As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Qaf 50:30–45
50:30–35Page 519
يَوۡمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ ٱمۡتَلَأۡتِ وَتَقُولُ هَلۡ مِن مَّزِيدٖ ٣٠
On the Day We will say to Hell, "Have you been filled?" and it will say, "Are there some more,"
وَأُزۡلِفَتِ ٱلۡجَنَّةُ لِلۡمُتَّقِينَ غَيۡرَ بَعِيدٍ ٣١
And Paradise will be brought near to the righteous, not far,
هَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِكُلِّ أَوَّابٍ حَفِيظٖ ٣٢
[It will be said], "This is what you were promised - for every returner [to Allāh] and keeper [of His covenant].
مَّنۡ خَشِيَ ٱلرَّحۡمَٰنَ بِٱلۡغَيۡبِ وَجَآءَ بِقَلۡبٖ مُّنِيبٍ ٣٣
Who feared the Most Merciful in the unseen and came with a heart returning [in repentance].
ٱدۡخُلُوهَا بِسَلَٰمٖۖ ذَٰلِكَ يَوۡمُ ٱلۡخُلُودِ ٣٤
Enter it in peace. This is the Day of Eternity."
لَهُم مَّا يَشَآءُونَ فِيهَا وَلَدَيۡنَا مَزِيدٞ ٣٥
They will have whatever they wish therein, and with Us is more.
(یاد کرو!) جس دن ہم کہیں گے جہنم سے، کیا تو بھر گئی ہے؟ اور وہ کہے گی کیا کچھ مزید ہے؟ (30) اور قریب کی جائے گی جنت متقی لوگوں کے، نہیں ہو گی وہ دور (31) یہ ہے وہ جس کا وعدہ دیا جاتا تھا تمھیں، ہر خوب رجوع کرنے والے (امر الہی) حفاظت کرنے والے کو (32) جو ڈر گیا رحمٰن سے بن دیکھے، اور وہ لایا دل رجوع کرنے والا (33)(کہا جائے گا) تم داخل ہو جاؤ اس (جنت) میں سلامتی سے، یہی ہے دن ہمیشہ رہنے کا (34) ان کے لیے ہو گا جو کچھ وہ چاہیں گے اس میں، اور ہمارے پاس مزید بھی ہے (35)
[30] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿يَوۡمَ نَقُوۡلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امۡتَلَاۡتِ﴾ ’’اس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے، کیا تو بھر گئی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد، جہنم میں ڈالے گئے لوگوں کی کثرت کی وجہ سے ہو گا ﴿وَتَقُوۡلُ هَلۡ مِنۡ مَّزِيۡدٍ﴾ ’’وہ کہے گی کچھ اور بھی ہے۔‘‘ یعنی جہنم اپنے رب کی خاطر ناراضی اور کفار پر غیظ و غضب کی وجہ سے اپنے اندر مجرموں کے اضافے کا مطالبہ کرتی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم کو بھرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿لَاَمۡلَــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَ﴾(السجدہ:32؍13) ’’میں جہنم کو جنات اور انسانوں سے ضرور بھروں گا۔ حتیٰ کہ اللہ رب العزت اپنا قدم کریم، جو تشبیہ سے پاک ہے، جہنم میں رکھ دے گا۔ جہنم کی لپٹیں ایک دوسرے کی طرف سمٹ جائیں گی، جہنم پکار اٹھے گی، بس کافی ہے، میں بھر چکی ہوں۔
[31]﴿وَاُزۡلِفَتِ الۡؔجَنَّةُ﴾ جنت کو قریب کر دیا جائے گا ﴿لِلۡمُتَّقِيۡنَ غَيۡرَ بَعِيۡدٍ﴾ ’’پرہیز گاروں کے لیے، دور نہ ہوگی۔‘‘ جہاں اس کا مشاہدہ کیا جا سکے گا، اس کی دائمی نعمتوں اور مسرتوں کو دیکھا جا سکے گا۔ جنت کو صرف ان لوگوں کے قریب کیا جائے گا جو اپنے رب سے ڈر کر شرک اکبر اور شرک اصغر سے اجتناب کرتے ہیں، نیز اپنے رب کے احکام کی تعمیل اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔
[32] انھیں مبارک بادی کے طور پر کہا جائے گا ﴿هٰؔذَا مَا تُوۡعَدُوۡنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِيۡظٍ﴾ ’’یہی وہ چیز ہے، جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر رجوع کرنے والے اور حفاظت کرنے والے سے۔‘‘ یعنی یہ جنت، اور اس میں جو کچھ موجود ہے، جس کی نفوسِ انسانی خواہش رکھتے ہیں، جس سے آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں، جس کا ہر اس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کے ساتھ محبت، اس سے استعانت، اس سے دعا اور اس کے خوف اور اس سے امید کے ذریعے سے، اس کی طرف بہت کثرت سے رجوع کرتا ہے۔ ﴿ حَفِيۡظٍ﴾ اخلاق اور تکمیل کے ساتھ کامل ترین طریقے سے ان اوامر کی تعمیل کرتا ہے، نیز اس کی حدود کی حفاظت کرتا ہے۔
[33]﴿مَنۡ خَشِيَ الرَّحۡمٰنَ﴾ اپنے رب کی پوری معرفت، اور اس کی رحمت کی امید رکھتے ہوئے اس سے ڈرتا ہے، اپنی حالت غیب ، یعنی جب وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے، تو خشیت الٰہی کا التزام کرتا ہے۔ اور یہی حقیقی خشیت ہے۔ رہی وہ خشیت جس کا اظہار لوگوں کی نظروں کے سامنے اور ان کی موجودگی میں کیا جائے تو اس میں کبھی کبھی ریا اور شہرت کی خواہش کا شائبہ آ جاتا ہے۔ یہ حقیقی خشیت پر دلالت نہیں کرتی۔ فائدہ مند خشیت تو صرف وہی ہے جو کھلے اور چھپے ہر حال میں ہو۔ ﴿وَجَآءَ بِقَلۡبٍ مُّنِيۡبِ﴾ ’’اور رجوع کرنے والا دل لے کر آیا۔‘‘ یعنی اس کا وصف اپنے آقا کی طرف رجوع ہو اور اس کے تمام داعیے اپنے آقا کی رضا میں جذب ہو گئے ہوں۔
[34] ان نیک اور پرہیزگار لوگوں سے کہا جائے گا ﴿ادۡخُلُوۡهَا بِسَلٰمٍ﴾ اس طرح داخل ہو جاؤ کہ یہ داخلہ ہر قسم کی آفات اور شر سے سلامتی سے مقرون اور تمام ناپسندیدہ امور سے مامون ہے۔ ان کو عطا کی گئی نعمتیں منقطع ہوں گی نہ ان میں کوئی تکدر اور بدمزگی آئے گی۔ ﴿ذٰلِكَ يَوۡمُ الۡخُلُوۡدِ﴾ ’’یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔‘‘ جسے کبھی زوال آئے گا نہ موت اور نہ کسی قسم کا کوئی تکدر ہو گا۔
[35]﴿لَهُمۡ مَّا يَشَآءُوۡنَ فِيۡهَا﴾ انھیں وہاں ہر وہ چیز حاصل ہو گی، جس سے ان کی چاہت وابستہ ہو گی۔ اس سے بڑھ کر ﴿مَزِيۡدٌ ﴾ ’’اور بھی زیادہ ہے‘‘ یعنی ثواب، جسے رحمان و رحیم ان کے لیے بڑھاتا رہے گا، جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی اس کا گزر ہوا ہے... سب سے بڑا، سب سے جلیل اور سب سے افضل ثواب اللہ تعالیٰ کے چہرہ انور کا دیدار، اس کے کلام کی سماعت اور اس کے قرب کی نعمت ہو گی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی انھی لوگوں میں شامل کردے۔
50:36–37Page 520
وَكَمۡ أَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُم مِّن قَرۡنٍ هُمۡ أَشَدُّ مِنۡهُم بَطۡشٗا فَنَقَّبُواْ فِي ٱلۡبِلَٰدِ هَلۡ مِن مَّحِيصٍ ٣٦
And how many a generation before them did We destroy who were greater than them in [striking] power and had explored throughout the lands. Is there any place of escape?
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكۡرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُۥ قَلۡبٌ أَوۡ أَلۡقَى ٱلسَّمۡعَ وَهُوَ شَهِيدٞ ٣٧
Indeed in that is a reminder for whoever has a heart or who listens while he is present [in mind].
اور کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، وہ زیادہ سخت تھیں ان سے پکڑنے(قوت)میں، پس وہ چلے پھرے شہروں میں کیا ہے کوئی جگہ بھاگنے کی؟ (36) بلاشبہ اس میں البتہ نصیحت ہے اس شخص کے لیے کہ ہو اس کے لیے (خاص) دل یا وہ لگائے کان جبکہ وہ حاضر ہو(دل و دماغ سے)(37)
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کو، جو رسول اکرمﷺ کو جھٹلاتے ہیں، ڈراتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ وَؔكَمۡ اَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ﴾ ’’ہم نے ان سے پہلے کئی امتیں ہلاک کرڈالیں۔‘‘ یعنی بہت سی قوموں کو ہلاک کیا ﴿ هُمۡ اَشَدُّ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’وہ زیادہ تھے ‘‘ان لوگوں سے ﴿بَطۡشًا﴾ ’’قوت میں‘‘ یعنی زمین میں، قوت اور آثار میں ان سے بڑھ کر تھے۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَنَقَّبُوۡا فِي الۡبِلَادِ﴾ ’’پس انھوں نے شہروں کاگشت کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے نہایت مضبوط قلعے اور بلند عمارتیں تعمیر کیں، باغات لگائے، نہریں نکالیں، کھیت اگائے، زمین کو آباد کیا اور ہلاک ہو گئے۔ جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اس کی آیات کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو درد ناک سزا اور سخت عذاب کے ذریعے سے گرفت میں لے لیا ﴿ هَلۡ مِنۡ مَّحِيۡصٍ﴾ ’’کیا کہیں بھاگنے کی جگہ ہے۔‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتا ہے، اس وقت ان کے لیے کوئی بھاگنے کی جگہ ہوتی ہے۔ نہ کوئی بچانے والا ہوتا ہے پس ان کی قوت ان کا مال اور ان کی اولاد ان کے کسی کام نہ آ سکی۔
[37]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَذِكۡرٰى لِمَنۡ كَانَ لَهٗ قَلۡبٌ﴾ ’’بےشک جو شخص دل رکھتا ہے اس کے لیے اس میں نصیحت ہے۔‘‘ یعنی ایک عظیم، زندہ، ذہین اور پاک دل، یہ دل جب آیات الٰہی میں سے کوئی آیت اس پر گزرتی ہے تو اس سے نصیحت حاصل کر کے فائدہ اٹھاتا ہے اور بلند مقام پر فائز ہوتا ہے اور اسی طرح جو کوئی کان لگا کر آیات الٰہی کو اس طرح غور سے سنتا ہے، جس سے رشد و ہدایت حاصل کرتا ہے اور اس کا قلب ﴿ شَهِيۡدٌ﴾ ’’حاضر ہوتا ہے‘‘ تو وہ بھی تذکر، نصیحت، شفا اور ہدایت سے بہرہ مند ہوتا۔ رہا روگردانی کرنے والا شخص جو آیات الٰہی کو غور سے نہیں سنتا تو اس شخص کو آیات الٰہی کوئی فائدہ نہیں دیتیں، کیونکہ اس کے پاس قبولیت کا مادہ نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اس شخص کی ہدایت کا تقاضا نہیں کرتی جس کا یہ وصف ہو۔
50:38–40Page 520
وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ وَمَا مَسَّنَا مِن لُّغُوبٖ ٣٨
And We did certainly create the heavens and earth and what is between them in six days, and there touched Us no weariness.
فَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ قَبۡلَ طُلُوعِ ٱلشَّمۡسِ وَقَبۡلَ ٱلۡغُرُوبِ ٣٩
So be patient, [O Muḥammad], over what they say and exalt [Allāh] with praise of your Lord before the rising of the sun and before its setting,
وَمِنَ ٱلَّيۡلِ فَسَبِّحۡهُ وَأَدۡبَٰرَ ٱلسُّجُودِ ٤٠
And [in part] of the night exalt Him and after prostration [i.e., prayer].
اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، چھ دن میں، اور نہیں چھوا ہمیں کسی قسم کی تھکاوٹ نے (38) پس آپ صبر کریں اس پر جو وہ کہتے ہیں، اور تسبیح کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی پہلے طلوع شمس سے اور پہلے اس کے غروب سے (39) اور کچھ حصہ رات میں، پس آپ تسبیح کریں اس کی اور سجود (نمازوں) کے بعد بھی (40)
[38] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنی قدرت عظیم اور مشیت نافذہ کے بارے میں خبر ہے، جن کے ذریعے سے اس نے سب سے بڑی مخلوق کو وجود بخشا۔ ﴿ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو ان کے دمیان ہے، چھ دن میں (پیدا کیا)۔‘‘ پہلا دن اتوار تھا اور آخری یعنی چھٹا دن جمعہ تھا، اس کو کسی مشقت کا سامنا کرنا پڑا نہ تھکن کا، اور نہ اسے کوئی لاغری لاحق ہوئی اور نہ لاچاری۔ پس وہ اللہ، جو زمین و آسمان کو، ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وجود میں لایا، اس کا مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونا زیادہ اولیٰ اور زیادہ لائق ہے۔
[40،39]﴿ فَاصۡبِرۡ عَلٰى مَا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’پس جو کچھ یہ کہتے ہیں، اس پر صبر کیجیے۔‘‘ وہ آپ کی مذمت کرتے ہیں اور آپ جو کتاب لے کر آئے ہیں اس کی تکذیب کرتے ہیں، آپ ان کو نظر انداز کر کے اپنے رب کی اطاعت کیجیے اور صبح ، شام، رات کے اوقات میں اور نمازوں کے بعد اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کیجیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر نفس کو تسلی دیتا، اس کو سکون عطا کرتا اور صبر کو آسان بناتا ہے۔
50:41–45Page 520
وَٱسۡتَمِعۡ يَوۡمَ يُنَادِ ٱلۡمُنَادِ مِن مَّكَانٖ قَرِيبٖ ٤١
And listen on the Day when the Caller1 will call out from a place that is near -
يَوۡمَ يَسۡمَعُونَ ٱلصَّيۡحَةَ بِٱلۡحَقِّۚ ذَٰلِكَ يَوۡمُ ٱلۡخُرُوجِ ٤٢
The Day they will hear the blast [of the Horn] in truth. That is the Day of Emergence [from the graves].
إِنَّا نَحۡنُ نُحۡيِۦ وَنُمِيتُ وَإِلَيۡنَا ٱلۡمَصِيرُ ٤٣
Indeed, it is We who give life and cause death, and to Us is the destination
يَوۡمَ تَشَقَّقُ ٱلۡأَرۡضُ عَنۡهُمۡ سِرَاعٗاۚ ذَٰلِكَ حَشۡرٌ عَلَيۡنَا يَسِيرٞ ٤٤
On the Day the earth breaks away from them [and they emerge] rapidly; that is a gathering easy for Us.
نَّحۡنُ أَعۡلَمُ بِمَا يَقُولُونَۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيۡهِم بِجَبَّارٖۖ فَذَكِّرۡ بِٱلۡقُرۡءَانِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ ٤٥
We are most knowing of what they say, and you are not over them a tyrant.1 But remind by the Qur’ān whoever fears My threat.
اور توجہ سے سنیے جس دن ندا دے گا منادی کرنے والامکان قریب سے (41) جس دن وہ سنیں گے اس چیخ (نفخۂ ثانیہ)کو حقیقتاً ، یہی دن ہو گا (قبروں سے) نکلنے کا (42) بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری طرف ہی (سب کی) واپسی ہے (43) جس دن پھٹے گی زمین ان (پر) سے دراں حالیکہ وہ دوڑتے ہوں گے، یہ حشر ہے ہم پر نہایت ہی آسان (44) ہم خوب جانتے ہیں اس کو جو وہ (مشرک) کہتے ہیں، اور نہیں ہیں آپ ان پر زبردستی کرنے والے، پس آپ نصیحت کرتے رہیں اس قرآن کے ذریعے سے، اس شخص کو جو ڈرتا ہے میری وعید سے(45)
[41]﴿ وَاسۡتَمِعۡ ﴾ اپنے دل کے ساتھ پکارنے والے کی پکار کو غور سے سن اور اس سے مراد حضرت اسرافیلu ہیں۔ یعنی جب اسرافیلu صور پھونکیں گے ﴿ مِنۡ مَّكَانٍ قَرِيۡبٍ﴾ ’’نزدیک کی جگہ سے۔‘‘ یعنی کسی ایسی جگہ سے مخلوق کے قریب ہے۔
[42]﴿ يَّوۡمَ يَسۡمَعُوۡنَ الصَّيۡحَةَ ﴾ جس روز تمام خلائق ہول ناک اور خوف ناک چیخ کی آواز سنیں گے ﴿ بِالۡحَقِّ ﴾ جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ ﴿ ذٰلِكَ يَوۡمُ الۡخُرُوۡجِ ﴾ وہ قبروں سے نکلنے کا دن ہو گا۔ اس روز اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز پر قادر ہو گا۔
[44،43] اسی لیے فرمایا: ﴿ اِنَّا نَحۡنُ نُحۡيٖ وَنُمِيۡتُ وَاِلَيۡنَا الۡمَصِيۡرُۙ۰۰ يَوۡمَ تَشَقَّقُ الۡاَرۡضُ عَنۡهُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم ہی تو زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے جس روز ان سے زمین پھٹ جائے گی‘‘ یعنی مردوں سے ﴿ سِرَاعًا ﴾ وہ پکارنے والے کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے تیزی سے حشر کے میدان کی طرف آئیں گے۔ ﴿ذٰلِكَ حَشۡرٌ عَلَيۡنَا يَسِيۡرٌ ﴾ ’’یہ جمع کرنا ہمیں آسان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے نہایت آسان ہے، جس میں کوئی تکان ہے نہ کلفت۔
[45]﴿ نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا يَقُوۡلُوۡنَ ﴾ ہم جانتے ہیں جو وہ آپ کو تکلیف دہ باتیں کہتے ہیں، جن سے آپ غم زدہ ہوتے ہیں۔ جب ہم یہ سب کچھ جانتے ہیں تب آپ کو معلوم ہو گیا کہ ہم آپ پر کیسی عنایت رکھتے ہیں، آپ کے معاملات کو کیسے آسان بناتے ہیں اور آپ کو آپ کے دشمنوں کے خلاف کیسے مدد سے نوازتے ہیں۔ پس آپ کے دل کو خوش اور آپ کے نفس کو مطمئن ہونا چاہیے اور تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ ہم آپ(ﷺ)پر اس سے زیادہ رحمت و رافت رکھتے ہیں جو آپ خود اپنے آپ پر رکھتے ہیں۔ اس لیے آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کے وعدے کے انتظار اور اولوالعزم رسولوں کی سیرت کے ذریعے سے تسلی حاصل کرنے کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہ رہے۔﴿ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِجَبَّارٍ ﴾ آپ کو ان پر مسلط نہیں کیا گیا ﴿ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُنۡذِرٌ وَّلِكُلِّ قَوۡمٍ هَادٍ﴾(الرعد:13؍7) ’’آپ تو صرف متنبہ کرنے والے ہیں اور ہر ایک قوم کے لیے ایک راہ نما ہوتا ہے۔‘‘ بنابریں فرمایا: ﴿ فَذَكِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ يَّخَافُ وَعِيۡدِ﴾ یہاں تذکیر سے مراد وہ نصیحت ہے جو عقل و فطرت میں راسخ ہے، یعنی نیکی سے محبت کرنا، اس کو ترجیح دینا اور اس پر عمل کرنا، نیز بدی کو ناپسند کرنا اور اس سے دور رہنا، اس تذکیر سے وہی لوگ نصیحت پکڑتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وعید سے ڈرتے ہیں اور رہے وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی وعید سے خائف ہیں نہ اس پر ایمان رکھتے ہیں تو ان کو نصیحت کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ ان پر حجت قائم ہوتی ہے، تاکہ وہ یہ نہ کہیں:﴿ مَا جَآءَنَا مِنۢۡ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ ﴾(المائدہ:5؍19) ’’ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا آیا نہ متنبہ کرنے والا۔‘‘
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences