As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
الفتح
Al-Fath
The Victory · Medinan · 29 ayahs
48:1–3Page 511
إِنَّا فَتَحۡنَا لَكَ فَتۡحٗا مُّبِينٗا ١
Indeed, We have given you, [O Muḥammad], a clear conquest1
لِّيَغۡفِرَ لَكَ ٱللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنۢبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعۡمَتَهُۥ عَلَيۡكَ وَيَهۡدِيَكَ صِرَٰطٗا مُّسۡتَقِيمٗا ٢
That Allāh may forgive for you what preceded of your sin [i.e., errors] and what will follow and complete His favor upon you and guide you to a straight path
وَيَنصُرَكَ ٱللَّهُ نَصۡرًا عَزِيزًا ٣
And [that] Allāh may aid you with a mighty victory.
بلاشبہ ہم نے فتح دی آپ کو فتح مبین(1) تاکہ بخش دے آپ کے لیے اللہ جو پہلے ہوا کوئی گناہ آپ کا اور جو پیچھے ہوا اور (تاکہ) پوری کرے اپنی نعمت آپ پر اور (تاکہ) ہدایت دے آپ کو صراط مستقیم کی(2) اور (تاکہ) مدد کرے آپ کی اللہ مدد نہایت زبردست(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اس فتح مذکور سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مشرکین مکہ نے رسول اللہﷺ کو اس وقت روکا جب آپ عمرہ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ آئے۔ یہ ایک طویل قصہ ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رسول اللہﷺ نے مشرکین کے ساتھ دس سال تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر لیا۔ اس شرط پر آپ آئندہ سال عمرہ کریں گے۔ جو کوئی قریش کے معاہدے میں داخل ہوکر حلیف بننا چاہے ایسا کر سکتا ہے۔ اور جو کوئی رسول اللہﷺ کے عہد میں داخل ہو کر آپ کا حلیف بننا چاہے، وہ ایسا کر سکتا ہے۔اس کا سبب یہ تھا کہ جب لوگ ایک دوسرے سے مامون ہوں گے تو دعوت دین کا دائرہ وسیع ہو گا، سر زمین کے طول و عرض میں مومن جہاں کہیں بھی ہوگا، وہ دین کی دعوت دے سکے گا جو شخص حقیقت اسلام سے واقفیت حاصل کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے واقفیت حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ اس مدت کے دوران لوگ فوج در فوج اللہ تعالیٰ کے دین میں داخل ہوئے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس صلح کو ’’فتح‘‘ کے نام سے موسوم کر کے اس کو ’’فتح مبین‘‘ کی صفت سے موصوف کیا، یعنی واضح فتح۔ کیونکہ مشرکین کے شہروں کو فتح کرنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین کا اعزاز اور مسلمانوں کی نصرت ہے، اس سے یہ فتح حاصل ہو گئی.
[2] اس فتح پر اللہ تعالیٰ نے متعدد امور مرتب فرمائے۔چنانچہ فرمایا:﴿ لِّيَغۡفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۢۡبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ ﴾ ’’تاکہ اللہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دے۔‘‘ و اللّٰہ اعلم ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کے باعث بہت سے نیکیاں حاصل ہوئیں، لوگ دین میں بہت کثرت سے داخل ہوئے، نیز اس بنا پر کہ رسول اللہﷺ نے یہ شرائط برداشت کیں جن پر اولوالعزم رسولوں کے سوا کوئی صبر نہیں کر سکتا۔ یہ چیز رسول اللہﷺ کے عظیم ترین مناقب اور کرامات میں شمار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے۔ ﴿ وَيُتِمَّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكَ﴾ اور تاکہ آپ کے دین کو اعزاز عطا کر کے، آپ کو آپ کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے بہرہ مند کر کے اور آپ کے کلمہ کو وسعت بخش کر آپ پر اپنی نعمت کا اتمام کرے۔ ﴿وَيَهۡدِيَكَ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ ’’اور آپ کو سیدھے راستے پر چلائے۔‘‘ تاکہ آپ سعادت ابدی اور فلاح سرمدی حاصل کر سکیں۔
[3]﴿ وَّيَنۡصُرَكَ اللّٰهُ نَصۡرًا عَزِيۡزًا﴾ ’’اور اللہ آپ کی زبردست مدد کرے۔‘‘ یعنی انتہائی قوی مدد، جس میں اسلام کمزور نہ ہو، بلکہ اسے مکمل فتح و نصرت حاصل ہو، اللہ تعالیٰ کفار کا قلع قمع کرے، ان کو ذلیل اور کمزور کر کے ان میں کمی کرے، مسلمانوں کو زیادہ کرے ان کی تعداد کو بڑھائے اور ان کے اموال میں اضافہ کرے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر مترتب ہونے والی اس فتح کے آثار کا ذکر فرمایا:
48:4–6Page 511
هُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ لِيَزۡدَادُوٓاْ إِيمَٰنٗا مَّعَ إِيمَٰنِهِمۡۗ وَلِلَّهِ جُنُودُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمٗا ٤
It is He who sent down tranquility into the hearts of the believers that they would increase in faith along with their [present] faith. And to Allāh belong the soldiers of the heavens and the earth, and ever is Allāh Knowing and Wise.
لِّيُدۡخِلَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنۡهُمۡ سَيِّـَٔاتِهِمۡۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عِندَ ٱللَّهِ فَوۡزًا عَظِيمٗا ٥
[And] that He may admit the believing men and the believing women to gardens beneath which rivers flow to abide therein eternally and remove from them their misdeeds - and ever is that, in the sight of Allāh, a great attainment –
وَيُعَذِّبَ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتِ وَٱلۡمُشۡرِكِينَ وَٱلۡمُشۡرِكَٰتِ ٱلظَّآنِّينَ بِٱللَّهِ ظَنَّ ٱلسَّوۡءِۚ عَلَيۡهِمۡ دَآئِرَةُ ٱلسَّوۡءِۖ وَغَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡ وَلَعَنَهُمۡ وَأَعَدَّ لَهُمۡ جَهَنَّمَۖ وَسَآءَتۡ مَصِيرٗا ٦
And [that] He may punish the hypocrite men and hypocrite women, and the polytheist men and polytheist women - those who assume about Allāh an assumption of evil nature. Upon them is a misfortune of evil nature; and Allāh has become angry with them and has cursed them and prepared for them Hell, and evil it is as a destination.
وہ، وہ ذات ہے جس نے نازل کی تسکین دلوں میں مومنوں کے تاکہ زیادہ ہوں وہ ایمان میں ساتھ اپنے ایمان کے اور اللہ ہی کے لیے ہیں لشکر آسمانوں اور زمین کے اور ہے اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا(4)(یہ سب اس لیے کیا) تاکہ وہ داخل کرے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں، اور (تاکہ) دور کرے ان سے ان کی برائیاں، اور ہے یہ اللہ کے ہاں کامیابی بہت بڑی(5) اور (تاکہ) عذاب دے منافق مَردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مَردوں اور مشرک عورتوں کو، وہ جو گمان کرنے والے ہیں ساتھ اللہ کے گمان برا ، انھی پر ہے گردش بری اور غصے ہوا اللہ ان پر اور اس نے لعنت کی انھیں اور تیار کی ان کے لیے جہنم، اور بری جگہ ہے وہ لوٹنے کی(6)
[4] اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس احسان سے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے ان کے دلوں میں سکینت نازل کی۔ سکینت سے مراد وہ سکون، اطمینان اور ثبات ہے جو مضطرب کر دینے والے مصائب و محن اور ایسے مشکل امور کے وقت بندۂ مومن کو حاصل ہوتا ہے، جو دلوں کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں، عقل کو سوچنے سمجھنے کی قوت سے عاری اور نفس کو کمزور کر دیتے ہیں۔ پس اس صورت حال میں یہ اللہ کی طرف سے اپنے بندے کے لیے نعمت ہے کہ وہ اس کو ثابت قدم رکھتا ہے، اس کے قلب کو مضبوط کرتا ہے تاکہ ان مصائب کا سامنا کر سکے اور اس حال میں بھی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم کرنے کے لیے مستعد رہے، پس اس سے اس کے ایمان میں اضافہ اور اس کے ایقان کی تکمیل ہو۔جب رسول اللہﷺ اور مشرکوں کے مابین، صلح کی یہ شرائط طے ہوئیں، جو صحابہ کرام (y) کے لیے بظاہر ذلت آمیز اور ان کے مرتبے سے فرو تر تھیں، تو ان شرائط پر ان کے نفوس صبر کرنے کی قوت نہیں پا رہے تھے۔ پس جب انھوں نے ان شرائط کو صبر کے ساتھ قبول کر لیا اور اپنے نفوس کو ان کی قبولیت پر آمادہ کر لیا تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔ فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ جُنُوۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ یعنی زمین و آسمان کے تمام لشکر، اس کی ملکیت اور اس کے دست تدبیر اور قہر کے تحت ہیں، اس لیے مشرکین یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور نبی کی مدد نہیں کرے گا، مگر اللہ تعالیٰ علم اور حکمت والا ہے، بنابریں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ لوگوں کے درمیان گردش ایام ہوتی رہے اور اہل ایمان کے لیے فتح و نصرت کسی دوسرے موقع تک مؤخر رہے۔
[5]﴿لِّيُدۡخِلَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا وَيُكَـفِّرَ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ﴾ ’’تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو، بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، داخل کرے، جن میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہوں کو دور کردے۔‘‘ یہ سب سے بڑی چیز ہے جو اہل ایمان کو حاصل ہوتی ہے یعنی دخول جنت کے ذریعے سے انھیں اپنا مطلوب و مقصود حاصل ہوتا ہے اور گناہوں کو مٹا دینے کے ذریعے سے وہ چیز زائل ہوتی ہے جس کا انھیں خوف تھا۔ ﴿وَكَانَ ذٰلِكَ﴾ یہ مذکورہ جزا جو مومنوں کو عطا ہو گی ﴿عِنۡدَ اللّٰهِ فَوۡزًا عَظِيۡمًا﴾ ’’اللہ کے ہاں بڑی کامیابی ہے۔‘‘ یہ ہے وہ فعل جو اللہ تعالیٰ اس فتح مبین میں اہل ایمان کے بارے میں سر انجام دے گا۔
[6] رہے منافقین اور منافق عورتیں، مشرکین اور مشرک عورتیں، تو اللہ تعالیٰ ان کو اس فتح مبین کے ذریعے سے عذاب دے گا، انھیں ایسے ایسے امور دکھائے گا جو ان کے لیے نہایت تکلیف دہ ہوں گے، چونکہ مشرکین کا مقصد یہ تھا کہ مومنین بے یارومددگار رہ جائیں، اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ برا گمان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے دین کی مدد کرے گا نہ اپنے کلمہ کو بلند کرے گا اور اہل باطل کو اہل حق پر غلبہ عطا کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے گمان کو الٹ دیا اور دنیا میں ہی ان پر برا وقت آ گیا۔﴿وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ عداوت رکھنے کے سبب سے اللہ تعالیٰ ان پر سخت ناراض ہے ﴿وَلَعَنَهُمۡ﴾ ’’اور ان پر لعنت کی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے ﴿وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَهَنَّمَ١ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا﴾ ’’اور ان کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔‘‘
48:7Page 511
وَلِلَّهِ جُنُودُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ٧
And to Allāh belong the soldiers of the heavens and the earth. And ever is Allāh Exalted in Might and Wise.
اور اللہ ہی کے لیے ہیں لشکر آسمانوں اور زمین کے، اور ہے اللہ نہایت زبردست، خوب حکمت والا(7)
[7] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بتکرار آگاہ فرمایا ہے کہ آسمان اور زمین اور ان کے اندر موجود لشکر، اسی کی ملکیت ہیں، تاکہ بندے اس حقیقت کو جان لیں کہ وہی عزت عطا کرنے والا اور وہی ذلت سے دوچار کرنے والا ہے۔ وہ عنقریب اپنے ان لشکروں کو فتح و نصرت سے ہم کنار کرے گا جو اس کی طرف منسوب ہیں جیسا کہ فرمایا:﴿ وَاِنَّ جُنۡدَنَا لَهُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ﴾(الصافات:37؍173) ’’بلاشبہ ہمارا لشکر ہی غالب آ کر رہے گا۔‘‘ ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيۡزًا ﴾ اور اللہ تعالیٰ طاقت ور، زبردست اور ہر چیز پر غلبہ رکھتا ہے۔ وہ اپنی قوت اور غلبہ کے باوجود، اپنی تخلیق و تدبیر میں حکمت والا ہے، وہ اپنی حکمت اور مہارت کے مطابق فعل سر انجام دیتا ہے۔
48:8–9Page 511
إِنَّآ أَرۡسَلۡنَٰكَ شَٰهِدٗا وَمُبَشِّرٗا وَنَذِيرٗا ٨
Indeed, We have sent you as a witness and a bringer of good tidings and a warner
لِّتُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُۚ وَتُسَبِّحُوهُ بُكۡرَةٗ وَأَصِيلًا ٩
That you [people] may believe in Allāh and His Messenger and honor him and respect him [i.e., the Prophet (ﷺ)] and exalt Him [i.e., Allāh] morning and afternoon.
بلاشبہ ہم نے بھیجا آپ کو گواہی دینے والا، اور بشارت دینے والا، اور ڈرانے والا (بنا کر)(8) تاکہ ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے، اور (تاکہ) مدد کرو تم اس کی اور توقیر کرو اس کی اور (تاکہ) پاکی بیان کرو تم اس کی صبح اور شام(9)
[8]﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ﴾ اے رسول کریم! (ﷺ) ہم نے آپ کو بھیجا۔ ﴿ شَاهِدًا﴾ گواہ بناکر ،یعنی آپ کی امت جو نیکی یا بدی کرتی ہے، ہم نے آپ کو اس پر گواہ بنا کر بھیجا اور تمام حق اور باطل مقالات اور مسائل پر، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور ہر لحاظ سے اس کے اپنے کمال میں منفرد ہونے پر آپ کو گواہ بنا کر مبعوث کیا۔ ﴿وَّمُبَشِّرًا﴾ جس کسی نے آپ کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، اس کے لیے دنیاوی، دینی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا بنا کر بھیجا اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، اس کو دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا بنا کر مبعوث کیا۔ تبشیر اور انذار یہ ہے کہ ان اعمال و اخلاق کو بیان کیا جائے جن پر خوشخبری دی جاتی ہے اور جن کے انجام سے ڈرایا جاتا ہے ، چنانچہ آپ خیر و شر، سعادت و شقاوت اور حق و باطل کو کھول کھول کر بیان کر دینے والے ہیں۔
[9] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنا یہ ارشاد مرتب فرمایا: ﴿ لِّتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ رسول اللہﷺ کے تمھیں دعوت اور ان امور کی تعلیم دینے کے سبب سے ہم نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا جن میں تمھارا فائدہ ہے تاکہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ جو تمام امور میں ان دونوں کی اطاعت کو مستلزم ہے۔ ﴿ وَتُعَزِّرُوۡهُ وَتُوَقِّرُوۡهُ﴾ تم رسول اللہﷺ کا ادب کرو، آپ کی توقیر یعنی تعظیم کرو، آپ کو مرتبے میں بڑا تسلیم کرو اور آپ کے حقوق کو ادا کرو جیسا کہ تمھاری گردنوں پر آپﷺ کا بڑا احسان ہے۔ ﴿ وَتُسَبِّحُوۡهُ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو ﴿ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا﴾ صبح و شام۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے وہ حق بیان کیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے درمیان مشترک ہے، یعنی ان دونوں پر ایمان۔ ایک حق وہ ہے جو رسول اللہﷺ سے مختص ہے اور وہ ہے آپ کی تعظیم و توقیر اور ایک حق وہ ہے جو صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہے اور وہ ہے نماز وغیرہ کے ذریعے سے اس کی تسبیح و تقدیس۔
48:10Page 512
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ ٱللَّهَ يَدُ ٱللَّهِ فَوۡقَ أَيۡدِيهِمۡۚ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفۡسِهِۦۖ وَمَنۡ أَوۡفَىٰ بِمَا عَٰهَدَ عَلَيۡهُ ٱللَّهَ فَسَيُؤۡتِيهِ أَجۡرًا عَظِيمٗا ١٠
Indeed, those who pledge allegiance to you, [O Muḥammad] - they are actually pledging allegiance to Allāh. The hand1 of Allāh is over their hands.2 So he who breaks his word only breaks it to the detriment of himself. And he who fulfills that which he has promised Allāh - He will give him a great reward.
بلاشبہ وہ لوگ جو بیعت کرتے ہیں آپ سے، یقیناً وہ بیعت کرتے ہیں اللہ سے، اللہ کا ہاتھ ہے اوپر ان کے ہاتھوں کے، پھر جس نے عہد شکنی کی تو یقیناً وہ عہد شکنی کرے گا اپنی ہی ذات کے خلاف اور جس نے پورا کیا اس کو کہ عہد کیا تھا اس نے اس پر اللہ سے تو عنقریب وہ دے گا اس کو اجر بہت بڑا (10)
[10] یہ بیعت جس کی طرف اللہ تبارک و تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ’’بیعت رضوان‘‘ ہے، اس میں صحابہ کرام y نے رسول اللہﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی کہ وہ آپ کو چھوڑ کر فرار نہیں ہوں گے۔ یہ ایک خاص معاہدہ ہے جس کے لوازم میں سے ہے کہ وہ آپ کو چھوڑ کر فرار نہ ہوں، خواہ بہت ہی تھوڑے لوگ کیوں نہ باقی رہ جائیں اور خواہ ایسی صورت حال میں ہوں جہاں فرار ہونا جائز ہوتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ جو لوگ آپ سے بیعت کررہے ہیں، حقیقتِ امر یہ ہے کہ وہ ﴿ يُبَايِعُوۡنَ اللّٰهَ﴾ اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاہدہ کر رہے ہیں، حتیٰ کہ یہ اس کی شدت تاکید ہے کہ فرمایا:﴿يَدُ اللّٰهِ فَوۡقَ اَيۡدِيۡهِمۡ﴾ ’’اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔‘‘ گویا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیعت کی ہے اور اس بیعت میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ مصافحہ کیا ہے۔ یہ سب کچھ زیادہ تاکید، تقویت اور ان کو اس بیعت کے پورا کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے فرمایا، بنابریں فرمایا:﴿فَمَنۡ نَّـكَثَ﴾ ’’پس جو بیعت کو توڑے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اسے پورا نہ کرے ﴿فَاِنَّمَا يَنۡكُثُ عَلٰى نَفۡسِهٖ﴾ ’’تو بے شک عہد توڑنے کا نقصان اسی کو ہے۔‘‘ کیونکہ اس کا وبال اسی کی طرف لوٹے گا اور اس کی سزا اسی کو ملے گی۔ ﴿وَمَنۡ اَوۡفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَيۡهُ اللّٰهَ ﴾ ’’اور جو اس بات کو جس کا اس نے اللہ سے عہد کیا ہے، پورا کرے۔‘‘ یعنی اس معاہدے پر کامل طور پر عمل کرے ﴿فَسَيُؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾ ’’تو وہ اسے عنقریب اجر عظیم دے گا۔‘‘ اس اجر کی عظمت اور قدر کو صرف وہی جان سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ یہ اجر عطا کرے گا۔
48:11–13Page 512
سَيَقُولُ لَكَ ٱلۡمُخَلَّفُونَ مِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ شَغَلَتۡنَآ أَمۡوَٰلُنَا وَأَهۡلُونَا فَٱسۡتَغۡفِرۡ لَنَاۚ يَقُولُونَ بِأَلۡسِنَتِهِم مَّا لَيۡسَ فِي قُلُوبِهِمۡۚ قُلۡ فَمَن يَمۡلِكُ لَكُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيۡـًٔا إِنۡ أَرَادَ بِكُمۡ ضَرًّا أَوۡ أَرَادَ بِكُمۡ نَفۡعَۢاۚ بَلۡ كَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرَۢا ١١
Those who remained behind1 of the bedouins will say to you, "Our properties and our families occupied us, so ask forgiveness for us." They say with their tongues what is not within their hearts. Say, "Then who could prevent Allāh at all if He intended for you harm or intended for you benefit? Rather, ever is Allāh, of what you do, Aware.
بَلۡ ظَنَنتُمۡ أَن لَّن يَنقَلِبَ ٱلرَّسُولُ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ إِلَىٰٓ أَهۡلِيهِمۡ أَبَدٗا وَزُيِّنَ ذَٰلِكَ فِي قُلُوبِكُمۡ وَظَنَنتُمۡ ظَنَّ ٱلسَّوۡءِ وَكُنتُمۡ قَوۡمَۢا بُورٗا ١٢
But you thought that the Messenger and the believers would never return to their families, ever, and that was made pleasing in your hearts. And you assumed an assumption of evil and became a people ruined."
وَمَن لَّمۡ يُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ فَإِنَّآ أَعۡتَدۡنَا لِلۡكَٰفِرِينَ سَعِيرٗا ١٣
And whoever has not believed in Allāh and His Messenger - then indeed, We have prepared for the disbelievers a Blaze.
ضرور کہیں گے آپ سے وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے دیہایتوں میں سے، مشغول کر دیا تھا ہمیں ہمارے مالوں اور ہمارے اہل(و عیال) نے ، پس آپ مغفرت طلب کریں ہمارے لیے وہ کہتے ہیں اپنی زبانوں سے وہ (بات) کہ نہیں ہے وہ ان کے دلوں میں کہہ دیجیے! تو کون اختیار رکھتا ہے تمھارے لیے اللہ سے کسی چیز کا، اگر وہ ارادہ کرے تمھارے ساتھ نقصان کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ نفع کا؟ (کوئی بھی نہیں)بلکہ ہے اللہ ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب خبردار (11)بلکہ تم نے گمان کیا تھا یہ کہ ہرگز نہیں واپس لوٹیں گے رسول اور مومن اپنے اہل و عیال کی طرف کبھی بھی، اور مزین کر دی گئی تھی یہ بات تمھارے دلوں میں، اور گمان کر لیا تھا تم نے گمان برا اور تھے تم لوگ ہلاک ہونے والے (12) اور جو شخص نہیں ایمان لایا ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے تو بلاشبہ ہم نے تیار کی ہے (ایسے) کافروں کے لیے خوب بھڑکتی آگ (13)
[13-11] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ضعیف الایمان بدویوں کی مذمت بیان کی ہے جو جہاد فی سبیل اللہ میں رسول اللہﷺ کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہے، ان کے دلوں میں مرض اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی تھی۔ نیز وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہﷺ کے پاس معذرت کر لیں گے کہ ان کے مال اور اہل و عیال کی مصروفیات نے ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنے سے روکے رکھا۔ وہ رسول اللہﷺ سے درخواست کر لیں گے کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يَقُوۡلُوۡنَ بِاَلۡسِنَتِهِمۡ۠ مَّا لَيۡسَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’یہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں۔‘‘ رسول اللہﷺ سے استغفار کی درخواست کرنا، ان کی ندامت اور اپنے گناہ کے اقرار پر دلالت کرتا ہے، نیز اس امر کے اعتراف پر دلالت کرتا ہے کہ وہ جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے، جس کے لیے توبہ و استغفار کی ضرورت ہے۔پس اگر ان کے دلوں میں یہ بیماری نہ ہوتی تو رسول اللہﷺ کا استغفار ان کے لیے فائدہ مند ہوتا کیونکہ انھوں نے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا ہے مگر ان کے دلوں میں جو مرض ہے کہ وہ جہاد چھوڑ کر اس لیے گھر بیٹھ رہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں برا گمان رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں ﴿ اَنۡ لَّنۡ يَّنۡقَلِبَ الرَّسُوۡلُ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِلٰۤى اَهۡلِيۡهِمۡ اَبَدًا﴾ ’’کہ رسول اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ یعنی ان کو قتل کر کے نیست و نابود کر دیا جائے گا اور یہ برا گمان ان کے دلوں میں پرورش پاتا رہا، وہ اس پر مطمئن رہے حتیٰ کہ ان کے دلوں میں یہ بدگمانی مستحکم ہو گئی، اور اس کا سبب دو امور ہیں:(۱) وہ ﴿ قَوۡمًۢا بُوۡرًا﴾ہلاک ہونے والے لوگ ہیں، ان میں کوئی بھلائی نہیں، اگر ان میں کسی قسم بھلائی ہوتی تو ان کے دلوں میں یہ بدگمانی نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے، دین کے لیے اس کی نصرت اور کلمۃ اللہ کو بلند کرنے کے بارے میں ان کا ایمان اور یقین کمزور ہے۔(۲) دوسرا سبب اللہ تعالیٰ کے وعدے، اس کے اپنے دین کی مدد کرنے اوراپنے کلمے کو بلند کرنے پر ان کے ایمان اور یقین کا کمزور ہونا ہے، اسی لیے فرمایا:﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يُؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ﴾ ’’اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے۔‘‘ یعنی وہ کافر اور عذاب کا مستحق ہے ﴿ فَاِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلۡكٰفِرِيۡنَ سَعِيۡرًا﴾ تو ہم نے کفار کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
48:14Page 512
وَلِلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ يَغۡفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمٗا ١٤
And to Allāh belongs the dominion of the heavens and the earth. He forgives whom He wills and punishes whom He wills. And ever is Allāh Forgiving and Merciful.
اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، وہ بخشتا ہے واسطے جس کے چاہتا ہے اور عذاب دیتا ہے جسے چاہتا ہے، اور ہے اللہ نہایت بخشنے والا بڑا مہربان (14)
[14] یعنی اللہ تعالیٰ اکیلا ہی آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے وہ جیسے چاہتا ہے، آسمانوں اور زمین میں اپنے احکام قدری، احکام شرعی اور احکام جزائی نافذ کرتا ہے، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم جزائی کا ذکر فرمایا جو احکام شرعی پر مترتب ہوتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يَغۡفِرُ لِمَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’وہ جسے چاہے بخش دے۔‘‘ اور یہ وہ شخص ہے جس نے اللہ کے حکم کی اطاعت کی۔ ﴿ وَيُعَذِّبُ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اور وہ جسے چاہے عذاب دے۔‘‘ اور یہ وہ شخص ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ہیچ جانا۔ ﴿ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا﴾ ’’اور اللہ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ اس کا وصف لازم ہے جس کی بنا پر مغفرت اور رحمت کبھی اس سے جدا نہیں ہوتے۔ وہ ہر وقت گناہ گاروں کے گناہ بخشتا ہے، خطا کاروں کی خطاؤ ں سے درگزر کرتا ہے اور توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اس کی بے پایاں بھلائی رات دن نازل ہوتی رہتی ہے۔
48:15Page 512
سَيَقُولُ ٱلۡمُخَلَّفُونَ إِذَا ٱنطَلَقۡتُمۡ إِلَىٰ مَغَانِمَ لِتَأۡخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعۡكُمۡۖ يُرِيدُونَ أَن يُبَدِّلُواْ كَلَٰمَ ٱللَّهِۚ قُل لَّن تَتَّبِعُونَا كَذَٰلِكُمۡ قَالَ ٱللَّهُ مِن قَبۡلُۖ فَسَيَقُولُونَ بَلۡ تَحۡسُدُونَنَاۚ بَلۡ كَانُواْ لَا يَفۡقَهُونَ إِلَّا قَلِيلٗا ١٥
Those who remained1 behind will say when you set out toward the war booty to take it, "Let us follow you." They wish to change the words of Allāh. Say, "Never will you follow us. Thus did Allāh say before." So they will say, "Rather, you envy us." But [in fact] they were not understanding except a little.2
عنقریب کہیں گے وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے، جب چلو گے تم غنیمتوں کی طرف تاکہ لو تم وہ، چھوڑو ہمیں! ہم بھی چلیں تمھارے ساتھ ، وہ ارادہ کرتے ہیں یہ کہ بدل دیں کلام اللہ کا، کہہ دیجیے! ہرگز نہیں چلو گے تم ہمارے ساتھ، اسی طرح کہہ دیا ہے اللہ نے پہلے ہی سے، پھر یقیناً وہ کہیں گے، بلکہ حسد کرتے ہو تم ہم سے، (نہیں)بلکہ ہیں وہ لوگ نہیں سمجھتے مگر تھوڑا ہی (15)
[15] جب اللہ تعالیٰ نے جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی مذمت کی، تو یہ بھی ذکر فرمایا کہ ان کی دنیاوی سزا یہ ہے کہ جب رسول اللہﷺ اور آپ کے اصحاب کرام، ایسی غنیمتیں حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھیں گے، جس میں جنگ نہیں ہو گی، تو یہ لوگ ان سے صحبت اور مشارکت کی درخواست کریں گے، وہ کہیں گے:﴿ ذَرُوۡنَا نَتَّبِعۡكُمۡ١ۚ يُرِيۡدُوۡنَ﴾ ’’ہمیں بھی اجازت دیں کہ ہم آپ کے ساتھ چلیں، وہ چاہتے ہیں‘‘ اس سے ﴿ اَنۡ يُّبَدِّلُوۡا كَلٰمَ اللّٰهِ﴾ ’’ کہ وہ اللہ کے کلام کو بدل دیں۔‘‘ کیونکہ اس نے ان کو سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ان غنائم کو شرعاً اور قدراً صحابہ کرام یعنی اہل ایمان سے مختص کیا ہے۔ ﴿ قُلۡ﴾ ان سے کہہ دیجیے ﴿ لَّنۡ تَتَّبِعُوۡنَا كَذٰلِكُمۡ قَالَ اللّٰهُ مِنۡ قَبۡلُ﴾’’تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے، اسی طرح اللہ نے پہلے فرما دیا ہے۔‘‘ تمھیں اس جرم کی پاداش میں جس کا ارتکاب تم نے اپنے آپ پر کیا، غنائم سے محروم کیا جاتا ہے، نیز اس جرم کی پاداش میں کہ تم نے پہلی مرتبہ جہاد کو ترک کیا۔﴿ فَسَيَقُوۡلُوۡنَ۠﴾ پس وہ اس بات کا جواب دیتے ہوئے، جس کی بنا پر انھیں جنگ کے لیے نکلنے سے منع کیا گیا ہے، کہیں گے ﴿ بَلۡ تَحۡسُدُوۡنَنَا﴾ یعنی تم مال غنیمت کے بارے میں ہمارے ساتھ حسد کرتے ہو۔ اس مقام پر یہ ان کا منتہائے علم ہے، اگر انھوں نے رشد و فہم سے کام لیا ہوتا تو انھیں معلوم ہوتا کہ ان کی محرومی کا سبب، ان کی نافرمانی ہے، گناہوں کی کچھ دنیاوی اور کچھ دینی سزا ہوتی ہے اسی لیے فرمایا:﴿ بَلۡ كَانُوۡا لَا يَفۡقَهُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’بلکہ یہ بہت کم سمجھتے ہیں۔‘‘
48:16–17Page 513
قُل لِّلۡمُخَلَّفِينَ مِنَ ٱلۡأَعۡرَابِ سَتُدۡعَوۡنَ إِلَىٰ قَوۡمٍ أُوْلِي بَأۡسٖ شَدِيدٖ تُقَٰتِلُونَهُمۡ أَوۡ يُسۡلِمُونَۖ فَإِن تُطِيعُواْ يُؤۡتِكُمُ ٱللَّهُ أَجۡرًا حَسَنٗاۖ وَإِن تَتَوَلَّوۡاْ كَمَا تَوَلَّيۡتُم مِّن قَبۡلُ يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا أَلِيمٗا ١٦
Say to those who remained behind of the bedouins, "You will be called to [face] a people of great military might; you may fight them, or they will submit.1 So if you obey, Allāh will give you a good reward; but if you turn away as you turned away before, He will punish you with a painful punishment."
لَّيۡسَ عَلَى ٱلۡأَعۡمَىٰ حَرَجٞ وَلَا عَلَى ٱلۡأَعۡرَجِ حَرَجٞ وَلَا عَلَى ٱلۡمَرِيضِ حَرَجٞۗ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدۡخِلۡهُ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ وَمَن يَتَوَلَّ يُعَذِّبۡهُ عَذَابًا أَلِيمٗا ١٧
There is not upon the blind any guilt or upon the lame any guilt or upon the ill any guilt [for remaining behind]. And whoever obeys Allāh and His Messenger - He will admit him to gardens beneath which rivers flow; but whoever turns away - He will punish him with a painful punishment.
کہہ دیجیے پیچھے چھوڑے گئے دیہایتوں سے، عنقریب تم بلائے جاؤ گے ایک قوم کی طرف جو لڑنے والی ہے سخت، تم لڑو گے ان سے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے ، پھر اگر تم اطاعت کرو گے تو دے گا تمھیں اللہ اجر نیک اور اگر تم رو گردانی کرو گے جیسا کہ روگردانی کی تم نے پہلے (اس) سے تو وہ عذاب دے گا تمھیں عذاب نہایت درد ناک (16) نہیں (پیچھے رہنے میں) اندھے پر کوئی حرج (گناہ) اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج اور نہ مریض پر کوئی حرج اور جو کوئی اطاعت کرے اللہ اور اس کے رسول کی تو داخل کرے گا اللہ اس کو باغات میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، اور جو کوئی رو گردانی کرے گا تو وہ (اللہ) عذاب دے گا اسے عذاب نہایت درد ناک (17)
[16] اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اعراب (عرب دیہاتیوں) میں سے پیچھے بیٹھ رہنے والے، جہاد سے جی چراتے ہیں اور کسی عذر کے بغیر معذرت پیش کرتے ہیں اور وہ صرف اس صورت میں ان کے ساتھ جہاد پر نکلنے کی درخواست کرتے ہیں، جبکہ جنگ اور قتال نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لیتے ہوئے فرمایا:﴿ قُلۡ لِّلۡمُخَلَّفِيۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ سَتُدۡعَوۡنَ اِلٰى قَوۡمٍ اُولِيۡ بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ﴾ یعنی عنقریب رسول اللہﷺ ، آپ کے قائم مقام خلفائے راشدین اور دیگر ائمہ تمھیں جہاد کی طرف بلائیں گے اور وہ لوگ جن سے جہاد کے لیے تمھیں دعوت دی جائے گی، وہ اہل فارس، اہل روم اور ان جیسی بعض دیگر قومیں ہوں گی۔ ﴿ تُقَاتِلُوۡنَهُمۡ اَوۡ يُسۡلِمُوۡنَ﴾ یعنی تم ان کے خلاف جنگ کرو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے۔فی الواقع معاملہ یہی ہے کہ جب مسلمانوں کی ان قوموں کے ساتھ جنگ ہوئی، جنگ کے حالات میں جب تک ان میں شدت اور قوت رہی تو اس صورت میں انھوں نے جزیہ دینا قبول نہیں کیا، بلکہ یا تو انھوں نے اسلام قبول کر لیا یا وہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے جنگ کرتے رہے، جب مسلمانوں نے جنگ میں ان کو بے بس کر دیا اور وہ کمزور ہو کر مطیع ہو گئے اور ان کی قوت جاتی رہی تو ان کی حالت یہ ہو گئی کہ وہ یا تو مسلمان ہو گئے یا جزیہ ادا کرنے لگے ﴿ فَاِنۡ تُطِيۡعُوۡا﴾ یعنی اگر ان لوگوں کے خلاف جہاد کی دعوت دینے والے کی اطاعت کرو ﴿ يُؤۡتِكُمُ اللّٰهُ اَجۡرًا حَسَنًا﴾ ’’تو اللہ تمھیں اچھا اجر دے گا۔‘‘ یہ وہ اجر و ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے اللہ کے راستے میں جہاد پر مرتب فرمایا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تَتَوَلَّوۡا كَمَا تَوَلَّيۡتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ﴾ ’’اگر تم منہ پھیر لو جیسے پہلی مرتبہ پھیرا تھا۔‘‘ یعنی ان لوگوں سے جہاد کرنے سے منہ موڑ لو جن کے خلاف جہاد کرنے کی رسول اللہﷺ نے تمھیں دعوت دی ہے۔ ﴿ يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ ’’تو وہ تمھیں دردناک عذاب دے گا۔‘‘ اس آیت کریمہ میں خلفائے راشدین کی، جو طاقت ور قوموں کے خلاف جہاد کرنے کی دعوت دیتے رہے، فضیلت بیان ہوئی ہے، نیز یہ کہ جہاد میں ان کی اطاعت واجب ہے۔
[17] پھر اللہ تعالیٰ نے ان عذروں کا ذکر فرمایا جن کی بنا پر بندہ جہاد میں نکلنے سے معذور ہوتا ہے، لہٰذا فرمایا:﴿ لَيۡسَ عَلَى الۡاَعۡمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡاَعۡرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَى الۡمَرِيۡضِ حَرَجٌ﴾ ’’نہ تو اندھے پر گناہ ہے نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ مریض پر گناہ ہے۔‘‘ یعنی اپنے عذر کی بنا پر، جو جہاد پر نکلنے سے مانع ہے، جہاد سے پیچھے رہ جائیں، تو ان پر کوئی حرج نہیں۔ ﴿ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا۔‘‘ یعنی ان کے اوامر کی تعمیل کرنے اور ان کے نواہی سے اجتناب کرنے میں ﴿ يُدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾’’ اللہ اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔‘‘ ان جنتوں میں ہر وہ چیز ہو گی، نفس جس کی خواہش کریں گے اور آنکھوں کو جن سے لذت حاصل ہو گی۔﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ موڑ لے۔ ﴿ يُعَذِّبۡهُ عَذَابًا اَلِيۡمًا﴾ تو اللہ تعالیٰ اسے درد ناک عذاب دے گا۔ سعادت تمام تر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اور شقاوت اس کی نافرمانی اور مخالفت میں ہے۔
48:18–21Page 513
۞ لَّقَدۡ رَضِيَ ٱللَّهُ عَنِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ إِذۡ يُبَايِعُونَكَ تَحۡتَ ٱلشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمۡ فَأَنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ عَلَيۡهِمۡ وَأَثَٰبَهُمۡ فَتۡحٗا قَرِيبٗا ١٨
Certainly was Allāh pleased with the believers when they pledged allegiance to you, [O Muḥammad], under the tree, and He knew what was in their hearts, so He sent down tranquility upon them and rewarded them with an imminent conquest1
وَمَغَانِمَ كَثِيرَةٗ يَأۡخُذُونَهَاۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمٗا ١٩
And much war booty which they will take. And ever is Allāh Exalted in Might and Wise.
وَعَدَكُمُ ٱللَّهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةٗ تَأۡخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمۡ هَٰذِهِۦ وَكَفَّ أَيۡدِيَ ٱلنَّاسِ عَنكُمۡ وَلِتَكُونَ ءَايَةٗ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ وَيَهۡدِيَكُمۡ صِرَٰطٗا مُّسۡتَقِيمٗا ٢٠
Allāh has promised you much booty that you will take [in the future] and has hastened for you this [victory] and withheld the hands of people from you - that it may be a sign for the believers and [that] He may guide you to a straight path.
وَأُخۡرَىٰ لَمۡ تَقۡدِرُواْ عَلَيۡهَا قَدۡ أَحَاطَ ٱللَّهُ بِهَاۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٗا ٢١
And [He promises] other [victories] that you were [so far] unable to [realize] which Allāh has already encompassed.1 And ever is Allāh, over all things, competent.
البتہ تحقیق راضی ہو گیا اللہ مومنوں سے جب وہ بیعت کر رہے تھے آپ سے نیچے اس درخت کے پس اس نے جان لیا جو (خلوص) ان کے دلوں میں تھا سو نازل کی اس نے سکینت ان پر اور بدلے میں دی انھیں فتح جلد ہی (18) اور (بھی) غتیمتیں بہت کہ وہ حاصل کریں گے ان کو اور ہے اللہ بڑا زبردست خوب حکمت والا(19) اور وعدہ کیا تم سے اللہ نے بہت سی غنیمتوں کا کہ تم حاصل کرو گے ان کو، پس اس نے جلد ہی دے دی تمھیں یہ اور اس نے روک دیے ہاتھ لوگوں کے تم سے اور تاکہ ہو یہ نشانی مومنوں کے لیے اور تاکہ وہ ہدایت دے تمھیں صراط مستقیم کی (20) اور (غنیمتیں) دوسری کہ نہیں قادر ہوئے تم (ابھی) ان پر، تحقیق گھیر لیا ہوا ہے اللہ نے ان کو اور ہے اللہ ہر چیز پر خوب قادر (21)
[19،18] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم، اپنی رحمت اور اہل ایمان پر اپنی رضا کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جب وہ رسول اللہﷺ کے دست مبارک پر ایسی بیعت کر رہے تھے جس نے ان کو سرخرو کر دیا اور وہ اس بیعت کے ذریعے سے دنیا اور آخرت کی سعادت سے بہرہ مند ہوئے۔ یہ بیعت جسے اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی وجہ سے ’’بیعت رضوان‘‘ کہا جاتا ہے اور اسے ’’بیعت اہل شجرہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ حدیبیہ کے روز، جب رسول اللہﷺ کی آمد کے سلسلے میں آپ اور مشرکین مکہ کے درمیان بات چیت شروع ہوئی، کہ آپ کسی کے ساتھ جنگ لڑنے نہیں آئے، بلکہ آپ بیت اللہ کی زیارت اور اس کی تعظیم کے لیے آئے ہیں ، تو رسول اللہﷺ نے حضرت عثمانt کو اس سلسلے میں مکہ مکرمہ بھیجا۔ آپ کے پاس ایک غیر مصدقہ خبر پہنچی کہ حضرت عثمانt کو مشرکین مکہ نے قتل کر دیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے اپنے ساتھ آئے ہوئے مومنین کو جمع کیا، جو تقریباً پندرہ سو افراد تھے، انھوں نے ایک درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر مشرکین کے خلاف قتال کی بیعت کی، کہ وہ مرتے دم تک فرار نہیں ہوں گے۔تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ مومنوں سے راضی ہو گیا، درآں حالیکہ یہ بیعت سب سے بڑی نیکی اور جلیل ترین ذریعۂ تقرب ہے۔ ﴿ فَعَلِمَ مَا فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ان کے دلوں میں جو ایمان ہے اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے ﴿ فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ﴾ تو ان کے دلوں میں جو کچھ ہے، اس کی قدر دانی کے لیے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کی ہدایت میں اضافہ کیا۔ ان شرائط کی وجہ سے، جو مشرکین نے رسول اللہﷺ پر صلح کے لیے عائد کی تھیں، مومنوں کے دلوں میں سخت غم اور بے چینی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر سکینت نازل فرمائی جس نے ان کو ثبات اور اطمینان عطا کیا۔ ﴿ وَاَثَابَهُمۡ فَتۡحًا قَرِيۡبًا﴾’’اور انھیں جلد فتح عنایت کی۔‘‘ اس سے مراد فتح خیبر ہے جس میں اہل حدیبیہ کے سوا اور کوئی شریک نہیں ہوا، چنانچہ ان کے لیے جزا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رضا کی تعمیل کی قدر و منزلت کے طور پر ان کو فتح خبیر اور اس کے اموال غنیمت سے مختص کیا گیا۔﴿ وَّمَغَانِمَ كَثِيۡرَةً يَّاۡخُذُوۡنَهَا۠١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا﴾ ’’اور بہت سے اموالِ غنیمت بھی وہ حاصل کریں گے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی طاقت اور قدرت کا وہی مالک ہے، جس کی بنا پر وہ تمام اشیاء پر غالب ہے، اگر وہ چاہے تو ہر اس معرکہ میں جو کفار اور مسلمانوں کے درمیان برپا ہوتا ہے، کفار سے انتقام لے سکتا ہے، مگر وہ حکمت والا ہے وہ ان کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزماتا ہے اور مومن کا کافر کے ذریعے سے امتحان لیتا ہے۔
[20]﴿ وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِيۡرَةً تَاۡخُذُوۡنَهَا﴾ ’’اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے، کہ تم انھیں حاصل کرو گے؟‘‘ یہ ان تمام غنائم کو شامل ہے جو قیامت کے روز تک مسلمانوں کو حاصل ہوں گی ﴿ فَعَجَّلَ لَكُمۡ هٰؔذِهٖ﴾’’پس اس نے اس غنیمت کی تمھارے لیے جلدی فرمائی، یعنی غزوۂ خیبر کا مال غنیمت، پس تم صرف اتنا ہی غنیمت نہ سمجھو بلکہ اس کے علاوہ اور بھی اموال غنیمت ہوں گے جو اس کے بعد تمھیں حاصل ہوں گے۔﴿ وَؔ﴾ ’’اور‘‘ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو جب ﴿ كَفَّ اَيۡدِيَ النَّاسِ عَنۡكُمۡ﴾ اس نے ان لوگوں کے ہاتھ روک دیے جو تمھارے ساتھ جنگ کرنے کی قدرت اور اس کی خواہش رکھتے تھے﴿ عَنۡكُمۡ﴾ ’’تم سے‘‘ یہ ایک نعمت اور تمھارے لیے تخفیف ہے ﴿ وَلِتَكُوۡنَ﴾ یعنی یہ مالِ غنیمت ﴿ اٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اہل ایمان کے لیے نشانی ہے‘‘ جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی سچی بھلائی، اس کے وعدۂ حق اور اہل ایمان کے لیے ثواب پر استدلال کرتے ہیں، جس نے اس غنیمت کو مقدر کیا ہے وہ اور بھی اموال غنیمت مقدر کرے گا۔ ﴿ وَيَهۡدِيَكُمۡ﴾ اور ان اسباب کے ذریعے سے تمھاری راہ نمائی کرے گا جو اس نے تمھارے لیے مقدر کیے ہیں ﴿ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا﴾ علم، ایمان اور عمل کے سیدھے راستوں میں سے۔
[21]﴿ وَّاُخۡرٰى﴾ اور اللہ تعالیٰ نے دوسرے غنائم کا بھی تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ لَمۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَيۡهَا﴾ ’’جس پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے‘‘ یعنی اس خطاب کے وقت ۔ ﴿ قَدۡ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا﴾ ’’بے شک اللہ ہی نے ان کو گھیر رکھا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان غنائم پر قادر ہے، وہ اس کے دست تدبیر کے تحت اور اس کی ملکیت میں ہیں، اس نے تمھارے ساتھ غنائم کا وعدہ کیا ہے، پس اس وعدے کا پورا ہونا لازمی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کامل اقتدار کا مالک ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرًا﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences