As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
الجاثية
Al-Jathiyah
The Crouching · Meccan · 37 ayahs
45:1–11Page 499
حمٓ ١
Ḥā, Meem.1
تَنزِيلُ ٱلۡكِتَٰبِ مِنَ ٱللَّهِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَكِيمِ ٢
The revelation of the Book is from Allāh, the Exalted in Might, the Wise.
إِنَّ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ لَأٓيَٰتٖ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ ٣
Indeed, within the heavens and earth are signs for the believers.
وَفِي خَلۡقِكُمۡ وَمَا يَبُثُّ مِن دَآبَّةٍ ءَايَٰتٞ لِّقَوۡمٖ يُوقِنُونَ ٤
And in the creation of yourselves and what He disperses of moving creatures are signs for people who are certain [in faith].
وَٱخۡتِلَٰفِ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ وَمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن رِّزۡقٖ فَأَحۡيَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا وَتَصۡرِيفِ ٱلرِّيَٰحِ ءَايَٰتٞ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ ٥
And [in] the alternation of night and day and [in] what Allāh sends down from the sky of provision [i.e., rain] and gives life thereby to the earth after its lifelessness and [in His] directing of the winds are signs for a people who reason.
تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱللَّهِ نَتۡلُوهَا عَلَيۡكَ بِٱلۡحَقِّۖ فَبِأَيِّ حَدِيثِۭ بَعۡدَ ٱللَّهِ وَءَايَٰتِهِۦ يُؤۡمِنُونَ ٦
These are the verses of Allāh which We recite to you in truth. Then in what statement after Allāh and His verses will they believe?
وَيۡلٞ لِّكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٖ ٧
Woe to every sinful liar
يَسۡمَعُ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسۡتَكۡبِرٗا كَأَن لَّمۡ يَسۡمَعۡهَاۖ فَبَشِّرۡهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٖ ٨
Who hears the verses of Allāh recited to him, then persists arrogantly as if he had not heard them. So give him tidings of a painful punishment.
وَإِذَا عَلِمَ مِنۡ ءَايَٰتِنَا شَيۡـًٔا ٱتَّخَذَهَا هُزُوًاۚ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٞ مُّهِينٞ ٩
And when he knows anything of Our verses, he takes them in ridicule. Those will have a humiliating punishment.
مِّن وَرَآئِهِمۡ جَهَنَّمُۖ وَلَا يُغۡنِي عَنۡهُم مَّا كَسَبُواْ شَيۡـٔٗا وَلَا مَا ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوۡلِيَآءَۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٌ ١٠
Before them1 is Hell, and what they had earned will not avail them at all nor what they had taken besides Allāh as allies. And they will have a great punishment.
هَٰذَا هُدٗىۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمۡ لَهُمۡ عَذَابٞ مِّن رِّجۡزٍ أَلِيمٌ ١١
This [Qur’ān] is guidance. And those who have disbelieved in the verses of their Lord will have a painful punishment of foul nature.
حٰمٓ(1) اتارنا کتاب کا اللہ کی طرف سے ہے جو بڑا زبردست نہایت حکمت والا ہے(2) بلاشبہ آسمانوں اور زمین میں البتہ نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے(3) اور تمھاری پیدائش میں اور (ان میں) جو وہ پھیلاتا ہے جانداروں سے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں(4) اور بدل بدل کر آنے جانے میں رات اور دن کے اور (اس میں) جو نازل کیا اللہ نے آسمان سے رزق (پانی) پس زندہ کیا اس کےذریعے زمین کو بعد اس کےمردہ ہو جانے کے اور پھیرنے میں ہواؤ ں کے، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں(5) یہ آیتیں ہیں اللہ کی، تلاوت کرتے ہیں ہم ان کی آپ پر ساتھ حق کے، پس کس بات پر، اللہ کی (بات) اور اس کی آیات کے بعد، وہ ایمان لائیں گے؟(6) ہلاکت ہے واسطے ہر سخت جھوٹے گناہ گار کے(7) سنتا ہے وہ آیتیں اللہ کی جو تلاوت کی جاتی ہیں اس پر، پھر وہ اَڑتا ہے تکبر کرتا ہوا گویا کہ نہیں سنا اس نے انھیں پس خوش خبری دے دیجیے اسے ساتھ عذاب درد ناک کے(8) اور جب جانا اس نے ہماری آیتوں سے کچھ تو بنا لیا اس نے اس کو مذاق، یہی لوگ ہیں ان کے لیے ہے عذاب رسوا کن(9) ان کے آگے جہنم ہے اور نہیں کام آئے گا ان کے(وہ)جو کمایا انھوں نے کچھ بھی اور نہ (وہ)جن کو بنایا انھوں نے، سوائے اللہ کے، کارساز اور ان کے لیے عذاب ہے بہت بڑا (10) یہ (قرآن) تو ہدایت ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ساتھ آیتوں کے اپنے رب کی، ان کے لیے عذاب ہے عذاب نہایت درد ناک (11)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1، 2] اللہ تبارک و تعالیٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ كتاب ﴿تَنۡزِيۡلُ﴾ ’’نازل کی گئی ہے۔‘‘﴿مِنَ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کی طرف سے ۔‘‘ جو معبود ہے، کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے۔ صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبۂ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔
[5-3] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا ہے، تائید کے لیے ان کا ذکر فرمایا۔ یہ سب اس قرآن عظیم کی صداقت اور ان حکمتوں اور احکام کی صحت کی کھلی نشانیاں اور ان پر واضح دلائل ہیں۔ نیز یہ اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کمال کا مالک ہے نیز یہ قیامت اور حشرونشر پر دلالت کرتی ہیں۔
[10-6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی آیات سے انتفاع اور عدم انتفاع کی نسبت سے لوگوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے: پہلی قسم کے لوگ وہ ہیں جو ان آیات پر غوروفکر کرتے ہیں اور ان سے استدلال کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر کامل ایمان رکھتے ہیں جس نے ان کو درجۂ یقین پر پہنچا دیا ہے۔ اس ایمان نے ان کی عقل کو پاک کر دیا ہے اور یوں ان کے معارف، ان کی خرد اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سنتے ہیں، جس سے ان پر حجت قائم ہو جاتی ہے، پھر وہ تکبر و استکبار کرتے ہیں اور ان آیات سے منہ پھیر لیتے ہیں، گویا کہ انھوں نے ان آیات کو سنا ہی نہیں کیونکہ ان آیات نے ان کے قلب کا تزکیہ کیا ہے نہ ان کو پاک کیا ہے بلکہ ان آیات کے بارے میں ان کے تکبر کے باعث ان کی سرکشی میں اضافہ ہوا ہے۔ جب انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں کچھ علم ہوتا ہے تو ان کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاکت کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿وَيۡلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيۡمٍ﴾ ’’ہر جھوٹے، گناہ گار کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘ یعنی وہ جو اپنے قول میں سخت جھوٹا اور اپنے فعل میں سخت گناہ گار ہے۔ نیز آگاہ فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے اور یہ کہ ﴿مِنۡ وَّرَآىِٕهِمۡ جَهَنَّمُ ﴾ ’’ان کے پیچھے جہنم ہے۔‘‘ جو ان کو سخت عذاب دینے کے لیے کافی ہے۔ ﴿وَلَا يُغۡنِيۡ عَنۡهُمۡ مَّا كَسَبُوۡا شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی جو مال وہ کماتے ہیں ان کے کسی کام نہ آئے گا۔ ﴿وَّلَا مَا اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَوۡلِيَآءَ ﴾ اور نہ وہ کام آئیں گے۔ اللہ کے سوا جن سے یہ لوگ مدد طلب کرتے ہیں، پس یہ لوگ ان کو چھوڑ دیں گے اگر وہ کوئی نفع پہنچا سکتے ہوتے تو وہ خود سب سے زیادہ اس کے محتاج تھے۔
[11] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی قرآنی آیات اور ظاہری نشانیوں کو واضح کر دیا اور لوگوں کے ان کے متعلق دو قسموں پر ہونےکو عیاں کر دیا تو قرآن کے باعثِ ہدایت ہونے کے متعلق آگاہ فرمایا جوکہ ان عالی مطالب پر مشتمل ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ هٰذَا هُدًي﴾ ’’یہ قرآن ہدایت ہے۔‘‘ یہ وصف پورے قرآن کے لیے عام ہے۔ قرآن نیک اعمال کی معرفت عطا کرتا ہے اور ان کی طرف دعوت دیتا ہے، برے اعمال کو بیان کرتا ہے اور ان سے روکتا ہے۔ قرآن اعمال کی جزا و سزا کو بیان کرتا ہے، جزائے دنیوی اور جزائے اخروی کو واضح کرتا ہے۔ پس ہدایت کے متلاشی لوگوں نے قرآن کے ذریعے سے ہدایت پائی اور یوں وہ فلاح اور سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ ﴿وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی واضح اور قطعی آیات کا انکار کیا جن کا انکار صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو سخت ظالم ہوں اور ان کی سرکشی کئی گنا ہو ﴿لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّؔجۡزٍ اَلِيۡمٌ ﴾ ان کے لیے سخت قسم کا دردناک عذاب ہے۔
45:12–13Page 499
۞ ٱللَّهُ ٱلَّذِي سَخَّرَ لَكُمُ ٱلۡبَحۡرَ لِتَجۡرِيَ ٱلۡفُلۡكُ فِيهِ بِأَمۡرِهِۦ وَلِتَبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِهِۦ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ ١٢
It is Allāh who subjected to you the sea so that ships may sail upon it by His command and that you may seek of His bounty; and perhaps you will be grateful.
وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا مِّنۡهُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ ١٣
And He has subjected to you whatever is in the heavens and whatever is on the earth - all from Him. Indeed in that are signs for a people who give thought.
اللہ وہ ہے جس نے مسخر کر دیا تمھارے لیے سمندر کو تاکہ چلیں کشتیاں اس میں اس کے حکم سے اور تاکہ تلاش کرو تم اس کا فضل اور تاکہ تم شکر کرو (12) اور مسخر کر دیا اس نے تمھارے لیے جو آسمانوں اور جو زمین میں ہے سب اپنی طرف سے، بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں (13)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے فضل و احسان کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے حکم سے آسانی پیدا کر کے جہازوں اور کشتیوں کو چلانے کے لیے سمندر کو مسخر کیا۔ ﴿وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ﴾ تاکہ تم مختلف قسم کی تجارتوں اور مکاسب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کر سکو۔ ﴿وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾ اور تاکہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور جب تم اس کا شکر ادا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھیں اور زیادہ نعمتیں عطا کرے گا اور تمھاری شکر گزاری پر بہت بڑے اجر سے نوازے گا۔
[13]﴿وَسَخَّرَ لَكُمۡ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا مِّؔنۡهُ﴾ ’’اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب کو تمھارے لیے مسخر کردیا۔‘‘ یعنی اپنے فضل و احسان سے۔ یہ آیت کریمہ آسمانوں اور زمین کے تمام اجسام اور ہر اس چیز کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر ودیعت کی ہے ، مثلاً: سورج، چاند، کواکب، ستارے، سیارے، حیوانات کی مختلف انواع، درختوں اور پھلوں کی مختلف اصناف ، معدنیات کی اقسام اور دیگر چیزیں جن کے اندر بنی آدم کے مصالح اور ان کی ضروریات ہیں۔ یہ چیز اس بات کو واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں پوری کوشش کریں اور اپنے فکر کو اس کی آیات اور حکمتوں میں تدبیر کرنے میں صرف کریں۔ بنابریں فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَؔكَّـرُوۡنَ۠ ﴾ ’’بے شک اس میں غوروفکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ ان آیات میں سے اس کائنات کی تخلیق، اس کی تدبیر اور اس کی تسخیر ہے، جو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے نفوذ اور اس کی قدرت کے کمال پر دلالت کرتی ہے۔ اس کائنات میں پائی جانے والی مضبوطی، مہارت، انوکھی صنعت اور حسن تخلیق اس کی حکمت کاملہ اور اس کے علم کی دلیل ہے۔ اس کائنات کی وسعتیں اور اس کی عظمت و کثرت، اللہ تعالیٰ کے وسیع اقتدار و سلطنت پر دلالت کرتی ہیں۔ اس کائنات میں تخصیصات اور متضاد اشیاء کا وجود، اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس کائنات میں موجود دینی اور دنیاوی منافع و مصالح اس کی بے پایاں رحمت، لامحدود فضل و احسان اور اس کے گوناگوں لطف و کرم پر دلالت کرتے ہیں اور ان میں سے ہر چیز اس حقیقت پر دلالت کرتی ہے کہ وہ یکتا ہے اور وہی ایک معبود ہے جس کے سوا کوئی اس چیز کا مستحق نہیں کہ اس کی عبادت کی جائے، اس سے محبت کی جائے اور اس کے سامنے تذلل کا اظہار کیا جائے۔ نیز ہر چیز اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول جو کچھ لے کر آئے ہیں، سب صداقت پر مبنی ہے ۔یہ واضح عقلی دلائل ہیں جو کسی قسم کے شک و ریب کا شائبہ قبول نہیں کرتے۔
45:14–15Page 500
قُل لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ يَغۡفِرُواْ لِلَّذِينَ لَا يَرۡجُونَ أَيَّامَ ٱللَّهِ لِيَجۡزِيَ قَوۡمَۢا بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ ١٤
Say, [O Muḥammad], to those who have believed that they [should] forgive those who expect not the days of Allāh [i.e., of His retribution] so that He may recompense a people1 for what they used to earn.
مَنۡ عَمِلَ صَٰلِحٗا فَلِنَفۡسِهِۦۖ وَمَنۡ أَسَآءَ فَعَلَيۡهَاۖ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمۡ تُرۡجَعُونَ ١٥
Whoever does a good deed - it is for himself; and whoever does evil - it is against it [i.e., the self or soul]. Then to your Lord you will be returned.
کہہ دیجیے! ان لوگوں سے جو ایمان لائے، درگزر کریں وہ ان لوگوں سے جو نہیں امید رکھتے اللہ کے دنوں کی (جن میں وہ گرفت کرتا ہے) تاکہ بدلہ دے وہ کچھ لوگوں کو ساتھ اس کے جو تھے وہ کماتے (14) جس نے عمل کیا نیک تو (اس کا فائدہ) اسی کے لیے ہے اور جس نے کیا برا کام تو اسی پر (اس کا وبال) ہے، پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے (15)
[14، 15] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ حسن اخلاق سے کام لیں اور ان مشرکین کی ایذا رسانی پر صبر کریں جو ایام الٰہی کی امید نہیں رکھتے یعنی جو اللہ تعالیٰ کے ثواب کے امیدوار ہیں نہ گناہ گاروں کے بارے میں سنت الٰہی سے خائف ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر قوم کو اس کی کمائی کا بدلہ دے گا۔ پس اے مومنوں کے گروہ! اللہ تعالیٰ تمھارے ایمان، تمھارے درگزر اور تمھارے صبر کی جزا کے طور پر تمھیں ثواب جزیل سے بہرہ مند کرے گا۔ اگر کفار و مشرکین اپنی تکذیب پر جمے رہے تو تم پر رسوا کن وہ سخت عذاب نازل نہیں ہو گا جو ان پر نازل ہوگا۔ بنابریں فرمایا:﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ اَسَآءَ فَعَلَيۡهَا١ٞ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمۡ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’جو کوئی نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے لیے کرتا ہے اور جو کوئی برا عمل کرتا ہے تو وہی اس کا خمیازہ بھگتے گا، پھر تم سب اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
45:16–17Page 500
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحُكۡمَ وَٱلنُّبُوَّةَ وَرَزَقۡنَٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَفَضَّلۡنَٰهُمۡ عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ ١٦
And We did certainly give the Children of Israel the Scripture and judgement1 and prophethood, and We provided them with good things and preferred them over the worlds.
وَءَاتَيۡنَٰهُم بَيِّنَٰتٖ مِّنَ ٱلۡأَمۡرِۖ فَمَا ٱخۡتَلَفُوٓاْ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِي بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُواْ فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ ١٧
And We gave them clear proofs of the matter [of religion]. And they did not differ except after knowledge had come to them - out of jealous animosity between themselves. Indeed, your Lord will judge between them on the Day of Resurrection concerning that over which they used to differ.
اور البتہ تحقیق دی ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکم اور نبوت اور رزق دیا ہم نے ان کو پاکیزہ چیزوں سے اور فضیلت دی ہم نے ان کو اوپر جہانوں کے (16) اور دیں ہم نے ان کو واضح دلیلیں دین کی بابت، پس نہیں اختلاف کیا انھوں نے مگر بعد اس کے کہ آ گیا ان کے پاس علم، محض ضد سے آپس کی، بلاشبہ آپ کا رب فیصلہ کرے گا ان کے درمیان دن قیامت کے، ان چیزوں میں کہ تھے وہ ان میں اختلاف کرتے (17)
[16] ہم نے بنی اسرائیل کو ایسی ایسی نعمتیں عطا کیں جو دوسروں کو حاصل نہ تھیں۔ ہم نے انھیں ﴿الۡكِتٰبَ﴾یعنی تورات و انجیل سے سرفراز کیا۔ اور ﴿الۡحُكۡمُ﴾ ہم نے انھیں لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی قوت اور ﴿النُّبُوَّةَ﴾نبوت عطا کی۔ نبوت کی وجہ سے وہ دنیا میں ممتاز ہوئے۔ ابراہیمu کی اولاد میں سب سے زیادہ بنی اسرائیل کے گھرانے میں نبوت رہی۔﴿وَرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ اور ہم نے انھیں ماکولات، مشروبات اور ملبوسات میں سے پاکیزہ چیزوں سے نوازا اور ان پر من و سلویٰ نازل کیا۔ ﴿وَفَضَّلۡنٰهُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اور ان نعمتوں کے ذریعے سے ہم نے انھیں تمام خلائق پر فضیلت دی۔ اس عموم لفظی سے امت محمدیہ خارج ہے کیونکہ امت محمدیہ بہترین امت ہے جو لوگوں کے لیے بنائی گئی ہے۔ آیت کریمہ کا سیاق دلالت کرتا ہے کہ اس سے امت مسلمہ کے سوا دیگر امتوں پر فضیلت مراد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل پر احسان کیا اور انھیں دیگر قوموں سے ممیز کیا۔نیز وہ فضائل جن کی بنا پر بنی اسرائیل کو فوقیت حاصل ہے ، مثلاً: کتاب کا عطا کیا جانا، حکومت اور نبوت وغیرہ جیسے دیگر اوصاف تو وہ اس امت کو بھی حاصل ہیں ۔اس کے علاوہ اس امت کے بہت سے فضائل ان پر مستزاد ہیں، پھر بنی اسرائیل کی شریعت امت محمدیہ کی شریعت کا ایک جز ہے۔ یہ کتاب عظیم، گزشتہ تمام کتابوں پر نگہبان ہے اور حضرت محمد مصطفیﷺ گزشتہ تمام رسولوں کی تصدیق کرنے والے ہیں۔
[17]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے﴿بَيِّنٰتٍ ﴾ ’’دلائل۔‘‘ جو حق کو باطل سے واضح کرتے ہیں۔ ﴿مِّنَ الۡاَمۡرِ ﴾ یعنی امر قدری سے جو اللہ تعالیٰ نے ان تک پہنچایا ہے۔ یہ آیات وہ معجزات ہیں جن کا انھوں نے موسیٰu کے ذریعے سے مشاہدہ کیا، یہ ان سے تقاضا کرتی ہیں کہ وہ بہترین طریقے سے ان کو قائم رکھیں، حق پر مجتمع رہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے واضح کیا ہے۔ مگر انہوں نے اس کے برعکس حق کے ساتھ اس سے متضاد معاملہ کیا جو ان پر واجب تھا۔ پس جس معاملے میں ان کو مجتمع رہنے کا حکم دیا گیا تھا اس میں انھوں نے اختلاف کیا۔ اس لیے فرمایا:﴿فَمَا اخۡتَلَفُوۡۤا اِلَّا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ ﴾ ’’پس انھوں نے جو اختلاف کیا تو علم آجانے کے بعد (آپس کی ضد سے) کیا۔‘‘ یعنی وہ علم جو عدم اختلاف کا موجب تھا صرف ایک دوسرے پر ظلم اور زیادتی نے انھیں اس اختلاف پر آمادہ کیا۔ ﴿اِنَّ رَبَّكَ يَقۡضِيۡ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ ﴾ ’’پس انھوں نے جو اختلاف کیا تو علم آجانے کے بعد (آپس کی ضد سے) کیا۔‘‘ پس وہ حق شعاروں کو ان لوگوں سے علیحدہ کر دے گا جنھوں نے باطل کو اختیار کیا اور جن کو خواہش نفس نے اختلاف پر آمادہ کیا۔
45:18–19Page 500
ثُمَّ جَعَلۡنَٰكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٖ مِّنَ ٱلۡأَمۡرِ فَٱتَّبِعۡهَا وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَ ٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ ١٨
Then We put you, [O Muḥammad], on an ordained way concerning the matter [of religion]; so follow it and do not follow the inclinations of those who do not know.
إِنَّهُمۡ لَن يُغۡنُواْ عَنكَ مِنَ ٱللَّهِ شَيۡـٔٗاۚ وَإِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۖ وَٱللَّهُ وَلِيُّ ٱلۡمُتَّقِينَ ١٩
Indeed, they will never avail you against Allāh at all. And indeed, the wrongdoers are allies of one another; but Allāh is the protector of the righteous.
پھر کر دیا ہم نے آپ کو اوپر ایک طریقے کے دین کے، پس آپ پیروی کریں اس کی اور نہ پیروی کریں ان لوگوں کی خواہشات کی جو نہیں علم رکھتے (18) بلاشبہ وہ ہرگز نہیں کام آئیں گے آپ کے اللہ سے کچھ بھی، اور بے شک ظالم لوگ، بعض ان کے دوست ہیں بعض کے، اور اللہ دوست ہے متقیوں کا(19)
[18] یعنی ہم نے آپ کے لیے ایک شریعت کامل کو مشروع کیا جو ہمارے حکم شرعی سے، ہر بھلائی کی طرف بلاتی ہے اور ہر برائی سے روکتی ہے۔ ﴿فَاتَّبِعۡهَا﴾ ’’پس اس کی اتباع کرو۔‘‘ کیونکہ اس کی اتباع میں ابدی سعادت، صلاح اور فلاح ہے۔ ﴿وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور ان لو گوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جو علم نہیں رکھتے۔‘‘ یعنی وہ لوگ جن کی خواہشات علم کے تابع ہیں نہ علم کی پیروی کرتی ہیں۔ ہر وہ شخص جس کی خواہش اور ارادہ شریعتِ رسولﷺ کے خلاف ہے تو ان کی خواہشات ان لوگوں کی خواہشات کے زمرے میں آتی ہیں جو علم سے بے بہرہ ہیں۔
[19]﴿اِنَّهُمۡ لَنۡ يُّغۡنُوۡا عَنۡكَ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا ﴾ یعنی اگر تو ان کی خواہشات نفس کی پیروی کرے تو یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تجھے کوئی فائدہ نہ دے سکیں گے کہ تجھے کوئی بھلائی حاصل ہو یا تجھ سے کوئی برائی دور ہو۔ تیرے لیے درست نہیں کہ تو ان کی موافقت کرے اور ان سے موالات رکھے، کیونکہ آپ اور وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں اور وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ وَلِيُّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ متقیوں کا دوست ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ متقین کو ان کے تقویٰ اور نیک عمل کے سبب سے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔
45:20Page 500
هَٰذَا بَصَٰٓئِرُ لِلنَّاسِ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٞ لِّقَوۡمٖ يُوقِنُونَ ٢٠
This [Qur’ān] is enlightenment for mankind and guidance and mercy for a people who are certain [in faith].
یہ (قرآن، اس میں) بصیرت افروز دلائل ہیں لوگوں کے لیے اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں (20)
[20]﴿هٰؔذَا ﴾ یعنی یہ قرآن کریم اور ذکر حکیم ﴿بَصَآىِٕرُ لِلنَّاسِ ﴾ ’’بصیرتیں ہیں لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی اس کے ذریعے سے لوگوں کو تمام امور میں بصیرت حاصل ہوتی ہے اور اہل ایمان اس سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اور یہ قرآن ہدایت اور رحمت ہے﴿ لِّقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ ﴾ ’’یقین رکھنے والوں کے لیے۔‘‘ پس وہ اس کے ذریعے سے دین کے اصول و فروع میں صراط مستقیم کی طرف راہ نمائی حاصل کرتے ہیں اور وہ دنیا و آخرت میں بھلائی، مسرت اور سعادت سے بہرہ مند ہوتے ہیں اور یہ رحمت ہے۔پس اس سے ان کے نفس پاک ہوتے ہیں، اس سے ان کی عقل میں اضافہ ہوتا ہے اور اس سے ان کا ایمان و ایقان بڑھتا ہے اور اس پر حجت قائم ہوتی ہے، جو گمراہی پر اصرار کرتا اور عناد سے کام لیتا ہے۔
45:21Page 500
أَمۡ حَسِبَ ٱلَّذِينَ ٱجۡتَرَحُواْ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن نَّجۡعَلَهُمۡ كَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ سَوَآءٗ مَّحۡيَاهُمۡ وَمَمَاتُهُمۡۚ سَآءَ مَا يَحۡكُمُونَ ٢١
Or do those who commit evils think We will make them like those who have believed and done righteous deeds - [make them] equal in their life and their death?1 Evil is that which they judge [i.e., assume].
کیا گمان کر لیا ہے ان لوگوں نے جنھوں نے ارتکاب کیا برائیوں کا، یہ کہ کر دیں گے ہم ان کو مانند ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، برابر ہے جینا ان کا اور مرنا ان کا، برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں (21)
[21] یعنی کیا کثرت سے گناہوں کا ارتکاب کرنے والے گناہ گار لوگ اور اپنے رب کے حقوق میں کوتاہی کرنے والے سمجھتے ہیں ﴿اَنۡ نَّجۡعَلَهُمۡ كَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’کہ ہم ان کو ان جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حقوق قائم کیے، اسے ناراض کرنے سے اجتناب کیا اور ہمیشہ اس کی رضا کو اپنی خواہشات نفس پر ترجیح دیتے ہیں۔ یعنی کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ﴿سَوَآءًؔ﴾ وہ دنیا و آخرت میں مساوی ہوں گے؟ ان کا اندازہ اور ان کا یہ گمان بہت برا ہے۔ اور بہت برا ہے وہ فیصلہ جو انھوں نے کیا ہے کیونکہ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو احکم الحاکمین، سب سے بڑھ کر عادل ہستی کی حکمت کے خلاف، عقل سلیم اور فطرت مستقیم کے متناقض اور ان اصولوں کے متضاد ہے جنھیں لے کر کتابیں نازل ہوئیں اور جن کے بارے میں انبیاء و مرسلین نے آگاہ کیا۔ فی الواقع قطعی فیصلہ یہ ہے کہ اہل ایمان جو نیک عمل کرتے ہیں ان میں سے ہر ایک کے لیے اس کی نیکی کے مطابق نصرت، فلاح، سعادت اور دنیا و آخرت کا ثواب ہے اور برائیوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی ، رسوائی، عذاب اور بدبختی ہے۔
45:22Page 500
وَخَلَقَ ٱللَّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِٱلۡحَقِّ وَلِتُجۡزَىٰ كُلُّ نَفۡسِۭ بِمَا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ ٢٢
And Allāh created the heavens and earth in truth and so that every soul may be recompensed for what it has earned, and they will not be wronged.
اور پیدا کیا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے اور تاکہ بدلہ دیا جائے ہر نفس کو ساتھ اس کے جو اس نے کمایا اور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے (22)
[22] یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ تخلیق فرمایا تاکہ اسی اکیلے کی عبادت کی جائے جس کا کوئی شریک نہیں، پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا محاسبہ کرے گا جن کو اس نے اپنی عبادت کا حکم دیا اور انھیں ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا کہ آیا وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں یا کفر کا رویہ اختیار کر کے کفار کی سزا کے مستحق بنتے ہیں۔
45:23–26Page 501
أَفَرَءَيۡتَ مَنِ ٱتَّخَذَ إِلَٰهَهُۥ هَوَىٰهُ وَأَضَلَّهُ ٱللَّهُ عَلَىٰ عِلۡمٖ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمۡعِهِۦ وَقَلۡبِهِۦ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِۦ غِشَٰوَةٗ فَمَن يَهۡدِيهِ مِنۢ بَعۡدِ ٱللَّهِۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ٢٣
Have you seen he who has taken as his god his [own] desire, and Allāh has sent him astray due to knowledge1 and has set a seal upon his hearing and his heart and put over his vision a veil? So who will guide him after Allāh? Then will you not be reminded?
وَقَالُواْ مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنۡيَا نَمُوتُ وَنَحۡيَا وَمَا يُهۡلِكُنَآ إِلَّا ٱلدَّهۡرُۚ وَمَا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنۡ عِلۡمٍۖ إِنۡ هُمۡ إِلَّا يَظُنُّونَ ٢٤
And they say, "There is not but our worldly life; we die and live,1 and nothing destroys us except time." And they have of that no knowledge; they are only assuming.
وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمۡ إِلَّآ أَن قَالُواْ ٱئۡتُواْ بِـَٔابَآئِنَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٢٥
And when Our verses are recited to them as clear evidences, their argument is only that they say, "Bring [back] our forefathers, if you should be truthful."
قُلِ ٱللَّهُ يُحۡيِيكُمۡ ثُمَّ يُمِيتُكُمۡ ثُمَّ يَجۡمَعُكُمۡ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيهِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٢٦
Say, "Allāh causes you to live, then causes you to die; then He will assemble you for the Day of Resurrection, about which there is no doubt, but most of the people do not know."
کیا پس دیکھا آپ نے اس کو جس نے بنا لیا اپنا معبود اپنی خواہش کو اور گمراہ کر دیا اس کو اللہ نے علم پر اور مہر لگا دی اس کے کان اور اس کے دل پر اور کر دیا اس کی آنکھ پر پردہ؟ پس کون ہے جو ہدایت دے اسے بعد اللہ کے؟ کیا پس نہیں تم نصیحت پکڑتے (23) اور کہا انھوں نے: نہیں ہے یہ (زندگی) سوائے ہماری زندگانی دنیا کے، ہم مرتے اور زندہ ہوتے ہیں اور نہیں ہلاک کرتا ہمیں مگر زمانہ ہی، اور نہیں ہے ان کے لیے اس کا کوئی علم، نہیں ہیں وہ مگر گمان کرتے (24) اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں اس حال میں کہ وہ واضح ہیں تو نہیں ہوتی دلیل ان کی مگر یہی کہ انھوں نے کہا، لے آؤ ہمارے باپ دادوں کو اگر ہو تم سچے (25) کہہ دیجیے! اللہ ہی زندہ کرتا ہے تم کو ، پھرمارتا ہے تم کو ، پھر وہی جمع کرے گا تمھیں روز قیامت میں، کہ نہیں ہے کوئی شک اس میں، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (26)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَفَرَءَيۡتَ ﴾ کیا آپ نے اس گمراہ شخص کو دیکھا ﴿مَنِ اتَّؔخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ ﴾ ’’جس نے اپنی خواہش نفس کو معبود بنا لیا‘‘ جس راستے پر چاہا، چلتا رہا، خواہ اس راستے پر چلنے کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے یا اس کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ ﴿وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اللہ تعالیٰ نے یہ جانتے ہوئے اسے گمراہی میں پھینک دیا کہ وہ ہدایت کے لائق نہیں اور نہ ہدایت کے ذریعے سے وہ پاک ہی ہو سکتا ہے۔ ﴿وَّخَتَمَ عَلٰى سَمۡعِهٖ ﴾ ’’اور اس کے کانوں پر مہر لگادی۔‘‘ اس لیے وہ کوئی ایسی چیز نہیں سن سکتا جو اس کے لیے فائدہ مند ہو ﴿وَقَلۡبِهٖ﴾ ’’اور اس کے دل پر۔‘‘ پس وہ بھلائی کو یاد نہیں رکھ سکتا ﴿وَجَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً ﴾ ’’اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔‘‘ جو اسے حق دیکھنے سے روکتا ہے ﴿فَمَنۡ يَّهۡدِيۡهِ مِنۢۡ بَعۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس کون ہے جو اس کو اللہ کے بعد ہدایت دے؟‘‘ اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر ہدایت کے دروازے بند کر دیے اور گمراہی کے دروازے کھول دیے، کوئی شخص اس کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر ظلم نہیں کیا بلکہ اس نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا، اس نے ایسے اسباب اختیار کیے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مانع تھے۔ ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اس چیز سے) نصیحت نہیں پکڑتے۔‘‘ جو تمھیں فائدہ دے اور تم اسے اختیار کرتے اور جو چیز تمھیں نقصان دے تم اس سے اجتناب کرتے۔
[24]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی منکرین آخرت کہتے ہیں: ﴿مَا هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا وَمَا يُهۡلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهۡرُ ﴾ یہ تو سب صرف عادات ہیں اور گردش لیل و نہار کے ساتھ جاری ہیں کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ جنم لیتے ہیں، جو کوئی مر جاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر نہیں جاتا اور نہ اس کو اس کے عمل کی جزا و سزا ہی دی جائے گی۔ ان کا یہ قول بغیر کسی علم کے صادر ہوا ہے۔ ﴿اِنۡ هُمۡ اِلَّا يَظُنُّوۡنَ ﴾ پس انھوں نے معاد کا انکار کیا اور کسی دلیل و برہان کے بغیر سچے رسولوں کی تکذیب کی۔ یہ محض وہم و گمان اور ایسے استبعادات ہیں جو حقیقت سے خالی ہیں۔
[25] بنابریں فرمایا: ﴿وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا ائۡتُوۡا بِاٰبَآىِٕنَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو اس کے سوا ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ وہ کہہ دیتے ہیں: اگر تم سچے ہو تو ہمارے آباؤ اجداد کو اٹھالاؤ۔‘‘یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ مطالبہ کیا اور اس زعم باطل میں مبتلا ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی صداقت اس بات پر موقوف ہے کہ ان کے آباء و اجداد کو زندہ کر کے ان کے سامنے لایا جائے، انبیاء و رسل ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آئیں وہ ہرگز نہیں مانیں گے جب تک کہ رسول ان کا وہ مطالبہ پورا نہیں کرتے جو انھوں نے پیش کیا ہے۔ وہ اپنے قول میں سخت جھوٹے ہیں ان کا مقصد بیان حق نہیں بلکہ صرف رسولوں کی دعوت کو ٹھکرانا ہے۔
[26] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلِ اللّٰهُ يُحۡيِيۡكُمۡ ثُمَّ يُمِيۡتُكُمۡ ثُمَّ يَجۡمَعُكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ ہی تم کو زندہ کرتا، پھر تم کو مارتا ہے ، پھر تم کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ اگر یوم آخرت کا علم ان کے دل کی گہرائیوں تک پہنچا ہوتا تو وہ ضرور اس کے لیے تیاری کرتے اور نیک عمل کرتے۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences