As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Ash-Shuraa 42:17–29
42:17–18Page 485
ٱللَّهُ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ وَٱلۡمِيزَانَۗ وَمَا يُدۡرِيكَ لَعَلَّ ٱلسَّاعَةَ قَرِيبٞ ١٧
It is Allāh who has sent down the Book in truth and [also] the balance [i.e., justice]. And what will make you perceive? Perhaps the Hour is near.
يَسۡتَعۡجِلُ بِهَا ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِهَاۖ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مُشۡفِقُونَ مِنۡهَا وَيَعۡلَمُونَ أَنَّهَا ٱلۡحَقُّۗ أَلَآ إِنَّ ٱلَّذِينَ يُمَارُونَ فِي ٱلسَّاعَةِ لَفِي ضَلَٰلِۭ بَعِيدٍ ١٨
Those who do not believe in it are impatient for it,1 but those who believe are fearful of it and know that it is the truth. Unquestionably, those who dispute concerning the Hour are in extreme error.
اللہ وہ ہے جس نے نازل کی کتاب ساتھ حق کے اور ترازو اور کیا معلوم آپ کو شاید قیامت قریب ہی ہو (17) جلدی مانگتے ہیں اس (قیامت) کو وہ لوگ جو نہیں ایمان رکھتے اس پر اور وہ لوگ جو ایمان لائے، ڈرنے والے ہیں اس سے، اور وہ جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے، آگاہ رہو! بلاشبہ وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں قیامت کے بارے میں، البتہ وہ دور کی گمراہی میں (مبتلا) ہیں (18)
[17] یہ واضح کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ کے دلائل واضح اور روشن ہیں، کیونکہ ہر وہ شخص ان کو قبول کرتا ہے جس میں کچھ بھی بھلائی ہے، ان کا قاعدہ اور اصول بیان کیا بلکہ تمام دلائل بیان کیے جو اس نے بندوں کو عطا کیے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡۤ اَنۡزَلَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَقِّ وَالۡمِيۡزَانَ ﴾ ’’اللہ ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور میزان۔‘‘ کتاب سے مراد قرآن عظیم ہے، جو حق کے ساتھ نازل ہوا اور حق، صدق اور یقین پر مشتمل ہے۔ تمام مطالب الٰہیہ اور عقائد دینیہ کے بارے میں وہ روشن نشانیوں اور واضح دلائل پر مشتمل ہے یہ کتاب عظیم بہترین مسائل اور واضح ترین دلائل لے کر آئی ہے۔ میزان سے مراد قیاس صحیح اور عقل راجح کے ذریعے سے عدل و تعبیر ہے ، چنانچہ تمام عقلی دلائل یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیاں، شرعی تعبیرات، مناسبات، علتیں، احکام اور حکمتیں، میزان میں داخل ہیں، جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرما کر بندوں کے سامنے پیش کیا ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے ان امور کا وزن کریں جن کا اللہ تعالیٰ نے اثبات کیا ہے یا جن کی اس نے نفی کی ہے اور ان امور کو پہچانیں جن کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے خبر دی ہے اور ان امور کو پہچانیں جو کتاب اور میزان پر پورے نہیں اترتے اور جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ حجت، برہان یا دلیل یا اس قسم کی کوئی تعبیر ہے کیونکہ یہ سب باطل اور متناقض ہیں ۔ ان کے اصول فاسد اور ان کی بنیاد اور ان کی فروع منہدم ہو گئے۔ اس میزان کے ذریعے سے مسائل کی خبر اور اس کے ماخذ کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے دلائل راجحہ اور دلائل مرجوحہ کے درمیان امتیاز اور اس کے ذریعے سے دلائل اور شبہات کے درمیان فرق کیا جاتا ہے۔ رہا وہ شخص جو آراستہ عبارات، ملمع شدہ خوبصورت الفاظ کے فریب میں مبتلا ہو کر معنیٔ مراد میں بصیرت حاصل نہیں کرتا تو وہ اس شان کے لوگوں میں شامل ہے نہ اس میدان کا شاہسوار ہے۔ پس اس کی موافقت اور مخالفت برابر ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے لیے جلدی مچانے والوں اور اس کا انکار کرنے والوں کو ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيۡبٌ ﴾ ’’اور تم کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو۔‘‘ یعنی اس کے دور ہونے کا علم ہے نہ یہ معلوم ہے کہ وہ کب قائم ہو گی؟ پس اس کا وقوع ہر وقت متوقع ہے اور اس کے واقع ہونے کی آواز بہت خوفناک ہو گی۔
[18]﴿يَسۡتَعۡجِلُ بِهَا الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِهَا ﴾ ’’اس کی جلدی انھیں پڑی ہے جو اسے نہیں مانتے۔‘‘ یعنی منکرین حق عناد اور تکذیب کے طور پر اور اپنے رب کو قیامت قائم کرنے سے عاجز سمجھتے ہوئے قیامت کے لیے جلدی مچاتے ہیں۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مُشۡفِقُوۡنَ مِنۡهَا ﴾ ’’اور اہل ایمان اس سے ڈرتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کے ڈرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ قیامت کے روز اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی اور وہ اپنے رب کی مغفرت کی بنا پر ڈرتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اعمال نجات کے حصول میں مدد نہ کر سکیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿وَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّهَا الۡحَقُّ ﴾ ’’اور وہ جانتے ہیں کہ یہ حق ہے۔‘‘ جس میں کوئی جھگڑا ہے نہ شک۔ ﴿اَلَاۤ اِنَّ الَّذِيۡنَ يُمَارُوۡنَ فِي السَّاعَةِ ﴾ ’’آگاہ رہو! جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔‘‘ یعنی قیامت میں شک کرنے کے علاوہ قیامت کے بارے میں انبیاء اور ان کے پیرو کاروں سے جھگڑا کرتے ہیں، پس وہ دور کی مخالفت میں ہیں، یعنی صواب و درستی کے قریب نہیں ہیں بلکہ حق سے انتہائی دور معاندانہ اور مخاصمانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں ۔ اس شخص سے بڑھ کر حق سے کون دور ہو سکتا ہے جس نے آخرت کے گھر کو جھٹلایا، جو حقیقی گھر ہے جو دائمی طور پر باقی رہنے اور خلود سرمدی کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور وہ دارالجزا ہے ، جہاں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و عدل کو ظاہر کرے گا۔ دنیا کے گھر کی اس دائمی گھر سے بس اتنی سی نسبت ہے جیسے کوئی مسافر درخت کے سائے تلے آرام کرے ، پھر اس سایہ دار درخت کو چھوڑ کر کوچ کر جائے۔ یہ تو عبوری گھر اور گزرگاہ ہے، ہمیشہ رہنے کا ٹھکانا نہیں۔ چونکہ انھوں نے اس دارفانی کو دیکھا اور اس کا مشاہدہ کیا اس لیے انھوں نے اس کی تصدیق کی اور آخرت کے گھر کو جھٹلایا، جس کے بارے میں کتب الٰہیہ میں تواتر کے ساتھ اخبار وارد ہوئی ہیں اور انبیائے کرام علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں نے آگاہ کیا، جو عقل میں سب سے زیادہ کامل، علم میں سب زیادہ وسعت کے حامل اور سب سے زیادہ فہم و فطانت رکھنے والے نفوس قدسیہ ہیں۔
42:19–20Page 485
ٱللَّهُ لَطِيفُۢ بِعِبَادِهِۦ يَرۡزُقُ مَن يَشَآءُۖ وَهُوَ ٱلۡقَوِيُّ ٱلۡعَزِيزُ ١٩
Allāh is Subtle1 with His servants; He gives provision to whom He wills. And He is the Powerful, the Exalted in Might.
مَن كَانَ يُرِيدُ حَرۡثَ ٱلۡأٓخِرَةِ نَزِدۡ لَهُۥ فِي حَرۡثِهِۦۖ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرۡثَ ٱلدُّنۡيَا نُؤۡتِهِۦ مِنۡهَا وَمَا لَهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ ٢٠
Whoever desires the harvest of the Hereafter - We increase for him in his harvest [i.e., reward]. And whoever desires the harvest [i.e., benefits] of this world - We give him thereof, but there is not for him in the Hereafter any share.
اللہ بہت مہربان ہے اپنے بندوں کے ساتھ، وہ رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ خوب طاقت ور، زبردست ہے(19) جو شخص ارادہ کرتا ہے آخرت کی کھیتی کا، زیادتی کرتے ہیں ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں اور جو شخص ارادہ کرتا ہے دنیا کی کھیتی کا، دیتے ہیں ہم اس کو اس میں سے کچھ اور نہیں ہے اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ (20)
[19] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنے لطف و کرم سے آگاہ فرماتا ہے تاکہ وہ اسے پہچانیں ، اس سے محبت کریں اور اس کے فضل و کرم کے حصول کے درپے رہیں۔لطف اللہ تعالیٰ کے اوصاف میں سے ایک وصف ہے جس سے مراد وہ ہستی ہے جو ضمائر اور نیتوں میں چھپے ہوئے بھیدوں کو بھی جانتی ہے، جو اپنے بندوں کو، خاص طور پر اہل ایمان کو اس مقام تک پہنچاتی ہے جس کے بارے میں انھیں کوئی علم ہوتا ہے نہ گمان۔ یہ بندۂ مومن پر اس کا لطف و کرم ہے کہ اس نے بھلائی کے اسباب مہیا کر کے اسے بھلائی کی راہ دکھائی، جس کا اس کے دل میں خیال تک نہیں آتا، اس کی فطرت میں موجود یہ اسباب محبت حق اور اس کی اطاعت کی طرف بلاتے ہیں، نیز یہ کہ اس نے اپنے مکرم فرشتوں کو الہام کیا کہ وہ اس کے مومن بندوں کو ثابت قدم رکھیں، انھیں بھلائی کی ترغیب دیں، ان کے دلوں میں حق کو مزین کریں تاکہ یہ تزیین حق، اتباع حق کی دعوت دے۔ یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اہل ایمان کو اجتماعی عبادات کا حکم دیا جن کے ذریعے سے ان کے عزائم میں قوت آتی ہے، ان کی ہمتیں بیدار ہوتی ہیں ،بھلائی میں رغبت پیدا ہوتی ہے، بھلائی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اور ایک دوسرے کی پیروی کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندے کو ہر سبب مہیا کیا جو اسے معاصی سے باز رکھتا ہے اور اس کے اور معاصی کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر اللہ تعالیٰ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ دنیا، مال و متاع اور ریاست وغیرہ، جس کی خاطر دنیا دار ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے بندے کو اس کی اطاعت سے دور کر دے گی یا اس میں غفلت پیدا کر دے گی یا اسے معصیت پر ابھارے گی، تو وہ اس دنیا کو اس سے دور ہٹا دیتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ اپنی حکمت کے تقاضے اور اپنے لطف و کرم کے مطابق جسے چاہتا ہے رزق سے بہرہ مند کرتا ہے ﴿وَهُوَ الۡقَوِيُّ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اور وہ بہت قوت والا، نہایت غالب ہے۔‘‘ وہ تمام قوت کا مالک ہے اس کی مدد کے بغیر مخلوق میں کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں ۔اسی کے سامنے کائنات سرنگوں ہے۔
[20] پھر فرمایا: ﴿مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ حَرۡثَ الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جو آخرت کی کھیتی کا طلب گار ہو۔‘‘ یعنی جو کوئی آخرت کا اجروثواب چاہتے ہوئے اس پر ایمان لاتا ہے، اس کی تصدیق کرتا ہے اور اس کے حصول کے لیے پوری طرح کوشاں رہتا ہے ﴿نَزِدۡ لَهٗ فِيۡ حَرۡثِهٖ﴾ ’’ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کر دیتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم اس کے عمل اور اس کی جزا کو کئی گنا کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَمَنۡ اَرَادَ الۡاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعۡيَهَا وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ كَانَ سَعۡيُهُمۡ مَّشۡكُوۡرًا﴾(بنی اسرائیل:17؍19) ’’جو کوئی آخرت کا گھر چاہتا ہے اور اس کے لیے کوشش کرے جیسا کہ کوشش کا حق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔‘‘ اس کے باوجود دنیا میں سے اس کے لیے مقرر کیا گیا حصہ اسے ضرور ملے گا۔ ﴿وَمَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ حَرۡثَ الدُّنۡيَا ﴾ ’’اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے۔‘‘ یعنی دنیا ہی اس کا مطلوب و مقصود ہو، آخرت کے لیے کچھ بھی آگے نہ بھیجے، اسے آخرت کے ثواب کی امید ہے نہ اس کے عذاب کا ڈر۔ ﴿نُؤۡتِهٖ مِنۡهَا ﴾ تو ہم اسے دنیا میں سے اس کا حصہ عطا کرتے ہیں جو اس کے لیے مقرر ہے۔ ﴿وَمَا لَهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ مِنۡ نَّصِيۡبٍ ﴾ ’’اور اس کے لیے آخرت کا کچھ حصہ نہیں ہوگا۔‘‘ اس پر جنت حرام کر دی گئی اور وہ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کا مستحق ٹھہرا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے: ﴿مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيۡهِمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فِيۡهَا وَهُمۡ فِيۡهَا لَا يُبۡخَسُوۡنَ ۰۰ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَيۡسَ لَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖٞ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوۡا فِيۡهَا وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(ہود:11؍15، 16) ’’جو لوگ اس دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کے طلب گار ہیں ہم انھیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ اسی دنیا میں عطا کر دیتے ہیں اور اس میں ان کو کوئی گھاٹا نہیں دیا جاتا۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انھوں نے دنیا میں کیا تھا، وہ سب اکارت ہے اور جو کچھ وہ کرتے تھے، سب برباد ہونے والا ہے۔‘‘
42:21–23Page 485
أَمۡ لَهُمۡ شُرَكَٰٓؤُاْ شَرَعُواْ لَهُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا لَمۡ يَأۡذَنۢ بِهِ ٱللَّهُۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةُ ٱلۡفَصۡلِ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۗ وَإِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ ٢١
Or have they partners [i.e., other deities] who have ordained for them a religion to which Allāh has not consented? But if not for the decisive word,1 it would have been concluded between them. And indeed, the wrongdoers will have a painful punishment.
تَرَى ٱلظَّٰلِمِينَ مُشۡفِقِينَ مِمَّا كَسَبُواْ وَهُوَ وَاقِعُۢ بِهِمۡۗ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فِي رَوۡضَاتِ ٱلۡجَنَّاتِۖ لَهُم مَّا يَشَآءُونَ عِندَ رَبِّهِمۡۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَضۡلُ ٱلۡكَبِيرُ ٢٢
You will see the wrongdoers fearful of what they have earned, and it will [certainly] befall them. And those who have believed and done righteous deeds will be in lush regions of the gardens [in Paradise] having whatever they will in the presence of their Lord. That is what is the great bounty.
ذَٰلِكَ ٱلَّذِي يُبَشِّرُ ٱللَّهُ عِبَادَهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِۗ قُل لَّآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ أَجۡرًا إِلَّا ٱلۡمَوَدَّةَ فِي ٱلۡقُرۡبَىٰۗ وَمَن يَقۡتَرِفۡ حَسَنَةٗ نَّزِدۡ لَهُۥ فِيهَا حُسۡنًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ شَكُورٌ ٢٣
It is that of which Allāh gives good tidings to His servants who believe and do righteous deeds. Say, [O Muḥammad], "I do not ask you for it [i.e., this message] any payment [but] only good will through [i.e., due to] kinship." And whoever commits a good deed - We will increase for him good therein. Indeed, Allāh is Forgiving and Appreciative.1
کیا ان کے لیے(اور) شریک ہیں جنھوں نے مقرر کیا ہے ان کے لیے وہ دین کہ نہیں حکم دیا اس کا اللہ نے، اور اگر نہ ہوتی بات فیصلہ کرنے(کے وعدے)کی تو یقیناً (فوراً ہی) فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان، اور بلاشبہ ظالم لوگ، ان کے لیے عذاب ہے درد ناک (21) آپ دیکھیں گے ظالموں کو، ڈررہے ہوں گے ان (عملوں کی جزا سے) جو انھوں نے کمائے اور وہ (جزا ضرور) واقع ہو گی ان پر اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، وہ سبزہ زاروں میں ہوں گے باغوں کے، ان کے لیے ہو گا جو وہ چاہیں گے اپنے رب کے پاس، یہی ہے وہ فضل بہت بڑا (22) یہ (فضل) وہی ہے جس کی خوش خبری دیتا ہے اللہ اپنے بندوں کو، وہ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، کہہ دیجیے: نہیں سوال کرتا میں تم سے اس پر کسی صلے کا، مگر محبت کا رشتے داری کی وجہ سے اور جو شخص کماتا ہے کوئی نیکی تو زیادہ کرتے ہیں ہم اس کے لیے اس میں بھلائی کو، بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت قدردان ہے (23)
[21] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے شریک بنا لیے جن کے ساتھ وہ دوستی رکھتے ہیں اور وہ کفر کے داعی انسانی شیاطین کے ساتھ کفر اور اعمال کفر میں شریک ہیں ﴿شَرَعُوۡا لَهُمۡ مِّنَ الدِّيۡنِ مَا لَمۡ يَاۡذَنۢۡ بِهِ اللّٰهُ ﴾ ’’انھوں نے ان کے لیے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا اللہ نے انھیں حکم نہیں دیا۔‘‘ یعنی شرک اور بدعات کو رواج دیا، اپنی خواہشات نفس کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرایا اور اس کی محرمات کو حلال قرار دیا، حالانکہ دین وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ دین قرار دے تاکہ لوگ اسے دین بنائیں اور اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کریں ۔اس بارے میں اصول یہ ہے کہ ہر شخص کے لیے کسی ایسی چیز کو شریعت قرار دینا ممنوع ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے نہ آئی ہو… تب ان فساق کو شریعت سازی کا کیوں کر اختیار دیا جا سکتا ہے جو کفار کے کفر میں شریک ہیں۔ ﴿وَلَوۡلَا كَلِمَةُ الۡفَصۡلِ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر پہلے سے طے شدہ بات نہ ہوتی تو ان کے درمیان ضرور فیصلہ کیا جاچکا ہوتا۔‘‘ یعنی اگر مدت مقرر نہ کر دی گئی ہوتی جسے اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے سے اختلاف رکھنے والے تمام گروہوں کے درمیان فیصلہ کن قرار دیا ہے نیز یہ کہ وہ ان تمام لوگوں کو اس مدت تک مہلت دے گا تو اللہ تعالیٰ اسی وقت حق پرست کی سعادت اور باطل پرست کی ہلاکت کا فیصلہ کر دیتا کیونکہ ہلاکت کا تقاضا موجود ہے، مگر ان لوگوں کو اور ہر ظالم کو آخرت میں دردناک عذاب کا سامنا کرنا ہے۔
[22] اس روز ﴿تَرَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تم ظالموں کو دیکھو گے۔‘‘ جنھوں نے کفر اور معاصی کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿مُشۡفِقِيۡنَ ﴾ یعنی ڈر رہے ہوں گے ﴿مِمَّا كَسَبُوۡا ﴾ ’’اس (انجام) سے جو انھوں نے (اپنے اعمال سے) کیا۔‘‘ کہ انھیں اپنی بداعمالیوں کی سزا ملے گی۔ چونکہ ڈرنے والے کے ساتھ کبھی تو وہ چیز پیش آجاتی ہے جس سے ڈرتا ہے اور کبھی وہ چیز پیش نہیں آتی اس لیے آگاہ فرمایا کہ وہ ﴿ وَاقِعٌۢ بِهِمۡ ﴾ عذاب ان پر ضرور واقع ہو گا جس سے وہ ڈرتے ہیں۔ کیونکہ اس نے اس کامل سبب کو اختیار کیا ہے جو عذاب کا موجب ہے اور اس موجب عذاب کا کوئی معارض بھی نہیں، مثلاً: توبہ وغیرہ۔ مزید برآں وہ ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں مہلت کا وقت گزر گیا ہے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ اور وہ لوگ جو اپنے دل سے اللہ تعالیٰ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور اس کا اظہار کیا۔ ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ﴾ ’’او ر عمل کیے نیک۔‘‘ اس میں اعمال قلوب، اعمال جوارح، اعمال واجبہ اور اعمال مستحبہ سب شامل ہیں، لہٰذا یہ لوگ ﴿فِيۡ رَوۡضٰتِ الۡجَنّٰتِ ﴾ ’’بہشتوں کے باغات میں ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ ان باغات میں ہوں گے جو جنت کی طرف مضاف (منسوب) ہیں اور مضاف، مضاف الیہ کے مطابق ہوتا ہے۔مت پوچھیے کہ ان خوبصورت باغات کی خوبصورتی، ان میں اچھل اچھل کر بہتی ہوئی ندیاں، بیلوں سے ڈھکے ہوئے درخت کے جھنڈ، حسین مناظر، پھلوں سے لدے ہوئے درخت، چہچہاتے ہوئے پرندے، طرب انگیز آوازیں، تمام دوستوں سے ملاقاتیں اور اس ہم نشینی سے حاصل ہونے والا بہرۂ کامل کیسا ہو گا؟ وہ ایسے باغات ہوں گے کہ دور دور تک حسن ہی حسن ہو گا، ان باغات کے رہنے والوں میں ان باغات کی لذات کی چاہت اور اشتیاق میں اضافہ ہوگا۔ ﴿لَهُمۡ مَّا يَشَآءُوۡنَ ﴾ یعنی ان باغات میں وہ جس چیز کا ارادہ کریں گے وہ فوراً انھیں حاصل ہو گی اور جب بھی طلب کریں گے حاضر کر دی جائے گی، جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے طائر خیال میں اس کا گزر ہوا ہے۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَضۡلُ الۡكَبِيۡرُ ﴾ ’’یہی ہے بہت بڑا فضل۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول میں کامیابی اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر میں اس کے تقرب کی نعمت سے بہرہ مند ہونے سے بڑھ کر بھی کوئی فضل ہے؟
[23]﴿ذٰلِكَ الَّذِيۡ يُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’یہی وہ ہے جس کی اللہ اپنے بندوں کو جو ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں بشارت دیتا ہے۔‘‘ یہ عظیم خوشخبری جو بلاشبہ علی الاطلاق سب سے بڑی خوشخبری ہے، جس سے رحمان و رحیم نے، مخلوق میں سے بہترین ہستی کے ذریعے سے ایمان اور عمل صالح کے حاملین کو سرفراز فرمایا ہے۔ یہ جلیل ترین غایت مقصود ہے اور اس مقصد تک پہنچانے والا وسیلہ افضل ترین وسیلہ ہے۔ ﴿قُلۡ لَّاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ ﴾ ’’آپ کہہ دیجیے! میں اس پر تم سے کوئی سوال نہیں کرتا۔‘‘ یعنی تمھیں یہ قرآن پہنچانے اور تمھیں اس کے احکام کی طرف دعوت دینے پر ﴿اَجۡرًا ﴾ ’’اجر کا۔‘‘ میں تم سے تمھارا مال لینا چاہتا ہوں نہ تمھارا سردار بننا چاہتا ہوں اور نہ میری کوئی اور ہی غرض ہے ﴿اِلَّا الۡمَوَدَّةَ فِي الۡقُرۡبٰى﴾ ’’مگر قرابت داری کی محبت۔‘‘ ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد ہو کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، سوائے ایک اجر کے، وہ تمھارے ہی لیے ہے، اس کا فائدہ بھی تمھیں ہی پہنچتا ہے ، یعنی تم مجھ سے رشتہ داری کی وجہ سے محبت کرو اور یہ مودت، ایمان کی مودت سے زائد چیز ہے کیونکہ رسول (ﷺ) پر ایمان کی مودت اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے بعد رسول کی محبت کو تمام محبتوں پر مقدم رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اور ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایمان کی محبت زائد قرابت داری کی بنا پر اس سے محبت کرو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے قریب ترین رشتہ داروں تک اپنی دعوت پہنچائی۔ حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ قریش کے گھرانوں میں کوئی ایسا گھرانہ نہ تھا جس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی رشتہ داری نہ ہو ۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچی مودت و محبت ہو اور یہ ایسی محبت ہے جس کی مصاحبت میں تقرب الٰہی اور توسل ہوتے ہیں جن کی بنیاد اطاعت ہے، جو اس مودت و محبت کی صحت و صداقت کی دلیل ہے، اسی لیے فرمایا:﴿ اِلَّا الۡمَوَدَّةَ فِي الۡقُرۡبٰى ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف تقرب حاصل کرنے کے لیے۔ دونوں اقوال کے مطابق، یہ استثنا اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اکرم ﷺ تم سے اس پر کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتے، سوائے اس چیز کے کہ جس کا فائدہ خود تمھی کی طرف لوٹتا ہے۔ یہ کسی بھی طرح کوئی اجر نہیں، بلکہ یہ تو ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اجر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَمَا نَقَمُوۡا مِنۡهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِ﴾(البروج:85؍8) ’’وہ اہل ایمان سے صرف اس وجہ سے ناراض ہیں کہ وہ اللہ پر ایمان لائے، جو زبردست اور قابل تعریف ہے۔‘‘ اور جیسے کسی کا یہ کہنا:تمھارے نزدیک فلاں شخص کا بس یہی گناہ ہے کہ وہ تمھارے ساتھ بھلائی کرنے والا ہے۔ ﴿وَمَنۡ يَّقۡتَرِفۡ حَسَنَةً ﴾ ’’اور جو کوئی نیکی کاکام کرے گا۔‘‘ یعنی نماز، روزہ اور حج پر کاربند رہتا ہے اور مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے۔ ﴿نَّزِدۡ لَهٗ فِيۡهَا حُسۡنًا ﴾ ’’ہم اس کے لیے اس میں بھلائی بڑھا دیں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اس کے سینے کو کھول دیتا ہے، اس کے معاملے کو آسان کر دیتا ہے اور یہ نیکی کسی دوسرے نیک عمل کی توفیق کا ذریعہ بن جاتی ہے اور اس ذریعے سے مومن کے اعمال صالحہ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے نزدیک اس کا مرتبہ بلند ہو جاتا ہے اور وہ دنیاوی اور اخروی ثواب سے بہرہ مند ہوتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ شَكُوۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بہت قدردان ہے۔‘‘ وہ توبہ کرنے پر تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے خواہ وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔ وہ تھوڑے سے عمل پر بہت زیادہ اجر عطا کر کے اس عمل کی قدر دانی کرتا ہے۔ پس وہ اپنی مغفرت کے ذریعے سے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور عیبوں کو چھپاتا ہے اور اپنی قدر دانی کی بنا پر نیکیوں کو قبول کر کے ان میں کئی گنا اضافہ کرتا ہے۔
42:24Page 486
أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبٗاۖ فَإِن يَشَإِ ٱللَّهُ يَخۡتِمۡ عَلَىٰ قَلۡبِكَۗ وَيَمۡحُ ٱللَّهُ ٱلۡبَٰطِلَ وَيُحِقُّ ٱلۡحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٢٤
Or do they say, "He has invented about Allāh a lie"? But if Allāh willed, He could seal over your heart.1 And Allāh eliminates falsehood and establishes the truth by His words. Indeed, He is Knowing of that within the breasts.
کیا وہ کہتے ہیں گھڑ لیا ہے اس نے اوپر اللہ کے جھوٹ؟ پس اگر چاہے اللہ تو مہر لگا دے اوپر آپ کے دل کے اور مٹاتا ہے اللہ باطل کو اور ثابت کرتا ہے حق کو اپنی باتوں سے، بلاشبہ وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے (24)
[24] کیا رسول (ﷺ) کو جھٹلانے والے یہ لوگ اپنی جسارت اور کذب بیانی کی بنا پر کہتے ہیں :﴿افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ﴾ ’’اس (رسول) نے اللہ پر جھوٹ باندھ لیا ہے۔‘‘ پس انھوں نے آپ پر بدترین اور قبیح ترین بہتان لگایا، وہ یہ کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ کر کے اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا جبکہ آپ اس سے بری ہیں، حالانکہ وہ آپ کی صداقت اور امانت کو خوب جانتے ہیں، وہ اس صریح جھوٹ کی کیوں کر جرأت کر رہے ہیں؟ بلکہ اس ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں جرح و قدح ہے کہ اس نے آپ کے لیے اس عظیم دعوت کو ممکن بنایا جو ان کے زعم کے موجب زمین کے اندر سب سے بڑے فساد کو متضمن ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس صراحت کے ساتھ نبوت کا دعویٰ کرنے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کا اختیار بخشا، مزید برآں وہ ظاہری معجزات، بڑے بڑے دلائل، فتح مبین اور آپ کی مخالفت کرنے والوں پر غلبہ عطا کر کے آپ کی تائید کرتا ہے۔ درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ اس دعوت کو اس کی جڑ اور بنیاد سے ختم کرنے پر قادر ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ رسول (ﷺ) کے قلب پر مہر لگا دے تاکہ اس کے اندر کوئی بھلائی داخل نہ ہو، جب آپ کے قلب پر مہر لگا دی جائے گی تو تمام معاملہ ختم ہو جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ جو کچھ لے کر آئے ہیں اس کی صحت پر یہ اس کی قطعی دلیل اور آپ کے نبوت کے دعویٰ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے قوی ترین شہادت ہے، اس سے عظیم اور اس سے بڑی کوئی اور شہادت نہیں مل سکتی۔ بنابریں یہ اس کی حکمت، رحمت اور سنت جاریہ ہے کہ وہ باطل کو مٹا دیتا ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اسے غلبہ حاصل ہوتا ہے، مگر انجام کار باطل نیست و نابود ہوتا ہے۔ ﴿وَيُحِقُّ الۡحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ﴾ وہ اپنے سچے وعدے اور احکام تکوینی کے ذریعے سے حق کو حق کر دکھاتا ہے جس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں، نیز اپنے ان کے کلمات دینیہ کے ذریعے سے بھی حق کو حق کر دکھاتا ہے جو ان احکام حق کو ثابت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مشروع کیے ہیں اور انھیں قلوب میں جاگزیں کرتے ہیں اور خرد مندوں کو بصیرت سے بہرہ مند کرتے ہیں حتی کہ اللہ تعالیٰ کا حق کو حق ثابت کرنا یہ ہے کہ وہ حق کا مقابلہ کرنے کے لیے باطل کو مقرر کر دیتا ہے۔ جب باطل حق کا مقابلہ کرتا ہے تو حق اپنے دلائل و براہین کے ساتھ باطل پر حملہ آور ہوتا ہے، تب نور حق اور اس کی ہدایت ظاہر ہوتے ہیں جس سے باطل مضمحل ہو کر نیست و نابود ہو جاتا ہے اور ہر ایک پر باطل کا بطلان واضح اور ہر ایک کے لیے حق پوری طرح ظاہر ہو جاتا ہے۔ ﴿اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ یعنی جو کچھ دلوں میں ہے اور جن اچھے برے اوصاف سے دل متصف ہیں اور جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور اسے ظاہر نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے۔
42:25–28Page 486
وَهُوَ ٱلَّذِي يَقۡبَلُ ٱلتَّوۡبَةَ عَنۡ عِبَادِهِۦ وَيَعۡفُواْ عَنِ ٱلسَّيِّـَٔاتِ وَيَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُونَ ٢٥
And it is He who accepts repentance from His servants and pardons misdeeds, and He knows what you do.
وَيَسۡتَجِيبُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضۡلِهِۦۚ وَٱلۡكَٰفِرُونَ لَهُمۡ عَذَابٞ شَدِيدٞ ٢٦
And He answers [the supplication of] those who have believed and done righteous deeds and increases [for] them from His bounty. But the disbelievers will have a severe punishment.
۞ وَلَوۡ بَسَطَ ٱللَّهُ ٱلرِّزۡقَ لِعِبَادِهِۦ لَبَغَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَٰكِن يُنَزِّلُ بِقَدَرٖ مَّا يَشَآءُۚ إِنَّهُۥ بِعِبَادِهِۦ خَبِيرُۢ بَصِيرٞ ٢٧
And if Allāh had extended [excessively] provision for His servants, they would have committed tyranny throughout the earth. But He sends [it] down in an amount which He wills. Indeed He is, of His servants, Aware and Seeing.
وَهُوَ ٱلَّذِي يُنَزِّلُ ٱلۡغَيۡثَ مِنۢ بَعۡدِ مَا قَنَطُواْ وَيَنشُرُ رَحۡمَتَهُۥۚ وَهُوَ ٱلۡوَلِيُّ ٱلۡحَمِيدُ ٢٨
And it is He who sends down the rain after they had despaired and spreads His mercy. And He is the Protector, the Praiseworthy.
اور وہی ہے جو قبول کرتا ہے توبہ اپنے بندوں کی اور معاف کر دیتا ہے برائیاں اور جانتا ہے جو تم کرتے ہو (25) اور قبول کرتا ہے (دعا) ان لوگوں کی جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور زیادہ دیتا ہے ان کو اپنے فضل سے، اور کافر لوگ، ان کے لیے ہے عذاب بہت سخت (26) اور اگر فراخ کر دے اللہ رزق واسطے اپنے بندوں کے تو ضرور وہ سرکشی کریں زمین میں اور لیکن وہ نازل کرتا ہے ساتھ ایک اندازے کے جتنا چاہتا ہے، بلاشبہ وہ اپنے بندوں سے خوب خبردار، انھیں خوب دیکھنے والا ہے (27) اور وہ، وہ ہے جو نازل کرتا ہے بارش بعد ان کے ناامید ہو جانے کے اور عام کر دیتا ہے اپنی رحمت کو اور وہ کارساز ہے تعریف کے لائق (28)
[25] یہ اللہ تعالیٰ کے کمال فضل و کرم، اس کی وسعت جود اور اس کے لطف کامل کا بیان ہے کہ وہ اپنے بندوں سے صادر ہونے والی توبہ کو قبول کرتا ہے جب وہ گناہوں کو ترک کر کے ان پر نادم ہوتے ہیں اور ان گناہوں کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کر لیتے ہیں ۔جب وہ اس توبہ میں خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کا قصد رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس توبہ کو قبول کرتا ہے، جبکہ یہ گناہ ہلاکت اور دنیاوی و اخروی عذاب کا سبب بن چکے تھے۔ ﴿وَيَعۡفُوۡا عَنِ السَّيِّاٰتِ ﴾ اللہ تعالیٰ برائیوں کو مٹا دیتا ہے، ان کے برے اثرات اور عقوبات کو بھی ختم کر دیتا ہے جن کا تقاضا یہ برائیاں کرتی ہیں اور توبہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کے نزدیک دوبارہ اچھے لوگوں کے زمرے میں شمار ہونے لگتا ہے گویا کہ اس نے کبھی کوئی برا کام کیا ہی نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے اور اسے ایسے اعمال کی توفیق بخشتا ہے جو اسے اس کا قرب عطا کرتے ہیں۔ چونکہ توبہ عظیم اعمال میں شمار ہوتی ہے، جو کبھی تو کامل صدق و اخلاص کی بنا پر کامل ہوتی ہے اور کبھی صدق و اخلاص میں کمی کے سبب سے ناقص ہوتی ہے اور کبھی توبہ فاسد ہوتی ہے جب توبہ کا مقصد کوئی دنیاوی غرض ہو، اور توبہ کا محل قلب ہے جس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کو اس ارشاد پر ختم فرمایا :﴿وَيَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’اور تم جو عمل کرتے ہو، وہ جانتاہے۔‘‘
[26] اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام بندوں کو اپنی طرف انابت اور تقصیر پر توبہ کرنے کی دعوت دی ہے پس بندے اس دعوت کو قبول کرنے کے بارے میں دو اقسام میں منقسم ہیں:۱۔ پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے اس دعوت کو قبول کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا وصف بیان فرمایا ہے: ﴿وَيَسۡتَجِيۡبُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی ان کا رب انھیں جس چیز کی طرف بلاتا ہے وہ اس کی پکار کا جواب دیتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں کیونکہ ان کے اعمال اور عمل صالح انھیں ایسا کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی پکار پر لبیک کہتے ہیں تو وہ ان کی قدر کرتا ہے وہ بہت بخشنے والا اور نہایت قدردان ہے۔ ﴿وَيَزِيۡدُهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ﴾ ’’اور ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے عمل کے لیے ان کی توفیق و نشاط میں اضافہ کرتا ہے، ان کے اعمال جس ثواب اور فوزعظیم کے مستحق ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں اس سے کئی گنا زیادہ اجر عطا کرتا ہے۔۲۔ رہے وہ جو اللہ کی دعوت کو قبول نہیں کرتے اور وہ معاندین حق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کا انکار کرنے والے ہیں۔ ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ﴾ ان کے لیے دنیا و آخرت میں سخت عذاب ہے۔
[27] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے لطف و کرم کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے بندوں پر دنیا کو اتنی زیادہ فراخ نہیں کرتا، جس سے ان کے دین کو نقصان پہنچے، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَوۡ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزۡقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق میں فراخی کردیتا تو وہ زمین میں فساد کرنے لگتے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے غافل ہو کر شہوات دنیا سے تمتع میں مصروف ہو جاتے اور دنیا انھیں ان کی خواہشات نفس میں مشغول کر دیتی خواہ وہ معصیت اور ظلم ہی کیوں نہ ہوتے۔ ﴿وَلٰكِنۡ يُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا يَشَآءُ ﴾ ’’لیکن وہ اپنے اندازے سے جو چیز چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔‘‘ یعنی اپنے لطف و کرم اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ﴿اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِيۡرٌۢ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر، خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ جیسا کہ ایک اثر میں مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح صرف غنا ہی کرتا ہے اگر میں اسے فقروفاقہ میں مبتلا کر دوں تو یہ فقروفاقہ اسے فاسد کر کے رکھ دے گا اور میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح فقر کے سوا کوئی اور چیز نہیں کرتی اگر میں اسے غنا عطا کر دوں تو وہ ان کے ایمان کو خراب کردے اور میرے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح، صحت کے سوا کسی چیز سے نہیں ہوتی اگر میں انھیں بیمار کر دوں تو وہ انھیں فاسد کر کے رکھ دے اور میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح صرف مرض سے ہوتی ہے اگر میں انھیں عافیت سے نواز دوں تو یہ عافیت ان کے ایمان کو فاسد کر دے۔ بندوں کے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کے بارے میں اپنے علم کے مطابق بندوں کے امور کی تدبیر کرتا ہوں۔ بے شک میں خبر رکھنے والا اور دیکھنے والا ہوں۔‘‘ (العلل المتناہیۃ فی الأحادیث الواہیۃ، الإیمان، باب تدبیر الخلق بما یصلح الإیمان، حدیث: 27 اس حدیث کی سند ضعیف ہے جیسا کہ حافظ ابن حجرa نے کہا ہے لیکن اس کا معنی و مفہوم درست ہے۔ (فتح ا لباري: 415/11)
[28]﴿وَهُوَ الَّذِيۡ يُنَزِّلُ الۡغَيۡثَ ﴾ یعنی وہی موسلادھار بارش برساتا ہے جس کے ذریعے سے وہ زمین اور بندوں کی مدد کرتا ہے ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ مَا قَنَطُوۡا ﴾ ’’اس کے بعد کہ وہ مایوس ہوچکے ہوتے ہیں۔‘‘ ایک مدت سے ان سے بارش منقطع ہو چکی ہوتی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ اب بارش نہیں ہو گی اور یوں وہ مایوس ہو کر قحط سالی کے لیے کوئی کام کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ بارش برسا دیتا ہے ﴿وَيَنۡشُرُ ﴾ وہ اس بارش کے ذریعے سے پھیلاتا ہے ﴿رَحۡمَتَهٗ﴾ ’’اپنی رحمت کو۔‘‘ انسانوں اور ان کے چوپایوں کی خوراک کا سامان پیدا کر کے اور انسانوں کے نزدیک یہ بارش بہت اچھے موقع پر برستی ہے، اس موقع پر وہ خوش ہوتے اور فرحت کا اظہار کرتے ہیں۔ ﴿وَهُوَ الۡوَلِيُّ ﴾ ’’اور وہی کارساز ہے۔‘‘ جو مختلف تدابیر کے ساتھ اپنے بندوں کی سرپرستی اور ان کے دینی اور دنیاوی مصالح کا انتظام کرتا ہے۔ ﴿الۡحَمِيۡدُ ﴾ وہ سرپرستی اور تدبیر و انتظام میں قابل ستائش ہے، اور کمال کا مالک ہونے اور مخلوق کو جو مختلف نعمتیں اس نے بہم پہنچائی ہیں، اس پر وہ قابل ستائش ہے۔
42:29Page 486
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦ خَلۡقُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِن دَآبَّةٖۚ وَهُوَ عَلَىٰ جَمۡعِهِمۡ إِذَا يَشَآءُ قَدِيرٞ ٢٩
And of His signs is the creation of the heavens and earth and what He has dispersed throughout them of creatures. And He, for gathering them when He wills, is competent.
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے پیدا کرنا آسمانوں اور زمین کا اور جو پھیلائے اس نے ان میں جاندار، اور وہ ان کے جمع کرنے پر، جب چاہے، قادر ہے(29)
[29]﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهٖ﴾’’اور اس کی نشانیوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی اس کی عظیم قدرت کہ جس میں مُردوں کو زندہ کرنا بھی ہے، کے جملہ دلائل میں سے ایک دلیل ﴿ خَلۡقُ ﴾ ’’پیدائش‘‘ ان ﴿السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی۔‘‘ ان کی عظمت اور وسعت کے ساتھ، وہ اللہ کی قدرت اور وسعت سلطنت پر دلالت کرتی ہے اور ان کی تخلیق میں مہارت اور مضبوطی ہے، وہ اس کی حکمت پر اور ان کے اندر جو منافع اور مصالح رکھے گئے ہیں، وہ اس کی رحمت کی دلیل ہیں اور یہ سب کچھ دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی الوہیت باطل ہے۔ ﴿وَمَا بَثَّ فِيۡهِمَا مِنۡ دَآبَّةٍ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ہی نے آسمانوں اور زمین میں جانداروں کی اصناف پھیلائیں اور ان کو اپنے بندوں کے لیے منافع اور مصالح قرار دیا۔ ﴿وَهُوَ عَلٰى جَمۡعِهِمۡ ﴾ یعنی وہ تمام مخلوق کو ان کے مرنے کے بعد قیامت کے موقف کے لیے جمع کرنے پر ﴿اِذَا يَشَآءُ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’جب چاہے، خوب قادر ہے‘‘ پس اس کی قدرت اور مشیت ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کا وقوع، خبر صادق کے وجود پر موقوف ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین اور ان کی کتابوں کی طرف سے اس کے وقوع کی خبر نہایت تواتر کے ساتھ دی گئی ہے۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences