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا ذکر (قرآن کریم) کا‘‘ یعنی جو لوگ قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں، جو بندوں کو ان کے دینی، دنیاوی اور اخروی مصالح کی یاد دہانی کراتا ہے اور جو اس کی اتباع کرے اس کا مرتبہ بلند کرتا ہے۔ ﴿لَمَّا جَآءَهُمۡ ﴾ ’’جبکہ وہ ان کے پاس آیا۔‘‘ یعنی افضل اور کامل ترین ہستی کے ذریعے سے ان کے رب کی طرف سے نعمت کے طور پر آیا۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ حال یہ ہے کہ ﴿اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ ﴾ ’’بے شک وہ ایک کتاب ہے‘‘ یہ اوصافِ کمال کی جامع کتاب ہے۔ ﴿عَزِيۡزٌ﴾ ’’زبردست‘‘ یعنی ہر قسم کے ارادۂ تحریف اور برائی سے محفوظ و مامون ہے۔اسی لیے فرمایا: ﴿لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ﴾ ’’اس پر جھوٹ کا دخل آگے سے ہوسکتا ہے نہ پیچھے سے۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس میں سے کوئی شیطان، چوری یا دخل اندازی یا کمی بیشی کے ارادے سے اس کے قریب نہیں آسکتا۔ یہ اپنی تنزیل میں محفوظ اور اس کے الفاظ و معانی ہر تحریف سے مامون و مصئون ہیں۔ جس ہستی نے اسے نازل کیا ہے اس نے اس کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا ہے اور فرمایا:﴿اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰؔفِظُوۡنَؔ﴾(الحجر: 15؍9) ’’بے شک ہم نے ’’ذکر‘‘ (یعنی قرآن)کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘﴿تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ حَكِيۡمٍ ﴾ یعنی اس ہستی کی طرف سے نازل کردہ ہے جو اپنے خلق و امر میں حکمت والی ہے۔ جو ہر چیز کو اس کے مناسب حال مقام پر رکھتی ہے۔ ﴿حَمِيۡدٍ ﴾ ’’قابل تعریف ہے‘‘ جو اپنی صفات کمال، نعوت جلال اور اپنے عدل و احسان پر قابل تعریف ہے، بنابریں اس کی کتاب تمام ترحکمت، تحصیل مصالح و منافع اور دفع مفاسد کی تکمیل پر مشتمل ہے جن پر وہ ہستی قابل تعریف ہے۔
41:43Page 481
مَّا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قَدۡ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِن قَبۡلِكَۚ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغۡفِرَةٖ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٖ ٤٣
Nothing is said to you, [O Muḥammad], except what was already said to the messengers before you. Indeed, your Lord is a possessor of forgiveness and a possessor of painful penalty.
نہیں کہا جاتا آپ سے مگر وہی جو تحقیق کہا گیا رسولوں سے آپ سے پہلے، بے شک آپ کا رب بخشش والا اور درد ناک عذاب دینے والا ہے (43)
[43]﴿مَا يُقَالُ لَكَ ﴾ ’’نہیں کہا جاتا ہے کہ آپ کے بارے میں‘‘ اے رسول! یہ اقوال جو آپ کی تکذیب کرنے والوں اور آپ سے عناد رکھنے والوں کی زبان سے صادر ہو رہے ہیں۔ ﴿اِلَّا مَا قَدۡ قِيۡلَ لِلرُّسُلِ مِنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’مگر وہی جو تم سے پہلے رسولوں سے کہا گیا‘‘ یعنی یہ اقوال ان اقوال کی جنس سے ہیں جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہے گئے، بلکہ بسااوقات انھوں نے ایک جیسی بات کہی، مثلاً: انبیاء و مرسلین کی تکذیب کرنے والی امتوں نے اخلاص للہ اور اس اکیلے کی عبادت کی طرف دعوت پر تعجب کا اظہار کیا اور ہر ممکن طریقے سے اس دعوت کو رد کیا۔ وہ بھی کہتے تھے: ﴿مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا﴾(يٰسٓ:36؍15) ’’تم ہماری ہی طرح بشر ہو۔‘‘ اسی طرح ان کا اپنے رسولوں سے معجزات کا مطالبہ کرنا جن کا دکھانا ان پر لازم نہ تھا اور اسی قسم کے دیگر الفاظ جو اہل تکذیب کی زبان سے صادر ہوئے۔ چونکہ کفر میں ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اس لیے ان کے اقوال بھی ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔ تمام انبیاء و مرسلین نے کفار کی ایذا رسانی اور ان کی تکذیب پر صبر کیا اس لیے آپ بھی صبر کیجیے جس طرح آپ سے قبل انبیاء و مرسلین نے صبر کیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کو توبہ اور اسباب مغفرت کی طرف آنے کی دعوت دی اور انھیں اپنی گمراہی پر جمے رہنے سے ڈرایا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ رَبَّكَ لَذُوۡ مَغۡفِرَةٍ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب معاف کردینے والا بھی ہے‘‘ یعنی تیرا رب عظیم مغفرت کا مالک ہے جو اس شخص کے ہر گناہ کو مٹا دیتا ہے جو توبہ کر کے گناہ سے رک جاتا ہے۔ ﴿وَّذُوۡ عِقَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’اور دردناک سزا دینے والا بھی ہے۔‘‘ اس شخص کے لیے دردناک عذاب ہے جو تکبر کرتے ہوئے گناہ پر اصرار کرتا ہے۔
41:44Page 481
وَلَوۡ جَعَلۡنَٰهُ قُرۡءَانًا أَعۡجَمِيّٗا لَّقَالُواْ لَوۡلَا فُصِّلَتۡ ءَايَٰتُهُۥٓۖ ءَا۬عۡجَمِيّٞ وَعَرَبِيّٞۗ قُلۡ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدٗى وَشِفَآءٞۚ وَٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ فِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَقۡرٞ وَهُوَ عَلَيۡهِمۡ عَمًىۚ أُوْلَٰٓئِكَ يُنَادَوۡنَ مِن مَّكَانِۭ بَعِيدٖ ٤٤
And if We had made it a foreign [i.e., non-Arabic] Qur’ān, they would have said, "Why are its verses not explained in detail [in our language]? Is it a foreign [recitation] and an Arab [messenger]?" Say, "It is, for those who believe, a guidance and cure." And those who do not believe - in their ears is deafness, and it is upon them blindness. Those are being called from a distant place.1
اور اگر کرتے ہم اس کو قرآن عجمی زبان کا تو البتہ وہ کہتے، کیوں نہیں کھول کر بیان کی گئیں آیتیں اس کی؟ کیا(کتاب) عجمی اور (رسول) عربی؟ کہہ دیجیے: وہ ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، ہدایت اور شفا ہے، اور وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے، ان کے کانوں میں ڈاٹ (کارک) ہے اور وہ ان کے حق میں اندھا پن ہے، یہ لوگ (گویا) پکارے جاتے ہیں دور جگہ سے (44)
[44] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل وکرم کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے اپنی کتاب رسول عربی ﷺ پر آپ کی قوم کی زبان، عربی میں نازل کی تاکہ اس سے ان پر راہ ہدایت واضح ہو جائے۔ اس کتاب کریم کا یہ وصف زیادہ اعتنا کا موجب ہے اور اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ سر تسلیم خم کر کے اسے قبول کیا جائے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کتاب عظیم کو کسی عجمی زبان میں بھیجا ہوتا تو اس کی تکذیب کرنے والے کہتے۔ ﴿لَوۡلَا فُصِّلَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ اس کی آیات کو واضح کیوں نہ کیا گیا، اس کی تفسیر کیوں نہ بیان کی گئی ﴿ءَؔاَعۡجَمِيٌّ وَّعَرَبِيٌّ ﴾ ’’یہ کیا بات ہے کہ کتاب عجمی زبان میں اور مخاطب عربی‘‘ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ محمد ﷺ عربی ہیں اور کتاب عجمی ہو؟ یہ نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے اپنی کتاب سے ہر امر کی نفی کر دی جس میں اہل باطل کے لیے کوئی شبہ ہو سکتا ہے اور اسے ایسے اوصاف سے موصوف فرمایا جو ان پر اطاعت کو واجب ٹھہراتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اہل ایمان جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق سے نوازا ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور بلنددرجے پاتے ہیں اور دیگر لوگوں کے احوال اس کے برعکس ہوتے ہیں۔بنابریں فرمایا:﴿قُلۡ هُوَ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا هُدًى وَّشِفَآءٌ ﴾’’کہہ دیجیے کہ جو ایمان لاتے ہیں، ان کے لیے یہ ہدایت اور شفا ہے۔‘‘ یعنی یہ کتاب انھیں رشد و ہدایت اور راہ راست دکھاتی ہے اور انھیں علوم نافعہ کی تعلیم دیتی ہے جس سے ہدایت کامل حاصل ہوتی ہے۔ اس کتاب عظیم میں ان کے جسمانی اور روحانی امراض کی شفا ہے۔ کیونکہ کتاب، برے اخلاق اور برے اعمال پر ان کی زجروتوبیخ کرتی ہے اور انھیں ایسی خالص توبہ پر آمادہ کرتی ہے جو گناہوں کو دھو کر قلوب کو شفا بخشتی ہے۔﴿وَالَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’وہ لوگ جو (قرآن پر) ایمان نہیں لاتے‘‘ ﴿فِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرٌ ﴾ ’’ان کے کانوں میں بوجھ ہے۔‘‘ یعنی وہ اس کو سننے سے محروم اور اس سے روگردانی کا شکار ہیں۔ ﴿وَّهُوَ عَلَيۡهِمۡ عَمًى ﴾ ’’یہ ان کے حق میں اندھا پن ہے۔‘‘ جس کی وجہ سے انھیں رشدوہدایت نظر آتی ہے نہ راہ راست ملتی ہے۔ یہ کتاب ان کی گمراہی میں اضافہ کرتی ہے۔ کیونکہ جب یہ لوگ حق کو ٹھکرا دیتے ہیں تو ان کے اندھے پن میں اضافہ ہو جاتا ہے اور ان پر ایک اور تہہ چڑھ جاتی ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ يُنَادَوۡنَ مِنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’یہ وہ ہیں جنھیں دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے۔‘‘ یعنی جنھیں ایمان کے لیے پکارا اور اس کی طرف بلایا جا رہا ہو اور یہ جواب نہ دے سکتے ہوں۔ ایسے لوگ اس شخص کی مانند ہیں جسے بہت دور سے پکارا جا رہا ہو، جسے پکارنے والے کی آواز سنائی دیتی ہو نہ وہ جواب دے سکتا ہو۔مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جو قرآن پر ایمان نہیں لاتے، اس کی راہنمائی اور اس کی روشنی سے مستفید ہو سکتے ہیں نہ انھیں اس عظیم کتاب سے کوئی بھلائی حاصل ہو سکتی ہے کیونکہ انھوں نے اپنے اعراض اور کفر کے سبب سے خود اپنے آپ پر ہدایت کے دروازے بند کر لیے ہیں۔
41:45–46Page 481
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ فَٱخۡتُلِفَ فِيهِۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۚ وَإِنَّهُمۡ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُ مُرِيبٖ ٤٥
And We had already given Moses the Scripture, but it came under disagreement.1 And if not for a word [i.e., decree]2 that preceded from your Lord, it would have been concluded between them. And indeed they are, concerning it [i.e., the Qur’ān], in disquieting doubt.
مَّنۡ عَمِلَ صَٰلِحٗا فَلِنَفۡسِهِۦۖ وَمَنۡ أَسَآءَ فَعَلَيۡهَاۗ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّٰمٖ لِّلۡعَبِيدِ ٤٦
Whoever does righteousness - it is for his [own] soul; and whoever does evil [does so] against it. And your Lord is not ever unjust to [His] servants.
اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ کوکتاب، پس اختلاف کیا گیا اس میں، اور اگر نہ ہوتی ایک بات، جو پہلے سے (طے) ہو چکی تھی آپ کے رب کی طرف سے، تو البتہ فیصلہ کر دیا جاتا درمیان ان کے، اور بے شک وہ البتہ شک میں ہیں اس کی طرف سے، جو اضطراب میں ڈالنے والا ہے (45) جس نے عمل کیا نیک، تو اس کےاپنے ہی لیے ہے اور جس نے برا کیا تو اسی پر ہے وبال(اس کا) اور نہیں ہے آپ کا رب ظلم کرنے والا بندوں پر (46)
[45] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو بھی کتاب عطا کی تھی‘‘ جس طرح آپ(ﷺ) کو کتاب عطا کی ہے۔ لوگوں نے حضرت موسیٰu کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جو آپ کے ساتھ کر رہے ہیں۔ پس لوگوں نے اس کتاب کے بارے میں اختلاف کیا۔ ان میں سے کچھ لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئے، انھوں نے اس سے راہنمائی حاصل کی اور اس سے مستفید ہوئے اور کچھ لوگوں نے اس کتاب کی تکذیب کی اور اس سے مستفید نہ ہو سکے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے حلم اور سابقہ فیصلے کی بنا پر ان پر عذاب کو ایک مدت مقررہ تک مؤخر نہ کرتا، جس سے یہ عذاب آگے پیچھے نہیں ہو سکتا۔ ﴿لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’تو ان کے درمیان فیصلہ ہو چکا ہوتا‘‘ جس سے اہل ایمان اور کفار کے درمیان فرق واضح ہو جاتا اور کافروں کو اسی حال میں ہلاک کر دیا جاتا کیونکہ ان کی ہلاکت کا سبب پورا ہو چکا تھا۔ ﴿وَاِنَّهُمۡ لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهُ مُرِيۡبٍ ﴾ ’’اور یہ اس (قرآن) کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔‘‘ شک نے ان کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے، جہاں وہ متزلزل ہو گئے ہیں۔ اس لیے انھوں نے اس کی تکذیب کی۔
[46]﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا ﴾ ’’جس نے نیک کام کیے۔‘‘ عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہو۔ ﴿فَلِنَفۡسِهٖ﴾ دنیا و آخرت میں اس کا ثواب اور فائدہ اسی کے لیے ہے ﴿وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا ﴾ ’’جس نے برے کام کیے ان کا ضرر اسی کو ہوگا۔‘‘ دنیا و آخرت میں اس کا نقصان اور عذاب بھی وہی بھگتے گا۔ اس آیت کریمہ میں فعل خیر اور ترک شر کی ترغیب دی گئی ہے نیز اس میں ذکر کیا گیا ہے کہ اصحاب اعمال اپنے نیک اعمال سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور برے اعمال سے ان کو ضرر پہنچتا ہے۔ نیز یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی اور کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ﴿وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾ ’’اور آپ کا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا کہ ان پر ان کی برائیوں سے بڑھ کر عذاب مسلط کر دے۔
41:47–48Page 482
۞ إِلَيۡهِ يُرَدُّ عِلۡمُ ٱلسَّاعَةِۚ وَمَا تَخۡرُجُ مِن ثَمَرَٰتٖ مِّنۡ أَكۡمَامِهَا وَمَا تَحۡمِلُ مِنۡ أُنثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلۡمِهِۦۚ وَيَوۡمَ يُنَادِيهِمۡ أَيۡنَ شُرَكَآءِي قَالُوٓاْ ءَاذَنَّٰكَ مَا مِنَّا مِن شَهِيدٖ ٤٧
To Him [alone] is attributed knowledge of the Hour. And fruits emerge not from their coverings nor does a female conceive or give birth except with His knowledge. And the Day He will call to them, "Where are My 'partners'?" they will say, "We announce to You that there is [no longer] among us any witness [to that]."
وَضَلَّ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَدۡعُونَ مِن قَبۡلُۖ وَظَنُّواْ مَا لَهُم مِّن مَّحِيصٖ ٤٨
And lost from them will be those they were invoking before, and they will be certain that they have no place of escape.
اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے علم قیامت (کے آنے)کا اور نہیں نکلتا کوئی پھل اپنے غلافوں سے اور نہیں حمل سے ہوتی کوئی مادہ اور نہ (کوئی بچہ) جنتی ہے مگر اس کے علم ہی سے اور جس دن پکارے گا وہ ان کو، کہا ں ہیں میرے شریک؟ وہ کہیں گے: ہم نے بتلا دیا تجھ کو، نہیں ہے ہم میں سے کوئی گواہ (اس بات کا)(47)اور گم ہو جائیں گے ان سے وہ جن کو تھے وہ پکارتے اس سے پہلے اور وہ گمان کریں گے کہ نہیں ہے ان کے لیے کوئی بھاگنے کی جگہ (48)
[47، 48] یہ اللہ تعالیٰ کے وسیع علم کا ذکر ہے۔ نیز یہ ان امور کا ذکر ہے جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہے، جنھیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ، چنانچہ فرمایا:﴿اِلَيۡهِ يُرَدُّ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾ ’’قیامت کا علم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔‘‘ یعنی تمام مخلوق کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتا ہے۔ تمام انبیاء و مرسلین اور فرشتے وغیرھم اس بارے میں اپنے عجز اور بے بسی کا اقرار کرتے ہیں۔ ﴿وَمَا تَخۡرُجُ مِنۡ ثَمَرٰتٍ مِّنۡ اَكۡمَامِهَا ﴾ ’’اور نہ تو پھل گابھوں سے نکلتے ہیں۔‘‘ یعنی اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں۔ یہ تمام درختوں کے پھل کو شامل ہے جو شہروں میں یا جنگلوں میں اگتے ہیں۔ کسی درخت پر جو پھل بھی لگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو تفصیلی طور پر جانتا ہے۔ ﴿وَمَا تَحۡمِلُ مِنۡ اُنۡثٰى ﴾ ’’اور نہیں حاملہ ہوتی کوئی مادہ۔‘‘ بنی آدم اور تمام حیوانات میں سے حاملہ جو حمل اٹھاتی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ ﴿وَلَا تَضَعُ ﴾ ’’اور نہ كوئی حاملہ بچہ جنم دیتی ہے ﴿ اِلَّا بِعِلۡمِهٖ﴾ مگر اس کے علم سے۔‘‘ مشرکین نے ان ہستیوں کو کیسے اللہ تعالیٰ کے برابر ٹھہرا دیا جو سن سکتی ہیں نہ دیکھ سکتی ہیں۔ ﴿وَيَوۡمَ يُنَادِيۡهِمۡ ﴾ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مشرکین کو، زجروتوبیخ کے طور پر اور ان کے جھوٹ کو ظاہر کرتے ہوئے پکارے گا اور فرمائے گا:﴿اَيۡنَ شُرَؔكَآءِيۡ ﴾ ’’میرے شریک کہاں ہیں۔‘‘ جن کو تم میرا شریک سمجھتے ہوئے ان کی عبادت کرتے تھے اس کی بنا پر تم جھگڑتے اور رسولوں سے عداوت رکھتے تھے۔ ﴿قَالُوۡۤا ﴾ وہ اپنے خودساختہ معبودوں کی الوہیت اور ان کی شرکت کے بطلان کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنۡ شَهِيۡدٍ﴾ ’’ہم آپ سے کہہ چکے کہ (آج) ہم میں سے کوئی (ایسی) گواہی دینے والا نہیں۔‘‘ یعنی اے ہمارے رب ہم تیرے سامنے اقرار کرتے ہیں، تو گواہ رہنا کہ ہم میں سے کوئی بھی ان معبودان باطل کی الوہیت اور شرکت کی گواہی نہیں دیتا۔ اب ہم سب ان کی عبادت کے بطلان کا اقرار اور ان سے براء ت کا اعلان کرتے ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَدۡعُوۡنَ ﴾ ’’اور گم ہوجائیں گے ان سے وہ جن کو وہ پکارا کرتے تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر یعنی ان کے وہ تمام عقائد اور اعمال اکارت جائیں گے جن کے اندر انھوں نے غیراللہ کی عبادت کرتے ہوئے عمریں گزاریں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے یہ خودساختہ معبود انھیں کوئی فائدہ دیں گے، ان سے عذاب دور کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے سفارشی ہوں گے۔ ان کی تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی، ان کا گمان جھوٹا ثابت ہوگا اور ان کے خودساختہ شرکاء ان کے کسی کام نہ آسکیں گے۔ ﴿وَظَنُّوۡا ﴾ اور اس حال میں انھیں یقین آ جائے گا ﴿مَا لَهُمۡ مِّنۡ مَّحِيۡصٍ﴾ کہ کوئی ان کو بچانے والا ہے نہ کوئی مدد کو پہنچنے والا اور نہ ان کو کوئی جائے پناہ ہی ملے گی۔ یہ ہے اس شخص کا انجام جس نے شرک کا ارتکاب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واضح کر دیا ہے کہ وہ شرک سے بچیں۔
41:49–51Page 482
لَّا يَسۡـَٔمُ ٱلۡإِنسَٰنُ مِن دُعَآءِ ٱلۡخَيۡرِ وَإِن مَّسَّهُ ٱلشَّرُّ فَيَـُٔوسٞ قَنُوطٞ ٤٩
Man is not weary of supplication for good [things], but if evil touches him, he is hopeless and despairing.
وَلَئِنۡ أَذَقۡنَٰهُ رَحۡمَةٗ مِّنَّا مِنۢ بَعۡدِ ضَرَّآءَ مَسَّتۡهُ لَيَقُولَنَّ هَٰذَا لِي وَمَآ أَظُنُّ ٱلسَّاعَةَ قَآئِمَةٗ وَلَئِن رُّجِعۡتُ إِلَىٰ رَبِّيٓ إِنَّ لِي عِندَهُۥ لَلۡحُسۡنَىٰۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيظٖ ٥٠
And if We let him taste mercy from Us after an adversity which has touched him, he will surely say, "This is [due] to me,1 and I do not think the Hour will occur; and [even] if I should be returned to my Lord, indeed, for me there will be with Him the best." But We will surely inform those who disbelieved about what they did, and We will surely make them taste a massive punishment.
وَإِذَآ أَنۡعَمۡنَا عَلَى ٱلۡإِنسَٰنِ أَعۡرَضَ وَنَـَٔا بِجَانِبِهِۦ وَإِذَا مَسَّهُ ٱلشَّرُّ فَذُو دُعَآءٍ عَرِيضٖ ٥١
And when We bestow favor upon man, he turns away and distances himself; but when evil touches him, then he is full of extensive supplication.
نہیں تھکتا انسان بھلائی مانگنے سے اور اگر پہنچے اسے تکلیف، تو وہ انتہائی مایوس سخت ناامید ہو جاتا ہے (49) اور البتہ اگر چکھائیں ہم اسے رحمت اپنی طرف سے بعد اس تکلیف کے جو پہنچی اسے تو وہ یقیناً کہتا ہے: یہ تو میرے لیے ہے اور نہیں گمان کرتا میں قیامت کو قائم ہونے والی اور البتہ اگر میں لوٹایا گیا اپنے رب کی طرف تو بلاشبہ میرے لیے اس کےپاس البتہ بھلائی ہی ہو گی، پس البتہ ہم ضرور بتلائیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ساتھ اس کےجو انھوں نے عمل کیے اور البتہ ہم ضرورچکھائیں گے ان کو عذاب سخت (50) اور جب احسان کرتے ہیں ہم انسان پر تو وہ منہ موڑ لیتا ہے اور دور ہو جاتا ہے اپنے پہلو کے ساتھ اور جب پہنچتی ہے اسے تکلیف تو دعائیں کرنے والا ہو جاتا ہے لمبی چوڑی (51)
[49] اس آیت کریمہ میں انسان کی فطرت و طبیعت کا بیان ہے کہ وہ خیر پر صبر کر سکتا ہے نہ شر پر۔ سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ اس حالت سے نکال کر حالت کمال میں منتقل کر دے۔ فرمایا: ﴿لَا يَسۡـَٔمُ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ دُعَآءِ الۡخَيۡرِ ﴾ یعنی انسان اللہ تعالیٰ سے، اپنی فوزوفلاح، مال، اولاد اور دیگر دنیاوی مطالب و مقاصد کے لیے دعا کرتے ہوئے کبھی نہیں اکتاتا اور اس پر ہمیشہ عمل پیرا رہتا ہے وہ قلیل یا کثیر کسی چیز پر قناعت نہیں کرتا، اگر اسے دنیا کی ہر چیز مل جائے تب بھی وہ مزید دنیا طلب کرتا رہے گا۔ ﴿وَاِنۡ مَّسَّهُ الشَّرُّ ﴾ ’’اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچے۔‘‘ یعنی بیماری ،فقر اور مختلف مصائب وغیرہ اسے لاحق ہوں۔ ﴿فَيَـُٔوۡسٌ قَنُوۡطٌ ﴾ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے اور سمجھنے لگتا ہے کہ یہ مصیبت اسے ہلاک کر ڈالے گی اور ایسے اسباب اختیار کرنے کی فکر کرتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ اس رویے سے وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، ان لوگوں کو اگر بھلائی، نعمت اور کوئی محبوب چیز عطا ہوتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور اس چیز سے بھی ڈرتے ہیں کہ یہ نعمتیں کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے استدراج اور مہلت نہ ہوں۔ اگر انھیں اپنی جان، مال اور اولاد میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے، تو صبر کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل کی امید رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتے۔
[50] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَىِٕنۡ اَذَقۡنٰهُ ﴾ ’’اور اگر ہم اسے چکھاتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ شخص جو بھلائی کی دعا سے اکتاتا نہیں اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو مایوس ہو جاتا ہے۔ ﴿رَحۡمَةً مِّؔنَّا ﴾ ’’اپنی طرف سے رحمت۔‘‘ یعنی اس برائی کے بعد جو اسے پہنچتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اسے مرض سے شفا دیتا ہے یا اس کا فقر دور کر کے غنی بنا دیتا ہے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا بلکہ وہ بغاوت اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتا ہے اور کہتا ہے:﴿هٰؔذَا لِيۡ ﴾ یعنی یہ مجھے عطا ہوا ہے کیونکہ میں اس کا اہل اور مستحق ہوں۔ ﴿وَمَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىِٕمَةً ﴾ ’’اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہوگی‘‘ یہ اس کی طرف سے انکار قیامت ہے اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت اور رحمت کی ناسپاسی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی۔ ﴿وَّلَىِٕنۡ رُّجِعۡتُ اِلٰى رَبِّيۡۤ اِنَّ لِيۡ عِنۡدَهٗ لَلۡحُسۡنٰى ﴾ فرض کیا اگر قیامت کی گھڑی آہی جائے اور مجھے اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے تو میرے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی بھلائی ہے۔ جس طرح دنیا میں مجھے نعمتوں سے نوازا گیا ہے، اسی طرح آخرت میں بھی مجھے نعمتوں سے بہرہ مند کیا جائے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں سب سے بڑی جسارت اور بلاعلم قول ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَلَنُنَبِّئَنَّ۠ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا١ٞ وَلَنُذِيۡقَنَّهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ ﴾ ’’پس کافر جو عمل کرتے ہیں، وہ ہم انھیں ضرور بتائیں گے اور انھیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔‘‘ یعنی نہایت سخت عذاب کا مزا چکھائیں گے۔
[51]﴿وَاِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَى الۡاِنۡسَانِ ﴾ یعنی جب ہم انسان کو صحت اور رزق وغیرہ کی نعمت سے بہرہ ور کرتے ہیں۔ ﴿اَعۡرَضَ ﴾ تو وہ اپنے رب اور اس کی شکر گزاری سے روگردانی کرتا ہے۔ ﴿وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ﴾ اور تکبر اور خود پسندی کی بنا پر کنارہ کش ہوجاتا ہے۔ ﴿وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ ﴾ ’’اور اگر اسے برائی پہنچتی ہے۔‘‘ یعنی اگر مرض اور فقر اسے آ لیتا ہے۔ ﴿فَذُوۡ دُعَآءٍ عَرِيۡضٍ ﴾ تو عدم صبر کی بنا پر بہت دعائیں کرتا ہے، پس کوئی بھی تنگی میں صبر کرتا ہے نہ فراخی میں شکر۔ سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا ہو۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences