As-Sa'diAsh‑Shuraa · 42:30–50

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Ash-Shuraa 42:30–50

42:30–31Page 486

وَمَآ أَصَٰبَكُم مِّن مُّصِيبَةٖ فَبِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِيكُمۡ وَيَعۡفُواْ عَن كَثِيرٖ ٣٠

And whatever strikes you of disaster - it is for what your hands have earned; but He pardons much.

وَمَآ أَنتُم بِمُعۡجِزِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِۖ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٖ ٣١

And you will not cause failure [to Allāh]1 upon the earth. And you have not besides Allāh any protector or helper.

اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو کوئی مصیبت توبسبب اس کےجو کمایا تمھارے ہاتھوں نے اور وہ درگزر کر دیتا ہے بہت سی باتوں سے (30) اور نہیں ہو تم عاجز کرنے والے (اسے) زمین میں اور نہیں ہے تمھارے لیے سوائے اللہ کے کوئی کارساز اور نہ کوئی مددگار (31)

[30] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ بندوں کو ان کے ابدان، اموال، اولاد اور ان کی محبوب اور عزیز چیزوں میں جو بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے اس کا سبب ان کے ہاتھوں سے کمائی ہوئی برائیاں ہیں اور وہ برائیاں جو اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے، اس سے بھی زیادہ ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ہے، بندے خود اپنے آپ پر ظلم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ﴿وَلَوۡ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوۡا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهۡرِهَا مِنۡ دَآبَّةٍ ﴾(فاطر:35؍45) ’’اگر اللہ لوگوں کو ان کے کرتوتوں پر پکڑتا تو روئے زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا۔‘‘

[31] اللہ تعالیٰ کی طرف سے عقوبات کو موخر کرنا، کسی بھول کی بنا پر ہے نہ کسی عجز کی بنا پر ۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور تم زمین میں (اسے) عاجز نہیں کرسکتے۔‘‘ یعنی تم پر جو اللہ تعالیٰ کو قدرت حاصل ہے اس بارے میں تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں پاؤ گے۔ بلکہ تم زمین کے اندر بے بس اور عاجز ہو۔ اللہ تم پر جو حکم نافذ کرتا ہے تم اسے روکنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ ﴿وَمَا لَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِيٍّ ﴾ ’’اللہ کے سوا تمھارا کوئی دوست نہیں۔‘‘ جو تمھاری سرپرستی کرے اور تمھیں فوائد عطا کرے ﴿وَّلَا نَصِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ مددگار‘‘ جو تم سے ضرر رساں چیزوں کو دور کرے۔

42:32–35Page 487

وَمِنۡ ءَايَٰتِهِ ٱلۡجَوَارِ فِي ٱلۡبَحۡرِ كَٱلۡأَعۡلَٰمِ ٣٢

And of His signs are the ships in the sea, like mountains.

إِن يَشَأۡ يُسۡكِنِ ٱلرِّيحَ فَيَظۡلَلۡنَ رَوَاكِدَ عَلَىٰ ظَهۡرِهِۦٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّكُلِّ صَبَّارٖ شَكُورٍ ٣٣

If He willed, He could still the wind, and they would remain motionless on its surface. Indeed in that are signs for everyone patient and grateful.

أَوۡ يُوبِقۡهُنَّ بِمَا كَسَبُواْ وَيَعۡفُ عَن كَثِيرٖ ٣٤

Or He could destroy them1 for what they earned; but He pardons much.

وَيَعۡلَمَ ٱلَّذِينَ يُجَٰدِلُونَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا مَا لَهُم مِّن مَّحِيصٖ ٣٥

And [that is so] those who dispute concerning Our signs may know that for them there is no place of escape.

اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں چلنے والی کشتیاں سمندر میں، مانند پہاڑوں کے (32) اگر وہ چاہے تو ٹھہرا دے ہوا کو، تو ہو جائیں وہ (کشتیاں)کھڑی ہونے والی اس (سمندر) کی سطح پر، بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں واسطے ہر صابر، شاکرکے (33) یا (چاہے تو) تباہ کر دے ان کو بسبب اس کےجو انھوں نے کمایا اور (چاہے تو) درگزر کر دے بہت سوں سے (34) اور (تاکہ) جان لیں وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں ہماری آیتوں میں کہ نہیں ہے ان کے لیے کوئی بھاگنے کی جگہ (35)

[32] یعنی اپنے بندوں پر رحمت اور عنایت کے جملہ دلائل میں سے ایک دلیل ﴿الۡجَوَارِ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’سمندر میں جہاز‘‘ کشتیاں، دخانی اور بادبانی جہاز ہیں جو اپنی بڑی جسامت کی بنا پر ﴿كَالۡاَعۡلَامِ﴾ بڑے بڑے پہاڑ دکھائی دیتے ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کو مسخر کر دیا اور متلاطم موجوں سے ان کی حفاظت کی، یہ کشتیاں انھیں اور ان کے سامان تجارت کو دور دور ملکوں اور شہروں تک لے جاتی ہیں اور ان کے لیے ایسے اسباب مہیا کیے جو ان کو ان ملکوں اور شہروں تک جانے میں مدد دیتے ہیں۔

[33، 34] پھر اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِنۡ يَّشَاۡ يُسۡكِنِ الرِّيۡحَ ﴾ ’’اگر وہ (اللہ) چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے۔‘‘ جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کشتیوں کے چلنے کا سبب بنایا ہے، ﴿فَيَظۡلَلۡنَ ﴾ ’’اور وہ رہ جائیں۔‘‘ یعنی مختلف انواع کی کشتیاں ﴿رَوَاكِدَ ﴾ سطح سمندر پر ٹھہر جائیں، آگے بڑھیں نہ پیچھے ہٹیں۔ یہ چیز دخانی کشتیوں کے متناقض نہیں ہے کیونکہ دخانی کشتیوں کے چلنے کے لیے ہوا کا موجود ہونا شرط ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کشتیوں کو، ان پر سوار ہونے والوں کے کرتوتوں کے سبب سے تباہ کر دے یعنی سمندر میں غرق کر کے تلف کر دے، مگر وہ حلم سے کام لیتا ہے اور بہت سے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ ﴾ ’’بے شک صبر شکر کرنے والوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔‘‘ یعنی جو ان امور پر بہت صبر کرنے والا ہے جن کو اس کا نفس ناپسند کرتا ہے اور اس پر یہ امور شاق گزرتے ہیں وہ اپنے نفس کو اس مشقت اور اطاعت پر مجبور کرتا ہے، معصیت کے داعی کو اور مصیبت کے وقت نفس کو اللہ تعالیٰ پر ناراضی سے روکتا ہے ﴿شَكُوۡرٍ﴾ نعمتوں اور آسودہ حالی میں شکر ادا کرتا ہے، وہ اپنے رب کی نعمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق صرف کرتا ہے۔ پس یہی وہ شخص ہے جو آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ رہا وہ شخص جو صبر سے بہرہ ور ہے نہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر کرتا ہے تو یہ شخص یا تو آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والا یا ان سے عناد رکھنے والا ہے، وہ آیات الٰہی سے مستفید نہیں ہوسکتا۔

[35] پھر فرمایا: ﴿وَّيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور جان لیں وہ لوگ جو ہماری آیتوں کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔‘‘تاکہ اپنے باطل نظریے کے ذریعے سے انھیں جھٹلاتے ہیں۔ ﴿مَا لَهُمۡ مِّنۡ مَّحِيۡصٍ ﴾ اس عذاب سے انھیں کوئی بچا نہیں سکے گا جو ان پر نازل ہو گا۔

42:36–39Page 487

فَمَآ أُوتِيتُم مِّن شَيۡءٖ فَمَتَٰعُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۚ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُونَ ٣٦

So whatever thing you have been given - it is but [for] enjoyment of the worldly life. But what is with Allāh is better and more lasting for those who have believed and upon their Lord rely

وَٱلَّذِينَ يَجۡتَنِبُونَ كَبَٰٓئِرَ ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡفَوَٰحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُواْ هُمۡ يَغۡفِرُونَ ٣٧

And those who avoid the major sins and immoralities, and when they are angry, they forgive,

وَٱلَّذِينَ ٱسۡتَجَابُواْ لِرَبِّهِمۡ وَأَقَامُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَمۡرُهُمۡ شُورَىٰ بَيۡنَهُمۡ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ ٣٨

And those who have responded to their Lord and established prayer and whose affair is [determined by] consultation among themselves, and from what We have provided them, they spend,

وَٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَابَهُمُ ٱلۡبَغۡيُ هُمۡ يَنتَصِرُونَ ٣٩

And those who, when tyranny strikes them, they retaliate [in a just manner].1

پس جو بھی دیے گئے ہو تم کسی چیز سے تو وہ سامان ہے زندگانیٔ دنیا کا، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے، وہ کہیں بہتر اور بہت پائیدار ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب ہی پر وہ بھروسا کرتے ہیں (36) اور وہ لوگ جو بچتے ہیں کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے اور جب غصے ہوتے ہیں تو وہ معاف کر دیتے ہیں (37) اور وہ جنھوں نے حکم مانا اپنے رب کا اور قائم کی انھوں نے نماز اور ان کا کام ہے مشورہ کرنا آپس میں، اور اس میں سے جو دیا ہم نے ان کو، وہ خرچ کرتے ہیں (38) اور وہ لوگ کہ جب پہنچتا ہے ان کو ظلم تو وہ بدلہ لیتے ہیں(39)

[36] اس آیت کریمہ میں دنیا کو ترک کرنے اور آخرت کو اختیارکرنے کی ترغیب اور ان اعمال کا ذکر ہے جو آخرت کی منزل تک پہنچاتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿فَمَاۤ اُوۡتِيۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’پس جو کچھ تمھیں دیا گیا ہے۔‘‘ یعنی اقتدار، ریاست، سرداری، مال، بیٹے اور بدنی صحت و عافیت وغیرہ۔ ﴿فَمَتَاعُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’پس دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے۔‘‘ یعنی منقطع ہونے والی لذت ہے۔ ﴿وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ بے پایاں ثواب، جلیل القدر اور دائمی نعمتوں میں سے وہ﴿خَيۡرٌ ﴾ لذات دنیا سے بہتر ہے، اخروی نعمتوں اور دنیا کی لذتوں کے مابین کوئی نسبت ہی نہیں۔ ﴿وَّاَبۡقٰى ﴾ ’’اور زیادہ پائدار ہیں۔‘‘ کیونکہ یہ ایسی نعمتیں ہیں کہ ان میں کوئی تکدر ہے نہ یہ ختم ہونے والی ہیں اور نہ یہ کہیں اور منتقل ہوں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو اس ثواب سے بہرہ مند کیا جائے گا ، چنانچہ فرمایا :﴿لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ﴾ یعنی جنھوں نے ایمان صحیح، جو ظاہری اور باطنی ایمان کے اعمال کو مستلزم ہے اور توکل کو جمع کر لیا ہے جو ہر عمل کا آلہ ہے پس ہر عمل جس کی مصاحبت میں توکل نہ ہو، غیرمکمل ہے۔ اور جس چیز کو بندہ پسند کرتا ہے اسے حاصل کرنے اور جسے ناپسند کرتا ہے اسے دور کرنے میں قلب کے اللہ تعالیٰ پر پورے وثوق کے ساتھ بھروسہ کرنے کا نام توکل ہے۔

[37]﴿وَالَّذِيۡنَ يَجۡتَنِبُوۡنَ كَبٰٓىِٕرَ الۡاِثۡمِ وَالۡفَوَاحِشَ ﴾ ’’اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔‘‘ کبائر اور فواحش میں، دونوں کے گناہ کبیرہ ہونے کے باوجود، فرق یہ ہے کہ فواحش وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جن کے لیے نفس انسانی میں داعیہ موجود ہوتا ہے، مثلاً: زنا وغیرہ اور کبائر وہ گناہ ہیں جن کے لیے نفس میں داعیہ موجود نہیں ہوتا، یہ مفہوم دونوں کے اکٹھا استعمال کے وقت ہے۔ اور رہا ان کا انفرادی وجود، تو وہ سب کبائر میں داخل ہیں۔ ﴿وَاِذَا مَا غَضِبُوۡا هُمۡ يَغۡفِرُوۡنَ﴾ ’’اور جب وہ غصے میں آتے ہیں تو معاف کردیتے ہیں۔‘‘ یعنی انھوں نے مکارم اخلاق اور محاسن عادات سے اپنے آپ کو آراستہ کر رکھا ہے، حلم ان کی فطرت اور حسن خلق ان کی طبیعت بن گیا ہے حتیٰ کہ جب کبھی کوئی شخص کسی قول یا فعل کے ذریعے سے انھیں ناراض کر دیتا ہے تو وہ اپنے غصے کو پی جاتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرتے، بلکہ قصور بخش دیتے ہیں اور وہ اس کے مقابلے میں حسن سلوک اور عفوودرگزر سے کام لیتے ہیں۔ پس اس عفوودگزر پر، خود ان کی ذات میں اور دوسروں میں بہت سے مصالح مترتب اور بہت سے مفاسد دور ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِدۡفَعۡ بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِيۡ بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيۡمٌ۰۰ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا١ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ﴾(حم السجدۃ:41؍34، 35) ’’برائی کو نیکی کے ذریعے سے دور کیجیے، آپ دیکھیں گے کہ وہ شخص بھی جس کی آپ کے ساتھ دشمنی ہے، جگری دوست بن جائے گا، اس وصف سے صرف وہی لوگ بہرہ مند ہوتے ہیں، جو صبر کرتے ہیں اور یہ وصف صرف انھیں لوگوں کو عطا ہوتا ہے جو بڑے نصیبے والے ہیں۔‘‘

[38]﴿وَالَّذِيۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور جو اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں۔‘‘ یعنی جو اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا ان کا مطمحِ نظر اور اس کے قرب کا حصول ان کی غرض و غایت بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دعوت کا جواب دینے سے مراد ہے، نماز قائم کرنا اور زکاۃ ادا کرنا، اس لیے ان کا استجابت پر عطف کیا ہے، یہ خاص پر عام کے عطف کے باب میں سے ہے، جو اس کے فضل و شرف کی دلیل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ﴾ یعنی اس کے ظاہر و باطن اور فرائض و نوافل کو قائم کرتے ہیں۔ ﴿وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ﴾ ’’اور ہم نے جو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘ یعنی نفقات واجبہ ، مثلاً: زکاۃ اور اقارب پر خرچ کرنا وغیرہ اور نفقات مستحبہ ، مثلاً: عام مخلوق پر صدقہ کرنا۔ ﴿وَاَمۡرُهُمۡ ﴾ ان کے دینی اور دنیاوی معاملات ﴿شُوۡرٰى بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’باہم مشورے سے طے پاتے ہیں۔‘‘ یعنی مشترکہ امور میں ان میں سے کوئی بھی اپنی رائے کو مسلط نہیں کرتا۔ یہ وصف ان کی اجتماعیت، آپس کی الفت، مودت اور محبت ہی کا حصہ ہے۔ ان کا کمال عقل ہے کہ جب وہ کسی ایسے کام کا ارادہ کرتے ہیں جس میں غوروفکر کی ضرورت ہو تو وہ اکٹھے ہو کر اس بارے میں بحث و تمحیص اور آپس میں مشورہ کرتے ہیں، جب ان پر مصلحت واضح ہو جاتی ہے تو اسے جلدی سے قبول کر لیتے ہیں، جیسے غزوہ، جہاد، امارت یا قضا وغیرہ کے لیے عمّال مقرر کرنے میں مشورہ کرنا اور دینی مسائل میں بحث و تحقیق کرنا کیونکہ یہ اعمال مشترکہ امور میں شمار ہوتے ہیں تاکہ صحیح رائے واضح ہو جائے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ یہ بھی اسی آیت کریمہ کے تحت آتا ہے۔

[39]﴿وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الۡبَغۡيُ ﴾ ’’اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم و تعدی ہو۔‘‘ یعنی ان کے دشمنوں کی طرف سے ان پر کوئی زیادتی کی جاتی ہے ﴿هُمۡ يَنۡتَصِرُوۡنَ ﴾ ’’وہ بدلہ لیتے ہیں۔‘‘ اپنی قوت و طاقت کی بنا پر ان سے بدلہ لیتے ہیں، وہ کمزور اور بدلہ لینے سے عاجز نہیں ہیں۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان، اللہ پر توکل، کبائر و فواحش سے اجتناب جس سے صغیرہ گناہ مٹ جاتے ہیں، مکمل اطاعت، اپنے رب کی دعوت کو قبول کرنے، نماز قائم کرنے، نیکی کے راستوں میں خرچ کرنے، اپنے معاملات میں باہم مشورہ کرنے، دشمن کے خلاف قوت استعمال کرنے اور اس سے مقابلہ کرنے سے متصف کیا ہے۔ وہ ان خصائل کمال کے جامع ہیں اور یوں ان سے کمتر افعال کے صدور اور مرقومہ بالاخصائل کی اضداد کی نفی لازم آتی ہے۔

42:40–43Page 487

وَجَزَٰٓؤُاْ سَيِّئَةٖ سَيِّئَةٞ مِّثۡلُهَاۖ فَمَنۡ عَفَا وَأَصۡلَحَ فَأَجۡرُهُۥ عَلَى ٱللَّهِۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلظَّٰلِمِينَ ٤٠

And the retribution for an evil act is an evil one like it, but whoever pardons and makes reconciliation - his reward is [due] from Allāh. Indeed, He does not like wrongdoers.

وَلَمَنِ ٱنتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهِۦ فَأُوْلَٰٓئِكَ مَا عَلَيۡهِم مِّن سَبِيلٍ ٤١

And whoever retaliates after having been wronged - those have not upon them any cause [for blame].

إِنَّمَا ٱلسَّبِيلُ عَلَى ٱلَّذِينَ يَظۡلِمُونَ ٱلنَّاسَ وَيَبۡغُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّۚ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ ٤٢

The cause is only against the ones who wrong the people and tyrannize upon the earth without right. Those will have a painful punishment.

وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِ ٤٣

And whoever is patient and forgives - indeed, that is of the matters [worthy] of resolve.1

اور بدلہ برائی کا برائی ہے اسی کی مثل، پس جو معاف کر دے اور صلح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، بلاشبہ وہ نہیں پسند کرتا ظالموں کو (40) اور البتہ جس نے بدلہ لیا بعد اپنے آپ پر ظلم ہونے کے تو یہی لوگ ہیں کہ نہیں ہے اوپر ان کے کوئی راستہ (گرفت کرنے کا)(41) بلاشبہ راستہ تو ان لوگوں پر ہے جو ظلم کرتے ہیں لوگوں پر اور سرکشی کرتے ہیں زمین میں ناحق، یہی لوگ ہیں جن کے لیے ہے عذاب درد ناک (42) اور البتہ جس نے صبر کیا اور معاف کر دیا تو بے شک یہ ہمت کے کاموں سے ہے (43)

[40] اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے عقوبات کے مراتب بیان کیے ہیں، عقوبات کے تین مراتب ہیں: عدل، فضل اور ظلم۔ 1کسی کمی بیشی کے بغیر، برائی کے بدلے میں اسی جیسی برائی، مرتبۂ عدل ہے۔ پس جان کے بدلے جان ہے، عضو کے بدلے اس جیسا عضو اور مال کی ضمان اسی جیسا مال ہے۔ 2برائی کرنے والے کو معاف کر کے اصلاح کرنا مرتبۂ فضل ہے اس لیے فرمایا:﴿فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’پس جو کوئی درگزر کرے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اسے اجر عظیم اور ثواب جزیل عطا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے درگزر کرنے میں اصلاح کی شرط دلالت کرتی ہے کہ اگر مجرم عفو کے لائق نہ ہو اور مصلحت شرعیہ اس کو سزا دینے کا تقاضا کرتی ہو تو اس صورت میں وہ عفو پر مامور نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا معاف کرنے والے کو اجر عطا کرنا، عفو پر آمادہ کرتا ہے نیز اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ مخلوق کے ساتھ وہ معاملہ کرے، جو وہ اپنے بارے میں چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کرے۔ جیسا کہ وہ پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے، لہٰذا اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کو معاف کر دے۔ اور جیسا کہ وہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ نرمی کرے، تب اسے بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کے ساتھ نرمی کرے۔ کیونکہ جزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ 3 رہا مرتبۂ ظلم، تو اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں ذکر فرمایا ہے۔ ﴿اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ جو دوسروں پر زیادتی کرنے میں ابتدا کرتے ہیں، یا جرم کرنے والے سے اس کے جرم سے بڑھ کر بدلہ لیتے ہیں تو یہ زیادتی ظلم ہے۔

[41]﴿وَلَمَنِ انۡتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهٖ﴾ جو ظلم کے وقوع کے بعد ظلم کرنے والے سے بدلہ لیتا ہے۔ ﴿فَاُولٰٓىِٕكَ مَا عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سَبِيۡلٍ﴾ تو یہی وہ لوگ ہیں جن پر بدلہ لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَالَّذِيۡنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الۡبَغۡيُ ﴾ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَلَمَنِ انۡتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهٖ﴾ دلالت کرتے ہیں کہ ظلم و زیادتی کے وقوع کے بعد بدلہ لینا ضروری ہے۔ رہا کسی پر ظلم اور زیادتی کا ارادہ کرنا اور ابھی اس سے ظلم و زیادتی واقع نہیں ہوئی تو اسے وہ سزا تو نہیں دی جائے گی جو جرم کے ارتکاب پر دی جاتی ہے، البتہ اس کو تادیبی سزا ضرور دی جائے گی جو اسے اس قول و فعل سے باز رکھ سکے جو اس سے صادر ہوا۔

[42]﴿اِنَّمَا السَّبِيۡلُ ﴾ یعنی عقوبت شرعیہ کی حجت تو صرف انھی لوگوں پر قائم ہوگی۔ ﴿عَلَى الَّذِيۡنَ يَظۡلِمُوۡنَ النَّاسَ وَيَبۡغُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں، اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں۔‘‘ یہ آیت لوگوں کے خون، مال اور ناموس کے بارے میں ظلم و زیادتی کو شامل ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یعنی ان کے ظلم و زیادتی کے مطابق ان کے قلوب و ابدان کو سخت تکلیف دینے والا عذاب ہو گا۔

[43]﴿وَلَمَنۡ صَبَرَ ﴾ ’’اور جو صبر کرے۔‘‘ یعنی مخلوق کی طرف سے جو تکلیف اسے پہنچتی ہے اس پر صبر کرتا ہے۔ ﴿وَغَفَرَ ﴾ یعنی ان سے جو جرم واقع ہوا، ان سے مسامحت کرتے ہوئے ان کو بخش دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ﴾ یعنی یہ چیز ایسے امور میں شمار ہوتی ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے ترغیب دی ، اس پر تاکید فرمائی اور آگاہ فرمایا کہ یہ صرف انھی لوگوں کو عطا ہوتی ہے جو صبر سے بہرہ مند اور بڑے نصیبے والے ہیں اور یہ ان امور میں سے ہے جن کی توفیق بڑے عزم و ہمت اور عقل و بصیرت والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ نفس کے لیے قول یا فعل سے انتقام نہ لینا انتہائی باعث مشقت ہے اور اذیت پر صبر کرنا، اس سے درگزر کرنا، اس کو بخش دینا اور اس کے مقابلے یں حسن سلوک سے پیش آنا تو بہت ہی پرمشقت کام ہے، مگر یہ اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کر دے اور وہ بھی اس وصف سے متصف ہونے کے لیے اپنے نفس سے جہاد کرے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے، پھر بندہ جب اذیت برداشت کرنے کی حلاوت کو چکھ لیتا ہے اور اس کے آثار کو دیکھ لیتا ہے تو اسے شرح صدر، کشادہ دلی اور ذوق و شوق سے قبول کرتا ہے۔

42:44–46Page 487

وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن وَلِيّٖ مِّنۢ بَعۡدِهِۦۗ وَتَرَى ٱلظَّٰلِمِينَ لَمَّا رَأَوُاْ ٱلۡعَذَابَ يَقُولُونَ هَلۡ إِلَىٰ مَرَدّٖ مِّن سَبِيلٖ ٤٤

And he whom Allāh sends astray - for him there is no protector beyond Him. And you will see the wrongdoers, when they see the punishment, saying, "Is there for return [to the former world] any way?"

وَتَرَىٰهُمۡ يُعۡرَضُونَ عَلَيۡهَا خَٰشِعِينَ مِنَ ٱلذُّلِّ يَنظُرُونَ مِن طَرۡفٍ خَفِيّٖۗ وَقَالَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ وَأَهۡلِيهِمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ أَلَآ إِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ فِي عَذَابٖ مُّقِيمٖ ٤٥

And you will see them being exposed to it [i.e., the Fire], humbled from humiliation, looking from [behind] a covert glance. And those who had believed will say, "Indeed, the [true] losers are the ones who lost themselves and their families on the Day of Resurrection. Unquestionably, the wrongdoers are in an enduring punishment."

وَمَا كَانَ لَهُم مِّنۡ أَوۡلِيَآءَ يَنصُرُونَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِۗ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن سَبِيلٍ ٤٦

And there will not be for them any allies to aid them other than Allāh. And whoever Allāh sends astray - for him there is no way.

اور جسے گمراہ کر دے اللہ تو نہیں ہے اس کے لیے کوئی کارساز اس کے بعد، اور آپ دیکھیں گے ظالموں کو، جب دیکھیں گے وہ عذاب، تو کہیں گے: کیا ہے واپس جانے کا کوئی راستہ؟(44) اور دیکھیں گے آپ ان کو کہ پیش کیے جائیں گے وہ اس (جہنم) پر، جھکے ہوئے ذلت کی وجہ سے، دیکھتے ہوں گے چھپی نگاہ سے، اور کہیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے (تھے)، بلاشبہ خسارہ پانے والے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالااپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دن قیامت کے، آگاہ رہو! بلاشبہ ظالم لوگ ہی دائمی عذاب میں ہوں گے (45) اور نہیں ہوں گے ان کے لیے کوئی دوست، جو مدد کریں ان کی سوائے اللہ کے، اور جس کو گمراہ کر دے اللہ تو نہیں ہے اس کے لیے کوئی راستہ (ہدایت کا)(46)

[44] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہدایت عطا کرنے اور اصلاح کرنے میں یکتا ہے۔ ﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ ﴾ جسے اللہ تعالیٰ اس کے ظلم کے سبب سے گمراہ کر دے۔ ﴿فَمَا لَهٗ مِنۡ وَّلِيٍّ مِّنۢۡ بَعۡدِهٖ﴾ ’’تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں۔‘‘ جو اس کے معاملے کی سرپرستی کرے اور اس کی راہ نمائی کرے۔ ﴿وَتَرَى الظّٰلِمِيۡنَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ ﴾ اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ عذاب کا بہت ہی برا، بہت مشکل اور نہایت قبیح منظر دیکھیں گے تو وہ بہت زیادہ ندامت اور اپنے گزشتہ کرتوتوں پر افسوس کا اظہار کریں گے۔ ﴿يَقُوۡلُوۡنَ هَلۡ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنۡ سَبِيۡلٍ﴾ اور کہیں گے: کیا دنیا میں دوبارہ جانے کا کوئی طریقہ یا کوئی حیلہ ہے تاکہ ہم ان کاموں سے مختلف کام کریں جو ہم پہلے کیا کرتے تھے۔ ان کی یہ درخواست ایک امر محال کے لیے ہو گی جس کا پورا ہونا ممکن نہیں۔

[45]﴿وَتَرٰىهُمۡ يُعۡرَضُوۡنَ عَلَيۡهَا ﴾ ’’اور تم ان کو دیکھو گے کہ وہ دوزخ (کی آگ) کے سامنے لائے جائیں گے۔‘‘ ﴿خٰشِعِيۡنَ مِنَ الذُّلِّ ﴾ یعنی آپ ان کے اجسام کو اس ذلت کی وجہ سے عاجز اور بے بس دیکھیں گے جو ان کے دلوں میں جاگزیں ہے۔ ﴿يَنۡظُرُوۡنَ مِنۡ طَرۡفٍ خَفِيٍّ ﴾ یعنی وہ جہنم کو اس کی ہیبت اور خوف کی وجہ سے چوری چوری ترچھی نظر سے دیکھیں گے۔ ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ جب مخلوق کا انجام ظاہر اور اہل صدق دوسرے لوگوں سے ممتاز ہو جائیں گے، تو اہل ایمان کہیں گے:﴿اِنَّ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ حقیقت میں خسارے والے وہ لوگ ہیں ﴿الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ وَاَهۡلِيۡهِمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو بے پایاں ثواب سے محروم کر لیا اور دردناک عذاب کو حاصل کیا۔ ان کے اور ان کے گھر والوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی اور وہ ان کے ساتھ کبھی اکٹھے نہ ہوں گے۔ ﴿اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’آگاہ رہو! بے شک ظالم ہی۔‘‘ یعنی جنھوں نے کفر اور معاصی کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿فِيۡ عَذَابٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’ہمیشگی کے عذاب میں رہیں گے۔‘‘ یعنی وہ دردناک عذاب کے عین وسط میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ وہ وہاں سے کبھی نکل سکیں گے نہ ان سے عذاب منقطع ہو گا اور وہ اس عذاب کے اندر سخت مایوس ہوں گے۔

[46]﴿وَمَا كَانَ لَهُمۡ مِّنۡ اَوۡلِيَآءَؔ يَنۡصُرُوۡنَهُمۡ۠ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ کے سوا ان کے کوئی دوست نہیں ہوں گے جو ان کی مدد کرسکیں۔‘‘ جیسا کہ وہ دنیا میں اپنے آپ کو امیدیں دلایا کرتے تھے۔ پس قیامت کے روز ان پر اور دوسرے لوگوں پر عیاں ہو جائے گا کہ وہ اسباب جن کے ساتھ انھوں نے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں، منقطع ہو گئے اور جب ان پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑا تو وہ ان پر سے ہٹایا نہ جاسکے گا۔ ﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ سَبِيۡلٍ﴾ ’’اور جسے اللہ گمراہ کردے، اس کے لیے کوئی راستہ نہیں۔‘‘ کوئی ایسا طریقہ نہیں جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو حاصل کر سکیں۔ یہ لوگ اس وقت گمراہ ہوئے جب یہ سمجھتے تھے کہ ان خود ساختہ شریکوں میں نفع پہنچانے اور نقصان کو دور کرنے کی طاقت ہے، تب ان کی گمراہی واضح ہوجائے گی۔

42:47–48Page 488

ٱسۡتَجِيبُواْ لِرَبِّكُم مِّن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَ يَوۡمٞ لَّا مَرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِۚ مَا لَكُم مِّن مَّلۡجَإٖ يَوۡمَئِذٖ وَمَا لَكُم مِّن نَّكِيرٖ ٤٧

Respond to your Lord before a Day comes from Allāh of which there is no repelling. No refuge will you have that Day, nor for you will there be any denial.1

فَإِنۡ أَعۡرَضُواْ فَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيظًاۖ إِنۡ عَلَيۡكَ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُۗ وَإِنَّآ إِذَآ أَذَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِنَّا رَحۡمَةٗ فَرِحَ بِهَاۖ وَإِن تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ فَإِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ كَفُورٞ ٤٨

But if they turn away - then We have not sent you, [O Muḥammad], over them as a guardian; upon you is only [the duty of] notification. And indeed, when We let man taste mercy from Us, he rejoices in it; but if evil afflicts him for what his hands have put forth, then indeed, man is ungrateful.

تم حکم قبول کرو اپنے رب کا پہلے اس کے کہ آ جائے وہ دن کہ نہیں ہے پھرنا اس کا اللہ کی طرف سے نہیں ہو گی تمھارے لیے کوئی جائے پناہ اس دن اور نہ ہو گا تمھارے لیے(چھپ کر)انجان بن جانا (47) پس اگر وہ منہ موڑیں، تو نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ان پر کوئی نگران، نہیں ہے آپ کے ذمے مگر پہنچا دینا ہی اور بلاشبہ جب ہم چکھاتے ہیں انسان کو اپنی طرف سے رحمت تو وہ خوش ہوتا ہے ساتھ اس کے، اور اگر پہنچتی ہے ان کو کوئی تکلیف، بسبب ان (اعمال) کے جو آگے بھیجے ان کے ہاتھوں نے، تو بلاشبہ انسان بہت ہی ناشکرا ہے (48)

[47] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی دعوت پر لبیک کہیں، وہ جس چیز کا حکم دے اس کی تعمیل کریں اور جس چیز سے روکے اس سے اجتناب کریں اس کو ٹالنے کی بجائے اس پر جلدی سے عمل کریں قیامت کے دن کے آنے سے پہلے کہ جب وہ آئے گا تو اس کو روکا جا سکے گا نہ کسی رہ جانے والی چیز کا تدارک ہو سکے گا۔ اس دن بندے کے پاس کوئی پناہ گاہ نہ ہوگی جہاں وہ پناہ لے کر اپنے رب سے بچ سکے اور اس سے بھاگ سکے۔ بلکہ فرشتے تمام خلائق کو پیچھے سے گھیرے ہوئے ہوں گے اور ان کو پکار کر کہا جائے گا:﴿يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا١ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ﴾(الرحمن:55؍33) ’’اے جن و انس کے گروہ! اگر تم آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جانے کی طاقت رکھتے ہو تو پھر نکل جاؤ ، تم نکل نہیں سکتے مگر طاقت کے ساتھ۔‘‘ اس روز بندہ اپنے کیے ہوئے جرائم کا انکار نہیں کرسکے گا، بلکہ اگر وہ انکار کرے گا تو اس کے اعضاء اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ اس آیت اور اس نوع کی دیگر آیات کریمہ میں جھوٹی امیدوں کی مذمت کی گئی ہے اور ہر وہ عمل جو بندے کو پیش آسکتا ہے، فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ تاخیر میں بہت سی آفتیں ہیں۔

[48]﴿فَاِنۡ اَعۡرَضُوۡا ﴾ بیان کامل کے بعد اگر یہ لوگ اس چیز سے منہ موڑیں جو آپ نے پیش کی۔ ﴿فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا ﴾ ’’تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔‘‘ کہ آپ ان کے اعمال کی نگرانی کریں اور آپ سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے ۔ ﴿اِنۡ عَلَيۡكَ اِلَّا الۡبَلٰغُ﴾ ’’آپ کے ذمے صرف (احکام) پہنچا دینا ہے۔‘‘ جب آپ نے اپنی ذمہ داری کو پورا کر دیا تو اللہ تعالیٰ پر آپ کا اجر واجب ٹھہرا، خواہ وہ آپ کی دعوت کو قبول کریں یا روگردانی کریں، ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے جس نے ان کے چھوٹے بڑے اور ظاہری، باطنی اعمال کو محفوظ کر رکھا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کی حالت بیان کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے یعنی اسے جسمانی صحت، رزق کی فراوانی اور عزت و جاہ عطا کرتا ہے۔ تو ﴿فَرِحَ بِهَا ﴾ ’’وہ اس سے خوش ہوجاتا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس طرح خوش ہوتا ہے کہ اس کی خوشی انھی چیزوں پر مرتکز ہو کر رہ جاتی ہے، اس سے آگے نہیں بڑھتی۔ اس کے اس رویے سے، ان چیزوں پر اس کی طمانیت اور منعم حقیقی سے روگردانی لازم آتی ہے۔ ﴿وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌۢ﴾’’ اگر انھیں کوئی برائی پہنچتی ہے۔‘‘ یعنی کوئی مرض یا فقر وغیرہ لاحق ہوتا ہے ﴿بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ فَاِنَّ الۡاِنۡسَانَ كَفُوۡرٌ ﴾ ’’ان اعمال کے سبب جو انھوں نے کیے، تو انسان بہت ہی ناشکرا ہے۔‘‘ یعنی اس کی فطرت میں سابقہ نعمت کی ناشکری اور اسے جو تکلیف پہنچتی ہے، اس پر اللہ تعالیٰ سے ناراضی رچی بسی ہوئی ہے۔

42:49–50Page 488

لِّلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ يَهَبُ لِمَن يَشَآءُ إِنَٰثٗا وَيَهَبُ لِمَن يَشَآءُ ٱلذُّكُورَ ٤٩

To Allāh belongs the dominion of the heavens and the earth; He creates what He wills. He gives to whom He wills female [children], and He gives to whom He wills males.

أَوۡ يُزَوِّجُهُمۡ ذُكۡرَانٗا وَإِنَٰثٗاۖ وَيَجۡعَلُ مَن يَشَآءُ عَقِيمًاۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٞ قَدِيرٞ ٥٠

Or He makes them [both] males and females, and He renders whom He wills barren. Indeed, He is Knowing and Competent.

اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، پیدا کرتا ہے وہ جو چاہتا ہے، بخشتا ہے جسے چاہتا ہے(صرف)لڑکیاں اور بخشتا ہے جسے چاہتا ہے(صرف)لڑکے(49) یا ملا کر دیتا ہے ان کو لڑکے اور لڑکیاں اور کر دیتا ہے جس کو چاہتا ہے بانجھ، بلاشبہ وہ خوب جاننے والا بہت قدرت رکھنے والا ہے (50)

[49، 50] اس آیت کریمہ میں، اللہ تعالی کے لامحدود اقتدار، اپنی مخلوق اور اپنی ملکیت میں اپنی مشیت کے مطابق تصرف کے نفاذ اور تمام امور کی تدبیر کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عمومی تدبیر اسباب سے پیدا شدہ ان اشیاء کو بھی شامل ہے جنھیں بندے اختیار کرتے ہیں۔ پس نکاح تو اولاد کے لیے ایک سبب ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ انھیں جو چاہتا ہے اولاد عطا کرتا ہے، مخلوق میں کسی کو بیٹیاں عطا کرتا ہے، کسی کو بیٹے عطا کرتا ہے، کسی کو بیٹے بیٹیاں دونوں عطا کرتا ہے، کسی کو بانجھ رکھتا ہے اور ان کو اولاد پیدا نہیں ہوتی۔ ﴿اِنَّهٗ عَلِيۡمٌ ﴾ بے شک وہ ہر چیز کا علم اور ﴿قَدِيۡرٌ ﴾ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، وہ اپنے علم اور مہارت کے ذریعے سے تمام اشیاء میں اور اپنی قدرت کے ذریعے سے تمام مخلوقات میں تصرف کرتا ہے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском