As-Sa'diMuhammad · 47:20–38

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Muhammad 47:20–38

47:20–23Page 509

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَوۡلَا نُزِّلَتۡ سُورَةٞۖ فَإِذَآ أُنزِلَتۡ سُورَةٞ مُّحۡكَمَةٞ وَذُكِرَ فِيهَا ٱلۡقِتَالُ رَأَيۡتَ ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ يَنظُرُونَ إِلَيۡكَ نَظَرَ ٱلۡمَغۡشِيِّ عَلَيۡهِ مِنَ ٱلۡمَوۡتِۖ فَأَوۡلَىٰ لَهُمۡ ٢٠

Those who believe say, "Why has a sūrah1 not been sent down?" But when a precise sūrah is revealed and battle is mentioned therein, you see those in whose hearts is disease [i.e., hypocrisy] looking at you with a look of one overcome by death. And more appropriate for them2 [would have been]

طَاعَةٞ وَقَوۡلٞ مَّعۡرُوفٞۚ فَإِذَا عَزَمَ ٱلۡأَمۡرُ فَلَوۡ صَدَقُواْ ٱللَّهَ لَكَانَ خَيۡرٗا لَّهُمۡ ٢١

Obedience and good words. And when the matter [of fighting] was determined, if they had been true to Allāh, it would have been better for them.

فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ إِن تَوَلَّيۡتُمۡ أَن تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَتُقَطِّعُوٓاْ أَرۡحَامَكُمۡ ٢٢

So would you perhaps, if you turned away,1 cause corruption on earth and sever your [ties of] relationship?

أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَعَنَهُمُ ٱللَّهُ فَأَصَمَّهُمۡ وَأَعۡمَىٰٓ أَبۡصَٰرَهُمۡ ٢٣

Those [who do so] are the ones that Allāh has cursed, so He deafened them and blinded their vision.

اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے، کیوں نہیں نازل کی گئی کوئی سورت؟ پھر جب نازل کی جاتی ہے کوئی سورت محکم اور ذکر کیا جاتا ہے اس میں قتال (جہاد) کا تو دیکھتے ہیں آپ ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے دیکھ رہے ہوتے ہیں وہ آپ کی طرف مانند دیکھنے اس شخص کے کہ غشی طاری ہو گئی ہو اس پر بہ سبب موت کے پس ہلاکت ہے ان کے لیے (20) اطاعت کرنا اور بھلی بات کہنا (بہتر ہے) پس جب پختہ ہو جائے حکم (جہاد کا) پس اگر وہ سچے رہیں اللہ سے تو ہو گا (یہ سچ) بہتر ان کے لیے (21) پس تحقیق توقع ہے تم (سے) اگر حکمران بن جاؤ تم یہ کہ فساد کرو تم زمین میں اور کاٹ ڈالو تم اپنی رشتے داریاں (22) یہی وہ لوگ ہیں کہ لعنت کی ان پر اللہ نے، پس اس نے بہرا کر دیا ان کو اور اندھی کر دیں آنکھیں ان کی (23)

[20] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ وہ لوگ جو ایمان لائے مشکل کاموں کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿ لَوۡلَا نُزِّلَتۡ سُوۡرَةٌ﴾ ’’کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی۔‘‘ یعنی جس میں قتال کا حکم دیا گیا ہو ﴿ فَاِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ مُّحۡكَمَةٌ﴾ ’’پس جب کوئی محکم سورت نازل ہوتی ہے۔‘‘ یعنی اس کے عمل کو لازم ٹھہرایا گیا ہو ﴿ وَّذُكِرَ فِيۡهَا الۡقِتَالُ﴾ ’’اس میں جہاد کا ذکر ہو۔‘‘ جو کہ نفس پر سب سے زیادہ گراں ہوتا ہے۔ تو جن کا ایمان کمزور تھا وہ اس پر ثابت قدم نہ رہے، اس لیے فرمایا:﴿ رَاَيۡتَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ يَّنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ نَظَرَ الۡمَغۡشِيِّ عَلَيۡهِ مِنَ الۡمَوۡتِ﴾ ’’جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے، تم نے ان کو دیکھا کہ تمھاری طرف اس طرح دیکھتے ہیں، جس طرح کسی پر موت کی بے ہوشی طاری ہو رہی ہو۔‘‘ ان کے قتال کو ناپسند کرنے اور اس کی شدت کے باعث، یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿ اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ قِيۡلَ لَهُمۡ كُفُّوۡۤا اَيۡدِيَكُمۡ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّؔا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ النَّاسَ كَخَشۡيَةِ اللّٰهِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡيَةً﴾(النساء:4؍77) ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا، جن سے کہا گیا، اپنے ہاتھوں کو روک لو، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، پس جب ان پر قتال فرض کیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ کا یہ حال ہے کہ وہ لوگوں سے اس طرح ڈر رہے ہیں جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہیے یا اس سے بھی زیادہ۔‘‘ ، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس چیز کی طرف بلایا جو ان کے حال کے زیادہ لائق ہے۔

[21,20]﴿ فَاَوۡلٰى لَهُمۡۚ۰۰ طَاعَةٌ وَّقَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ﴾یعنی ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ موجودہ حکم ہی کی تعمیل کریں جو ان پر واجب کیا گیا ہے، اسی پر اپنے ارادوں کو جمع رکھیں اور یہ مطالبہ نہ کریں کہ ان کے لیے ایسا حکم مشروع کیا جائے جس کی تعمیل ان پر شاق گزرے۔ اور انھیں اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ عفو و عافیت پر خوش ہونا چاہیے۔﴿ فَاِذَا عَزَمَ الۡاَمۡرُ﴾ ’’پس جب بات پختہ ہوگئی۔‘‘ یعنی جب کوئی سخت اور واجب معاملہ آ گیا تو اس حال میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر کے اور اس کی اطاعت میں پوری کوشش کے ذریعے سے، اس کے ساتھ صدق کا معاملہ رکھتے ﴿ لَكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ﴾ تو یہ حال ان کے پہلے حال سے بہتر ہوتا، اور اس کی مندرجہ ذیل وجوہ ہیں:(۱)بندہ ہر لحاظ سے ناقص و ناتمام ہے، اسے کوئی قدرت حاصل نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے، لہٰذا وہ اس سے زیادہ طلب نہ کرے جس کے کنارے پر وہ کھڑا ہوا ہے۔(۲) جب اس کا نفس مستقبل سے متعلق ہو جاتا ہے، تو وہ حاضر اور مستقبل کے کام پر عمل کرنے میں کمزوری دکھاتا ہے۔ رہی موجودہ صورتِ حال، تو ارادہ اور ہمت، اس سے نکل کر دوسری طرف (مستقبل کی امیدوں میں)منتقل ہو جاتے ہیں اور عمل ارادے کے تابع ہوتا ہے اور رہا مستقبل تو اس کے آتے آتے ہمت جواب دے جاتی ہے تو اسے کسی کام کی توفیق اور مدد حاصل نہیں ہوتی۔ تب اس کے خلاف مدد نہیں کی جاتی۔(۳) وہ بندہ جو وقت موجود میں، عمل میں اپنی سستی اور کاہلی کے باوجود مستقبل سے امیدیں وابستہ کرتا ہے، وہ اس سست اور کوتاہ اندیش آدمی کی طرح ہے جسے مستقبل میں پیش آنے والے امور پر قدرت رکھنے کا قطعی یقین ہے۔ اس کے لائق یہی ہے کہ وہ اسے چھوڑ کر الگ ہو جائے اور جس امر کا ارادہ کیا ہے اسے نہ کرے اور نفس کو اس پر آمادہ کر لیا ہے ۔مناسب ہے کہ بندہ اپنے ارادے، اپنی فکر اور اپنی نشاط کو وقت موجود پر مجتمع کرے اور اپنی قدرت اور طاقت کے مطابق اپنے وظیفے کو ادا کرے۔ پھر جب بھی کوئی وقت آئے تو نشاط اور مجتمع بلند ارادے کے ساتھ کسی تفرقہ کے بغیر اپنے رب سے مدد طلب کرتے ہوئے اس کا استقبال کرے۔ پس یہ شخص اپنے تمام امور میں توفیق اور درستی عطا کیے جانے کا مستحق ہے۔

[22] پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کا ذکر فرماتا ہے جو اپنے رب کی اطاعت سے منہ موڑتا ہے، خیر کی طرف آنے کی بجائے شر کی طرف بھاگتا ہے ، لہٰذا فرمایا:﴿فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ اِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ اَنۡ تُفۡسِدُوۡا فِي الۡاَرۡضِ وَتُقَطِّعُوۡۤا اَرۡحَامَكُمۡ﴾ ’’اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کردو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو‘‘ یعنی یہ دو امور ہیں یا تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر التزام اور اس کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، پس وہاں بھلائی، ہدایت اور فلاح ہے۔ یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روگردانی اور اس سے اعراض کرنا، تب اس صورت حال میں فساد فی الارض، معصیت پر عمل اور قطع رحمی کے سوا کچھ نہیں۔

[23]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ﴾ جنھوں نے زمین میں فساد پھیلایا اور قطع رحمی کی ﴿ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ﴾ وہ یوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے قریب ہو گئے۔ ﴿ فَاَصَمَّهُمۡ وَاَعۡمٰۤى اَبۡصَارَهُمۡ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال کر دیا کہ وہ ایسی بات سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں جو انھیں فائدہ دے۔ پس ان کے کان ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔ وہ آنکھیں رکھتے ہیں مگر وہ ان آنکھوں سے عبرتوں اور آیات کو دیکھتے ہیں نہ دلائل و براہین کی طرف التفات کرتے ہیں۔

47:24Page 509

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَ أَمۡ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقۡفَالُهَآ ٢٤

Then do they not reflect upon the Qur’ān, or are there locks upon [their] hearts?

کیا پس نہیں غور وفکر کرتے وہ لوگ قرآن میں یا دلوں پر تالے لگے ہیں ان کے؟ (24)

[24] کتاب اللہ سے روگردانی کرنے والے یہ لوگ، کتاب اللہ میں تدبر اور غور و فکر کیوں نہیں کرتے، جیسا کہ غور و فکر کرنے کا حق ہے، اگر انھوں نے اس میں اچھی طرح تدبر کیا ہوتا تو یہ ہر بھلائی کی طرف ان کی راہ نمائی کرتی، انھیں ہر برائی سے بچاتی، ان کے دلوں کو ایمان سے اور ان کی عقلوں کو ایقان سے لبریز کر دیتی، وہ انھیں بلند مقاصد اور انمول عطیات تک پہنچاتی، ان کے سامنے وہ راستہ روشن کر دیتی جو انھیں اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے، نیز اس جنت کی تکمیل کرنے والے امور پر اور اس کو فاسد کرنے والے امور پر دلالت کرتی، انھیں وہ راستہ بھی دکھاتی جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرف جاتا ہے اور یہ بھی بتاتی کہ کس چیز کے ذریعے سے اس سے بچا جائے۔ وہ انھیں ان کے رب، اس کے اسماء و صفات اور اس کے احسان کی معرفت عطا کرتی، ان میں بے پایاں ثواب حاصل کرنے کا شوق پیدا کرتی اور انھیں درد ناک عذاب سے ڈراتی۔ ﴿ اَمۡ عَلٰى قُلُوۡبٍ اَقۡفَالُهَا﴾ ’’یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں۔‘‘ یعنی دلوں میں روگردانی، غفلت اور اعتراضات کوٹ کوٹ کر بھر دیے گئے ، پھر ان کو بند کر کے ان پر تالے لگا دیے پس ان میں بھلائی کبھی داخل نہیں ہو گی؟ فی الواقع ان کا یہی حال ہے۔

47:25–28Page 509

إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱرۡتَدُّواْ عَلَىٰٓ أَدۡبَٰرِهِم مِّنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ ٱلۡهُدَى ٱلشَّيۡطَٰنُ سَوَّلَ لَهُمۡ وَأَمۡلَىٰ لَهُمۡ ٢٥

Indeed, those who reverted back [to disbelief] after guidance had become clear to them - Satan enticed them and prolonged hope for them.

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُواْ لِلَّذِينَ كَرِهُواْ مَا نَزَّلَ ٱللَّهُ سَنُطِيعُكُمۡ فِي بَعۡضِ ٱلۡأَمۡرِۖ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ إِسۡرَارَهُمۡ ٢٦

That is because they said to those who disliked what Allāh sent down,1 "We will obey you in part of the matter." And Allāh knows what they conceal.

فَكَيۡفَ إِذَا تَوَفَّتۡهُمُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ يَضۡرِبُونَ وُجُوهَهُمۡ وَأَدۡبَٰرَهُمۡ ٢٧

Then how [will it be] when the angels take them in death, striking their faces and their backs?

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ ٱتَّبَعُواْ مَآ أَسۡخَطَ ٱللَّهَ وَكَرِهُواْ رِضۡوَٰنَهُۥ فَأَحۡبَطَ أَعۡمَٰلَهُمۡ ٢٨

That is because they followed what angered Allāh and disliked [what earns] His pleasure, so He rendered worthless their deeds.

بلاشبہ وہ لوگ جو پھر گئے اپنی پیٹھوں پر بعد اس کے کہ واضح ہو گئی ان کے لیے ہدایت، شیطان نے مزین کر دیے ان کے لیے (عمل) اور ڈھیل دی ان کو اللہ نے (25) یہ (پھرنا) بوجہ اس کےکہ بے شک انھوں نے کہا ان سے جنھوں نے ناپسند کیا اس چیزکو جو نازل کی اللہ نے عنقریب ہم اطاعت کریں گے تمھاری بعض کاموں میں اور اللہ جانتا ہے راز ان کے (26) پس کیا حال ہو گا جب (روحیں) قبض کریں گے ان کی فرشتے، مارتے ہوں گے ان کے مونہوں کو اور ان کی پیٹھوں کو؟ (27) یہ (مار) اس سبب سے کہ بے شک پیروی کی انھوں نے اس چیز کی کہ اس نے ناراض کر دیا اللہ کو، اور ناپسند کی انھوں نے رضامندی اس کی، پس برباد کر دیے اللہ نے اعمال ان کے (28)

[25] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مرتدین کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو ہدایت اور ایمان کو چھوڑ کر الٹے پاؤ ں کفر اور گمراہی کی طرف لوٹ گئے، ان کا کفر کی طرف واپس لوٹنا کسی دلیل اور برہان کی بنا پر نہیں، بلکہ ان کے دشمن کے ان کو گمراہ کرنے، اس کی تزئین اور اس کی ترغیب کی بنا پر ہے ﴿ يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيۡهِمۡ١ؕ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيۡطٰنُ اِلَّا غُرُوۡرًا﴾(النساء: 4؍120) ’’شیطان ان سے وعدے کرتاہے اور انھیں امید دلاتا ہے مگر شیطان کے وعدے دھوکے اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔‘‘

[26] اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے سامنے راہ ہدایت واضح ہو چکی ہے مگر انھوں نے اس سے منہ موڑ کر اسے چھوڑ دیا ﴿قَالُوۡا لِلَّذِيۡنَ كَرِهُوۡا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ﴾ ’’انھوں نے ان لوگوں سے کہا جنھوں نے اللہ کی نازل کردہ وحی کو برا سمجھا:‘‘ جو اللہ اور اس کے رسولﷺ سے عداوت رکھتے ہیں ﴿سَنُطِيۡعُكُمۡ فِيۡ بَعۡضِ الۡاَمۡرِ﴾ ’’ہم بعض کاموں میں تمھاری اطاعت کریں گے۔‘‘ جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہیں پس اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی گمراہی کی پاداش میں اور ان کے ایسے رویے پر قائم رہنے، جو انھیں ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب کی طرف لے جاتا ہے، کے سبب ان کو سزا دی۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِسۡرَارَهُمۡ﴾ ’’اور اللہ ان کے راز جانتا ہے۔‘‘ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی فضیحت کی اور اسے اپنے مومن بندوں کے سامنے بیان کیا، تاکہ وہ فریب میں مبتلا نہ رہیں۔

[27]﴿ فَكَيۡفَ﴾ ’’پس کیسا ‘‘ ان کا برا حال اور ان کا بدترین نظارہ آپ دیکھیں گے ﴿ اِذَا تَوَفَّتۡهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ جب فرشتے جو ان کی روح قبض کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں ﴿ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡ﴾’’ وہ (سخت گرزوں سے) ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مار رہے ہوں گے۔‘‘

[28]﴿ ذٰلِكَ﴾ یہ عذاب، جس کے وہ مستحق ٹھہرے اور اس میں انھیں ڈالا گیا اس سبب سے ہے ﴿ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوۡا مَاۤ اَسۡخَطَ اللّٰهَ﴾ کہ انھوں نے ہر کفر و فسق اور گناہ کی پیروی کرکے اللہ کو ناراض کیا۔ ﴿ وَكَرِهُوۡا رِضۡوَانَهٗ﴾ ’’اور اس کی رضامندی کو انھوں نے ناپسند کیا۔‘‘ پس انھیں ایسے امور میں رغبت نہ تھی جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ بنتے ہیں اور نہ ایسے اعمال میں رغبت تھی جو انھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔ ﴿ فَاَحۡبَطَ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ سو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو باطل اور اکارت کر دیا، یہ اس شخص کے معاملے کے برعکس ہے جو ان امور کی اتباع کرتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو ناپسند کرتا ہے، پس عنقریب اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو مٹا دے گا اور اس کے لیے اپنے اجر و ثواب کو کئی گنا کر دے گا۔

47:29–31Page 509

أَمۡ حَسِبَ ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ أَن لَّن يُخۡرِجَ ٱللَّهُ أَضۡغَٰنَهُمۡ ٢٩

Or do those in whose hearts is disease think that Allāh would never expose their [feelings of] hatred?

وَلَوۡ نَشَآءُ لَأَرَيۡنَٰكَهُمۡ فَلَعَرَفۡتَهُم بِسِيمَٰهُمۡۚ وَلَتَعۡرِفَنَّهُمۡ فِي لَحۡنِ ٱلۡقَوۡلِۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ أَعۡمَٰلَكُمۡ ٣٠

And if We willed, We could show them to you, and you would know them by their mark; but you will surely know them by the tone of [their] speech. And Allāh knows your deeds.

وَلَنَبۡلُوَنَّكُمۡ حَتَّىٰ نَعۡلَمَ ٱلۡمُجَٰهِدِينَ مِنكُمۡ وَٱلصَّٰبِرِينَ وَنَبۡلُوَاْ أَخۡبَارَكُمۡ ٣١

And We will surely test you until We make evident those who strive among you [for the cause of Allāh] and the patient, and We will test your affairs.

کیا گمان کیا ہے ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ ہے یہ کہ ہرگز نہیں نکالے (ظاہر کرے) گا اللہ کینے ان کے؟(29) اور اگر ہم چاہتے (تو) البتہ ہم دکھاتے آپ کو وہ (منافق) ، پھر ضرور پہچان لیتے آپ ان کو ان کے چہروں کی علامات سے اور یقیناً آپ پہچان لیں گے ان کو انداز گفتگو سے اور اللہ جانتا ہے اعمال تمھارے (30) اور البتہ ہم ضرور آزمائیں گے تمھیں یہاں تک کہ معلوم کر لیں ہم مجاہدین کو تم میں سے اورصبر کرنے والوں کو اور جانچ لیں ہم حالات تمھارے (31)

[29] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ اَمۡ حَسِبَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے انھوں نے خیال کیا۔‘‘ یعنی وہ جن کے دلوں میں کوئی ایسا شبہ یا خواہش ہے جو قلب کو صحت اور اعتدال کی حالت سے خارج کر دیتا ہے کہ ان کے دلوں میں ہے ۔﴿اَضۡغَانَهُمۡ﴾ وہ اسلام اور اہل اسلام کے لیے جو کینہ اور عداوت ہے، اللہ اسے ظاہر نہیں کرے گا؟ یہ ایسا گمان ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمت کے لائق نہیں اور یہ ضروری ہے کہ وہ جھوٹے میں سے سچے کو واضح کرے اور یہ چیز آزمائش اور امتحان سے ثابت ہوتی ہے۔ جو کوئی اس امتحان میں پورا اترا اور اس کا ایمان ثابت رہا وہی حقیقی مومن ہے اور جس کو اس امتحان و ابتلا نے الٹے پاؤ ں پھیر دیا اور اس نے اس پر صبر نہ کیا، اور جب اس پر امتحان آیا تو اس نے جزع فزع کیا اور اس کا ایمان کمزور ہو گیا۔ اس کے دل میں جو بغض اور کینہ تھا ظاہر ہو گیا اور یوں اس کا نفاق ظاہر ہو گیا۔ یہ حکمت الٰہیہ کا تقاضا ہے۔

[30] اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوۡ نَشَآءُ لَاَرَيۡنٰـكَهُمۡ۠ فَلَعَرَفۡتَهُمۡ۠ بِسِيۡمٰىهُمۡ﴾ ’’اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور آپ انھیں ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے۔‘‘ یعنی ان کی ان علامات کے ذریعے سے آپ ان کو پہچان لیں گے جو گویا ان کے چہروں پر مرقوم ہیں ﴿ وَلَتَعۡرِفَنَّهُمۡ فِيۡ لَحۡنِ الۡقَوۡلِ﴾ ’’اور یقیناً آپ انھیں ان کی بات کے انداز سے پہچان لیں گے۔‘‘ یعنی یہ ایک لازمی امر ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ ہے وہ ظاہر اور ان کی زبان کی لغزش سے واضح ہو کر رہے گا کیونکہ زبان دل کی نقیب ہوتی ہے جو خیر اور شر دل میں ہوتا ہے اسے زبان ظاہر کر دیتی ہے ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اَعۡمَالَكُمۡ﴾ ’’اور اللہ تمھارے اعمال سے واقف ہے۔‘‘ پس وہ تمھیں اس کی جزا دے گا۔

[31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے سب سے بڑے امتحان کا ذکر فرمایا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَنَبۡلُوَنَّـكُمۡ﴾ یعنی ہم تمھارے ایمان اور صبر کا امتحان لیں گے ﴿ حَتّٰى نَعۡلَمَ الۡمُجٰؔهِدِيۡنَ مِنۡكُمۡ وَالصّٰؔبِرِيۡنَ١ۙ وَنَبۡلُوَاۡ اَخۡبَارَؔكُمۡ﴾ ’’تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں ہم ان کو معلوم کرلیں۔‘‘ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے، اس کے دین کی مدد اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، وہی حقیقی مومن ہے، اور جو کوئی اس بارے میں سستی اور تن آسانی سے کام لیتا ہے، تو اس کے ایمان میں نقص ہے۔

47:32Page 510

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَشَآقُّواْ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ ٱلۡهُدَىٰ لَن يَضُرُّواْ ٱللَّهَ شَيۡـٔٗا وَسَيُحۡبِطُ أَعۡمَٰلَهُمۡ ٣٢

Indeed, those who disbelieved and averted [people] from the path of Allāh and opposed the Messenger after guidance had become clear to them - never will they harm Allāh at all, and He will render worthless their deeds.

بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اور روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے، اور مخالفت کی رسول (u) کی بعد اس کے کہ واضح ہو گئی ان کے لیے ہدایت، ہرگز نہیں بگاڑ سکیں گے وہ اللہ کا کچھ بھی اور عنقریب وہ (اللہ) برباد کرے گا اعمال ان کے (32)

[32] یہ آیت کریمہ اس شخص کے لیے نہایت سخت وعید ہے جس میں ہر قسم کا شر جمع ہے ، مثلاً: اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر، مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے تک پہنچانے کے لیے مقرر کیا ہوا ہے۔ ﴿ وَشَآقُّوا الرَّسُوۡلَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الۡهُدٰؔى﴾ یعنی انھوں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ عناد رکھا، جہالت، گمراہی اور ضلالت کی وجہ سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر عناد کی وجہ سے ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد آپ کی مخالفت کی ﴿ لَنۡ يَّضُرُّوا اللّٰهَ شَيۡـًٔؔا﴾’’اور وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے۔‘‘ پس اس سے اللہ تعالیٰ کے اقتدار میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔﴿ وَسَيُحۡبِطُ اَعۡمَالَهُمۡ﴾ اور اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو رائیگاں کر دے گا جو وہ باطل کی مدد کے لیے کر رہے ہیں، یعنی ان کو ناکامی اور خسارے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا اور ان کے وہ اعمال جن پر انھیں ثواب کی امیدیں ہیں، قبولیت کی شرائط کے عدم وجود کی بنا پر قبول نہ کیے جائیں گے۔

47:33Page 510

۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَلَا تُبۡطِلُوٓاْ أَعۡمَٰلَكُمۡ ٣٣

O you who have believed, obey Allāh and obey the Messenger and do not invalidate your deeds.

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی، اور نہ باطل کرو اپنے عملوں کو (33)

[33] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو ایسی بات کا حکم دیتا ہے جس کے ذریعے سے انھیں دینی اور دنیاوی سعادت حاصل اور اس کی تکمیل ہوتی ہے اور وہ ہے دین کے اصول و فروع اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت۔ اور اطاعت سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اوامر کی اخلاص اور کامل متابعت کے ساتھ مامور بہ طریقے سے تعمیل کرنا اور نواہی سے اجتناب کرنا۔اللہ تعالیٰ کے فرمان:﴿ وَلَا تُبۡطِلُوۡۤا اَعۡمَالَكُمۡ﴾ ’’اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔‘‘ میں نہی عمل کو بجا لانے کے بعد اس کو فاسد کرنے والے امور کے ذریعے سے اس کے باطل کرنے کو شامل ہے، مثلاً: نیکی کرنے کے بعد احسان جتلانا، تکبر ، فخر اور شہرت کی خواہش کرنا وغیرہ، نیز ایسے گناہوں کا ارتکاب جو نیک اعمال کو مضمحل کر کے ان کے اجر و ثواب کو ضائع کر دیتے ہیں۔ نیز یہ نہی عمل کو اس کے وقوع کے وقت، اس کو فاسد کرنے کو شامل ہے، مثلاً: عمل کو مکمل کیے بغیر چھوڑ دینا یا کسی ایسے امر کا ارتکاب کرنا جو اس عمل کی مفسدات میں شمار ہوتا ہے۔ پس نماز، روزہ اور حج کو باطل کرنے والے امور اسی زمرے میں آتے ہیں اور ان سے روکا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ سے فقہاءS بغیر کسی موجب کے فرض کو منقطع کرنے کی تحریم اور نفل کو منقطع کرنے کی کراہت پر استدلال کرتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے اعمال کو باطل کرنے سے روکا ہے تو اس نے گویا اعمال کی اصلاح، اس کی تکمیل و اتمام اور ان کو اس طرح بجا لانے کا حکم دیا ہے جو علم و عمل کے اعتبار سے درست ہو۔

47:34–35Page 510

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ مَاتُواْ وَهُمۡ كُفَّارٞ فَلَن يَغۡفِرَ ٱللَّهُ لَهُمۡ ٣٤

Indeed, those who disbelieved and averted [people] from the path of Allāh and then died while they were disbelievers - never will Allāh forgive them.

فَلَا تَهِنُواْ وَتَدۡعُوٓاْ إِلَى ٱلسَّلۡمِ وَأَنتُمُ ٱلۡأَعۡلَوۡنَ وَٱللَّهُ مَعَكُمۡ وَلَن يَتِرَكُمۡ أَعۡمَٰلَكُمۡ ٣٥

So do not weaken and call for peace while you are superior; and Allāh is with you and will never deprive you of [the reward of] your deeds.

بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور روکا انھوں نے اللہ کی راہ سے ، پھر وہ مر گئے اس حال میں کہ وہ کافر ہی تھے، تو ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو (34) سو نہ سستی کرو تم اور (نہ) بلاؤ تم صلح کی طرف جب کہ تم (ہی) بلند (غالب) ہو اور اللہ تمھارے ساتھ ہے اور ہرگز نہیں کم گرے گا، تم سے (ثواب) تمھارے عملوں کا (35)

[34] یہ آیت کریمہ اور وہ جو سورۂ بقرہ میں وارد ہوئی ہے یعنی ﴿ وَمَنۡ يَّرۡتَدِدۡ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡنِهٖ فَيَمُتۡ وَهُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ﴾(البقرہ:2؍217) ’’تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے اور کفر کی حالت میں مر جائے، پس ان لوگوں کے اعمال دنیا و آخرت میں اکارت جائیں گے۔‘‘ یہ دونوں آیات ہر اس نصِ مطلق کو، جس میں کفر کی بنا پر اعمال کے اکارت جانے کا ذکر کیا گیا ہے، مقید کرتی ہیں۔ پس یہ حکم اس پر موت کے ساتھ مقید ہے۔یہاں فرمایا:﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ بے شک وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار کیا ﴿ وَصَدُّوۡا﴾ اور مخلوق کو روکا ﴿ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کی راہ سے ‘‘ انھیں راہ حق سے دور کرنے، باطل کی طرف دعوت دینے اور باطل کو مزین کرنے كے ذريعے سے﴿ ثُمَّ مَاتُوۡا وَهُمۡ كُفَّارٌ﴾ ’’پھر کافر ہی مر گئے۔‘‘ اور انھوں نے کفر سے توبہ نہ کی ﴿ فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾ تو اللہ تعالیٰ انھیں کسی سفارش وغیرہ کے ذریعے سے نہ بخشے گا۔ ان کے لیے عذاب واجب ہو چکا، وہ ثواب سے محروم ہو گئے اور جہنم میں ان کا ہمیشہ رہنا لازم ہو گیا ان پر رحیم و غفار کی رحمت کے تمام دروازے بند ہو گئے۔آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر وہ اپنی موت سے پہلے توبہ کر لیں تو بے شک اللہ تعالیٰ انھیں بخش دے گا، ان پر رحم کر کے جنت میں داخل کر دے گا خواہ انھوں نے اپنی عمریں کفر، اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کیوں نہ گزاری ہوں۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندوں پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیے، اس نے کسی شخص پر، جب تک وہ زندہ ہے اور توبہ کرنے پر قادر ہے، اپنی رحمت کے دروازوں کو بند نہیں کیا... اور پاک ہے وہ ذات جو نہایت حلم والی ہے، جو گناہ گاروں کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتی، بلکہ ان کو معاف کرتی ہے اور انھیں رزق عطا کرتی ہے، گویا انھوں نے کبھی اس کی نافرمانی کی ہی نہیں، حالانکہ وہ ہستی ان پر پوری قدرت رکھتی ہے۔

[35] اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ فَلَا تَهِنُوۡا﴾ یعنی اپنے دشمن کے ساتھ قتال کرنے میں کمزوری نہ دکھاؤ اور تم پر خوف غالب نہ آئے، بلکہ صبر کرو اور ثابت قدم رہو اپنے رب کی رضا، اسلام کی خیر خواہی اور شیطان کو ناراض کرنے کے لیے اپنے نفس کو قتال اور جانفشانی پر آمادہ کرو اور محض آرام حاصل کرنے کے لیے تم دشمن کو امن اور صلح کی دعوت نہ دو۔﴿ وَ﴾ ’’اور‘‘ حالانکہ ﴿ اَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ١ۖ ۗ وَاللّٰهُ مَعَكُمۡ وَلَنۡ يَّتِرَؔكُمۡ﴾ ’’تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمھارے ساتھ ہے اور وہ کمی نہیں کرے گا‘‘﴿ اَعۡمَالَكُمۡ﴾ ’’تمھارے اعمال میں۔‘‘ یہ تین امور، ان میں سے ہر ایک صبر اور عدم ضعف کا تقاضا کرتا ہے:(۱)ان کا غالب آنا، یعنی ان کے لیے فتح و نصرت کے وافر اسباب مہیا کر دیے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے ساتھ سچا وعدہ کیا گیا ہے انسان صرف اس وقت کمزور ہوتا ہے جب وہ مخالفین کی نسبت کمتر تعداد، سازوسامان اور داخلی اور خارجی قوت کے اعتبار سے ان کی نسبت کمزور ہو۔(۲)اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے، کیونکہ وہ مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی نصرت اور تائید کے ذریعے سے اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یہ چیز ان کے دلوں کو طاقت اور قوت عطا کرنے اور دشمن کے خلاف اقدام کرنے کی موجب ہے۔(۳) اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں کچھ کمی نہیں کرے گا بلکہ انھیں پورا پورا اجر عطا کرے گا اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ عطا کرے گا۔ خاص طور پر جہاد کی عبادت میں، کیونکہ جہاد میں خرچ کیے ہوئے مال کا اجر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ لَا يُصِيۡبُهُمۡ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ وَّلَا مَخۡمَصَةٌ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا يَطَـُٔوۡنَ مَوۡطِئًا يَّغِيۡظُ الۡكُفَّارَ وَلَا يَنَالُوۡنَ مِنۡ عَدُوٍّ نَّـيۡلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَۙ۰۰ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَ نَفَقَةً صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً وَّلَا يَقۡطَعُوۡنَ وَادِيًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ لِيَجۡزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحۡسَنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾(التوبہ:9؍120-121) ’’یہ اس سبب سے ہے کہ انھیں اللہ کے راستے میں جو بھی تکلیف پہنچتی ہے، پیاس، تھکاوٹ یا بھوک کی تکلیف، یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں جس سے کفار کو غصہ آئے، یا دشمنوں سے کچھ حاصل کرتے ہیں تو اس کے بدلے ان کے لیے ایک نیک عمل لکھ لیا جاتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ اور جو تھوڑا یا بہت خرچ کرتے ہیں، یا کوئی وادی طے کرتے ہیں تو سب کچھ ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کی بہترین جزا دے۔‘‘ جب انسان کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے عمل اور جہاد کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا تو یہ چیز اس کے لیے نشاط اور ان امور میں کوشش کرنے کی موجب بنتی ہے جن پر اجر و ثواب مترتب ہوتے ہیں۔ تب کیسی کیفیت ہو گی اگر یہ تینوں مذکورہ امور مجتمع ہوں؟ بلاشبہ یہ چیز نشاط کامل کی موجب ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے ترغیب اور ایسے امور کے لیے ان میں نشاط اور قوت پیدا کرنا ہے جن میں ان کی بھلائی اور فلاح ہے۔

47:36–38Page 510

إِنَّمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا لَعِبٞ وَلَهۡوٞۚ وَإِن تُؤۡمِنُواْ وَتَتَّقُواْ يُؤۡتِكُمۡ أُجُورَكُمۡ وَلَا يَسۡـَٔلۡكُمۡ أَمۡوَٰلَكُمۡ ٣٦

[This] worldly life is only amusement and diversion. And if you believe and fear Allāh, He will give you your rewards and not ask you for your properties.

إِن يَسۡـَٔلۡكُمُوهَا فَيُحۡفِكُمۡ تَبۡخَلُواْ وَيُخۡرِجۡ أَضۡغَٰنَكُمۡ ٣٧

If He should ask you for them and press you, you would withhold, and He would expose your hatred [i.e., unwillingness].

هَٰٓأَنتُمۡ هَٰٓؤُلَآءِ تُدۡعَوۡنَ لِتُنفِقُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَمِنكُم مَّن يَبۡخَلُۖ وَمَن يَبۡخَلۡ فَإِنَّمَا يَبۡخَلُ عَن نَّفۡسِهِۦۚ وَٱللَّهُ ٱلۡغَنِيُّ وَأَنتُمُ ٱلۡفُقَرَآءُۚ وَإِن تَتَوَلَّوۡاْ يَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَيۡرَكُمۡ ثُمَّ لَا يَكُونُوٓاْ أَمۡثَٰلَكُم ٣٨

Here you are - those invited to spend in the cause of Allāh - but among you are those who withhold [out of greed]. And whoever withholds only withholds [benefit] from himself; and Allāh is the Free of need, while you are the needy. And if you turn away [i.e., refuse], He will replace you with another people; then they will not be the likes of you.

یقیناً حیاتِ دنیا (تو ایک) کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو (تو) وہ (اللہ) دے گا تمھیں اجر تمھارے، اور وہ نہیں مانگے گا تم سے مال تمھارے (36) اگر اللہ سوال کرے تم سے اس (تمام) مال کا، پھر وہ خوب اصرار کرے تم سے تو تم بخیلی کرو گے، اور وہ نکال باہر کرے گا کینے تمھارے (37) سنو! تم (تو) وہ لوگ ہو کہ بلائے جاتے ہو تاکہ تم خرچ کرو اللہ کی راہ میں ، پھر بعض تم میں سے وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں، اور جو بخل کرتا ہے تو یقیناً وہ بخل کرتا ہے اپنے آپ سے اور اللہ بے نیاز ہے اور تم محتاج ہو اور اگر تم روگردانی کرو گے تو (اللہ) بدل لائے گا (دوسرے) لوگ سوائے تمھارے، پھر نہ ہوں گے وہ تم جیسے (38)

[37,36] یہ اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کو اس دنیا کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے، کہ دنیا محض لہو و لعب ہے، یعنی بدن کے لیے لعب قلوب کے لیے لہو، اس میں زہد کی ترغیب ہے۔ پس بندہ اپنے مال و متاع، اولاد، اپنی زیب و زینت، اپنی بیویوں، ماکولات و مشروبات سے حصول لذت اپنے مساکن و مجالس، مناظر اور ریاست میں مگن ہو کر غافل اور ہر بے فائدہ عمل میں کھیلتا رہتا ہے بلکہ وہ بے کاری، غفلت اور گناہوں کے دائرے میں گھرا رہتا ہے، یہاں تک کہ اپنی دنیا کی زندگی کو مکمل کر لیتا ہے اور اس کی اجل آ جاتی ہے۔جب یہ تمام چیزیں منہ موڑ کر بندے سے جدا ہو جاتی ہیں اور بندے کو ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کا خسارہ اور محرومی واضح ہو جاتی ہے اور اس کا عذاب آ موجود ہوتا ہے تو یہ چیز خردمند شخص کے لیے، دنیا میں زہد، عدم رغبت اور اس کے معاملے میں اہتمام کی موجب ہے ۔ وہ کام جو ہر چیز سے زیادہ اہتمام کے لائق ہے، اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا﴾ ’’اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو۔‘‘ تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت پر ایمان لاؤ اور تقویٰ پر قائم رہو جو ایمان کے لوازم اور اس کے تقاضوں میں سے ہے۔ اور تقویٰ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو ترک کرتے ہوئے، دائمی طور پر اس کی رضا کے مطابق عمل کرنا۔ تو یہ عمل بندے کو فائدہ دیتا ہے اور یہی وہ عمل ہے جو اس لائق ہے کہ اس میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت کی جائے اور اس کی طلب میں اپنے عزم و ارادے اور اپنی جدوجہد کو صرف کیا جائے۔ اور یہی چیز اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے، ان پر رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر مطلوب و مقصود ہے، تاکہ انھیں بے پایاں ثواب عطا کرے ۔بنابریں فرمایا:﴿وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا يُؤۡتِكُمۡ اُجُوۡرَؔكُمۡ وَلَا يَسۡـَٔلۡكُمۡ اَمۡوَالَكُمۡ﴾ ’’اگر تم ایمان لاؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو وہ تمہیں تمھارا اجر دے گا اور تم سے تمھارا مال طلب نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں کوئی ایسی تکلیف نہیں دینا چاہتا جو تمھارے لیے مشقت اور مشکل کا باعث ہو، مثلاً: وہ تم سے مال لے کر تمھیں مال کے بغیر نہیں چھوڑنا چاہتا یا تمھیں کسی ایسے نقصان سے دو چار نہیں کرنا چاہتا جس سے تمھیں ضرر پہنچے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ اِنۡ يَّسۡـَٔلۡكُمُوۡهَا فَيُحۡفِكُمۡ تَبۡخَلُوۡا وَيُخۡرِجۡ اَضۡغَانَكُمۡ﴾ یعنی جب وہ تم سے اس چیز کا مطالبہ کرے جس کو خرچ کرنا تم ناپسند کرتے ہو تو وہ دلوں میں چھپے ہوئے کینے اور بدنیتی کو ظاہر کر دے گا ۔

[38] اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمھارے اموال طلب کرے اور تمھارے تمام مال کا سوال کر کے تمھیں تنگ کرے تو تم اس کی تعمیل نہ کرو گے اور یہ کہ ﴿ تُدۡعَوۡنَ لِتُنۡفِقُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ تمھیں اس طریقے سے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے، جس میں تمھاری دینی اور دنیاوی مصلحت ہے ﴿ فَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يَّبۡخَلُ﴾ ’’پس تم میں سے جو شخص بخل کرے۔‘‘ تب تمھارا کیا حال ہو، اگر اللہ تعالیٰ تم سے، کسی ایسے معاملے میں خرچ کرنے کے لیے، تمھارے مال کا سوال کرے، جہاں خرچ کرنے میں تمھیں کوئی فوری فائدہ نظر نہ آتا ہو، تو تمھارا اس معاملے میں خرچ کرنے سے باز رہنا زیادہ اولیٰ ہے۔پھر فرمایا:﴿ وَمَنۡ يَّبۡخَلۡ فَاِنَّمَا يَبۡخَلُ عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’اور جو شخص بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ سے بخل کرتا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے ثواب سے محروم کر لیا اور اس سے خیر کثیر فوت ہو گئی۔ وہ انفاق فی سبیل اللہ کو ترک کر کے اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا بے شک اللہ تعالیٰ ﴿اللّٰهُ الۡغَنِيُّ وَاَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ﴾ ’’ بے نیاز ہے اور تم اپنے تمام اوقات اور تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو۔ ﴿ وَاِنۡ تَتَوَلَّوۡا ﴾ یعنی اگر تم ایمان باللٰہ اور ان امور پر عمل کرنے سے منہ موڑ لو جن کا اللہ تعالیٰ تمھیں حکم دیتا ہے۔ ﴿ يَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَيۡرَؔكُمۡ١ۙ ثُمَّ لَا يَكُوۡنُوۡۤا اَمۡثَالَكُمۡ﴾ ’’تو وہ تمھاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمھاری طرح کے نہیں ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے روگردانی میں تمھاری مانند نہیں ہوں گے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والے ہوں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ يَّرۡتَدَّ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡنِهٖ فَسَوۡفَ يَاۡتِي اللّٰهُ بِقَوۡمٍ يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ﴾(المائدہ:5؍54) ’’اے ایمان لانے والو! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھر جاتا ہے تو عنقریب اللہ ایسے لوگوں کو لے آئے گا جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے۔‘‘

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском